اس ملک کا ہر باشندہ ذہنی مریض بن چکا ہے، اپنے حکمرانوں اور ان کے پشت پناہ طاقتوروں کے ہاتھوں۔ عام آدمی کے لیے کوئی سکون نہیں، کوئی تحفظ نہیں، کچھ بھی یقینی نہیں۔ آپ گھر سے نکلتے ہیں کسی ضرورت کے لئے تو راستہ بند ہے یا کسی مسلح جتھے کے ہاتھوں یا کسی ذلیل ترین فطرت کے مالک دو پاؤں والی کسی غیر انسانی مخلوق کے ہاتھوں جو خود کو وی آئی پی کہلاتی ہے، ایسی مخلوق جو خدا بننے کی کوشش میں ہے، اسے اپنے لئے ہر قسم کا استثنا اور استحقاق چاہئے، جو عام آدمی کو ذلیل و خوار دیکھنا چاہتی ہے۔ آپ پر ہر روز ایک نیا ٹیکس لگ سکتا ہے، ہر روز ایک نئی پابندی لگ سکتی ہے، روزانہ کی بنیاد پر چیزوں کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ آپس کے گٹھ جوڑ سے بنی حکومت کو مگر اس سے کوئی غرض نہیں، کیونکہ اس کا کام دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اس کی اپنی پیدہ کردہ ہے۔ وہ دہشت گردی جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ کسی کی دکان ہے جو وہ “کوئی” کسی قیمت پر بند نہیں ہونے دینا چاہتا۔ آپ کے لئے سکول کالج ہسپتال نہیں۔ ہر چیز پرائیویٹائز ہو رہی ہے۔ کیونکہ سروس کا معیار بہتر کرنا مقصود نہیں ہے۔ ریاست اپنی ذمہ داریاں پرائیویٹ سیکٹر کو دے رہی ہے۔ آپ کو ہر چیز کی مارکیٹ پرائس ادا کرنی پڑے گی۔ لیکن ٹیکس پہلے سے زیادہ لگیں گے۔آگر آپ نے کسی دفتر میں کوئی درخواست دے رکھی ہے تو اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوگی لیکن آپ کی فائل آپ ہی کے لئے سیکرٹ ہو جائے گی۔ پولیس اور دوسری وردی والی مخلوق کی تعداد اور طاقت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن آپ کو اپنے لیے پرائیویٹ سیکیورٹی رکھنی پڑے گی ترجیحا کسی ایسی کمپنی کی جس کا مالک کسی سیکیورٹی ادارے سے ریٹائیرڈ ہو۔آپ مر رہے ہیں یا آپ کا کوئی عزیز مر رہا ہے تو مرے، اگر کسی اونچی انا والے ذہنی جسمانی طور پر مفلوج ہومو سیپین کے لئے روٹ لگا ہے تو آپ آگے نہیں جا سکتے۔ یہاں پر بدمعاش گاڑیوں پر ہُوٹر لگا کر گھومتے ہیں اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ تمام لوگ جو ہر قسم کی پاور کے مالک یا مالکوں کے دلال ہیں اور اپنے ہی ہم وطنوں کو نچلے درجے کی مخلوق سمجھتے ہیں اور ہر قیمت پر انہیں نیچا دکھانا چاہتے ہیں، کیا یہ ہم میں سے ہیں؟ ہمارے ہی ہم وطن ہیں، ہمارے بھائی بیٹے دوست یا عزیز رشتہ دار ہیں یا کہیں اور سے آ کر ہم پر قابض ہوئے ہیں؟










