تازہ تر ین

ملک میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے برقرار۔مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی عوام خودکشیوں پر مجبور۔۔پاکستان میں اٹا مھنگا خون سستا سب کچھ ختم ھونے کے قریب۔ملک بھر میں مھنگای دھشت گردی اور لا قانونیت کا خوف۔۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کو ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے زیادہ تر شہریوں کو کم از کم 2 ہزار ڈالر بطور ڈیویڈنڈ ادا کیے جائیں گے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

🚨 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کو ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے زیادہ تر شہریوں کو کم از کم 2 ہزار ڈالر بطور ڈیویڈنڈ ادا کیے جائیں گے۔صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکیوں کو ڈیویڈنڈ ادا کرنے کا اعلان کیا تاہم یہ واضح کردیا کہ زیادہ آمدن والے امریکی اس سے محروم رہیں گے۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم کھربوں ڈالر حاصل کر رہے ہیں اور بہت جلد اپنے 37 کھرب ڈالر کے بھاری قرضے کی ادائیگی شروع کریں گے۔ ہر شخص کو (زیادہ آمدنی والے افراد کے علاوہ) کم از کم 2 ہزار ڈالر ادا کیے جائیں گے‘۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ….!!!!وزیر اعظم کا حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کا خیر مقدم اور 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل میں ان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا…..!!!!صدر مملکت آصف علی زرداری کے اور تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے مشکور ہیں. وزیرِ اعظم….!!!!تمام اتحادی جماعتوں نے اس قومی سوچ کا بھرپور ساتھ دیا. وزیر اعظم….!!!!وفاق کی مضبوطی، ملک کے وسیع مفاد، صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور گورننس کو بہتر کرنے کے لئے 27ویں آئینی ترمیم کیلئے ہم سب نے مل کر کوشش کی، وزیراعظم ….!!!!اس حکومت کے دوران حاصل کیے گئے تمام سنگ میل حکومت اور اتحادی جماعتوں کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہیں، وزیراعظم….!!!! پاکستان کی سفارتی کامیابیاں اور دنیا میں نام تمام اتحادی جماعتوں کے مابین ہم آہنگی اور باہمی اتحاد کی عکاس ہے، وزیراعظم ….!!!!ہم سب کی مشترکہ کوششوں کی بدولت پاکستان کو شاندار مقام حاصل ہوا ہے. وزیر اعظم….!!!!ملکی معاشی صورتحال میں بتدریج بہتری ہو رہی ہے، وزیراعظم….!!!!اللہ کے فضل و کرم سے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کی بدولت ملک کی سمت درست ہوئی. وزیرِ اعظم….!!!!

تیسری عالمی جنگ کے قریب آنے کی سب سے بڑی علامت سونے کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے ۔سرمایہ حصص بازار کا ہو یا گولڈ مارکیٹ کا سب سے پہلے مستقبل دیکھ لیتا ہے ۔یہاں ریاستیں بھی سونے کے ذخائر جمع کر رہی ہیں نجی سرمایہ کار بھی ۔عالمی جنگ مقامی کرنسیوں کی قدر کھا جاتی ہے لیکن سونا اپنی قدر ہمیشہ برقرار رکھتا ہے ۔معلوم دنیا کی یہی تاریخ ہے ۔پرانے زمانے کی عظیم سلطنتوں کے خزانے بھی سونے کے ذخائر ہوتے تھے ۔جدید دور کی سلطنتیں امریکہ ،چین،مغربی ممالک ،سارے سونا خرید رہے ہیں۔سونا اسمگل ہونا بھی شروع ہو گیا ہے ۔اس کی طلب بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔عالمی سطح پر جاری کساد بازاری کی وجہ سے عام لوگ جو سونا فروخت کرتے ہیں ستر فیصد حصہ بسکٹ کی شکل میں ڈھل کر ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے شیطانی چکر میں غائب ہو جاتا ہے ۔یہ سلسلہ عالمی جنگ کے ساتھ بند ہو گا ۔یہی دنیا کی تاریخ ہے۔

سی ڈی اے کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ — 107 افسران برطرف، رندھاوا کی کرپشن کے خلاف کڑی کارروائی، ترقیاتی منصوبوں میں تیزی کا حکم — لیکن قدیم ترین سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی نے سوالات کھڑے کر دیےرانا تصدق حسیناسلام آباد – کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین محمد علی رندھاوا نے انجینئرنگ ونگ کو ہدایت دی ہے کہ سیکٹر C-14 میں تمام ترقیاتی کام آئندہ ماہ کے آخر تک جبکہ سیکٹر I-12 کے منصوبے تین ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔ ان ہدایات سے واضح ہوتا ہے کہ چیئرمین نے زیرِ التواء منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے ایک جارحانہ انتظامی مہم شروع کر دی ہے۔اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین رندھاوا نے انجینئرنگ اور لینڈ ونگ کے افسران پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کارکردگی میں ناکامی پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اتھارٹی نے دو خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں — ایک جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے، اور دوسرا پرانے سیکٹرز میں انفراسٹرکچر کی بحالی، ہارٹیکلچر، لینڈ اسکیپنگ اور جدید شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے۔

تاہم ان اقدامات کے باوجود سیکٹر E-12 — جہاں پلاٹوں کی الاٹمنٹ 1980 کی دہائی کے آخر میں کی گئی تھی — بدستور نظرانداز ہے۔ ہزاروں الاٹیز کئی دہائیوں سے انتظار میں ہیں، مگر تاحال وہاں کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام شروع نہیں ہوا، جو سی ڈی اے کے وعدوں اور کارکردگی کے درمیان واضح تضاد ظاہر کرتا ہے۔پچھلی انتظامیہ نے میر آبادی میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی تعمیرات جیسے شادی ہال، ورکشاپس اور شورومز منہدم کیے، مگر اسی دوران سری نگر ہائی وے کے ساتھ G-13 سے G-11 کے درمیان سروس روڈ پر ناجائز تعمیرات کو یکسر نظرانداز کیا گیا — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض کرپٹ عناصر اور سی ڈی اے کے اندر موجود اہلکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔اسی طرح مارگلہ ایونیو، جو حال ہی میں تعمیر کی گئی تھی، اب اپنی ڈیفیکٹ لائیبلیٹی مدت کے دوران ہی سنگین نقصانات اور سرفیس سیٹلمنٹ کا شکار ہے، مگر متعلقہ شعبہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے

۔دوسری جانب مارگلہ ایونیو اور موٹروے (M-1) کو جوڑنے والا لنک منصوبہ بھی صرف تشہیری مقاصد کے لیے مکمل کیا گیا، جبکہ اس کی فنی نگرانی اور دیکھ بھال پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔کرپشن کے خلاف ایک بڑے اقدام کے تحت سی ڈی اے نے گریڈ 19 تا 16 کے 107 افسران کو برطرف کر دیا ہے، جن پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، اور محکماتی انکوائریوں میں مداخلت کے الزامات تھے۔ذرائع کے مطابق یہ افسران طویل عرصے سے زیرِ نگرانی تھے اور ایک دوسرے کو ’’کلین چٹ‘‘ دلوانے اور انکوائریوں میں اثرانداز ہونے میں ملوث پائے گئے۔اطلاعات کے مطابق چیئرمین رندھاوا نے تین ماہ قبل میمبر ایڈمنسٹریشن کو خفیہ طور پر ہدایت دی تھی کہ ایسے تمام افسران کی فہرست میرٹ پر تیار کی جائے جن کی شہرت مشکوک ہو یا جن کے خلاف انکوائریاں جاری ہوں۔انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر اس عمل میں کسی قسم کی جانبداری، اقربا پروری یا انتقامی رویہ سامنے آیا تو متعلقہ افسر کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔میمبر ایڈمن نے تین ماہ کے اندر یہ کام مکمل کر لیا جس کے بعد چیئرمین نے اس مہم کو ’’آپریشن کلین اپ‘‘ کا نام دیا اور اعلان کیا کہ ادارے کو ’’کالی بھیڑوں‘‘ سے ہر قیمت پر پاک کیا جائے گا۔چیئرمین نے یہ بھی ہدایت دی کہ آئندہ کسی شہری کے جائز کام میں بلاوجہ رکاوٹ ڈالنے والا کوئی اہلکار ریٹائرمنٹ بینیفٹس کے بغیر فارغ کر دیا جائے گا۔سی ڈی اے کے لیگل ونگ کو تمام متعلقہ مقدمات کی پیروی کا ٹاسک دیا گیا ہے اور اسے مستند وکلاء کی خدمات سے مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔رندھاوا نے عزم ظاہر کیا کہ جو افسران قصوروار ثابت ہوں گے انہیں مثال بنا کر پیش کیا جائے گا تاکہ ادارے میں کرپشن کے خاتمے کا واضح پیغام جائے۔برطرف افسران میں متعدد سینئر عہدے دار شامل ہیں جن میں:گریڈ 19 کے ڈائریکٹر لاء عبدالحکیم بریروڈائریکٹر ٹریننگ اکیڈمی و لیبر ڈائریکٹر ممتاز علی شیرڈائریکٹر انفورسمنٹ و ایڈمن ایچ آر لاءڈپٹی ڈی جی (ایڈمن ایچ آر) میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کاشف شاہڈائریکٹر سول رانا طارق محمود (جو ڈپٹی ڈی جی میٹرو بس بھی رہ چکے ہیں)اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ای اینڈ ڈی ایم و آپریشنز ظفر اقبال (جنہیں 1122 ایمرجنسی سروسز کا اضافی چارج بھی حاصل تھا) شامل ہیں۔چیئرمین رندھاوا کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ سی ڈی اے کی حالیہ تاریخ میں احتساب کی سب سے بڑی مہم قرار دی جا رہی ہے، مگر سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی اب بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سی ڈی اے کے وعدے آج بھی ادھورے ہیں۔

سی ڈی اے کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ — 107 افسران برطرف، رندھاوا کی کرپشن کے خلاف کڑی کارروائی، ترقیاتی منصوبوں میں تیزی کا حکم — لیکن قدیم ترین سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی نے سوالات کھڑے کر دیےرانا تصدق حسیناسلام آباد – کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین محمد علی رندھاوا نے انجینئرنگ ونگ کو ہدایت دی ہے کہ سیکٹر C-14 میں تمام ترقیاتی کام آئندہ ماہ کے آخر تک جبکہ سیکٹر I-12 کے منصوبے تین ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔ ان ہدایات سے واضح ہوتا ہے کہ چیئرمین نے زیرِ التواء منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے ایک جارحانہ انتظامی مہم شروع کر دی ہے۔اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین رندھاوا نے انجینئرنگ اور لینڈ ونگ کے افسران پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کارکردگی میں ناکامی پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اتھارٹی نے دو خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں — ایک جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے، اور دوسرا پرانے سیکٹرز میں انفراسٹرکچر کی بحالی، ہارٹیکلچر، لینڈ اسکیپنگ اور جدید شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے۔تاہم ان اقدامات کے باوجود سیکٹر E-12 — جہاں پلاٹوں کی الاٹمنٹ 1980 کی دہائی کے آخر میں کی گئی تھی — بدستور نظرانداز ہے۔ ہزاروں الاٹیز کئی دہائیوں سے انتظار میں ہیں، مگر تاحال وہاں کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام شروع نہیں ہوا، جو سی ڈی اے کے وعدوں اور کارکردگی کے درمیان واضح تضاد ظاہر کرتا ہے۔پچھلی انتظامیہ نے میر آبادی میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی تعمیرات جیسے شادی ہال، ورکشاپس اور شورومز منہدم کیے، مگر اسی دوران سری نگر ہائی وے کے ساتھ G-13 سے G-11 کے درمیان سروس روڈ پر ناجائز تعمیرات کو یکسر نظرانداز کیا گیا — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض کرپٹ عناصر اور سی ڈی اے کے اندر موجود اہلکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔اسی طرح مارگلہ ایونیو، جو حال ہی میں تعمیر کی گئی تھی، اب اپنی ڈیفیکٹ لائیبلیٹی مدت کے دوران ہی سنگین نقصانات اور سرفیس سیٹلمنٹ کا شکار ہے، مگر متعلقہ شعبہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔دوسری جانب مارگلہ ایونیو اور موٹروے (M-1) کو جوڑنے والا لنک منصوبہ بھی صرف تشہیری مقاصد کے لیے مکمل کیا گیا، جبکہ اس کی فنی نگرانی اور دیکھ بھال پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔کرپشن کے خلاف ایک بڑے اقدام کے تحت سی ڈی اے نے گریڈ 19 تا 16 کے 107 افسران کو برطرف کر دیا ہے، جن پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، اور محکماتی انکوائریوں میں مداخلت کے الزامات تھے۔ذرائع کے مطابق یہ افسران طویل عرصے سے زیرِ نگرانی تھے اور ایک دوسرے کو ’’کلین چٹ‘‘ دلوانے اور انکوائریوں میں اثرانداز ہونے میں ملوث پائے گئے۔اطلاعات کے مطابق چیئرمین رندھاوا نے تین ماہ قبل میمبر ایڈمنسٹریشن کو خفیہ طور پر ہدایت دی تھی کہ ایسے تمام افسران کی فہرست میرٹ پر تیار کی جائے جن کی شہرت مشکوک ہو یا جن کے خلاف انکوائریاں جاری ہوں۔انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر اس عمل میں کسی قسم کی جانبداری، اقربا پروری یا انتقامی رویہ سامنے آیا تو متعلقہ افسر کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔میمبر ایڈمن نے تین ماہ کے اندر یہ کام مکمل کر لیا جس کے بعد چیئرمین نے اس مہم کو ’’آپریشن کلین اپ‘‘ کا نام دیا اور اعلان کیا کہ ادارے کو ’’کالی بھیڑوں‘‘ سے ہر قیمت پر پاک کیا جائے گا۔چیئرمین نے یہ بھی ہدایت دی کہ آئندہ کسی شہری کے جائز کام میں بلاوجہ رکاوٹ ڈالنے والا کوئی اہلکار ریٹائرمنٹ بینیفٹس کے بغیر فارغ کر دیا جائے گا۔سی ڈی اے کے لیگل ونگ کو تمام متعلقہ مقدمات کی پیروی کا ٹاسک دیا گیا ہے اور اسے مستند وکلاء کی خدمات سے مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔رندھاوا نے عزم ظاہر کیا کہ جو افسران قصوروار ثابت ہوں گے انہیں مثال بنا کر پیش کیا جائے گا تاکہ ادارے میں کرپشن کے خاتمے کا واضح پیغام جائے۔برطرف افسران میں متعدد سینئر عہدے دار شامل ہیں جن میں:گریڈ 19 کے ڈائریکٹر لاء عبدالحکیم بریروڈائریکٹر ٹریننگ اکیڈمی و لیبر ڈائریکٹر ممتاز علی شیرڈائریکٹر انفورسمنٹ و ایڈمن ایچ آر لاءڈپٹی ڈی جی (ایڈمن ایچ آر) میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کاشف شاہڈائریکٹر سول رانا طارق محمود (جو ڈپٹی ڈی جی میٹرو بس بھی رہ چکے ہیں)اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ای اینڈ ڈی ایم و آپریشنز ظفر اقبال (جنہیں 1122 ایمرجنسی سروسز کا اضافی چارج بھی حاصل تھا) شامل ہیں۔چیئرمین رندھاوا کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ سی ڈی اے کی حالیہ تاریخ میں احتساب کی سب سے بڑی مہم قرار دی جا رہی ہے، مگر سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی اب بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سی ڈی اے کے وعدے آج بھی ادھورے ہیں۔

ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر کی بیوی اور بیٹی لاپتہ — پنجاب پولیس کی تفتیش ناکام یا چھپانے کی کوشش؟خاندانی معاملہ یا سرکاری وردی کے پیچھے چھپا سنگین جرم؟رانا تصدق حسینلاہور — لاہور پولیس کے ڈی ایس پی انویسٹیگیشن (کاہنہ سرکل) عثمان حیدر گجر کی بیوی اور بیٹی کے لاپتہ ہونے کا کیس سنگین اور سنسنی خیز رخ اختیار کر گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے خاندانی معاملہ قرار دیا گیا، مگر اب یہ کیس پنجاب پولیس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ڈی ایس پی کی سالی تہمینہ شوکت نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو فریق بنایا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو بھی ایک تحریری درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔تہمینہ شوکت کے مطابق، ڈی ایس پی عثمان حیدر اپنی بیوی سمعیہ اور بیٹی خنسا پر تشدد کرتے تھے، اور اب انہیں شبہ ہے کہ ڈی ایس پی نے اپنی اہلیہ کو قتل کر دیا ہے جبکہ بیٹی کو چھپا دیا گیا ہے۔تہمینہ کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹا چکی ہیں مگر پولیس کی جانب سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق تھانہ برکی کا ایس ایچ او اور خود ڈی ایس پی عثمان حیدر انہیں خاموش رہنے پر مجبور کر رہے ہیں اور جعلی پولیس مقابلے میں مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ایس پی کینٹ انویسٹیگیشن بشریٰ نثار نے عدالت کے باہر انہیں مدد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے پولیس کی گاڑی میں بٹھایا، مگر بعد ازاں غائب ہو گئیں۔ اس دوران تھانیدار بدتمیزی کرتا رہا جبکہ ان کے شوہر کو تھانہ برکی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ آئی جی پنجاب کے خلاف کارروائی کی جائے اور کیس کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔دوسری جانب، ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر نے اپنی بیوی اور بیٹی کے اغوا کا مقدمہ 23 دن بعد تھانہ برکی میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کروایا، جس سے معاملہ مزید مشکوک ہوگیا ہے۔تفتیشی عمل میں تاخیر، متضاد بیانات اور اعلیٰ پولیس افسران کی مبینہ مداخلت نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ کہیں واقعہ کو چھپانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی۔اب یہ کیس پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے اعتماد اور انصاف کا امتحان بن چکا ہے — اور سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس اپنے ہی افسر کے خلاف شفاف تحقیقات کر پائے گی؟

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved