
صدر آصف علی زرداری سے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی کی دوحہ میں ملاقات۔صدر مملکت نے پاکستان اور قطر کے مابین دفاعی اور سلامتی کے تعلقات کو تاریخی اور قابلِ فخر قرار دیا۔صدر آصف علی زرداری نے تربیت، استعداد کار، دفاعی پیداوار اور مشترکہ منصوبوں میں دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور مشترکہ دفاعی پیداوار و منصوبوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افغان تنازعے میں کردار ادا کرنے کا بھی یقین دلایا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی شراکت کو مزید فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہے۔

دوحہ: پاکستان کی خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی قطر فاؤنڈیشن میں محترمہ شیخہ موزا بنت ناصر سے ملاقات۔ملاقات میں تعلیم، صحت، اختراع اور خواتین کے بااختیار ہونے کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال۔خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے شیخہ موزا بنت ناصر کی تعلیم اور انسانی ترقی کے فروغ میں بصیرت افروز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔خاتونِ اوّل نے ایجوکیشن ابوو آل (EAA) کے پاکستان میں 13 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم کی فراہمی میں قابلِ قدر خدمات کی تعریف کی۔خاتونِ اوّل نے پاکستانی جامعات اور قطر فاؤنڈیشن کے درمیان اشتراک بڑھانے کی تجویز پیش کی۔شیخہ موزا بنت ناصر نے پاکستانی طلبہ کی کارکردگی اور تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔خاتونِ اوّل نے شیخہ موزا کے فلسطین کے حق میں مؤقف اور غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔دونوں رہنماؤں نے تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی شمولیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے دوحہ میں ملاقات۔امیرِ قطر نے کہا قطر کو پاکستان اور اس کی کامیابیوں پر فخر ہے۔امیرِ قطر نے پاکستانی کمیونٹی کے کردار کی تعریف کی اور ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔صدرِ مملکت نے امیرِ قطر کو حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔دونوں رہنماؤں نے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔صدرِ مملکت نے قطر کی ترقی اور امیرِ قطر کی بصیرت افروز قیادت کو سراہا۔

امیرِ قطر نے پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کو خوش آئند اور بروقت قرار دیا۔امیرِ قطر نے کہا پاکستان منفرد حیثیت رکھتا ہے جو چین، مغرب اور خلیجی ممالک سے بیک وقت تعلقات رکھتا ہے۔صدرِ مملکت نے دفاع، دفاعی پیداوار، زراعت اور غذائی تحفظ میں تعاون بڑھانے کی تجویز دی۔امیرِ قطر نے تعاون بڑھانے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری رابطوں کی ہدایت دی۔صدر زرداری نے قطر میں دوحہ مذاکرات کی میزبانی اور افغانستان سے متعلق کردار کو سراہا۔امیرِ قطر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور افغانستان موجودہ مسائل حل کرکے حالیہ چیلنجز کو پسِ پشت ڈال دیں گے۔امیرِ قطر نے صدرِ پاکستان کی دعوت قبول کرتے ہوئے آئندہ سال کے اوائل میں پاکستان کے دورے کا اعلان کیا۔ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری اور پاکستانی سفیر بھی موجود تھے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا*اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پارلیمانی وفد کی ملاقات۔**پاکستان ایران کو برادر ہمسایہ اور دوست ملک تصور کرتا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی**اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حمایت کو ایران کبھی نہیں بھول پائے گا، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف**ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان زندہ آباد کے نعرے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے دلوں کی آواز تھی، ایرانی اسپیکر*اسلام آباد (5 نومبر 2025ء): اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلسِ شوریٰ اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے آج پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، علاقائی صورتحال، اور اقتصادی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایرانی اسپیکر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مذہب، ثقافت اور برادرانہ رشتوں کے مضبوط بندھن میں جڑے ہوئے ہیں۔ اسپیکر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم، پارلیمنٹ اور حکومت پاکستان ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایران اور پاکستان باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنا سکتے ہیں اور پارلیمانی سفارتکاری اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے ایران کی عوام اور حکومت کو اسرائیلی حملے کو ناکام بنانے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پاکستانی پارلیمنٹ پہلی پارلیمنٹ تھی جس نے واشگاف انداز میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے “پاکستان زندہ باد” کے نعروں کو برادرانہ محبت کی علامت قرار دیتے ہوئے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے جذبات کو سراہا۔ انہوں نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعلقات میں فروغ انتہائی خوش آئند ہے۔ اسپیکر نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کا قابلِ اعتماد برادر ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں۔

ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہوئے انہیں دلی مسرت ہوئی۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران کی غیر مشروط حمایت پر پاکستانی عوام، پارلیمنٹ اور حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ “مشکل وقت کا ساتھی ہی حقیقی دوست ہوتا ہے”۔ایرانی اسپیکر نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی حقیقی حمایت دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تعاون ایران اور پاکستان کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایران پاکستان کی جانب سے تمام عالمی فورمز پر حمایت پر تہہ دل سے شکرگزار ہے۔ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی وفود کے باہمی تبادلے اعتماد سازی اور دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، ترقی اور عوامی خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ایرانی اسپیکر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کو سراہا۔ ایرانی پارلیمانی وفد کے اراکین نے پاکستان کی پارلیمان کے فعال اور تعمیری کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ملاقات میں ممبر قومی اسمبلی اور کنوینر ایران پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ سید نوید قمر بھی موجود تھے۔

🎓 تحقیقی آرٹیکلتعلیم کا جنازہ — بٹگرام کے جعلی اساتذہ، بند اسکول، اور کھویا ہوا مستقبلتحریر: باقی ملک جان⸻سال 2010-11 ضلع بٹگرام کے تعلیمی نظام کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا۔اسی سال محکمہ تعلیم (ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) بٹگرام نے لاکھوں روپے ایسے اساتذہ کو ادا کیے جو اسکولوں سے غیر حاضر تھے یا ان کی جگہ غیر تربیت یافتہ مقامی افراد پڑھا رہے تھے۔یہ سب کچھ اُس وقت کے سیاسی ماحول میں ہوا جب تحصیل بٹگرام میں جمعیت علمائے اسلام (JUI) کے نمائندے شاہ حسین باچا ایم پی اے کی حکومت تھی، جن کے اثر و رسوخ میں پورا تعلیمی نظام سیاسی رنگ اختیار کر گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق، اساتذہ کی بھرتیاں اور تبادلے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے۔کئی خواتین کو محض سیاسی وفاداری کے انعام کے طور پر بھرتی کیا گیا تاکہ ووٹ بینک مضبوط کیا جا سکے۔یوں تعلیم کا اصل مقصد پسِ منظر میں چلا گیا اور پورا نظام کرپشن، اقربا پروری اور انتظامی کمزوری کا شکار ہو گیا۔

⸻جعلی تدریس کا جال — Annex-D کی کہانیآڈٹ رپورٹ کے مطابق، درجنوں اساتذہ ایسے پائے گئے جو خود اسکولوں میں حاضر نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنی جگہ غیر تربیت یافتہ افراد کو تدریس کے لیے بھیج دیتے تھے۔یہ جعلی تدریس کا ایک منظم طریقہ تھا جس میں اصل استاد گھر پر بیٹھ کر مکمل تنخواہ لیتا رہا اور اس کی جگہ کوئی مقامی شخص تین سے پانچ ہزار روپے ماہانہ کے عوض بچوں کو پڑھاتا رہا۔کل نقصان تقریباً پچپن لاکھ روپے رپورٹ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق، مثال کے طور پر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول اجمیرا میں ایک فلا بی بی نامی ٹیچر غیر حاضر رہی مگر اس کی تنخواہ پوری ملتی رہی۔اسی طرح گورنمنٹ ہائی سکول کُز بانڈہ میں ایک اور فلا بی بی نے اپنی جگہ دوسری خاتون کو بھیج رکھا تھا جو باقاعدہ طور پر غیر تربیت یافتہ تھی۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بٹگرام ٹاؤن میں ایک فلا بی بی نے کئی ماہ تک اسکول حاضری رجسٹر میں جعلی دستخط کروائے،اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول بنہ میں ایک اور فلا بی بی کی جگہ کسی مقامی عورت نے بچوں کو پڑھایا۔یہ تمام خواتین اساتذہ گھر پر بیٹھی رہیں اور حکومتی خزانے سے ان کی تنخواہیں باقاعدگی سے جاری رہیں۔محکمہ تعلیم کی اندرونی نگرانی مکمل طور پر ناکام رہی۔کاغذوں میں سب کچھ درست ظاہر کیا گیا مگر زمینی سطح پر اسکولوں میں نہ اساتذہ تھے نہ تدریس۔یہ سب کچھ انتظامیہ کی آشیر باد اور سیاسی مداخلت کے نتیجے میں ممکن ہوا۔⸻بند اسکولوں کا گھوٹالہ — Annex-E کی تفصیلآڈٹ رپورٹ کے دوسرے حصے میں ان اسکولوں کی فہرست شامل ہے جو عرصہ دراز سے بند تھے مگر ان کے عملے کو تنخواہیں دی جاتی رہیں۔کل نقصان تقریباً ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے بتایا گیا۔رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ پرائمری اسکول سَری بند تھا مگر وہاں کے استاد محمد اسماعیل کو دو لاکھ گیارہ ہزار روپے سے زائد کی ادائیگی ہوئی

۔گورنمنٹ پرائمری اسکول شملائی میں استاد عمر جان کو تنخواہ دی گئی حالانکہ اسکول کئی مہینوں سے غیر فعال تھا۔گورنمنٹ پرائمری اسکول کوٹکئی کے استاد اسلم خان مستقل غیر حاضر رہے،گورنمنٹ پرائمری اسکول میرا کے استاد ہارون رشید کا نام فہرست میں شامل تھا جو کئی ماہ سے اسکول نہیں گئے،جبکہ گورنمنٹ ہائی اسکول تھاکوٹ کے ایک استاد خان محمد 2008 سے غیر حاضر تھے لیکن ان کی تنخواہ بھی باقاعدگی سے نکلتی رہی۔بعض اسکولوں میں چوکیدار اور نائب قاصد بھی بیرون ملک مقیم پائے گئے، جیسے ایک اہلکار سعودی عرب میں تھا مگر اس کی تنخواہ بٹگرام سے جاری ہوتی رہی۔یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بند اسکولوں کو فعال ظاہر کر کے بجٹ کو سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔⸻سیاسی سرپرستی اور سماجی تباہییہ تمام بے ضابطگیاں اس وقت کے سیاسی و مذہبی اتحاد کے زیر سایہ پنپیں۔جمعیت علمائے اسلام کے نمائندوں کی سرپرستی میں خواتین اساتذہ کو گھروں میں بٹھا کر تنخواہیں دی گئیں،جبکہ اصل تدریسی عمل غیر تربیت یافتہ افراد کے سپرد کیا گیا۔یہ صرف مالی کرپشن نہیں بلکہ تعلیم دشمنی کی بدترین مثال تھی۔بٹگرام جیسے پسماندہ ضلع میں تعلیم کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا تاکہ سیاسی اثر برقرار رہے۔اس کے نتیجے میں بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر رہ گئی،اساتذہ کی پوسٹنگ رشوت اور سفارش پر ہونے لگی،اور تعلیمی ادارے عوامی خدمت کے بجائے طاقت کے کھیل کا حصہ بن گئے۔⸻نتیجہیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سیاست تعلیم پر غالب آ جائے تو ادارے محض کاغذی رہ جاتے ہیں۔2010 کے بعد بٹگرام کے تعلیمی ادارے ظاہری طور پر تو موجود تھے، مگر عملی طور پر خالی تھے۔اساتذہ غیر حاضر، اسکول بند، اور طلبہ بے سہارا تھے۔ریاست کے خزانے سے نکلا ہوا وہ پیسہ جو بچوں کے مستقبل کے لیے تھا،جعلی تدریس، غیر حاضر اساتذہ اور بند اسکولوں کی نذر ہو گیا۔یہ واقعہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح علامت ہے۔تعلیم کا نظام کاغذوں میں زندہ رہا ۔

🎓 تحقیقی آرٹیکلتعلیم کا جنازہ — بٹگرام کے جعلی اساتذہ، بند اسکول، اور کھویا ہوا مستقبلتحریر: باقی ملک جان⸻سال 2010-11 ضلع بٹگرام کے تعلیمی نظام کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا۔اسی سال محکمہ تعلیم (ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) بٹگرام نے لاکھوں روپے ایسے اساتذہ کو ادا کیے جو اسکولوں سے غیر حاضر تھے یا ان کی جگہ غیر تربیت یافتہ مقامی افراد پڑھا رہے تھے۔یہ سب کچھ اُس وقت کے سیاسی ماحول میں ہوا جب تحصیل بٹگرام میں جمعیت علمائے اسلام (JUI) کے نمائندے شاہ حسین باچا ایم پی اے کی حکومت تھی، جن کے اثر و رسوخ میں پورا تعلیمی نظام سیاسی رنگ اختیار کر گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق، اساتذہ کی بھرتیاں اور تبادلے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے۔کئی خواتین کو محض سیاسی وفاداری کے انعام کے طور پر بھرتی کیا گیا تاکہ ووٹ بینک مضبوط کیا جا سکے۔یوں تعلیم کا اصل مقصد پسِ منظر میں چلا گیا اور پورا نظام کرپشن، اقربا پروری اور انتظامی کمزوری کا شکار ہو گیا۔

⸻جعلی تدریس کا جال — Annex-D کی کہانیآڈٹ رپورٹ کے مطابق، درجنوں اساتذہ ایسے پائے گئے جو خود اسکولوں میں حاضر نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنی جگہ غیر تربیت یافتہ افراد کو تدریس کے لیے بھیج دیتے تھے۔یہ جعلی تدریس کا ایک منظم طریقہ تھا جس میں اصل استاد گھر پر بیٹھ کر مکمل تنخواہ لیتا رہا اور اس کی جگہ کوئی مقامی شخص تین سے پانچ ہزار روپے ماہانہ کے عوض بچوں کو پڑھاتا رہا۔کل نقصان تقریباً پچپن لاکھ روپے رپورٹ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق، مثال کے طور پر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول اجمیرا میں ایک فلا بی بی نامی ٹیچر غیر حاضر رہی مگر اس کی تنخواہ پوری ملتی رہی۔اسی طرح گورنمنٹ ہائی سکول کُز بانڈہ میں ایک اور فلا بی بی نے اپنی جگہ دوسری خاتون کو بھیج رکھا تھا جو باقاعدہ طور پر غیر تربیت یافتہ تھی۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بٹگرام ٹاؤن میں ایک فلا بی بی نے کئی ماہ تک اسکول حاضری رجسٹر میں جعلی دستخط کروائے،اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول بنہ میں ایک اور فلا بی بی کی جگہ کسی مقامی عورت نے بچوں کو پڑھایا۔یہ تمام خواتین اساتذہ گھر پر بیٹھی رہیں اور حکومتی خزانے سے ان کی تنخواہیں باقاعدگی سے جاری رہیں۔محکمہ تعلیم کی اندرونی نگرانی مکمل طور پر ناکام رہی۔کاغذوں میں سب کچھ درست ظاہر کیا گیا مگر زمینی سطح پر اسکولوں میں نہ اساتذہ تھے نہ تدریس

۔یہ سب کچھ انتظامیہ کی آشیر باد اور سیاسی مداخلت کے نتیجے میں ممکن ہوا۔⸻بند اسکولوں کا گھوٹالہ — Annex-E کی تفصیلآڈٹ رپورٹ کے دوسرے حصے میں ان اسکولوں کی فہرست شامل ہے جو عرصہ دراز سے بند تھے مگر ان کے عملے کو تنخواہیں دی جاتی رہیں۔کل نقصان تقریباً ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے بتایا گیا۔رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ پرائمری اسکول سَری بند تھا مگر وہاں کے استاد محمد اسماعیل کو دو لاکھ گیارہ ہزار روپے سے زائد کی ادائیگی ہوئی۔گورنمنٹ پرائمری اسکول شملائی میں استاد عمر جان کو تنخواہ دی گئی حالانکہ اسکول کئی مہینوں سے غیر فعال تھا۔گورنمنٹ پرائمری اسکول کوٹکئی کے استاد اسلم خان مستقل غیر حاضر رہے،گورنمنٹ پرائمری اسکول میرا کے استاد ہارون رشید کا نام فہرست میں شامل تھا جو کئی ماہ سے اسکول نہیں گئے،جبکہ گورنمنٹ ہائی اسکول تھاکوٹ کے ایک استاد خان محمد 2008 سے غیر حاضر تھے لیکن ان کی تنخواہ بھی باقاعدگی سے نکلتی رہی۔بعض اسکولوں میں چوکیدار اور نائب قاصد بھی بیرون ملک مقیم پائے گئے، جیسے ایک اہلکار سعودی عرب میں تھا مگر اس کی تنخواہ بٹگرام سے جاری ہوتی رہی۔یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بند اسکولوں کو فعال ظاہر کر کے بجٹ کو سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔⸻سیاسی سرپرستی اور سماجی تباہییہ تمام بے ضابطگیاں اس وقت کے سیاسی و مذہبی اتحاد کے زیر سایہ پنپیں۔جمعیت علمائے اسلام کے نمائندوں کی سرپرستی میں خواتین اساتذہ کو گھروں میں بٹھا کر تنخواہیں دی گئیں،جبکہ اصل تدریسی عمل غیر تربیت یافتہ افراد کے سپرد کیا گیا۔یہ صرف مالی کرپشن نہیں بلکہ تعلیم دشمنی کی بدترین مثال تھی۔بٹگرام جیسے پسماندہ ضلع میں تعلیم کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا تاکہ سیاسی اثر برقرار رہے۔اس کے نتیجے میں بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر رہ گئی،اساتذہ کی پوسٹنگ رشوت اور سفارش پر ہونے لگی،اور تعلیمی ادارے عوامی خدمت کے بجائے طاقت کے کھیل کا حصہ بن گئے۔⸻نتیجہیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سیاست تعلیم پر غالب آ جائے تو ادارے محض کاغذی رہ جاتے ہیں۔2010 کے بعد بٹگرام کے تعلیمی ادارے ظاہری طور پر تو موجود تھے، مگر عملی طور پر خالی تھے۔اساتذہ غیر حاضر، اسکول بند، اور طلبہ بے سہارا تھے۔ریاست کے خزانے سے نکلا ہوا وہ پیسہ جو بچوں کے مستقبل کے لیے تھا،جعلی تدریس، غیر حاضر اساتذہ اور بند اسکولوں کی نذر ہو گیا۔یہ واقعہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح علامت ہے۔تعلیم کا نظام کاغذوں میں زندہ رہا ۔










