افغانستان کے وزیر تجارت نورالدین عزیزی آج دہلی میں بیٹھے بھارت سے التجا کر رہے ہیں:”کارگو ہب کھولو، ہماری اناج اور دوائیں بھیجو… ہم پھل اور خشک میوہ بھیجیں گے”بھارت کہتا ہے: “ہوائی کارگو شروع کریں گے… لیکن معاہدہ ابھی نہیں ہوا”اب حقیقت دیکھیے:🛫 ائیر کارگو کا روٹ: کابل → دہلی → دوبئی/مسقط → پھر کابل⏳ وقت: 20-25 دن💊 دوائی جو پاکستان سے 1 روپے کی آتی تھی، انڈیا سے 8 روپیہ کی پڑے گی🍎 تازہ پھل راستے میں خراب ہو جائیں گے🇮🇷 ایران کا راستہ؟ وہاں تو پابندیاں، بینکنگ کا مسئلہ، چابہار تک ڈبل خرچہافغان تاجر چیخ رہے ہیں: “یہ تجارت نہیں، خودکشی ہے!”انڈین تاجر بھی کہہ رہے ہیں: “اتنا لمبا روٹ؟ ہم کیوں خریدیں؟”واہگہ بارڈر سے لاہور صرف چند گھنٹے کا فاصلہ ہے…تورخم، چمن تو کھلے پڑے ہیں!اگر کل ایران پر جنگ چھڑ گئی تو 3-5 دن میں افغانستان بھوک سے مرنے لگے گا۔وا خان کوریڈور سے بھی چین نہیں جڑتا۔طالبان کو اب سمجھ آ گئی ہو گی:پاکستان کے بغیر نہ تجارت، نہ سانس، نہ بقا۔جتنی جلدی تعلقات ٹھیک کرو گے،اتنا ہی جلدی عوام کو روٹی اور دوائی ملے










