تازہ تر ین

پاکستان ویمن کا ساؤتھ افریقہ کے خلاف ونڈے اور ٹی ٹونٹی سکواڈ کا اعلان۔۔شاہ رضا پھلوی خاندان ایک بار پھر ایران پر حکمرانی کی طرف گامزن۔۔بحرین میں پاکستانی صدر کی اھم ترین ملاقاتیں جاری۔۔سی ڈی اے چیرمین کی طلبی اور باز پرس۔امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کیلئے ویزے کا عمل روک دیا۔ امریکہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے امیگریشن ویزہ پراسس کرنے پر عارضی پابندی لگا دی۔وینزویلا کا آرمی چیف کو موت کی سزا۔۔ایران میں مظاھروں میں 200 افراد ہلاک۔۔قومی اسمبلی ھاوس بزنس ایڈوازری کمیٹی کا اجلاس۔2 ھزار ارب روپے کی کرپشن ذمہ دار شکنجے میں۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سید عاصم منیر چیف آف ڈیفنس فورسز کے سربراہ عاصم ملک *ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات* *پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جدت کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط* وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے اسلام آباد میں ورلڈ لبرٹی فنانشل، امریکہ کے وفد نے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف (Zachery Witkoff) کی قیادت میں ملاقات کی۔

نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کے لیے اپنے وژن کا اظہار کیا جس کا مقصد شہریوں کے لیے روابط، آسان رسائی اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ اور مالیاتی جدت پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کے اہم حصے ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی مارکیٹس میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن رہا ہے۔

مسٹر زچری وِٹکوف نے پاکستان کے ساتھ ایک محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کیلئے کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی، جس میں سرحد پار سیٹلمنٹ اور زرمبادلہ کے حصول و ادائیگی کے عمل میں جدتیں شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی جو عالمی ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے ملک کو ایک اہم ملک کے طور پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے نیکسٹ جنریشن ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار مالیاتی جدتوں کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفینس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حکومت پاکستان اور SC فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا مشاہدہ کیا، جو کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ادارہ ہے، تاکہ سرحد پار لین دین کے لیے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگی کے آرکیٹیکچرز کے بارے میں مکالمے اور تکنیکی سمجھ بوجھ کے تبادلوں کو ممکن بنایا جا سکے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سی ای او ورلڈ لبرٹی فنانشل زچری وٹکوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

پہلوی خاندانپہلوی خاندان ایران کا آخری شاہی خاندان تھا، جس کی حکومت کا آغاز 1925 میں رضا شاہ پہلوی کی تخت نشینی سے ہوا اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے ساتھ اس کا اختتام ہو گیا۔ اس خاندان کے تین اہم افراد ہیں، بانی رضا شاہ پہلوی، ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی، اور پوتے رضا شاہ ثانی (تخت کے وارث، لیکن حکمران نہ بن سکے)۔ یہ تحریر بادشاہت کے بانی، رضا شاہ پہلوی اول کے بارے میں ہے۔ رضا شاہ پہلوی کا اصل نام “رضا خان” تھا۔ وہ 1878 میں ایران کے صوبہ مازندران کے علاقے الساشت میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ “کاسک بریگیڈ” میں بھرتی ہوئے، جو ایران کی شاہی فوج کا ایک جدید اور مضبوط دستہ تھا۔ ان کی فطری قیادت کی صلاحیتوں اور جرات کی بنا پر وہ تیزی سے ترقی پاتے گئے اور بالآخر اس بریگیڈ کے کمانڈر کے عہدے تک پہنچ گئے۔حکومت پر قبضہ اور آئینی تخت نشینی (1925–1941)1921 میں، رضا خان نے، جو اس وقت فوج میں ایک کمانڈر تھے، اپنے فوجی دستوں کے ساتھ مل کر قاجار خاندان کی کمزور مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ وہ تہران میں داخل ہوئے اور کلیدی عہدوں پر قابض ہو گئے۔ وہ پہلے وزیر جنگ اور پھر وزیر اعظم بنے۔ چار سال کے اندر اندر انہوں نے ملک بھر میں پھیلی بغاوتوں اور قبائلی خودمختاری کو کچل کر اپنی طاقت کو مضبوط کر لیا۔آخرکار، 1925 میں، ایران کی مجلس (پارلیمنٹ) نے قاجار خاندان کے آخری بادشاہ، “احمد شاہ قاجار” ، کو معزول کرتے ہوئے رضا خان کو نئے شاہ کے طور پر منتخب کر لیا۔ انہوں نے رضا شاہ پہلوی کا خطاب اختیار کیا، جس سے پہلوی خاندان کی بنیاد رکھی گئی۔اپنے دورِ حکومت میں، رضا شاہ نے برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت سے بچنے کی پوری کوشش کی۔ اگرچہ ان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے غیر ملکی تکنیکی مہارت درکار تھی، لیکن انہوں نے برطانوی اور سوویت اداروں کو ٹھیکے دینے سے ہمیشہ اجتناب کیا۔ رضا شاہ نے تکنیکی مدد حاصل کرنے کے لیے جرمنی، فرانس، اٹلی اور یورپ کے دیگر ممالک کو ترجیح دی۔رضا شاہ کے 16 سالہ دورِ حکومت کو ایران کی “کایا پلٹ” کا دور سمجھا جاتا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد ایران کو ایک طاقتور، مرکزی، جدید قومی ریاست بنانا تھا۔ ان کی اہم کارنامے اور پالیسیاں یہ تھیں:1. انہوں نے طاقتور قبائل اور علاقائی سرداروں کی خودمختاری ختم کر کے پورے ملک پر ایک مضبوط مرکزی حکومت کا کنٹرول قائم کیا۔2. انہوں نے ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا اور “غیر ملکی قرضوں کے بغیر” ٹرانس ایرانی ریلوے جیسا عظیم الشان منصوبہ مکمل کروایا، جو خلیج فارس کو بحیرہ قزوین سے ملاتا تھا۔3. بڑے پیمانے پر کارخانے قائم کیے گئے، جس سے صنعتی مزدور طبقہ وجود میں آیا۔4. تعلیمی اور قانونی اصلاحات کی گئیں، جس کے تحت تہران یونیورسٹی سمیت جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ سینکڑوں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ بھیجا گیا۔ مذہبی عدالتوں کے دائرہ کار کو محدود کر کے ایک جدید قانونی نظام نافذ کیا گیا۔5. جدید طرز کے لباس (خاص طور پر مردوں کے لیے ہیٹ بجائے پگڑی/ٹوپی) کے حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1936 میں “کشف حجاب” کے قانون کے ذریعے خواتین کے سر ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے مذہبی طبقے میں شدید ناراضی پھیلی۔6. 1935 میں عالمی برادری سے درخواست کی کہ ملک کو اس کے قدیمی نام “پرشیا” کے بجائے اس کے مقامی نام “ایران” سے پکارا جائے۔7. انہوں نے برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت سے بچنے کی کوشش کی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے جرمنی، فرانس اور اٹلی جیسے یورپی ممالک کی تکنیکی مدد حاصل کی۔1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔ ایران کے لیے مسائل اس وقت پیدا ہوئے جب “جرمنی اور برطانیہ” دوسری جنگ عظیم میں ایک دوسرے کے دشمن بن کر آمنے سامنے آئے۔ رضا شاہ نے ایران کے غیر جانبدار ہونے کا اعلان کیا، لیکن برطانیہ اصرار کرتا رہا کہ ایران میں موجود جرمن انجینئرز اور تکنیکی ماہرین جاسوسی کر رہے ہیں، جن کا مقصد جنوب مغربی ایران میں برطانیہ کی تیل کی تنصیبات کو سبوتاژ کرنا ہے۔برطانیہ نے تمام جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن رضا شاہ نے اس سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے تمام ترقیاتی منصوبوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ برطانیہ ایران کی ریلوے کو سوویت یونین کو فوجی سازوسامان پہنچانے کے محفوظ راستے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے سے انکار پر، 1941 میں برطانیہ اور سوویت یونین نے ایران پر مشترکہ حملہ کر دیا۔ جنگ کے دوران، برطانیہ اور سوویت یونین کے اتحادی امریکہ نے بھی ریلوے لائنز کی دیکھ بھال اور اسے چلانے میں مدد کے لیے فوجی اہلکار بھیجے۔برطانیہ اور سوویت یونین نے رضا شاہ کی حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے بادشاہت کے آئینی اختیارات محدود کر دیے۔ تاہم، اتحادیوں نے رضا شاہ کو مجبور کیا کہ وہ اپنے بیٹے محمد رضا پہلوی کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ لہذا 16 ستمبر 1941 کو انہوں نے تخت چھوڑ دیا۔جلاوطنی اور وفاتانگریز دور میں رضا شاہ کو پہلے ماریشس اور پھر جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ جلاوطن کر دیا گیا۔

جہاں ان کا انتقال 26 جولائی 1944 کو ہو گیا۔ ان کی باقیات کو مصر لے جایا گیا اور کچھ عرصے بعد ایران واپس لایا گیا، جہاں انہیں تہران کے قریب “رے” کے علاقے میں دفن کیا گیا۔ 1979 کے انقلاب کے بعد انقلابیوں نے یہ مقبرہ مسمار کر دیا۔2018 میں تہران میں ایک مزار سے ایک حنوط شدہ لاش برآمد ہوئی، جس کے بارے میں سرکاری طور پر تصدیق کی گئی کہ یہ رضا شاہ پہلوی کی لاش ہے۔رضا شاہ پہلوی کو اکثر “جدید ایران کا معمار” کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے ایران کو ایک بکھری ہوئی، نیم قبائلی ریاست سے ایک متحدہ مرکزی ریاست میں تبدیل کر دیا۔ ان کی تعمیراتی، صنعتی اور تعلیمی اصلاحات نے جدید ایران کی بنیاد رکھی۔تاہم، انہیں ایک سخت گیر آمر کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے جمہوری اور سیاسی حقوق کو کچلا، میڈیا پر سخت سنسرشپ نافذ کی، اور مذہبی روایات پر زبردستی جدیدیت مسلط کی، جس کے اثرات دور رس تھے اور جنہوں نے بعد میں انقلاب کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔(ان کے بعد رضاشاہ پہلوی دوم کا دور شروع ہوتاہے، جس پر پھر بحث کریں گے) ۔

اسلام آباد کا سبز وجود خطرے میںسینیٹ کی سی ڈی اے چیئرمین کو طلبی، بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، انتظامی بے ضابطگیاں اور عوامی غم و غصہ ایک نقطے پر آن پہنچےرانا تصدق حسیناسلام آباد: وفاقی دارالحکومت ایک سنگین ماحولیاتی اور انتظامی بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیات نے اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو طلب کر لیا ہے۔قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن نے چیئرمین سی ڈی اے کو 22 جنوری کو کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام آباد کی سبز شناخت کو ترقی کے نام پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے اعلان کیا کہ درختوں اور سبز علاقوں کے مزید تحفظ کے لیے سخت ماحولیاتی قوانین اور ریگولیٹری رکاوٹوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مزید تباہی روکی جا سکے۔سینیٹ کی یہ مداخلت اس وقت سامنے آئی ہے جب H-8، اسلام آباد ایکسپریس وے، شکرپڑیاں کی پہاڑیاں اور ایف-9 پارک جیسے علاقوں میں درختوں کی کٹائی پر عوامی غصہ عروج پر ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر نے دارالحکومت کے ان علاقوں کو—جو ہمیشہ اسلام آباد کے ماحولیاتی پھیپھڑے سمجھے جاتے رہے—شدید نقصان کی تصویر بنا کر پیش کر دیا ہے۔قومی اسمبلی میں حکومتی دفاعاسی دوران قومی اسمبلی میں ہونے والی بحث میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے درختوں کی کٹائی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے تنقید کو “غلط فہمی” قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور شہری ترقی کے لیے بعض اقدامات ناگزیر تھے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مخصوص درختوں کو ہٹانا ضروری تھا۔وزیر مملکت کے مطابق شہتوت (جنگلی شہتوت) کے درخت، جو موسمِ بہار میں زیادہ پولن خارج کرتے ہیں، الرجی اور سانس کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں، اسی لیے انہیں کاٹا گیا۔سرکاری مؤقف اور اعداد و شمارسی ڈی اے اور وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی سائنسی بنیادوں پر،

صحت کے تحفظ کے لیے تیار کردہ منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے۔طلال چوہدری نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اب تک اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) میں تقریباً 29,115 درخت کاٹے جا چکے ہیں۔حکام کے مطابق:کاٹے گئے درختوں سے زیادہ تعداد میں شجرکاری کی منصوبہ بندی کی گئی ہےمقامی اور کم پولن پیدا کرنے والی اقسام لگائی جائیں گیشہر کی سبز خوبصورتی کو بحال اور بہتر بنایا جائے گاماحولیاتی تنظیموں کے شدید تحفظاتماحولیاتی تنظیموں، بالخصوص ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان، نے سرکاری بیانیے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ امیجز، زمینی مشاہدات اور فیلڈ رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ درختوں کی کٹائی صرف شہتوت تک محدود نہیں بلکہ:سڑکوں کی چوڑائیشہری ترقیاتی منصوبےانفراسٹرکچر کی توسیعکے نام پر وسیع پیمانے پر سبزہ ختم کیا جا رہا ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بے قابو شجر کٹائی کے نتیجے میں:اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ میں اضافہزیرِ زمین پانی کی ریچارج میں کمیفضائی آلودگی میں اضافہشہری حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصانہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) یا تو کمزور ہیں یا سرے سے موجود ہی نہیں۔سی ڈی اے کا مؤقفسی ڈی اے کا اصرار ہے کہ پوری کارروائی قانونی، دستاویزی اور مجاز احکامات کے تحت کی گئی ہے۔اتھارٹی کے مطابق:درخت سائنسی شناخت کے بعد ہی ہٹائے جاتے ہیںتمام قانونی منظوریوں اور ریکارڈ کی تکمیل کی جاتی ہےمتبادل شجرکاری کے پروگرام جاری ہیںماحولیاتی نگرانی کا عمل برقرار رکھا جائے گاسی ڈی اے حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مہم اندھا دھند نہیں بلکہ اسلام آباد کے سبز رقبے کو بالآخر محفوظ اور وسیع کرنے کے لیے ہے

۔مسلم کالونی متاثرین کا محاذ آرائی کی جانب قدماس بحران نے ایک سیاسی اور قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔مسلم کالونی کے متاثرین، بار ایسوسی ایشنز کی حمایت کے ساتھ، پہلے ہی اسلام آباد کی موجودہ انتظامیہ کو ہٹانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔مشترکہ مطالبے میں فوری برطرفی کا مطالبہ کیا گیا ہے:چیئرمین سی ڈی اے / چیف کمشنر ICTانسپکٹر جنرل پولیس، اسلام آبادڈپٹی کمشنر ICTڈائریکٹر DMAمتاثرین اور وکلا برادری کا کہنا ہے کہ ان افسران کی موجودگی:احتساب کو متاثر کر رہی ہےانصاف کی راہ میں رکاوٹ ہےعوامی اعتماد کو بری طرح مجروح کر رہی ہےان کا الزام ہے کہ دارالحکومت میں طرزِ حکمرانی قانون کی بالادستی کے بجائے جبر پر مبنی انتظام میں بدل چکی ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قانونی کارروائی اور عوامی مزاحمت میں شدت آئے گی، جو اس معاملے کو قومی سطح پر انتظامی استثنیٰ بمقابلہ آئینی حکمرانی کا ٹیسٹ کیس بنا دے گی۔پارلیمانی دباؤ میں اضافہسینیٹ اور قومی اسمبلی—دونوں—اب ماحولیاتی اور انتظامی معاملات پر متحرک ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں سی ڈی اے اور وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ:شفاف ڈیٹا فراہم کیا جائےسائنسی بنیادوں پر جواز پیش کیا جائےشجرکاری کے نتائج قابلِ تصدیق انداز میں دکھائے جائیںجب اسلام آباد میں درخت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو پالیسی سازوں کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا ہے:کیا دارالحکومت کو صحت اور ترقی کے نام پر بچایا جا رہا ہے، یا اس کی سبز روح اور ادارہ جاتی ساکھ کو منظم انداز میں کھوکھلا کیا جا رہا ہے؟

*قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس* اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوااجلاس میں قومی اسمبلی کے23 ویں اجلاس کے ایجنڈے اور دورانیے پر تبادلۂ خیال کیا گیاقومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس کو 23 جنوری 2026ء بروز جمعہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیااجلاس میں قانون سازی وقفہ سوالات اور عوامی اہمیت کے حامل مسائل کو ذیر بحث لایا جائے گا اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ اور وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے شرکت کیاجلاس میں وفاقی وزیر خالد حسین مگسی، اور اراکین قومی اسمبلی سید نوید قمر، اعجاز حسین جاکھرانی، سید حفیظ الدین، سید امین الحق محترمہ نزہت صادق، محترمہ سیدہ شہلا رضا، نور عالم خان اور شیخ آفتاب نے شرکت کی

*صوابی میں بی آئی ایس پی اور عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا افتتاح* *چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے بطور مہمانِ خصوصی افتتاح کیا**صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان اور عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپانگ بھی تقریب میں موجود* ماں اور بچوں کی صحت و غذائیت کے فروغ کے لیے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا قیامبی آئی ایس پی کا نشوونما پروگرام ماؤں اور بچوں کی بہتر صحت کے لیے مؤثر اقدامسینیٹر روبینہ خالدبچے کی پیدائش سے دو سال کی عمر تک ماں اور بچے کو غذائیت و صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گیسینٹر روبینہ خالد بچوں کی امیونائزیشن اور فوڈ سپلیمنٹس کی سہولیات بھی دستیاب ہوں گیسینٹر روبینہ خالد صوبائی حکومت کے تعاون پر شکر گزار ہیں، بی آئی ایس پی تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہےسینیٹر روبینہ خالد جلد خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں بھی نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گےسینٹر روبینہ خالد پروگرام میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام موجود ہےسینیٹر روبینہ خالد

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved