تازہ تر ین

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا یومِ برداشت کے موقع پر پیغامآج جب دنیا یومِ برداشت منا رہی ہے، تو پاکستان ہم آہنگی، باہمی احترام ، تمام شہریوں اور اقوام کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ آج کے عالمی دور میں، جہاں ثقافتیں اور معاشرے پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مکالمے، ہمدردی اور تعاون کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔برداشت کے اصول اسلام کی ان اعلیٰ تعلیمات میں گہرائی سے پیوست ہیں جو انسانیت کے لیے رحم، عدل اور احترام کا درس دیتی ہیں

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا یومِ برداشت کے موقع پر پیغامآج جب دنیا یومِ برداشت منا رہی ہے، تو پاکستان ہم آہنگی، باہمی احترام ، تمام شہریوں اور اقوام کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ آج کے عالمی دور میں، جہاں ثقافتیں اور معاشرے پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مکالمے، ہمدردی اور تعاون کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔برداشت کے اصول اسلام کی ان اعلیٰ تعلیمات میں گہرائی سے پیوست ہیں جو انسانیت کے لیے رحم، عدل اور احترام کا درس دیتی ہیں۔ ہمارے مذہب کی تعلیمات ہمارے لیے عظیم محرک ہیں، کیونکہ اسلام امن، ہم آہنگی اور رواداری کا علَمبردار ہے۔ ہمارے بانیِ قوم قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر تصور کیا جہاں مختلف مذاہب، ثقافتی پس منظر اور اعتقادات کے لوگ ہم آہنگی، برابری اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس وژن کو برقرار رکھیں اور ایک ایسی معاشرت تشکیل دیں جو شمولیت اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔مزید برآں، 1948 میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے منظور کردہ عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق نے ہر انسان کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو تسلیم کیا جو عالمگیر برابری اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ انہی اصولوں نے دنیا بھر کے قومی قوانین اور آئین کی تشکیل میں رہنمائی کی۔ اسی تناظر میں پاکستان کے آئین میں بھی ہر شہری کو مذہب پر عمل کرنے اور اپنے مذہبی اداروں کے انتظام کا حق دیا گیا ہے۔حکومتِ پاکستان کی پالیسیوں کا بنیادی محور ان محرکات کا خاتمہ ہے جو سماجی و مذہبی استحصال کا سبب بن سکتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص ہمارے غیر مسلم شہریوں کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ قومی زندگی میں بھرپور اور تعمیری کردار ادا کر سکیں۔ اسی سلسلے میں ہم ،بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی اور مذہبی رواداری کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں، جن کی باقاعدہ منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے۔اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کو ادارہ جاتی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ پارلیمانِ پاکستان نے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس بل 2025 منظور کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹ میں “منارٹیز کاکس” بھی قائم کیا گیا ہے، جس میں قومی اسمبلی کی نمائندگی بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد اقلیتوں کے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ، رواداری کا فروغ، بین المذاہب ہم آہنگی کو تقویت دینا اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔اس دن کے موقع پر، میں تمام شہریوں خصوصاً اپنی نوجوان نسل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کے تعصب، امتیاز اور نفرت کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہوں۔ میں معاشرے کے تمام طبقات،بشمول علمائے کرام، اقلیتی رہنماؤں اور میڈیاسے درخواست کرتا ہوں کہ وہ عوام کو محبت، برداشت، بھائی چارے اور اتحاد کے جذبے سے آگاہ کریں، تاکہ پاکستان کو ایسا محفوظ وطن بنایا جا سکے جہاں رواداری، اتحاد اور سماجی ہم آہنگی ہماری پہچان ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں برداشت، شفقت اور انسانیت کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم ایک زیادہ پُرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں کامیاب ہوں۔آمین!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved