ملتان کے سمیر منہاس نے انڈیا کے سوریا ونشی کا ریکارڈ پاش پاش کردیا ملتان کے سمیر منہاس نے انڈیا کے سوریا ونشی کا ریکارڈ پاش پاش کردیا .۔افغانستان میں کوی حکومت نھی ھے ترجمان افواج پاکستان۔۔۔بھارتیوں اور افغانیوں اکھٹھے مل کر اجاو۔خیبر پختونخوا حکومت نے معدنیات کے لئے 4ہزار 970 لائسنس جاری کئے،ڈی جی آئی ایس پی آر…۔ایران میں مظاہرے 78 شہروں میں پھیل گئے حکومت مکمل طور پر ناکام۔ جھڑپوں میں ھلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد ھو گئی۔۔ تہران کی منڈیوں میں عام ہڑتال، حکومت کی عوام کو سات ڈالر مالی مدد کی پیشکش۔عمران سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سلمان اکرم۔بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 کیلئے رجسٹریشن کروالی۔۔خیبرپختونخوا میں دہش ت گردوں کو ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر۔۔اسرائیل کی جنوبی و مشرقی لبنان پر بمباری، لبنانیوں کو علاقے خالی کر جانے کا انتباہ۔کیا امریکہ اسرائیل کے خلاف ھوتا ھوا نظر ارھا ھے۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایران میں جاری احتجاجی مظاہرے 26 صوبوں کے 78 شہروں تک پھیل گئے ہیں جہاں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 19 ہو گئی۔ انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے خبر رساں ادارے ایچ آر اے این اے نے اپنی رپورٹ میں بتایا

کہ فائرنگ کے واقعات میں 50 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے 990 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایچ آر اے این اے کے مطابق احتجاجی مظاہرے سخت سیکیورٹی اقدامات اور پولیس و دیگر سیکیورٹی اداروں کی اضافی تعیناتی کے باوجود مسلسل پھیل رہے

، ایران میں جاری احتجاج مظاہرے نویں روز میں داخل

ہوگئے ہیں جبکہ جامعات کے طلبہ بھی احت سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لے رہے

ملتان کے سمیر منہاس نے انڈیا کے سوریا ونشی کا ریکارڈ پاش پاش کردیا .زمبابوے انڈر 19 کیخلاف یوتھ ونڈے کی تاریخ کی تیز ترین سنچری بنا ڈالی

سمیر منہاس نے 42 بالوں پر سنچری بنائی اس سے پہلے سوریا ونشی 52 بالوں پر تیز ترین سنچری بنا چکے تھے

افغانستان میں کوی حکومت نھی ھے ترجمان افواج پاکستان۔۔بھارتیوں اور افغانیوں اکھٹھے مل کر اجاو۔تمھارا بندوبست کر دینگے۔خیبر پختونخوا حکومت نے معدنیات کے لئے 4ہزار 970 لائسنس جاری کئے،ڈی جی آئی ایس پی آر…سہیل آفریدی کا مسجد میں کتے باندھنے والا بیان،یہ صاحب ایسی مضحکہ خیز بات کیوں کرتے ہیں؟کیونکہ جب کوئی دلیل نہ ہو ،آرگومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کی جائے گی کہ جس کا نہ سر ہو اور نہ پیر ہو،ڈی جی آئی ایس پی آر

بنگلہ دیش نے آئی پی ایل کی تمام نشریات اور ٹیلی کاسٹ پر پابندی عائد کر دی بنگلہ دیش میں آئی پی ایل میچز نہیں دکھائے جائیں گے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الر حمن کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے نکالنے کے بعد فیصلہ کیا گیا۔۔بھارت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے نشانے پراگربھارت روسی تیل خریدنا بند نہیں کرتا تو کسٹم ڈیوٹی اور ٹیرف بڑھا دیں گے۔۔ بھارت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے نشانے پر۔۔ قانون کی بالادستی کی جدوجہد میں ہمارے گلے بھی کٹ جائیں پرواہ نہیں۔وزیراعلی سہیل آفریدی۔۔ تحریک انصاف پر پابندی لگے گی اور خوفناک ایکشن بھی۔۔ اسلام آباد: SNGPL اور SSGC کے لیے موسم سرما میں لوڈ مینجمنٹ کی نگرانی۔۔تنگ سو جنگ۔ بری امام والوں نے حق لینے کے لیے کھٹن راستہ چن لیا۔اسلام آباد مے سیکورٹی ھای الرٹ بڑی خبر کی تصدیق۔۔ بینک آف پنجاب کا اکاونٹ ہیک تقریبا 99 ارب غائب۔۔ ایف ائی اے لاہور کے حوالے مقدمات درج مزید تفشیش جاری لیاقت پور سے مزید گرفتاریاں متوقع۔۔ 40 سے زائد ڈیوائسسز مالکان گرفتار ایف ائی اے ایک فراڈ انشورنس کمپنی ملوث۔۔ ۔ایران ریجیم تبدیل 7 روز اھم رضا شاہ پھلوی تیار۔۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا اعلان کر دیا ایران میں مظاھروں میں شدت۔۔ ۔اگلی باری کس کی مڈل ایسٹ کا نقشہ تبدیلی کی طرف گامزن۔۔پاکستان باریک بینی سے صورتحال پر توجہ مرکوز کئے ہوئے پاکستان کی فورسز بھی الرٹ۔۔ایران کے ہاتھوں 10 امریکی فوجی گرفتار کرنے کی ویڈیو۔۔ھم نے وینزویلا پر قبضہ نھی کیا بلکہ چھڑوایا ھے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بڑی جنگ کا اسٹیج ۔ اظہر سیدریاستوں میں لوگوں کو خرید کر حلیف بنائے جا رہے ہیں۔فلپائن میں بھاری خریداری سے چین دوست حکومت تبدیل کر کے امریکہ دوست حکومت بنوائی گئی۔جنوبی ایشیا میں پاکستان ،سری لنکا،نیپال اور بنگلادیش میں چین دوست حکومتیں بنوائی گئیں ۔افریقہ میں چین کی بھاری سرمایہ کاری باکو حرام اور الشباب ایسی مذہبی دہشتگرد تنظیموں کے زریعے ختم کروائی گئی ۔پاکستان میں سی پیک میں اربوں ڈالر کی چینی سرمایہ کاری جنرل باجوہ اور فیض کے زریعے خطرہ میں ڈالی گئی۔لاطینی امریکہ میں چینیوں کی پیش قدمی صدر کے حالیہ اغواء سے خطرہ میں ڈالی گئی ۔روس کو یوکرائن میں الجھا کر چین کے طاقتور حلیف کو کمزور کیا گیا۔دنیا میں اس وقت چین اور مغرب کے درمیان کشمکش ہو رہی ہے ۔مغرب چین کو کسی بڑی جنگ میں الجھانا چاہتا ہے ۔چینی احتیاط سے دامن بچاتے جا رہے ہیں۔چوہے بلی کا یہ کھیل اب ختم ہونے کو ہے ۔تیسری عالمی جنگ کا اسٹیج تیار ہو رہا ہے ۔جلد مغرب کا رخ چین کے طاقتور حلیف اور ایٹمی طاقت پاکستان کی طرف ہو گا ۔پاک بھارت دوستی جنوبی ایشیا کو جنگ سے بچا سکتی ہے ۔

قرضوں میں بال بال جھکڑے ترقی یافتہ مغربی ممالک ایک قطار میں رکھی اینٹوں کی طرح ہیں ۔نادہندگی شروع ہوئی سارے مغربی ممالک ایک دوسرے کو قطار میں رکھی اینٹوں کی طرح گرا دیں گے ۔دنیا جتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے بہت جلد سو میٹر دوڑ کی طرح بھاگنے لگے گی ۔انسانی ترقی نے اپنی معراج حاصل کر لی ہے ۔دنیا سمٹ کر موبائل فون کے زریعے ہر انسان کے ہاتھ میں پہنچ گئی ہے ۔معلوم تاریخ میں انسانی ابادی کبھی پانچ ارب سے زیادہ نفوس کی سطح تک نہیں پہنچی ۔یہ ابادی فطری اصولوں اور زمینی وسائل سے مطابقت نہیں رکھتی ۔دنیا کا فطری سائیکل متاثر ہو چکا ہے ۔گلیشیر پگھل رہے ہیں۔قطب شمالی اور جنوبی میں ہزاروں سالوں سے منجمند برف پگھل کر سمندروں کی سطح میں اضافہ کر رہی ہے

۔صاف پانی کے زخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔انسانی ابادی کا بہت بڑا حصہ پانی کی کمی کا شکار ہو چکا ہے ۔فطری اصولوں کے تحفظ کیلئے قدرت حرکت میں آئے گی ۔دنیا پھر پتھر کے دور میں واپس جائے گی ۔یہ سب کچھ ایک بڑی عالمی جنگ کی صورت میں ہو گا ۔انسان کی فطرت میں لڑنا اور قبضہ کرنا ہے اس لئے تیسری عالمی جنگ کے بعد چوتھی عالمی جنگ بھی ہو گی لیکن وہ جنگ پتھروں اور ڈنڈوں سے لڑی جائے گی ۔

جب عمران خان پر حملہ ہوا اور اس کے بعد وہ کہتے تھےلاہور سے اسلام آباد پیشی کے لیے آناسیکیورٹی رسک ہے تو ججز کہتے تھے نہیں تمہیں آنا ہوگا آج عدالت خود اٹھ کر اڈیالہ جیل جارہی ہے۔ ایک پاکستان کا سابق وزیراعظم جو زخمی ہے اس کو لاہور سے اسلام آباد بلایا جاتا ہے لیکن ایک مجرم اس کے لیے عدالت خود چل کر ائرپورٹ جاتی ہے۔ہم کسی سے بھیک نہیں مانگتے عمران خان اور تحریک انصاف کا ہر کارکن اور آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں آئین و قانون کی بالادستی کی جدوجہد میں ہمارے گلے بھی کٹ جائیں پرواہ نہیں۔وزیراعلی سہیل آفریدی

وزیراعظم کا فاتحہ اور تعزیت کے لیے بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کا دورہ* وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہار تعزیت کے لیے عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کا دورہ کیا۔ وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے ناظم الامور سے تعزیت کا اظہار کیا، تعزیتی کتاب میں پیغام ریکارڈ کیا اور مرحومہ کی روح کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعظم نے بیگم خالدہ ضیاء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک صاحب بصیرت رہنما اور ایک نامور سیاسی شخصیت قرار دیا جنہوں نے اپنی زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کردی۔ بیگم ضیاء کو پاکستان اور اسکے عوام کی مخلص دوست و خیر خواہ کے طور پر یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ایک لازوال اور متاثر کن میراث چھوڑی ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے وزیراعظم نے بیگم خالدہ ضیاء کے اہل خانہ، ان کی پارٹی کے کارکنان اور بنگلہ دیش کے عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے.

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی سابق رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کے بیٹے مرتضیٰ کی شادی کی تقریب میں شرکت۔کراچی: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سابق رکن قومی اسمبلی، ماروی میمن کے بیٹے مرتضیٰ کی شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں سیاسی، سماجی اور کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والی متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے جوڑے کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی اور ان کی ازدواجی زندگی کے نئے سفر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ذوالفقار علی بھٹوپیدائش: 5 جنوری 1928وفات: 4 اپریل 1979 (51 سال)-زوجہ: نصرت بھٹواولاد: بینظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو، شاہنواز بھٹووالد: شاہ نواز بھٹو-وزیر خارجہ پاکستان: 15 جون 1963 – 31 اگست 1966-صدر پاکستان: 20 دسمبر 1971 – 13 اگست 1973-مکلم ایوان زیریں پاکستان: 14 اپریل 1972 – 15 اگست 1972-وزیر اعظم پاکستان: 14 اگست 1973 – 5 جولا‎ئی 1977-پاکستان کے سابق وزیر اعظم لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی ریاست میں دیوان تھے۔ پاکستان میں آپ کو قائدِعوام‎ یعنی عوام کا رہبر اور بابائے آئینِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر اعظم تھے۔ذو الفقار علی بھٹو نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی ’’ساؤ تھمپئین‘‘ میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لا کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔

بھٹو جمہوری حکومت میں صدر پاکستان سکندر مرزا کے

وزیر اعظم فیروز خان نون کی کابینہ میں وزیر تجارت تھے۔ ایوب خان بھی 1954 سے وزیر دفاع کے منصب پر فائز تھے۔ 1958ء تا 1960ء صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے۔ دسمبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی عنان حکومت مسٹر بھٹو کو سونپ دی۔ وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ قیدی نمبر 1772 کو 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

وہ وقت جب گاماں پہلوان نے مالی حالات سے مجبور ہو کر قائداعظم محمد علی جناح کو مدد کے لیے خط لکھا اور اپنی روزانہ کی خوراک کی فہرست بھیجی ۔۔۔۔۔گاماں پہلوان قیام پاکستان کے بعد لاہور آ گئے تھے ا‘ وہ مالی لحاظ سے ان کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا‘ وہ پہلوانی بھی جاری رکھنا چاہتے تھے اور اپنا اکھاڑہ بھی قائم کرنا چاہتے تھے لیکن روپیہ پیسہ نہیں تھا‘ اس زمانے میں پہلوانوں کی خوراک بہت اچھی ہوتی تھی‘ اس میں بادام اوردرجن بھر مغزیات ہوتے تھے اور بکرے کا تازہ گوشت اور دیسی گھی بھی‘ گاماں صاحب مالی تنگی کی وجہ سے خوراک کے بحران کا شکار ہو گئے چناں چہ انہوں نے امداد کے لیے قائداعظم کو خط لکھ دیا‘قائداعظم جسمانی لحاظ سے کم زور تھے‘ ان کا وزن بھی کم تھا اور وہ دھان پان بھی تھے‘انسانی نفسیات کے مطابق جسمانی لحاظ سے کم زور لوگ ہمیشہ مضبوط‘ لمبے تڑنگے اور صحت مند لوگوں کو پسند کرتے ہیں‘ قائداعظم کو بھی پہلوان‘ ریسلر‘ باڈی بلڈر اور باکسر اچھے لگتے تھے لہٰذا قائداعظم ہمیشہ تگڑے اور مضبوط کاٹھی کے لوگوں کو ملازم رکھتے تھے‘ قائد کا ڈرائیور آزاد بھی سوا چھ فٹ کا ’’ویل بلڈ‘‘ شخص تھا‘ آزاد قیام پاکستان کے بعد فلموں میں آیا اور بڑا نام کمایا‘ قائداعظم گاماں پہلوان کو بھی پسند کرتے تھے چناں چہ انہوں نے گاماں کا خط اس کی خوراک کی فہرست کے ساتھ پنجاب کے گورنر سر فرانسس مودی کو بھجوا دیا‘ گورنر نے خط پڑھا‘ خوراک کی فہرست دیکھی اور مسکرا کر کہا ’’پورے پنجاب کی خوراک ایک طرف اور گاماں پہلوان کا کھانا ایک طرف‘ ہم دیوالیہ ہو جائیں گے‘‘ ۔گاماں پہلوان کی زندگی کا ایک اور دلچسپ مگر سبق آموز واقعہ : ‘ گاماں پہلوان ایک دن لاہور کی کسی تنگ گلی سے گزر رہے تھے ‘ سامنے کسی کا اڑیل بیل کھل گیا‘

بیل تیزی سے گاماں پہلوان کی طرف دوڑ پڑا‘ پہلوان صاحب نے چند لمحوں میں صورت حال کا اندازہ کیا‘ واپس مڑے اور دوڑ لگا دی‘ اب صورت حال یہ تھی رستم ہند گاماں پہلوان آگے آگے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے اور لوگ گاماں پہلوان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے‘ راستے میں کسی کا گھر آ گیا‘ گاماں پہلوان نے چھلانگ لگائی اور اس گھر میں گھس کر پناہ لے لی‘ لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے‘ وہ بہت حیران ہوئے‘ کیوں؟ کیوں کہ انہوں نے گاماں کی بہادری کے بے شمار قصے سن رکھے تھے جن میں پہلوان صاحب بیل کو سینگ سے پکڑ کر زمین پر بھی گرا دیتے تھے لیکن جب بہادری کا عملی ثبوت دینے کا وقت آیا تو گاماں آگے تھا اور بیل پیچھے‘ یہ دیکھ کر لوگوں کو بہت افسوس ہوا اورگاماں پہلوان کی بہادری کے سارے قصے جھوٹے اور زیب داستان محسوس ہونے لگے‘ اس کا اظہار شام کے وقت ان کے ایک شاگرد نے کر بھی دیا‘ گاماں پہلوان سن کر ہنسے اور پھر بولے ’’پتر میرا میدان اکھاڑہ ہے‘ گلی نہیں اور میں پہلوانوں سے لڑتا ہوں بیلوں سے نہیں‘‘ یاد رکھو ساری لڑائیاں آپ کی لڑائیاں نہیں ہوتیں‘ وہاں لڑو جہاں عزت ہو‘ بے عزتی کا سودا نہ کرو‘‘۔

‏کسی نے نوٹس کیا کہ مدورو کے ہٹنے کے بعد،چین اور روس کتنے غیر معمولی طور پر خاموش رہے؟نہ شدید مذمت،نہ ہنگامی بیانات،نہ وہ سفارتی ہلچل،جس کی توقع کی جا رہی ہے۔یہ خاموشی اتفاق نہیں!یہ ‘سمجھوتے کی خاموشی’ لگتی ہے۔اسی لیے اس وقت سائمن گوڈیک کی “ٹریڈ آف تھیوری” غور طلب ہو جاتی ہے:– امریکہ وینزویلا کے وسائل کھا جائے– روس یوکرین کا بڑا حصہ لے جائے– چین تائیوان پر قبضہ کر لےیعنی ایک غیر اعلانیہ بندربانٹ،جہاں طاقتیں،جغرافیہ نہیں، بلکہ اثاثے تقسیم۔اگر یہ مفروضہ درست ہے…تو پھر دنیا میں ہونے والی جنگیں نہ اخلاقیات کی بنیاد پر ہیں، نہ اصولوں پر۔یہ “میوچل نان – انٹرفیرنس کے معاہدے” ہیں،جہاں ہر طاقت اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔اسی لیے میں بار بار کہتی ہوں:2026 صرف انتشار کا سال نہیں، بلکہ انکشاف کا سال بھی ہے۔اس سال…شور بہت ہو ہوگا،فیصلے اس سے بھی بڑے ہوں گے،اور خاموشیاں…سب کچھ بتا دیں گی۔اصل خبریں…بیانات میں نہیں،ردعمل کی کمی میں نظر آئے گی۔اور ابھی..دنیا بہت کچھ نہ کہہ کر،کہہ رہی ہے۔ازنمکین چائےNamkeen Chai

امریکہ کی جانب سے وینیزویلا پر حملہ کرنا اور پھر صدر نکولوس مادورو کو اغواء کرکے حکومت کا تختہ پلٹ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ چائنہ اور روس کبھی بھی آپکے بچاؤ کیلئے نہیں آئیں گےوینیزویلا کی صورتِ حال پاکستان کیلئے بھی ایک سبق ہے کہ آپ چائنہ کے آسرے پر کبھی بھی ٹِک نہیں پائیں گےموجودہ صورتِ حال کو دیکھ کر تین ہی راستے ہیں جن میں سے کوئی ایک چن کر آپ اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں• امریکہ کے سامنے سرنڈر کردیں، اپنا ضمیر بیچ دیں (جیسے پاکستان فوج نے 2022 میں کیا)• ایران کی طرح کشتیاں جلا دیں• یا پھر اپنا اتنا مقام پیدا کریں جیسے چائنہ اور روس کا ہے کہ کوئی آپ کو میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکےپاکستان اس وقت مکمل طور پر چائنہ پر انحصار کرتا ہے کہ اگر ہمارے ملک میں بیرونی جارحیت ہوئی تو چائنہ ہماری سائیڈ سے کود پڑے گا، لیکن اگر ایسا ہوا تو ہرگز چائنہ آپ کی طرف سے لڑائی میں شامل نہیں ہوگا اور اسکی تازہ مثال وینیزویلا ہے، اُس سے پہلے عراق اور لیبیا بھی مثالیں ہیںوینیزویلا میں امریکہ گھسا تو چلیں مان لیتے ہیں کہ چائنہ اور روس براہِ راست وینیزویلا کی مدد نہیں کرسکتے تھے مگر اقوامِ متحدہ کیوں نہیں گئے، کولڈ وار سے تو جواب دیا جاسکتا تھا مگر کیوں نہ دیا؟ اور دیں گے بھی نہیں کیونکہ چائنہ اور روس کبھی بھی براہِ راست امریکہ کے سامنے نہیں آسکتے

اسلام آبادشاہ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی جانب سے پاکستان بھر کے 22 ہزار مستحق خاندانوں کے لیے سرمائی امدادی پیکیج کے اجرا کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے وفاقی وزیر کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر سردار محمد یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اخوت، محبت اور باہمی اعتماد پر قائم ہیں اور مملکتِ سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنگ سلمان ریلیف سینٹر دنیا بھر میں انسانی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم عمل ہے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں اس ادارے کی خدمات نمایاں اور قابلِ قدر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں 22 ہزار سرمائی کٹس تقسیم کی جا رہی ہیں، جن سے تقریباً ایک لاکھ 54 ہزار افراد مستفید ہوں گے۔ ہر سرمائی کٹ میں دو کمبل، خاندان کے لیے گرم کپڑے، سویٹر، گرم جرابیں اور ٹوپیاں شامل ہیں تاکہ شدید سرد موسم میں مستحق خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئندہ چند روز میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، رورل سپورٹ پروگرامز اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے امدادی سامان کی تقسیم کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ منصوبہ کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے تعاون سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی شراکت سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے سعودی عرب کے فراخدلانہ تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اخوت اور محبت کا یہ عمل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا.

پاکستان اور چین کا دہشتگردی کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق -پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو نسل در نسل منتقل کرنے اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا: مشترکہ اعلامیہ۔ فوٹو وزارت خارجہ پاکستانپاکستان اور چین نے دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور دو طرفہ سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔گزشتہ روز بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے ساتویں پاک چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔مشترکہ اعلامیے کے مطابق چین کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 3 سے 5 جنوری تک چین کا دورہ کیا، پاک چین وزرائے خارجہ ملاقات میں جنوبی ایشیا میں امن، یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور تنازعات کے حل پر زور دیا گیا ہے اور مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے تحت، تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرۂ چین پر چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ چین نے پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں پاک چین تعلقات، دفاعی و سکیورٹی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں ممالک نے اسٹریٹجک رابطے بڑھانے اور باہمی اعتماد مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا، اس کے علاوہ چین اور پاکستان نے 2026 میں سفارتی تعلقات کے 75سال مکمل ہونے کی تقریبات شروع کرنےکا اعلان بھی کیا۔پاک چین مذاکرات کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو نسل در نسل منتقل کرنے اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا اور پاک چین آہنی برادرانہ اور آل ویدر اسٹریٹجک تعلقات کی توثیق کی گئی۔مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کی جانب سے چین کی ترقیاتی کامیابیوں اور جدید کاری کے ماڈل کو سراہا گیا اور دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور دوطرفہ سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ سی پیک 2، زراعت، معدنیات اور گوادر پورٹ پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔پاکستان اور چین نے خلائی تعاون میں پیشرفت اور پاکستانی خلابازوں کی چینی خلائی اسٹیشن میں متوقع شمولیت پر بھی اتفاق کیا۔

بینک آف پنجاب کا اکاونٹ ہیک تقریبا 99 ارب غائب ذرائع کے مطابق ضلع مظفر گڑھ ، رحیم یار خان کے 40 سے زائد ڈیوائسسز مالکان گرفتار ایف ائی اے لاہور کے حوالے مقدمات درج مزید تفشیش جاری لیاقت پور سے مزید گرفتاریاں متوقع۔۔بینک آف پنجاب کا اکاونٹ ہیک تقریبا 99 ارب غائب۔۔ ایف ائی اے لاہور کے حوالے مقدمات درج مزید تفشیش جاری لیاقت پور سے مزید گرفتاریاں متوقع۔۔40 سے زائد ڈیوائسسز مالکان گرفتار ایف ائی اے ایک فراڈ انشورنس کمپنی ملوث۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

لاہور ھای کورت کے چار ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر۔۔اڈیالہ کی چھت کا فضائی راستہ دھند کی وجہ سے معدوم۔۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل افریدی اج ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد کے وکلاء سے“پاکستان کی بقا جمہوریت میں ہے” کے عنوان سے خطاب کریں گے۔: پولیس بغیر عدالتی اجازت شہریوں کا موبائل فون چیک نہیں کر سکتی ،لاہور کی عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ: پولیس بغیر عدالتی اجازت شہریوں کا موبائل فون چیک نہیں کر سکتی ، پرائیویسی کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول قرار۔۔ افغانستان کے ساتھ 18 ارب ڈالر کا معاہدہ جھوٹ یا سچ۔۔مولانا فضل الرھمان سے چند مولانا کی ملاقاتیں۔۔پرایٹویزشن کے نام پر فراڈ اور فراڈ 1000 ھزار ارب روپے کا ڈاکہ۔۔پاور ڈویژن نے 46 ارب روپے کے 15 پلانٹ پرائٹوز کئے 2 ارب موصول نہ ھو سکے۔۔پاور ڈویژن کا ایک ڈیپوٹیشن پر ایا ایک آفیسر ریٹائرڈ سینٹر اور پی او ایف واہ کا آفیسر ملوث ۔پی او ایف کا لیٹر کس نے جاری کیا 9 اقساط کا شیڈول بھی جاری ھوا۔“مثالی کارکردگی” کا بیانیہ صرف ایک مہنگا سرکاری اشتہار رہے گا—حقیقت نہیں۔۔۔کھربوں روپے کی بارش میرٹ کا قحط تعریفیں آسمان پر فائلیں زمین میں دفن۔۔ بلوچستان اربوں روپے کی بارش 3 ماہ میں 111 ارب روپے کی کرپشن۔۔ سعودی عرب متحدہ عرب امارات ایران کا مستقبل خطرے میں چین دنیا کا حکمران امریکہ کا ڈاون فال نیو ورلڈ آرڈر جاری ۔۔شمالی وزیرستان میں صبح 5 سے شام 7 بجے تک دفعہ 144 نافذ، تمام داخلی و خارجی راستے بند۔۔۔ ریڈ الرٹ برائے تمام ہاسٹل میں مقیم طلبہاطلاع دی جاتی ہے کہ ایک بار پھر گیٹ نمبر 2 سھیل رانا لاءیو۔۔جعلی تحریک انصاف کے سابقہ لیڈر فراڈیے قرار۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

تین دن پہلے افغان دارالحکومت کابل میں چین، افغانستان، ایران، روس ازبکستان، تاجکستان، ترکمنستان، کرغستان، ازبکستان، قزاکستان اور ارمینیا کے سیکرٹری خارجہ کا اجلاس ھوا۔اجلاس میں تمام ممالک نے ایران کے شہر زیدان سے افغانستان کے راستے سے تمام ممالک میں موٹروے بنانے پر اتفاق کیا۔اگلے سال جنوری میں چین اور روس 30 30 ارب ڈالر فراھم کریگا، ایران 5 ارب ڈالر فراھم کریگا۔افغانستان کو راستے کے مد میں ٹیکس فری ملک قرار دیاگیا۔جو سالانہ افغانستان کو ٹول ٹیکس سے 18 ارب ڈالر امدنی ھوگی۔۔۔!

اسلام آباد:4 جنوری 2026ٹیکرز:جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے راولپنڈی اسلام آباد کے جید علماء کرام کے وفد کی ملاقات مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مدارس مساجد کے تحفظ کے تعاون کی یقین دہانی مساجد مدارس کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔مولانا فضل الرحمان بیرونی دباؤ پر حکومت کی مدارس مساجد کے خلاف کسی قسم کی سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے ۔مولانا فضل الرحمان دینی مدارس کیخلاف یہ رویہ انکا اپنا نہیں بلکہ بیرونی ایجنڈا ہے کہ مذہبی نوجوانوں کو مشتعل کرکے ریاست سے لڑایا جائے۔مولانا فضل الرحمان مدارس کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ قوتیں ملک میں ایسے ماہرینِ شریعت نہیں دیکھنا چاہتیں جو شریعت کے مطابق قانون سازی کر سکیں۔مولانا فضل الرحمان دینی مدارس کے خلاف اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کا رویہ دراصل بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے ،جس کا مقصد نوجوانوں کو ریاست کے خلاف بھڑکانا ہے

۔مولانا فضل الرحمان راولپنڈی اسلام آباد میں مساجد اور مدارس کے انہدام کی حکومتی اقدامات پر اظہار تشویش ۔ترجمان جے یو آئی اسلام آباد حکومتی بدنیتی کے باعث مدارس رجسٹریشن کی تاخیر پر اسلام آباد میں بڑے احتجاجی مظاہرے پر غور وفکر ۔ترجمان جے یو آئی اسلام آبادملاقات میں مدنی مسجد کی تعمیر نو کے بعد کی صورتحال پر غور وخوض ۔ترجمان جے یو آئی اسلام آباد وفد کی قیادت امیر جے یو آئی اسلام آباد مفتی اویس عزیز نے کی ۔ ترجمان جے یو آئی اسلام آباد اجلاس میں صوبائی رہنماء جے یو آئی پنجاب مولانا سعید الرحمان سرور ، مفتی عبدالرحمان ،ڈاکٹر عتیق الرحمان ،ڈاکٹر ضیاء الرحمان ،مولانا نذیر احمد فاروقی ،مولانا عبدالغفار ،مفتی عبدالسلام ،مفتی امیر زیب ،ارشد عباسی ، مفتی عبداللہ ،مفتی مسرت اقبال ، قاری اسرار اللہ ، مولانا عبدالکریم ، مولانا عبدالقدوس محمدی ،مولانا احمد الرحمان شریک ۔میڈیا سیل جےیوآئی پاکستان

وینزویلا نہیں ایران ٹارگٹ ہے ۔ ستمبر سے امریکہ بحریہ کشتیوں کو یہ کہہ کر نشانہ بنا رہی تھی کہ ان میں وینزویلا سے منشیات آ رہی ہیں ۔ یہ صدر نکولس مادورو کے لیے میسج تھا کہ نس بھج جا مکئ کے دانے ۔ نومبر میں امریکی ائر کرافٹ کیریر دس ہزار ٹروپس لے کر وینزویلا کے نزدیک تعینات ہو گیا ۔ اگست میں سی آئی اے نے اپنی ٹیم وینزویلا کے دارالحکومت کراکاس میں اتار دی تھی جو سٹیلتھ ڈرون ، ڈیجیٹل جاسوسی اور اک ہیومن سورس کے ذریعے وینزویلا کے صدر کی نگرانی کر رہی تھی ۔ یو ایس آرمی کی ایلیٹ کمانڈور فورس نے صدارتی محل کا ماڈل بنا کر ریہرسل شروع کر رکھی تھی ۔ مارکو روبیو نے دو دسمبر کو انٹرویو دیا فاکس نیوز کو اس میں بتایا کہ امریکہ فسٹ کرنا ہے تو پہلے اپنا گھر امریکہ ہی صاف کرنا ہو گا ۔ وینزویلا میں ایران نے پہنچ کر ہماری پشت میں جھنڈا گاڑ رکھا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسرائیلی نیوز سائٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ دل سے سمجھتا ہے کہ امریکہ کے سابق صدور باقاعدہ چول (اصل لفظ کچھ اور لکھا ہے وہاں ) تھے ۔امریکی صدور کو یہ سمجھنے کے باوجود ٹرمپ استاد نے جو نیشنل سیکیورٹی سٹریٹجی دسمبر میں جاری کی اس میں مونرو ڈاکٹرائن کو بحال کرنے کی ایک لائین لکھی ہوئی ہے ۔ جیمز مونرو پانچواں امریکی صدر تھا

۔ اس نے ایک بیان نمبر 1823 دیا تھا ، جس کو بعد میں گیارہویں صدر نے مونرو ڈاکٹرائن قرار دیا ۔ ٹرمپ کے دل کو وجا ہے یہ بیان ۔ اور اس کا ماننا ہے کہ اگر اسے امریکہ (براعظم) میں کوئی کاروائی کرنی ہے تو یو این ماسی لگتی ہے کہ اس سے پوچھوں ، وہ پردہ کر لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کافی خجل خوار ہو کر پی کے پلس کے لیے اک رپورٹ بنائی ہے ۔ اس محنت کی وجہ اک پیارے جماعتی دوست کا دکھ ہے ، جو سرخوں کو ورغلا کر امریکی جارحیت پر کوئی غیرت وغیرہ دکھانے کو اکساتی دکھ بھری تحریر لکھی جا رہا ۔ سرخے پاکستان میں جتنے بھی ہیں ان کا کل وزن پونے دو سالم بندوں سے زیادہ نہیں بنتا ۔ یہ طاقت کا کھیل ہے ، اس کو نظریاتی ، اصولی ، اخلاقی بنیادوں پر دیکھیں گے تو سرپرائز ہی ملیں گے ۔ تو سرپرائز سے بچنا اہم ہے ۔ سرپرائز ملیں تو نہ کاروبار چلتے ہیں نہ سرکار اور نہ عقل کام کرتی ہے ۔

**بلوچستان:اربوں کی بارش، میرٹ کا قحط**تعریفیں آسمان پر،فائلیں زمین میں دفن*کوئٹہ —بلوچستان حکومت کی “مثالی کارکردگی” پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے *ذرائع کے مطابق سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری (P&D) نے صرف تین ماہ میں کمیشن کی مد میں مبینہ طور پر 11 ارب روپے کمائے۔ عام آدمی اگر اتنی دولت کا خواب بھی دیکھ لے تو نیند اُڑ جاتی ہے، مگر یہاں سب کچھ “نارمل” ہے۔اب نئے آنے والے افسر زاہد سلیم نے گویا اعلانِ مقابلہ کر دیا ہے—کہ میدان خالی نہیں چھوڑا جائے گا۔ چنانچہ “گڈ گورننس” کا آغاز یوں ہوا کہ اربوں کے منصوبے جونیئر ترین افسران کے حوالے کر دیے گئے۔یہ وہی طبقہ ہے جو خود کو ایمانداری اور شفافیت کا پوسٹر بوائے بنا کر پیش کرتا رہا،مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے دفاتر کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کی بازگشت ہے۔ شفافیت شاید اب صرف شیشے کے دروازوں تک محدود ہے—فائلوں تک نہیں۔*چاغی ماسٹر پلان: میرٹ کی تدفین باقاعدہ سرکاری اعزاز کے ساتھ*اربوں روپے کے چاغی ماسٹر پلان میں گریڈ 17 کے جونیئر افسر امتیاز احمد کو پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا گیا،جبکہ یہ پوسٹ قواعد کے مطابق گریڈ 20 کی ہے۔مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ذرائع بتاتے ہیں کہ جب امتیاز احمد نصیرآباد میڈیکل کالج کے پی ڈی تھے تو سرکاری گاڑی وزیر ایریگیشن صادق عمرانی کے بیٹے کے زیرِ استعمال رہی۔ بعد ازاں وہی بیٹا اسی گاڑی کو چلاتے ہوئے کراچی میں ایک عام غریب کو قتل کرنے کے مقدمے میں ملوث پایا گیا۔

*نتیجہ؟*امتیاز احمد معطل ہوئے—اور پھر “سزا” کے طور پر صوبے کا ایک اور سب سے بڑا کماؤ منصوبہ ان کے حوالے کر دیا گیا۔بلوچستان میں شاید یہی اصول رائج ہے:جتنا بڑا سوال،اتنا بڑا پراجیکٹ۔*خاران ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو:اربوں، رشتہ داریاں اور خاموشی*خاران ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، جس کی لاگت 30 ارب روپے سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، اس میں پی ڈی مقرر کیا گیا شہاب کو—جو گریڈ 17 کے الیکٹرونکس انجینئر ہیں،جبکہ پوسٹ گریڈ 20 کی ہے۔ذرائع کے مطابق شہاب، وزیر خزانہ و معدنیات شعیب نوشیروانی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔یہ محض اتفاق ہے؟یا پھر *بلوچستان میں اب اہلیت سے زیادہ خاندان کا شجرہ دیکھا جاتا ہے؟**یونیورسٹی یا سرکاری تجربہ گاہ؟*حال ہی میں ایک اور “تاریخی اصلاح” کے تحت گریڈ 18 کے ایک افسر کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کر دیا گیا—ایسا عہدہ جو عملی طور پر گریڈ 22 کے برابر سمجھا جاتا ہے۔*تعلیم کے شعبے میں اصلاحات شاید اب ٹری اینڈ ایرر کے اصول پر کی جا رہی ہیں—اور تجربہ عوام پر ہو رہا ہے۔**بلوچستان کے مفتوح عوام کی جانب سے چند سوالات*یہ رپورٹ الزامات نہیں،بلکہ وہ سوالات ہیں جو خود نظام چیخ چیخ کر پوچھ رہا ہے:کیا بلوچستان میں میرٹ اب صرف پرانی فائلوں میں دفن ہے؟کیا اربوں کے منصوبے “پسندیدہ چہروں” کی ٹریننگ اسکیم بن چکے ہیں؟کیا معطلی سزا نہیں بلکہ پروموشن کا نیا راستہ ہے؟اور کیا احتساب صرف چھوٹے ملازمین کے لیے مخصوص ہو چکا ہے؟جب تک ان سوالات کے جواب نہیں دیے جاتے،تب تک “مثالی کارکردگی” کا بیانیہ صرف ایک مہنگا سرکاری اشتہار رہے گا—حقیقت نہیں۔

بہاولپور کے 5 نوجوانوں کی سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں ہلا۔کت : کیس کی سماعت 5 جنوری کو : اگر آفتاب باجوہ پانچوں نوجوانوں کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام رہے تو انکے ساتھ کیا ہو گا ؟ یاد رہے کہ آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ پچھلے کئی روز سے وزیراعلیٰ مریم نواز ، سہیل ظفر چٹھہ اور متعدد سی سی ڈی افسران پر مختلف پلیٹ فارمز پر سنگین الزامات لگا جکے ہیں ، انکی ویڈیوز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں ، آفتاب باجوہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز پر سنگین الزام لگایا کہ اختر گروپ کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے سہیل ظفر چٹھہ کو اس مقابلے کے احکامات جاری کیے ، ظاہری سی بات ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بیٹھ کر مریم نواز صاحبہ نے ایک کرمنل کی سفارش کسی کو کی ہو اس بات پر اعتبار کرنا مشکل ہے اور پھر اس بات کا علم آفتاب باجوہ کو کیسے ہوا یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔۔۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 5 جنوری کو اس کیس کی سماعت کے بعد سنگین الزامات پر ایڈووکیٹ آفتاب باجوہ کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے ، ماسوائے اسکے کہ وہ عدالت میں اپنے مدعی فریق کے 5 نوجوانوں کو معصوم ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، یا پھر سی سی ڈی ان پانچ نوجوانوں کو مجرم ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔۔۔۔یاد رہے کہ آٖفتاب باجوہ کئی سال قبل اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف بھی ایسا ہی ایک کیس دائر کر چکے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اہم نوعیت کے ہائی پروفائل کیس کا پانچ جنوری کو کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟؟ ظاہر ہے 5 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ تو نہیں ہو گا لیکن اس سماعت میں کیس کے حوالے سے کافی حقائق سامنے آجائینگے ۔۔۔۔

بہاولپور کے 5 نوجوانوں کی سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں ہلا۔کت : کیس کی سماعت 5 جنوری کو : اگر آفتاب باجوہ پانچوں نوجوانوں کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام رہے تو انکے ساتھ کیا ہو گا ؟ یاد رہے کہ آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ پچھلے کئی روز سے وزیراعلیٰ مریم نواز ، سہیل ظفر چٹھہ اور متعدد سی سی ڈی افسران پر مختلف پلیٹ فارمز پر سنگین الزامات لگا جکے ہیں ، انکی ویڈیوز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں ، آفتاب باجوہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز پر سنگین الزام لگایا کہ اختر گروپ کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے سہیل ظفر چٹھہ کو اس مقابلے کے احکامات جاری کیے ، ظاہری سی بات ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بیٹھ کر مریم نواز صاحبہ نے ایک کرمنل کی سفارش کسی کو کی ہو اس بات پر اعتبار کرنا مشکل ہے اور پھر اس بات کا علم آفتاب باجوہ کو کیسے ہوا یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔۔۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 5 جنوری کو اس کیس کی سماعت کے بعد سنگین الزامات پر ایڈووکیٹ آفتاب باجوہ کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے ، ماسوائے اسکے کہ وہ عدالت میں اپنے مدعی فریق کے 5 نوجوانوں کو معصوم ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، یا پھر سی سی ڈی ان پانچ نوجوانوں کو مجرم ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔۔۔۔یاد رہے کہ آٖفتاب باجوہ کئی سال قبل اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف بھی ایسا ہی ایک کیس دائر کر چکے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اہم نوعیت کے ہائی پروفائل کیس کا پانچ جنوری کو کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟؟ ظاہر ہے 5 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ تو نہیں ہو گا لیکن اس سماعت میں کیس کے حوالے سے کافی حقائق سامنے آجائینگے ۔۔۔۔

بہاولپور کے 5 نوجوانوں کی سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں ہلا۔کت : کیس کی سماعت 5 جنوری کو : اگر آفتاب باجوہ پانچوں نوجوانوں کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام رہے تو انکے ساتھ کیا ہو گا ؟ یاد رہے کہ آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ پچھلے کئی روز سے وزیراعلیٰ مریم نواز ، سہیل ظفر چٹھہ اور متعدد سی سی ڈی افسران پر مختلف پلیٹ فارمز پر سنگین الزامات لگا جکے ہیں ، انکی ویڈیوز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں ، آفتاب باجوہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز پر سنگین الزام لگایا کہ اختر گروپ کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے سہیل ظفر چٹھہ کو اس مقابلے کے احکامات جاری کیے ، ظاہری سی بات ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بیٹھ کر مریم نواز صاحبہ نے ایک کرمنل کی سفارش کسی کو کی ہو اس بات پر اعتبار کرنا مشکل ہے اور پھر اس بات کا علم آفتاب باجوہ کو کیسے ہوا یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔۔۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 5 جنوری کو اس کیس کی سماعت کے بعد سنگین الزامات پر ایڈووکیٹ آفتاب باجوہ کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے ، ماسوائے اسکے کہ وہ عدالت میں اپنے مدعی فریق کے 5 نوجوانوں کو معصوم ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، یا پھر سی سی ڈی ان پانچ نوجوانوں کو مجرم ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔۔۔۔یاد رہے کہ آٖفتاب باجوہ کئی سال قبل اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف بھی ایسا ہی ایک کیس دائر کر چکے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اہم نوعیت کے ہائی پروفائل کیس کا پانچ جنوری کو کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟؟ ظاہر ہے 5 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ تو نہیں ہو گا لیکن اس سماعت میں کیس کے حوالے سے کافی حقائق سامنے آجائینگے ۔۔۔۔

🔴 ریڈ الرٹ برائے تمام ہاسٹل میں مقیم طلبہاطلاع دی جاتی ہے کہ ایک بار پھر گیٹ نمبر 2 (سرینگر روڈ) کے سامنے، نالہ کی جانب اسی علاقے میں جہاں پہلے بھی دیکھا گیا تھا، لیپرڈ دیکھے جانے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر لی گئی ہیں اور متعلقہ سڑک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے متعلقہ IWMB (وائلڈ لائف) دفتر کو مطلع کر دیا گیا ہے۔طلبہ سے گزارش ہے کہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی قومی کانفرنس کے حوالے سے کہا ہے کہ تحریک کو سابقہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی بلائی گئی کانفرنس کا دعوت نامہ موصول ہوگیا۔ترجمان کے مطابق تحریک انصاف پہلے ہی اپنے سابقہ رہنماؤں سے اظہارِ لاتعلقی کرچُکی ہے اور تحریک انصاف کا اعتماد حاصل نہ ہونا اس کانفرنس کو بے معنی کر دیتا ہے لہٰذا اِس صورتحال کے پیشِ نظر تحریکِ تحفظ آئین پاکستان کیلئے کانفرنس میں شرکت ممکن نہ ہوسکے گی۔

لاہور کی عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ: پولیس بغیر عدالتی اجازت شہریوں کا موبائل فون چیک نہیں کر سکتی ، پرائیویسی کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول قرار_وزیر آباد میں رکشہ ڈرائیور چالان کیا گیا دل برداشتہ ہو کر رکشہ ڈرائیور نے اپنے روزگار کے سبب رکشہ کو ہی آگ لگا دی۔۔ پرایٹویزشن کے نام پر فراڈ اور فراڈ 1000 ھزار ارب روپے کا ڈاکہ۔قومی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ کھیلنے انڈیا نہیں جائے گی: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ۔۔ ارمی میڈیکل کور کے افسران اور جوان اپنے نوجوان ڈاکٹر کو آخری سیلوٹ پیش کرتے ہوئے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

افغانستان میں 20 سالہ کرپشن: امریکی رپورٹ اور پاکستان کے خدشات کی عالمی تائید ت

‼️ *افغانستان میں 20 سالہ کرپشن: امریکی رپورٹ اور پاکستان کے خدشات کی عالمی تائید* ‼️📌 سگار (SIGAR) کی حتمی رپورٹ نے یہ حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی ہے کہ افغانستان میں لڑی جانے والی 20 سالہ جنگ صرف ایک عسکری مہم جوئی نہیں بلکہ کھربوں ڈالر کی منظم بدعنوانی کا ایک ایسا باب تھی جس کی مثال نہیں ملتی۔📌 امریکہ نے افغانستان میں مجموعی طور پر 2400 ارب ڈالر خرچ کیے، جس میں سے تعمیرِ نو کے لیے مختص 144 ارب ڈالر کی رقم یورپ کو بحال کرنے والے ‘مارشل پلان’ سے بھی زیادہ تھی، مگر اس خطیر رقم کے باوجود وہاں نہ کوئی پائیدار ادارہ بن سکا اور نہ ہی عوام کی زندگی بدل سکی۔📌 یہ رپورٹ پاکستان کے اس دیرینہ اور سچے موقف کی تائید کرتی ہے کہ امریکہ کی جلد بازی میں واپسی سے 7.1 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگا، جو اب ٹی ٹی پی جیسے گروہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔📌 رپورٹ نے ‘افغان نیشنل آرمی’ کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے، جس میں ہزاروں فرضی ملازمین موجود تھے اور جو صرف کاغذوں پر ایک طاقتور فوج دکھائی دیتی تھی، مگر حقیقت میں وہ کرپشن کی بنیاد پر کھڑی ایک مصنوعی قوت تھی جو غیر ملکی سہارے کے بغیر ایک دن بھی نہ ٹک سکی۔📌 افغانستان میں ہونے والی تاریخی کرپشن کا عالم یہ تھا کہ گاڑیوں کے تیل سے لے کر عوامی فلاح کے فنڈز تک سب ملی بھگت سے ہڑپ کیے گئے، جس کی وجہ سے امداد کا بڑا حصہ عام افغان شہری تک پہنچنے کے بجائے مخصوص گروہوں اور بدعنوان حکمرانوں کے بینک اکاؤنٹس کی نذر ہو گیا۔📌 امریکہ کی سیاسی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے ‘Bonn Agreement’ میں طالبان کو نکال کر اور پھر ‘دوحہ مذاکرات’ میں افغان حکومت کو نظر انداز کر کے اس نے خود ہی ایسی ریاستی کمزوری پیدا کی جس نے پورے خطے کو عدم استحکام کی آگ میں دھکیل دیا۔📌 موجودہ صورتحال میں بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے دی جانے والی انسانی ہمدردی کی امداد شفافیت کے فقدان کی وجہ سے افغان عوام کے بجائے دوبارہ انہی کرپٹ راستوں پر جا رہی ہے، جس سے خطے میں مزید انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

سکھ کو پگڑی پر ہیلمٹ پہننے کا ریلیف مل سکتا ہے تو مسلمان کا امامہ شریف اس پگڑی سے بہت افضل اس کو ھیلمٹ استثناء کیوں نہیں۔امریکہ ایران کا بھی کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو چین اتنی آسانی سے تیل حاصل نہیں۔۔وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ٹرمپ کی فیورٹ ہے وھی صدر ھو گی امن کا ایوارڈ دیا گیا جو ٹرمپ کے نام کر دیا گیا۔۔شمالی وزیرستان میں صبح 5 سے شام 7 بجے تک دفعہ 144 نافذ، تمام داخلی و خارجی راستے بند۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وہ وقت جب گاماں پہلوان نے مالی حالات سے مجبور ہو کر قائداعظم محمد علی جناح کو مدد کے لیے خط لکھا اور اپنی روزانہ کی خوراک کی فہرست بھیجی ۔۔۔۔۔گاماں پہلوان قیام پاکستان کے بعد لاہور آ گئے تھے ا‘ وہ مالی لحاظ سے ان کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا‘ وہ پہلوانی بھی جاری رکھنا چاہتے تھے اور اپنا اکھاڑہ بھی قائم کرنا چاہتے تھے لیکن روپیہ پیسہ نہیں تھا‘ اس زمانے میں پہلوانوں کی خوراک بہت اچھی ہوتی تھی‘ اس میں بادام اوردرجن بھر مغزیات ہوتے تھے اور بکرے کا تازہ گوشت اور دیسی گھی بھی‘ گاماں صاحب مالی تنگی کی وجہ سے خوراک کے بحران کا شکار ہو گئے چناں چہ انہوں نے امداد کے لیے قائداعظم کو خط لکھ دیا‘قائداعظم جسمانی لحاظ سے کم زور تھے‘ ان کا وزن بھی کم تھا اور وہ دھان پان بھی تھے‘انسانی نفسیات کے مطابق جسمانی لحاظ سے کم زور لوگ ہمیشہ مضبوط‘ لمبے تڑنگے اور صحت مند لوگوں کو پسند کرتے ہیں‘ قائداعظم کو بھی پہلوان‘ ریسلر‘ باڈی بلڈر اور باکسر اچھے لگتے تھے

لہٰذا قائداعظم ہمیشہ تگڑے اور مضبوط کاٹھی کے لوگوں کو ملازم رکھتے تھے‘ قائد کا ڈرائیور آزاد بھی سوا چھ فٹ کا ’’ویل بلڈ‘‘ شخص تھا‘ آزاد قیام پاکستان کے بعد فلموں میں آیا اور بڑا نام کمایا‘ قائداعظم گاماں پہلوان کو بھی پسند کرتے تھے چناں چہ انہوں نے گاماں کا خط اس کی خوراک کی فہرست کے ساتھ پنجاب کے گورنر سر فرانسس مودی کو بھجوا دیا‘ گورنر نے خط پڑھا‘ خوراک کی فہرست دیکھی اور مسکرا کر کہا ’’پورے پنجاب کی خوراک ایک طرف اور گاماں پہلوان کا کھانا ایک طرف‘ ہم دیوالیہ ہو جائیں گے‘‘ ۔گاماں پہلوان کی زندگی کا ایک اور دلچسپ مگر سبق آموز واقعہ : ‘ گاماں پہلوان ایک دن لاہور کی کسی تنگ گلی سے گزر رہے تھے ‘ سامنے کسی کا اڑیل بیل کھل گیا‘ بیل تیزی سے گاماں پہلوان کی طرف دوڑ پڑا‘ پہلوان صاحب نے چند لمحوں میں صورت حال کا اندازہ کیا‘ واپس مڑے اور دوڑ لگا دی‘ اب صورت حال یہ تھی رستم ہند گاماں پہلوان آگے آگے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے اور لوگ گاماں پہلوان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے‘ راستے میں کسی کا گھر آ گیا‘ گاماں پہلوان نے چھلانگ لگائی اور اس گھر میں گھس کر پناہ لے لی‘ لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے‘ وہ بہت حیران ہوئے‘ کیوں؟ کیوں کہ انہوں نے گاماں کی بہادری کے بے شمار قصے سن رکھے تھے جن میں پہلوان صاحب بیل کو سینگ سے پکڑ کر زمین پر بھی گرا دیتے تھے لیکن جب بہادری کا عملی ثبوت دینے کا وقت آیا تو گاماں آگے تھا اور بیل پیچھے‘ یہ دیکھ کر لوگوں کو بہت افسوس ہوا

اورگاماں پہلوان کی بہادری کے سارے قصے جھوٹے اور زیب داستان محسوس ہونے لگے‘ اس کا اظہار شام کے وقت ان کے ایک شاگرد نے کر بھی دیا‘ گاماں پہلوان سن کر ہنسے اور پھر بولے ’’پتر میرا میدان اکھاڑہ ہے‘ گلی نہیں اور میں پہلوانوں سے لڑتا ہوں بیلوں سے نہیں‘‘ یاد رکھو ساری لڑائیاں آپ کی لڑائیاں نہیں ہوتیں‘ وہاں لڑو جہاں عزت ہو‘ بے عزتی کا سودا نہ کرو‘‘۔