
کاتنے کمال کے کام ہو رہے ہیں کہ پاکستان دوبئی سے آگے نکل گیا ہے ماشاءاللہ جی عوام بہت خوش حال ہو بجلی گیس دوبئی کی طرح فری ہو گئی ہے روزگار چل رہے ہیں دنیا بھر سے لوگ پیسہ لے بلکہ کھربوں ڈالر لے کر پاکستان آ گئے ہیں غربت ختم ہوگئی ہے لوگوں کو روٹی 🍞 کی فکر ختم ہو گئی کمال ہو گیا ہے پاکستان دوبئی سے اتنے آگے نکل گیا ہے انڈیا والے ہماری نقل کرنے لگ گئے ہیں چین والے بھی پریشان ہو گئے ہیں پاکستان اتنی ترقی کر گیا ویلڈن بہت اعلیٰ کمال کر دیا ہے بہت زبردست

“خواجہ آصف نے کہا ہمارے DNA میں جمہوریت نہیں۔ اس پر اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ اناللہ وانا الیہ راجعون۔۔اسے کہتے ہیں اپنے اصل کی طرف لوٹنا۔۔ لگتا ہے کہ خواجہ صاحب کو بچپن کا یاد کیا ہوا وہ سبق دوبارہ یاد آگیا ہے، جب ملک پر جنرل ضیاء کی حکومت تھی تو خواجہ آصف کے بزرگ جنرل ضیاء کے اوپننگ بٹسمین بن گئے تھے۔ ترمیم کے موقع پر جمہوریت کا ڈھونگ رچانے والے اداکار پہنچے تھے اور بولے بغیر ہی ایکسپرینشنز سے مرشد کامل کی بیعت کا اعلان کیا، نہ جانے انہیں اداکاری میں ابھی تک آسکر ایوارڈ کیوں نہیں ملا؟”-

چھوٹا چھیمے کا اصل نام تو سلیم تھا لیکن اصل نام کو کریدنے کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی- چھیمے کا شناختی کارڈ بھی اس لئے بنا تھا کہ ووٹ دینا ھوتا ھے-شناختی کارڈ وہ واحد ڈاکومنٹ تھا جس پر سلیم لکھا تھا- اکثر جب چھیما بہت تنہا ہوتا اور اداسی ستانے لگتی تو وہ شناختی کارڈ کو اپنے ٹرنک سے نکال کر گھنٹوں دیکھتا رھتا- اس کی شناخت ٹرنک میں بند کر دی گئی تھی- چھیما سات آٹھ سال کا ھو گا جب اس کے والد کا انتقال ہوا- چھیمے کے والد ، بالا ( اقبال) حویلے کے سارے کام سنبھالتا تھا – ہمارے چودھراہٹ زدہ کلچر میں ان کام کرنے والوں کو کمّی کہتے ہیں- چودھدری صاحب نے بالے کی وفات کے بعد، اپنا دشتِ شفت سلیم کے سر پر رکھ کر اسے چھیما بنا دیا تو پورے گاؤں نے چودھدریوں کی اعلی ظرفی کے کئی دن تک گُن گائے – پچھلے دس سالوں میں چھیمے نے اپنے کام اور محنت سے حویلی میں سب کو گرویدہ بنا لیا تھا- چوھدریوں کی حویلی میں سارا کام چھیمے کے ذمّے تھا- جہاں کہیں خرابی ہوتی چھیمے کی شامت آ جاتی- یعنی وہ چودھدریوں کی حویلی کا کاما تو تھا مگر fall guy بھی تھا- فال گائے وہ بندہ ہوتا ھے جس پر ہر خرابی کا الزام دھرا جاتا ہے- اشرافیہ نے یہ فن چودھراہٹ سے سیکھا-چودھراہٹ میں ہر خرابی کی ذمہ داری ” کمّی” پر ڈال دی جاتی ہے- امریکہ نے ویت نام کی جنگ کے بعد یہ سبق سیکھا کہ بڑی جنگ لڑنے سے پہلے fall guy یا “چھوٹے” کا انتخاب پہلے سے کر رکھنا چاہیے- مکینک، ریستورانوں ، فیکٹریوں میں fall guy کو ” چھوٹا” کہتے ہیں- پاکستان کا fall guy عوام ہے- نا ان کو بجلی استعمال کرنی آتی ھے، نہ چینی ، نہ آ ٹا گوندنا اور خواہ مخواہ بیمار ہو جاتے ہیں اور پھر دوائیاں بھی مانگتے ہیں- حکومت ان کے لئے اور کیا کرے، ہر کام تو بخوبی کر رھی ھے-Hierarchy کی ایجاد بھی نظریہ ضرورت تھی تاکہ fall guy ڈھونڈنے میں آسانی رہے-اپنی ناکامی کا الزام دوسروں پر لگانے سے بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے- کام خراب کرنے کے بعد سب سے پہلا کام ‘باس’ یہ کرتا ہے کہ کانفرنس بلا لے- اپنے آپ کو پورے قصّے سے الگ کر کے انکوائری شروع کرواتا ہے اور جس بندے کا اس پورے واقع میں بہترین کام ہوتا ہے اسے sack کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ساری غلطیوں کا چشم دید گواہ ہوتا ھے-امریکہ نے دھشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو شروع دن سے ساتھ رکھا تاکہ اپنی ناکامیوں کو ساتھ ساتھ ہی کلیئر کرتے جائیں

– ساری کوتاہیاں ساتھ ساتھ ہی پاکستان پر ڈال کر میڈیا کو بتاتے رہے کہ ” یہی ھے”- باقی کام امریکی، افغانی اور بھارتی میڈیا خود کر لیتا تھا-وہ تو ہماری خوش قسمتی کہ ایراق ، شام، لیبیا ہم سے دور تھے- روس دنیا کا واحد ملک ہے جسے fall guy کی ضرورت نہیں پڑتی- گوجرانوالہ کے پہلوانوں کی طرح ساری لڑائیاں اپنے زور بازو پر لڑتے ہیں- روس نے یورپ اور ایشیا کے سنگم پر ایسا پڑاؤ ڈالا ہوا ہے کہ کوئی چیز ،ادھر سے اُدھر ، بغیر نظروں میں آئے ،نہ آ سکتی ھے نہ ہی جا سکتی ہے- عالمی جنگیں ، انقلاب، تیل، تجارت، اسلحہ سازی سب کچھ کھیل لیتے ہیں- دنیا کا بہترین ادب بھی روس میں لکھا گیا- ہماری حکومتیں عین اس وقت جب اقتدار سے رخصت ہو رہے ہوتے ہیں ایک fall guy کا انتخاب کر چھوڑتی ہیں تاکہ اگلا الیکشن آرام سے لڑ سکیں- بھارت نے اندرونی مسائل پر پردہ داری کے لئے اپنی عوام کو پاکستان کے پیچھے لگا رکھا ہے – پاکستان میں دخل اندازی بھارت کا قومی کھیل بن چکا ہے جسے بی جے پی اور بالی ووڈ خوب نبھا رھا ھے- بھارت اپنے کام پر کم اور ہمارے معاملات پر زیادہ توجہ دیتا ہیں- پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی تو سٹریٹجی ہی fall guy کے انتخاب سے شروع ہوتی ہے- میچ شروع ھونے سے پہلے ہی بندہ ڈھونڈ چھوڑتے ہیں- کچھ نہ ملے تو ساری ذمہ داری ٹاس یا پچ پر ڈال دیتے ہیں-گھر میں تو fall guy آپ کو پتا ہی ہے کہ کون ہوتا ہے- نکاح کی definition ہی fall guy ہے-عورتوں کی روزانہ ملاقاتوں میں خاوند، ہر خرابی کی وجہ اور انتہاء کا نکمّا قرار پاتا ھے – ہر بیوی کا بندہ نکمّا اور بھائی کوگھو گھوڑا ہے-حکومتی معاملات میں جب بھی کوئی بڑا کانڈ ھو جائے تو پہلے اس کا نوٹس لیا جاتا ہے، پھر مزمّت، انکوائری کا اعلان، دو یا تین رکنی کمیٹی بنتی ھے جس نے پندرہ دن میں رپورٹ دینی ھوتی ہے- عوام کی یاداشت تو ہوتی ہی کمزور ھے اور میڈیا کو ہر روز نیا کانڈ چاہیے-کاروبار دنیا کو “چھوٹوں ” کے سہارے چلایا جا رھا ھے-

کاتنے کمال کے کام ہو رہے ہیں کہ پاکستان دوبئی سے آگے نکل گیا ہے ماشاءاللہ جی عوام بہت خوش حال ہو بجلی گیس دوبئی کی طرح فری ہو گئی ہے روزگار چل رہے ہیں دنیا بھر سے لوگ پیسہ لے بلکہ کھربوں ڈالر لے کر پاکستان آ گئے ہیں غربت ختم ہوگئی ہے لوگوں کو روٹی 🍞 کی فکر ختم ہو گئی کمال ہو گیا ہے پاکستان دوبئی سے اتنے آگے نکل گیا ہے انڈیا والے ہماری نقل کرنے لگ گئے ہیں چین والے بھی پریشان ہو گئے ہیں پاکستان اتنی ترقی کر گیا ویلڈن بہت اعلیٰ کمال کر دیا ہے بہت زبردست










