
ریٹائرمنٹ کے بعد منصور علی شاہ اور اطہرمن اللہ تقریبا 13 کروڑ کے قریب رقم وصول کرینگے آخری سیلری سلپ کے مطابق پینشن تاحیات انجوائے کریں گے،جو غالباً 28 سے 30 لاکھ ماہانا بنتی ہے۔* دیگر الاؤنس،گاڑی، ڈرائیور اور سیکیورٹی کی مد میں تاحیات پولیس اہلکار بھی حاصل کریں گے۔ ایک پسند کا اردلی رکھنے کی اجازت ہوگی،ماہانہ 3 ہزار مفت ٹیلی فون کالز، 2 ہزار یونٹ بجلی، مفت گیس، پانی کی مفت فراہمی، 300 لیٹر پٹرول بھی ملے گا۔دونوں جج صاحبان کے انتقال کے بعد بیوہ کو ڈرائیور، اردلی ملے گا، 2 ہزار یونٹ بجلی اور مفت پانی کی سہولت بھی حاصل ہے، ماہانہ 300 لیٹر پیٹرول بھی دیا جاتا ہے جبکہ بیوہ سے انکم ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔جسٹس اطہر من اللہ اور منصور علی شاہ حقیقی اصولی جنگ لڑرہے ہیں امید ہے استعفوں کے بعد پینشن اور دیگر مراعات چھوڑ دیں گے ۔ویسے کاش کہ ان شہنشاہانہ مراعات پہ بھی کسی کا ضمیر جاگتا اور کوئ استعفی اس پہ بھی آتا۔۔۔۔۔

حرام خور جج ۔ اظہر سید”کہتا ہے میرا قلم عوام کی امانت ہے”بھائی صاحب تم عوام کے مامے لگتے ہو ۔تمہارا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے ۔عوام کیلئے عوام کی پارلیمنٹ موجود ہے ۔وہ اپنے فیصلے خود کر لے گی ۔ایک چیف جسٹس کھوسہ تھا کہتا تھا “فیصلے ضمیر کے مطابق کرتا ہوں “جبکہ اسے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے کیلئے لگایا گیا تھا۔ایک مخدوم علی خان صاحب ہیں انہیں بھی آئین اور قانون بڑے زور کا آیا ہوا ہے ۔ یہ بھی استعفیٰ دے گئے ہیں ۔۔یہ موصوف آئین توڑ کر اقتدار سنبھالنے والے جنرل مشرف کے اٹارنی جنرل بن گئے تھے ۔فراڈئے ہیں سارے کے سارے۔منصور علی شاہ مستقبل کا چیف جسٹس تھا لیکن تاریخ کی غلط سمت میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ائین اور قانون کے نام پر آئین اور قانون کی جو شاعری اپنے استعفیٰ میں قوم کو سنا رہا ہے اس وقت بھول گیا تھا جب تین کے بدبخت ٹولے نے نوسر باز کی محبت میں 63 اے کی تشریح کرتے ہوئے آئین ازسر نو لکھ مارا تھا ۔اس وقت آئین اور قانون شائد کسی قریبی عزیز کا کرش بن کر اس کے خوابوں میں چلا گیا تھا۔اس وقت آئین اور قانون یاد نہیں آیا جب اپنے قلم سے جنرل باجوہ کی توسیع کا فیصلہ لکھا۔جھوٹے اور نوسر باز ہیں سارے کے سارے

۔ایک اور موصوف ہیں ۔استعفی میں واردات ڈالنے سے باز نہیں ائے۔صدر مملکت کو استعفیٰ لکھ مارا ہے۔یہی وہی موصوف ہیں ۔وزیراعظم نے عدلیہ میں کالی بھیڑوں کا ذکر کیا بولے”ہم کالے بھونڈ ہیں”یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے بھاگ کر آئین اور قانون توڑ کر اقتدار سنبھالنے والے جنرل مشرف سے صوبائی وزارت لے لی تھی ۔اج آئین اور قانون کی دہائی دیتے ہوئے استعفیٰ دے رہے ہیں جبکہ تین ماہ بعد ویسے بھی ریٹائرمنٹ کی عمر اجانی تھی۔یہ کالا بھونڈ اپنے ساتھی سنئیر جج شوکت صدیقی کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے چھلانگ لگا کر جنرل فیض کی گود میں بیٹھ گیا تھا ۔شوکت صدیقی کو اس وقت کے مالکوں نے فارغ کرایا تو چیف جسٹس بن گیا ۔ فراڈ ہیں سارے کے سارے ۔یہ وہی ہیں جو تحریک عدم کی رات جنرل باجوہ کی آنکھ کے اشارے پر عدالت کھول کر بیٹھ گئے تھے ۔اج سپریم کورٹ کا گویا نوحہ پڑھ رہے ہیں










