ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی سرکاری ٹی وی بلڈنگ’میرٹ میرٹ’ کےنعروں کے بعد نذر آتش، 22 ہلاکبنگلہ دیشبنگلہ دیش میں ملازمتوں میں کوٹے کے متنازعہ اعلان کے بعد نوجوانوں اور خصوصاً طلبہ کی طرف سے سامنے آنے والے رد عمل نے جمعرات کے روز اس وقت غیر معمولی شدت پکڑ لی ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی سرکاری ٹی وی بلڈنگ’میرٹ میرٹ’ کےنعروں کے بعد نذر آتش، 22 ہلاکبنگلہ دیشبنگلہ دیش میں ملازمتوں میں کوٹے کے متنازعہ اعلان کے بعد نوجوانوں اور خصوصاً طلبہ کی طرف سے سامنے آنے والے رد عمل نے جمعرات کے روز اس وقت غیر معمولی شدت پکڑ لی ہے جب مبینہ طور پر مظاہرین نے بنگلہ دیش کے سرکاری ٹیلی ویژن ‘ بی ٹی وی ‘ کی بلڈنگ کے اندر گھس کر آگ لگا دی۔یہ واقعہ بنگلہ دیشی سرکاری ٹی وی کے ہیڈ کوارٹرز میں پیش آیا ہے۔ ٹی وی کے مطابق بہت سارے لوگ آگ لگنے کی وجہ سے پھنس کر رہ گئے ہیں۔ایک سرکاری ذمہ دار نے ٹی وی سٹیشن پر بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘ اے ایف پی ‘ کو بتایا ہے’ سینکڑوں مظاہرین نے ٹی وی کی عمارت پر ہلہ بول دیا۔ جنہوں نے عمارت کے اندر دفاتر اور باہر کھڑی 60 گاڑیوں کو آگ لگا دی۔’ان مطاہرین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے رامپورہ میں پولیس پوسٹ کو آگ لگائی جس کے بعد پولیس نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ یہ واقعہ دارالحکومت ڈھاکہ کے نواح میں پیش آیا ہے۔’بعد ازاں مظاہرین نے ایک پولیس آفیسر کا تعاقب شروع کیا جو بھاگتا ہوا ‘ بی ٹی وی ‘ کی عمارت میں چھپنے کے لیے بڑھا جس کے پیچھے مظاہرین بڑی تعداد میں گھس گئے۔سرکاری ٹی وی کی طرف سے فیس بک پر لگائی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے ‘ آگ لگانے کا واقعہ ایک بہت بڑی تباہی ہے ، یہ آگ بہت تیزی سے پھیل گئی۔’ہم فائر بریگیڈ کی مدد مانگ رہے ہیں ۔ کہ بہت سے لوگ عمارت کے اندر ہیں۔’ بتایا جاتا ہے کہ چاروں طرف لگی آگ کی وجہ سے ان ٹی وی کارکنوں کے لیے نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔یاد رہے بنگلہ دیش کی پولیس نے اسی ہفتے ایک پر تشدد مظاہرے پر یلغار کی تھی۔ یہ مظاہرین سرکاری ملازمتوں لیے کے قواعد میں تبدیلی اور اصلاح کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تاکہ میرٹ پر اور منصفانہ بنیادوں پر ملازمتوں کا حصول ممکن ہو جائے۔یہ مظاہرین مبینہ طور پر حسینہ واجد حکومت کی ملازمتوں کے لیے نئی بنائی گئی کوٹہ پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہرین کا موقف ہے کہ اس طرح بنگلہ سرکار اپنے پسندیدگان اور سیاسی حامیوں کو نوازرہی ہے جبکہ میرٹ کی پروا نہیں کرنا چاہتی۔اب تک میرٹ پر ملازمتوں کا مطالبہ کرنے والے نوجوان اور بے روز گار مظاہرین میں سے کم ازکم 22 پولیس کی فائرنگ یا تشدد سے ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ حکومت نے انہیں میرٹ کے مطالبے پر موت دینا شروع کی تو معاملہ بگڑنا شروع

بنگلہ دیش میں بگڑتی ھوی صورتحال کے تناظر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ۔بنگلہ دیش نے ملک گیر کرفیو کا اعلان کیا ہے جو جمعے کی آدھی رات سے نافذ العمل ہو گا، ٹیلی کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کے درمیان جس نے 170 ملین افراد کے ملک کو باقی دنیا سے منقطع کر دیا ہے، کیونکہ طلباء اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں شدت آئی ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بنگلہ دیش نے ملک گیر کرفیو کا اعلان کیا ہے جو جمعے کی آدھی رات سے نافذ العمل ہو گا، ٹیلی کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کے درمیان جس نے 170 ملین افراد کے ملک کو باقی دنیا سے منقطع کر دیا ہے، کیونکہ طلباء اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں شدت آئی ہے۔ بنگلہ دیشی دارالحکومت کی سڑکوں پر فوج تعینات تھیبنگلہ دیش میں نوکریوں کے خلاف مظاہروں میں شدت آنے سے کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے۔کوٹہ مخالف پرتشدد اور جان لیوا مظاہروں نے بنگلہ دیش کو ہلا کر رکھ دیا۔حکومت نے دارالحکومت ڈھاکہ میں عوامی ریلیوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جہاں جمعرات کو جھڑپوں کے دوران عمارتوں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ ملک میں ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ سراپا احتجاج ہیں۔ اس ہفتے جمعہ سے پہلے تشدد میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔پھر بھی، یہاں تک کہ فون اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی پر کریک ڈاؤن کے درمیان، احتجاج نے نئی شکلیں اختیار کیں – بشمول اعلیٰ سرکاری ویب سائٹس پر ہیکنگ کے حملے۔۔ ڈھاکہ میں ہزاروں طلبہ کی مسلح پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان پولیس جھڑپوں کے دوران، ایک بس ڈرائیور اور ایک طالب علم سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اطلاع دی ہے کہ اس ہفتے 39 افراد ہلاک ہوئے ہیں – 32 صرف جمعرات کو۔ مقامی میڈیا رپورٹس بتا رہی ہیں کہ جمعرات تک کم از کم 28 افراد ہلاک ہو چکے ہیںجمعہ کو، تشدد جاری رہا – انٹرنیٹ پر ایک کمبل بلاک کی آڑ میں۔ شام تک، حکومت نے اعلان کیا کہ آدھی رات سے کرفیو نافذ کر دیا جائے گا، جس سے ممکنہ مظاہرین کے کسی بھی اجتماع کو مؤثر طریقے سے غیر قانونی بنایا جائے گا۔طلباء 18 جولائی 2024 کو ڈھاکہ میں جاری کوٹہ مخالف احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں۔طلباء 18 جولائی 2024 کو ڈھاکہ میں جاری کوٹہ مخالف مظاہرے میں حصہ لے رہے ہیںحکام نے جمعرات کو بدامنی پر قابو پانے کے لیے موبائل اور انٹرنیٹ خدمات منقطع کر دیں۔ واچ ڈاگ نیٹ بلاکس کے مطابق، جنوبی ایشیائی ملک کو اب 16 گھنٹے سے زائد عرصے سے ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سامنا ہے۔

تحریک انصاف پر پابندی اور مخصوص نشستوں کے معاملے پر ایوان صدر میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی، اجلاس میں پی ٹی آئی پر پابندی کے معاملے پر گفتگو ہوئی۔

تحریک انصاف پر پابندی اور مخصوص نشستوں کے معاملے پر ایوان صدر میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی، اجلاس میں پی ٹی آئی پر پابندی کے معاملے پر گفتگو ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق مشاورتی اجلاس میں مخصوص نشستوں اور دیگر اہم معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی ہر آئینی اور قانونی فیصلے کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ مشاورتی اجلاس میں گفتگو کے دوران کہا گیا کہ تحریک انصاف کا رویہ جمہوری نہیں ہے۔ پی ٹی آئی خود کو سیاسی جماعت کہتی ہے تو رویہ بھی سیاسی جماعت جیسا اپنانا ہوگا۔ذرائع کے مطابق حکومتی اتحادیوں کے درمیان تقریباً ڈیڑھ گھنٹے ملاقات جاری رہی۔ مسلم لیگ ن کی لیگل ٹیم نے پیپلز پارٹی کو پی ٹی آئی سے متعلق فیصلوں پر اعتماد میں لیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے پی ٹی آئی پر پابندی کے حکومتی فیصلہ کے قانونی نکات سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی لیگل ٹیم نے مستقبل میں ان فیصلوں کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ پی پی نے حکومتی فیصلوں پر پارٹی میں مشاورت اور سی ای سی سے توثیق لینے کا کہا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان پی ٹی آئی سے متعلق تمام فیصلے اتفاق رائے سے کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔

رہائی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کا پہلا بیان سامنے آگیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید نے رہائی کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جان کی بازی لگا دوں گی لیکن پیچھے نہیں ہٹوں گی

رہائی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کا پہلا بیان سامنے آگیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید نے رہائی کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جان کی بازی لگا دوں گی لیکن پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ مریم نواز اور وزیراعظم شہباز شریف نے میرے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے مجھے بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا مگر مجھے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ میرے گھر والے محفوظ نہیں ہیں، چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ آج میں اکیلی نہیں ہوں پاکستان کے 25 کروڑ عوام میرے ساتھ کھڑے ہیں۔صنم جاوید نے کہا کہ مریم نواز فارم 47 کے تحت جیتی ہے، اسے چیلنج کرتی ہوں کہ وہ دوبارہ الیکشن لڑ کر دیکھ لے اگر میں ہار گئی تو سیاست سے دستبردار ہو جاؤں گی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ریحانہ ڈار جنہیں لیڈی آئرن کا خطاب دیا گیا، انہوں نے خواجہ آصف کو شکست دی اسی طرح مریم نواز کوشکست سے دوچار کروں گی۔پی ٹی آئی کی کارکن نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں سے ظلم کی چکی میں پس رہی ہوں مگر ڈرنے والی نہیں ہوں۔ میری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ جن لوگوں نے گزشتہ کہیں دہائیوں سے پاکستان میں کھربوں روپے کی کرپشن کی اور ملک کو دیوالیہ کر دیا ان کو بے نقاب کر کے چھوڑوں۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے مخصوص نشستوں پر نظرثانی اپیل کی حمایت کردی ہے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی ایوان صدر میں بڑی بیٹھک ہوئی جس میں ن لیگ کی لیگل ٹیم نے پیپلزپارٹی کو نظرثانی اپیل پر بریفنگ دی۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے مخصوص نشستوں پر نظرثانی اپیل کی حمایت کردی ہے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی ایوان صدر میں بڑی بیٹھک ہوئی جس میں ن لیگ کی لیگل ٹیم نے پیپلزپارٹی کو نظرثانی اپیل پر بریفنگ دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے مخصوص نشستوں پر نظرثانی اپیل کی حمایت کردی ہے جب کہ پی ٹی آئی پر پابندی کا معاملہ پہلے پارٹی سطح پر زیرغورلانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔پیپلزپارٹی نے موقف اختیار کیا کہ پابندی کا فیصلہ پارلیمان اور کابینہ میں زیر غور لایا جائے۔دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف اور اسپیکر ایاز صادق کی ملاقات ہوئی جس میں سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں پارلیمانی امور سمیت اہم قانون سازی پر بھی تبادلہ خیال کیا جب کہ ایوان کی کارروائی اور اپوزیشن کے کردار کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو بلائے جانے پر مشاورت کی گئی جب کہ حکومت نے عدالتی احکامات کے جواب میں سخت ردعمل دینے کا پلان بنالیا ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ حکومت نے پارلیمانی فورم کو بھرپور انداز میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حکومتی اتحاد ججز کے فیصلے کا جواب پارلیمان سے دے گا

جسٹس (ر) طارق مسعود اور جسٹس (ر) مظہرعالم میاں خیل کی سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعیناتی کی منظوری دے دی گئی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

جسٹس (ر) طارق مسعود اور جسٹس (ر) مظہرعالم میاں خیل کی سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعیناتی کی منظوری دے دی گئی۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں جسٹس (ر) طارق مسعود کی بطور ایڈہاک جج تعیناتی کی منظوری دی گئی۔

جسٹس منیب اختر نے جسٹس (ر) سردار طارق مسعود کی تعیناتی کی مخالفت کی، ان کی تعیناتی کی 8 ممبران نے منظوری دی جب کہ بطور ایڈہاک جج ایک سال تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں جسٹس (ر) مظہرعالم میاں خیل کی بھی 6 اور 3 کے تناسب سے منظوری دی گئی ہے۔

جسٹس (ر) مظہرعالم میاں خیل نے ایڈہاک جج تعیناتی سے معذرت کی تھی تاہم جوڈیشل کمیشن نے جسٹس (ر) مظہرعالم میاں خیل کی بھی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔