امریکہ کا ڈاون فال کیا ٹرمپ امریکہ کا گوربا چوف ثابت ہو گا تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

امریکہ کے وجود کو لگ بھگ ڈھائی سو سال ہوئے ہیں
مگر اس عرصے کا زیادہ تر حصہ اس نے جنگوں حملوں اور دوسرے ملکوں میں مداخلت میں گزارا
تقریباً دو سو بائیس سال
یعنی اس کی تاریخ کا بڑا حصہ خون اور طاقت کے استعمال سے بھرا ہوا ہے

کہا جاتا ہے کہ اس نے نوے سے زیادہ جنگیں اور حملے کیے
جن میں بہت سی کارروائیاں انسانی اقدار کے خلاف تھیں
اور یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ طاقت کے زور پر پھیلاؤ ہی اس کی پہچان رہا ہے

ذیل میں اس کی بڑی فوجی مداخلتوں اور حملوں کی ترتیب بیان کی جا رہی ہے

سن اٹھارہ سو پانچ
لیبیا کے شہر درنہ پر حملہ اور قبضہ

سن اٹھارہ سو سولہ
الجزائر پر بمباری

سن اٹھارہ سو تینتیس
نکاراگوا پر حملہ

سن اٹھارہ سو اٹھاسی
پیرو میں داخلہ

سن اٹھارہ سو چھیالیس
میکسیکو کی زمین پر قبضہ جو آج ٹیکساس کہلاتی ہے

سن اٹھارہ سو اڑتالیس
میکسیکو کی مزید زمین پر قبضہ جو آج کیلیفورنیا اور نیو میکسیکو کہلاتی ہے

سن اٹھارہ سو چون
نکاراگوا کی بندرگاہ گری ٹاؤن کی تباہی

سن اٹھارہ سو پچپن
یوروگوئے پر حملہ اور پانامہ نہر پر قبضہ

سن اٹھارہ سو ستاون
نکاراگوا میں دوبارہ مداخلت

سن اٹھارہ سو تہتر
کولمبیا پر حملہ اور بعد کے کئی برسوں تک مسلسل کارروائیاں

سن اٹھارہ سو اٹھاسی
ہیتی میں مداخلت

سن اٹھارہ سو اکیانوے
چلی میں مداخلت

سن اٹھارہ سو چورانوے
نکاراگوا میں ایک اور مداخلت

سن اٹھارہ سو اٹھانوے
کیوبا پر حملہ اور گوانتانامو پر قبضہ

سن انیس سو ایک تا انیس سو دو
کولمبیا میں دوبارہ مداخلت

سن انیس سو دو
ہونڈوراس میں مداخلت

سن انیس سو چار
پانامہ پر حملہ

سن انیس سو پانچ
ہونڈوراس پر حملہ

سن انیس سو سات
ہونڈوراس کے کئی شہروں پر قبضہ
میکسیکو اور نکاراگوا میں مداخلت

سن انیس سو سات
ڈومینیکن ریپبلک میں فوجی داخلہ

سن انیس سو آٹھ
ہونڈوراس اور نکاراگوا کی جنگ میں شمولیت

سن انیس سو دس
پانامہ کے انتخابات میں فوجی مداخلت

سن انیس سو گیارہ
نکاراگوا میں بغاوت کو کچلنے کے لیے مداخلت
ہونڈوراس میں حکومت کے خلاف بغاوت کی حمایت

سن انیس سو گیارہ
فلپائن میں عوامی بغاوت کو دبانا

سن انیس سو بارہ
چین میں فوجی مداخلت
کیوبا پانامہ اور ہونڈوراس پر حملے

سن انیس سو چودہ
ہیتی میں فوجی داخلہ اور مرکزی بینک کی لوٹ مار

سن انیس سو پندرہ
ہیتی پر مکمل قبضہ

سن انیس سو سولہ
ڈومینیکن ریپبلک پر قبضہ

سن انیس سو سترہ
کیوبا پر قبضہ

سن انیس سو اٹھارہ
پہلی عالمی جنگ میں شرکت

سن انیس سو اٹھارہ تا انیس سو بیس
روس میں فوجی مداخلت

سن انیس سو انیس
پانامہ اور کوسٹا ریکا میں مداخلت

سن انیس سو بیس
ہونڈوراس پر دوبارہ حملہ

سن انیس سو اکیس
گوئٹے مالا پر حملہ

سن انیس سو بائیس
ترکی میں فوجی مداخلت
ال سلواڈور میں مداخلت

سن انیس سو چوبیس
چین میں دوبارہ فوجی مداخلت

سن انیس سو پچیس
ہونڈوراس پر دوبارہ حملہ

سن انیس سو چھبیس
پانامہ پر دوبارہ حملہ

سن انیس سو ستائیس
نکاراگوا پر دوبارہ حملہ

سن انیس سو بتیس
چین پر قبضہ

سن انیس سو تیتیس
نکاراگوا پر قبضہ

سن انیس سو چونتیس
ہیتی پر قبضہ

سن انیس سو سینتیس
ال سلواڈور پر حملہ

سن انیس سو پینتالیس
نکاراگوا پر حملہ
جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے

سن انیس سو سینتالیس
یونان پر حملہ

سن انیس سو پچاس
فلپائن اور پورٹو ریکو پر حملے
کوریا کی جنگ میں شمولیت

سن انیس سو باون
ایران میں حکومت کا تختہ الٹنا

سن انیس سو چون
گوئٹے مالا کی حکومت کا خاتمہ

سن انیس سو اٹھاون
کوریا اور لبنان پر حملے

سن انیس سو انسٹھ
پانامہ اور لاوس پر حملے

سن انیس سو ساٹھ
ہیتی اور ایکواڈور میں فوجی کارروائیاں

سن انیس سو اکسٹھ
کیوبا کے خلیج خنزیر پر حملہ

سن انیس سو باسٹھ
کیوبا کا بحری محاصرہ

سن انیس سو پینسٹھ
پانامہ پر حملہ
ویتنام کی جنگ میں بھرپور شمولیت

سن انیس سو چھیاسٹھ
ویتنام پر زہریلی گیسوں کا استعمال
گوئٹے مالا پر حملہ

سن انیس سو سڑسٹھ
بولیویا میں چی گویرا کے قتل میں کردار

سن انیس سو ستر
کمبوڈیا پر حملہ

سن انیس سو اکہتر
انڈونیشیا کی فوجی مدد

سن انیس سو بہتر
لاوس پر بمباری

سن انیس سو تہتر
چلی میں منتخب صدر کا قتل اور فوجی حکومت قائم کرنا

سن انیس سو اسی
نکاراگوا پر حملہ

سن انیس سو اکیاسی
یورپ میں میزائلوں کی تنصیب

سن انیس سو تراسی
ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں

سن انیس سو چھیاسی
گریناڈا میں مداخلت

سن انیس سو اٹھاسی
لیبیا پر حملہ
ہونڈوراس پر دوبارہ حملہ

سن انیس سو نواسی
ایرانی مسافر طیارے کو تباہ کرنا
پانامہ پر حملہ

سن انیس سو اکیانوے
عراق پر حملہ

سن انیس سو پچانوے
بوسنیا پر حملہ

سن انیس سو اٹھانوے
صومالیہ میں فوجی کارروائی

سن انیس سو ننانوے
سوڈان پر حملہ

سن دو ہزار ایک
یوگوسلاویہ پر حملہ
افغانستان پر قبضہ

سن دو ہزار تین
عراق پر حملہ اور قبضہ

سن دو ہزار گیارہ
لیبیا پر حملہ

سن دو ہزار گیارہ
شام میں مسلح گروہوں کی حمایت

سن دو ہزار چوبیس
غزہ پر حملے کی حمایت

سن دو ہزار پچیس
ایران کے خلاف جارحیت کی حمایت

یہ ایک طویل فہرست ہے
جو طاقت کے ذریعے دنیا میں مداخلت کی تاریخ بیان کرتی ہے
۔

ڈاکٹر امجد : وہ پاکستانی ارب پتی جس کے ہاتھوں لٹنےو الے پیسے لینے اسکی قبر پر پہنچ جاتے تھے ۔۔۔۔۔ڈاکٹر امجد سابق آئی جی پنجاب سردار محمد چوہدری کا داماد تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر دولت کی بارش کی ‘ ڈاکٹر امجد نے جس خاندان اور جن بچوں کے لیے 25 ارب روپے کا فراڈ کیا تھا‘ وہ جنازے کے وقت کینیڈا میں بیٹھے تھے اور ان میں سے کوئی شخص اسے مٹی کے حوالے کرنے کے لیے پاکستان نہیں آیا تھا۔ یہ حقیقت ناجائز طریقوں سے مال کما کر نسلیں سنوارنے والوں کے لیے ایک کھلا سبق ہے ۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ڈاکٹر امجد : وہ پاکستانی ارب پتی جس کے ہاتھوں لٹنےو الے پیسے لینے اسکی قبر پر پہنچ جاتے تھے ۔۔۔۔۔ڈاکٹر امجد سابق آئی جی پنجاب سردار محمد چوہدری کا داماد تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر دولت کی بارش کی اور یہ اس بارش میں بھیگتا بھیگتا کیچڑ میں جا گرا‘ اس نے سب سے پہلے ایڈن ہاؤسنگ سکیم کے 13 ہزار ممبرز کے دس ارب روپے ہڑپ کیے ۔اور پھر اس نے ای او بی آئی کے پنشنر کی بڑی رقوم بھی اڑا لیں ۔ متاثرین نے احتجاج کرنا شروع کر دیا تو ان دنوں افتخار محمد چودھری چیف جسٹس تھے‘ سو موٹو لیا گیا‘ عدالت میں پیشیاں شروع ہوئیں‘ لاہور کے ایک وکیل کےذریعے چیف جسٹس اور ملزم کے درمیان رابطہ ہوا اور یہ رابطہ بہت جلد رشتے داری میں بدل گیا‘۔۔ ڈاکٹر امجد کے صاحبزادے مرتضیٰ امجد اور افتخار محمد چودھری کی صاحبزادی افرا افتخارکی شادی ہو گئی۔ اور یوں ایڈن ہاؤسنگ سکیم اور ای او بی آئی کے کیسز کھوہ کھاتے چلے گئے۔‘ دور بدلا‘ نیب کے مقدمے شروع ہوئے تو پورا خاندان ملک سے بھاگ گیا‘ نیب نے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے‘ ایف آئی اے نے 26 ستمبر 2018ء کو مرتضیٰ امجد کو دوبئی سے گرفتار کر لیا‘ افتخار محمد چودھری نےکوشش کی لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریڈ وارنٹ کو غیرقانونی قرار دے دیا۔۔ اور یہ لوگ خاندان سمیت کینیڈا شفٹ ہو گئے‘ کیسز چلتے رہے اور افتخار محمد چودھری کا اثرورسوخ ڈاکٹر امجد کو بچاتا رہا‘ فراڈ کی رقم 25 ارب روپے تک پہنچ گئی‘ یہ اس دوران پلی بارگین کے لیے بھی راضی ہو گیا لیکن یہ تین ارب روپے دے کر 25 ارب روپے معاف کرانا چاہتا تھا‘ نیب نہیں مانا‘ یہ اس دوران کسی پراسرار بیماری کا شکار ہو گیا‘ پاکستان آیا‘ علاج شروع ہوا لیکن طبیعت بگڑتی رہی یہاں تک کہ دنیا بھر کے ڈاکٹرز‘ ادویات اور افتخار محمد چودھری کا اثرورسوخ بھی کام نہ آیا اور ڈاکٹر امجد 23 اگست 2021ء کو لاہور میں انتقال کر گیا‘

لواحقین نے اسے خاموشی کے ساتھ دفن کرنے کی کوشش کی لیکن متاثرین کو خبر ہو گئی اور یہ پلے کارڈز اور پوسٹرز لے کر پہلے اس کے گھر اور پھر جنازے پر پہنچ گئے ،اور ’’ہماری رقم واپس کرو‘‘ کے نعرے لگانے لگے‘ پولیس بلائی گئی‘پولیس جنازے اور احتجاجیوں کے درمیان کھڑی ہو گئی‘ پولیس کی مدد سے جنازہ اٹھایا گیا اور پولیس ہی کی نگرانی میں ڈاکٹر امجد کو دفن کیا گیا‘ متاثرین بعد میں بھی اس کی قبر پر آتے رہے جس کی وجہ سے خاندان نے وہاں گارڈز کھڑے کر دیے ۔۔یہ انتہا درجے کا عبرت ناک واقعہ ہے لیکن آپ اس سے بھی بڑی عبرت ملاحظہ کیجئے‘ ڈاکٹر امجد نے جس خاندان اور جن بچوں کے لیے 25 ارب روپے کا فراڈ کیا تھا‘ وہ جنازے کے وقت کینیڈا میں بیٹھے تھے اور ان میں سے کوئی شخص اسے مٹی کے حوالے کرنے کے لیے پاکستان نہیں آیا تھا۔ یہ حقیقت ناجائز طریقوں سے مال کما کر نسلیں سنوارنے والوں کے لیے ایک کھلا سبق ہے ۔۔۔

پنجاب حکومت کی ایک ھزار ارب روپے کی مالیت کی بے ضابطگیاں۔ آڈیٹر جنرل آپ پاکستان نے 2024ء 2025ء رپورٹ جاری۔جنگ بیانیے کا ھے دھشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن ۔امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف جنگ کی تیاریاں مکمل۔۔ خاران آپریشن 40 دھشت گرد اور 25 افغان شہری۔۔ ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان اور امریکہ کے فوجی مشقیں ای ایس پی ار۔۔بلوچستان میں ڈپٹی کمشنر کا ریٹ 40 کروڑ روپے سے بڑھ گیا۔امریکی سفیر کی خصوصی شرکت ملٹری آپریشن کے افسران بھی شریک۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ۔سپریم کورٹ کے سامنے کار موٹرسائیکل سوار کوبچاتے ہوئے فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی، کار سوار محفوظ رہا، بتایا جا رہا ہے کار سوار چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا بیٹا ہے۔۔!!وادی تیراہ سے نقل مکانی اسہیل آفریدی متاثرین سے ملنے پہنچ گئے شہریوں نے وزیر اعلیٰ کو گھیر لیا۔۔۔ امریکہ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کردیا….گرین لینڈ پر امریکہ پر قبضہ کیا گیا تو امریکہ پر حملہ ھم کرینگے فرانسیسی صدر رپورٹ سھیل رانا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا ٹکرز/نیوز اسلام آباد 16 جنوری، 2026؛اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا پولیس اسٹیشن اور بینکوں پر حملوں کی شدید مذمت۔سردار ایاز صادق کا حملہ آور فتنہ الہندوستان کے 12 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین۔سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے دہشتگردوں کا پولیس اہلکاروں اور بینکوں کے عملے کو یرغمال بنانے کا منصوبہ ناکام بنایا، اسپیکر سردار ایاز صادقاسپیکر قومی اسمبلی نے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔عوامی اور ریاستی اداروں پر حملے دشمن کے مذموم عزائم اور بوکھلاہٹ کی عکاسی ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادقپاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کیلئے پر عزم ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق دہشتگردی کے خاتمے تک “عزمِ استحکام” کے تحت دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، سردار ایاز صادقپوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اسپیکر قومی اسمبلیپاکستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی، اسپیکر سردار ایاز صادق

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملے کے متضاد اشاروں کے باوجود امریکا کی جانب سے جنگ کی تیاری جاری ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ امریکا ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر بڑے حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حملے سے ایرانی حکومت کو نقصان نہیں ہوگا

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا پریس ریلیز *اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری*اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تریق کار 2007 کے قاعدہ 39 کے تحت جاری کیا گیا ۔ ترجمان قومی اسمبلی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن اپوزیشن اراکین اسمبلی کے وفد کو دیا۔ ترجمان قومی اسمبلی اپوزیشن کے وفد میں اراکین قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان، جنید اکبر، سردار لطیف کھوسہ ، جمال احسن خان، شہرام خان ، شانادانہ گلزار، ذین قریشی، علی اصغر خان، ملک انور تاج اور یوسف خان شامل- ترجمان قومی اسمبلی اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف اعظم نذیر تاڑر اور کوارڈنیٹر ٹو وزیر اعظم رومینہ خورشید عالم بھی موجود تھے- ترجمان قومی اسمبلی

گرین لینڈ: عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا اگلا ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن سے پورے ساڑھے چھ گھنٹے کی اعصاب شکن فلائٹ کے بعد ایر گرین لینڈ کے ہلکے طیارہ کے پائلٹ نے جب اعلان کیا کہ کچھ لمحوں کے بعد طیارہ گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں لینڈ کرنے والا ہے اور باہر کا درجہ حرارت منفی سترہ ڈگری سیلسس ہے، تو لگا جیسے ایک سرد لہر ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر گئی ہے۔یہی حال پاس کی سیٹوں پر براجمان تین رکنی ہندوستانی صحافیوں کے گروپ کا بھی تھا۔ وہ میری طرف دیکھ کر امید کر رہے تھے کہ کشمیر کی برفانی وادیوں میں بچپن گزارنے کی وجہ سے سردی میرا کچھ زیادہ بگاڑ نہیں سکے گی۔شاید کم افراد کو ہی علم ہوگا کہ سائبیریا کے بعد دنیا کا سرد ترین رہائشی علاقہ دراس، سابق جموں و کشمیر کی ریاست میں ہی ہے،

جہاں 1995میں درجہ حرارت منفی 60ڈگری سیلسس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سونہ مرگ سے زوجیلا درہ کراس کرتے ہی لداخ کے خطہ کے مٹائین کی بستی کے بعد دراس کا قصبہ آتا ہے۔ کرگل جنگ کے دوران میڈیا کے نمائندے اکثر یہیں قیام کرتے تھے، کیونکہ اس سے آگے رسائی نہیں ہوتی تھی۔سال 2012 میں ہندوستان، ڈنمارک سے کچھ ایسے ہی ناراض تھا، جیسے وہ آجکل پاکستان سے ہے۔ جس طرح فی الوقت پاکستانیوں کے ویزا پر قدغنیں ہیں، کرکٹ میچ حتیٰ کہ غیر ملکی مہمانوں کو بھی ہندوستان سے براہ راست پاکستان سفر کرنے سے روکنا وغیرہ، کچھ ایسی ہی سفارتی صورتحال ڈنمارک کے ساتھ بھی تھی۔اس کی وجہ تھی کہ 1995میں مغربی بنگال کے پورولیا ضلع میں طیارہ سے ہتھیاروں کی ایک کھیپ گرانے میں ڈنمارک کا ایک شہری کیم ڈیوی ملوث تھا، جو ہندوستانی ایجنسیوں کو جل دینے میں کامیاب ہو کر بھاگ گیا تھا۔ اس کی حوالگی کے حوالے سے ہندوستان نے کافی کاوشیں کیں اور 2011 میں جب اس کی پوری تیاری کی گئیں تھیں کہ ڈنمارک کی عدالت نے اس پر روک لگا دی۔ڈنمارک حکومت نے اس فیصلہ کو چیلنج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تھا، جس سے ہندوستان سخت ناراض تھا۔ ڈنمارک سے سبھی اعلیٰ سطحی دورے منسوخ کیے گئے تھے۔ ڈنمار ک کی اس وقت کی وزیرا عظم یا وزیر خارجہ، جو گجرات سرمایہ کاری سمٹ میں شرکت کرنا چاہتے تھے، کو آنے سے منع کردیا گیا۔ڈینش براڈکاسٹنگ کاپوریشن کے نمائندوں کی صحافتی ایکریڈیٹیشن منسوخ کر دی گئی، وغیرہ جیسے معتدد اقدامات اٹھائے گئے۔ ڈینش تاجروں کے ویزا ہولڈ پر ڈالے گئے تھے۔ ڈنمارک کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان کو خوش کرنے کے لیے اپنے عدالتی سسٹم کومنہدم نہیں کرسکتے ہیں۔جیسے ابھی حال ہی میں پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے صدر نواز شریف نے ہندوستانی صحافی برکھا دت اور چند دیگر صحافیوں کو انٹرویو دےکر ہندوستانی عوام کے ساتھ براہ راست روبرو ہونے کی کوشش کی،

اسی طرح ان دنوں ڈنمارک کی حکومت نے بھی چند ہندوستانی صحافیوں کو کوپن ہیگن کا دورہ کرواکے اور پھر گرین لینڈ لے جاکر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ڈنمارک کے ساتھ سفارتی کشیدگی سے خود ہندوستان کا ہی بڑا نقصان ہو رہا ہے۔طلسماتی دلکش شہر نوک میں قدم رکھتے ہی احساس ہوگیا کہ جیسے کسی شہر خموشاں میں آگئے ہیں۔ ماہ نومبر میں دن ہی بس چار گھنٹے کا ہوتا ہے۔ آکیٹک کے سمند ر میں ایک اسکیمو مچھوارے جوڑے کے ایک کشتی کو کھینے کی آوازیں اس خاموشی میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھیں۔دنیا کے سب سے بڑے جزیرے، جس کا رقبہ 21لاکھ مربع کلومیٹر ہے، میں آبادی 60ہزار سے بھی کم ہے۔ ہندوستان کے اتر پردیش صوبہ میں دولاکھ مربع کلومیٹر کے رقبہ میں 22کروڑ اورپاکستان کے 8لاکھ مربع کلومیٹر میں 24کروڑ نفوس آباد ہیں۔ پورے نوک شہر کی 20 ہزار کی آبادی ہمارے علاقوں کے محلہ کی آبادی سے بھی کم ہے۔ شہر میں چند سڑکیں ہیں، پھر پورے جزیرے میں کوئی سڑک نہیں ہے۔ نقل و حمل کے ذرائع اسٹیمر،چھوٹے ہوائی جہاز، اسنو اسکوٹرز یا برف گاڑیاں یا سلیچ جن کو کتے کھینچتے ہیں۔ڈنمار ک سے کوسوں دور ہونے کے باوجود 1933میں کورٹ آف انٹرنیشنل جسٹس نے کنیڈا کے دعوے کو خارج کرکے اس کو ڈنمارک کے حوالے کردیا تھا۔یہ آرکٹک جزیرہ 18ویں صدی ہی ڈینش کالونی تھا، مگر کنیڈا کا بھی اس پر دعویٰ تھا۔

یہ جزیرہ یورپ سے منسلک رہا ہے، حالانکہ جغرافیائی طور پر یہ شمالی امریکی براعظم کا حصہ ہے اور کوپن ہیگن سے زیادہ امریکہ کے قریب ہے۔ا س کے شمال میں ہانس جزیرہ پر ابھی حال تک کنیڈا اورڈنمار ک کے درمیان سفارتی کشیدگی رہتی تھی۔ 2022میں ہی دونوں ممالک نے اس جزیرہ کے بیچ میں لکیر کھنچ کر اس کو بانٹ کر اس قضیہ کو حل کردیا۔ ورنہ 1984سے ایک معاہدہ تھا کہ دونوں ممالک کی فوجیں باری باری ہانس جزیرے پر پٹرول ڈیوٹی پر آتی تھیں۔ڈنمارک کی افواج پٹرول ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد وہاں ڈینیش شراب کی بوتلیں چھوڑ کر زمین پر ایک طرح کا دعویٰ جتاتے تھے، پھر کنیڈا کی فوجی یونٹ آتی تھی، اور جانے سے قبل کنیڈا کی مخصوص شراب برانڈ کی بوتلیں جزیرہ پر چھوڑدیتے تھے۔ ایک وقت ایسا ہی حل سیاچن گلیشیر کے لیے بھی تجویز کیا جاتا تھا۔کوپن ہیگن اور پھر نوک میں بریفنگ وغیرہ اوراس علاقے کی اسٹریٹیجک اہمیت جاننے کے بعد ہمارے سینئر ساتھی شاستری راما چندرن نے پیشن گوئی کی تھی کہ افغانستان کی طرز پر یہ خطہ جلد ہی گریٹ گیم کا میدان بننے والا ہے۔حال ہی میں، امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کو خریدنے کی تجویز،حتی ٰ کہ ملٹری استعمال کرنے کی دھمکی دینا اور پھر یورپی ممالک کا رد عمل، اس بات کے واضح اشارے دے رہا ہے کہ اس گریٹ گیم کا وقت آچکا ہے۔جزیرے کے پگھلتے ہوئے برفانی ذخائر غیر استعمال شدہ وسائل کے خزانہ سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ اس جزیرہ کی برفانی تہوں میں اندازاً 90 ارب بیرل تیل اور دنیا کے 30فیصد گیس کے ذخائر، اور جدید ٹکنالوجی کے لیے ضروری نایاب معدنیات چھپے ہوئے ہیں۔گو کہ ڈنمارک کے تحت یہ ایک نیم خود مختار علاقہ ہے،

مگر آبادی کی اکثریت اس قبضہ کو بیسیوں صدی کی نوآبادیاتی ذہنیت کی پیداوار سمجھتی ہے۔ شاید اس جزیرہ کی سخت زندگی کی وجہ سے ڈنمارک مقامی آبادیاتی تشخص یا ڈیمو گرافی بدلنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ گرین لینڈ میں درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سیلسیئس تک گر سکتا ہے، اور وسائل کے نکالنے کی لاجسٹک مشکلات نے تجارتی استحصال کو سست کر دیا ہے۔مگر ٹرمپ کے اعلان سے قبل ہی گرین لینڈ کے وزیر اعظم میوٹے ایگڈے نے نئے سال کے خطاب میں ڈنمارک سے آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے ‘نوآبادیاتی زنجیروں’ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس خطے کو اندرونی طور پر مکمل خود مختاری حاصل ہے۔ ڈنمارک گرین لینڈ کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر کنٹرول رکھتا ہے۔اس کے باوجود مقامی حکومت کے وزیروں نے پچھلے چند سالوں میں چین کے دورے کیے ہیں اور چینی وفود کا اس جزیرے میں استقبال کیا ہے۔جس وقت ہم نوک میں تھے، اسی وقت گرین لینڈ کے ایک وزیر ڈنمارک کی حکومت کے اجازت کے بغیر بیجنگ دورہ پر گئے تھے۔ ایگڈے نے کہا، ‘ہمارے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون اور ہمارے تجارتی تعلقات صرف ڈنمارک کے ذریعے جاری نہیں رہ سکتے۔’2021 سے گرین لینڈ کی قیادت کرنے والے ایگڈے، جو آزادی کی حامی پارٹی ‘کمیونٹی آف دی پیپل’ کے سربراہ ہیں، نے اشارہ دیا ہے کہ اپریل میں آنے والے پارلیامانی انتخابات کے ساتھ آزادی پر ریفرنڈم بھی کرایا جائےگا۔انہوں نے کہا، ‘گرین لینڈ کو ایک خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کروانے کے فریم ورک پر پہلے ہی کام شروع ہو چکا ہے۔ادھر امریکہ بھی ایک طویل عرصے سے گرین لینڈ کو ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتا آیا ہے

۔ سرد جنگ کے دوران، امریکہ نے گرین لینڈ میں تھولے ایئر بیس قائم کی، جو اس کے میزائل دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ڈنمارک کے افسران کا کہنا تھا کہ امریکہ ہی گرین لینڈ میں پس پردہ آزادی کی حمایت کرتا آیا ہے۔یہ بات تو اب طے ہے کہ آرکٹک ایک دور دراز سرحد نہیں رہا ہے۔یہ عالمی سیاست کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔ ڈینش مصنف اور آکیٹک معاملوں کے ماہر مارٹن بروم کہتے ہیں کہ گرین لینڈ تو پہلے ایک دوردراز خطہ تھا۔ اس خطے تک وسائل پہنچانا ہی درد سر ہوتا تھا۔ لیکن اب جیسے جیسے گرین لینڈ کے وسائل اور اس کی اسٹریٹجک اہمیت نمایاں ہو رہی ہے، گرین لینڈ اور ڈنمارک اپنے تعلقات کو دوبارہ متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سال 2023 میں گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویوین موٹسفیڈٹ نے چین کا دورہ کیا، جس میں جزیرے کی شراکتوں کو متنوع بنانے کی کوششوں پر بات چیت ہوئی۔انہوں نے اپنے دورے کے دوران، اقتصادی تعلقات، تجارت، اور آرکٹک تعاون کو مضبوط کرنے پر بات چیت ہوئی۔سال 2012 میں ہی ایک چینی کارگو سمندری جہاز نے نیدر لینڈ کے روٹر ڈم اور پھر ناروے کے ساحل سے ساز و سامان لاد کر بحر اوقیانوس کی طرف پیش قدمی کرنے کے بجائے الٹی سمت بحر منجمد شمالی کی برفانی تہوں سے راستہ بناکر قطب شمالی کو پار کرکے ایشیاء کی طرف روانہ ہوگیا۔ یہ ایک حیرت انگیز واقعہ تھا۔ابھی تک اس سمندری راستے سے شاید ہی کسی کا کامیابی کے ساتھ گزرہو اتھا۔ اس کے چند سال بعد 2013میں بھاری بھرکم چینی جہاز یونگ شنگ نے 19000ٹن کا مال اسی راستے سے چینی بندر گاہ ڈالیان سے روٹرڈم پہنچایا۔

پوری مغربی دنیا کے لیے یہ ایک خطرے کی گھنٹی تھی۔ اس جہاز نے تین ہزار میل کا یہ سفر 35 دن میں مکمل کیا۔ نہر سویز کے راستے یہ سفر پچاس د ن میں طے ہوتا تھا اور اسی کے ساتھ ایسی تنگ سمندری گزرگاہوں سے گزرنا پڑتا تھا، جن پر مغربی ممالک یا ان کے اتحادیوں کی اجارہ داری ہے، جو نازک اوقات میں مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔چین نے آکٹک کونسل میں آبزرور کی حیثیت سے ممبرشپ بھی لی تھی۔ اس آٹھ رکنی کونسل میں امریکہ، روس، کنیڈا، ڈنمارک، آئس لینڈ، ناروے، فن لینڈ اور سویڈن شامل ہیں۔ چین کی اس تگ و دو کو دیکھ کر ہندوستان نے بھی پھر 2013میں آرکیٹک کونسل میں بطور مبصر ممبرشپ لی۔ لیکن اس کے لیے اس کو ڈنمار ک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرکے کڑوی گولی نگلنی پڑی۔ 2014 میں، ہندوستان نے اپنی پہلی ملٹی سینسر مانیٹرنگ آبزرویٹری، انڈآرک، آرکٹک گلیشیرز کی نگرانی کے لیے نصب کی۔چین کے گرین لینڈ میں بڑھتے ہوئے مفادات نے مغربی طاقتوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ ِ قطب شمالی کی جغرافیائی سیاست کی ماہر الزبتھ بکانن کا کہنا ہے کہ چین اور روس کی اس خطے میں بڑھتی دلچسپی کہیں اس کو دوسرا یوکرین نہ بنا دے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خطہ اسلحے کی نئی دوڑ کا مرکز بن جائےگا۔ روس بھی اپنے آرکٹک عزائم کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ 2007 میں، اس نے ایک علامتی عمل کے طور پر قطب شمالی کے سمندری فرش روبوٹ بھیج کر تہہ پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔چین نے تجویز د ی تھی کہ قطب جنوبی کی طرح قطب شمالی بھی کسی ملک کی ملکیت میں نہ ہو، مگر سائنسی تجربات کرنے کے لیے سبھی کو رسائی دی جائے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران، امریکہ نے اس علاقے پر مختصر عرصہ تک قبضہ کر کے اس کا دفاع کیا تھا۔ کیونکہ ڈنمارک پر ان دنوں نازی جرمنی نے قبضہ کیا تھا۔جنگ کے بعد 1946 میں، امریکہ نے گرین لینڈ کو خریدنے کی پیشکش کی تھی، لیکن ڈنمارک نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ 1979 میں ڈنمارک نے گرین لینڈ کو داخلی خود مختاری دی۔آرکٹک کے لیے ڈنمارک کے سفیر، کلاوس اے ہولم کا کہنا ہے کہ اس خطے نے تیل کی نکاسی کی صلاحیت، معدنیات اور بحری ٹریفک میں اضافے کی وجہ سے سیاسی اور اقتصادی اہمیت حاصل کی ہے۔مگر یہ سبھی اقدامات ماحول کے لیے خطروں سے پر ہیں۔ مصنف مارٹن برائم، جنہوں نے قطب شمالی کادورہ بھی کیا ہے،

کا کہنا ہے کہ اس خطے کی اقتصادی اہمیت کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیاجا رہا ہے۔ ‘ہاں، یہاں معدنی ایندھن کے ذخائر ہیں، لیکن کسی بھی کاروباری منصوبے کے لیے ان کی نکاسی غیرمنافع بخش ہے۔ ان کو نکالنے میں کافی وسائل کی ضرورت ہے۔’تاہم ان کا کہنا ہے کہ برف پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلی نے برف کی تہوں کو پتلا کرکے جوسمندری راستے نکالے ہیں، ان کی وجہ سے امریکہ اور ایشیاء قریب آرہے ہیں۔ ایشیائی طاقتوں کو اس سے امریکی پانیوں میں کھیلنے کا موقع مل رہا ہے، جس کا امریکہ کسی طور پر متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کی مونرو ڈاکٹراین یعنی کہ امریکی بر اعظم صرف امریکی ملکوں کا ہے، زمیں بوس ہو رہا ہے۔آبی راستوں پر قابو پانے سے ممالک بااثر اور طاقتور ہو جاتے ہیں۔ آرکٹک کو ایک قابلِ عمل آبی گزرگاہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے، جس میں تلاش اور بچاؤ کی سہولیات کے قیام کے ساتھ ساتھ تیل کے اخراج کو روکنے کے لیے ایک طریقہ کار بھی وضع کیا جانا شامل ہے۔ڈنمارک اور روس کے قطب شمالی پر مضبوط علاقائی دعووں کے ساتھ، امریکہ گرین لینڈ کو ایک آزاد ریاست بننے کے لیے اکسا رہا ہے، آرکٹک خطے کو ایک بین الاقوامی ورثہ اور غیر وابستگی کا زون بنانے کی بھی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ مگر بڑی طاقتیں شاید ہی اس پر کان دھریں گی۔ گزشتہ 10 سالوں میں، گرین لینڈ نے اسکاٹ لینڈ کی کیرن، روس کی گازپروم اور ناروے کی اسٹیٹ آئل سمیت تیل اور گیس کے بڑے کھلاڑیوں کو معدنیات کو تلاش اورکانکنی کے کئی لائسنس دیے ہیں۔اس کے آس پاس کے پانیوں میں پانامہ تک چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ چین کی تگ و دو کو دیکھ کر 2020 میں، امریکہ نے نے گرین لینڈ میں اپنا قونصل خانہ دوبارہ کھولا، جو 1953 سے بند تھا۔ اس نے گرین لینڈ کے لیے دو اقتصادی امدادی پیکجوں میں بھی توسیع کی ہے اور نایاب زمین کی معدنیات کی حکمرانی اور تلاش میں تعاون کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو آزادی دلوانے یا اس کو امریکی کالونی بنوانے پر چین اور روس کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ با ت تو طے ہے ہے کہ قطب شمالی نیز گرین لینڈ دوسری گریٹ گیم کا مرکز بن رہے ہیں۔

شبنم زیادتی کیس: فاروق بندیال کیسے بچ نکلا جب مولوی مشتاق حسین لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے اور بھٹو کے خلاف قتل کے مقدمے کی کارروائی جاری تھی، تو لاہور میں ایک ایسی گھناؤنی واردات ہوئی جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔اداکارہ شبنم جو گلبرگ کے بنگلہ 9B میں رہتی تھیں، 12 اور 13 مئی کی درمیانی شب چند ’پڑھے لکھے‘ ڈاکو جن کا سرغنہ فاروق بندیال تھا، فلمی انداز میں شبنم کے گھر داخل ہوئے، ان کے شوہر روبن گھوش کو رسیوں سے باندھ دیا اور رات بھر نہ صرف لوٹ مار کرتے رہے بلکہ مبینہ طور پر اداکارہ شبنم کا گینگ ریپ بھی کیا؟اس رات کیا ہوا؟ ڈاکوؤں میں کون کون شامل تھا؟ یہ بااثر لٹیرے سزائے موت سنائے جانے کے باوجود کیوں بچ نکلے؟ اور اس واردات کے مرکزی کردار فاروق بندیال کا موجودہ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال سے کیا رشتہ ہے؟ آج ہم یہی تلخ حقائق بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔اداکارہ شبنم جن کا اصل نام جھرنا باسک تھا، انہوں نے 1962ء میں فلم ’چندا‘ میں معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا، جس کے بعد انہیں اس قدر پذیرائی ملی کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے فلمی دنیا کی سب سے بڑی ہیروئن بن گئیں۔شبنم نے کم و بیش 170 فلموں میں کام کیا جن میں آس، انمول، آئینہ، دل لگی، آبرو اور زینت جیسی شاہکار فلمیں شامل ہیں۔ 70 اور 80 کی دہائی میں شبنم اور ندیم کی جوڑی بہت مقبول ہوا کرتی تھی۔اداکارہ شبنم کے شوہر رابن گھوش بھی بہت بڑے موسیقار تھے۔اداکارہ شبنم اور رابن گھوش دونون بنگالی تھے مگر جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تو ان دونوں نے اپنی جنم بھومی کی طرف لوٹ جانے کے بجائے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔مگر محض 7 سال بعد ہی ایک ایسی واردات ہوئی جس نے ان دونوں کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔12 اور 13 مئی کی درمیانی شب رات کے وقت اداکارہ شبنم کے گھر دستک ہوئی، جب ان کے شوہر روبن گھوش نے دروازہ کھولا تو فاروق بندیال، وسیم یعقوب بٹ اور سردار خان کھچی اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوگئے۔ یہ سب گورنمنٹ کالج لاہور کے پڑھے لکھے مگر بگڑے رئیس زادے تھے۔فاروق بندیال کے ماموں فتح خان بندیال جو ایف ۔کے بندیال کے نام سے مشہور تھے، وہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹر ی رہے اور اب پنجاب کے چیف سیکریٹری تھے۔ سردار خان کھچی کا تعلق بھی میلسی کے زمیندار گھرانے سے تھا اور وہ کم وبیش 150 مربع زمین کے مالک تھے، اسی طرح وسیم یعقوب بٹ اور دیگر نوجوانوں کا تعلق بھی کھاتے پیتے گھرانوں سے تھا۔اس واردات میں ملوث ملزم فوری طور پر گرفتار تو کر لیے گئے مگر چونکہ ملزموں کا تعلق نہایت بااثر خاندانوں سے تھا اس لیے اداکارہ شبنم کو یہ کیس واپس لینے کے لیے مجبور کیا جاتا رہا مگر پوری فلم انڈسٹری ان کی پشت پر کھڑی ہوگئی۔چونکہ فوجی عدالتیں قائم کی جا چکی تھیں اور زیادہ تر مقدمات کے فیصلے سول کورٹس کے بجائے ملٹری کورٹس میں ہو رہے تھے اس لیے عوامی دباؤ پر ملزموں کا ٹرائل کرنے کے لیے فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل خالد ادیب کی سربراہی میں ملٹری کورٹ تشکیل دیدی گئی۔بالعموم فوجی عدالت میں حکومت کے تشکیل کردہ اسپیشل پراسیکیوٹر ہی مقدمہ لڑا کرتے تھے مگر فلمی ستاروں کا خیال تھا کہ اس بار کسی قابل وکیل کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ ملزم قانون کی گرفت سے بچ نہ پائیں۔اداکار ندیم اور محمد علی جو شبنم کو انصاف دلوانے کے لیے پیش پیش تھے ان سے مشاورت کے بعد شبنم اور رابن گھوش نے ایوب خان دور میں وفاقی وزیر قانون کا عہدہ سنبھالنے والے ایس ایم ظفر کو وکیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ شاید ایس ایم ظفر کے انتخاب کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ملکہ پکھراج کے داماد ہیں، معروف گلوکارہ طاہرہ سید ان کی سالی ہیں اور اسی نسبت سے ان کے فلمی دنیا سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ایس ایم ظفر اپنی کتاب ’میرے مشہور مقدمے‘ میں اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’میں نے شبنم کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو نمایاں تھے۔ میں نے شبنم سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ مقدمہ تو سرکاری معلوم ہوتا ہے۔ اس میں سرکاری وکیل ہی پیش ہو سکتا ہے میرا اتنا کہنا تھا کہ شبنم کی پلکوں پر تھمے ہوئے آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے۔بیگم صاحبہ نے اسے کئی ٹشو پیپر لا کر دیے اور وہ بار بار آنسو پوچھتی رہیں۔

دوسرے دن محمد علی کا فون آیا کہ ’پوری فلم انڈسٹری کی خواہش ہے کہ شبنم کی مکمل طور پر حمایت کی جائے لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے کہ اس مقدمہ کی ضرور پیروی کریں‘۔ایس ایم ظفر اداکارہ شبنم کی وکالت کرنے پر رضامند ہو گئے اور حکومت نے بھی انہیں اس مقدمے میں اسپیشل پراسیکیوٹر تعینات کردیا۔ اس مقدمے میں ایس ایم ظفر کے معاون وکیل میاں محمد اجمل ایڈوکیٹ تھے جو بعد ازاں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے۔دوسری طرف ملزموں نے بھی بہت مشہور وکلا کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ ایک طرف ان ملزموں کے بااثر خاندان انہیں بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے تو دوسری طرف حکومت کو ان ملزموں کر قرار واقعی سزا دینے کے لیے شدید عوامی دباؤ کا سامنا تھا کیونکہ ان بگڑے رئیس زادوں کی طرف اس نوعیت کی یہ پہلی واردات نہ تھی بلکہ اس سے پہلے بھی اسے سے ملتی جلتی وارداتیں کر چکے تھے۔ایس ایم ظفر اپنی کتاب ’میرے مشہور مقدمے‘ میں لکھتے ہیں ’دراصل اس مقدمے نے بڑی مخصوص ڈرامائی شکل اختیار کرلی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ انہی ملزموں نے اس سے پہلے زمرد ایکٹریس کے گھر پر ڈاکا ڈالا تھا اور وہاں بھی ان کا طریقہ واردات اسی قسم کا تھا کہ گھر میں داخل ہو کر خوب سکون و اطمینان سے گھر کا قیمتی سامان سمیٹ لیا۔ افراد خانہ پرحکم چلایا اور یہ افواہ بھی عام تھی کہ نوجوان ڈاکوؤں نے انسانی حدود کی بھی پاسداری نہ کی‘۔’دوسری وجہ یہ تھی کہ زمرد اور شبنم کے گھر پر ڈاکا ڈالنے والے یہ نوجوان ڈاکو شہر کے کھاتے پیتے بڑے بڑے امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے جو بہت بااثر تھے اور یہ کہ یہ نوجوان ڈاکو گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ میرے ایک کلاس فیلو اور قریبی ساتھی کے ایک عزیز بھی اس مقدمہ میں ملزم تھے‘۔میلسی سے تعلق رکھنے والے سردار خان کھچی جو سزا سے بچ نکلے، وہ دو بار پنجاب اسمبلی کے رُکن رہے اور اب وفات پا چکے ہیں۔ایس ایم ظفر نے اشارے کنائے میں جن ’انسانی حدود‘ کی بات کی ہے اس سے مراد دراصل یہ ہے کہ ان بگڑے رئیس زادوں نے اداکارہ زمرد کو بھی اسی طرح اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور یہ ان کا محبوب مشغلہ تھا۔اداکارہ شبنم چونکہ سپر اسٹار تھیں، ان کے شوہر روبن گھوش بھی بہت بڑے فنکار تھے اور پھر دونوں بنگالی تھے، ابھی چند برس قبل ہی مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تھا، سقوط ڈھاکہ کے دوران بنگالیوں کے ساتھ ہوئے مظالم کی کہانیاں زبان زدِعام تھیں اس لیے یہ واردات انٹرنیشنل نیوز بن گئی اور ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا حکومت کی مجبور بن گئی۔معروف صحافی خاور نعیم ہاشمی جو ان دنوں ضیا الحق پر تنقید کی پاداش میں لاہور کی سینٹرل جیل میں قید تھے، وہ جیل میں فاروق بندیال، وسیم یعقوب بٹ اور ان کے دیگر ساتھیوں کے اثر و رسوخ سے متعلق اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ وہاں 6 نئے قیدیوں کا اضافہ ہوا تھا جنہیں ’فاتحین شبنم‘کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ بہت دھاک تھی ان لڑکوں کی جیل میں۔ لگتا تھا سپرنٹنڈنٹ سمیت جیل کا سارا عملہ ان کے ماتحت ہے۔ ان دنوں لاہور کا سب سے بڑا بدمعاش ’شاہیا پہلوان‘ بھی اسی جیل میں تھا، اسے جیل کے اندرونی گیٹ کے قریب بوہڑ کے درخت تلے بیٹھنے کی اجازت بھی ان لڑکوں سے لینا پڑتی۔ وہ لڑکے تو جیلر کی کرسی پر بیٹھ کر عملے کو احکامات صادر کیا کرتے تھے۔سورج ڈھلنے پر کوٹھڑیوں میں بند کیے جانے سے پہلے آدھا گھنٹہ واک کی اجازت ملی تو ایک دن ’فاتحین شبنم‘ سے ملاقات ہو گئی

۔ میں نے ان سے پوچھا، تم نے ایک نامور ایکٹرس سے اجتماعی زیادتی کیوں کی؟ یہ جرم شبنم کے شوہر رابن گھوش اور ان کے کم سن بیٹے رونی کو زنجیروں سے باندھ کر ان کے سامنے کیوں کیا؟ اور یہی و اردات چند دن پہلے اداکارہ زمرد کے گھر کیوں کی گئی؟فاروق بندیال اور اس کے ساتھیوں کا دعویٰ تھا کہ وہ سب شبنم کے گھر ایک عرصہ سے جا رہے تھے۔ ہر شام وہاں جوا ہوتا جو اکثر فجر تک جاری رہتا۔ وہاں زمرد ہی نہیں کئی اداکارائیں اور تاش کی شوقین ایسی خواتین دیکھیں جن میں کئی بڑے گریڈ کے بیوروکریٹس کی بیویاں ہوتیں۔ ہمیں وہاں لوٹا گیا، وہاں ایسا سسٹم تھا کہ وہ جسے چاہیں جتوا دیں۔ جسے چاہیں قلاش کر دیں۔ ہم بھی اس گیم کے کھلاڑی ہیں جب ہمیں پتا چلا کہ فکسنگ ہوتی ہے، تو ہم نے انتقام میں یہ دونوں وارداتیں کیں۔اس دور میں فاروق بندیال اور اس کے ساتھی ملزم مزے لیکر نہ صرف ان اداکاراؤں کے جسمانی خدوخال اور پیچ و خم کا احوال بتایا کرتے بلکہ نہایت ڈھٹائی سے جوئے والی کہانی کو بطور جواز پیش کیا جاتا۔اداکارہ شبنم خود اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے گھر آئے روز پارٹیاں ہوتی تھیں اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں جوا بھی ہوتا ہو مگر فاروق بندیال، سردار خان کھچی اور وسیم یعقوب بٹ نے ساتھیوں سے ملکر جو گھناؤنی واردات کی اس کی کوئی Justificationنہیں دی جا سکتیاداکارہ شبنم کاکم سن بیٹا رونی جو تب محض نو سال کا تھا۔وہ اس واقعہ سے نفسیاتی طور پر شدید متاثر ہوا اور شبنم نے اسے فوراً بیرون ملک بھجوا دیا۔فوجی عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو اداکارہ شبنم کو بیان ریکارڈ کرنے کے لیے بلایا گیا۔ شبنم فیروزی رنگ کی پھولدار ساڑھی میں ملبوس اور سفید شال اوڑھے بہت وقار اور تمکنت سے چلتے ہوئے کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں۔ ملزموں کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے۔ شاید انہیں توقع نہیں تھی کہ شبنم تمام تر دباؤ کے باوجود ان کے خلاف گواہی دینے کے لیے آئیں گی۔شبنم نے واقعہ کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے گھر میں داخل ہونے والے ملزموں کا سرغنہ فاروق بندیال تھا۔ تفصیل بیان کرتے ہوئے شبنم بار بار اپنے آنسو صاف کر رہی تھیں۔ شبنم سے پوچھا گیا، کیا آپ عدالت میں موجود ان ملزموں کو شناخت کر سکتی ہیں؟ شبنم کی ہمت جواب دے گئی اور وہ سسکیاں لیکر رونے لگیں تو عدالت کی سربراہی کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل خالد ادیب نے سختی سے کہا، میڈم اپنے آپ کو سنبھالیں، یہ عدالت ہے، یہاں آپ کو قانون کے مطابق شہادت دینی ہے۔عدالت کے ان ریمارکس پر شبنم نے اپنی ہمت مجتمع کی اور باآواز بلند کہا، میں نے ان سب کو پہچان لیا ہے، میں انہیں کیوں نہیں پہچانوں گی، انہوں نے میرا سب کچھ لوٹ لیا ہے، میرا سکون و اطمینان تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔فوجی عدالت نے سماعت مکمل کرنے کے بعد پانچ ملزموں کو سزائے موت سنا دی۔ ایک ملزم کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ جب کہ ایک ملزم کو رہا کر دیا گیا۔ سزا سنائے جانے کے بعد ایک بار پھر اداکارہ شبنم پر دباؤ ڈال کر معافی دلوانے کی کوششیں شروع ہو گئیں اور اداکارہ شبنم اپنی جان بچانے کے لیے ان بااثر ملزموں کو معاف کرنے پر رضامند ہوگئیں۔پاکستان کی تاریخ میں ایک اور انوکھا واقعہ یہ پیش آیا کہ وکیل استغاثہ ایس ایم ظفر نے ملزموں کی طرف داری کرتے ہوئے جنرل ضیا الحق کو خط لکھ کر اپیل کی کہ ’پڑھے لکھے‘ مجرموں کو رحم کا مستحق سمجھتے ہوئے ان کی سزا کم کر دی جائے۔ایس ایم ظفر نے 26 اکتوبر 1979ء کو جنرل ضیاالحق کے نام لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا کہ میں نے دوران سماعت ملزموں کا مشاہدہ کیا ہے اور ان اسباب پر بھی غور کیا ہے جن کے تحت یہ جرم سرزد ہوا ہے۔ یہ نوجوان لڑکے گزشتہ حکومت کے مروجہ شتر بے مہار طریقہ کار کے تحت خطا کر بیٹھے۔ معاشرے میں اصلاحی اقدامات کا فقدان تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان جرائم کے ارتکاب کی ذمہ داری من حیث المجموع معاشرے اور نظام پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا میں یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ آپ اس معاملے میں توازن قائم کریں۔ جہاں قانون میں موت کی سزا ہے وہاں آپ اپنا استحقاق استعمال کرتے ہوئے بردباری کے تحت مجرموں کی سزا، عمر قید میں بدل دیں۔یہ عمل اسلام کے احسان کے فلسفہ کے عین مطابق ہوگا۔ایک وکیل جو اپنے موکل سے فیس وصول کرتا ہے، اس کی طرف سے فریق مخالف کی وکالت پیشہ ورانہ بددیانتی کہلاتی ہے یا نہیں، اس حوالے سے تو قانونی ماہرین ہی رائے دے سکتے ہیں تاہم ایس ایم ظفر بھیانک جرم کے مرتکب افراد کے لیے رحم کی اپیل کرتے وقت یہ بھول گئے کہ اسلام مجرموں کے لیے احسان نہیں بلکہ انصاف اور عدل کا تقاضا کرتا ہے۔بہرحال جنرل ضیا الحق جنہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت سے متعلق رحم کی اپیل بیک جنبش قلم یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ اسلام مساوات کا قائل ہے اور وہ نظام عدل کی راہ میں حائل نہیں ہوں گے، انہوں نے فاروق بندیال اور ان کے ساتھیوں کی سزائیں عمر قید میں تبدیل کر دیں اور پھر کچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد یہ لوگ رہا ہوگئے۔رہا ہونے کے بعد ایک اور پراپیگنڈا یہ کیا گیا کہ انہیں گینگ ریپ کے جرم میں سزا نہیں ہوئی بلکہ ڈکیتی کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ نظام عدل اور نظام حکومت نے ملکر ان بااثر مجرموں کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی ورنہ پاکستان پینل کوڈ میں ڈکیتی کی زیادہ سے زیادہ سزاعمر قید ہے، اگر ان لوگوں نے محض لوٹ مار کی ہوتی تو انہیں ہرگز سزائے موت نہ ہوتی۔اگرچہ ایس ایم ظفر اپنی کتاب میں یہ واقعات محتاط انداز میں بیان کرتے ہوئے گینگ ریپ والی بات چھپا گئے مگر ایک پیراگراف سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فاروق بندیال اور ان کے ساتھیوں کا اصل جرم اجتماعی زیادتی ہی تھا۔ایس ایم ظفر اپنی کتاب ’میرے مشہور مقدمے‘ میں لکھتے ہیں ’زنابالجبر کے مقدمات کی تحقیق سے یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ مستغیثہ ذہنی طور سے یہ سمجھتی ہے کہ جو کچھ ہوگیا ہے سو ہوگیا ہے، اس اس کی تلافی مجرم کو سزا دلانے سے تو نہ ہو سکے گی، البتہ اس سے مزید سبکی ضرور پیدا ہوگی اور واقعات کا ذکر کرکے جو ذہنی اذیت اور کوفت پہنچے گی وہ الگ اور مقدمہ کی شہرت سے بدنامی میں جو اضافہ ہوگا وہ الگ سوہان روح ثابت ہوگا، چنانچہ اکثر خواتین یہی بات سوچ کر سرے سے مقدمہ درج ہی نہیں کرواتیں‘۔یہ بات ایس ایم ظفر نے اداکارہ شبنم کے فوجی عدالت میں بیان ریکارڈ کروانے کے تناظر میں لکھی ہے جس سے اس بات کی واضح طور پر تصدیق ہوتی ہے کہ شبنم کی ہچکچاہٹ کی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ زنا باالجبر کے صدمے سے گزریں۔ یہ باتیں بھی زیر گردش رہیں کہ جب ملزم رہا ہوگئے اور شبنم کی زندگی برباد ہوگئی تو انہوں نے بنگلہ دیش جانے کی کوشش کی جہاں ان کے والدین مقیم تھے مگر ضیا الحق سرکار نے انہیں یہ سوچ کر جانے کی اجازت نہ دی کہ اگر وہاں جا کر شبنم نے اپنی خاموشی توڑ دی تو ملک کی بدنامی ہوگی۔فاروق بندیال کے ماموں فتح خان بندیال اب وفاقی سیکریٹری داخلہ بن چکے تھے اور شبنم کئی برس وزارت داخلہ سے این او سی لینے کے لیے ماری ماری پھرتی رہیں۔ آخر کار انہوں نے درخواست دی کہ ان کے والد شدید بیمار ہیں اور وہ ان کی عیادت کے لیے جانا چاہتی ہیں، تب کہیں جا کر انہیں بنگلہ دیش جانے کی اجازت ملی، وہ بنگلہ دیش گئیں اور پھر دہائیوں لوٹ کر نہ آئیں۔ضیا الحق سرکار نے شبنم کو بنگلہ دیش جانے کی اجازت نہ دی کہ اگر وہاں جا کر شبنم نے اپنی خاموشی توڑ دی تو ملک کی بدنامی ہوگی۔اداکارہ شبنم اپنے شوہر رابن گھوش کی وفات کے بعد چند برس قبل تب پاکستان آئیں جب انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینے کے لیے مدعو کیا گیا۔اس واقعہ میں ملوث بگڑے رئیس زادوں کی جوانیاں بھی اب ڈھل چکی ہیں،

میلسی سے تعلق رکھنے والے سردار خان کھچی جو سزا سے بچ نکلے، وہ دو بار پنجاب اسمبلی کے رُکن رہے اور اب وفات پا چکے ہیں۔فاروق بندیال نے عمران خان سے ملاقات کرکے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا تو سوشل میڈیا پر سخت احتجاج کیا گیا، جس کے بعد انہیں پی ٹی آئی سے نکانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے وسیم یعقوب بٹ اب اے ایم ایچ میٹل انڈسٹریز کے نام سے کاروبار کرتے ہیں۔اب آتے ہیں اس آخری سوال کی طرف کہ شبنم زیادتی کیس کے مرکزی کردار فاروق بندیال کا پاکستان کے سابقہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے کیا تعلق ہے؟ فاروق بندیال جسٹس عمر عطا بندیال کے فرسٹ کزن ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال کے والد ایف۔کے بندیال جو بہت بااختیار اور طاقتور بیوروکریٹ تھے، فاروق بندیال ان کے بھانجے ہیں اور مبینہ طور پر ان کے ماموں نے ہی انہیں بچانے اور رہا کروانے میں اہم کردار اداکیا بقلم ۔۔ بلال غوریعجیب و غریب تاریخ—وزیراعظم ۔۔۔خطابوزیراعظم نے اسلام آباد ،آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے لئے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کر دیا ، کمزور طبقے کا سہارا بننا ریاست کی ذمہ داری ہے ، شہباز شریفاسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ،آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے مفت علاج کے لئے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کر تے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم صحت کارڈ کا اجراء عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے،علاج اور صحت کی سہولیات کا حصول عوام کا بنیادی حق ہے،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کا سہارا بنے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں وزیراعظم صحت کارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وفاقی وزرا ارکان قومی اسمبلی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ علاج اور صحت کی سہولیات کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے،حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر یہ سہولتیں فراہم کر رہی ہے، 2016 میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کیا تھا اور صوبوں میں بڑی تیزی سے یہ پروگرام عوام تک پہنچا اور لاکھوں خاندان اس سے مستفید ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صحت سے زیادہ زندگی میں کوئی اور چیز قیمتی نہیں ہے،صحت ہوگی تو تعلیم ،کھیل اور زندگی کے ہر شعبے میں سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں اور مخالفین کو بھی شکست فاش دے سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے،اسلام آباد ،آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے بھائیوں اور بہنوں کے لئے وزیراعظم صحت کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے ،اس کے لئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال ،سیکرٹری صحت اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صحت کارڈ کا اجرا عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے، پاکستان میں اشرافیہ امریکہ ،یورپ اور دیگر ممالک میں اپنے اور اپنے بچوں کے لئے مہنگے ترین علاج کا انتظام کرا سکتی ہے لیکن عام آدمی ،مزدوروں اور غریب طبقے کے لئے بہت مشکلات ہیں، صحت ہوگی تو انسان باوقار طریقے سے روزگار کما سکے گا، صحت ہوگی تو نوجوان کھیلوں کے میدان میں ملک کا نام روشن کریں گے ،صحت ہوگی تو ہر میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے،مجھے امید ہے کہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے ،اس سے دین اور دنیا دونوں میں بھلائی ہو گی، تھرڈ پارٹی کے ذریعے پروگرام میں شفافیت یقینی بنائی جائے،ریاست عام شہری کے علاج کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں صحت کارڈ پروگرام کے اجراء کی تجویز قابل غور ہے،سندھ کا یقیناً اپنا پروگرام ہوگا ،وزیراعلیٰ سندھ سےاس حوالے سے بات کر کے اس کا حل نکالیں گے تاکہ وہاں پر بھی یہ سہولت میسر ہو۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی صحت کے پروگرام موجود ہیں ، پنجاب میں بھی بڑی کامیابی کے ساتھ صحت کارڈ پروگرام پر عملدرآمد جاری ہے اور اربوں روپے اس پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2016 میں اس پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا، صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اسلام آباد ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ لوگوں کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی، حکومت صحت کی سہولیات ہر شہری تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے، یہ پروگرام ایک کروڑ سے زائد شہریوں کو علاج کی سہولت فراہم کرے گا،اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 70 ہسپتال پروگرام میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جو وزیراعظم صحت کارڈ استعمال نہیں کر رہا، باقی تمام صوبوں میں یہ سہولت حاصل ہے، وزیراعظم کے وژن اور قیادت سے صحت کا نظام مضبوط اور پائیدار ہوگا ،وزیراعظم صحت کارڈ ملک میں صحت کی سہولیات کو عوام تک پہنچانے کا تاریخی قدم ہے، کراچی میں صحت کارڈزکے لئے 16 ہسپتال مختص کئے گئے ہیں۔وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ یکم جنوری 2016 کو صحت کارڈ کے جس سفر کا آغاز کیا گیا تھا وہ اب یونیورسل ہیلتھ کوریج کی شکل اختیار کر چکا ہے،غربت سرویز کے مطابق 66 فیصد لوگ خط غربت سے اس لئے نیچے چلے جاتے ہیں کہ وہ صحت کے اخراجات برداشت نہیں کرپاتے ۔وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا تاریخی اقدام ہے، صحت کارڈ پروگرام سے ہر پاکستانی کے لئے کیش لیس علاج کی سہولت حاصل ہوگی،600 سے زائد ہسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت حاصل ہوگی کہیں بھی رقم کی ادائیگی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی،شناختی کارڈ اور بچوں کے ب فارم کو صحت کارڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، صحت کارڈ پروگرام ہر پاکستانی کے لئے کیش لیس علاج کی سہولت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال کی کوششوں کے بعد یہ پروگرام یونیورسل ہے ،600 سے زائد پبلک اور پرائیویٹ ہسپتال کیش لیس علاج فراہم کریں گے ،گلگت کے پہاڑی علاقوں سے لے کر گوادر کے ساحلوں تک ہر کسی کو مفت سہولت حاصل ہوگی،یہ نظام مستقبل میں وبائی امراض یا ایمرجنسی کی صورت میں فوری رسپانس کے لئے مددگار ثابت ہوگا۔اس موقع پر وزیراعظم نے اسلام آباد ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے وزیراعظم صحت کارڈز بھی تقسیم کئے

پی ایس ایل گورننگ کونسل کا آج ہونے والا اہم اجلاس ملتوی اجلاس کل رات 7 بج کر 30 منٹ پر ہوگا۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا۔۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ معاہدے سے الگ ہے۔ وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج کا بیان۔۔ سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن میں خوارج۔۔۔۔کے 40 جان بحق ۔۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کی کردار کشی کی مہم چلانے والے مسلم لیگ نواز آئرلینڈ کے رہنما احسان چٹھہ عرف مٹھا جی کیخلاف تھانہ Nccia لاہور میں سائبر دہشتگردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔امریکہ کا ایران پر ممکنہ حملہ پر میرا تجزیہ. ایران پر حملہ خطے کو تباہی سے دوچار کریگا۔ اسکو روکنا ہو ھوگا ۔ پاکستان، ترک، سعودی عرب اور مشرق وسطہ ، جنوبی ایشیا کے ممالک اپنی معیشت جیسے ہی ٹھیک کرتے ہیں ، امریکہ بہادر اسلحہ اور بارود لیکر آ دھمکتے ہیں ۔بلاول بھتو کی سندھ حکومت کی 17 سالہ کارکردگی پر بریفنگ۔50 ھزار ارب روپے کی کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن۔۔سیکنڈ مارکو روبیو نے 75 ممالک سے تمام غیر ملکی ویزا پروسیسنگ کو غیر معینہ مدت کے لیے منجمد۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان ہاکی کے سنہری دور میں ایک نام ریحان بٹ کا بھی تھا- جو اپنی بے خوف ڈرِبلنگ کے لیے نمایاں تھا— 6 جولائی 1980 کو لاہور میں پیدا ہونے والے ریحان بٹ پاکستانی فارورڈ لائن کی دھڑکن بن گئے، اور تین اولمپکس گیمز اور دو ورلڈ کپ کے دوران شائقین کو محظوظ کیا۔ 274 کیپس اور 109 گولز نے، بٹ کی اسٹک ورک اور وژن نے میچز کو جادوئی لمحات میں بدل دیا۔دوحہ 2006 میں کانسی سے لے کر Guangzhou 2010 میں سونے تک، انہوں نے ایشیائی میدان پر پاکستان کا پرچم بلند کیا، جبکہ 2006 کامن ویلتھ گیمز میں بھی چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ان کی برتری چیمپیئنز ٹرافی میں بھی نمایاں تھی، جہاں پاکستان نے ابتدائی 2000 کی دہائی میں مسلسل تین مرتبہ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ، بٹ کو دو مرتبہ FIH آل سٹار ٹیم میں شامل کیا گیا اور 2008 میں بہترین ایشین کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا۔بٹ کی کہانی صرف تمغوں کے بارے میں نہیں ہے—یہ ایک قوم کی ہاکی میں کامیابی کی خواہش کو لے کر چلنے کے بارے میں ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی، وہ ایک رہنما کے طور پر کھیل کی خدمت جاری رکھتے ہیں، تاکہ پاکستان کے ہاکی خواب زندہ رہیں۔

توہین کا ایک تازہ کیس کیسے بنایا گیا۔10 تاریخ کو پنجاب بھر میں وکلا کے ضلعی بارز کے الیکشن تھے۔ ہماری تاریخ ہے کہ الیکشن چاہے وکلا کے ہوں، صحافیوں کے یا ڈاکٹرز کے، ہلڑ بازی، تنازع، تلخ کلامی، مدمقابل گروہوں میں چپقلش رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ الیکشن پرامن ماحول میں ہونا چاہئے۔ لیکن افسوس کہ مجموعی طور پر ماحول بہتر نہیں رہتا۔10 تاریخ کو میاں چنوں بار میں ووٹنگ کے دوران تنازع ہوا۔ کسی ایک پارٹی کے کارندے/کارندوں نے ووٹر پرچیاں پھاڑ کر پھینک دیں۔ دوسری پارٹی نے پکڑے جانے والے بندے کے ساتھ جہاں موقع پر “انصاٖف” (تشدد) کیا، وہیں اس کیخلاف ایف آئی آر بھی درج کروائی۔ میں نے تنازع کے بعد متاثرہ فریق (وکلا) کی پولیس آفیشلز کے ساتھ گفتگو کی ویڈیو دیکھی

۔ وہ ایف آئی آر میں توہین کی دفعات لگانے کا بھی اصرار کر رہے تھے۔ کہ جن ووٹر پرچیوں کو پھاڑا گیا ان پر ووٹرز کے نام لکھے ہوئے تھے جن میں “محمد، علی، فاروق اور فاطمہ” کے نام بھی شامل تھے۔ پولیس آفیشلز پہلے تو اس ایف آئی آر میں توہین کی دفعہ شامل کرنے پر راضی نہ تھے لیکن دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دیے کہ وکلا احتجاج کرنا شروع ہو گئے تھے اور دھرنا دے دیا تھا۔مجھے بتائیے، ایک سادہ الیکشن کے تنازعے پر آپ کسی شخص یا مخالف گروہ کو توہین کا مرتکب کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ کیا یہ معاملہ اتنا ہی آسان ہو گیا ہے کہ صرف مخالف فریق کو زیادہ رگڑا لگوانے کیلئے توہین کی سخت دفعات لگوا دی جائیں یہ دیکھے بغیر کہ کسی کی ایسا کرنے کی نیت تھی بھی یا نہیں؟ کیا اس ملک میں اکثریت مسلمان نہیں؟ کیا توہین کے قانون کو اس طرح استعمال کر کے ہم لوگ خود دنیا کو اس قانون پر تنقید کا موقع نہیں دے رہے؟ کیا توہین کے مرتکب ملزمان کے والدین اور متاثرین کا موقف درست ہے کہ ان کے بچوں کی خدانخواستہ توہین کرنے کی نیت نہیں تھی، انہیں ٹریپ کیا گیا۔ کیا ہم اپنی معمول کی لڑائی یا تنازعہ میں اصل مدعیٰ پر رہیں گے یا معاملے کو گھوم پھر کر توہین کا رنگ دے کر مخالف کو معاذ اللہ گستاخ رسول یا گستاخ قرآن و مذہب قرار دلوانے کی کوشش کریں گے اور اس قانون کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گے؟ کیا آپ کو خدا و رسول کا ذرہ بھر خوف نہیں؟ کہ وہ تو سب جانتے ہیں کہ معاملہ اصل میں ہے کیا تھا اور آپ نے اسے کیا رنگ دے دیا۔ کیا آپ کو مرنے کے بعد اس بابت پوچھے جانے سے متعلق کوئی ڈر نہیں کہ پوچھا جائے کہ باقی گناہ بھی ہیں لیکن تمہیں ذرا بھر شرم نہ آئی کہ خالص اپنی لڑائی میں ہمارے ناموں کو شامل کر لیا۔میں یہ نہیں کہتا کہ الیکشن کے اس واقعہ کی ایف آئی آر درج نہ ہوتی۔

اگر قابل دست اندازی پولیس کیس بنتا ہے تو ضرور ایف آئی آر درج ہونی چاہیے، لیکن الیکشن کے اس تنازع پر مخالف فریق پر توہین کا الزام۔۔۔۔۔۔۔۔؟میری جیب سے ابھی سو اور دس کا ایک نوٹ نکلا ہے۔ ان نوٹوں پر احمد، رضا اور باقر کے نام لکھے ہیں۔ پہلا نام نبی پاک کا صفاتی نام ہے۔ دوسرے نام امام رضا اور امام باقر کے ناموں پر۔ آپ لوگ شادی بیاہ، محفل نعت، تقریبات، ناچنے گانے والوں، والیوں پر نوٹ پھینکتے ہیں۔ یہ نام زمین پر گرتے ہیں، پاؤں تلے روندے جاتے ہیں۔ توہین کے پرچے کروائیں؟طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ۔

عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی، دارالحکومت میں اضطراب: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے کی اعلیٰ قیادت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی، عوامی سطح پر انتظامیہ کی برطرفی کے مطالباترانا تصدق حسیناسلام آباد — وفاقی دارالحکومت میں انتظامی سرکشی کو بے نقاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے ایک فیصلہ کن عدالتی اقدام کے تحت چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) محمد علی رندھاوا، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ، اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ کامران بخت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ کارروائی نور پور شاہاں کے رہائشیوں کے خلاف عدالتی احکامات کے باوجود جاری جبری آپریشنز اور عدالتی فیصلوں پر دانستہ عدم عملدرآمد کے باعث کی گئی

۔جسٹس اکرام امین منہاس نے رِٹ پٹیشن نمبر 4026/2020 سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران سی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کے طرزِ عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 16 جنوری کے لیے باضابطہ توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ سی ڈی اے کی کارروائیاں بادی النظر میں عدالتی اختیار اور قانون کی حکمرانی کو براہِ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہیں۔حتمی فیصلہ نظرانداز، آپریشن جاریتوہینِ عدالت کی درخواست اصل درخواست گزار تنظیر حسین کی جانب سے دائر کی گئی، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 26 جون 2025 کو دیا گیا حتمی اور واجب التعمیل عدالتی فیصلہ ہونے کے باوجود سی ڈی اے نے دانستہ طور پر اس پر عملدرآمد نہیں کیا۔عدالتی فیصلے کے برعکس انفورسمنٹ آپریشنز میں شدت لائی گئی، جس کے نتیجے میں نور پور شاہاں کے رہائشیوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا—جو کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں واضح کیا گیا کہ:فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر چکا تھاکسی قسم کی حکمِ امتناعی، معطلی یا ترمیم نافذ نہیں تھیسی ڈی اے حکام فیصلے سے مکمل طور پر آگاہ تھےاس کے باوجود انفورسمنٹ کارروائیاں جاری رہیں، جو دانستہ توہینِ عدالت کے زمرے میں آتی ہیںان حقائق کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی احکامات کے تقدس کے تحفظ اور انتظامی

تجاوزات کو روکنے کے لیے توہینِ عدالت کی کارروائی ناگزیر قرار دیا۔

قانونی برادری کی بے مثال یکجہتیسماعت کے دوران قانونی برادری کی غیر معمولی یکجہتی دیکھنے میں آئی۔اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد بار کونسل، اور نور پور شاہاں کے متاثرہ مکینوں کی نمائندگی کرنے والے مقامی وکلا کی بڑی تعداد عدالت میں پیش ہوئی۔ وکلا نے بے دخل کیے گئے شہریوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کی ناگزیر حیثیت کو اجاگر کیا۔عوامی غم و غصہ، انتظامیہ کے خلاف شدید ردِعملعدالتی کارروائی کے ساتھ ہی اسلام آباد میں عوامی غصہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔شہریوں، سول سوسائٹی اور قانونی کارکنوں نے چیئرمین سی ڈی اے، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ڈائریکٹر ڈی ایم اے کی فوری برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ عہدیداران عوامی خدمت کے بجائے نمائشی اقدامات، آئینی انحراف اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔مظاہرین اور شہری تنظیموں نے انفورسمنٹ اختیارات کے مسلسل غلط استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو قانون، شفافیت اور جوابدہی کے بجائے خوف، تشہیری مہمات اور من مانی مسماریوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔آئینی حکمرانی کا کڑا امتحانقانونی ماہرین نور پور شاہاں کے معاملے کو پاکستان میں آئینی حکمرانی، سول انتظامیہ کی جوابدہی اور عدالتی بالادستی کا ایک فیصلہ کن امتحان قرار دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اختیار عوام کے ذریعے، عوام کے لیے اور عوام کی مرضی کے مطابق استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ جبر، طاقت کے مظاہرے اور عدالتی حدود سے تجاوز کے ذریعے۔یہ کیس 16 جنوری کو دوبارہ مقرر ہے، جب نامزد افسران کو ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہو کر یہ وضاحت دینا ہوگی کہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔

عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟نشریاتی دنیا کی ایک معتبر آواز، عشرت فاطمہ، تقریباً 45 سال تک ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستہ رہنے کے بعد خاموشی سے پسِ منظر میں چلی گئیں۔ وہ محض ایک خبر رساں نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے اپنے مخصوص لہجے اور درست تلفظ سے نشریات کو ایک اعلیٰ معیار عطا کیا۔عشرت فاطمہ نے ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں اپنی جذباتی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جس ادارے کو وہ اپنا گھر اور پہلی محبت سمجھتی تھیں، وہاں سے علیحدگی کا فیصلہ کتنا مشکل تھا۔ انہوں نے ادارے کے اندرونی ماحول پر بات کرتے ہوئے کہا:”جب آپ کسی کا مقابلہ کام سے نہیں کر سکتے، تو آپ نیگیٹیو طریقے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں اس کی زندگی ہی چھین لو، اس کی سانسیں ہی چھین لو، اس کے لیے وہ سپیس ہی ختم کر دو جہاں پر بیٹھ کر وہ کام کر رہا ہے۔”وہ طویل عرصے تک اس امید میں رہیں کہ شاید حالات بدلیں اور انہیں ایک ‘لیجنڈ’ کے طور پر وہ مقام ملے جس کی وہ حقدار تھیں، لیکن ان کے بقول انہیں مسلسل یہ احساس دلایا گیا کہ اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔عشرت فاطمہ یہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں کہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں آج بھی مکمل طور پر برقرار ہیں، لیکن پھر بھی وہ گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کی سرد مہری کے بارے میں انہوں نے کہا:”ادارہ دراصل در و دیوار، مائیکس، کیمرے اور راہداریوں کا نام ہے، یہ محسوس نہیں کرتا، محبت نہیں کرتا۔ اگر یہ محسوس کر سکتا تو شاید مجھے روک لیتا، گلے لگا لیتا اور میں رک جاتی۔”ان کا ماننا ہے کہ بولنا اور الفاظ کے ذریعے سچ پہنچانا ان کے لیے محض نوکری نہیں بلکہ ایک جنون رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا:”بولنا، الفاظ سے کھیلنا اور آواز کے ذریعے لوگوں تک سچ پہنچانا میرے لیے محض روزگار نہیں بلکہ عشق رہا ہے۔”عشرت فاطمہ کا تعلق ایک مہذب اور علمی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد، شفقت حسین، قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کر کے آئے تھے۔ یہی تہذیب ان کی شخصیت کی سنجیدگی میں نظر آتی ہے۔انہوں نے اسلام آباد سے اردو میں ایم اے کیا۔ 1983 میں ریڈیو اور ٹی وی سے کیریئر شروع کیا اور 1984 سے باقاعدہ خبریں پڑھنے کا آغاز کیا۔ان کی شادی ثاقب باقری سے ہوئی، جن کا تعلق میڈیا سے نہیں ہے۔ ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ وہ اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رکھنے کی قائل رہی ہیں۔ لہذا ان کے نجی زندگی کے بارے میں ذیادہ معلومات دستیاب نہیں ہے۔ اپنے دکھ کے باوجود، عشرت فاطمہ نے واضح کیا کہ وہ اداروں سے ناراض نہیں ہیں بلکہ انہیں اپنی “پہلی محبت اور پہلا عشق” سمجھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے چاہنے والوں سے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا:”میں اس دکھ سے گزر رہی ہوں اور دعا چاہتی ہوں کہ میری یہ محبت میرے لیے درد نہ بنے۔”وہ اب سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے سامعین سے رابطے میں رہنے اور اپنے تجربات شیئر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، تاکہ عوامی محبت کا یہ سلسلہ منقطع نہ ہو۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کی سینئر براڈ کاسٹر عشرت فاطمہ کے گھر آمد عشرت فاطمہ کی نیوز کاسٹنگ اور براڈکاسٹنگ سروسز کے حوالے سے ایک پہچان ہے، عطاء اللہ تارڑ عشرت فاطمہ نے اپنے 45 سالہ کیریئر میں ملک کے لئے خدمات سر انجام دیں، عطاء اللہ تارڑ پاکستان کا بچہ بچہ ان کو جانتا ہے۔ عطاء اللہ تارڑعشرت فاطمہ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان ہیں، عطاء اللہ تارڑ ان سے درخواست کی ہے کہ بطور مینٹور پاکستان ٹیلی ویژن آئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعاتعشرت فاطمہ نے ہمیشہ پیشہ ورانہ انداز سے کام کیا، عطاء اللہ تارڑ عشرت فاطمہ کا کبھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا، عطاء اللہ تارڑانہوں نے پروفیشنل طور پر اپنی پوری زندگی گزاری ہے، عطاء اللہ تارڑوزیر اطلاعات کی جانب سے عزت افزائی کی مشکور ہوں، عشرت فاطمہحوصلہ افزائی اور محبت کا اظہار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، عشرت فاطم

ہسپتالوں کے 15 کڑوے اور خفیہ حقائقہسپتالوں کی سفید عمارتوں اور سفید کوٹ کے پیچھے اکثر ایسے ”سیاہ سچ“ چھپے ہوتے ہیں جن سے ایک عام مریض اور اس کے لواحقین بے خبر رہتے ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ڈاکٹرز آپس میں تو کرتے ہیں، لیکن آپ کے سامنے کبھی نہیں کریں گے۔یہ رہے ہسپتالوں کے 15 کڑوے اور خفیہ حقائق1-جولائی ایفیکٹ (The July Effect)دنیا بھر کے (اور خاص طور پر ٹیچنگ) ہسپتالوں میں سال کے کچھ مخصوص مہینوں میں (اکثر جولائی/اگست) نئے اور ناتجربہ کار ڈاکٹرز (House Officers/Interns) آتے ہیں۔ اس دوران طبی غلطیوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ آپ دراصل ان کے لیے ”سیکھنے کا سامان“ (Practice Subject) ہوتے ہیں۔2-ہسپتال،جراثیم کا گھرہسپتال صحت یاب ہونے کی جگہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ سب سے گندی جگہ بھی ہے۔ یہاں ”سپر بگس“ (Superbugs) ہوتے ہیں۔وہ جراثیم جن پر اینٹی بائیوٹکس اثر نہیں کرتیں۔ اکثر مریض اپنی بیماری سے نہیں بلکہ ہسپتال سے لگنے والے انفیکشن (Hospital Acquired Infection) سے مر جاتے ہیں۔3-غیر ضروری ٹیسٹ اور کمیشنیہ ایک کھلا راز ہے کہ بہت سے پرائیویٹ ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کا گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر آپ کو وہ ٹیسٹ بھی لکھ کر دیتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ ہر ٹیسٹ پر ڈاکٹر کا 20 سے 40 فیصد ”کمیشن“ (Cut) فکس ہوتا ہے۔4-وینٹیلیٹر کا میٹرپرائیویٹ ہسپتالوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مریض دماغی طور پر مردہ (Brain Dead) ہو چکا ہوتا ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی، لیکن ہسپتال والے اسے وینٹیلیٹر پر رکھتے ہیں تاکہ ”میٹر چلتا رہے“ اور لاکھوں کا بل بن سکے۔5-جمعہ کی دوپہر اور ویک اینڈ کا خطرہکوشش کریں کہ جمعہ کی دوپہر یا چھٹی والے دن سیریس آپریشن نہ کروائیں۔ ان دنوں میں سینئر اور ماہر ڈاکٹرز چھٹی پر ہوتے ہیں اور ہسپتال جونیئر سٹاف کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ ویک اینڈ پر ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔6-ڈاکٹر کی نیند اور تھکاوٹآپ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر خدا کا روپ ہے، لیکن وہ ایک انسان ہے۔ ہو سکتا ہے جو سرجن آپ کا پیچیدہ آپریشن کرنے لگا ہے، وہ پچھلے 24 گھنٹوں سے سویا نہ ہو یا کسی گھریلو پریشانی میں مبتلا ہو۔ نیند کی کمی ڈاکٹر کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔7-سی سیکشن (C-Section) کا بزنسآج کل نارمل ڈیلیوری بہت کم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ صرف پیچیدگی نہیں، بلکہ ”وقت“ اور ”پیسہ“ ہے۔ نارمل ڈیلیوری میں گھنٹوں لگتے ہیں اور بل کم بنتا ہے، جبکہ بڑا آپریشن (C-Section) 45 منٹ میں ہو جاتا ہے اور بل بھی ڈبل بنتا ہے۔8-دوا ساز کمپنیوں کے تحفےڈاکٹر اکثر آپ کو وہ دوائی نہیں لکھ کر دیتا جو سب سے سستی اور اچھی ہو، بلکہ وہ لکھتا ہے جس کی کمپنی نے اسے ”کانفرنس“ کے نام پر یورپ کا ٹرپ یا مہنگا تحفہ دیا ہو۔ یہ ”نسخہ“ دراصل ”بزنس ڈیل“ ہوتی ہے۔9-موت کی خبر چھپانا (False Hope)ڈاکٹر اکثر جانتے ہیں کہ مریض نہیں بچے گا، لیکن وہ لواحقین کو فوراً نہیں بتاتے۔ وہ کہتے ہیں ”اگلے 24 گھنٹے اہم ہیں، دعا کریں“

۔ یہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ فیملی کو ذہنی طور پر تیار کیا جا سکے اور ہسپتال پر توڑ پھوڑ کا خطرہ کم ہو۔10-وی آئی پی کلچرہسپتال میں ”خون“ سب کا لال ہوتا ہے لیکن پروٹوکول الگ ہوتا ہے۔ اگر آپ کی جان پہچان یا سفارش ہے، تو آپ کو سینئر ڈاکٹر دیکھے گا، ورنہ آپ وارڈ بوائے اور نرسوں کے آسرے پر رہیں گے۔11-کوڈ ورڈز (Code Words)ڈاکٹر اور سٹاف آپ کے سامنے ایسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جو آپ نہ سمجھ سکیں۔ مثلاً کچھ ممالک میں ڈاکٹرز انتہائی بگڑے ہوئے کیس کے لیے ”GPO“ (Good for Parts Only) یا اسی قسم کے کوڈز استعمال کرتے ہیں تاکہ مریض کو اپنی حالت کا علم نہ ہو۔12-سرکاری بمقابلہ پرائیویٹ رویہوہی ڈاکٹر جو سرکاری ہسپتال میں آپ کو ڈانٹ کر باہر نکال دیتا ہے، شام کو اپنے پرائیویٹ کلینک میں آپ کو مسکرا کر ملتا ہے۔ فرق ”آپ“ نہیں، فرق وہ ”فیس“ ہے جو آپ نے ادا کی ہے۔13-غلطی تسلیم نہ کرنااگر آپریشن کے دوران ڈاکٹر سے کوئی نس کٹ جائے یا غلطی ہو جائے، تو وہ کبھی آپ کو نہیں بتائیں گے۔ وہ اسے ”پیچیدگی“ (Complication) کا نام دے کر فائل بند کر دیں گے، کیونکہ غلطی ماننے کا مطلب ہے قانونی کارروائی اور بدنامی۔14-دوائیوں کی غلطی (Medication Errors)ہسپتالوں میں نرسنگ سٹاف کی تبدیلی (Shift Change) کے دوران اکثر مریضوں کو غلط دوائی یا غلط ڈوز دے دی جاتی ہے۔ یہ غلطیاں ریکارڈ پر نہیں لائی جاتیں جب تک کہ ری ایکشن بہت شدید نہ ہو۔15-آپ صرف ایک ”کیس“ ہیںآپ کے لیے آپ کا مریض ”پوری دنیا“ ہے، لیکن ڈاکٹر کے لیے وہ بیڈ نمبر 14 پر لیٹا ہوا ”گردے کا مریض“ ہے۔ ڈاکٹروں کو جذباتی طور پر ”ڈی ٹیچ“ (Detach) ہونا سکھایا جاتا ہے، ورنہ وہ روزانہ درجنوں اموات دیکھ کر کام نہیں کر پائیں گے۔ ان کی بے حسی ان کی مجبوری بھی ہے۔ہر ڈاکٹر برا نہیں ہوتا اور مسیحا آج بھی موجود ہیں، لیکن سسٹم ایک ”کاروبار“ بن چکا ہے۔ہسپتال جاتے وقت آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہ کریں، اپنی تحقیق کریں اور سوال پوچھنا سیکھیں۔

سیکنڈ مارکو روبیو نے 75 ممالک سے تمام غیر ملکی ویزا پروسیسنگ کو غیر معینہ مدت کے لیے منجمد کر دیا۔افغانستان، البانیہ، الجیریا، انٹیگوا اور باربوڈا، آرمینیا، آذربائیجان، بہاماس، بنگلہ دیش، بارباڈوس، بیلاروس، بیلیز، بھوٹان، بوسنیا، برازیل، برما، کمبوڈیا، کیمرون، کیپ وردے، کولمبیا، کوٹ ڈی آئیوری، کیوبا، ڈیموکریٹک ریپبلک، مصر، ایوریا، ڈومینیکا فجی، گیمبیا، جارجیا، گھانا، گریناڈا، گوئٹے مالا، گنی، ہیٹی، ایران، عراق، جمیکا، اردن، قازقستان، کوسوو، کویت، کرغزستان، لاؤس، لبنان، لائبیریا، لیبیا، مقدونیہ، مالڈووا، منگولیا، مونٹی نیگرو، مراکش، نیپال، مراکش جمہوریہ، روس، نیپال، کانگرو، نیپال روانڈا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوسیا، سینٹ ونسنٹ اور گریناڈائنز، سینیگال، سیرا لیون، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، تنزانیہ، تھائی لینڈ، ٹوگو، تیونس، یوگنڈا، یوراگوئے، ازبکستان اور یمن۔

گیارہ ھزار 9 سو 43 ارب روپے کے 21 ماہ میں نئے قرضے۔۔50 ھزار ارب روپے کی کرپشن۔۔پاکستان میں مھنگای اور کرپشن کا مقابلہ جاری 25 کروڑ عوام مافوق کے شکنجے میں۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق مارچ 2024 سے نومبر 2025 کے21 مہینوں کےدوران وفاقی حکومت کےمقامی قرضے میں 11ہزار 943 ارب روپے اور وفاقی حکومت کے بیرونی قرضے میں 790ارب روپے کا اضافہ ہوا۔جس کے بعد وفاقی حکومت کاقرضہ نومبر2025تک بڑھ کر 77ہزار 543ارب روپےہو گیا۔جبکہ نگران حکومت کے آخری مہینےفروری2024 تک وفاقی حکومت کے قرضے 64 ہزار810ارب روپے تھے۔#ShahbazSharif#StateBankofPakistan مطلب قرضے وی تے عوام دی ٹھکائی وی

پاکستان ویمن کا ساؤتھ افریقہ کے خلاف ونڈے اور ٹی ٹونٹی سکواڈ کا اعلان۔۔شاہ رضا پھلوی خاندان ایک بار پھر ایران پر حکمرانی کی طرف گامزن۔۔بحرین میں پاکستانی صدر کی اھم ترین ملاقاتیں جاری۔۔سی ڈی اے چیرمین کی طلبی اور باز پرس۔امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کیلئے ویزے کا عمل روک دیا۔ امریکہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے امیگریشن ویزہ پراسس کرنے پر عارضی پابندی لگا دی۔وینزویلا کا آرمی چیف کو موت کی سزا۔۔ایران میں مظاھروں میں 200 افراد ہلاک۔۔قومی اسمبلی ھاوس بزنس ایڈوازری کمیٹی کا اجلاس۔2 ھزار ارب روپے کی کرپشن ذمہ دار شکنجے میں۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سید عاصم منیر چیف آف ڈیفنس فورسز کے سربراہ عاصم ملک *ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات* *پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جدت کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط* وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے اسلام آباد میں ورلڈ لبرٹی فنانشل، امریکہ کے وفد نے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف (Zachery Witkoff) کی قیادت میں ملاقات کی۔

نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کے لیے اپنے وژن کا اظہار کیا جس کا مقصد شہریوں کے لیے روابط، آسان رسائی اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ اور مالیاتی جدت پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کے اہم حصے ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی مارکیٹس میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن رہا ہے۔

مسٹر زچری وِٹکوف نے پاکستان کے ساتھ ایک محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کیلئے کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی، جس میں سرحد پار سیٹلمنٹ اور زرمبادلہ کے حصول و ادائیگی کے عمل میں جدتیں شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی جو عالمی ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے ملک کو ایک اہم ملک کے طور پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے نیکسٹ جنریشن ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار مالیاتی جدتوں کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفینس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حکومت پاکستان اور SC فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا مشاہدہ کیا، جو کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ادارہ ہے، تاکہ سرحد پار لین دین کے لیے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگی کے آرکیٹیکچرز کے بارے میں مکالمے اور تکنیکی سمجھ بوجھ کے تبادلوں کو ممکن بنایا جا سکے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سی ای او ورلڈ لبرٹی فنانشل زچری وٹکوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

پہلوی خاندانپہلوی خاندان ایران کا آخری شاہی خاندان تھا، جس کی حکومت کا آغاز 1925 میں رضا شاہ پہلوی کی تخت نشینی سے ہوا اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے ساتھ اس کا اختتام ہو گیا۔ اس خاندان کے تین اہم افراد ہیں، بانی رضا شاہ پہلوی، ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی، اور پوتے رضا شاہ ثانی (تخت کے وارث، لیکن حکمران نہ بن سکے)۔ یہ تحریر بادشاہت کے بانی، رضا شاہ پہلوی اول کے بارے میں ہے۔ رضا شاہ پہلوی کا اصل نام “رضا خان” تھا۔ وہ 1878 میں ایران کے صوبہ مازندران کے علاقے الساشت میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ “کاسک بریگیڈ” میں بھرتی ہوئے، جو ایران کی شاہی فوج کا ایک جدید اور مضبوط دستہ تھا۔ ان کی فطری قیادت کی صلاحیتوں اور جرات کی بنا پر وہ تیزی سے ترقی پاتے گئے اور بالآخر اس بریگیڈ کے کمانڈر کے عہدے تک پہنچ گئے۔حکومت پر قبضہ اور آئینی تخت نشینی (1925–1941)1921 میں، رضا خان نے، جو اس وقت فوج میں ایک کمانڈر تھے، اپنے فوجی دستوں کے ساتھ مل کر قاجار خاندان کی کمزور مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ وہ تہران میں داخل ہوئے اور کلیدی عہدوں پر قابض ہو گئے۔ وہ پہلے وزیر جنگ اور پھر وزیر اعظم بنے۔ چار سال کے اندر اندر انہوں نے ملک بھر میں پھیلی بغاوتوں اور قبائلی خودمختاری کو کچل کر اپنی طاقت کو مضبوط کر لیا۔آخرکار، 1925 میں، ایران کی مجلس (پارلیمنٹ) نے قاجار خاندان کے آخری بادشاہ، “احمد شاہ قاجار” ، کو معزول کرتے ہوئے رضا خان کو نئے شاہ کے طور پر منتخب کر لیا۔ انہوں نے رضا شاہ پہلوی کا خطاب اختیار کیا، جس سے پہلوی خاندان کی بنیاد رکھی گئی۔اپنے دورِ حکومت میں، رضا شاہ نے برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت سے بچنے کی پوری کوشش کی۔ اگرچہ ان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے غیر ملکی تکنیکی مہارت درکار تھی، لیکن انہوں نے برطانوی اور سوویت اداروں کو ٹھیکے دینے سے ہمیشہ اجتناب کیا۔ رضا شاہ نے تکنیکی مدد حاصل کرنے کے لیے جرمنی، فرانس، اٹلی اور یورپ کے دیگر ممالک کو ترجیح دی۔رضا شاہ کے 16 سالہ دورِ حکومت کو ایران کی “کایا پلٹ” کا دور سمجھا جاتا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد ایران کو ایک طاقتور، مرکزی، جدید قومی ریاست بنانا تھا۔ ان کی اہم کارنامے اور پالیسیاں یہ تھیں:1. انہوں نے طاقتور قبائل اور علاقائی سرداروں کی خودمختاری ختم کر کے پورے ملک پر ایک مضبوط مرکزی حکومت کا کنٹرول قائم کیا۔2. انہوں نے ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا اور “غیر ملکی قرضوں کے بغیر” ٹرانس ایرانی ریلوے جیسا عظیم الشان منصوبہ مکمل کروایا، جو خلیج فارس کو بحیرہ قزوین سے ملاتا تھا۔3. بڑے پیمانے پر کارخانے قائم کیے گئے، جس سے صنعتی مزدور طبقہ وجود میں آیا۔4. تعلیمی اور قانونی اصلاحات کی گئیں، جس کے تحت تہران یونیورسٹی سمیت جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ سینکڑوں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ بھیجا گیا۔ مذہبی عدالتوں کے دائرہ کار کو محدود کر کے ایک جدید قانونی نظام نافذ کیا گیا۔5. جدید طرز کے لباس (خاص طور پر مردوں کے لیے ہیٹ بجائے پگڑی/ٹوپی) کے حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1936 میں “کشف حجاب” کے قانون کے ذریعے خواتین کے سر ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے مذہبی طبقے میں شدید ناراضی پھیلی۔6. 1935 میں عالمی برادری سے درخواست کی کہ ملک کو اس کے قدیمی نام “پرشیا” کے بجائے اس کے مقامی نام “ایران” سے پکارا جائے۔7. انہوں نے برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت سے بچنے کی کوشش کی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے جرمنی، فرانس اور اٹلی جیسے یورپی ممالک کی تکنیکی مدد حاصل کی۔1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔ ایران کے لیے مسائل اس وقت پیدا ہوئے جب “جرمنی اور برطانیہ” دوسری جنگ عظیم میں ایک دوسرے کے دشمن بن کر آمنے سامنے آئے۔ رضا شاہ نے ایران کے غیر جانبدار ہونے کا اعلان کیا، لیکن برطانیہ اصرار کرتا رہا کہ ایران میں موجود جرمن انجینئرز اور تکنیکی ماہرین جاسوسی کر رہے ہیں، جن کا مقصد جنوب مغربی ایران میں برطانیہ کی تیل کی تنصیبات کو سبوتاژ کرنا ہے۔برطانیہ نے تمام جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن رضا شاہ نے اس سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے تمام ترقیاتی منصوبوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ برطانیہ ایران کی ریلوے کو سوویت یونین کو فوجی سازوسامان پہنچانے کے محفوظ راستے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے سے انکار پر، 1941 میں برطانیہ اور سوویت یونین نے ایران پر مشترکہ حملہ کر دیا۔ جنگ کے دوران، برطانیہ اور سوویت یونین کے اتحادی امریکہ نے بھی ریلوے لائنز کی دیکھ بھال اور اسے چلانے میں مدد کے لیے فوجی اہلکار بھیجے۔برطانیہ اور سوویت یونین نے رضا شاہ کی حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے بادشاہت کے آئینی اختیارات محدود کر دیے۔ تاہم، اتحادیوں نے رضا شاہ کو مجبور کیا کہ وہ اپنے بیٹے محمد رضا پہلوی کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ لہذا 16 ستمبر 1941 کو انہوں نے تخت چھوڑ دیا۔جلاوطنی اور وفاتانگریز دور میں رضا شاہ کو پہلے ماریشس اور پھر جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ جلاوطن کر دیا گیا۔

جہاں ان کا انتقال 26 جولائی 1944 کو ہو گیا۔ ان کی باقیات کو مصر لے جایا گیا اور کچھ عرصے بعد ایران واپس لایا گیا، جہاں انہیں تہران کے قریب “رے” کے علاقے میں دفن کیا گیا۔ 1979 کے انقلاب کے بعد انقلابیوں نے یہ مقبرہ مسمار کر دیا۔2018 میں تہران میں ایک مزار سے ایک حنوط شدہ لاش برآمد ہوئی، جس کے بارے میں سرکاری طور پر تصدیق کی گئی کہ یہ رضا شاہ پہلوی کی لاش ہے۔رضا شاہ پہلوی کو اکثر “جدید ایران کا معمار” کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے ایران کو ایک بکھری ہوئی، نیم قبائلی ریاست سے ایک متحدہ مرکزی ریاست میں تبدیل کر دیا۔ ان کی تعمیراتی، صنعتی اور تعلیمی اصلاحات نے جدید ایران کی بنیاد رکھی۔تاہم، انہیں ایک سخت گیر آمر کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے جمہوری اور سیاسی حقوق کو کچلا، میڈیا پر سخت سنسرشپ نافذ کی، اور مذہبی روایات پر زبردستی جدیدیت مسلط کی، جس کے اثرات دور رس تھے اور جنہوں نے بعد میں انقلاب کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔(ان کے بعد رضاشاہ پہلوی دوم کا دور شروع ہوتاہے، جس پر پھر بحث کریں گے) ۔

اسلام آباد کا سبز وجود خطرے میںسینیٹ کی سی ڈی اے چیئرمین کو طلبی، بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، انتظامی بے ضابطگیاں اور عوامی غم و غصہ ایک نقطے پر آن پہنچےرانا تصدق حسیناسلام آباد: وفاقی دارالحکومت ایک سنگین ماحولیاتی اور انتظامی بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیات نے اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو طلب کر لیا ہے۔قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن نے چیئرمین سی ڈی اے کو 22 جنوری کو کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام آباد کی سبز شناخت کو ترقی کے نام پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے اعلان کیا کہ درختوں اور سبز علاقوں کے مزید تحفظ کے لیے سخت ماحولیاتی قوانین اور ریگولیٹری رکاوٹوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مزید تباہی روکی جا سکے۔سینیٹ کی یہ مداخلت اس وقت سامنے آئی ہے جب H-8، اسلام آباد ایکسپریس وے، شکرپڑیاں کی پہاڑیاں اور ایف-9 پارک جیسے علاقوں میں درختوں کی کٹائی پر عوامی غصہ عروج پر ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر نے دارالحکومت کے ان علاقوں کو—جو ہمیشہ اسلام آباد کے ماحولیاتی پھیپھڑے سمجھے جاتے رہے—شدید نقصان کی تصویر بنا کر پیش کر دیا ہے۔قومی اسمبلی میں حکومتی دفاعاسی دوران قومی اسمبلی میں ہونے والی بحث میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے درختوں کی کٹائی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے تنقید کو “غلط فہمی” قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور شہری ترقی کے لیے بعض اقدامات ناگزیر تھے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مخصوص درختوں کو ہٹانا ضروری تھا۔وزیر مملکت کے مطابق شہتوت (جنگلی شہتوت) کے درخت، جو موسمِ بہار میں زیادہ پولن خارج کرتے ہیں، الرجی اور سانس کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں، اسی لیے انہیں کاٹا گیا۔سرکاری مؤقف اور اعداد و شمارسی ڈی اے اور وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی سائنسی بنیادوں پر،

صحت کے تحفظ کے لیے تیار کردہ منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے۔طلال چوہدری نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اب تک اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) میں تقریباً 29,115 درخت کاٹے جا چکے ہیں۔حکام کے مطابق:کاٹے گئے درختوں سے زیادہ تعداد میں شجرکاری کی منصوبہ بندی کی گئی ہےمقامی اور کم پولن پیدا کرنے والی اقسام لگائی جائیں گیشہر کی سبز خوبصورتی کو بحال اور بہتر بنایا جائے گاماحولیاتی تنظیموں کے شدید تحفظاتماحولیاتی تنظیموں، بالخصوص ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان، نے سرکاری بیانیے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ امیجز، زمینی مشاہدات اور فیلڈ رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ درختوں کی کٹائی صرف شہتوت تک محدود نہیں بلکہ:سڑکوں کی چوڑائیشہری ترقیاتی منصوبےانفراسٹرکچر کی توسیعکے نام پر وسیع پیمانے پر سبزہ ختم کیا جا رہا ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بے قابو شجر کٹائی کے نتیجے میں:اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ میں اضافہزیرِ زمین پانی کی ریچارج میں کمیفضائی آلودگی میں اضافہشہری حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصانہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) یا تو کمزور ہیں یا سرے سے موجود ہی نہیں۔سی ڈی اے کا مؤقفسی ڈی اے کا اصرار ہے کہ پوری کارروائی قانونی، دستاویزی اور مجاز احکامات کے تحت کی گئی ہے۔اتھارٹی کے مطابق:درخت سائنسی شناخت کے بعد ہی ہٹائے جاتے ہیںتمام قانونی منظوریوں اور ریکارڈ کی تکمیل کی جاتی ہےمتبادل شجرکاری کے پروگرام جاری ہیںماحولیاتی نگرانی کا عمل برقرار رکھا جائے گاسی ڈی اے حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مہم اندھا دھند نہیں بلکہ اسلام آباد کے سبز رقبے کو بالآخر محفوظ اور وسیع کرنے کے لیے ہے

۔مسلم کالونی متاثرین کا محاذ آرائی کی جانب قدماس بحران نے ایک سیاسی اور قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔مسلم کالونی کے متاثرین، بار ایسوسی ایشنز کی حمایت کے ساتھ، پہلے ہی اسلام آباد کی موجودہ انتظامیہ کو ہٹانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔مشترکہ مطالبے میں فوری برطرفی کا مطالبہ کیا گیا ہے:چیئرمین سی ڈی اے / چیف کمشنر ICTانسپکٹر جنرل پولیس، اسلام آبادڈپٹی کمشنر ICTڈائریکٹر DMAمتاثرین اور وکلا برادری کا کہنا ہے کہ ان افسران کی موجودگی:احتساب کو متاثر کر رہی ہےانصاف کی راہ میں رکاوٹ ہےعوامی اعتماد کو بری طرح مجروح کر رہی ہےان کا الزام ہے کہ دارالحکومت میں طرزِ حکمرانی قانون کی بالادستی کے بجائے جبر پر مبنی انتظام میں بدل چکی ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قانونی کارروائی اور عوامی مزاحمت میں شدت آئے گی، جو اس معاملے کو قومی سطح پر انتظامی استثنیٰ بمقابلہ آئینی حکمرانی کا ٹیسٹ کیس بنا دے گی۔پارلیمانی دباؤ میں اضافہسینیٹ اور قومی اسمبلی—دونوں—اب ماحولیاتی اور انتظامی معاملات پر متحرک ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں سی ڈی اے اور وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ:شفاف ڈیٹا فراہم کیا جائےسائنسی بنیادوں پر جواز پیش کیا جائےشجرکاری کے نتائج قابلِ تصدیق انداز میں دکھائے جائیںجب اسلام آباد میں درخت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو پالیسی سازوں کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا ہے:کیا دارالحکومت کو صحت اور ترقی کے نام پر بچایا جا رہا ہے، یا اس کی سبز روح اور ادارہ جاتی ساکھ کو منظم انداز میں کھوکھلا کیا جا رہا ہے؟

*قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس* اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوااجلاس میں قومی اسمبلی کے23 ویں اجلاس کے ایجنڈے اور دورانیے پر تبادلۂ خیال کیا گیاقومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس کو 23 جنوری 2026ء بروز جمعہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیااجلاس میں قانون سازی وقفہ سوالات اور عوامی اہمیت کے حامل مسائل کو ذیر بحث لایا جائے گا اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ اور وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے شرکت کیاجلاس میں وفاقی وزیر خالد حسین مگسی، اور اراکین قومی اسمبلی سید نوید قمر، اعجاز حسین جاکھرانی، سید حفیظ الدین، سید امین الحق محترمہ نزہت صادق، محترمہ سیدہ شہلا رضا، نور عالم خان اور شیخ آفتاب نے شرکت کی

*صوابی میں بی آئی ایس پی اور عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا افتتاح* *چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے بطور مہمانِ خصوصی افتتاح کیا**صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان اور عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپانگ بھی تقریب میں موجود* ماں اور بچوں کی صحت و غذائیت کے فروغ کے لیے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا قیامبی آئی ایس پی کا نشوونما پروگرام ماؤں اور بچوں کی بہتر صحت کے لیے مؤثر اقدامسینیٹر روبینہ خالدبچے کی پیدائش سے دو سال کی عمر تک ماں اور بچے کو غذائیت و صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گیسینٹر روبینہ خالد بچوں کی امیونائزیشن اور فوڈ سپلیمنٹس کی سہولیات بھی دستیاب ہوں گیسینٹر روبینہ خالد صوبائی حکومت کے تعاون پر شکر گزار ہیں، بی آئی ایس پی تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہےسینیٹر روبینہ خالد جلد خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں بھی نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گےسینٹر روبینہ خالد پروگرام میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام موجود ہےسینیٹر روبینہ خالد

ایران میں پھانسی دینے کی اطلاعات۔ جرم ازرا یل کا جھنڈا لہرایا مبینہ طور پر ان میں سے ایک ڈاکٹر شیدہ رستمی ہیں وہ ملک کے ممتاز سرجنوں میں سے ایک تھی کرمانشاہ شہر میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ حکومت کے خلاف مظاہروں میں شرکت تھی جس کے دوران اس نے سکیورٹی فورسز کے سامنے اسرائیل اور امریکہ کے جھنڈے لہرائے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مجوزہ سول سروسز اصلاحات اور وزارتوں میں کارکردگی کی جانچ کے نظام کی سفارشات پرجائزہ اجلاس* ملکی سول سروس کو بین الاقوامی معیار اور عالمی سطح کی کارکردگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم *وفاقی سیکرٹریز کی کارکردگی جانچنے کے لیے جامع اور موثر نظام کی سفارشات مرتب کی جائیں

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مجوزہ سول سروسز اصلاحات اور وزارتوں میں کارکردگی کی جانچ کے نظام کی سفارشات پرجائزہ اجلاس* *ملکی سول سروس کو بین الاقوامی معیار اور عالمی سطح کی کارکردگی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم* *وفاقی سیکرٹریز کی کارکردگی جانچنے کے لیے جامع اور موثر نظام کی سفارشات مرتب کی جائیں۔ وزیراعظم* *اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی تحسین سول سروسز کی مجموعی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔ وزیراعظم* *متعلقہ کمیٹی ملکی سول سروس میں ارتقائی مگر موثر اور جامع اصلاحاتی سفارشات جلد از جلد مرتب کرے۔وزیراعظم کی ہدایت* *افسران کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ان کی ترقی، مالی فوائد اور دیگر سہولیات کے نظام کی سفارشات کو مرتب کیا جاۓ۔ وزیراعظم کی ہدایت**ملکی سول سروس میں اصلاحات کا مطمع نظر موثر عوامی خدمت اور سہولیات کی فراہمی کی بدولت عوام کی زندگی میں واضح بہتری کو یقینی بنانا ہے۔وزیراعظم* *ملکی معاشی آسودگی اور سماجی ہم آہنگی ترقی و خوشحالی کے لیے ہمہ جہت سول سروس اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم**سول سروس کی مجوزہ اصلاحات میں سول انتظامیہ، تمام سروسز اور گروپس کے سٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کی جائے۔ وزیراعظم کی ہدایت* *ملکی سول سروس کسی بھی ملک کی گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کا بنیادی ڈھانچہ ہوتی ہے۔وزیراعظم* *افسران کی کارگردگی اور قابلیت کو دور حاضر کے عصری تقاضوں اور عالمی سطح کے معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیۓ خصوصی سفارشات مرتب کی جائے۔وزیراعظم**سول سروسز اصلاحات کے لیے قائم کردہ کمیٹی ایسی سفارشات تجویز کریں جو قابل عمل اور دیر پا اور موثر عوامی سہولت کا باعث بنے۔ وزیراعظم*اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت سول سروسز میں مجوزہ اصلاحات کی پیشرفت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے سول سروسز اصلاحات پر کام کرنے والی کمیٹی کو افسران کی کارکردگی کی جامع جانچ کی بنیاد پر ترقی، مالی فوائد، اور دیگر سہولیات کے نظام کی سفارشات مرتب کرنے کی خصوصی ہدایات دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سول سروسز اصلاحات، ملکی معاشی و معاشرتی، ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں اور حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی اصلاحاتی اور عوام کی فلاح و بہبود پر مشتمل پالیسیز کا ثمر عوام تک پہنچانے کے لیے سول سروسز ایک بنیادی ڈھانچے کا کردار ادا کرتی ہے۔ سول سروسز اصلاحات پر قائم کردہ کمیٹی نے وزیراعظم کو اب تک کی مشاورت اور سفارشات پر اجلاس میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک ،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ, وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی.