**بلوچستان:اربوں کی بارش، میرٹ کا قحط**تعریفیں آسمان پر،فائلیں زمین میں دفن*کوئٹہ —بلوچستان حکومت کی “مثالی کارکردگی” پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے *ذرائع کے مطابق سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری (P&D) نے صرف تین ماہ میں کمیشن کی مد میں مبینہ طور پر 11 ارب روپے کمائے۔ عام آدمی اگر اتنی دولت کا خواب بھی دیکھ لے تو نیند اُڑ جاتی ہے، مگر یہاں سب کچھ “نارمل” ہے۔اب نئے آنے والے افسر زاہد سلیم نے گویا اعلانِ مقابلہ کر دیا ہے—کہ میدان خالی نہیں چھوڑا جائے گا۔ چنانچہ “گڈ گورننس” کا آغاز یوں ہوا کہ اربوں کے منصوبے جونیئر ترین افسران کے حوالے کر دیے گئے۔یہ وہی طبقہ ہے جو خود کو ایمانداری اور شفافیت کا پوسٹر بوائے بنا کر پیش کرتا رہا،مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے دفاتر کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کی بازگشت ہے۔ شفافیت شاید اب صرف شیشے کے دروازوں تک محدود ہے—فائلوں تک نہیں۔*چاغی ماسٹر پلان: میرٹ کی تدفین باقاعدہ سرکاری اعزاز کے ساتھ*اربوں روپے کے چاغی ماسٹر پلان میں گریڈ 17 کے جونیئر افسر امتیاز احمد کو پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا گیا،جبکہ یہ پوسٹ قواعد کے مطابق گریڈ 20 کی ہے۔مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ذرائع بتاتے ہیں کہ جب امتیاز احمد نصیرآباد میڈیکل کالج کے پی ڈی تھے تو سرکاری گاڑی وزیر ایریگیشن صادق عمرانی کے بیٹے کے زیرِ استعمال رہی۔ بعد ازاں وہی بیٹا اسی گاڑی کو چلاتے ہوئے کراچی میں ایک عام غریب کو قتل کرنے کے مقدمے میں ملوث پایا گیا۔*نتیجہ؟*امتیاز احمد معطل ہوئے—اور پھر “سزا” کے طور پر صوبے کا ایک اور سب سے بڑا کماؤ منصوبہ ان کے حوالے کر دیا گیا۔بلوچستان میں شاید یہی اصول رائج ہے:جتنا بڑا سوال،اتنا بڑا پراجیکٹ۔*خاران ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو:اربوں، رشتہ داریاں اور خاموشی*خاران ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، جس کی لاگت 30 ارب روپے سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، اس میں پی ڈی مقرر کیا گیا شہاب کو—جو گریڈ 17 کے الیکٹرونکس انجینئر ہیں،جبکہ پوسٹ گریڈ 20 کی ہے۔ذرائع کے مطابق شہاب، وزیر خزانہ و معدنیات شعیب نوشیروانی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔یہ محض اتفاق ہے؟یا پھر *بلوچستان میں اب اہلیت سے زیادہ خاندان کا شجرہ دیکھا جاتا ہے؟**یونیورسٹی یا سرکاری تجربہ گاہ؟*حال ہی میں ایک اور “تاریخی اصلاح” کے تحت گریڈ 18 کے ایک افسر کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کر دیا گیا—ایسا عہدہ جو عملی طور پر گریڈ 22 کے برابر سمجھا جاتا ہے۔*تعلیم کے شعبے میں اصلاحات شاید اب ٹری اینڈ ایرر کے اصول پر کی جا رہی ہیں—اور تجربہ عوام پر ہو رہا ہے۔**بلوچستان کے مفتوح عوام کی جانب سے چند سوالات*یہ رپورٹ الزامات نہیں،بلکہ وہ سوالات ہیں جو خود نظام چیخ چیخ کر پوچھ رہا ہے:کیا بلوچستان میں میرٹ اب صرف پرانی فائلوں میں دفن ہے؟کیا اربوں کے منصوبے “پسندیدہ چہروں” کی ٹریننگ اسکیم بن چکے ہیں؟کیا معطلی سزا نہیں بلکہ پروموشن کا نیا راستہ ہے؟اور کیا احتساب صرف چھوٹے ملازمین کے لیے مخصوص ہو چکا ہے؟جب تک ان سوالات کے جواب نہیں دیے جاتے،تب تک “مثالی کارکردگی” کا بیانیہ صرف ایک مہنگا سرکاری اشتہار رہے گا—حقیقت نہیں۔
وینزویلا کے پاس ایف 16 لڑاکا جیٹ،روسی سخوائی لڑاکا طیارے ،چینی بکتر بند گاڑیاں،فضائی دفاع کا چینی نظام ،،تربیت یافتہ مسلح افواج سمیت سب کچھ موجود تھا۔لڑاکا فوجی یونٹوں کے کمانڈر لڑے ہی نہیں ۔امریکی صدر کو گرفتار کر کے لے گئے ۔روس چین کسی نے مداخلت نہیں کی ۔
لمبی اننگز کھیلنے کا ارادہمحمود شامقومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے گڑھی خدا بخش بھٹو میں شہید بینظیر بھٹو کی برسی کی تقریب میں شرکت کے بعد سکھر میں میڈیا سے گفتگو میں خواہش ظاہر کی کہ پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلزپارٹی لمبی اننگز کھیلنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں کیا تمنائیں اور آشائیں پرورش پا رہی ہیں۔ ایسی خواہش پر پہلا رد عمل تو یہ ہوتا ہے کہ ’’تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ‘‘ یا پھر سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں۔ ویسے تاریخ کا مطالعہ کریں تو کسی حکمران نے بھی اپنی مدت پوری ہونے پر رخصت ہونیکا مظاہرہ نہیں کیا۔ سبھی کم از کم دو دہائی مسند نشیں رہنا چاہتے تھے لیکن ایسی لمبی اننگز کیلئے عوام کی خدمت اور ملک کے استحکام کیلئےجو اقدامات ناگزیر تھے
انکو ترجیح نہیں دیتے تھے۔ دوسری طرف محلاتی سازشیں انکے اس ارادے میں مزاحم رہتی تھیں یا پھر پل کی خبر نہیں کا اپنا ایک کردار ہوتا تھا۔ کسی نے ایسا روڈ میپ مرتب نہیں کیا جو عوام کے دلوں میں پر حکومت کرنے کی بنیاد بنتا۔ پاکستان مسلم لیگ ن 1985ء سے وقفوں وقفوں سے برسر اقتدار رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی 1971 ءسے حکومت میں رہی ہے۔ 1988ءسے تو دونوں پارٹیاں اب تک باری باری اننگز کھیلتی آ رہی ہیں۔ یہ بھی چار دہائیاں تو بنتی ہیں۔ اس لمبی اننگز میں پنجاب میں مسلم لیگ ن کے کتنے سال ہیں۔سندھ میں پی پی پی کے کتنے اور اب 2008ءسے پی پی سندھ میں ایک تسلسل سے برسر اقتدار ہے۔ لمبی اننگز کھیلنے کے خواہش مند قائدین کی عمریں ملاحظہ ہوں تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں محمد نواز شریف ماشاءاللہ 76 سال کے ہیں دو بار صدر مملکت رہنے والے جناب آصف علی زرداری 70برس کے دو بار وزیراعظم اور اتنی ہی بار وزیراعلیٰ پنجاب رہنے والے میاں شہباز شریف 74برس کے،
‘شریک اقتدار رہنے والے مولانا فضل الرحمن 72 برس کے۔ لمبی اننگز کے ارادے کا انکشاف کرنیوالے اور دو بار قومی اسمبلی کے سپیکر رہنے والے ایاز صادق 71 برس کے۔ ان میں سے اکثر کی علالت کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں اوسط عمر کے تناسب سے قومی سیاسی جماعتوں کے یہ معزز سربراہ کتنے سال مزید متحرک اور فعال رہ سکتے ہیں البتہ محترمہ مریم نواز 52 سال اور بلاول بھٹو زرداری 37سال کی عمر میں لمبی اننگز کھیل سکتے ہیں مگر ان کی طرف سے بھی یہ واضح نہیں کہ وہ اپنے ذاتی اقتدار کے استحکام کو پیش نظر رکھتے ہیں یا دونوں طرف سے دشمنوں میں گھرے پاکستان کے دوام کی فکر رکھتے ہیں۔
میں لمبی اننگز کے مخمصے میں آپ کو نیا سال مبارک کہنا تو بھول ہی گیا آج سے پاکستان کی عمر کا 79واں سال شروع ہو رہا ہے اب تک جن تجزیوں اور پیشن گوئیوں سے آگاہی ہوئی ہے کسی ایک برہمن نے بھی 2026 ءکو اچھا سال نہیں کہا ۔آج کل کے دنیا بھر کے حکمرانوں میں کسی کو بھی عالمی مدبر نہیں کہا جا سکتا۔ امریکی صدر ہوں، روس کے سربراہ، برطانیہ، فرانس یابھارت کے حکمران۔ کوئی بھی عالمی سطح پر امن ،خوشحالی ،بین الاقوامی مفاہمت کا لائحہ عمل نہیں دے رہا ۔سب اپنے اپنے دائرے میں گھوم رہے ہیں ۔اپنے داخلی مسائل کے یرغمال ہیں کوئی بھی اپنا ملک نہیں صرف اپنی حکومت چلا رہے ہیں ۔صرف چین کے صدر ایک پٹی ایک سڑک کے ذریعے کم از کم علاقائی استحکام کی کوششیں کر رہے ہیں مگر امریکہ یورپ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں میں محصور ہے اس کے مختلف ادارے غربت میں کمی، موسمیات کی تبدیلی، زراعت، تجارت معیشت ،باہمی علاقائی تعاون، صحت ،تعلیم، آبادی میں اضافے پر رپورٹیں مرتب کرتے رہتے ہیں وارننگ بھی جاری کرتے ہیں
۔ لیکن بھارت اسرائیل جیسی ہٹ دھرم قیادتوں اور ان کے سرپرستوں کی من مانیوں کے باعث انسانی زندگی کے وقار اور زمین کو لاحق خطرات کیلئے کوئی اجتماعی کوششیں نہیں ہو رہیں ۔ایک زمانہ تھا جب عالمی قیادتیں ایک دوسرے کے اشتراک سے غربت کم کرنے، آبادی میں اضافہ روکنے، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو فروغ دینے میں مثالی تعاون کرتی تھیں ۔ لمبی اننگز کھیلنے کی تمنائی دونوں پارٹیوں مسلم لیگ ن اور پی پی کا نقطہ نظر اور اہم ترین مسائل کے سلسلے میں عملی اقدامات دیکھیں سب سے پہلے غربت کی لکیر سے نیچے بڑھتی ہوئی بھیڑ کے اعداد و شمار پھر آبادی میں اضافہ، عالمی قرضوں کا بوجھ یہ تینوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پہلے تو یہ جائزہ بھی لیں کیا مسلم لیگ ن وہی جماعت ہے جسکی بنیاد میاں محمد نواز شریف نے رکھی تھی جس سے پنجاب کے لوگ پہلی بار خوش ہوئے تھے کہ بالاخر پنجاب کو ایک قومی سطح کا قائد میسر آگیا ہے، خاص طور پر تاجر طبقہ بہت مطمئن ہوا تھا، کیا اب بھی اس کی پالیسیاں وہی ہیں اور کیا ابھی تاجر طبقہ ان سے خوش ہے۔
پھر پاکستان پیپلز پارٹی پر ایک ناقدانہ نظر ڈالیں کیا یہ وہی پارٹی ہے جس کی بنیادشہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1967ءمیں ڈاکٹر مبشر حسن کی کوٹھی میں لاہور میں رکھی۔1983 ء میں پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے 15فیصد پاکستانی بتائے جاتے ہیں اور ڈالر 15 روپے کا ۔آج غربت کی لکیر سے نیچے 44فیصد اور ڈالر 282 روپے کا۔ 2017ءمیں غربت کی لکیر سے نیچے 24 فیصد۔ 2020 ء تک یہی شرح رہتی ہے۔ افسوسناک صورت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن ہو یا پی پی پی یا 2018 ء میں پی ٹی آئی کی حکومت غربت کے خاتمے کیلئے منظم اور سنجیدہ کوشش کسی کی نظر نہیں آتی ہمارا عظیم دوست چین غربت مٹانے میں سب سے زیادہ کامیاب رہا ہے۔ 1990ء سے 2005ء کے درمیان اسکی مسلسل مساعی سے غربت کی شرح بہت کم ہو کر رہ گئی ہے لمبی اننگز کھیلنے کی خواہاں دونوں پارٹیوں کے لیڈر اب بھی غربت کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار نہیں دیتے۔ غربت سے سب سے زیادہ متاثر دیہی علاقے ہیں جہاں ملک کی اکثریت رہتی ہے۔ ملک میں اپنے وسائل کو استعمال کر کے غریبی ختم کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ ترجیح ان تینوں پارٹیوں کی نہیں ہے آئی ایم ایف سے قرضے لئے جاتے ہیں ان قرضوں کی ادائیگی بھی غربت بڑھاتی ہے۔ غربت کے خاتمے کا سب سے موثر حل نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ہے عالمی اداروں کے مطابق فوری طور پر 20لاکھ اسامیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مینوفیکچرنگ نہیں ہو رہی غیر ملکی کمپنیاں اور ہمارے ذہین نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اسپیکر ایاز صادق سے میری گزارش یہی ہوگی کہ وہ اپنی اس لمبی اننگز کی تمنا سے مطلوبہ اقدامات پر قوم کو اعتماد میں لیں بلکہ بہتر ہوگا اپنی اس خواہش پر قومی اسمبلی میں ہر علاقے کے ارکان کو اظہار کا موقع دیں
اسلام آباد:انسداددہشت گردی عدالت ،9 مئی ریاستی اداروں کیخلاف ڈیجیٹل دہشتگردی عدالت نے عادل راجہ، حیدر مہندی، وجاہت سعید ، کو 2، 2بار عمر قید کی سزا سنا دیصابر شاکر، معید پیرزادہ، کو بھی 2،2 بار عمر قید کی سزا سنا دی گئیں عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں بھی مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں سنائی عدالت نے ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی عدالت نے تھوڑی دیر قبل ٹرائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا انسداددہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے محفوظ فیصلہ سنایاپراسکیوشن کیجانب سے مجموعی طور پر 24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھانہ آبپارہ کے مقدمہ میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید کی سزا سنائی گئیتھانہ رمنا کے مقدمہ میں شاہین صبہائی، حیدر مہندی اور وجاہت سعید کو سزا سنائی گئی
*9 سرکاری محکمے ختم کر دئیے گئے*حکومت پنجاب نے یکم جنوری 2026 کو اخراجات میں کمی کے منصوبے (Cost-saving plan) کے تحت 9 سرکاری محکموں کو ختم کر کے انہیں ایک نئے محکمے *”فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ”* (Department of Food Safety and Consumer Protection) میں ضم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، درج ذیل محکموں کو ختم کر کے ضم کیا گیا ہے۔انفورسمنٹ پرائس اینڈ کنٹرولفوڈ کین کمشنرایگریکلچر اکنامک مارکیٹنگانسٹیٹیوٹ آف ایگریکلچر مارکیٹنگکنزیومر پروٹیکشن کونسلپنجاب سہولت بازار اتھارٹیپنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسیپنجاب فوڈ اتھارٹیمحکمہ خوراک (پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ) (جسے پہلے ہی ری اسٹرکچرنگ کے عمل میں شامل کیا گیا تھا) *اہم تفصیلات*یہ تمام ادارے اب ایک ہی سیکرٹری اور ایک ہی ڈائریکٹر جنرل (DG) کے ماتحت کام کریں گے۔اس فیصلے کا مقصد انتظامی اخراجات کو کم کرنا اور محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔نئے قائم شدہ *”فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ”* نے فوری طور پر کام شروع کر دیا ہے۔
جمعہ ، 2 جنوری، 2026*_وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اسٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس 1 لاکھ 79 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنے پر اظہار اطمینان_*پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرنا، کاروباری برادری و سرمایہ کاروں کے حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے : وزیراعظم ملکی ترقی کا سفر معاشی ٹیم کی محنت کی وجہ سے جاری و ساری ہے : وزیراعظم ملکی معاشی سمت کی بہتری اور ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کے لئے معاشی ٹیم کی کوششیں قابل ستائش ہیں : وزیراعظم__
جمعہ ، 2 جنوری، 2026*_وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اسٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس 1 لاکھ 79 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنے پر اظہار اطمینان_*پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرنا، کاروباری برادری و سرمایہ کاروں کے حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے : وزیراعظم ملکی ترقی کا سفر معاشی ٹیم کی محنت کی وجہ سے جاری و ساری ہے : وزیراعظم ملکی معاشی سمت کی بہتری اور ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کے لئے معاشی ٹیم کی کوششیں قابل ستائش ہیں : وزیراعظم__
پرانے زمانے میں مال برداری اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لئیے بیل گاڑیاں ھوا کرتی تھیں۔ ہر بیل گاڑی کے ساتھ ایک کتا ضرور ھوتا تھا جب کہیں سنسان بیابان میں مالک کو رکنا پڑتا تو اس وقت وہ کتا سامان کی رکھوالی کیا کرتا تھاجس جس نے وہ بیل گاڑی چلتی دیکھی ھوگی تو اس کو ضرور یاد ہوگا کہ وہ کتا بیل گاڑی کے نیچے نیچے ہی چلا کرتا تھااُس کی ایک خاص وجہ ہوتی تھی کہ جب مالک چھوٹا کتا رکھتا تھا تو سفر کے دوران اُس کتے کو گاڑی کے ایکسل کے ساتھ نیچے باندھ دیا کرتا تھا تو پھر وہ بڑا ھو کر بھی اپنی اسی جگہ پر چلتا رہتا تھاایک دن کتے نے سوچا کہ جب مالک گاڑی روکتا ہے تو سب سے پہلے بیل کو پانی پلاتا ہے اور چارا ڈالتا ہے پھر خود کھاتا ہے اور سب سے آخر میں مجھے کھلاتا ہےحالانکہ گڈھ تو ساری میں نے اپنے اوپر اُٹھائی ھوتی ہےدراصل اس کتے کو گڈھ کے نیچے چلتے ہوئے یہ گمان ہو گیا تھا کہ یہ گڈھ میں نے اُٹھا رکھی ہےوہ اندر ہی اندر کُڑھتا رہتا ہے اور ایک دن فیصلہ کیا کہ اچھا پھر ایسے تو ایسے ہی سہی میں نے بھی آج راستے میں ہی گڈھ چھوڑ دینی ہے جب آدھا سفر ہوا تو کتا نیچے بیٹھ گیا اور گڈھ آگے نکل گئی کتا حیران پریشان اس کو دیکھتا رہ گیا.۔ایسے ہی کچھ کردار آپ کو اپنی زندگی میں ملیں گے جو اس گمان میں ہیں کہ سارا بوجھ تو انہوں نے اٹھا رکھا ہے وہ نا ہونگے تو سسٹم رک جائے گا۔ حلانکہ ایسا کچھ بھی نہیں.. یاد رکھیں زندگی کبھی نہیں رکتی کسی کے لیے کہانی میں کردار بدلتے رہتے ہیں مگر زندگی چلتی رہتی ہے بس اپنی نیت صاف رکھیئے اور محنت کرتے جائیں محنت کا پھل اللّٰہ خود دے گا یہ دنیا کبھی آپ سے خوش نہیں ہوگی۔۔
وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر سید عطا الرحمن کے سبکدوش ہونے پر الوداعی تقریب کا انعقادکامیاب حج آپریشن ، محافل سیرت ، انٹرنیشنل مقابلہ قرأت جیسے قابل قدر اقدمات پر سبکدوش سیکرٹری کو زبردست خراج تحسیناسلام آباد: 02 جنوری، 2026وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر سید عطا الرحمن کے ملازمت سے سبکدوش ہونے پر جمعرات کے روز وزارتِ مذہبی امور میں الوداعی تقریب کا انعقادکیا گیا۔
تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان، سینئر جوائنٹ سیکرٹری بین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر مرزا علی محسود، جوائنٹ سیکرٹری شعبہ دعوۃ و زیارات احمد ندیم خان، جوائنٹ سیکرٹری انتظامیہ صاحبزادہ، جوائنٹ سیکرٹری ترقی و تعاون محمد بخش سانگی، چیف فنانس اینڈ اکاونٹس افسر ذوالفقار خان سمیت سینئر اور جونیئر افسران نے شرکت کی۔
اس موقع پر سیکرٹری مذہبی امور کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے ڈاکٹر سید عطا الرحمن نے ساتھی افسران کو اپنے تجربات کی روشنی میں کئی قیمتی نصیحتیں کیں اور کہا کہ حج 2026 کے لیے عازمینِ حج اور خدام الحجاج کی بہترین آگاہی کو یقینی بنایا جائے۔ مقدس سرزمین پر پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے جائیں اور اپنے بہترین طرز عمل سے ملک کا نام روشن کریں۔
وزارت مذہبی امور میں فرائض سر انجام دینا سعادت کی بات ہے۔ سول افسران اپنے اخلاق اور کردار کو بلند رکھیں اور عوام کی بہترین خدمت کریں ۔ اس سے قبل ساتھی افسران نے کئی کامیاب حج آپریشن، انٹرنیشنل سیرت النبی کانفرنس، انٹرنیشنل مقابلہ قرأت جیسے قابل قدر اقدمات پر سبکدوش ہونے والے سیکرٹری کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور قائدانہ کردار ، جونیئر افسران سے نرمی و شفقت کے برتاؤ اور سائلین سے بہترین حسن سلوک کا خصوصی ذکر کیا ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر سید عطا الرحمن اردو ، پشتو اور انگلش کے علاوہ عربی اور فرنچ زبانوں میں بھی کلام کی قدرت رکھتے ہیں۔
سید عطا الرحمن ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور تین سال مسیحائی کے بعد سول سروس میں منتخب ہونے کے بعد بطور اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے۔ اپنے کیرئر میں پنجاب، سابقہ فاٹا سمیت خیبرپختون خواہ اور گلگت بلتستان میں بیشتر سروس مکمل کی۔
اکتوبر 2022 میں بطور ایڈیشنل سیکرٹری وزارت مذہبی امور میں تعینات ہوئے بعد ازاں اسی وزارت میں سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئے اور دو کامیاب ترین حج انتظامات مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔
وزارت میں خدام الحجاج کے میرٹ پر انتخاب ، پہلے انٹرنیشنل مقابلہ قرآت کے انعقاد ، اسلامک ریلیف اور یونیسیف کے تعاون سے ماں بچے کی صحت، تحفظ اطفال، بین المذاہب ہم آہنگی سمیت کئی سماجی موضوعات پر فکر انگیز سیمینارز کے انعقاد کا سہرا ان کے سر جاتا ہے۔
بریکنگ*بھارت کیلئے 2025ء ناکامیوں اور ہزیمت کا سال ثابت**فائنانشل ٹائمز* کی سالانہ جائزہ کے مطابق سال 2025 بھارت کے لیے استحکام یا مضبوط پیش رفت کا نہیں بحرانوں کا سال ثابت ہوا*فنانشل ٹائمز* کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ;پاک بھارت فوجی کشیدگی، امریکا کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی، مہلک طیارہ حادثہ، کرنسی کی کمزوری اور معاشی بے چینی نے کو مسائل کی زد میں رکھاناکام اسٹریٹجک خود مختاری کے باعث بھارت کو امریکہ، چین اور روس کے ساتھ تعلقات برقرار کھنے پر مجبور ہونا پڑا، *فنانشل ٹائمز*امریکا بھارت تجارتی معاہدہ متعدد بار ملتوی ہوا اور امریکی ٹیرف کے نفاذ کی وجہ سے بھارت کو اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، *فنانشل ٹائمز*جی ایس ٹی کی اصلاحات محدود شعبوں تک رہنے کے باعث معاشی ترقی رکاوٹ کا شکار رہی، فنانشل ٹائمز2025ء میں بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گروٹ کا شکار رہا ،
*فنانشل ٹائمز*پاک بھارت تصادم کا دیرپا نتیجہ بھارتی عسکری برتری کے بجائے واشنگٹن کی پالیسی میں واضح تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا، *ماہرین* امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا کریڈٹ لینے اور پاکستانی عسکری قیادت سے بڑھتے روابط کو فنانشنل ٹائمز نے بھارتی سفارتی ناکامی قرار دیا، *ماہرین**ماہرین* کے مطابق امریکہ میں بھارت کی معاشی اور سفارتی گنجائش محدود ہو چکی ہے جو بھارت کی کمزور پوزیشن کو ظاہر کرتا ہےبھارت میں روپے کی گروٹ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مزید معاشی بحران نظر آتا ہے، *ماہرین*امریکہ بھارت تجارتی معاہدوں میں ناکامی بھارت کی عالمی معاشی ساکھ میں موجود خلاء کی علامت ہے، *ماہرین*بھارت 2025ء میں مسائل حل کرنے کے بجائے زیادہ تر انہیں برداشت کرتا دکھائی دیا، *ماہرین*بھارت کیلئے 2026ء اندرونی کمزوریوں ، علاقائی کشیدگی اور عالمی دباؤ کے تناظر میں بڑھتا چیلنج بنتا دکھائی دیتا ہے، *ماہرین*
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پاکستان زندہ باد اور I love Pakistan کے نعرے لگ گئے ۔ جنازہ گاہ کی جانب بڑھتی گاڑی پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔ رخصت ہوتے دسمبر کی سرد دوپہر میں بنگالی نوجوان گرم جوشی سے ہاتھ ہلا رہے تھے، موبائل کیمروں کی فلیشیں جھپک رہی تھیں اور لبوں پر ایک ہی صدا تھی “پاکستان زندہ باد، آئی لو پاکستان!”۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے بقول یہی نعرے اُنہوں نے مسلسل سنے۔ ڈھاکا جیسی تاریخ کی بوجھل گلیوں میں یہ آوازیں کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہ تھیں۔یہ سب کچھ سابق وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ کے موقع پر ہوا،
وہ جنازہ جس نے بنگلہ دیش کی سیاست ہی نہیں، پورے خطّے کو ایک لمحے کے لیے یک جا کر دیا۔ لاکھوں سوگوار پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اُمڈ آئے ایک دریا تھا جو انسانی سروں سے لبریز تھا ۔اسی ہجوم میں پاکستان نے احتراماً اپنا اعلیٰ سطحی نمائندہ بھیجا؛ ایاز صادق خاموشی سے صفِ اوّل میں جا کھڑے ہوئے۔اور پھر وہ لمحہ آیا جس نے کیمروں کو متوجہ کر لیا: بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر خود چل کر پاکستانی اسپیکر کے پاس آئے، مصافحہ کیا، مُسکرائے اور کیمروں کو یہ شاٹ لینے دیا۔ جنوبی ایشیا کے زِگ زیگ تعلقات میں اسے “دو ثانیے کی برف پگھلتی تصویر” کہا جا سکتا ہے ۔سفارتی الفاظ میں یہ محض ایک “کورٹیسی کال” ہو گی، لیکن فوٹو جرنلزم کی زبان میں یہی فریم کروڑوں لفظ کہہ گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیشی عوام نے گاڑی پر لہراتے پاکستانی پرچم کو دیکھ کر جو جوش دکھایا وہ نصف صدی پرانے پروپیگنڈے کی موت ہے ۔ اسی دسمبر میں ہمارا مشرقی بازو الگ ہوا تھا اور اب دسمبر ہی کے آخری سرد دن میں ڈھاکا کی اس غیر رسمی مُحبت نے اسلام آباد اور ڈھاکا کے تعلقات میں تازہ حرارت بھر دی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ کھیل، تعلیم اور تجارت کے نرم گوشوں کو آگے لا کر اعتماد کے یہ ننھے بیج تناور درختوں میں بدلے۔ دوسری طرف نئی دہلی کے لیے یہ تصویری مصافحہ یاد دہانی ہے کہ ساٹھ سیکنڈ کی مسکراہٹ بعض اوقات دس سال کی سفارتی بیان بازی پر بھاری پڑ جاتی ہے۔
پنجاب بار کونسل نے میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کا لائسنس معطل کر دیا اور حکمنامہ میں وجہ یہ تحریر کی کہ جس دن کراچی بار کے سابق لائبریرین نصیر کلہوڑو کے ساتھ مبینہ پولیس زیادتی اور ایف آئی آر کے اندراج کے حوالے کے سے وکلاء کی طرف سے عدالتی ہڑتال کی جا رہی تھی اسی دن یعنی 29 دسمبر 2025 کو میاں اشفاق اپنے کلائنٹ رجب بٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور اس حوالے سے جب انھیں آگاہ کیا گیا کہ آج ہڑتال ہے تو وہ کراچی بار کے ممبرانِ وکلاء سے الجھ گئے اور یوں صدر کراچی بار عامر نواز اور سیکرٹری رحمان کورائی کی درخواست پہ یہ لائسنس معطل کیا گیا ہے ۔۔۔بہت شاندار کام کیا پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے مگر حضور ایک کیس پیش کر رہا ہوں جس میں ڈسٹرکٹ ایسٹ کے سیشن جج صاحب کی عدالت میں کراچی بار کے ایک ممبر وکیل امتیاز علی کوڈ 14512 SBC -KHEاپنے کلائنٹ کی ضمانت کے کیس میں پیش ہوئے دلائل دئیے اور ضمانت منظور کرائی یہ ہڑتال ان وکیل صاحب اور دیگر درجنوں وکلاء پہ اسکے مضمرات کیوں نہیں آئے لاہور یا پنجاب سے جانے والے وکیل پہ یہ ستم اور ظلم کیوں جناب صاحب اور جناب Aamir Nawaz Waraich Rehman Korai صاحب یہ کاروائی آپ نے اپنی بار کے وکلاء کے خلاف کیوں نہیں کی سندھ بار کونسل نے ان وکلاء کے لائسنس کیوں معطل نہیں کیے۔۔@ Punjab bar council
اسلام آباد: پچاسویں چیف آف آرمی اسٹاف پولو اور ٹینٹ پیگنگ چیمپئن شپ اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ اختتامی تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میں وفاقی وزیر داخلہ، چیف سیکریٹری پنجاب اور بڑی تعداد میں شہری بھی شریک ہوئے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز نے کامیاب کھلاڑیوں اور شریک ٹیموں میں انعامات تقسیم کیے۔یہ چیمپئن شپ ملکی اسپورٹس کے فروغ اور فوجی کھیلوں کی روایت کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی
کیا بھارت سجدہ سہو کرنے جا رہا ہے؟یہ سوال بھارت کے بدلتے ہوئے موڈ کو دیکھ کر پیدا ہوا ہے۔ اسی تبدیلی کا مظہر وہ منظر ہے جب بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر ڈھاکا میں خود چل کر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی نشست پر پہنچے اور خوش گوار انداز میں ان سے مصافحہ کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مئی کی جنگ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ پہلا خوش گوار اور براہِ راست رابطہ ہے۔ اس اعتبار سے یہ بات درست ہے کہ اتنی اعلیٰ سطح پر ایسا رابطہ ہوا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھارت کی طرف سے پہلا نہیں بلکہ دوسرا اشارہ ہے۔بھارت کی جانب سے پہلا اشارہ دبئی ایئر شو میں سامنے آیا تھا، جب انڈین ایئر فورس کے پائلٹ اور افسران پاکستان کے پویلین پر آئے اور پاکستان ساختہ طیارے جے ایف–17 تھنڈر کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ یہ واقعہ معمولی نہیں تھا۔ ایک ایسی فضائیہ، جس نے حالیہ تصادم میں انہی طیاروں سے نقصان اٹھایا ہو، اس کے افسروں کا اس انداز میں ان کے قریب آنا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ بھارتی افواج میں کوئی اہل کار اجازت بلکہ حکم کے بغیر ایسی جسارت نہیں کر سکتا۔ اب ڈھاکا میں محترمہ خالدہ ضیا کی آخری رسومات کے موقع پر جے شنکر کی پاکستانی وفد کے سربراہ سے ملاقات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔سوال یہ ہے کہ بھارت کی طرف سے ایسے اشارے کیوں مل رہے ہیں؟کیا یہ پاکستان کی مؤثر خارجہ حکمتِ عملی کا اثر ہے؟یا پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس زبان سے، جس میں وہ آئے روز بھارتی طیارے گرنے کے تذکرے کرتے ہیں، دہلی کو تپش پہنچنے لگی ہے؟یا یہ حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک بتدریج بھارتی اثر سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں؟بین الاقوامی تعلقات میں تبدیلیوں کی کبھی ایک وجہ نہیں ہوتی۔ بسا اوقات ایک راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو ساتھ ہی دوسرا متبادل بھی کھلا رکھا جاتا ہے۔ بھارت کیا کرنے جا رہا ہے، اس بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی ممکن نہیں۔ چانکیہ سیاست میں کھانے کے دانت اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور۔ تاہم ڈھاکا کے واقعے کے بعد یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ بھارت کم از کم موجودہ جمود سے نکلنے کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔بھارت کی سنجیدگی کا اشارہ صرف ایاز صادق سے مصافحہ نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں نمائندگی کے لیے وزیرِ خارجہ کو بھیجا گیا۔ پاکستان کی طرف سے اسپیکر قومی اسمبلی نے نمائندگی کی جو نائب صدر کا پروٹوکول رکھتے ہیں، تقریباً تمام سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کی ڈھاکا میں موجودگی کو یقینی بنایا گیا۔ بھارت کی سفارتی روایت کو دیکھتے ہوئے، خصوصاً موجودہ بنگلہ دیشی قیادت کے ساتھ کشیدگی کے پس منظر میں، یہ غیر معمولی اقدام تھا۔عمومی تاثر یہی تھا کہ بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلی کے بعد بھارت اسے سزا دینے کے موڈ میں ہے، اور چکن نیک کے محاذ پر دباؤ بڑھا کر، میانمار کے راستے اسے کٹ ٹو سائز کرنے کی حکمت عملی اپنائے گا۔ لیکن جے شنکر کی ڈھاکا آمد کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ دہلی نے اپنی حکمتِ عملی میں کم از کم وقتی طور پر ہی سہی، کچھ نرمی پیدا کی ہے۔ایاز صادق سے مصافحہ کر کے بھارت نے پاکستان کو مثبت اشارہ دیا، اور خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شرکت کر کے بنگلہ دیش کی طرف بھی ہاتھ بڑھایا۔ جنوبی ایشیا میں یہ تبدیلی بظاہر خوش آئند ہے، اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ چوکنا رہنا بھی ضروری ہے۔ اصل حقیقت کیا ہے، اس کا اندازہ آئندہ چند ہفتوں میں ہو جائے گا۔#ڈاکٹرفاروق_عادل #خالدہ_ضیا#بھارت #جےشنکر#بنگلادیش