ملک ریاض کے 50 چہرے* تحریر۔ عامر خاکوانیایڈمن *محمد آصف* ملک ریاض کے حوالے سے کالم لکھتے ہوئے اس کا نام سوچنے لگا تو پہلے دو تین نام ایسے آئے کہ انہیں منتخب کرتے ہوئے ہچکچاہٹ ہوئی، جیسے پہلے سوچا کہ ففٹی شیڈز آف ملک ریاض رکھا جائے، پھر خیال آیا کہ اس نام سے موجود فلمیں خاصی متنازع ہیں

*ملک ریاض کے 50 چہرے* تحریر۔ عامر خاکوانیایڈمن *محمد آصف* ملک ریاض کے حوالے سے کالم لکھتے ہوئے اس کا نام سوچنے لگا تو پہلے دو تین نام ایسے آئے کہ انہیں منتخب کرتے ہوئے ہچکچاہٹ ہوئی، جیسے پہلے سوچا کہ ففٹی شیڈز آف ملک ریاض رکھا جائے، پھر خیال آیا کہ اس نام سے موجود فلمیں خاصی متنازع ہیں تو قارئین اس طرف بات کو نہ لے جائیں۔اگلی سرخی ذہن میں آئی ’دس چہروں والا انسان‘، مقصد ان کی زندگی کے مختلف پہلو اور پرت در پرت شخصیت کی طرف اشارہ کرنا تھا۔ پھر خیال آیا کہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ انڈین دیومالائی داستانوں کے ولن راون کی طرف اشارہ ہے۔یہ بھی طے کیا کہ 9 زندگیوں والا ملک ریاض ( Nine Lives of Malik) ہی رکھا جائے۔ بنیادی طور پر یہ قدیمی انگلش محاورہ بلیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ نائن لائیوز آف کیٹ۔ اسپین میں نائن یعنی 9 کے بجائے سات کا عدد استعمال ہوتا ہے۔ مِتھ یہ ہے کہ بلی موت اور خطرے کو دھوکا دے دیتی ہے، اپنے وجدان، تیز ریفلیکسز اور غیر معمولی قوت فیصلہ کی بنا پر۔ جس کسی نے گھر میں بلیاں پالی ہوں، انہیں اس کا اندازہ ہوگا۔تو کیا یہ تصور کیا جائے کہ ملک ریاض ایک بار پھر اپنی بری قسمت کو جل دے جائیں گے، وہ بیچ سمندر جس منجدھار میں پھنسے ہیں، کیا اس سے ایک بار پھر نکل پائیں گے؟ آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں، میں نے تو اپنے کالم کی سرخی یہ رکھ کر ایک طرح سے اپنی سوچ بتا دی ہے۔ملک ریاض کی زندگی ڈرامائی نشیب و فراز سے معمور ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک سیلف میڈ ہیں یعنی زیرو سے اربوں کھربوں بنانے والے۔ یہ سب کس طرح بنائے گئے، یہ بھی کھلا راز ہے، ہر کوئی جانتا ہے۔ کالم لکھنے سے پہلے ریسرچ کرتے ہوئے کئی لوگوں سے بات کی، جن میں لاہور اور اسلام آباد کے بعض پراپرٹی ڈیلرز بھی شامل تھے۔ ایسے بھی جو ملک صاحب کے مداح ہیں اور ان کے طور طریقوں کو کاپی کرنا چاہتے ہیں۔ ہر ایک کی زبان پر ملک ریاض کے حوالے سے وہ داستانیں اور ان کہی کہانیاں ہیں جنہیں ہم شائع نہیں کرسکتے کہ ایسے الفاظ چاہے سچے ہی کیوں نہ ہوں، انہیں قانونی طور پر ثابت کرنا دشوار ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے، ایک ٹھیکے دار گھر میں جنم ہوا، مگر مالی حالات اتنے ابتر تھے کہ جونیئر کلرک کی نوکری کرنا پڑی۔ ان کی زندگی کا یہ دور بڑا کٹھن تھا۔ گزر بسر مشکل ہوگئی تھی۔ ملک ریاض خود اپنے انٹرویوز میں کئی واقعات سناتے ہیں، جیسے بیٹی کے علاج کے لیے گھریلو برتن بیچنے پڑے۔ اضافی پیسوں کے لیے دیواروں پر قلعی یعنی چونے سے سفیدی کرنا، سڑک پر تارکول (سرائیکی میں ہم اسے لُک کہتے ہیں) بچھانا وغیرہ۔کالم نگار مظہر برلاس نے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے کالم میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ہاشمی نامی ایک شخص کا ملک ریاض کی زندگی میں بڑا اہم کردار ہے، وہ ان کے گھر ان برے دنوں میں راشن ڈلواتے رہے۔ مظہر برلاس کے مطابق بہت بعد میں جب ہاشمی صاحب کا انتقال ہوگیا تو ایک دن ایک شخص لمبی سی شاندار گاڑی میں ہاشمی کے گھر آیا اور کہاکہ والدہ محترمہ سے کہیں ماموں ریاض آیا ہے۔ آنے والا شخص ملک ریاض تھا جو اس دوران بے حد کامیاب بزنس مین اور کروڑوں اربوں میں کھیل رہے تھا۔اس واقعے کے راوی کےمطابق ملک ریاض نے اپنے محسن کی فیملی کو بحریہ ٹاؤن میں دس مرلے کا ایک شاندار گھر تحفے کے طور پر دیا۔ ہاشمی صاحب کے بیٹوں کے اکاؤنٹس میں بڑی رقم ڈلوا دی اور انہیں بحریہ ٹاؤن ہی میں بڑے مشاہرے پر ملازمت دلوا دی۔ یہ کہانی بظاہر فلمی اور ڈرامائی محسوس ہوتی ہے، مگر بہرحال کئی لوگ ایسی کہانیاں سناتے ہیں اور یہ ملک ریاض کا ایک شیڈ یا چہرہ ہے۔ مہربان، احسان شناس۔ واللہ اعلم بالصواب۔ان کا ایک ایسا ہی ایک چہرہ یا زندگی کا شیڈ غریبوں کی مدد کے منصوبے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن دسترخوان جس کے تحت مبینہ طور پر دو لاکھ لوگوں کو روزانہ کھانا کھلایا جاتا ہے، بحریہ اسپتال میں بہت سے مستحق افراد کا مفت علاج، صومالی قذاقوں کی قید میں جانے والے پاکستانیوں کی مدد اور اس طرح کے بہت سے دیگر کام۔ملک ریاض کی کہانی مگر صرف یہی نہیں ہے، اس میں بہت سے ناخوشگوار اور سیاہ ابواب بھی ہیں۔ ایسی کہانیوں کی کمی نہیں جو ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے استحصال، دھوکہ دہی اور سنگدلانہ اپروچ کی تفصیل سناتے ہیں۔ ملک صاحب کے ناقدین ان کے مفت دستر خوان وغیرہ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ لوٹ مار کرکے ایک چھوٹا حصہ چیئریٹی کرنے سے وہ رقم حلال نہیں ہوجاتی۔لاہور ایئرپورٹ کے ایک سابق مینیجر نے گزشتہ دنوں اپنی کہانی سنائی، ان کی مرحومہ بیوی نے بحریہ ٹاؤن لاہور میں ایک پلاٹ لیا اور انتظامیہ سے کہاکہ مجھے تمام ڈیوز بتا دیں، میں سب اکٹھے پیشگی ادا کر دیتی ہوں۔ انہوں نے بتائے گئے پانچ برسوں کے تمام واجبات یکمشت دے دیے۔ اس کے باوجود جب دو ڈھائی برس بعد ان کے خاوند پلاٹ بیچنے کی نیت سے پتا کرنے گئے تو معلوم ہوا کہ چند ہزار کے کسی نامعلوم سے واجبات کا بہانہ کرکے ان کا پلاٹ کینسل کردیا گیا۔ انہوں نے خاصا شور مچایا تو بحریہ ٹاؤن آرچرڈ میں انہیں کسی کونے کھدرے میں پلاٹ دے دیا گیا۔ انہوں نے احتجاج کیاکہ مین بحریہ والا پلاٹ تو ایک کروڑ کے لگ بھگ ہوگا جبکہ یہ پلاٹ تو بیس پچیس لاکھ سے زیادہ نہیں۔ انہیں جواب ملا کہ پلاٹ مل گیا ہے تو غنیمت سمجھیں۔اس طرح کی کہانیاں بے شمار لوگ سناتے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کی تو شنوائی بھی نہیں ہوئی۔ خود میرا ایک دوست جو امریکی شہر شکاگو میں مقیم ہے، اس کے اپنے پلاٹ کے ساتھ ایسا ہوا۔ اس کا اصل پلاٹ کینسل کرکے شور مچانے پر کسی دور افتادہ کونے کھدرے میں پلاٹ مل گیا، اس کی اصل قیمت سے کئی گنا کم مالیت والا۔ملک ریاض کا ایک چہرہ اس کی حیران کن کامیابی ہے۔ ایک عجیب وغریب داستان۔ ایک جونیئر کلرک کس طرح ملک کے امیر ترین آدمیوں میں سے ایک بنا۔ معمولی ٹھیکے داری سے پراپرٹی ٹائیکون بنا۔ اتنا طاقتور کہ ملک کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس اس کا نام تک نہیں لے سکتا۔ کسی بھی اخبار میں اس کے خلاف خبر نہیں لگتی، کسی چینل پر خبر نہیں چلتی۔ایک طویل عرصے تک صرف ڈان اخبار ہی میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کوئی جائز، قانونی، واقعتاً درست خبر بمشکل لگ سکتی تھی، اس کے علاوہ کوئی اور اخبار اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ ملک ریاض کی اس بے پناہ طاقت کے پیچھے بحریہ ٹاؤن کی اشتہاری دولت بھی تھی، مگر اس سے زیادہ ان کے سول اور غیر سول حلقوں میں موجود بے پناہ تعلقات اور اثرورسوخ کارفرما تھا۔یہ بھی ایک الگ کہانی ہے کہ کس طرح ایک پرائیویٹ سوسائٹی کے نام کے ساتھ بحریہ کا لفظ نتھی ہوا۔ نیوی والے اس کے ساتھ نہیں ہیں مگر اپنا نام وہ واپس نہیں لے سکے۔ ملک ریاض کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کے ادارے میں بڑے بڑے سول اور ملٹری ریٹائرڈ افسروں کو ملازمت دی جاتی رہی۔ مشہور شاعر ضمیر جعفری کے صاحبزادے احتشام ضمیر (مرحوم) جو اہم حساس ادارے میں اہم ذمہ داریوں سے ریٹائر ہوئے، وہ بھی بحریہ ٹاؤن کے ملازم رہے۔ ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے۔ کہاجاتا ہے کہ کئی ریٹائرڈ ججز اور بیوروکریٹس بھی شامل ہیں۔میڈیا کے بھی بہت سے جغادری نام ملک ریاض کے زیراثر سمجھے جاتے ہیں۔ ایک زمانے میں ان کے نام سے روزنامہ جناح میں کالم بھی چھپا کرتا تھا جو مبینہ طور پر ملک کے ایک نامور کالم نگار، اینکر لکھا کرتے تھے، وہی جن کی شہرت کہانی کے انداز میں ڈرامائی کالم لکھنا ہے۔ ایک بار کسی کتابوں کی دکان پر ملک ریاض کے ان کالموں کا مجموعہ بھی دیکھا۔ معلوم نہیں ملک ریاض کس دل اور منہ سے اسے اپنی کتاب کہتے ہوں گے؟ روزنامہ جناح کے مالک ملک ریاض کے انتہائی قریبی عزیز تھے، یہ اخبار مگر بحریہ ٹاؤن کی دولت کے باوجود ناکام ہوا اور پھر یہ کسی اور کو دے دیا گیا۔ملک ریاض کی بحریہ ٹاؤن کی شہرت نوے کے عشرے میں ہوئی۔ اس زمانے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے اہم رہنماؤں، حتیٰ کہ قیادت سے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ لاہور کے صحافتی حلقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ ملک ریاض کی تجوری سے ملک کے بیشتر سیاستدان اور سیاسی جماعتیں مستفید ہوئیں۔بحریہ ٹاؤن لاہور میں عظیم الشان بلاول ہاؤس کے بارے میں بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ ملک صاحب کا زرداری صاحب کو تحفہ ہے۔ پی پی والے ظاہر ہے اس کی تردید کرتے ہیں۔ اسی طرح کی باتیں ن لیگ کے اعلیٰ سطح کے رہنماؤں کے بارے میں بھی کہی جاتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک ریاض کے تعلقات تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بھی رہے۔ عثمان بزدار جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو ملک ریاض کا طوطی بولتا تھا۔ رنگ روڈ کو بحریہ ٹاؤن کے کچھ حصے سے گزر کر جانا تھا، اس میں غیرمعمولی التوا ہوتا رہا، وجہ بحریہ ٹاؤن کو فائدہ پہنچانا تھا۔ وزیراعظم عمران خان لاہور آئے، انہوں نے صحافیوں کے سامنے کمشنر لاہور کو حکم جاری کردیا کہ اسے مکمل کیا جائے۔ وہ روڈ تب بھی مکمل نہ ہوئی اور ادھوری رہی۔تحریک انصاف کے حلقوں میں مقبول اینکر، یوٹیوبر عمران ریاض خان نے اس پر ایک پورا پروگرام عثمان بزدار کے خلاف داغ دیا، مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ ن لیگ کے حامی بعض سینیئر اخبارنویسوں کا کہنا ہے کہ دراصل عمران خان نے انتظامیہ کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا بلکہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر لاہور کا تبادلہ بھی کرا دیا تھا۔ واللہ اعلم۔190 ملین پاؤنڈ کے کیس کا فیصلہ تو ابھی آیا ہے جس میں یہ کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک ریاض کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا تھا اور اسے فائدہ پہنچانے کے بدلے سوہاوہ میں ملک ریاض سے اراضی لی تھی۔ تحریک انصاف البتہ اس کی تردید کرتی ہے اور ایک بالکل ہی مختلف بیانیہ پیش کرتی ہے۔ تحریک انصاف کی بات ممکن ہے درست ہو، مگر بہرحال عمران خان کو ملک ریاض جیسے کردار کے ساتھ یہ معاملات کرنے ہی نہیں چاہیے تھے۔ویسے ایک دلچسپ بات لاہور کے ایک سینیئر ایڈیٹر نے بتائی، ان کے بقول چار پانچ سال قبل سوہاوہ کا ایک ریٹائر فوجی ان کے پاس دفتر آیا، اس کے پاس دستاویزات تھیں اور اس کا الزام تھا کہ ملک ریاض نے اس کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے اور یہی زمینیں اب القادر یونیورسٹی کو عطیہ دے رہے ہیں۔ لاہور بیٹھے صحافی کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ایسے ہائی پروفائل کیس میں پنگا لے اور سوہاوہ کی زمینوں کے مسئلے کی سچائی جانے۔ اس طرح کے الزامات در الزامات ملک ریاض پر ہیں۔ انہوں نے کبھی ان کی وضاحت کی زحمت نہیں فرمائی اور ایک طرح سے انہیں اگنور کرتے رہے۔ایک وجہ وہی 9 زندگیوں والی صلاحیت ہے۔ ملک ریاض ہر قسم کے بحران اور مشکل سے بچ کر نکلتے رہے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری ان کے درپے ہوگئے تھے، ملک ریاض اس قدر زچ آئے کہ ایک روز انہوں نے افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان کے خلاف پریس کانفرنس کر ڈالی کہ اس نے ان سے کروڑوں کے تحائف لیے ہیں۔ یہ خبر بم شیل ثابت ہوئی۔ انہی دنوں لاہور کے ایک ٹی وی چینل سے ان کا انٹرویو نشر ہوا، مگر انٹرویو کے چند گھنٹوں کے بعد آف اسکرین ویڈیو بھی سامنے آگئی جس سے لگا کہ یہ سب مینجڈ اور پلانٹڈ انٹرویو تھا۔ اس سے بھی بہت شور مچا، کچھ عرصے کے لیے اس انٹرویو کے اینکرز کی ساکھ بھی متاثر ہوئی، پھر ہر کوئی بھول بھال گیا۔افتخار چوہدری والا معاملہ یوں لگ رہا تھا کہ ملک ریاض کے گلے پڑ گیا ہے، پھر اچانک ہی سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ نجانے کیوں، نجانے کیسے؟ صحافی لوگ کم بخت ہر معاملے میں کچھ نہ کچھ کریدتے رہتے ہیں اور بے شک اخبار، ٹی وی پر نہ کہہ سکیں، نجی محفلوں میں ان کی گستاخانہ زبان بہت کچھ اگلتی رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی افتخار چوہدری اور ملک ریاض کی ایک مبینہ ملاقات کی بھی ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتنا سچ، کتنا جھوٹ ہے۔ یہ بہرحال امر واقعہ ہے کہ ملک ریاض یہاں سے بچ نکلے۔سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ چند دنوں کے چیف جسٹس بنے تھے، ملک ریاض کو خطرہ تھا کہ کہیں ان کے خلاف وہ فیصلہ نہ کر دیں۔ وہ تمام دن ملک صاحب ملک سے باہر رہے اور ان کے پینل پر موجود ملک کے چوٹی کے وکلا صاحبان چیف جسٹس جواد خواجہ سے کیس میں مہلت لیتے رہے، یوں یہ مشکل بھی ٹل گئی۔مسلم لیگ ن کے تیسرے دور حکومت میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی ملک صاحب کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ تب انہوں نے کراچی، سندھ میں پناہ لیے رکھی، جہاں ان کے دیرینہ مہربان آصف زرداری کا راج چلتا تھا، یہ وقت بھی گزر ہی گیا۔جنرل راحیل شریف جب آرمی چیف تھے، تب یہ افواہ اڑی تھی کہ اسٹیبلشمنٹ نے ملک ریاض کا مکو ٹھپنے کا ارادہ کرلیا ہے، مگر تب ہی بحریہ ٹاؤن کراچی لانچ ہوئی اور دروغ برگردن راوی ایک سو ارب سے زیادہ اس میں انویسٹ ہوگئے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ داران نے سوچا کہ اگر ملک کو دبوچا گیا تو ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچے گا، یوں ملک صاحب گیلے ہاتھ میں دبے صابن کی ٹکی کی طرح پھسل کر نکل گئے۔ملک ریاض کے لیے سب سے مشکل وقت ایک متنازع چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں آیا جب سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی جانب سے کوڑیوں کے مول بحریہ ٹاؤن کراچی کو دی گئی زمین کے معاملے کی تحقیق کی۔ اس بینچ کے جج صاحبان پر ن لیگی معترض رہے ہیں، مگر یہ واحد موقع ہے جب ملک ریاض کی گردن بری طرح پھنس گئی، وہ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے، مینجمنٹ کرنے میں ناکام رہے، سپریم کورٹ نے 421 ارب کا جرمانہ عائد کیا اور یہ رقم ماہانہ قسطوں میں دینے کا حکم جاری کیا۔ چند ایک اقساط کی ادائیگی ہوئی، پھر اس فیصلے پر بھی عملدرآمد نہ ہوا، مگر بہرحال یہ ملک صاحب کے گلے کا سخت نوکیلا کانٹا ہی ثابت ہوا۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس بھی دراصل اسی فیصلے سے جڑا ہے۔ملک ریاض کی زندگی کا ایک سب سے مشکل اور اب تک شائد سب سے سنگین فیز آج کل چل رہا ہے۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ان کے بارے میں خبریں آئیں کہ وہ وعدہ معاف گواہ بنیں گے۔ ملک ریاض نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد ہی ان پر مشکلات کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اگلے روز اپنی ویڈیو میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ضبط کیے ہوئے ہیں لیکن اگر ان کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو پچھلے پچیس تیس برسوں کا سب کچا چٹھا ثبوتوں کے ساتھ سامنے آ جائےگا۔خیر یہ تو جب سامنے آئےگا، تب ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ یہ البتہ حقیقت ہے کہ ملک ریاض مشکل میں ہیں۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں وہ پیش نہیں ہوئے، ملک سے باہر رہے۔ انہیں اشتہاری قرار دے کر ان کی ملکیتی اراضی نیلام کرنے کا حکم جاری ہوچکا۔ملک ریاض نے دبئی میں ایک بڑا پراپرٹی پراجیکٹ شروع کیا ہے، دو روز قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے اس حوالے سے پاکستانیوں کو خبردار کیا ہے کہ جس نے اس میں سرمایہ کاری کی، اسے منی لانڈرنگ سمجھا جائےگا۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک ریاض کی جان جلدی نہیں چھوٹ پائے گی اور شائد انہیں اگلے چند برس ملک سے باہر رہنا پڑےگا۔ملک ریاض کی یہ کہانی دلچسپ ہے اور ڈرامائی بھی۔ اس کے بہت سے حصے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں، معلوم نہیں کبھی وہ گمشدہ ٹکڑے سامنے آ بھی پائیں گے یا نہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ ملک صاحب کا اختتام کیا ہوگا؟ قدرت کی لافانی قوت ہی یہ جانتی ہے۔ ہم تو صرف اندازے ہی لگا سکتے ہیں، خام اندازے۔

کرکٹ کا جنازہ زرا دھوم سے۔ ویسٹ انڈیز نے 34 سال بعد پاکستان میں ٹیسٹ میچ جیت لیا۔ملتان کی انڈسٹریل اسٹیٹ میں پیر کو گیس سپلائی کرنے والے ٹینکر میں دھماکہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق دھماکے میں 10افراد ہلاک جب کہ 60 سے زائد زخمی۔۔کل کے مذاکرات کے سیشن میں ہم شرکت نہیں کریں گے۔ عمر ایوب خان۔۔حسینہ واجد کے قریبی تاجروں کے اکاؤنٹس سے 17 ارب ڈالرز غائب،۔۔ویسٹ انڈیز سے ہارنے کے بعد پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر تاریخ کی بدترین مثال۔۔ملتان دھماکے سے لرزاٹھا ،20 مکان مکمل تباہ، ہلاکتیں، 35 زخمی،43 کی حالت تشویشناک،۔۔*آئی پی پیز کے معاملے پر جماعت اسلامی کا 29 جنوری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان۔ح۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایک دور تھا جب دہلی میں کیا کچھ ہورہا ہے، اس حوالے سے سب سے باخبر دہلی میں برطانوی سفارت خانہ ہوا کرتا تھا۔ پھر اس کی جگہ سوویت نے لے لی اور اب سب سے باخبر امریکی سفارت خانہ ہے جو اس کام میں بہترین ہے۔بھارت تمام اہم ممالک سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے محتاط انداز میں اپنے اصولوں پر سمجھوتا کیے بغیر اور سفارتی اقدار کے مطابق تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے

ایک دور تھا جب دہلی میں کیا کچھ ہورہا ہے، اس حوالے سے سب سے باخبر دہلی میں برطانوی سفارت خانہ ہوا کرتا تھا۔ پھر اس کی جگہ سوویت نے لے لی اور اب سب سے باخبر امریکی سفارت خانہ ہے جو اس کام میں بہترین ہے۔بھارت تمام اہم ممالک سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے محتاط انداز میں اپنے اصولوں پر سمجھوتا کیے بغیر اور سفارتی اقدار کے مطابق تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے مشکل رہے ہیں لیکن بھارت نے انہیں سنبھالنے میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام خبریں شرمناک ہیں کہ بھارتی وزیراعظم ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔صرف امید ہی کی جاسکتی ہے کہ دعوت نامے کے حصول کی بھارتی درخواست محض کہانی ہی ہو کیونکہ اس درخواست کا رد کیا جانا جواہرلال نہرو کے بھارت کی سفارتی تعظیم کے لیے اچھا نہیں۔ یہ حقیقت کہ نریندر مودی کی جگہ بھارتی وزیرخارجہ نے تقریب حلف برداری میں شرکت کی، اسے سفارتی کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے۔عالمی تسلط کے حامی اور انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے ہر طرح کے رہنماؤں نے اس تقریب میں شرکت کی جوکہ بہت سے امیر اور غریب ممالک کے لیے تقریب میں شرکت نہیں کرنے کا ایک بہترین بہانہ تھا اور بہت سے ممالک نے یہی بہانہ کرکے شرکت نہیں کی۔میڈیا نے مکیش امبانی کو بھی بھرپور کوریج دی جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے بذات خود مدعو کیا۔ اب اس ملاقات کے حوالے سے ہمیں امریکا کے سرکاری مؤقف کا انتظار کرنا چاہیے۔دونوں کی پہلے بھی ملاقات ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ مکیش امبانی نے بھارت کی ایک بین الاقوامی تقریب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کی بھی میزبانی کی تھی۔ اگر مجھے ٹھیک یاد ہو تو مکیش امبانی اور ان کے بھائی انیل امبانی کو بل کلنٹن اور جارج بش کی تقریب حلف برداری میں بھی مدعو کیا گیا تھا۔ دوسری جانب ہیلری کلنٹن نے امبانی کی شادی میں بھنگڑا بھی کیا تھا۔امریکی سیاستدان پیسے کے حصول کی کوششوں میں رہتے ہیں اور اپنے حلف لینے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ مختلف مواقع پر اربوں ڈالرز جمع بھی کرچکے ہیں۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مشکل معاشی حالات میں، ٹرمپ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کے لیے بھارت کتنی دولت خرچ کرسکتا ہے۔یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ مودی کے قریبی سمجھے جانے والے دو بزنس ٹائیکونز امریکا کے ساتھ کتنے مختلف تعلقات میں ہیں۔ مکیش امبانی اور گوتم اڈانی وہ دو شخصیات تھیں جنہوں نے من موہن سنگھ کے بعد نریندر مودی کو انتخابات میں کامیابی دلوانے کی بھرپور کوشش کی اور وہ اس مقصد میں کامیاب رہے۔دونوں نریندر مودی کے قریبی دوست سمجھے جاتے تھے لیکن پھر گوتم اڈانی کے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات خراب ہوگئے اور اب کرپشن اسکینڈل میں گرفتاری کے خوف سے وہ بھارت نہیں آرہے۔ مکیش امبانی روسی کرنسی ریوبل کی ادائیگی کرکے روسی تیل خرید رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری تقریبِ حلف برداری میں مدعو کیا گیا۔جب ہم اسکول میں تھے تو امریکی صدر جان ایف کینیڈی لوگوں کو اتنے ہی عزیز تھے جتنی کہ برطانوی ملکہ۔ لیکن پھر سوویت یونین نے یوری گاگرین کو خلا میں بھیج دیا جس نے دنیا کو اپنے سحر میں جکڑا اور یوں سوویت کو بھی لوگ پسند کرنے لگے۔ اس وقت کے سوویت وزیراعظم نکیتا کروسچیف کے ساتھ محتاط تعلقات استوار کرکے عالمی تباہی سے بچنے میں جان کینیڈی کی تعریف کی گئی۔کینیڈی کے مطابق عالمی امن کے لیے اپنے حریف کی تذلیل نہیں کی جانی چاہیے لیکن آج بین الاقوامی تعلقات میں یہ اہم عنصر موجود نہیں۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن کی جانب سے ’شیطانی روسی سلطنت‘ اور جو بائیڈن کا ولادیمیر پیوٹن کو مختلف ناموں سے بلانا، بلاشبہ جان کینیڈی کو گراں گزرتا۔یہی وجہ تھی کہ جب جان ایف کینیڈی کو قتل کیا گیا تو بھارتی ان کی موت پر خوب روئے۔ اس وقت بھارت، دولت یا فوجی طاقت کی بنیاد پر دوستوں کا انتخاب کرنے کے بجائے نئی اور غریب جمہوریتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر زیادہ توجہ دے رہا تھا۔مجھے اپنی زندگی میں ایک ہی امریکی صدر کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ ہوا اور وہ تھے جمی کارٹر۔ 1978ء میں ان کا ایئر فورس ون جہاز ہمارے سروں کے اوپر سے گزرا جب ہم جواہرلال نہرو یونیورسٹی کی ایک کھلی فضا میں چائے کی دکان جسے کمال کمپلیکس کہتے تھے، میں موجود تھے۔بھارتی حکومت بالخصوص اس کی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سے دہلی کی بائیں بازو کی طلبہ تحریک سے خوفزدہ تھی۔ امریکا کی حمایت یافتہ مورارجی دیسائی کی قلیل مدتی حکومت بھی اسی طرح کا خوف پایا جاتا تھا۔ آزادی کے بعد سے کانگریس کے طویل مدت اقتدار کو توڑنے کے لیے مورارجی دیسائی کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے جمی کارٹر کی سیکرٹ سروس کی درخواست پر جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے ہاسٹلز کے ٹیرس میں بندوق بردار نشانے باز کھڑے کیے تھے۔حکومت یہ بھول چکی تھی کہ بھارتی دائیں بازو بشمول جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے ماسکو کی حمایت یافتہ اندرا گاندھی کی پارٹی کے بجائے پرو مغرب جناتا پارٹی کی انتخابی مہم کی حمایت کی تھی۔ خیر جب جہاز اپنی گرج کے ساتھ ایئرپورٹ جانے کے لیے یونیورسٹی کیمپس سے گزر چکا تو ایک ناراض طالب علم نے پتھر اٹھایا اور اسے جتنا ہوا میں پھینک سکتا تھا، اس نے پھینکا۔اس حرکت پر طلبہ میں یہ مزاحیہ بحث چھڑ گئی کہ آیا اس کا پتھر جمی کارٹر کے جہاز سے ٹکرایا ہوگا یا نہیں۔ بحث کا اختتام کچھ یوں ہوا کہ عموماً کووں کو بھگانے کے لیے جو بڑی غلیل استعمال کی جاتی ہیں، جہاز کو پتھر مارنے کے لیے وہی موزوں ہوتی ہے۔پھر جمی کارٹر کے بعد جو مہمان آئے، انہیں تو زیادہ حفاظت کی ضرورت تھی۔ تہران سے فرار کے بعد شاہ ایران کے پاس پناہ کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی جبکہ ان کی حالت شیخ حسینہ واجد کی طرح خراب تھی جنہیں بنگلہ دیش کی سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کے آگے ہتھیار ڈال کر اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔جمی کارٹر نے مورارجی دیسائی کو مشورہ دیا کہ وہ شاہ ایران کا اچھے سے استقبال کریں۔ شاہ ایران بھارت آئے۔ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے کچھ مظاہرین کو کرن بیدی کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو اس وقت ٹریفک پولیس کا چارج سنبھال رہی تھیں۔ طلبہ کو تہاڑ جیل بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے اسٹریٹ ڈرامے کرتے ہوئے دن گزارے۔ایک دن شاہ ایران نے مغل دور کے شاہ کار لال قلعے کا دورہ کیا جہاں سے گزشتہ فارسی حکمران نے مشہور مور کا تخت لے لیا تھا۔ یہ مغل یادگار پر ان کا آخری دورہ تھا۔ معزول شاہ ایران کی موت جلا وطنی میں ہوئی جہاں ان کے تمام دوستوں بشمول بھارت، سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔جمی کارٹر کو رونالڈ ریگن سے انتخابات میں شکست ہوئی۔ اپنی ہی جماعت نے مورارجی دیسائی کو برطرف کیا اور اندرا گاندھی کی اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کی۔ اس کے علاوہ سوویت یونین جنہوں نے بھارت میں ہنگامہ آرائی سے خوب فائدہ اٹھایا تھا لیکن افغانستان اور ایران میں اتنی کامیاب نہیں ہوپائی کیونکہ سی آئی اے کی مدد سے ملاؤں نے سوویت نواز تودہ پارٹی کا پتہ صاف کردیا۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھارت نے مغرب کی حمایت اور خوشنودی کے لیے غیر وابستہ ممالک کی تحریک اور سارک پر سمجھوتا کرلیا۔ جب جارج بش کی دنیا بھر میں ساکھ بدنام تھی اور ان کے اپنے ملک میں بھی عراق جنگ کے باعث انہیں تنقید کا نشنہ بنایا جارہا تھا، تب 2006ء میں کانگریس کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے ان کا خیرمقدم کیا اور مہمان سے کہا کہ ’ہم بھارتی آپ سے محبت کرتے ہیں‘۔ اس پر کمیونسٹ رہنما نے طنزیہ جملہ کسا جوکہ ایک یادگاری لمحہ بن گیا تھا، انہوں نے من موہن سنگھ سے کہا، ’آپ صرف اپنے لیے بولیں‘۔سفارتی سطح پر چاپلوسی سے بھارت کو فائدہ پہنچا نہ اس سے نریندر مودی کو کوئی مدد ملی۔

این ایچ اے (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) کی جانب سے سہ ماہی بنیادوں پر ٹول کی شرح میں 100 فیصد اضافہ کرنے کی اطلاعات نے عوام میں خاصی تشویش پیدا کی ہے

— این ایچ اے (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) کی جانب سے سہ ماہی بنیادوں پر ٹول کی شرح میں 100 فیصد اضافہ کرنے کی اطلاعات نے عوام میں خاصی تشویش پیدا کی ہے، اور بجا طور پر۔ اس فیصلے نے ایسے پالیسی اقدامات کے وقت، شفافیت اور مواصلات سے متعلق اہم مسائل کو سامنے لایا ہے۔ اگرچہ ایڈجسٹمنٹ آپریشنل اور مالی ضروریات کے مطابق ہو سکتی ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کا طریقہ مثالی نہیں ہے۔این ایچ اے نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو ٹول کی شرح میں اضافے کی ضرورت کے اہم عوامل کے طور پر بتایا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، خاص طور پر موٹر ویز کو معیار اور حفاظت کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل فنڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، اس طرح کی ایڈجسٹمنٹ کو اس طریقے سے لاگو کرنے کی ضرورت ہے جس سے رکاوٹوں اور عوامی ردعمل کو کم سے کم کیا جائے۔ اس اضافے کی اچانک نوعیت، جس نے مبینہ طور پر نرخوں کو دوگنا دیکھا، نے ان راستوں پر انحصار کرنے والے مسافروں اور کاروباروں پر غیر ضروری دباؤ پیدا کر دیا ہے۔ٹول کی آمدنی سڑک کے بنیادی ڈھانچے کی مالی اعانت اور اس کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود، ان نرخوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ایک واضح اور بتدریج طریقہ کار کی عدم موجودگی نے ان سڑکوں کو روزانہ استعمال کرنے والوں پر اثرات کو بڑھا دیا ہے۔ لاجسٹک کمپنیاں، ٹرانسپورٹ آپریٹرز، اور انفرادی مسافروں کو اب نمایاں طور پر زیادہ اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے مختلف شعبوں میں متوقع اثرات کی توقع ہے۔ یہ مسئلہ ٹول ریٹ کے نظم و نسق کے لیے ایک منظم انداز کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جہاں بتدریج اور معاشی حالات کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کی جاتی ہے۔فیصلے کے حوالے سے مناسب رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے عوامی مایوسی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس شدت کی پالیسی تبدیلیاں شفافیت اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشغولیت کا مطالبہ کرتی ہیں۔ شہری نہ صرف یہ جاننے کے مستحق ہیں کہ یہ اقدامات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں بلکہ یہ بھی کہ اضافی آمدنی کا استعمال کیسے کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک فعال نقطہ نظر زیادہ تر ردعمل کو کم کر سکتا تھا اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کو فروغ دے سکتا تھا۔ٹول کی شرح میں اضافہ گورننس اور فیصلہ سازی کے عمل کے بارے میں بھی وسیع تر خدشات کو جنم دیتا ہے۔ یہ مسائل کو فعال طور پر حل کرنے کے بجائے رد عمل سے نمٹنے کے انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح کے چیلنجز دیگر شعبوں میں دیکھے گئے ہیں جیسے ایندھن کی قیمتوں کا تعین اور یوٹیلیٹی ٹیرف، جہاں فیصلہ سازی میں تاخیر اچانک اور زبردست اضافے کا باعث بنتی ہے۔ یہ رد عمل اکثر عوامی عدم اطمینان کو بڑھاتا ہے اور اداروں پر اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے، ٹول ریٹ ایڈجسٹمنٹ کی منصوبہ بندی کی جانی چاہئے اور مرحلہ وار طریقے سے اس پر عمل کیا جانا چاہئے۔ چھوٹے، وقتاً فوقتاً اضافہ صارفین کو موافقت اور اچانک اضافے کے جھٹکے کو کم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ دوسرا، ٹول ریونیو کی تقسیم میں شفافیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ فنڈز کیسے خرچ کیے جاتے ہیں اس بارے میں تفصیلی رپورٹس شائع کرنا — چاہے دیکھ بھال، توسیع، یا حفاظتی بہتری پر — احتساب اور عوامی اعتماد میں اضافہ کرے گا۔تیسرا، سڑک استعمال کرنے والوں پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت کو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی فنڈنگ کے متبادل طریقوں پر غور کرنا چاہیے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ٹارگٹڈ ٹیکس، یا یہاں تک کہ ضروری راستوں کے لیے سبسڈیز آمدنی کے سلسلے کو متنوع بنا سکتی ہیں اور لاگت کی زیادہ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنا سکتی ہیں۔ ان اختیارات کو تلاش کرنے سے نہ صرف اکثر موٹر وے استعمال کرنے والوں پر دباؤ کم ہوگا بلکہ انفراسٹرکچر فنانسنگ کے لیے ایک زیادہ پائیدار ماڈل بھی تیار ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹول ریٹ میں اضافہ مالی اور آپریشنل ضروریات کو پورا کر سکتا ہے، لیکن اس کا نفاذ پالیسی پر عمل درآمد میں نمایاں خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ غیر ضروری عوامی عدم اطمینان سے بچنے کے لیے بروقت، شفاف، اور اچھی طرح سے ابلاغی ایڈجسٹمنٹ ضروری ہیں۔ مزید منظم اور جامع انداز اپناتے ہوئے، حکومت اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ اس طرح کے اقدامات ان شہریوں کو الگ کیے بغیر اپنے مطلوبہ اہداف کو حاصل کر سکتے ہیں جن کا مقصد ان کی خدمت کرنا ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کو اقتدار میں آ چکے ہیں، اور بے رحم رفتار اور کارکردگی کے ساتھ واشنگٹن پر اپنی مرضی مسلط کر چکے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے انتہائی بنیاد پرست مہم کے وعدے بھی محض دھڑلے سے دور تھے

ڈونالڈ ٹرمپ کو اقتدار میں آ چکے ہیں، اور بے رحم رفتار اور کارکردگی کے ساتھ واشنگٹن پر اپنی مرضی مسلط کر چکے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے انتہائی بنیاد پرست مہم کے وعدے بھی محض دھڑلے سے دور تھے۔ریپبلکن صدر نے ایک وفاقی بیوروکریسی کو دوبارہ بنانے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے جس کے بارے میں ان کے خیال میں ان کے 2017-2021 کے دور صدارت کے دوران ان سے دشمنی تھی، ایجنسیوں کے ایک گروپ کے خلاف بیک وقت سینکڑوں سرکاری ملازمین کو دوبارہ تفویض یا برطرف کیا۔اس نے فوج کو جنوبی سرحد تک پہنچایا، امریکی کوسٹ گارڈ کے سربراہ کو برطرف کیا اور کئی دہائیوں کے آئینی قانون کو چیلنج کیا جس میں وسیع پیمانے پر ایگزیکٹو آرڈرز کی ایک سیریز ہے – ان میں سے 26 عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹوں کے اندر جاری کیے گئے – جو ماحولیاتی ضوابط سے لے کر ہر چیز کا احاطہ کرتا ہے۔ امریکی شہریت کے قوانین کے مطابق۔شاید سب سے زیادہ بہادرانہ اقدام میں، اس نے تقریباً 1,500 حامیوں کو معاف کر دیا جنہوں نے 6 جنوری 2021 کو امریکی جمہوریت کی عالمی علامت امریکی کیپیٹل پر حملے میں حصہ لیا تھا۔ٹرمپ کے اتحادیوں نے اس کے صدمے اور خوف کے آغاز کا موازنہ اسپیشل فورسز کے چھاپے سے کیا ہے جس نے وفاقی کارکنوں، یونینوں، وکالت گروپوں اور یہاں تک کہ میڈیا آف گارڈ کو اپنے دائرہ کار میں لے لیا ہے۔وہ قدامت پسند اتحادیوں کے پیچیدہ، سالہا سال کے کام کا سہرا دیتے ہیں جنہوں نے ٹرمپ کا زیادہ وقت دفتر سے باہر پالیسی کے تفصیلی منصوبوں کا مسودہ تیار کرنے میں صرف کیا ہے جس کی وجہ سے وہ میدان میں اتر سکیں گے۔”یہ بیچ ہیڈ ٹیم ہے جو وفاقی حکومت کو سنبھال رہی ہے،” اسٹیو بینن، جنہوں نے ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران وائٹ ہاؤس کے چیف اسٹریٹجسٹ کے طور پر خدمات انجام دیں اور ٹرمپ کے بہت سے بنیادی پالیسی مشیروں کے قریب ہیں، نے رائٹرز کو بتایا۔ ٹرمپ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ امریکی آئین کو مسخ کر رہے ہیں اور ایگزیکٹو پاور کی حدود کو اس کی مطلوبہ حد سے زیادہ بڑھا رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ابتدائی چالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملک کو یکسر تبدیل کرنے کے بجائے اسے متحد کرنے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں – اور بہت سے معاملات میں انتقامی کارروائیاں کرتے ہیں۔اپنی ابتدائی چالوں میں سے ایک میں، ٹرمپ نے درجنوں سابق انٹیلی جنس اہلکاروں کی سیکیورٹی کلیئرنس کو ہٹا دیا جنہوں نے سابق صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر کے بارے میں میڈیا رپورٹس کو روسی اثر و رسوخ کی کارروائی سے منسوب کیا۔ٹرمپ نے قومی سلامتی کے تین سابق اہلکاروں سے ان کی حفاظتی تفصیلات بھی چھین لیں، حتیٰ کہ ایران کی طرف سے قابل اعتماد خطرات کے باوجود۔ ان کے معاونین کو پینٹاگون کے ایک دالان سے ان کے سخت ترین ناقدین، جنرل مارک ملی، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سابق چیئرمین، کی تصویر ہٹانے کا وقت ملا۔اس نے وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کو کیریئر کے عہدیداروں سے پاک کر دیا جنہیں ٹرمپ کی ٹیم نے صدر کے لیے ناکافی طور پر وفادار کے طور پر دیکھا تھا۔ اس اقدام سے وہ وفاداروں کو قومی سلامتی کے 100 سے زیادہ کرداروں میں درآمد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔”وہ واضح طور پر ایسا آدمی نہیں ہے جو اپنی رنجشوں کو آسانی سے ترک کر دے،” بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے ایک سینئر فیلو ولیم گیلسٹن نے کہا جس نے 40 سال سے زیادہ حکومت میں اور باہر کام کیا ہے۔وائٹ ہاؤس نے اس کہانی پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔یہاں تک کہ ٹرمپ کے دشمنوں کا کہنا ہے کہ آخری پانچ دن ان کی پہلی مدت کے ایک شاندار برعکس کی نمائندگی کرتے ہیں، جب آپس کی لڑائی اور ناقص تیاری نے ان کے بہت سے پرجوش پالیسی اقدامات کو ناکام بنا دیا۔”اس سب کے دائرہ کار اور رفتار کے لحاظ سے، ان کی ٹیم نے غیر معمولی تیاری کے نتائج دکھائے ہیں،” ٹموتھی نفتالی، صدارتی تاریخ دان اور نکسن صدارتی لائبریری کے سابق ڈائریکٹر نے کہا۔ٹرمپ کی بہت سی پالیسیاں “پروجیکٹ 2025” کی وکالت کرتی ہیں، جو قدامت پسند تنظیموں کا ایک کنسورشیم ہے جس نے ٹرمپ کی ممکنہ واپسی کی توقع میں پالیسیوں کا مسودہ تیار کرنے میں دو سال سے زیادہ وقت گزارا ہے۔ٹرمپ نے گزشتہ سال اپنے آپ کو اس منصوبے سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں، حالانکہ بہت سے سابق معاونین اس میں گہرا تعلق رکھتے تھے۔ لیکن اس کے وائٹ ہاؤس کے نئے آپریشن پر اس کا اثر بہت واضح ہے۔پروجیکٹ 2025 نے قومی سلامتی کونسل میں کیریئر کے اہلکاروں کو صاف کرنے کی وکالت کی۔ایک اور پالیسی جسے ٹرمپ نے پہلے ہی اپنایا ہے اس منصوبے کے ذریعے آگے بڑھایا گیا ہے جو کہ “شیڈول ایف” کے نام سے مشہور وفاقی کارکن کی ایک نئی قسم بنا کر ممکنہ طور پر لاکھوں سرکاری ملازمین کو برطرف کرنا آسان بنا رہی ہے۔ٹرمپ نے فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کا بھی جائزہ لیا ہے جو FEMA کے بہت سے کام ریاستوں کو منتقل کرے گا، ایک اور پروجیکٹ 2025 تجویز۔بینن نے کہا، “وہاں سخت پالیسی اور سیاسی لوگ ہیں جنہوں نے ٹرمپ پر یقین کیا ہے … اور 2021 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے لیے فوری طور پر کام کرنا شروع کر دیا،” بینن نے کہا۔ “اور یہ وہی ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں نتیجہ خیز ہوتا ہے۔”ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھنے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان کی انتظامیہ کے ابتدائی ہفتے ٹرمپ کی طاقت کے عروج کی نمائندگی کر سکتے ہیں، کچھ حامی تسلیم کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے کئی ایگزیکٹو آرڈرز آئینی قانون کی حدود کو جانچتے ہیں۔ پیدائشی حق شہریت کو ختم کرنے کا حکم – ایک آئینی نظریہ جس میں کہا گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ میں پیدا ہونے والا تقریباً ہر شخص خود بخود ایک شہری ہوتا ہے – کو ایک وفاقی عدالت نے پہلے ہی حکم دیا ہے۔کئی دیگر وعدوں اور احکامات کو فوری طور پر ریاستوں اور وکالت کرنے والی تنظیموں کی طرف سے قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور اس کے صدمے اور خوف

ٹول پلازوں کی ماہانہ آمدنی 6ارب 72 ارب کھا جاتا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 200 فیصد اضافہ۔ سپریم کورٹ ایڈیشنل رجسٹرار توہین عدالت کیس،حکم ناموں میں تاریخوں کے ردو بدل کا انکشاف۔ ایک بڑی پریس کانفرنس کی گونج اور سب کچھ طے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

اردلی ایک بھت بڑی گالی ھے عرفان صدیقی۔۔ حکومت کے آخری چند دن۔۔پتنگ بازی کرنے والوں کخلاف گھیرا تنگ۔۔کرکٹ کا جنازہ زرا دھوم سے ایک روز میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز دنوں اوٹ۔۔۔ مافیا اور انڈہ بارشیں نہ ھونے کی وجہ سے پلان کا دھڑن تختہ۔۔ملک بھر میں مھنگای کا طوفان عوام خودکشیوں پر مجبور۔۔ایک اور توشہ خانہ 20 بڑے شکنجے میں۔۔پاکستان کے ساتھ تعلقات اس وقت مضبوط ھونگے جب پاکستان میں قانون ازاد اور جمہوریت مضبوط ھو گی امریکہ۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

کوئی خوش فہمی میں نہ رھے حالات بدلنے سے ریلیف ملے گا۔۔پی ای اے دنیا کی نمبر ون ٹیم تفصیلات کے مطابق۔۔ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 200 فیصد اضافہ۔۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان عظیم الشان شخصیت ھے۔۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پی ای اے دنیا کی نمبر ون ٹیم تفصیلات کے مطابق

پی آئ اے کی 10 جنوری سے گوادر سے مسقط ڈائرکٹ فلائٹس شروع۔پاکستان سے کسی ملک کی یہ مختصر ترین فلائٹ ہے۔صرف 468 کلو میٹر بائ ائیر فاصلہ ہے۔پی آئ اے بہتری کی طرف جا رہی ہے۔بے شک جہاز پرانے ہیں ۔ سیٹیں کٹی پھٹی ہیں۔ائیر ہوسٹس بھی بعض لوگوں کے بقول پھوپھیا ں لگتی ہیں(یہ میری ذاتی رائے نہیں ہے ) اس کے باوجود پائیلٹ بہت ٹرینڈ ہیں۔انٹرنیشنل فلائٹ آپریشن میں پی آئ اے کی کارکردگی قدرے بہتر ہے ۔یقیننا پی آئ اے کا موازنہ ایمریٹس یا قطر ائیر ویزہ سے نہیں کیا جا سکتا ۔ دنیا میں سب سے زیادہ plane crash ائیر فرانس اور امریکہ ائیر لائنز کے ہیں ان دونوں کے 11 11 جہاز کریش ہوئے ہیں۔ لیکن بدنام پھر بھی پی آئ اے ہے جو بھی ہے۔۔۔۔۔اپنی ہے ۔جب اردو میں انوسٹمنٹ ہوتی ہے ۔اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ ہم نے غصے میں ملک کہ ہر چیز کو برا کہنا شروع کر دیا ہے۔