تازہ تر ین

فیض حمید فیلڈ مارشل سے رحم کی درخواست کر سکتے ہیں۔ بدعنوانی پاکستان کا سب سے بڑا قومی مسئلہ برقرار ملک میں 97 فیصد کرپٹ مافیا 10 ھزار ارب روپے کی سالانہ کرپشن۔۔36 سال پرانی ھندو کریمیشن گراؤنڈ کی زمین کی الاٹمنٹ۔۔فراڈ کھربوں روپے کی کرپشن۔۔نام نہاد اسلام بمقابلہ نام نہاد اسلام۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

“36 سال پرانی ہندو کریمیشن گراؤنڈ کی زمین کی الاٹمنٹ کالعدم، FCCA نے دوبارہ سماعت کا حکم دے دیا”رانا تصدق حسیناسلام آباد – ایک تاریخی فیصلے میں، وفاقی آئینی عدالت برائے اپیلز (FCCA) نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں 1989 میں ایویکیوئی ٹرسٹ پراپرٹی (ETP) کی زمین کو پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کرنے کے معاملے کو سرکاری تنازعہ قرار دیا گیا تھا۔اب یہ کیس لاہور ہائی کورٹ کو مکمل اور جامع سماعت کے لیے واپس بھیج دیا گیا ہے، جبکہ قانونی ماہرین نے تمام ETP اور دشمن پراپرٹی کی ملکیتوں کے لیے آزاد تیسرے فریق کے آڈٹ کی اپیل کی ہے۔متنازعہ زمین تاریخی طور پر ہندو کریمیشن گراؤنڈ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سوال اٹھایا کہ اس طرح کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کی زمین کو کس اختیار کے تحت صوبائی محکمے کو منتقل کیا گیا اور پنجاب کے وزیراعلیٰ نے اس کی منظوری کس بنیاد پر دی۔جسٹس رضوی نے نوٹ کیا کہ 1989 سے ممکنہ طور پر اس زمین پر تعمیرات ہو چکی ہیں، جو قانونی اور اخلاقی سوالات پیدا کرتی ہیں۔عدالت نے ایویکیوئی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) کے مینڈیٹ کو بھی دہرایا، جو 1960 میں قائم ہوا اور لاہور میں ہیڈکوارٹر رکھتا ہے۔ بورڈ کا کام 1947–48 میں بھارت ہجرت کرنے والے سکھوں اور ہندووں کی چھوڑی گئی جائیدادوں کی نگرانی، انتظام اور تحفظ کرنا ہے، خاص طور پر “ٹرسٹ پول” میں شامل خیراتی، مذہبی اور تعلیمی اثاثے۔اہم انتظامی مشاہدے میں عدالت نے نوٹ کیا کہ حال ہی تک دشمن پراپرٹی سیل وزارت مواصلات کے تحت تھا۔ متعدد اہم جائیدادیں، جن میں مرحوم مولانا کوثر نیازی اور کیپٹن (ریٹائرڈ) خرم آغا، سیکرٹری داخلہ کے رہائشی مکان اور prime اثاثے جیسے کہ بھبرہ بازار، راولپنڈی میں لال حویلی شامل ہیں، اس ادارے کے ماتحت ہیں، جو ان جائیدادوں کی اسٹریٹجک، تاریخی اور مالی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔جسٹس رضوی نے یہ بھی سوال کیا کہ ETPB نے وفاقی حکومت کے نام پر اپیل کیوں دائر کی بجائے خود کارروائی کیوں نہ کی، اور زور دیا کہ یہ وفاقی–صوبائی تنازعہ نہیں ہے اور سابقہ کارروائیاں قانونی طور پر ناقص تھیں۔پنجاب کے اضافی ایڈووکیٹ جنرل نے صوبائی حکام سے ہدایات حاصل کرنے کے لیے وقت کی درخواست کی۔FCCA نے پچھلے LHC فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مکمل دوبارہ سماعت کا حکم دیا، جس کی تجویز پر ETPB اور پنجاب حکومت کے نمائندے دونوں نے اتفاق کیا۔ماہرین اور سول سوسائٹی کے مبصرین اب زور دے رہے ہیں کہ ایویکیوئی ٹرسٹ اور دشمن پراپرٹی کی ملکیتوں کے شفاف انتظام کے لیے تیسرے فریق کا آزاد آڈٹ فوری طور پر ضروری ہے تاکہ عوامی اثاثوں کا تحفظ ممکن ہو اور تاریخی و مذہبی اہمیت کی جائیدادوں کے مزید غلط استعمال کو روکا جا سکے۔FCCA کی مداخلت کے ساتھ، 36 سال پرانی الاٹمنٹ شدید نگرانی میں آ گئی ہے، اور پاکستان میں ایویکیوئی اور دشمن پراپرٹی کے انتظام کی جامع دوبارہ جانچ کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے۔

فوج بدل گئی ہے ۔ اظہر سیدہم اپنے شعور اور سوچ کے مطابق مالکوں کے حمایتی بنے ہیں۔ہماری سوچی سمجھی رائے ہے فوج بدل گئی ہے ۔مالکوں کے فیصلہ سازی کے انفراسٹرکچر میں تبدیلی آ چکی ہے۔فیصلے اب ذاتی مفادات پر نہیں بلکہ اجتماعی سوچ کے ساتھ ہو رہے ہیں۔اسی سوچ کے ساتھ ہم اب مالکوں کی حمایت کرتے ہیں۔ہم لفافہ لینے والوں میں سے نہیں لفافہ دینے والوں میں سے ہیں ۔جو کچھ بھی لکھتے ہیں اپنے ضمیر اور سوچ کے مطابق بغیر کسی ڈر اور خوف کے لکھتے ہیں۔سابق ڈی جی آئی جنرل فیض حمید کو ملنے والی سزا کا مطلب ہے موجودہ ڈی جی آئی اگر ذاتی مفاد کے تحت فیصلے کرے گا تو مستقبل میں اسے بھی جنرل فیض کی طرح کورٹ مارشل کا سامنا کرنا ہو گا۔جنرل باجوہ کے دور میں جو کچھ کیا گیا فوج کے چین آف کمانڈ کے تقدس کا تحفظ کیا گیا اور تمام فیصلوں پر چین آف کمانڈ کے تقدس نے عمل کیا۔ایسے نہیں ہوتا کسی سابق ڈی جی آئی کے خلاف کوئی نیا آرمی چیف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کرا دے۔ ایسا اس لئے ممکن نہیں ہوتا فوج کا چین آف کمانڈ کا نظام اسکی اجازت نہیں دیتا ۔یقینی طور پر جنرل باجوہ کے دور میں طاقت کے انفراسٹرکچر میں غداری کا عنصر شامل تھا۔یقینی طور پر جنرل باجوہ کے طاقت کے انفراسٹرکچر میں ایسے فیصلے ہوئےخود فوج ان کا ہدف بنی۔فوج کے انفراسٹرکچر نے سقوط ڈھاکہ کے زمہ داروں کو سزا نہیں دی کہ مشرقی پاکستان میں شکست ناگزیر تھی

۔دنیا کی کوئی بھی فوج ہوتی شکست کھا جاتی۔فوج نے 1965 کی جنگ کا سبب بننے والے آپریشن جبڑالڑ کے زمہ داروں پر گرفت نہیں کی ۔فوج نے سیاچن پر بھارت کے قبضہ اور کارگل کے زمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا کہ فوج کا اپنا اندرونی نظام خودکار ہے ۔فوج نے آج جنرل فیض کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سزا سنائی ہے اس کا واضح مطلب ہے جنرل باجوہ اور سپریم کورٹ کے جج بھی پکڑ میں آئیں گے ۔موجودہ انفراسٹرکچر ایک بدل چکی فوج کا انفراسٹرکچر ہے ۔موجودہ انفراسٹرکچر نے ایک بھاری پتھر اٹھا لیا ہے ۔

اسے اب چوم کر واپس رکھنا ممکن نہیں ۔ ماضی میں جنرلوں کے کورٹ مارشل ہوتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا کورٹ مارشل ہے جو سیاسی انجینئرنگ کے ان نتایج کی وجہ سے ہوا جو جنرل باجوہ کے فوجی انفراسٹرکچر نے کیا ۔اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ موجودہ فوجی قیادت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو زاتی مفاد پر ہو کہ کورٹ مارشل کی بنیاد پڑ چکی ہے ۔ایک نظیر قائم ہو گئی ہے ۔اب تحریک لبیک بنے گی اور نہ سیاست پر کنٹرول کیلئے ایجنسی استمال ہو گی ۔اس وقت انفراسٹرکچر جو کچھ بھی کر رہا ہے اسے فوجی اصطلاح میں پسپائی سے پہلے اثاثے تباہ کرنا کہتے ہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔اثاثے اپنے ہاتھوں سے ختم کئے جا رہے ہیں۔صرف خارجیوں کو نہیں مارا جا رہا ایک اہم اثاثے تحریک لبیک کا مکو بھی ٹھپا گیا ہے ۔اربوں روپیہ کے ریاستی فنڈز استمال کر کے مشہور کی گئی تحریک انصاف نہیں ختم کی جا رہی ففتھ جنریشن وار پلاٹون کی کوکھ سے لیڈر بنائی گی سوغات کی کہانی بھی ختم کی جا رہی ہے ۔اداروں میں آپریشن کلین اپ کیا جا رہا ہے ۔ڈکیتوں منشیات فروشوں کو بھی فل فرائی اور ہاف فرائی کیا جا رہا ہے ۔بھارت کے ساتھ مؤدبانہ طرز عمل ختم کر کے ایک حقیقی ایٹمی طاقت ایسا رویہ اختیار کر لیا گیا ہے ۔ہمیں لگتا ہے یہ انفراسٹرکچر موجودہ سوچ کے ساتھ تین چار سال اور گزار گیا ریاست کی سمت درست ہو جائے گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اشک آباد میں امن اور اعتماد کے عالمی سال کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے دو طرفہ ملاقات کی۔ اس خوشگوار ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس سال کے شروع میں دونوں ممالک کو بیرونی جارحیت کے سامنا کرنے کے وقت ایک دوسرے کو فراہم کی جانے والی مضبوط حمایت کو سراہا۔اس سال کے شروع میں پاک-ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 22ویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دو طرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے، سرحدی منڈیوں کو فعال کرنے، سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اسلام آباد-بلوچستان ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں فریقین کے مل کر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے سنگین سیکورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے افغانستان حکومت بامعنی کارروائی کرے۔دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر پیزشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ یہ ملاقات پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جو ان کی مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے باقاعدہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی کے لیے تہہ دل سے تہنیتی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

‏لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے پاس آپشن موجود ہے کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف سے معافی اور رحم کی اپیل کر سکتے ہیں، وہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی جا سکتے ہیں سب ٹرائل اوپن ہو گا مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہ اپیل کریں گے یا اپنے ساتھی عمران خان کی طرح اپنے جرم، گناہ اور غلطی پر اڑے رہیں بالکل ابلیس کی مانند ۔۔‏مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی پروفیشنل لائف میں مسلسل جنرل عاصم منیر سے چپقلش رہی اور وہ اس حد تک تھی کہ انہوں نے ان کی ممکنہ سپہ سالاری رکوانے کے لئے عمران خان سے ( نومبر 2022 والا) لانگ مارچ بھی کروایا۔ ان کے خلاف بغاوت کے لئے عمران خان سے مل کر 9 مئی بھی برپا کیا یعنی مخالفت کی انتہا۔ یہ مخالفت پورے کیرئیر پر محیط ہے، عمرانی فتنے کے دور میں فیض حمید اسے عروج پر لے گئے۔‏سوال یہ بھی ہے کہ فیض حمید نے اس سزا سے معافی مانگ بھی لی، رحم لے بھی لیا تو کیا وہ اس اگلی کارروائی اور سزا سے بچ پائیں گے جس کی طرف آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کا آخری پیراگراف چیخ چیخ کا اعلان کر رہا

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved