
ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کی کتاب”ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” کی تقریب پذیرائیاسلام آباد(پ۔ر)دُنیا کی تمام تہذیبوں میں سب سے بہتر تہذیب مسلمانوں کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز اُردو شاعرپروفیسر جلیل عالی نے مدینہ منورہ میں مقیم اُردو کے شاعر ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کے شعری مجموعے “ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” کی تقریب پذیرائی سے صدارتی خطاب کے دوران کیا

۔اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے بات کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہوں کیونکہ میرے والد سیاسی لیڈر تھے۔ ہر قوم کی تاریخ کا میابیوں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔پاکستان سب کا ہے،عوام کے ہمدرد لوگوں کا بھی اور مفادپرست لوگوں کا بھی۔ دنیا میں جتنی تہذیبیں گذری ہیں ان میں سب سے بہتر تہذیب مسلمانوں کی ہے

۔ ہماری فارن پالیسی کامیاب پالیسی ہے۔ڈائریکٹر جنرل، ادارۂ فروغِ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کہا کہ میرے نزدیک پاکستان واحد ملک ہے جہاں ایک بچہ باہر جاتا ہے اور تمام خاندان کی کفالت کرتا ہے۔ ۔

وہی بیرونِ ملک رہنے والا بچہ وطن کی محبت سے سرشار ہوتا ہے۔ پردیسی کے دل میں وطن کی یاد ایمان کا حصّہ ہے۔ پاکستان کا ہر شہری رضا کارانہ طور پر جنگ میں جانے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

خالد نے مدینہ منورہ میں بیٹھ کر اپنے ملک کے لیے اس قدر خوبصورت اشعار لکھے۔اُنھوں نے ہم سب کی ترجمانی کی ہے اور ان کی یہ کوشش خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ وہ اپنے اس روحانی سفر کو جاری رکھیں۔ اللہ اس ہلالی پرچم کی عزت بڑھانے والے لوگوں کو سلامت رکھے ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض محبوب ظفر نے ادا کرتے ہوئے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔ صاحبِ کتاب نے مدینہ منورہ سے آن لائن خطاب کرتے ہوئےاپنی نظمیں سنائیں اور فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا

۔اُنھوں نے کہا کہ پاکستان قربانیاں دے کرحاصل کیا گیا اور قربانیوں سے قائم رہے گا۔ کئی ماؤں نے اس سرزمین پر اپنے بیٹے وار دیے ہیں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میری پہلی محبت ہے جس کا آغاز میری ماں کے آنسو سے ہوا جب وہ اپنے والد کی شہادت کو یاد کرتی تھیں۔ محمدحمید شاہد نے کہا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس سرزمین سے جب ہمارا ایمان جڑتا ہے تو اسے کا نظریہ بہت اہم ہوجاتا ہے ۔ ہماری فوج جب ریاست سے جڑتی ہے تو ہمیں یہ بے حد اچھے لگتے ہیں۔

خالدالاسدی نے ادبی سفر غزل سے شروع کیا مگر عشق محمد غالب آگئی ۔ سبز گنبد سے سبز پرچم کا سفر ان کی اس تصنیف سے قاری تک منتقل ہوتا ہے ۔ یہ کتاب ان کی توقیر اور منزلت میں اضافہ کرے گی۔ جبار مرزا نے کہا کہ خالد کی فوج سے محبت کی کئی وجوہات ہیں، جس میں سے ایک ان کی والدہ کے آنسو بھی ہیں۔خالد کی یہ کتاب پاک فوج کو خراج ِ تحسین ہے جس کا قیام پاکستان کے وقت ایک رجمنٹ بھی مکمل موجود نہیں تھا۔ خالد ایک شاعر ،دوست اور درجن بھر کتابوں کے مصنف اور پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں

۔ مسجد نبوی کے 14ویں توسیعی منصوبے میں چیف ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام شروع کیا ،تین بار ٹرانسفر کا موقع بھی ملا مگر نہ گئے۔ سلمان باسط نے کہا کہ محبت میں ڈوبا یہ شخص اللہ کے نام پر قائم مملکت سے بھی محبت کرتا ہے۔ اس کتاب کا ایک ایک لفظ پاکستان کی انسیت سے بھر اپڑا ہے۔ ان کی یہ کتاب عشق اور محبت کا زمزمہ ہے۔فاروق عادل نے کہا کہ خالد سے جان پہچان نہیں ۔ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں، جواُن کے کلام میں دیکھی جاسکتی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فلاں نہیں تو پاکستان نہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ۔ اُنھوں نے کوشش کی ہے کہ ہمارے ناراض اور روٹھے بچے جان سکیں کہ اُنھوں نے کیا حاصل کیا ہے۔

نفرت کی آگ بجھا کر محبت کے پُھول اگانے کا طریقہ یہ ہے۔ماہنامہ” ہلال” کے ایڈیٹر یوسف عالمگیرین نے کہا کہ شعروادب سے شغف ہوناتحفۂ خداوندی ہے کیونکہ ہر شخص شعر نہیں کہہ سکتا ، صرف پیدائشی شاعر ہی لکھ سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر خالد کے وطنیت کے لیے کہے گئے اشعار کی گونج پورے ملک میں سنائی دیتی ہے۔ڈاکٹر خالد میں وطنیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ان کے ایک ایک شعراس کی گواہی دیتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن پاکستان آرمی کے تھری اسٹار جنرل ہیں۔ انہیں “ہلال امتیاز – ملٹری” HI(M) سے نوازا گیا ہے، آئی جی ایف سی بلوچستان IGFC Balochistan* بطور میجر جنرل انہوں نے فرنٹیر کور بلوچستان کے انسپکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ دورانیہ بلوچستان میں دہشت گردی اور امن و امان کے حوالے سے بہت حساس تھا۔ کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں امن کی بحالی میں ان کا کردار کلیدی رہا۔ ترقی پا کر وہ 31 کور بہاولپور کے کمانڈر بنے۔ اس عہدے پر انہوں نے مشرقی سرحد کے دفاع، آپریشنل تیاری اور جوانوں کے مورال کو بلند رکھنے میں.

اہم کردار ادا کیا۔جی ایچ کیو راولپنڈی میں وہ انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوشن رہے۔ یہ عہدہ فوج کی تربیت، ڈاکٹرین اور مستقبل کی قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔انہیں آزاد کشمیر رجمنٹ کا کرنل کمانڈنٹ بھی مقرر کیا گیا

جو اس رجمنٹ کے لیے اعزاز کی بات ہے۔جنرل شیر افگن کو انسداد دہشت گردی، لائن آف کنٹرول LoC پر تعیناتی اور قومی سلامتی کے معاملات میں تجربہ کار اور جارحانہ مزاج افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جنگ کے خاتمے کا باعث بننے والے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کو ایک اضافی موقع دینے، نیز آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سکیورٹی اور آزادی کو 28 فروری 2026ء سے پہلے کی صورت حال کے مطابق بحال کرنے اور خطے کے امن و استحکام کی خاطر تمام اختلافی امور کو حل کرنے کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت رد عمل کو اپنے ملک کی جانب سے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔سعودی عرب نے اس سلسلے میں پاکستان کی مسلسل ثالثی کی کوششوں کو بھی بہت سراہا ہے۔

نیز مملکت اس بات کی متوقع ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا۔ ان خیالات کا اظہار شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایکس پلیٹ فارم (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کیا۔سعودی عرب امید کرتا ہے کہ ایران مذاکرات میں پیش رفت کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جلد مثبت جواب دے گا تاکہ ایک ایسے جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے جو خطے اور دنیا میں پائیدار امن کا ضامن ہو

⭕امریکہ کی قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی مخالفت کے باعث استعفیٰ دے دیا ہے۔یہ گمان نہ کریں کہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچنے والے ہیں۔ایران کی مسلح افواج سو فیصد ہائی الرٹ پر ہیں۔










