
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا ٹکرز/نیوز اسلام آباد 16 جنوری، 2026؛اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا پولیس اسٹیشن اور بینکوں پر حملوں کی شدید مذمت۔سردار ایاز صادق کا حملہ آور فتنہ الہندوستان کے 12 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین۔سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے دہشتگردوں کا پولیس اہلکاروں اور بینکوں کے عملے کو یرغمال بنانے کا منصوبہ ناکام بنایا، اسپیکر سردار ایاز صادقاسپیکر قومی اسمبلی نے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔عوامی اور ریاستی اداروں پر حملے دشمن کے مذموم عزائم اور بوکھلاہٹ کی عکاسی ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادقپاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کیلئے پر عزم ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق دہشتگردی کے خاتمے تک “عزمِ استحکام” کے تحت دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، سردار ایاز صادقپوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اسپیکر قومی اسمبلیپاکستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی، اسپیکر سردار ایاز صادق

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملے کے متضاد اشاروں کے باوجود امریکا کی جانب سے جنگ کی تیاری جاری ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ امریکا ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر بڑے حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حملے سے ایرانی حکومت کو نقصان نہیں ہوگا

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا پریس ریلیز *اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری*اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تریق کار 2007 کے قاعدہ 39 کے تحت جاری کیا گیا ۔ ترجمان قومی اسمبلی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن اپوزیشن اراکین اسمبلی کے وفد کو دیا۔ ترجمان قومی اسمبلی اپوزیشن کے وفد میں اراکین قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان، جنید اکبر، سردار لطیف کھوسہ ، جمال احسن خان، شہرام خان ، شانادانہ گلزار، ذین قریشی، علی اصغر خان، ملک انور تاج اور یوسف خان شامل- ترجمان قومی اسمبلی اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف اعظم نذیر تاڑر اور کوارڈنیٹر ٹو وزیر اعظم رومینہ خورشید عالم بھی موجود تھے- ترجمان قومی اسمبلی

گرین لینڈ: عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا اگلا ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن سے پورے ساڑھے چھ گھنٹے کی اعصاب شکن فلائٹ کے بعد ایر گرین لینڈ کے ہلکے طیارہ کے پائلٹ نے جب اعلان کیا کہ کچھ لمحوں کے بعد طیارہ گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں لینڈ کرنے والا ہے اور باہر کا درجہ حرارت منفی سترہ ڈگری سیلسس ہے، تو لگا جیسے ایک سرد لہر ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر گئی ہے۔یہی حال پاس کی سیٹوں پر براجمان تین رکنی ہندوستانی صحافیوں کے گروپ کا بھی تھا۔ وہ میری طرف دیکھ کر امید کر رہے تھے کہ کشمیر کی برفانی وادیوں میں بچپن گزارنے کی وجہ سے سردی میرا کچھ زیادہ بگاڑ نہیں سکے گی۔شاید کم افراد کو ہی علم ہوگا کہ سائبیریا کے بعد دنیا کا سرد ترین رہائشی علاقہ دراس، سابق جموں و کشمیر کی ریاست میں ہی ہے،

جہاں 1995میں درجہ حرارت منفی 60ڈگری سیلسس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سونہ مرگ سے زوجیلا درہ کراس کرتے ہی لداخ کے خطہ کے مٹائین کی بستی کے بعد دراس کا قصبہ آتا ہے۔ کرگل جنگ کے دوران میڈیا کے نمائندے اکثر یہیں قیام کرتے تھے، کیونکہ اس سے آگے رسائی نہیں ہوتی تھی۔سال 2012 میں ہندوستان، ڈنمارک سے کچھ ایسے ہی ناراض تھا، جیسے وہ آجکل پاکستان سے ہے۔ جس طرح فی الوقت پاکستانیوں کے ویزا پر قدغنیں ہیں، کرکٹ میچ حتیٰ کہ غیر ملکی مہمانوں کو بھی ہندوستان سے براہ راست پاکستان سفر کرنے سے روکنا وغیرہ، کچھ ایسی ہی سفارتی صورتحال ڈنمارک کے ساتھ بھی تھی۔اس کی وجہ تھی کہ 1995میں مغربی بنگال کے پورولیا ضلع میں طیارہ سے ہتھیاروں کی ایک کھیپ گرانے میں ڈنمارک کا ایک شہری کیم ڈیوی ملوث تھا، جو ہندوستانی ایجنسیوں کو جل دینے میں کامیاب ہو کر بھاگ گیا تھا۔ اس کی حوالگی کے حوالے سے ہندوستان نے کافی کاوشیں کیں اور 2011 میں جب اس کی پوری تیاری کی گئیں تھیں کہ ڈنمارک کی عدالت نے اس پر روک لگا دی۔ڈنمارک حکومت نے اس فیصلہ کو چیلنج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تھا، جس سے ہندوستان سخت ناراض تھا۔ ڈنمارک سے سبھی اعلیٰ سطحی دورے منسوخ کیے گئے تھے۔ ڈنمار ک کی اس وقت کی وزیرا عظم یا وزیر خارجہ، جو گجرات سرمایہ کاری سمٹ میں شرکت کرنا چاہتے تھے، کو آنے سے منع کردیا گیا۔ڈینش براڈکاسٹنگ کاپوریشن کے نمائندوں کی صحافتی ایکریڈیٹیشن منسوخ کر دی گئی، وغیرہ جیسے معتدد اقدامات اٹھائے گئے۔ ڈینش تاجروں کے ویزا ہولڈ پر ڈالے گئے تھے۔ ڈنمارک کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان کو خوش کرنے کے لیے اپنے عدالتی سسٹم کومنہدم نہیں کرسکتے ہیں۔جیسے ابھی حال ہی میں پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے صدر نواز شریف نے ہندوستانی صحافی برکھا دت اور چند دیگر صحافیوں کو انٹرویو دےکر ہندوستانی عوام کے ساتھ براہ راست روبرو ہونے کی کوشش کی،

اسی طرح ان دنوں ڈنمارک کی حکومت نے بھی چند ہندوستانی صحافیوں کو کوپن ہیگن کا دورہ کرواکے اور پھر گرین لینڈ لے جاکر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ڈنمارک کے ساتھ سفارتی کشیدگی سے خود ہندوستان کا ہی بڑا نقصان ہو رہا ہے۔طلسماتی دلکش شہر نوک میں قدم رکھتے ہی احساس ہوگیا کہ جیسے کسی شہر خموشاں میں آگئے ہیں۔ ماہ نومبر میں دن ہی بس چار گھنٹے کا ہوتا ہے۔ آکیٹک کے سمند ر میں ایک اسکیمو مچھوارے جوڑے کے ایک کشتی کو کھینے کی آوازیں اس خاموشی میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھیں۔دنیا کے سب سے بڑے جزیرے، جس کا رقبہ 21لاکھ مربع کلومیٹر ہے، میں آبادی 60ہزار سے بھی کم ہے۔ ہندوستان کے اتر پردیش صوبہ میں دولاکھ مربع کلومیٹر کے رقبہ میں 22کروڑ اورپاکستان کے 8لاکھ مربع کلومیٹر میں 24کروڑ نفوس آباد ہیں۔ پورے نوک شہر کی 20 ہزار کی آبادی ہمارے علاقوں کے محلہ کی آبادی سے بھی کم ہے۔ شہر میں چند سڑکیں ہیں، پھر پورے جزیرے میں کوئی سڑک نہیں ہے۔ نقل و حمل کے ذرائع اسٹیمر،چھوٹے ہوائی جہاز، اسنو اسکوٹرز یا برف گاڑیاں یا سلیچ جن کو کتے کھینچتے ہیں۔ڈنمار ک سے کوسوں دور ہونے کے باوجود 1933میں کورٹ آف انٹرنیشنل جسٹس نے کنیڈا کے دعوے کو خارج کرکے اس کو ڈنمارک کے حوالے کردیا تھا۔یہ آرکٹک جزیرہ 18ویں صدی ہی ڈینش کالونی تھا، مگر کنیڈا کا بھی اس پر دعویٰ تھا۔

یہ جزیرہ یورپ سے منسلک رہا ہے، حالانکہ جغرافیائی طور پر یہ شمالی امریکی براعظم کا حصہ ہے اور کوپن ہیگن سے زیادہ امریکہ کے قریب ہے۔ا س کے شمال میں ہانس جزیرہ پر ابھی حال تک کنیڈا اورڈنمار ک کے درمیان سفارتی کشیدگی رہتی تھی۔ 2022میں ہی دونوں ممالک نے اس جزیرہ کے بیچ میں لکیر کھنچ کر اس کو بانٹ کر اس قضیہ کو حل کردیا۔ ورنہ 1984سے ایک معاہدہ تھا کہ دونوں ممالک کی فوجیں باری باری ہانس جزیرے پر پٹرول ڈیوٹی پر آتی تھیں۔ڈنمارک کی افواج پٹرول ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد وہاں ڈینیش شراب کی بوتلیں چھوڑ کر زمین پر ایک طرح کا دعویٰ جتاتے تھے، پھر کنیڈا کی فوجی یونٹ آتی تھی، اور جانے سے قبل کنیڈا کی مخصوص شراب برانڈ کی بوتلیں جزیرہ پر چھوڑدیتے تھے۔ ایک وقت ایسا ہی حل سیاچن گلیشیر کے لیے بھی تجویز کیا جاتا تھا۔کوپن ہیگن اور پھر نوک میں بریفنگ وغیرہ اوراس علاقے کی اسٹریٹیجک اہمیت جاننے کے بعد ہمارے سینئر ساتھی شاستری راما چندرن نے پیشن گوئی کی تھی کہ افغانستان کی طرز پر یہ خطہ جلد ہی گریٹ گیم کا میدان بننے والا ہے۔حال ہی میں، امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کو خریدنے کی تجویز،حتی ٰ کہ ملٹری استعمال کرنے کی دھمکی دینا اور پھر یورپی ممالک کا رد عمل، اس بات کے واضح اشارے دے رہا ہے کہ اس گریٹ گیم کا وقت آچکا ہے۔جزیرے کے پگھلتے ہوئے برفانی ذخائر غیر استعمال شدہ وسائل کے خزانہ سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ اس جزیرہ کی برفانی تہوں میں اندازاً 90 ارب بیرل تیل اور دنیا کے 30فیصد گیس کے ذخائر، اور جدید ٹکنالوجی کے لیے ضروری نایاب معدنیات چھپے ہوئے ہیں۔گو کہ ڈنمارک کے تحت یہ ایک نیم خود مختار علاقہ ہے،

مگر آبادی کی اکثریت اس قبضہ کو بیسیوں صدی کی نوآبادیاتی ذہنیت کی پیداوار سمجھتی ہے۔ شاید اس جزیرہ کی سخت زندگی کی وجہ سے ڈنمارک مقامی آبادیاتی تشخص یا ڈیمو گرافی بدلنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ گرین لینڈ میں درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سیلسیئس تک گر سکتا ہے، اور وسائل کے نکالنے کی لاجسٹک مشکلات نے تجارتی استحصال کو سست کر دیا ہے۔مگر ٹرمپ کے اعلان سے قبل ہی گرین لینڈ کے وزیر اعظم میوٹے ایگڈے نے نئے سال کے خطاب میں ڈنمارک سے آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے ‘نوآبادیاتی زنجیروں’ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس خطے کو اندرونی طور پر مکمل خود مختاری حاصل ہے۔ ڈنمارک گرین لینڈ کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر کنٹرول رکھتا ہے۔اس کے باوجود مقامی حکومت کے وزیروں نے پچھلے چند سالوں میں چین کے دورے کیے ہیں اور چینی وفود کا اس جزیرے میں استقبال کیا ہے۔جس وقت ہم نوک میں تھے، اسی وقت گرین لینڈ کے ایک وزیر ڈنمارک کی حکومت کے اجازت کے بغیر بیجنگ دورہ پر گئے تھے۔ ایگڈے نے کہا، ‘ہمارے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون اور ہمارے تجارتی تعلقات صرف ڈنمارک کے ذریعے جاری نہیں رہ سکتے۔’2021 سے گرین لینڈ کی قیادت کرنے والے ایگڈے، جو آزادی کی حامی پارٹی ‘کمیونٹی آف دی پیپل’ کے سربراہ ہیں، نے اشارہ دیا ہے کہ اپریل میں آنے والے پارلیامانی انتخابات کے ساتھ آزادی پر ریفرنڈم بھی کرایا جائےگا۔انہوں نے کہا، ‘گرین لینڈ کو ایک خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کروانے کے فریم ورک پر پہلے ہی کام شروع ہو چکا ہے۔ادھر امریکہ بھی ایک طویل عرصے سے گرین لینڈ کو ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتا آیا ہے

۔ سرد جنگ کے دوران، امریکہ نے گرین لینڈ میں تھولے ایئر بیس قائم کی، جو اس کے میزائل دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ڈنمارک کے افسران کا کہنا تھا کہ امریکہ ہی گرین لینڈ میں پس پردہ آزادی کی حمایت کرتا آیا ہے۔یہ بات تو اب طے ہے کہ آرکٹک ایک دور دراز سرحد نہیں رہا ہے۔یہ عالمی سیاست کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔ ڈینش مصنف اور آکیٹک معاملوں کے ماہر مارٹن بروم کہتے ہیں کہ گرین لینڈ تو پہلے ایک دوردراز خطہ تھا۔ اس خطے تک وسائل پہنچانا ہی درد سر ہوتا تھا۔ لیکن اب جیسے جیسے گرین لینڈ کے وسائل اور اس کی اسٹریٹجک اہمیت نمایاں ہو رہی ہے، گرین لینڈ اور ڈنمارک اپنے تعلقات کو دوبارہ متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سال 2023 میں گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویوین موٹسفیڈٹ نے چین کا دورہ کیا، جس میں جزیرے کی شراکتوں کو متنوع بنانے کی کوششوں پر بات چیت ہوئی۔انہوں نے اپنے دورے کے دوران، اقتصادی تعلقات، تجارت، اور آرکٹک تعاون کو مضبوط کرنے پر بات چیت ہوئی۔سال 2012 میں ہی ایک چینی کارگو سمندری جہاز نے نیدر لینڈ کے روٹر ڈم اور پھر ناروے کے ساحل سے ساز و سامان لاد کر بحر اوقیانوس کی طرف پیش قدمی کرنے کے بجائے الٹی سمت بحر منجمد شمالی کی برفانی تہوں سے راستہ بناکر قطب شمالی کو پار کرکے ایشیاء کی طرف روانہ ہوگیا۔ یہ ایک حیرت انگیز واقعہ تھا۔ابھی تک اس سمندری راستے سے شاید ہی کسی کا کامیابی کے ساتھ گزرہو اتھا۔ اس کے چند سال بعد 2013میں بھاری بھرکم چینی جہاز یونگ شنگ نے 19000ٹن کا مال اسی راستے سے چینی بندر گاہ ڈالیان سے روٹرڈم پہنچایا۔

پوری مغربی دنیا کے لیے یہ ایک خطرے کی گھنٹی تھی۔ اس جہاز نے تین ہزار میل کا یہ سفر 35 دن میں مکمل کیا۔ نہر سویز کے راستے یہ سفر پچاس د ن میں طے ہوتا تھا اور اسی کے ساتھ ایسی تنگ سمندری گزرگاہوں سے گزرنا پڑتا تھا، جن پر مغربی ممالک یا ان کے اتحادیوں کی اجارہ داری ہے، جو نازک اوقات میں مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔چین نے آکٹک کونسل میں آبزرور کی حیثیت سے ممبرشپ بھی لی تھی۔ اس آٹھ رکنی کونسل میں امریکہ، روس، کنیڈا، ڈنمارک، آئس لینڈ، ناروے، فن لینڈ اور سویڈن شامل ہیں۔ چین کی اس تگ و دو کو دیکھ کر ہندوستان نے بھی پھر 2013میں آرکیٹک کونسل میں بطور مبصر ممبرشپ لی۔ لیکن اس کے لیے اس کو ڈنمار ک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرکے کڑوی گولی نگلنی پڑی۔ 2014 میں، ہندوستان نے اپنی پہلی ملٹی سینسر مانیٹرنگ آبزرویٹری، انڈآرک، آرکٹک گلیشیرز کی نگرانی کے لیے نصب کی۔چین کے گرین لینڈ میں بڑھتے ہوئے مفادات نے مغربی طاقتوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ ِ قطب شمالی کی جغرافیائی سیاست کی ماہر الزبتھ بکانن کا کہنا ہے کہ چین اور روس کی اس خطے میں بڑھتی دلچسپی کہیں اس کو دوسرا یوکرین نہ بنا دے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خطہ اسلحے کی نئی دوڑ کا مرکز بن جائےگا۔ روس بھی اپنے آرکٹک عزائم کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ 2007 میں، اس نے ایک علامتی عمل کے طور پر قطب شمالی کے سمندری فرش روبوٹ بھیج کر تہہ پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔چین نے تجویز د ی تھی کہ قطب جنوبی کی طرح قطب شمالی بھی کسی ملک کی ملکیت میں نہ ہو، مگر سائنسی تجربات کرنے کے لیے سبھی کو رسائی دی جائے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران، امریکہ نے اس علاقے پر مختصر عرصہ تک قبضہ کر کے اس کا دفاع کیا تھا۔ کیونکہ ڈنمارک پر ان دنوں نازی جرمنی نے قبضہ کیا تھا۔جنگ کے بعد 1946 میں، امریکہ نے گرین لینڈ کو خریدنے کی پیشکش کی تھی، لیکن ڈنمارک نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ 1979 میں ڈنمارک نے گرین لینڈ کو داخلی خود مختاری دی۔آرکٹک کے لیے ڈنمارک کے سفیر، کلاوس اے ہولم کا کہنا ہے کہ اس خطے نے تیل کی نکاسی کی صلاحیت، معدنیات اور بحری ٹریفک میں اضافے کی وجہ سے سیاسی اور اقتصادی اہمیت حاصل کی ہے۔مگر یہ سبھی اقدامات ماحول کے لیے خطروں سے پر ہیں۔ مصنف مارٹن برائم، جنہوں نے قطب شمالی کادورہ بھی کیا ہے،

کا کہنا ہے کہ اس خطے کی اقتصادی اہمیت کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیاجا رہا ہے۔ ‘ہاں، یہاں معدنی ایندھن کے ذخائر ہیں، لیکن کسی بھی کاروباری منصوبے کے لیے ان کی نکاسی غیرمنافع بخش ہے۔ ان کو نکالنے میں کافی وسائل کی ضرورت ہے۔’تاہم ان کا کہنا ہے کہ برف پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلی نے برف کی تہوں کو پتلا کرکے جوسمندری راستے نکالے ہیں، ان کی وجہ سے امریکہ اور ایشیاء قریب آرہے ہیں۔ ایشیائی طاقتوں کو اس سے امریکی پانیوں میں کھیلنے کا موقع مل رہا ہے، جس کا امریکہ کسی طور پر متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کی مونرو ڈاکٹراین یعنی کہ امریکی بر اعظم صرف امریکی ملکوں کا ہے، زمیں بوس ہو رہا ہے۔آبی راستوں پر قابو پانے سے ممالک بااثر اور طاقتور ہو جاتے ہیں۔ آرکٹک کو ایک قابلِ عمل آبی گزرگاہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے، جس میں تلاش اور بچاؤ کی سہولیات کے قیام کے ساتھ ساتھ تیل کے اخراج کو روکنے کے لیے ایک طریقہ کار بھی وضع کیا جانا شامل ہے۔ڈنمارک اور روس کے قطب شمالی پر مضبوط علاقائی دعووں کے ساتھ، امریکہ گرین لینڈ کو ایک آزاد ریاست بننے کے لیے اکسا رہا ہے، آرکٹک خطے کو ایک بین الاقوامی ورثہ اور غیر وابستگی کا زون بنانے کی بھی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ مگر بڑی طاقتیں شاید ہی اس پر کان دھریں گی۔ گزشتہ 10 سالوں میں، گرین لینڈ نے اسکاٹ لینڈ کی کیرن، روس کی گازپروم اور ناروے کی اسٹیٹ آئل سمیت تیل اور گیس کے بڑے کھلاڑیوں کو معدنیات کو تلاش اورکانکنی کے کئی لائسنس دیے ہیں۔اس کے آس پاس کے پانیوں میں پانامہ تک چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ چین کی تگ و دو کو دیکھ کر 2020 میں، امریکہ نے نے گرین لینڈ میں اپنا قونصل خانہ دوبارہ کھولا، جو 1953 سے بند تھا۔ اس نے گرین لینڈ کے لیے دو اقتصادی امدادی پیکجوں میں بھی توسیع کی ہے اور نایاب زمین کی معدنیات کی حکمرانی اور تلاش میں تعاون کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو آزادی دلوانے یا اس کو امریکی کالونی بنوانے پر چین اور روس کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ با ت تو طے ہے ہے کہ قطب شمالی نیز گرین لینڈ دوسری گریٹ گیم کا مرکز بن رہے ہیں۔
شبنم زیادتی کیس: فاروق بندیال کیسے بچ نکلا جب مولوی مشتاق حسین لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے اور بھٹو کے خلاف قتل کے مقدمے کی کارروائی جاری تھی، تو لاہور میں ایک ایسی گھناؤنی واردات ہوئی جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔اداکارہ شبنم جو گلبرگ کے بنگلہ 9B میں رہتی تھیں، 12 اور 13 مئی کی درمیانی شب چند ’پڑھے لکھے‘ ڈاکو جن کا سرغنہ فاروق بندیال تھا، فلمی انداز میں شبنم کے گھر داخل ہوئے، ان کے شوہر روبن گھوش کو رسیوں سے باندھ دیا اور رات بھر نہ صرف لوٹ مار کرتے رہے بلکہ مبینہ طور پر اداکارہ شبنم کا گینگ ریپ بھی کیا؟اس رات کیا ہوا؟ ڈاکوؤں میں کون کون شامل تھا؟ یہ بااثر لٹیرے سزائے موت سنائے جانے کے باوجود کیوں بچ نکلے؟ اور اس واردات کے مرکزی کردار فاروق بندیال کا موجودہ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال سے کیا رشتہ ہے؟ آج ہم یہی تلخ حقائق بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔اداکارہ شبنم جن کا اصل نام جھرنا باسک تھا، انہوں نے 1962ء میں فلم ’چندا‘ میں معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا، جس کے بعد انہیں اس قدر پذیرائی ملی کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے فلمی دنیا کی سب سے بڑی ہیروئن بن گئیں۔شبنم نے کم و بیش 170 فلموں میں کام کیا جن میں آس، انمول، آئینہ، دل لگی، آبرو اور زینت جیسی شاہکار فلمیں شامل ہیں۔ 70 اور 80 کی دہائی میں شبنم اور ندیم کی جوڑی بہت مقبول ہوا کرتی تھی۔اداکارہ شبنم کے شوہر رابن گھوش بھی بہت بڑے موسیقار تھے۔اداکارہ شبنم اور رابن گھوش دونون بنگالی تھے مگر جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تو ان دونوں نے اپنی جنم بھومی کی طرف لوٹ جانے کے بجائے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔مگر محض 7 سال بعد ہی ایک ایسی واردات ہوئی جس نے ان دونوں کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔12 اور 13 مئی کی درمیانی شب رات کے وقت اداکارہ شبنم کے گھر دستک ہوئی، جب ان کے شوہر روبن گھوش نے دروازہ کھولا تو فاروق بندیال، وسیم یعقوب بٹ اور سردار خان کھچی اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوگئے۔ یہ سب گورنمنٹ کالج لاہور کے پڑھے لکھے مگر بگڑے رئیس زادے تھے۔فاروق بندیال کے ماموں فتح خان بندیال جو ایف ۔کے بندیال کے نام سے مشہور تھے، وہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹر ی رہے اور اب پنجاب کے چیف سیکریٹری تھے۔ سردار خان کھچی کا تعلق بھی میلسی کے زمیندار گھرانے سے تھا اور وہ کم وبیش 150 مربع زمین کے مالک تھے، اسی طرح وسیم یعقوب بٹ اور دیگر نوجوانوں کا تعلق بھی کھاتے پیتے گھرانوں سے تھا۔اس واردات میں ملوث ملزم فوری طور پر گرفتار تو کر لیے گئے مگر چونکہ ملزموں کا تعلق نہایت بااثر خاندانوں سے تھا اس لیے اداکارہ شبنم کو یہ کیس واپس لینے کے لیے مجبور کیا جاتا رہا مگر پوری فلم انڈسٹری ان کی پشت پر کھڑی ہوگئی۔چونکہ فوجی عدالتیں قائم کی جا چکی تھیں اور زیادہ تر مقدمات کے فیصلے سول کورٹس کے بجائے ملٹری کورٹس میں ہو رہے تھے اس لیے عوامی دباؤ پر ملزموں کا ٹرائل کرنے کے لیے فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل خالد ادیب کی سربراہی میں ملٹری کورٹ تشکیل دیدی گئی۔بالعموم فوجی عدالت میں حکومت کے تشکیل کردہ اسپیشل پراسیکیوٹر ہی مقدمہ لڑا کرتے تھے مگر فلمی ستاروں کا خیال تھا کہ اس بار کسی قابل وکیل کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ ملزم قانون کی گرفت سے بچ نہ پائیں۔اداکار ندیم اور محمد علی جو شبنم کو انصاف دلوانے کے لیے پیش پیش تھے ان سے مشاورت کے بعد شبنم اور رابن گھوش نے ایوب خان دور میں وفاقی وزیر قانون کا عہدہ سنبھالنے والے ایس ایم ظفر کو وکیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ شاید ایس ایم ظفر کے انتخاب کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ملکہ پکھراج کے داماد ہیں، معروف گلوکارہ طاہرہ سید ان کی سالی ہیں اور اسی نسبت سے ان کے فلمی دنیا سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ایس ایم ظفر اپنی کتاب ’میرے مشہور مقدمے‘ میں اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’میں نے شبنم کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو نمایاں تھے۔ میں نے شبنم سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ مقدمہ تو سرکاری معلوم ہوتا ہے۔ اس میں سرکاری وکیل ہی پیش ہو سکتا ہے میرا اتنا کہنا تھا کہ شبنم کی پلکوں پر تھمے ہوئے آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے۔بیگم صاحبہ نے اسے کئی ٹشو پیپر لا کر دیے اور وہ بار بار آنسو پوچھتی رہیں۔

دوسرے دن محمد علی کا فون آیا کہ ’پوری فلم انڈسٹری کی خواہش ہے کہ شبنم کی مکمل طور پر حمایت کی جائے لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے کہ اس مقدمہ کی ضرور پیروی کریں‘۔ایس ایم ظفر اداکارہ شبنم کی وکالت کرنے پر رضامند ہو گئے اور حکومت نے بھی انہیں اس مقدمے میں اسپیشل پراسیکیوٹر تعینات کردیا۔ اس مقدمے میں ایس ایم ظفر کے معاون وکیل میاں محمد اجمل ایڈوکیٹ تھے جو بعد ازاں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے۔دوسری طرف ملزموں نے بھی بہت مشہور وکلا کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ ایک طرف ان ملزموں کے بااثر خاندان انہیں بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے تو دوسری طرف حکومت کو ان ملزموں کر قرار واقعی سزا دینے کے لیے شدید عوامی دباؤ کا سامنا تھا کیونکہ ان بگڑے رئیس زادوں کی طرف اس نوعیت کی یہ پہلی واردات نہ تھی بلکہ اس سے پہلے بھی اسے سے ملتی جلتی وارداتیں کر چکے تھے۔ایس ایم ظفر اپنی کتاب ’میرے مشہور مقدمے‘ میں لکھتے ہیں ’دراصل اس مقدمے نے بڑی مخصوص ڈرامائی شکل اختیار کرلی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ انہی ملزموں نے اس سے پہلے زمرد ایکٹریس کے گھر پر ڈاکا ڈالا تھا اور وہاں بھی ان کا طریقہ واردات اسی قسم کا تھا کہ گھر میں داخل ہو کر خوب سکون و اطمینان سے گھر کا قیمتی سامان سمیٹ لیا۔ افراد خانہ پرحکم چلایا اور یہ افواہ بھی عام تھی کہ نوجوان ڈاکوؤں نے انسانی حدود کی بھی پاسداری نہ کی‘۔’دوسری وجہ یہ تھی کہ زمرد اور شبنم کے گھر پر ڈاکا ڈالنے والے یہ نوجوان ڈاکو شہر کے کھاتے پیتے بڑے بڑے امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے جو بہت بااثر تھے اور یہ کہ یہ نوجوان ڈاکو گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ میرے ایک کلاس فیلو اور قریبی ساتھی کے ایک عزیز بھی اس مقدمہ میں ملزم تھے‘۔میلسی سے تعلق رکھنے والے سردار خان کھچی جو سزا سے بچ نکلے، وہ دو بار پنجاب اسمبلی کے رُکن رہے اور اب وفات پا چکے ہیں۔ایس ایم ظفر نے اشارے کنائے میں جن ’انسانی حدود‘ کی بات کی ہے اس سے مراد دراصل یہ ہے کہ ان بگڑے رئیس زادوں نے اداکارہ زمرد کو بھی اسی طرح اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور یہ ان کا محبوب مشغلہ تھا۔اداکارہ شبنم چونکہ سپر اسٹار تھیں، ان کے شوہر روبن گھوش بھی بہت بڑے فنکار تھے اور پھر دونوں بنگالی تھے، ابھی چند برس قبل ہی مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تھا، سقوط ڈھاکہ کے دوران بنگالیوں کے ساتھ ہوئے مظالم کی کہانیاں زبان زدِعام تھیں اس لیے یہ واردات انٹرنیشنل نیوز بن گئی اور ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا حکومت کی مجبور بن گئی۔معروف صحافی خاور نعیم ہاشمی جو ان دنوں ضیا الحق پر تنقید کی پاداش میں لاہور کی سینٹرل جیل میں قید تھے، وہ جیل میں فاروق بندیال، وسیم یعقوب بٹ اور ان کے دیگر ساتھیوں کے اثر و رسوخ سے متعلق اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ وہاں 6 نئے قیدیوں کا اضافہ ہوا تھا جنہیں ’فاتحین شبنم‘کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ بہت دھاک تھی ان لڑکوں کی جیل میں۔ لگتا تھا سپرنٹنڈنٹ سمیت جیل کا سارا عملہ ان کے ماتحت ہے۔ ان دنوں لاہور کا سب سے بڑا بدمعاش ’شاہیا پہلوان‘ بھی اسی جیل میں تھا، اسے جیل کے اندرونی گیٹ کے قریب بوہڑ کے درخت تلے بیٹھنے کی اجازت بھی ان لڑکوں سے لینا پڑتی۔ وہ لڑکے تو جیلر کی کرسی پر بیٹھ کر عملے کو احکامات صادر کیا کرتے تھے۔سورج ڈھلنے پر کوٹھڑیوں میں بند کیے جانے سے پہلے آدھا گھنٹہ واک کی اجازت ملی تو ایک دن ’فاتحین شبنم‘ سے ملاقات ہو گئی

۔ میں نے ان سے پوچھا، تم نے ایک نامور ایکٹرس سے اجتماعی زیادتی کیوں کی؟ یہ جرم شبنم کے شوہر رابن گھوش اور ان کے کم سن بیٹے رونی کو زنجیروں سے باندھ کر ان کے سامنے کیوں کیا؟ اور یہی و اردات چند دن پہلے اداکارہ زمرد کے گھر کیوں کی گئی؟فاروق بندیال اور اس کے ساتھیوں کا دعویٰ تھا کہ وہ سب شبنم کے گھر ایک عرصہ سے جا رہے تھے۔ ہر شام وہاں جوا ہوتا جو اکثر فجر تک جاری رہتا۔ وہاں زمرد ہی نہیں کئی اداکارائیں اور تاش کی شوقین ایسی خواتین دیکھیں جن میں کئی بڑے گریڈ کے بیوروکریٹس کی بیویاں ہوتیں۔ ہمیں وہاں لوٹا گیا، وہاں ایسا سسٹم تھا کہ وہ جسے چاہیں جتوا دیں۔ جسے چاہیں قلاش کر دیں۔ ہم بھی اس گیم کے کھلاڑی ہیں جب ہمیں پتا چلا کہ فکسنگ ہوتی ہے، تو ہم نے انتقام میں یہ دونوں وارداتیں کیں۔اس دور میں فاروق بندیال اور اس کے ساتھی ملزم مزے لیکر نہ صرف ان اداکاراؤں کے جسمانی خدوخال اور پیچ و خم کا احوال بتایا کرتے بلکہ نہایت ڈھٹائی سے جوئے والی کہانی کو بطور جواز پیش کیا جاتا۔اداکارہ شبنم خود اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے گھر آئے روز پارٹیاں ہوتی تھیں اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں جوا بھی ہوتا ہو مگر فاروق بندیال، سردار خان کھچی اور وسیم یعقوب بٹ نے ساتھیوں سے ملکر جو گھناؤنی واردات کی اس کی کوئی Justificationنہیں دی جا سکتیاداکارہ شبنم کاکم سن بیٹا رونی جو تب محض نو سال کا تھا۔وہ اس واقعہ سے نفسیاتی طور پر شدید متاثر ہوا اور شبنم نے اسے فوراً بیرون ملک بھجوا دیا۔فوجی عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو اداکارہ شبنم کو بیان ریکارڈ کرنے کے لیے بلایا گیا۔ شبنم فیروزی رنگ کی پھولدار ساڑھی میں ملبوس اور سفید شال اوڑھے بہت وقار اور تمکنت سے چلتے ہوئے کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں۔ ملزموں کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے۔ شاید انہیں توقع نہیں تھی کہ شبنم تمام تر دباؤ کے باوجود ان کے خلاف گواہی دینے کے لیے آئیں گی۔شبنم نے واقعہ کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے گھر میں داخل ہونے والے ملزموں کا سرغنہ فاروق بندیال تھا۔ تفصیل بیان کرتے ہوئے شبنم بار بار اپنے آنسو صاف کر رہی تھیں۔ شبنم سے پوچھا گیا، کیا آپ عدالت میں موجود ان ملزموں کو شناخت کر سکتی ہیں؟ شبنم کی ہمت جواب دے گئی اور وہ سسکیاں لیکر رونے لگیں تو عدالت کی سربراہی کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل خالد ادیب نے سختی سے کہا، میڈم اپنے آپ کو سنبھالیں، یہ عدالت ہے، یہاں آپ کو قانون کے مطابق شہادت دینی ہے۔عدالت کے ان ریمارکس پر شبنم نے اپنی ہمت مجتمع کی اور باآواز بلند کہا، میں نے ان سب کو پہچان لیا ہے، میں انہیں کیوں نہیں پہچانوں گی، انہوں نے میرا سب کچھ لوٹ لیا ہے، میرا سکون و اطمینان تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔فوجی عدالت نے سماعت مکمل کرنے کے بعد پانچ ملزموں کو سزائے موت سنا دی۔ ایک ملزم کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ جب کہ ایک ملزم کو رہا کر دیا گیا۔ سزا سنائے جانے کے بعد ایک بار پھر اداکارہ شبنم پر دباؤ ڈال کر معافی دلوانے کی کوششیں شروع ہو گئیں اور اداکارہ شبنم اپنی جان بچانے کے لیے ان بااثر ملزموں کو معاف کرنے پر رضامند ہوگئیں۔پاکستان کی تاریخ میں ایک اور انوکھا واقعہ یہ پیش آیا کہ وکیل استغاثہ ایس ایم ظفر نے ملزموں کی طرف داری کرتے ہوئے جنرل ضیا الحق کو خط لکھ کر اپیل کی کہ ’پڑھے لکھے‘ مجرموں کو رحم کا مستحق سمجھتے ہوئے ان کی سزا کم کر دی جائے۔ایس ایم ظفر نے 26 اکتوبر 1979ء کو جنرل ضیاالحق کے نام لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا کہ میں نے دوران سماعت ملزموں کا مشاہدہ کیا ہے اور ان اسباب پر بھی غور کیا ہے جن کے تحت یہ جرم سرزد ہوا ہے۔ یہ نوجوان لڑکے گزشتہ حکومت کے مروجہ شتر بے مہار طریقہ کار کے تحت خطا کر بیٹھے۔ معاشرے میں اصلاحی اقدامات کا فقدان تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان جرائم کے ارتکاب کی ذمہ داری من حیث المجموع معاشرے اور نظام پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا میں یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ آپ اس معاملے میں توازن قائم کریں۔ جہاں قانون میں موت کی سزا ہے وہاں آپ اپنا استحقاق استعمال کرتے ہوئے بردباری کے تحت مجرموں کی سزا، عمر قید میں بدل دیں۔یہ عمل اسلام کے احسان کے فلسفہ کے عین مطابق ہوگا۔ایک وکیل جو اپنے موکل سے فیس وصول کرتا ہے، اس کی طرف سے فریق مخالف کی وکالت پیشہ ورانہ بددیانتی کہلاتی ہے یا نہیں، اس حوالے سے تو قانونی ماہرین ہی رائے دے سکتے ہیں تاہم ایس ایم ظفر بھیانک جرم کے مرتکب افراد کے لیے رحم کی اپیل کرتے وقت یہ بھول گئے کہ اسلام مجرموں کے لیے احسان نہیں بلکہ انصاف اور عدل کا تقاضا کرتا ہے۔بہرحال جنرل ضیا الحق جنہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت سے متعلق رحم کی اپیل بیک جنبش قلم یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ اسلام مساوات کا قائل ہے اور وہ نظام عدل کی راہ میں حائل نہیں ہوں گے، انہوں نے فاروق بندیال اور ان کے ساتھیوں کی سزائیں عمر قید میں تبدیل کر دیں اور پھر کچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد یہ لوگ رہا ہوگئے۔رہا ہونے کے بعد ایک اور پراپیگنڈا یہ کیا گیا کہ انہیں گینگ ریپ کے جرم میں سزا نہیں ہوئی بلکہ ڈکیتی کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ نظام عدل اور نظام حکومت نے ملکر ان بااثر مجرموں کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی ورنہ پاکستان پینل کوڈ میں ڈکیتی کی زیادہ سے زیادہ سزاعمر قید ہے، اگر ان لوگوں نے محض لوٹ مار کی ہوتی تو انہیں ہرگز سزائے موت نہ ہوتی۔اگرچہ ایس ایم ظفر اپنی کتاب میں یہ واقعات محتاط انداز میں بیان کرتے ہوئے گینگ ریپ والی بات چھپا گئے مگر ایک پیراگراف سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فاروق بندیال اور ان کے ساتھیوں کا اصل جرم اجتماعی زیادتی ہی تھا۔ایس ایم ظفر اپنی کتاب ’میرے مشہور مقدمے‘ میں لکھتے ہیں ’زنابالجبر کے مقدمات کی تحقیق سے یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ مستغیثہ ذہنی طور سے یہ سمجھتی ہے کہ جو کچھ ہوگیا ہے سو ہوگیا ہے، اس اس کی تلافی مجرم کو سزا دلانے سے تو نہ ہو سکے گی، البتہ اس سے مزید سبکی ضرور پیدا ہوگی اور واقعات کا ذکر کرکے جو ذہنی اذیت اور کوفت پہنچے گی وہ الگ اور مقدمہ کی شہرت سے بدنامی میں جو اضافہ ہوگا وہ الگ سوہان روح ثابت ہوگا، چنانچہ اکثر خواتین یہی بات سوچ کر سرے سے مقدمہ درج ہی نہیں کرواتیں‘۔یہ بات ایس ایم ظفر نے اداکارہ شبنم کے فوجی عدالت میں بیان ریکارڈ کروانے کے تناظر میں لکھی ہے جس سے اس بات کی واضح طور پر تصدیق ہوتی ہے کہ شبنم کی ہچکچاہٹ کی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ زنا باالجبر کے صدمے سے گزریں۔ یہ باتیں بھی زیر گردش رہیں کہ جب ملزم رہا ہوگئے اور شبنم کی زندگی برباد ہوگئی تو انہوں نے بنگلہ دیش جانے کی کوشش کی جہاں ان کے والدین مقیم تھے مگر ضیا الحق سرکار نے انہیں یہ سوچ کر جانے کی اجازت نہ دی کہ اگر وہاں جا کر شبنم نے اپنی خاموشی توڑ دی تو ملک کی بدنامی ہوگی۔فاروق بندیال کے ماموں فتح خان بندیال اب وفاقی سیکریٹری داخلہ بن چکے تھے اور شبنم کئی برس وزارت داخلہ سے این او سی لینے کے لیے ماری ماری پھرتی رہیں۔ آخر کار انہوں نے درخواست دی کہ ان کے والد شدید بیمار ہیں اور وہ ان کی عیادت کے لیے جانا چاہتی ہیں، تب کہیں جا کر انہیں بنگلہ دیش جانے کی اجازت ملی، وہ بنگلہ دیش گئیں اور پھر دہائیوں لوٹ کر نہ آئیں۔ضیا الحق سرکار نے شبنم کو بنگلہ دیش جانے کی اجازت نہ دی کہ اگر وہاں جا کر شبنم نے اپنی خاموشی توڑ دی تو ملک کی بدنامی ہوگی۔اداکارہ شبنم اپنے شوہر رابن گھوش کی وفات کے بعد چند برس قبل تب پاکستان آئیں جب انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینے کے لیے مدعو کیا گیا۔اس واقعہ میں ملوث بگڑے رئیس زادوں کی جوانیاں بھی اب ڈھل چکی ہیں،

میلسی سے تعلق رکھنے والے سردار خان کھچی جو سزا سے بچ نکلے، وہ دو بار پنجاب اسمبلی کے رُکن رہے اور اب وفات پا چکے ہیں۔فاروق بندیال نے عمران خان سے ملاقات کرکے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا تو سوشل میڈیا پر سخت احتجاج کیا گیا، جس کے بعد انہیں پی ٹی آئی سے نکانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے وسیم یعقوب بٹ اب اے ایم ایچ میٹل انڈسٹریز کے نام سے کاروبار کرتے ہیں۔اب آتے ہیں اس آخری سوال کی طرف کہ شبنم زیادتی کیس کے مرکزی کردار فاروق بندیال کا پاکستان کے سابقہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے کیا تعلق ہے؟ فاروق بندیال جسٹس عمر عطا بندیال کے فرسٹ کزن ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال کے والد ایف۔کے بندیال جو بہت بااختیار اور طاقتور بیوروکریٹ تھے، فاروق بندیال ان کے بھانجے ہیں اور مبینہ طور پر ان کے ماموں نے ہی انہیں بچانے اور رہا کروانے میں اہم کردار اداکیا بقلم ۔۔ بلال غوریعجیب و غریب تاریخ—وزیراعظم ۔۔۔خطابوزیراعظم نے اسلام آباد ،آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے لئے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کر دیا ، کمزور طبقے کا سہارا بننا ریاست کی ذمہ داری ہے ، شہباز شریفاسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ،آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے مفت علاج کے لئے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کر تے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم صحت کارڈ کا اجراء عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے،علاج اور صحت کی سہولیات کا حصول عوام کا بنیادی حق ہے،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کا سہارا بنے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں وزیراعظم صحت کارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وفاقی وزرا ارکان قومی اسمبلی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ علاج اور صحت کی سہولیات کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے،حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر یہ سہولتیں فراہم کر رہی ہے، 2016 میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کیا تھا اور صوبوں میں بڑی تیزی سے یہ پروگرام عوام تک پہنچا اور لاکھوں خاندان اس سے مستفید ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صحت سے زیادہ زندگی میں کوئی اور چیز قیمتی نہیں ہے،صحت ہوگی تو تعلیم ،کھیل اور زندگی کے ہر شعبے میں سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں اور مخالفین کو بھی شکست فاش دے سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے،اسلام آباد ،آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے بھائیوں اور بہنوں کے لئے وزیراعظم صحت کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے ،اس کے لئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال ،سیکرٹری صحت اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صحت کارڈ کا اجرا عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے، پاکستان میں اشرافیہ امریکہ ،یورپ اور دیگر ممالک میں اپنے اور اپنے بچوں کے لئے مہنگے ترین علاج کا انتظام کرا سکتی ہے لیکن عام آدمی ،مزدوروں اور غریب طبقے کے لئے بہت مشکلات ہیں، صحت ہوگی تو انسان باوقار طریقے سے روزگار کما سکے گا، صحت ہوگی تو نوجوان کھیلوں کے میدان میں ملک کا نام روشن کریں گے ،صحت ہوگی تو ہر میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے،مجھے امید ہے کہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے ،اس سے دین اور دنیا دونوں میں بھلائی ہو گی، تھرڈ پارٹی کے ذریعے پروگرام میں شفافیت یقینی بنائی جائے،ریاست عام شہری کے علاج کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں صحت کارڈ پروگرام کے اجراء کی تجویز قابل غور ہے،سندھ کا یقیناً اپنا پروگرام ہوگا ،وزیراعلیٰ سندھ سےاس حوالے سے بات کر کے اس کا حل نکالیں گے تاکہ وہاں پر بھی یہ سہولت میسر ہو۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی صحت کے پروگرام موجود ہیں ، پنجاب میں بھی بڑی کامیابی کے ساتھ صحت کارڈ پروگرام پر عملدرآمد جاری ہے اور اربوں روپے اس پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2016 میں اس پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا، صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اسلام آباد ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ لوگوں کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی، حکومت صحت کی سہولیات ہر شہری تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے، یہ پروگرام ایک کروڑ سے زائد شہریوں کو علاج کی سہولت فراہم کرے گا،اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 70 ہسپتال پروگرام میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جو وزیراعظم صحت کارڈ استعمال نہیں کر رہا، باقی تمام صوبوں میں یہ سہولت حاصل ہے، وزیراعظم کے وژن اور قیادت سے صحت کا نظام مضبوط اور پائیدار ہوگا ،وزیراعظم صحت کارڈ ملک میں صحت کی سہولیات کو عوام تک پہنچانے کا تاریخی قدم ہے، کراچی میں صحت کارڈزکے لئے 16 ہسپتال مختص کئے گئے ہیں۔وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ یکم جنوری 2016 کو صحت کارڈ کے جس سفر کا آغاز کیا گیا تھا وہ اب یونیورسل ہیلتھ کوریج کی شکل اختیار کر چکا ہے،غربت سرویز کے مطابق 66 فیصد لوگ خط غربت سے اس لئے نیچے چلے جاتے ہیں کہ وہ صحت کے اخراجات برداشت نہیں کرپاتے ۔وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا تاریخی اقدام ہے، صحت کارڈ پروگرام سے ہر پاکستانی کے لئے کیش لیس علاج کی سہولت حاصل ہوگی،600 سے زائد ہسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت حاصل ہوگی کہیں بھی رقم کی ادائیگی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی،شناختی کارڈ اور بچوں کے ب فارم کو صحت کارڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، صحت کارڈ پروگرام ہر پاکستانی کے لئے کیش لیس علاج کی سہولت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال کی کوششوں کے بعد یہ پروگرام یونیورسل ہے ،600 سے زائد پبلک اور پرائیویٹ ہسپتال کیش لیس علاج فراہم کریں گے ،گلگت کے پہاڑی علاقوں سے لے کر گوادر کے ساحلوں تک ہر کسی کو مفت سہولت حاصل ہوگی،یہ نظام مستقبل میں وبائی امراض یا ایمرجنسی کی صورت میں فوری رسپانس کے لئے مددگار ثابت ہوگا۔اس موقع پر وزیراعظم نے اسلام آباد ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے وزیراعظم صحت کارڈز بھی تقسیم کئے










