ترکیے نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کردی۔*پنجاب کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات میں اضافہ ہوگا یا نہیں؟ فیصلہ کل کی بجائے کچھ دیر ہوگا*۔*لاہور سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 167 کے لئے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے ملک محمد شفیع بلامقابلہ منتخب۔*عراقی فضائیہ نے پاکستان سے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کردی۔پاکستان کا اس سال جون میں آئی ایم ایف سے باہر ہونے کا امکان۔ پاکستان نیوی کا کامیاب تجربہ۔ آئی ایس پی آر۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*پاکستان نیوی کا کامیاب تجربہ۔ آئی ایس پی آر**پاکستان کا زمین سے فضائیہ تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ۔آئی ایس پی آر**تجربہ پاک بحریہ کے ائیر ڈیفس سسٹم کی صلاحیتوں کا عکاس ہے،آئی ایس پی آر*

بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے انکشاف کیا ہے کہ ترکیہ نے بھی پاک سعودی عرب دفاعی اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کر دی ہے۔ بلوم برگ کے مطابق یہ انکشاف اس معاملے سے باخبر افراد نے کیا ہے۔ بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اتحاد سے مشرق وسطیٰ اور اس سے بہت آگے تک طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا۔ اس معاہدے پر پاکستان اور سعودی عرب نے پچھلے سال ستمبر میں دستخط کیے تھے جس میں لکھا گیا تھا کہ دونوں میں سے کسی ایک بھی ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔ بلوم برگ کے مطابق ترکیہ کو پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شامل کرنے کی بات چیت اگلے مرحلے پر ہے اور تینوں ملکوں کے درمیان معاہدہ جلد ممکن ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا خیبرپختونخوا میں کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسیناسپیکر قومی اسمبلی کی شمالی وزیرستان اور کرم میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے 11 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریفدہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق قوم دہشتگردی کے ناسور کے خلاف اپنی بہادر فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں قومی سلامتی کے تحفظ کی ضمانت ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں، سردار ایاز صادقدہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے، اسپیکر سردار ایاز صادق “عزمِ استحکام” کے تحت دہشتگردی کے خلاف جاری کارروئیاں قابل ستائش ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم متحد ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مشترکہ کارروائیاں امن و استحکام کے قیام کی روشن مثال ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی*ترکیے نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کردی**پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد سے مشرق وسطیٰ اور اس سے بہت آگے تک طاقت کا توازن تبدیل ہوجائے گا: بلومبرگ*

30 دنوں میں 5 ارب ڈالر اوورسییز پاکستانیوں نے بھیج کر ریکارڈ قائم کر دیا۔۔سردار ایاز صادق کی بیک ڈور اھم ترین شخصیات سے ملاقاتیں۔سھیل آفریدی کو سندھ میں سربراہ مملکت کا پروٹوکول۔وفاقی حکومت 19 ھزار ارب روپے سے زائد جب کہ پنجاب حکومت میں سینکڑوں ارب روپے کی کرپشن کر چکی۔۔ ۔کراچی میں مکمل طور پر سھیل آفریدی کا شو کامیاب 3 سال کے بعد عمران خان زندہ باد عمران خان کے نعروں سے گونج رھا ھے۔پاکستان اور سری لنکا کا دوسرا میچ بارش کی نظر۔پاکستان اور سری لنکا کا دوسرا میچ بارش کی نظر۔ایران میں راجیم کی تبدیلی تہکران مکمل طور اوٹ اف کنٹرول۔۔تحریک انصاف ایک انتشاری ٹولہ ھے وزیر اطلاعات۔۔سیکرٹری پٹرولیم مومن اغا او ایس ڈی پرویز ملک کی جیت۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سیاست ناممکنات کا کھیل ہے۔پیپلز پارٹی اپنی بدترین مخالف ن لیگ کے ساتھ بیٹھ گئی۔ق لیگ کو قاتل لیگ کہا،پھر اسی کا پرویز الہی ڈپٹی وزیراعظم بنا دیااگست میں وزیراعظم کی تبدیلی کہ معاہدے کی باتیں زبان زد و عام ہیںکیا PPP ممکنہ اتحاد کے لیے راستے کھول رہی ہےسیاست میں کچھ بھی ممکن ہے

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔ اظہر سیدجتنی تیزی سے دن مہینے اور سال گزر رہے ہیں اس سے زیادہ تیزی سے دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔صرف چوبیس گھنٹوں میں امریکیوں نے روسی آئل ٹینکر ضبط کیا ۔سعودی عرب نے یمن میں عرب امارات کی پراکیسوں پر خوفناک بمباری کی ۔افغانستان میں چینی انجینئرز پر خوفناک حملہ میں متعدد چینی ہلاک متعدد اغواء کر لئے گئے۔وین ویلا میں صدر کے اغواء کے خلاف لاکھوں شہری احتجاج پر نکل آئے ۔صدر کی سیکورٹی کے زمہ دار چھ اعلی افسران کو حکام نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ان پر اغواء میں امریکیوں کی معاونت کا الزام تھا۔یورپین یونین کے چھ طاقتور ملکوں جرمنی،فرانس سمیت گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی کوشش کو نیٹو توڑنے کے مترادف قرار دے دیا۔جدید ترین امریکی لڑاکا جیٹ اور اسلحہ بردار ٹرانسپورٹ طیارے برطانیہ پہنچ گئے ہیں ۔کہا جا رہا ہے ایران میں حکومت تبدیل کرنے کیلئے جنگ مسلط کی جائے گی۔یہ تمام خبریں گزشتہ چوبیس گھنٹے کی ہیں۔امریکی دیوالیہ ہو چکے ہیں ۔وسائل کے حصول کیلئے کبھی صدر کو اغوا کرتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ پر قبضہ کے اعلانات کرتے ہیں ۔کبھی غزہ کو سیاحتی مقام بنانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔امریکی معیشت کا یہ حال ہو چکا ہے دو ماہ قبل شٹ ڈاؤن کے دوران سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے صدر ٹرمپ نے اپنے دوست سے قرضہ لیا تھا ۔امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سی آئی اے ملازمین کو رضاکارانہ فراغت کی پیشکش کی گئی ہے ۔ہزاروں ملازمین فارغ کر دئے گئے ہیں ۔تین لاکھ ملازمین کو برطرفی کے نوٹس دے جا چکے ہیں۔امریکہ کا حال کسی ترقی پزیر غریب ملک سے بھی بدتر ہو چکا ہے ۔صحت کے بجٹ میں کمی کر دی گئی ہے۔یو ایس ایڈ ،وائس آف امریکہ سمیت چالیس وفاقی محکمے ختم کر دیے گئے ہیں ۔یورپین یونین سمیت دنیا بھر کے ممالک کی درآمدات پر ٹیرف بڑھا دیا گیا ہے

تاکہ اضافی پیسے ملیں قرضوں کی ادائیگی ہو اور امریکی سرکاری مشنری چلائی جا سکے ۔امریکی سینٹ نادہندگی سے بچنے کیلئے جی ڈی پی کا حجم بڑھا کر قرضوں کی حد تو بڑھا دیتا ہے لیکن قابل ادا قرضوں کی ادائیگی تو بڑھتی ہی جائے گی اور ربڑ مزید کھنچنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی ۔نادہندگی کے خوفناک خواب کی تعبیر سے بچنے کیلئے جہاز کے ڈیک پر چوہے بھاگتے پھر رہے ہیں ورنہ خاموشی سے جہاز کے نچلے حصوں کے سٹور روم میں خوراک کترتے رہتے تھے ۔ایک بڑی جنگ ہی امریکی معیشت کو بچا سکتی ہے کہ اسلحہ کی صنعتیں چل پڑیں اور نادہندگی ٹال دی جائے ۔جتنا بڑھا قرضہ اور جتنی بڑی ادائیگیاں ہیں یہ ڈھول جلد پھٹ جائے گا۔ہر عروج کو زوال ہے ۔امریکیوں نے عروج دیکھ لیا اب زوال کی باری ہے ۔

اسکولز اور کالجز 12 جنوری کو کھلیں گے، وزیر تعلیم رانا سکندرتعلیمی اداروں میں چھٹیوں سے متعلق گمراہ کن خبروں سے اجتناب کریں، وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر

💥 دفاعی روٹ تعطل کا شکار: 23.8 ارب روپے مختص، چھ ماہ میں صرف 5 فیصد کام مکمل 💥سوان–سہالہ–کہوٹہ ڈوئل کیرج وے فنڈنگ رکاوٹوں کے باعث ٹھپ، اسٹریٹجک کوریڈور دم گھٹنے لگا“چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز، حکومتِ پنجاب، کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز (KRL)، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی بروقت اور مربوط مداخلت ہی فنڈنگ کے اس تعطل کو توڑ کر اس نہایت اہم دفاعی و سیاحتی کوریڈور کو بروقت مکمل کر سکتی ہے۔” رانا تصدق حسینکہوٹہ: مالی سال 2025–26 کے وفاقی بجٹ میں 23 ارب 84 کروڑ 50 لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص ہونے کے باوجود، نہایت اہم سوان–سہالہ–کہوٹہ روڈ ڈوئل کیرج وے منصوبہ پہلے چھ ماہ میں محض پانچ فیصد پیش رفت دکھا سکا ہے، جو دائمی تاخیر، کمزور بین الاداراتی ہم آہنگی اور فنڈنگ کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔28.4 کلومیٹر طویل راولپنڈی سوان–کہوٹہ روڈ، جو ایک باقاعدہ دفاعی روٹ ہے اور آزاد جموں و کشمیر کے علاقوں کوٹلی اور راولا کوٹ تک رسائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، 27 جولائی 2023 کو ECNEC کی منظوری کے تقریباً 18 ماہ بعد بھی بڑی حد تک غیر فعال پڑا ہے۔صرف 2 کلومیٹر تعمیر، 26.4 کلومیٹر ابھی نشان زد بھی نہیںاب تک تعمیراتی کام صرف کہوٹہ وائی کراس سے ہوتھلہ اسٹاپ تک دو کلومیٹر ڈوئل کیرج وے تک محدود ہے۔باقی 26.4 کلومیٹر حصے پر نہ تو نشاندہی ہوئی ہے اور نہ ہی عملی تیاری دکھائی دیتی ہے، جو زمینی سطح پر سنگین غفلت کا ثبوت ہے۔

ہوتھلہ اسٹاپ پر کام مکمل طور پر بند ہے جبکہ سہالہ

ریلوے کراسنگ پر انتہائی ضروری اوورہیڈ برج کا آغاز تک نہیں ہو سکا، جس کے باعث ٹریفک کا مسئلہ ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ریلوے کراسنگ پر بدنظمی، مسافروں کے لیے روزانہ اذیتاوورہیڈ برج نہ ہونے کے باعث جب بھی سہالہ ریلوے کراسنگ بند ہوتی ہے، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں، جس سے راولپنڈی، کہوٹہ اور آزاد کشمیر کے درمیان سفر کرنے والے مسافر شدید مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔مقامی آبادی کے مطابق اس کے نتیجے میں:ٹریفک حادثات میں اضافہسفر میں غیر معمولی تاخیرٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہکاروباری سرگرمیوں میں شدید خللاسٹریٹجک، معاشی اور سیاحتی کوریڈور نظراندازماہرین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ منصوبے کی بروقت تکمیل سے 40 کلومیٹر طویل راولپنڈی–کہوٹہ سفر محض 30 سے 40 منٹ میں طے ہو سکے گا، جس سے ہموار اور محفوظ آمدورفت ممکن ہو گی، بالخصوص:دفاعی و اسٹریٹجک ٹریفکآزاد کشمیر جانے والے مسافرپاکستان ٹورازم ہائی وے کا ٹریفکاوورسیز پاکستانی ہاؤسنگ سوسائٹیتعلیمی ادارے، بشمول عبادت یونیورسٹی اور دیگر جامعاتیہ سڑک علاقائی رابطہ کاری، سیاحت، تعلیم اور معاشی سرگرمیوں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، مگر اس کے باوجود بدستور نظرانداز ہے۔منصوبہ منظور، بجٹ مختص، مگر رقم جاری نہیںاگرچہ منصوبہ مکمل طور پر منظور شدہ اور بجٹڈ ہے، مگر موجودہ مالی سال میں اب تک صرف 800 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں، جس کے باعث بڑے تعمیراتی اجزاء عملی طور پر منجمد ہو چکے ہیں۔این ایچ اے کے ایک ترجمان نے بڑھتی ہوئی تنقید کے جواب میں کہا کہ:پیکیج-I کا انحصار حکومتِ پنجاب (راولپنڈی ڈویژن) کی فنڈنگ پر ہے، اور رقم ملتے ہی کام “فوری” شروع کر دیا جائے گا۔پیکیج-II این ایچ اے کی براہِ راست ذمہ داری ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ مالی سال کے اختتام سے قبل اس کی رفتار میں تیزی آئے گی۔تاہم، زمینی حقائق ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔اہم شراکت داروں کو کردار ادا کرنا ہوگاباخبر ذرائع کے مطابق، مالی ذمہ داری بنیادی طور پر راولپنڈی ڈویژن (حکومتِ پنجاب) پر عائد ہوتی ہے، جبکہ ثانوی شراکت داروں میں شامل ہیں:کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز (KRL)پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC)ان اداروں کی جانب سے بروقت مالی تعاون نہ ہونے کے باعث ایک قومی اہمیت کا حامل منصوبہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔حکمرانی اور ترجیحات کا امتحاندفاع، سیاحت، تعلیم اور علاقائی رابطہ کاری جیسے اہم قومی مفادات کے تناظر میں، سوان–سہالہ–کہوٹہ روڈ اب حکمرانی، بین الاداراتی ہم آہنگی اور ترقیاتی ترجیحات کا کڑا امتحان بن چکا ہے۔اگر فنڈنگ کی رکاوٹیں فوری طور پر دور نہ کی گئیں تو یہ اسٹریٹجک شاہراہ ایک اور مثال بن جائے گی:تاخیر زدہ منصوبوں کیلاگت میں بے پناہ اضافے کیاور عوامی مشکلات و محرومی کیجو کسی طور بھی قومی مفاد کے مطابق نہیں۔

وزیر اطلاعات ۔۔۔پریس کانفرنسآج قوم دہشت گردی کا جو خمیازہ بھگت رہی ہے اس کے پیچھے تحریک انتشار کا سیاسی ونگ ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے بارے میں بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی والوں کی زبانیں لڑکھڑا جاتی ہیں، عطاء اللہ تارڑاسلام آباد۔9جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آج قوم دہشت گردی کا جو خمیازہ بھگت رہی ہے اس کے پیچھے تحریک انتشار کا سیاسی ونگ ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے بارے میں بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی والوں کی زبانیں لڑکھڑا جاتی ہیں، ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن ہے، آخری دم تک اس کا تعاقب کر کے اس کا خاتمہ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما زاہد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سال 2025ء ہر لحاظ سے کامیابیوں کا سال ثابت ہوا، اسی برس پاکستان نے معرکہ حق میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے فتح کے جھنڈے گاڑے۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء جہاں عسکری کامیابیوں کا سال رہا وہیں معاشی محاذ پر بھی ملک کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، معیشت کو سمجھنے والے میڈیا کے افراد کی جانب سے جب معاشی امور پر تنقید کی جاتی ہے تو اسے مثبت پیش رفت سمجھتا ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک وقت تھا

جب ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا، فارن ایکسچینج ریزروز میں کمی، ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھائو، روپے کی قدر میں کمی، کاروباری سرگرمیوں کا جمود، برآمدات کی بندش، ایل سیز کا نہ کھلنا اور مجموعی طور پر غیر یقینی اور ہیجانی کیفیت موجود تھی، یہاں تک کہ یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ ملک آج ڈیفالٹ کرے گا یا کل۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ وہی ہوتا جس کی خواہش کا اظہار سیاسی حریف کرتے رہے اور ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو بینکوں کے باہر طویل قطاریں لگ جاتیں، عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل جاتا، رقوم نکلوانے کی بھگدڑ، لوٹ مار، بین الاقوامی ایئرلائنز کی پاکستان آمد کی بندش اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی روابط معطل ہو جاتے، جس سے ملک میں مکمل افراتفری کی صورتحال پیدا ہو جاتی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ الحمدللہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے نکل کر ایک ابھرتی ہوئی معیشت کی جانب گامزن ہو چکا ہے، ملکی سٹاک مارکیٹ روزانہ کی بنیاد پر نئی بلندیاں چھو رہی ہے جس کی بنیادی وجہ حکومتی پالیسیوں پر بزنس کمیونٹی، صنعتکاروں اور تاجروں کا بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ بخوبی جانتا ہے کہ ملک میں سٹرکچرل ریفارمز کا عمل جاری ہے اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے قومی مفاد میں معیشت کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، اس پورے عمل میں ریاستی اداروں کا بھی بھرپور کردار ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی قیادت میں اکنامک ریوائیول کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں، صرف دسمبر کے مہینے میں ترسیلات زر 3.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو سال بہ سال بنیاد پر 17 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ایک سیاسی جماعت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر پاکستان نہ بھیجنے اور بائیکاٹ کی کال دی تاہم وزیراعظم اور حکومت کی طرف سے اوورسیز پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ترسیلات زر بھیجنے کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملکی معیشت میں گروتھ کا مومنٹم برقرار ہے،

فارن ایکسچینج ریزروز میں اضافہ ہو رہا ہے، سٹاک ایکسچینج شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، اوورسیز پاکستانی بھرپور اعتماد کے ساتھ سرمایہ اور ترسیلات وطن بھیج رہے ہیں جبکہ پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی روابط میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم بیرونِ ملک دوروں کے دوران ہر فورم پر پاکستانی مصنوعات کے فروغ کی بات کرتے ہیں، ملائیشیا نے پاکستان سے حلال گوشت اور چاول درآمد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستان آنے والے اعلیٰ سطحی وفود اور سربراہان مملکت سے بھی دوطرفہ تجارت بڑھانے پر بات چیت کی جاتی ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعاون میں اضافہ کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم کے بیرونِ ملک دوروں پر تنقید کی جاتی ہے لیکن یہ دیکھنا چاہئے کہ ان دوروں کے ملکی معیشت پر کیا مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم جس بھی ملک کا دورہ کرتے ہیں وہاں تجارتی محاذ پر نئی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اتنے زیادہ دوروں کی کیا ضرورت ہے وہ درحقیقت نادان ہیں، وزیراعظم بیرون ملک دورے دعوت پر کرتے ہیں، دعا کرنی چاہیے کہ ہر وزیراعظم کو دنیا بھر سے دعوتیں ملیں اور پاکستان کے اعزاز میں غیر ملکی سربراہان مملکت کا دورہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ایک شخص تکبر کے انداز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر کہا کرتا تھا کہ تمہاری ثقافت اور تاریخ تمہارے سے زیادہ بہتر مجھے پتہ ہے، اس طرز عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرق بھی ناراض ہوا اور مغرب بھی، ایک فرد کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے ممالک پاکستان کے لئے ریڈ کارپٹ بچھا رہے ہیں جو وزیراعظم پاکستان اور پوری قوم کے وقار اور عزت کی عکاسی کرتا ہے، بین الاقوامی پروازوں کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے اور عالمی برادری پاکستان کے ساتھ تجارت اور دفاعی شعبے میں تعاون کی خواہاں ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کی ٹیموں کا شفاف انداز میں آکشن ہوا جسے پوری دنیا نے دیکھا، ایک گروپ کا تعلق آسٹریلیا میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں سے جبکہ دوسرے گروپ کا تعلق امریکہ سے ہے، دونوں گروپس کے سربراہان نے کہا کہ دنیا بدل چکی ہے، ہم پاکستان آئے ہیں، ہم نے پی ایس ایل کی دو ٹیمیں خریدی ہیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ سرمایہ امریکہ میں بھی لگا سکتے تھے، انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اوورسیز پاکستانیز پاکستان میں سرمایہ کاری پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ایک اہم سنگ میل ہے، اوورسیز پاکستانی پاکستان میں سرمایہ کاری کو باعث فخر سمجھتے ہیں، پاکستان اب سفارتی محاذ پر مسلسل کامیابیاں سمیٹ رہا ہے، بھارتی جنگی طیارے گرانے کے بعد دنیا پاکستان کی معترف ہے، آج پاکستان کے گرین پاسپورٹ کو ہر جگہ عزت اور وقار حاصل ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور پالیسی فریم ورک جبکہ ملائیشیا کے ساتھ تجارتی میدان میں پیشرفت حکومت کی اہم کامیابیوں میں شامل ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا پیارا اور عزیز صوبہ ہے جہاں کے عوام غیرت مند اور بہادر ہیں تاہم بدقسمتی سے وہاں ایسی حکومت مسلط ہے جس کی سوچ محدود اور رویے قابل افسوس ہیں۔ لاہور کے دورے کے موقع پر انہوں نے خواتین کی توہین کی، وزیر اطلاعات پنجاب کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ کسی بھی مرد کو زیب نہیں دیتے، یہ طرز عمل شرمناک اور قابل مذمت ہے، ایک صوبے کا وزیر اگر دوسرے صوبے کی خاتون وزیر اطلاعات کے بارے میں ایسی گفتگو کرتا ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ کیا وہ یہی الفاظ اپنی بہن بیٹیوں کے بارے میں استعمال کر سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خواتین کو نشانہ بنانا بزدل لوگوں کا کام ہے،

یہ بزدلی کی بدترین مثال ہے، اگر ان کی بزدلی بیان کرنا شروع کی جائے تو لوگ شرما جائیں گے کہ ایسے عناصر کے پاس خیبرپختونخوا کی حکومت ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ایک ٹی وی پروگرام میں خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات کے سامنے تحریک طالبان پاکستان کا نام لیا گیا تو وہ لاجواب ہو گئے حالانکہ ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن ہے اور ریاست اس کا خون کے آخری قطرے تک تعاقب کرے گی، ہمیں افواج پاکستان، سکیورٹی اداروں اور ان جوانوں پر مکمل اعتماد ہے جو روزانہ جان ہتھیلی پر رکھ کر گھر سے نکلتے ہیں، جنہیں ان کی مائیں اور گھر والے دعائوں اور اس عزم کے ساتھ رخصت کرتے ہیں کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے جا رہے ہیں اور اگر خوش قسمت ہوں تو شہادت کا رتبہ پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے باہمت اور قربانی دینے والے لوگ اس ملک میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کا کیا کردار ہے؟ ان کا کردار یہ ہے کہ وہ خواتین کو طعنے کستے ہیں، تذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ٹی ٹی پی کی باری آتی ہے تو یہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی ٹی پی بیرونی فنڈنگ، را اور بھارتی سرپرستی کے تحت پاکستان پر حملے کرتی ہے مگر خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندوں کی جانب سے اس کی مذمت میں دو الفاظ بھی ادا نہیں کیے جاتے، طعنے کستے وقت ان کی زبان رواں ہوتی ہے لیکن جب تحریک طالبان پاکستان کا ذکر آتا ہے تو گھبرا کر خاموش ہو جاتے ہیں، ان کا لیڈر دہشت گردوں کو شہید کہتا رہا، مگر پاک فوج کے کسی جوان کے لیے کبھی ایک لفظ تک لکھنے یا کہنے کی جرات نہیں کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں، بلور خاندان دہشت گردی کا نشانہ بنا اور اس کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان تحریک انصاف دہشت گردوں کے خلاف نرم گوشہ رکھتی ہے، پی ٹی آئی والے ڈرتے ہیں کہ ہمارے پر حملہ نہ ہو، ان پر حملہ اس لئے نہیں ہوتا کہ یہ ان کی سہولت کاری کرتے ہیں، انہیں پناہ گاہیں فراہم کی جاتی ہیں، واپس لا کر بسایا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے بعد ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا تھا تاہم تحریک انصاف نے دوبارہ دہشت گرد عناصر کو واپس لا کر بسایا ۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکائونٹس پر فیلڈ مارشل اور افواج پاکستان کے خلاف تنقیدی بیانات تو دکھائی دیتے ہیں مگر پاک فوج کے کسی جوان یا افسر کے حق میں ایک لفظ بھی نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ آج قوم دہشت گردی کا جو خمیازہ بھگت رہی ہے، اس کے پس پردہ تحریک انتشار کا سیاسی ونگ ہے، اسی وجہ سے ان کے ترجمان بھی تحریک طالبان پاکستان کے خلاف بات کرنے سے گھبراتے ہیں، یہی ان کی نام نہاد بہادری اور حوصلے کا معیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹی ٹی پی میں دس اچھے لوگوں کا نام بتا دیں جو پرو پاکستانی ہوں اور جن کی خدمات پاکستان کی محبت میں ہوں، حقیقت یہ ہے کہ یہ اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاق، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں حکومتی اقدامات کے ثمرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، پنجاب کی ترقی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، صوبے میں سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں فعال ہیں، الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں، جدید ترین آئی ٹی ادارے قائم ہو رہے ہیں، بیوٹیفیکیشن کے منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں، پارکس بن رہے ہیں اور ہر شعبے میں ترقی کا سفر جاری ہے۔ اس کے برعکس ایک صوبہ ایسا ہے جہاں ایک سیاسی جماعت گزشتہ بارہ برس سے برسرِ اقتدار ہے مگر وہاں گورننس مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھی تحریک انصاف نے بنایا تو اس پر افسوس کے ساتھ ہنسی بھی آتی ہے، کاش یہ لوگ لاہور اور پنجاب کا وژن خیبرپختونخوا لے جاتے، دیکھتے کہ گرین بسیں کیسے چلائی گئیں، شہباز شریف نے میٹرو بس اور اورنج لائن کا جدید نظام کیسے متعارف کرایا، سیف سٹیز کے کیمروں کا وہ ماڈل کیا ہے جسے شہباز شریف نے شروع کیا اور مریم نواز اسے آگے بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاش یہ لوگ صحت کے نظام کو سنجیدگی سے سٹڈی کرتے، صرف نعرے لگانے، حبیب جالب کے اشعار پڑھنے اور تقریروں پر اکتفا نہ کرتے، یہ یونیورسٹیوں میں تالیاں اور نعرے بازی کر کے خوش ہو جاتے ہیں، نئی یونیورسٹیاں بنا کر دکھائیں، یہ صرف کرتب دکھانے کے ماہر ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ صحت اور تعلیم کی صورتحال کیا ہے تو حقائق سامنے آ جاتے ہیں، خیبرپختونخوا میں سرکاری ہسپتالوں میں کوئی علاج کروانے کو تیار نہیں، راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں سب سے زیادہ مریض خیبرپختونخوا سے آتے ہیں، پورے جنوبی وزیرستان میں ایک ڈاکٹر اور ایک لیڈی ڈاکٹر موجود ہے، کیا یہ کام کسی اور نے آ کر کرنا تھا، اگر یہ ضلع مسلم لیگ (ن) کو دے دیا جاتا تو ہم وہاں کام کر کے دکھاتے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے کئی علاقوں میں صاف پینے کا پانی تک میسر نہیں اور دعوے بڑے بڑے کیے جا رہے ہیں، درجن سے زائد یونیورسٹیاں ایسی ہیں جہاں عملہ موجود نہیں، جہاں عملہ ہے وہاں تنخواہوں کے لیے فنڈز نہیں، صوبے بھر میں پانچ سے سترہ سال کی عمر کے 49 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تورغر، کوہستان، لوئر کوہستان اور الائی پالس جیسے علاقوں میں لڑکیوں کے لیے ایک بھی کالج موجود نہیں، کوہستان میں اربوں روپے کے سکینڈلز سامنے آ جاتے ہیں مگر بچیوں کے لیے ایک تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا جاتا، لوئر دیر میڈیکل کالج تیمرگرہ پر چار ارب روپے خرچ کیے گئے، سٹاف بھرتی ہو چکا ہے، 32 کروڑ روپے ماہانہ تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں مگر اس کے باوجود کالج آپریشنل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے میدان، صحت اور تعلیم کی سہولیات سب کی حالت سب کے سامنے ہے، ان سے پوچھا جائے کہ ان کے پاس ان شعبوں کے لیے کیا روڈ میپ ہے تو جواب ندارد، شعر و شاعری کر لیتے ہیں، وکٹری کا نشان بنا لیتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف بات نہیں کرنی مگر خواتین کے خلاف طعنے ضرور کسنے ہیں، گورننس کی ابتر صورتحال بھی سب پر عیاں ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وہاں سیاسی عناصر کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط موجود ہیں، تیل اور منشیات کی سمگلنگ، اشیائے خوردونوش، ٹمبر اور ٹوبیکو مافیا سرگرم ہے، انہی نیٹ ورکس کے ذریعے ان کے کاروبار چلتے ہیں، یہ ان کا اصل اور گھنائونا چہرہ ہے، دہشت گردی کے پسِ پشت انہی کے اپنے لوگ کارفرما ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم خیبر پختونخوا حکومت سے صحت، تعلیم کے بجٹ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور خواتین کی یونیورسٹیوں و کالجوں پر خرچ ہونے والی رقم کا حساب مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا سارا فوکس اپنی بزدلی پر ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ایک لفظ نہ کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں دہشت گردوں کا خوف موجود ہے وہیں مالی مفادات اور کمائی کا نیکسس بھی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ سکیم متعارف کرائی ہے تاکہ خیبر پختونخوا کا ٹیلنٹ بھی اس سہولت سے محروم نہ رہے۔

وفاقی منصوبے وفاقی حکومت ہی مکمل کر رہی ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ قومی سلامتی پر جو بھی بجٹ خرچ ہوتا ہے وہ مکمل طور پر وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی شکل میں یہ اخراجات وفاق ہی برداشت کرتا ہے، صوبے اس میں حصہ نہیں ڈالتے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی نئی فورس کھڑی کرتی، سیف سٹی کا مربوط نظام قائم کرتی، جدید فارنزک لیبارٹریاں بناتیں، اگر دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کرنا تھا تو کم از کم جرائم پر قابو پا لیا جاتا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹمبر، ٹوبیکو، آئل اور ڈرگ مافیا کے سرغنے انہی کے دوست ہیں اور ان ہی کی پارٹی میں موجود ہیں، اسی لیے وہاں اصلاحات نہیں لائی جاتیں اور نظام کو جان بوجھ کر اسی حالت میں چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی اور ملک کے مفاد میں اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چاہئے کہ اپنی گورننس بہتر بنائے، اگر قانون سازی کے حوالے سے یا کسی بھی قسم کی معاونت درکار ہو تو وفاقی حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر پہاڑوں کو کاٹ کر معدنیات نکالی جا رہی ہے، خدا را صوبے کے قدرتی وسائل پر ڈاکے مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر گز یہ نہیں چاہتی کہ مظلومیت کا کوئی بیانیہ پی ٹی آئی کے ہاتھ میں دیا جائے، گزشتہ بارہ برسوں میں صوبے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری دلی خواہش ہے کہ پشاور لاہور سے بہتر ہو، وہاں کی سڑکیں، سکول، ہسپتال، کالجز اور یونیورسٹیاں زیادہ معیاری ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرے گی، ہر حکومت کے پاس گورنر راج کا آئینی آپشن موجود ہوتا ہے تاہم اس حوالے سے اس مرحلے پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے متعدد بار بات چیت کی پیشکش کی ہے کہ صوبے کے معاملات کس طرح بہتر بنائے جا سکتے ہیں، اگر کوئی بات کرنے کو تیار ہی نہ ہو تو مسائل کیسے حل ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جس میں خیبرپختونخوا کے نمائندے بھی شامل ہوں گے تاکہ مشترکہ طور پر معاملات کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد دنیا کے صاف ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، اگرچہ کچھ علاقوں میں صفائی کے مسائل موجود ہو سکتے ہیں مگر یہ تاثر درست نہیں کہ مرکزی سڑکوں کو توڑ کر دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹوبیکو مافیا کے خلاف ایف بی آر متحرک ہے، ایف بی آر نے بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں پر چھاپے مارے، انہیں سیل کیا، جرمانے عائد کیے اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا اور بھارت کے ساتھ اس کا واضح گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، یہ عناصر صرف اور صرف پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ پاکستان کا مقابلہ کرنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں تو اللہ کے فضل سے انہیں ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑے گی، ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ پاکستان کا سامنا کر سکیں، یہ دہشت گرد ہیں، دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں اور ہر پہلو سے ان کی آئیڈیالوجی ایک ہی ہے، دہشت گرد کا نہ کوئی رنگ ہوتا ہے، نہ نسل اور نہ ہی کوئی ایمان۔ تحریک انصاف سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مذاکرات پہلے بھی ہو چکے ہیں، پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی، سوال یہ ہے کہ مذاکرات سے بھاگا کون؟ سپیکر قومی اسمبلی ایوان میں مذاکرات کے حوالے سے بارہا بات کر چکے ہیں، وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں بھی واضح طور پر کہا تاہم یہ بھی طے ہے کہ ایسا رویہ قابل قبول نہیں ہو سکتا جس میں ملک کی سالمیت اور افواج پاکستان کے خلاف بیانیہ جاری رکھا جائے، اس طرز عمل کو ترک کرنا ہوگا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر اتنے گروپس بن چکے ہیں کہ یہ بھی واضح نہیں کہ مذاکرات کون کرے گا، یہ مختلف اور متضاد بیانات دے رہے ہیں مگر مذاکرات کے لیے ایک بھی نمائندہ نامزد نہیں کر سکے۔ وزیراعظم نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور بات چیت ہونی بھی چاہیے،

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ عناصر مذاکرات کے عمل میں سنجیدہ نہیں، اگر سنجیدہ ہوتے تو ایپکس کمیٹی اور دیگر اہم اجلاسوں میں شرکت کرتے، یہ نہ عوامی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں، نہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ ہی ملک کے مفاد میں کوئی مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو نیب کو نیازی گٹھ جوڑ کی اصلاحات کے تحت استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ اس وقت مرزا شہزاد اکبر نیب کے معاون خصوصی تھے اور وزیراعظم ہائوس میں ایک سیل قائم تھا جو طے کرتا تھا کہ کس کو کس طریقے سے اندر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف ہمارے وزیراعظم احتساب اور رول آف لاء پر یقین رکھتے ہیں مگر انہوں نے سیاسی وکٹمائزیشن کے لیے کوئی سیل قائم نہیں کیا، ہمارے پاس کوئی مشیر احتساب نہیں ہے، نیب ایک آزاد ادارہ ہے اور اس کا اپنا مینڈیٹ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا کام نہیں کہ نیب کے معاملات میں مداخلت کرے یا کہیں کہ کسی مخصوص کیس کو آگے بڑھایا جائے، کوہستان میں اربوں روپے کا کرپشن کیس سامنے آیا، نیب اپنا کام کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ایف آئی اے اور وزارت داخلہ کے ماتحت اداروں میں آنے والے کیسز کا نوٹس لیتی ہے اور ان کی پیروی بھی کرتی ہے، مگر نیب کا مینڈیٹ مکمل طور پر حکومت سے علیحدہ اور خود مختار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متعدد ایسی انڈسٹریاں تھیں جن کے سمگلنگ کے ساتھ روابط تھے، ان نیٹ ورکس کو توڑا گیا، اشیائے خوردونوش پر کیو آر کوڈز متعارف کرائے گئے، تمباکو فیکٹریوں پر چھاپے مارے گئے، انہیں سیل کیا گیا اور قانون کے مطابق کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں انفورسمنٹ کا مینڈیٹ وفاق کے پاس ہے وہاں وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی تاہم جو امور صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں وہ صوبوں کی ذمہ داری ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے، اربوں ڈالر مالیت کے قیمتی جیمز اور سٹونز پائے جاتے ہیں مگر ان کی برآمدات پر توجہ نہیں دی گئی، اسی طرح تین سو ڈیم بنانے کے دعوے کیے گئے، سوال یہ ہے کہ وہ ڈیم کہاں گئے؟ کتنے ڈیم بنے؟ ان تمام ذرائع سے خطیر ریونیو حاصل کیا جا سکتا تھا مگر انہیں استعمال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کوئی منظم ٹمبر مافیا موجود نہیں ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے سٹرکچرل ریفارمز کا عمل جاری ہے، بجلی کے بلوں میں 35 روپے پی ٹی وی فیس ختم کی جا چکی ہے جس طرح غیر ضروری اخراجات ختم کیے گئے اسی طرح آئی پی پیز کے معاملے پر بھی عملی اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کئی بین الاقوامی معاہدوں اور پیچیدہ معاملات کو حل کیا گیا، آئی پی پیز کے متعدد معاہدے ختم کیے گئے جن میں بڑے بڑے کنٹریکٹس شامل تھے، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری بہترین وزراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سولر اور توانائی کے دیگر شعبوں میں مؤثر پالیسیاں تشکیل دیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام ڈسکوز میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد تعینات ہیں اور کسی ایم این اے یا ایم پی اے کو وہاں جا کر سفارش کرنے کی اجازت نہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردوں کی ہارڈ ٹارگٹس تک پہنچنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے، دہشت گردوں نے خضدار میں بچوں کی بس پر اس لئے حملہ کیا کہ وہ ہارڈ ٹارگٹس تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری تندہی سے فرائض انجام دے رہے ہیں اور انشاء اللہ دہشت گردی کی اس جنگ میں

سیکیورٹی فورسز کی کارروائی: برقع پوش دہشت گرد گرفتاراسپن وام، شمالی وزیرستان 🇵🇰سیکیورٹی فورسز نے خواتین کے لباس میں ملبوس ایک مشکوک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاری کے بعد کی جانے والی تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ فرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا خودکش بمبار (SB) ہے اور اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔

تاجر برادری کا ایف بی آر پالیسیوں کے خلاف احتجاج، بدعنوان افسران کی برطرفی اور میرٹ پر مبنی نظامِ حکومت کا مطالبہ”رانا تصدق حسیناسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں آج ایک بڑے اور بھرپور احتجاج کے دوران آل پاکستان انجمنِ تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ، دیگر سینئر تاجر رہنماؤں اور انجمنِ تاجران جی-13 کے صدر ریاض خان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دفاتر کے باہر مظاہرین سے خطاب کیا اور موجودہ ٹیکس پالیسیوں اور انتظامی بدعنوانیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔تاجر رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آر کے بعض افسران من مانے اقدامات، ہراسانی اور آڈٹ و اسیسمنٹ کے غیر شفاف طریقۂ کار کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، جس سے دارالحکومت کی کاروباری برادری بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فوری ٹیکس اصلاحات، متاثرہ تاجروں کو ریلیف اور محصولات کی وصولی میں مکمل شفافیت کے مطالبات درج تھے۔اجمل بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تاجروں کے جائز مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو شہر کے تجارتی مراکز میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ غیر متوازن اور جابرانہ پالیسیوں نے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی تاجر برادری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ریاض خان نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری طویل عرصے سے نظامی ناانصافی، نظراندازی اور ریونیو اداروں کے غیر منصفانہ رویے کا سامنا کر رہی ہے۔ایک سخت سیاسی و انتظامی پیغام دیتے ہوئے مظاہرین نے بدنام اور کرپٹ افسران کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا اور طاقت کے ارتکاز کو روکنے کے لیے مؤثر روٹیشن پالیسی کے نفاذ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عہدوں پر میرٹ، اہلیت اور جوابدہی کی بنیاد پر تعیناتیاں ہونی چاہئیں، نہ کہ ایسے “عالی جاہوں اور لارڈز” کو نوازا جائے جو سرکاری عہدوں کو ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں۔مبصرین کے مطابق یہ احتجاج پاکستان کے بیوروکریٹک نظام میں موجود گہرے اور وسیع تر مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں اقربا پروری، پسند ناپسند اور بدعنوانی مسلسل نظامِ حکومت اور عوامی اعتماد کو کمزور کر رہی ہے۔مظاہرین نے اعلان کیا کہ جب تک عملی اور ٹھوس اصلاحات نافذ نہیں کی جاتیں اور تاجر برادری کے حقوق کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، ان کی پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔

وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی سیکرٹری پٹرولیم مومن آغا کو عہدے سے ہٹا دیا مومن آغا ایڈمنسٹریٹو سروس گریڈ 22 کے سینئر آفیسر ہیں مومن آغا کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت، او ایس ڈی بنا دیا گیا ، وزیراعظم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے بعض پالیسی امور پر اختلاف پر انھیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے

شدید سردی : تعلیمی ادارے بند ، فیصلہ ہو گی۔۔تیرہ میں آپریشن کھلی بدمعاشی ھے وزیر اعلی کے پی۔منفی ساٹھ ڈگری کی وہ یخ بستہ ہوائیں اور برف کے طوفان،جہاں سانس لینا بھی اک کٹھن امتحان بن جاتا ہے۔مگر وطن کے پاسبانوں کا عزم اور ہمت اس برف سے زیادہ بلند ہے،جو ان سنگلاخ چوٹیوں پر بھی سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھتے ہیں۔*چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سمیت 2 ججز کے خلاف شکایت دائر حکومت کا زیادہ خسارے والے بجلی کے فیڈرز کوشمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ 22 رنز سے ورلڈکپ جیت کر 22 سال کی جدو جہد کے بعد22واں وزیراعظم 22ویں سپارے کا لفظ خاتم النبیین نہ پڑھ سکنے والا عیدالفطر سے 22 دن پہلے2022 میں زلیل وخوار ہوکے نکلا۔۔۔بھارتی سٹاک ایکسچینج کریش جبکہ پاکستان میں الفلاح بینک دیوالیہ۔۔ کچھ غلط تو نہیں کہا میں نے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

منفی ساٹھ ڈگری کی وہ یخ بستہ ہوائیں اور برف کے طوفان،جہاں سانس لینا بھی اک کٹھن امتحان بن جاتا ہے۔مگر وطن کے پاسبانوں کا عزم اور ہمت اس برف سے زیادہ بلند ہے،جو ان سنگلاخ چوٹیوں پر بھی سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھتے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای:▪️”ٹرمپ کو اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔”▪️ “ایران اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔”▪️ “ہم ملک میں ایجنٹوں کو برداشت نہیں کریں گے۔”

*چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سمیت 2 ججز کے خلاف شکایت دائر*جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس ابہر گل خان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کی گئی`کونسل دونوں ججز کی تعلیمی اسناد اور مجموعی اہلیت کا تفصیلی جائزہ لے،درخواست گزار ‏پیپلز پارٹی کی جانب سے سعید غنی نے وزیراعلی سہیل آفریدی کا استقبال کیا۔یہ ایک بہترین عمل تھا اسکو ہم سب سراہتے ہیں۔,‏سہیل آفریدی کا استقبال پیپلز پارٹی نے سندھی ٹوپی پہنا کے کیا ن لیگ کو کوئی خوب ذلیل کر رہا ہے .😂

پنجاب میں اب جعلی مقدمات دائر نہیں ہوں گے چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کا جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے منصوبہ پر عمل درامد شروع لاہور ہائیکورٹ کا ضلعی عدلیہ میں بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاریپنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے سے قبل بائیو میٹرک لازمدرخواست گزار، مدعا علیہان اور فریقین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق لازمیضمانتی بانڈ جمع کرانے والوں اور بیانات دینے والوں پر بھی بائیو میٹرک لاگوبائیو میٹرک تصدیق کا اطلاق 20 جنوری 2026 سے ہوگااقدام کا مقصد نقالی کی روک تھام اور عدالتی شفافیت یقینی بناناچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاریڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کیا نوٹیفکیشن کی نقول صوبہ بھر کے سیشن ججز سمیت دیگر کو بھجوائی گئیں

یہ اسی کی دہائی میں افغانستان کی ایک برفیلی اور خاموش رات تھی جب کنڑ میں سوویت یونین کی سب سے خونخوار ایلیٹ فورس یعنی روسی گوریلوں ‘اسپیٹناز’ کو ایک خاص مشن سونپا گیا؛ مشن تھا افغان مجاہدین کی شہ رگ یعنی ان کی سپلائی لائن کو کاٹ کر بے ضرر کر کے چن چن کر مارنا، روسی کمانڈوز اپنے جدید ہتھیاروں اور دنیا کی سخت ترین تربیت کے زعم کے ساتھ پہاڑی دروں میں پیراشوٹ سے چھلانگیں لگا کر زمین پر پوزیشن سنبھال ہی رہے تھے کہ اچانک اندھیرے میں کچھ سائے سنگلاخ پہاڑوں پر نمودار ہوئے یہ اس احتیاط سے حرکت کر رہے تھے گویا ہوا میں معلق ہوں کوئی آواز نہ، پتھر کنکر لڑھکنے کی آواز… روسی گوریلے ان سایوں کی آمد سے بے خبر اپنے کمانڈر کے اگلے احکامات کا انتظار کر رہے تھے، ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ انتظار انکی موت پر ختم ہوگا اور یہ موت کا تحفہ افغان مجاہدین کی جانب سے نہیں ہوگاسیاہ رات میں بمشکل دکھائی دینے والے یہ حرکت کرتے سائے ان روسی کمانڈوز کے حصار میں گھس گئے، پوزیشنیں لے لی گئیں اور پھر برفیلی رات کا سکوت گولیوں کی گھن گرج نے توڑ دیا، روسی کمانڈوز َ دنیا کی سخت ترین بے رحم فورس سمجھی جاتی ہے ان کی جان لیوا ٹریننگ کو مکمل کرتے کرتے بچ رہنے والوں کی تعداد پانچ سے دس فیصد ہوتی ہے باقی ناکام ہوجاتے ہیں،اس سنگدل ٹریننگ کے باوجود وہ پہاڑوں سے اترنے والے پراسرار سایوں کا مقابلہ نہ کرسکے، یہ شب خون اتنا اچانک اور شدید تھا کہ روسیوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا، جب اگلی صبح جب سورج طلوع ہوا تو وادی میں موت کی سی خاموشی تھی اور اس خاموشی میں وہاں کے منظر نے روسی جنرلوں کو ہلا کر رکھ دیا، انہیں بھاری جانی نقصان ہوا تھا لیکن سوال یہ تھا کہ یہ نقصان کس نے پہنچایا کس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا… اس کا جواب ایک روسی میجر کے سینے میں پیوست خنجر سے ملا یہ خنجر عام تھا نہ اس کا استعمال کرنے والا کوئی عام انسان تھا، یہ روایتی فولادی خنجر پاکستان کے ایس ایس جی کمانڈوز کے لئے مخصوص تھا اور اس بات کا اعلان تھا کہ یہاں مقابلہ صرف گولیوں کا نہیں بلکہ دو بدو بھی ہوا ہے، یہیں سے تربیلا کے پاس چراٹ کے گھنے جنگلوں میں بے رحم. اور سفاک تربیت کرنے والے کمانڈوز کا نام بلیک اسٹورکس پڑا، اس کے بعد روسی سپاہی ایک عجیب خوف میں مبتلا ہوگئے،حال یہ ہوگیا کہ کہیں میدان گرم ہوتا تو روسی اپنے وائرلیس پر چلاتے ملتے “کالے بگلے آ گئے ہیں…. !” روسی پائلٹوں نے اپنی ڈائریوں میں لکھا کہ پاکستانی کمانڈوز سیاہ وردی میں پیرا شوٹ سے ایسے اترتے تھے جیسے شکاری پرندے اپنے شکار پر جھپٹتے ہیں بگلا اسی طرح چپکے سے بجلی کی سی سرعت سے حملہ کرتا ہے. ایس ایس جی کی بات چلی ہے تو سیلانی بتاتا چلے کہ اس ہیبت ناک دنیا کا حصہ بننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں. یہاں بھرتی کا طریقہ کار انتہائی سخت اور اعصاب شکن ہے۔ اس فورس کے لئے براہِ راست کوئی بھرتی نہیں ہوتی، بلکہ پاک فوج کے وہ جوان اور افسر جو جگرا رکھتے ہیں خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان امیدواروں کو پہلے کئی ہفتوں کے کٹھن جسمانی اور ذہنی ٹیسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے اور عموما اسی فیصد سے زائد امیدوار رہ جاتے ہیں، جو باقی بچتے ہیں، انہیں چراٹ کے پہاڑوں میں ‘ایس ایس جی کورس’ کے لیے بھیج دیا جاتا ہے جہاں ان کے حوصلے ہمت جرت کا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں تربیت صرف جسمانی ورزش کا نام نہیں بلکہ یہ ایک انسان کو فولاد میں ڈھالنے کا عمل ہے، جس میں 12 گھنٹوں میں 58 کلومیٹر اور تیس سے چالیس منٹ میں اٹھ کلو میٹر کی دوڑ بھاری بھرکم سامان کے ساتھ طے کرنا ایک معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔تربیت کا سب سے خوفناک اور دلچسپ مرحلہ ‘سروائیول ٹریننگ’ کہلاتا ہے، جہاں کمانڈو کو” دشمن” کے علاقے میں بغیر کسی خوراک اور پانی کے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان حالات میں زندہ رہنے کے لیے انہیں وہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے

جس کا ایک عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پیاس مٹانے کے لیے انہیں جنگلی پودے جڑی بوٹیوں کی پہچان کرائی جاتی ہے جنہیں چبا کر ان کے رس سے پیاس بجھائی جاسکے ، مینڈک اور سانپ پکڑ کر کھانے اور جانوروں کا خون پینے اور ان کے ذریعے اپنی توانائی برقرار رکھنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے تاکہ مشن کی تکمیل میں بھوک کبھی رکاوٹ نہ بنے۔ اسی دوران انہیں دنیا کے جدید ترین اسلحے کے استعمال میں اس قدر ماہر بنایا جاتا ہے کہ وہ اندھیرے میں بھی صرف آواز کی دستک پر دشمن کو نشانہ بنا سکتے ہیں، چاہے وہ اسنائپر رائفل ہو یا ہینڈ گن، ان کا ہر وار حتمی ہوتا ہے ایس ایس جی کی تربیت کا سب سے خفیہ اور مشکل ترین پہلو ‘تشدد سہنے کی صلاحیت تربیت’ (Resistance to Interrogation) ہے۔ اس مرحلے میں جوانوں کو فرضی طور پر دشمن کی قید میں دیا جاتا ہے جہاں ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کے وہ تمام طریقے آزمائے جاتے ہیں جو ایک دشمن، ٹارچر سیل میں ان پر کر سکتا ہے۔ انہیں بھوکا رکھا جاتا ہے، نیند سے محروم کیا جاتا ہے اور انتہائی تکلیف دہ حالات میں نہایت بے رحمی سے رکھا جاتا ہے تاکہ اگر کبھی وہ اصل جنگ میں دشمن کے ہتھے چڑھیں تو ہڈیاں ٹوٹ جائیں لیکن عزم نہ ٹوٹے…..یہی “من جانب اللہ “والوں کی پہچان ہے!عدنان شریف جٹ

22 رنز سے ورلڈکپ جیت کر 22 سال کی جدو جہد کے بعد22واں وزیراعظم 22ویں سپارے کا لفظ خاتم النبیین نہ پڑھ سکنے والا عیدالفطر سے 22 دن پہلے2022 میں زلیل وخوار ہوکے نکلا۔۔۔🙃کچھ غلط تو نہیں کہا میں نے😂

*پنجاب میں دھند کا زور کم ، سرد ترین صبح کا امکان*محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب میں اگلے دو گھنٹوں کے دوران دھند کے بادل مکمل طور پر تحلیل ہو جائیں گے۔ آج دوپہر سے شمالی علاقوں کی خشک ہوائیں داخل ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں دھند کی موجودہ تہہ کمزور ہو رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کل صبح بھی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں دھند پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم بعض موسمی ماڈلز کے مطابق صبح کے ابتدائی اوقات میں شدید کہرا چھا سکتا ہے اور درجہ حرارت معمول سے کم رہنے کی وجہ سے یہ سرد ترین صبح بھی ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ صبح کے وقت گاڑی چلانے یا سفر کے دوران احتیاط برتی جائے، خاص طور پر کھلی سڑکوں اور دیہی علاقوں میں جہاں دھند کی شدت زیادہ ہو سکتی ہے۔مزید برآں، محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ کم روشنی اور محدود نظر کے باعث ٹریفک کے دوران ہلکی رفتاری اور ہیڈلائٹس کے استعمال کا خیال رکھا جائے۔

پنجاب چالان 2000بہت دنوں سے انجن آئل تبدیل نہ کرسکنے کے باعث بائیک کا انجن دھواں دینے لگ گیا آج کافی دنوں بعد بڑی مشکل سے دیہاڑی لگی تو گھر میں آٹا بھی نہیں تھا بازار آٹا لینے نکلا تو نئے قوانین کی لسٹ لیئے وارڈن سے آمنا سامنا ہوگیا بائیک والا جناب میری دیہاڑی 800 ہے جو سارا دن کام کرنے کے بعد ملتی ہے اور آپ نے ایک منٹ میں 2000 نے کا چالان کر دیا اب میں بچوں کے لیے گھر کیا لے کر جاؤں گا سوشل میڈیا زرائع کے مطابق اس مکالمے کے بعد موٹرسائیکل سوار کو پڑنے والا دل کا دورہ جان لیوا ثابت ھوا …

پنجاب چالان 2000بہت دنوں سے انجن آئل تبدیل نہ کرسکنے کے باعث بائیک کا انجن دھواں دینے لگ گیا آج کافی دنوں بعد بڑی مشکل سے دیہاڑی لگی تو گھر میں آٹا بھی نہیں تھا بازار آٹا لینے نکلا تو نئے قوانین کی لسٹ لیئے وارڈن سے آمنا سامنا ہوگیا بائیک والا جناب میری دیہاڑی 800 ہے جو سارا دن کام کرنے کے بعد ملتی ہے اور آپ نے ایک منٹ میں 2000 نے کا چالان کر دیا اب میں بچوں کے لیے گھر کیا لے کر جاؤں گا سوشل میڈیا زرائع کے مطابق اس مکالمے کے بعد موٹرسائیکل سوار کو پڑنے والا دل کا دورہ جان لیوا ثابت ھوا …

*پنجاب حکومت کا محکموں کی ڈاؤن سائزنگ کا فیصلہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں کمیٹی قائم کمیٹی تمام محکموں سے اضافی ملازمین کو فارغ کرے گی۔۔سردی کی شدت میں اضافہ زندگی سسکیاں لینے لگی۔۔حکومت کے ساتھ کوی مذاکرات نھی ھونگے 2 ٹکے کی اوقات نھی شفیع جان۔۔بھارت خطے میں دہشت گردی کروا رھا ھے۔۔خون سفید ھو گیا سنسنی خیز ڈرامہ۔۔سردار ایاز صادق کی شگفتہ جمانی کے گھر امد عیادت کی۔۔ارمی چیف کا دورہ لاھور فیاض شاہ کور کمانڈر لاھور کی بریفنگ۔10 ڈیو کے جنرل آفیسر کمانڈنگ عاطف بشیر کی ڈراون پر بریفنگ۔۔ ۔بھارت کی دراندازی کا مفصل منہ توڑ جواب بھرپور طریقے سے دیا جائے گا۔۔کور کمانڈر کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل رینجرز پنجاب گیارہ ڈیو کے کمانڈر لاگ ایریا کمانڈر بھی شریک۔پاکستان میں دھشت گردی لوٹ مار کا بازار گرم 50 ھزار ارب روپے کی سالانہ کرپشن۔امریکا نے روس سے تیل خریدنے والے ملکوں پر 500 فیصد ٹیرف لگا دیا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*کراچی: پسند کی شادی پر نامعلوم مسلح ملزمان نے گھر میں گھس کر نوبیاہتا جوڑے کو قتل کردیا*سہراب گوٹھ کے علاقے لاسی گوٹھ میں پسند کی شادی کرنے پرنامعلوم مسلح ملزمان نے گھرمیں گھس کر نوبیاہتا جوڑے کو فائرنگ کرکے قتل کردیا، نوبیاہتا جوڑے کا تعلق لاڑکانہ سے تھا اورپانچ ماہ قبل پسند سے کورٹ میرج کی تھی ۔ پولیس نے جائے واردات سے شواہد اکٹھا کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی۔رپورٹ کے مطابق سہراب گوٹھ تھانے کے علاقے لاسی گوٹھ میں نامعلوم مسلح ملزمان نے گھر میں گھس پرفائرنگ کرکے خاتون کوقتل اورایک مرد کوشدید زخمی کردیا اورموقع پرسے فرارہوگئے۔فائرنگ سے جاں بحق خاتون اورشدید زخمی مرد کو فوری طورپر عباسی شہیداسپتال منتقل کیا گیا جہاں شدید زخمی مرد بھی دوران علاج دم توڑگیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پرپولیس موقع پرپہنچ گئی اورپولیس نے فوری طورپرجائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کوموقع پرطلب کرلیا، جاں بحق خاتون کی شناخت 28 سالہ لطیفہ خاتون اورمرد کی شناخت 30 سالہ نصراللہ ولد محمد بچل کے نام سے کی گئی۔مقتولہ خاتون کا تعلق مگسی اورمرد کا تعلق لنگاہ قوم سےتھا، ایس ڈی پی او سہراب گوٹھ ڈی ایس پی اورنگزیب خٹک نے بتایا کہ جاں بحق خاتون اورمرد کا آبائی تعلق لاڑکانہ سے تھا اور مقتولین نے پانچ ماہ قبل پسند سے کورٹ میرج کی تھی

۔ابتداتی تفتیش کے مطابق نوبیاہتا جوڑے کوپسند کی شادی کرنے پرغیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔انھوں نے بتایا کہ نوبیاہتا جوڑے کو قتل کرنے والے واقعے میں 4 سے 5 ملزمان ملوث ہیں جبکہ پولیس کو جائے وقوع سے گولیوں کے چلیدہ خول اورزندہ راؤنڈ کے علاوہ تین چھریاں بھی ملی ہیں جن میں سے ایک چھری پر خون بھی لگا ہوا ہے۔خاتون کی لاش خون میں لت پت تھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ مقتولین کوفائرنگ کے ساتھ ساتھ چھری کے وارکیے گئے۔انھوں نے بتایاکہ مقتولہ خاتون کا کوئی رشتہ دارسامنے نہیں آیا جبکہ مقتول مرد کا بھائی آیا تھا جواسپتال روانہ ہو گیا ہے انھون نے بتایا کہ پولیس واقعے کے حوالے سے مزید تفتیش کر رہی ہے۔

راولپنڈی میں تھرتھلی! سردار تنویر الیاس کا ہوٹل پر ‘مسلح دھاوا’، اپنے ہی بھائی نے ایف آئی آر کٹوا دی!راولپنڈی کے قلب میں سنسنی خیز ڈرامہ اس وقت شروع ہوا جب سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے مبینہ طور پر درجنوں مسلح کارندوں کے ہمراہ صدر آدم جی روڈ پر واقع اپنے ہی سگے بھائیوں کے نجی ہوٹل پر دھاوا بول کر قبضے کی کوشش کی۔ اس واقعے نے اس وقت سیاسی اور کاروباری حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا جب وزیراعظم پاکستان کے مشیر سردار یاسر الیاس نے خون کے رشتے کے بجائے قانون کا راستہ چنا اور اپنے ہی بھائی سردار تنویر الیاس سمیت 13 افراد کے خلاف تھانہ کینٹ میں سنگین مقدمہ درج کروا دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ہوٹل پر مسلح جتھے کے ذریعے حملہ کر کے قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد اربوں روپے کے اثاثوں کی یہ خاندانی جنگ اب تھانے اور عدالت کی دہلیز تک

ایئر چیف مارشل حسن محمود خان، سربراہِ فضائیہ بنگلہ دیش، نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتِ حال اور دوطرفہ دفاعی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پ پاکستان سپر لیگ پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیمیں حیدرآباد اور سیالکوٹ شامل ہوگئیں ایف کے ایس گروپ نے ٹیم 175 کروڑ روپے جبکہ اوزی ڈیولپرز نے ٹیم 185 کروڑ روپے میں خرید لی پاکستان سپر لیگ میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت کیلئے نیلامی کا عمل جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوا علی ترین کے دستبردار ہونے کے بعد بولی میں 9 پارٹیاں شریک تھیں حیدرآباد پی ایس ایل میں شامل پہلے ایف کے ایس گروپ نے پی ایس ایل کی 7ویں ٹیم 175 کروڑ روپے میں خریدی اور ٹیم کیلئے حیدرآباد کا انتخاب کرلیا مالک حیدرآباد ٹیم فواد سرور کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں پلا بڑھا اس لیے ٹیم کو خرید کر ہی جانا چاہتا تھا سیالکوٹ پی ایس ایل میں شامل ہونے والی اٹھویں ٹیم ہے پی ایس ایل کی 8 ویں ٹیم کیلئے خوب مقابلہ ہوا تاہم اوزی ڈیولپرز نے ٹیم 185 کروڑ روپے میں خرید لی اور ٹیم کیلئے سیالکوٹ شہر کا نام منتخب کیا گیا اس طرح پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیمیں حیدرآباد اور سیالکوٹ کی شمولیت سے اب مجموعی ٹیموں کی تعداد 8 ہوگئی ہے پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کا انعقاد 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک ہوگا

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔ اظہر سیدجتنی تیزی سے دن مہینے اور سال گزر رہے ہیں اس سے زیادہ تیزی سے دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔صرف چوبیس گھنٹوں میں امریکیوں نے روسی آئل ٹینکر ضبط کیا ۔سعودی عرب نے یمن میں عرب امارات کی پراکیسوں پر خوفناک بمباری کی ۔افغانستان میں چینی انجینئرز پر خوفناک حملہ میں متعدد چینی ہلاک متعدد اغواء کر لئے گئے۔وین ویلا میں صدر کے اغواء کے خلاف لاکھوں شہری احتجاج پر نکل آئے ۔صدر کی سیکورٹی کے زمہ دار چھ اعلی افسران کو حکام نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ان پر اغواء میں امریکیوں کی معاونت کا الزام تھا۔یورپین یونین کے چھ طاقتور ملکوں جرمنی،فرانس سمیت گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی کوشش کو نیٹو توڑنے کے مترادف قرار دے دیا۔جدید ترین امریکی لڑاکا جیٹ اور اسلحہ بردار ٹرانسپورٹ طیارے برطانیہ پہنچ گئے ہیں ۔کہا جا رہا ہے

ایران میں حکومت تبدیل کرنے کیلئے جنگ مسلط کی جائے گی۔یہ تمام خبریں گزشتہ چوبیس گھنٹے کی ہیں۔امریکی دیوالیہ ہو چکے ہیں ۔وسائل کے حصول کیلئے کبھی صدر کو اغوا کرتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ پر قبضہ کے اعلانات کرتے ہیں ۔کبھی غزہ کو سیاحتی مقام بنانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔امریکی معیشت کا یہ حال ہو چکا ہے دو ماہ قبل شٹ ڈاؤن کے دوران سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے صدر ٹرمپ نے اپنے دوست سے قرضہ لیا تھا ۔امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سی آئی اے ملازمین کو رضاکارانہ فراغت کی پیشکش کی گئی ہے ۔ہزاروں ملازمین فارغ کر دئے گئے ہیں ۔تین لاکھ ملازمین کو برطرفی کے نوٹس دے جا چکے ہیں۔امریکہ کا حال کسی ترقی پزیر غریب ملک سے بھی بدتر ہو چکا ہے ۔صحت کے بجٹ میں کمی کر دی گئی ہے۔یو ایس ایڈ ،وائس آف امریکہ سمیت چالیس وفاقی محکمے ختم کر دیے گئے ہیں ۔یورپین یونین سمیت دنیا بھر کے ممالک کی درآمدات پر ٹیرف بڑھا دیا گیا ہے تاکہ اضافی پیسے ملیں قرضوں کی ادائیگی ہو اور امریکی سرکاری مشنری چلائی جا سکے ۔امریکی سینٹ نادہندگی سے بچنے کیلئے جی ڈی پی کا حجم بڑھا کر قرضوں کی حد تو بڑھا دیتا ہے لیکن قابل ادا قرضوں کی ادائیگی تو بڑھتی ہی جائے گی اور ربڑ مزید کھنچنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی ۔نادہندگی کے خوفناک خواب کی تعبیر سے بچنے کیلئے جہاز کے ڈیک پر چوہے بھاگتے پھر رہے ہیں ورنہ خاموشی سے جہاز کے نچلے حصوں کے سٹور روم میں خوراک کترتے رہتے تھے ۔ایک بڑی جنگ ہی امریکی معیشت کو بچا سکتی ہے کہ اسلحہ کی صنعتیں چل پڑیں اور نادہندگی ٹال دی جائے ۔جتنا بڑھا قرضہ اور جتنی بڑی ادائیگیاں ہیں یہ ڈھول جلد پھٹ جائے گا۔ہر عروج کو زوال ہے ۔امریکیوں نے عروج دیکھ لیا اب زوال کی باری ہے ۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی رکن قومی اسمبلی محترمہ شگفتہ جمانی کی رہائشگاہ آمداسپیکر سردار ایاز صادق نے محترمہ شگفتہ جمانی کی عیادت کی۔اسپیکر قومی اسمبلی کا محترمہ شگفتہ جمانی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کی محترمہ شگفتہ جمانی کی جلد صحتیابی کے لیے دعا۔محترمہ شگفتہ جمانی قومی اسمبلی کی ایک فعال اور متحرک رکن ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق امید ہے کہ آپ جلد صحتیاب ہو کر قومی اسمبلی کی کارروائی میں بھرپور کردار ادا کریں گی، اسپیکر سردار ایاز صادق اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے عیادت پر رکن قومی اسمبلی محترمہ شگفتہ جمانی کا اظہارِ تشکر۔اس موقع پر اراکین قومی اسمبلی اعجاز حسین جاکھرانی اور سید آغا رفیع اللہ بھی اسپیکر کے ہمراہ موجود تھے۔

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔ اظہر سیدجتنی تیزی سے دن مہینے اور سال گزر رہے ہیں اس سے زیادہ تیزی سے دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔صرف چوبیس گھنٹوں میں امریکیوں نے روسی آئل ٹینکر ضبط کیا ۔سعودی عرب نے یمن میں عرب امارات کی پراکیسوں پر خوفناک بمباری کی ۔افغانستان میں چینی انجینئرز پر خوفناک حملہ میں متعدد چینی ہلاک متعدد اغواء کر لئے گئے۔وین ویلا میں صدر کے اغواء کے خلاف لاکھوں شہری احتجاج پر نکل آئے ۔صدر کی سیکورٹی کے زمہ دار چھ اعلی افسران کو حکام نے گولی مار کر ہلاک کر دیا

۔ان پر اغواء میں امریکیوں کی معاونت کا الزام تھا۔یورپین یونین کے چھ طاقتور ملکوں جرمنی،فرانس سمیت گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی کوشش کو نیٹو توڑنے کے مترادف قرار دے دیا۔جدید ترین امریکی لڑاکا جیٹ اور اسلحہ بردار ٹرانسپورٹ طیارے برطانیہ پہنچ گئے ہیں ۔کہا جا رہا ہے ایران میں حکومت تبدیل کرنے کیلئے جنگ مسلط کی جائے گی۔یہ تمام خبریں گزشتہ چوبیس گھنٹے کی ہیں۔امریکی دیوالیہ ہو چکے ہیں ۔وسائل کے حصول کیلئے کبھی صدر کو اغوا کرتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ پر قبضہ کے اعلانات کرتے ہیں ۔کبھی غزہ کو سیاحتی مقام بنانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔امریکی معیشت کا یہ حال ہو چکا ہے دو ماہ قبل شٹ ڈاؤن کے دوران سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے صدر ٹرمپ نے اپنے دوست سے قرضہ لیا تھا ۔امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سی آئی اے ملازمین کو رضاکارانہ فراغت کی پیشکش کی گئی ہے ۔ہزاروں ملازمین فارغ کر دئے گئے ہیں ۔تین لاکھ ملازمین کو برطرفی کے نوٹس دے جا چکے ہیں۔امریکہ کا حال کسی ترقی پزیر غریب ملک سے بھی بدتر ہو چکا ہے ۔صحت کے بجٹ میں کمی کر دی گئی ہے۔یو ایس ایڈ ،وائس آف امریکہ سمیت چالیس وفاقی محکمے ختم کر دیے گئے ہیں ۔یورپین یونین سمیت دنیا بھر کے ممالک کی درآمدات پر ٹیرف بڑھا دیا گیا ہے تاکہ اضافی پیسے ملیں قرضوں کی ادائیگی ہو اور امریکی سرکاری مشنری چلائی جا سکے ۔امریکی سینٹ نادہندگی سے بچنے کیلئے جی ڈی پی کا حجم بڑھا کر قرضوں کی حد تو بڑھا دیتا ہے لیکن قابل ادا قرضوں کی ادائیگی تو بڑھتی ہی جائے گی اور ربڑ مزید کھنچنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی ۔نادہندگی کے خوفناک خواب کی تعبیر سے بچنے کیلئے جہاز کے ڈیک پر چوہے بھاگتے پھر رہے ہیں ورنہ خاموشی سے جہاز کے نچلے حصوں کے سٹور روم میں خوراک کترتے رہتے تھے ۔ایک بڑی جنگ ہی امریکی معیشت کو بچا سکتی ہے کہ اسلحہ کی صنعتیں چل پڑیں اور نادہندگی ٹال دی جائے ۔جتنا بڑھا قرضہ اور جتنی بڑی ادائیگیاں ہیں یہ ڈھول جلد پھٹ جائے گا۔ہر عروج کو زوال ہے ۔امریکیوں نے عروج دیکھ لیا اب زوال کی باری ہے ۔

، یہ بہترین انتخاب رہا، غیرت، اخلاقیات، بہادری، شجاعت سب کا بہترین نمونہ، مبارک ہو اے اہل پختونخواہ آپکو صوبائی سطح پر ایک اعلی اوصاف کا وزیر اعلی ملا ہے.

اخلاقیات کا امتحان جب بھی لو اچانک سے لو، بغیر کسی سکرپٹ بغیر کسی تیاری کے آزماؤ، پھر جو پاس ہو جائے اسکی دل سے عزت کرو، کل سے یہ ویڈیو وائرل ہے جہان سہیل آفریدی کو مہمان خصوصی کے طور پر یونیورسٹی بلایا گیا، وہاں کامیاب ہونے والی طالبات کو سہیل آفریدی کے ہاتھوں سے ڈگری دلائی گئی، دو مواقع آئے جہاں ایک لڑکی کا والد اسٹیج کے پاس آیا بچی نے والد کی طرف قدم بڑھایا تو سہیل آفریدی آگے بڑھے اسکے والد کو ہاتھ پکڑ کر اسٹیج پر لائے اور والد کے ہاتھوں بیٹی کو میڈل پہنایا دوسرا واقعہ بھی اچانک ہوا جہاں ایک لڑکی جو اسپیشل تھی بیساکھیوں پر چلتی ہوئی سہیل آفریدی کے پاس پہنچی اسے ڈگری دیتے ہی سہیل آفریدی نے اسکے سامنے اپنی پگڑی (جو عزت کی نشانی ہوتی ہے) اتار کر اسے سلام کیا اور پھر سے پگڑی پہن لی یہ چند سیکنڈز میں سب کچھ ہوا، کوئی ایکٹنگ نہیں کوئی کہانی نہیں کوئی اسپیشل اینگل کے شاٹ نہیں… بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ جو شخص عمران خان نے پختون قوم کو دیا ہے، یہ بہترین انتخاب رہا، غیرت، اخلاقیات، بہادری، شجاعت سب کا بہترین نمونہ، مبارک ہو اے اہل پختونخواہ آپکو صوبائی سطح پر ایک اعلی اوصاف کا وزیر اعلی ملا ہے. بادبان ٹی وی رپورٹ

کرنل سناالہ راجہ کا نماز جنازہ انکے آبائی گاؤں بیسہ کھاریاں میں ادا کر دیا گیا ھزاروں افراد کی شرکت نماز جنازہ انکے بیٹے برگئڈیر حماد نے پڑھای برگئڈیر شوزب سے اظہار تعزیت یاد رھے تینوں باپ بیٹوں کا تعلق پاک فوج کی یونٹ 27 کیولری سے ھے تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

ائیر چیف مارشل کی اھم ترین ملاقاتیں کیا کچھ نیا ھونے والہ ھے۔۔۔سعودی عرب کا دورہ۔۔بنگلہ دیش کے ائیر چیف کی پاکستان امد گزشتہ 2 ماہ میں 4 اھم ترین دورے۔۔۔پاکستان کی تاریخ میں ائیر مارشل نور خان کے بعد ائیر چیف مارشل سدھو انتھای اھم ترین کیوں۔ ائیر چیف مارشل کا دورہ امریکہ قطر سعودی عرب لندن اور یورپ جنوری اھم ترین کیوں۔۔۔۔اسلام آباد سھیل رانا ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ۔۔ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔ اظہر سیدجتنی تیزی سے دن مہینے اور سال گزر رہے ہیں اس سے زیادہ تیزی سے دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔ اظہر سیدجتنی تیزی سے دن مہینے اور سال گزر رہے ہیں اس سے زیادہ تیزی سے دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔صرف چوبیس گھنٹوں میں امریکیوں نے روسی آئل ٹینکر ضبط کیا ۔سعودی عرب نے یمن میں عرب امارات کی پراکیسوں پر خوفناک بمباری کی ۔افغانستان میں چینی انجینئرز پر خوفناک حملہ میں متعدد چینی ہلاک متعدد اغواء کر لئے گئے۔وین ویلا میں صدر کے اغواء کے خلاف لاکھوں شہری احتجاج پر نکل آئے ۔صدر کی سیکورٹی کے زمہ دار چھ اعلی افسران کو حکام نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ان پر اغواء میں امریکیوں کی معاونت کا الزام تھا۔یورپین یونین کے چھ طاقتور ملکوں جرمنی،فرانس سمیت گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی کوشش کو نیٹو توڑنے کے مترادف قرار دے دیا۔جدید ترین امریکی لڑاکا جیٹ اور اسلحہ بردار ٹرانسپورٹ طیارے برطانیہ پہنچ گئے ہیں ۔کہا جا رہا ہے ایران میں حکومت تبدیل کرنے کیلئے جنگ مسلط کی جائے گی۔یہ تمام خبریں گزشتہ چوبیس گھنٹے کی ہیں۔امریکی دیوالیہ ہو چکے ہیں ۔وسائل کے حصول کیلئے کبھی صدر کو اغوا کرتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ پر قبضہ کے اعلانات کرتے ہیں ۔کبھی غزہ کو سیاحتی مقام بنانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔امریکی معیشت کا یہ حال ہو چکا ہے دو ماہ قبل شٹ ڈاؤن کے دوران سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے صدر ٹرمپ نے اپنے دوست سے قرضہ لیا تھا ۔امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سی آئی اے ملازمین کو رضاکارانہ فراغت کی پیشکش کی گئی ہے ۔ہزاروں ملازمین فارغ کر دئے گئے ہیں ۔تین لاکھ ملازمین کو برطرفی کے نوٹس دے جا چکے ہیں۔امریکہ کا حال کسی ترقی پزیر غریب ملک سے بھی بدتر ہو چکا ہے ۔صحت کے بجٹ میں کمی کر دی گئی ہے۔یو ایس ایڈ ،وائس آف امریکہ سمیت چالیس وفاقی محکمے ختم کر دیے گئے ہیں ۔یورپین یونین سمیت دنیا بھر کے ممالک کی درآمدات پر ٹیرف بڑھا دیا گیا ہے تاکہ اضافی پیسے ملیں قرضوں کی ادائیگی ہو اور امریکی سرکاری مشنری چلائی جا سکے ۔امریکی سینٹ نادہندگی سے بچنے کیلئے جی ڈی پی کا حجم بڑھا کر قرضوں کی حد تو بڑھا دیتا ہے لیکن قابل ادا قرضوں کی ادائیگی تو بڑھتی ہی جائے گی اور ربڑ مزید کھنچنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی ۔نادہندگی کے خوفناک خواب کی تعبیر سے بچنے کیلئے جہاز کے ڈیک پر چوہے بھاگتے پھر رہے ہیں ورنہ خاموشی سے جہاز کے نچلے حصوں کے سٹور روم میں خوراک کترتے رہتے تھے ۔ایک بڑی جنگ ہی امریکی معیشت کو بچا سکتی ہے کہ اسلحہ کی صنعتیں چل پڑیں اور نادہندگی ٹال دی جائے ۔جتنا بڑھا قرضہ اور جتنی بڑی ادائیگیاں ہیں یہ ڈھول جلد پھٹ جائے گا۔ہر عروج کو زوال ہے ۔امریکیوں نے عروج دیکھ کیا اب زوال کی باری ہے ۔

ٹرمپ کا شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھنے کا فیصلہ۔ بنگلادیش کے ائیر ڈیفنس ریڈار سسٹم کو ایئر سرویلیئنس سسٹم سے منسلک کرنے میں تعاون کیا جائے، بنگلادیشی ائیر چیف کی پاکستان سے درخواست۔۔بنگلہ دیش کے ائیر چیف کی پاکستانی ائیر چیف سے ملاقات۔۔ کپتان عمران خان کی بہنوں کا کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا جاری، سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود اچکزئی کی بھی شرکت۔۔100 سالہ مہاتیر محمد ہپ فریکچر کا شکار۔۔بھارتی سفارتخانے نے 10 مئی کو آپریشن سندور پر امریکی حکام سے بات کرنے کے لیے رابطہ۔۔2 ھزار فیصد اضافہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بعد مزید قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ۔۔ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ وصول کر لیا! ٹریفک پولیس روالپندی۔۔۔ راولپنڈی ٹریفک پولیس نے 2025 میں 11 لاکھ چالان کر کے ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ وصول کر لیا!۔۔۔ ۔۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینئر سیاستدان راجہ ظفرالحق سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرتے ہوئے،۔دنیا تیسری عالمی جنگ کے دھانے پر۔۔اھم شخصیات گرفتار نامعلوم جگہ پر منتقل۔۔3 ممالک کا وجود خطرے میں قبضے میں 497 اضلاع کونسے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے ہلاک ہونے والے کمانڈرز کی ایک مختصر فہرست :* ‏غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے ہلاک ہونے والے کمانڈرز کی ایک مختصر فہرست کرنل رائے لیوی، کمانڈر ملٹی ڈومین یونٹ کرنل آسف ہمامی، کمانڈر غزہ ڈویژن سدرن بریگیڈکرنل اتزہاک بین بسات، چیف فارورڈ کمانڈ ٹیم ، گولانی بریگیڈکرنل احسان ڈقسہ، کمانڈر 410آرمرڈ بریگیڈکرنل لیون بار،سینئر افسر ریزرو فورس ، سامریہ ڈویژنلیفٹیننٹ کرنل ٹومر گرین برگ، کمانڈر 13 ویں بٹالین،گولانی بریگیڈ لیفٹیننٹ کرنل سحر صہیون ماخلوف، کمانڈر 481ویں سگنل بٹالینلیفٹیننٹ کرنل یہوناتان زور، کمانڈر نحال ریکانسانس بٹالین لیفٹیننٹ کرنل ایلی گنس برگ، کمانڈر ٹیررازم یونٹلیفٹیننٹ کرنل علیم عبداللہ،ڈپٹی کمانڈر 300ویں بارام ریجنل بریگیڈلیفٹیننٹ کرنل میدان اسرائیل،سربراہ سپلائی، سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ کرنل سلمان حبکہ،کمانڈر 53 ویں بٹالین، 188ویں آرمڈ بریگیڈلیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) یوخائی گور ہرشبرگ، کمانڈر 98ویں ڈویژن (ریزرو)لیفٹیننٹ کرنل روئی یوہائی یوسف مردخائی،سینئر کمانڈر ٹریننگ بیس، نحال بریگیڈلیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) نیتانیل یعقوب الکوبی، کمانڈر 630 ویں بٹالین، سدرن کمانڈ غزہ ڈویژن لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) یتسحاق ہروش، سول ایڈمنسٹریشن یروشلممیجر روئی میلڈاسی،کمپنی کمانڈر13ویں بٹالین گولانی بریگیڈمیجر گال شبات، کمپنی کمانڈر 202ویں بٹالین پیرا ٹروپرز بریگیڈمیجر (ریٹائرڈ) یائر کوہن، قائم مقام کمپنی کمانڈر 630 ویں بٹالین، سدرن کمانڈ غزہ ڈویژن میجر موشے آورام بار اون، کمپنی کمانڈڑ51 ویں بٹالین گولانی بریگیڈمیجر (ریٹائرڈ) دان ماؤری، ڈپٹی کمانڈر،89ویں بٹالین 8ویں آرمڈ بریگیڈمیجر بین شیلی،اسکواڈ کمانڈر یونٹ 669اسرائیلی فضائیہ میجر جمال عباس، عمر 23 سال، پیرا ٹروپرز بریگیڈ کی 101ویں بٹالین میں کمپنی کمانڈرمیجر جمال عباس، کمپنی کمانڈر، 101ویں بٹالین، پیرا ٹروپرز بریگیڈمیجر عمری چائی بن موشے،

کمپنی کمانڈر، ڈیکل بٹالین، بہاد 1 آفیسرز اسکولمیجر اساخار ناتن، کمانڈو بریگیڈ کے افسرمیجر (ریٹائرڈ) موشے یدیدیہ لائٹر، کمپنی کمانڈر، 697ویں بٹالین، 551ویں بریگیڈمیجر یہودا ناتن کوہن، کمانڈر، ریکانسانس یونٹ، گیواتی بریگیڈمیجر (ریٹائرڈ) ایتائے گالیا، ڈپٹی کمپنی کمانڈر، 8679ویں یونٹ، یفتاح ریزرو آرمڈ بریگیڈمیجر یائر زلوف، کمانڈر، سرجیکل کمپنی، 401ویں آرمڈ بریگیڈمیجر (ریٹائرڈ) ایلیاو عمرام ابیتبول، ڈپٹی کمپنی کمانڈر، 8207ویں بٹالین، الون بریگیڈمیجر ڈیوڈ ناتی الفاسی، ڈپٹی بٹالین کمانڈر، 202ویں بٹالین، پیرا ٹروپرز بریگیڈمیجر یانیو کولا، کمپنی کمانڈر، 932ویں بٹالین، نہال بریگیڈمیجر گائے یعقوب نذری، کمپنی کمانڈر، 52ویں بٹالین، 401ویں آرمڈ بریگیڈمیجر (ریٹائرڈ) ایوگنی زینرشین، کمپنی کمانڈر، 9263ویں بٹالین، 226ویں ریزرو پیرا ٹروپرز بریگیڈ۔

*ایران کی حالیہ صورتحال اور احتجاج: ایک تجزیاتی جائزہ*ایران میں حالیہ احتجاج کو عالمی میڈیا نے غیر معمولی طور پر اُجاگر کر کے مصنوعی ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم زمینی حقائق کے مطابق اس وقت تہران سمیت بڑے شہروں میں کسی منظم یا وسیع احتجاج کے شواہد موجود نہیں ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران میں حالیہ دنوں سامنے آنے والی احتجاجی سرگرمیوں کو عالمی میڈیا میں غیر معمولی اہمیت دی گئی، جس کے باعث صورتحال کو ضرورت سے زیادہ سنگین انداز میں پیش کیا گیا۔*ایران میں احتجاج کی نوعیت اور عالمی میڈیا کا کردار*تہران میں ہونے والے حالیہ احتجاج کو عالمی میڈیا نے غیر معمولی طور پر نمایاں کیا، جس کا مقصد ایک مخصوص نوعیت کا مصنوعی ہیجان (Hype) پیدا کرنا تھا۔ یہی عالمی میڈیا یورپ کے متعدد ممالک، جن میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس شامل ہیں، میں مہنگائی کے خلاف لاکھوں افراد کے مظاہروں اور پولیس کے سخت و پرتشدد رویّے کو مسلسل نظرانداز کرتا رہا ہے۔ایران میں احتجاج کو اس غیر فطری انداز میں ابھارنے کی کوشش دراصل اسی حکمتِ عملی کا تسلسل معلوم ہوتی ہے جو ماضی میں وینزویلا کے خلاف آزمائی جا چکی ہے۔*تاجروں کا کردار اور احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوشش*ابتدائی طور پر یہ احتجاج تاجر اور بزنس مین طبقے کی جانب سے شروع ہوا تھا، تاہم یہاں یہ نکتہ خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ وہ شخص یا طبقہ جس کے اربوں ڈالر کسی ملک کے اندر سرمایہ کاری کی صورت میں موجود ہوں، عموماً ریاست کے خلاف کسی منظم تحریک کا حصہ نہیں بنتا۔بعد ازاں اس احتجاج کو شر پسند اور اجرت پر لیے گئے عناصر کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، جنہوں نے پولیس پر پتھراؤ، فائرنگ اور توڑ پھوڑ جیسے پرتشدد اقدامات کیے۔احتجاج کے دوسرے روز سڑکوں پر ایسے عناصر بھی دیکھے گئے جنہوں نے کھلے عام ریاست مخالف نعرے لگائے۔ تاہم تاجر برادری نے جلد ہی اس صورتحال کو ایک منظم سازش کے طور پر بھانپ لیا اور تیسرے دن تک ان عناصر سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد ریاستی اداروں کی جانب سے صرف شر پسند گروہوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔*موجودہ صورتحال اور سرحدی علاقوں کی حالت*موجودہ وقت میں تہران اور دیگر بڑے شہروں میں کسی بڑے یا منظم احتجاج کی اطلاعات موصول نہیں ہو رہیں۔ البتہ ایران کے بعض سرحدی علاقوں، بالخصوص کرد بیلٹ میں، چھوٹے چھوٹے گروہ—جو عموماً 20 سے 100 افراد پر مشتمل ہوتے ہیں—موٹر سائیکلوں پر آ کر عوامی یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں اور فوراً فرار ہو جاتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں کسی منظم عوامی تحریک کے بجائے محدود اور منتشر تخریبی کارروائیوں تک ہی محدود دکھائی دیتی ہیں۔*امریکی مداخلت اور تزویراتی اہداف*سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے لیے ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم ممکن نہیں، اسی لیے وہ ایران کو داخلی طور پر کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

وینزویلا کے صدر کو ہٹانے کی کوشش اور وہاں کے تیل کے ذخائر پر قبضے سے متعلق دھمکیاں امریکی طرزِ عمل کی نمایاں مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔ایران میں حالیہ احتجاج کو بھی اسی حکمتِ عملی کی ایک کڑی کے طور پر اور ایک سیاسی بہانے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔واضح رہے کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اپنے حالیہ بیان میں واضح طور پر کہا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاکہ اپنے مطالبات کو پر امن، واضح اور شفّاف اور غیر متشدد انداز میں پیش کریں۔ جبکہ تخریب کاری (اغتشاش) ایک انجنیئرڈ منصوبہ ہوتا ہے جس کا مقصد اصلاح کے بجائے تخریب، خوف و ہراس پھیلانا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، لوگوں کی جان و مال اور آبرو پر دست درازی کرنا، ہوتا ہے۔حالیہ احتجاجات میں بھی یہ بات سامنے آئی جب تاجر اور عام عوام تخریب کاروں کے سامنے ڈٹ گئے جو پر امن احتجاج کو تخریب کاری میں بدلنا چاہتے تھے۔ جہاں کہیں احتجاج نے پر تشدّد رنگ اختیار کیا وہیں تاجر برادری اور عوام نے خود کو الگ کر لیا۔ملک جاوید اقبال ضلعی وائس چیئرمین چینوٹ صدر لاہور روڈ چینوٹ

‏فنگر پرنٹس میں دشواری کا مسئلہ ختم؛ نادرا نے بڑی سہولت متعارف کرادینادرا کی جانب سے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سہولت کا آغاز کردیا گیاھےجس کے بعد بزرگوں یا طبی مسائل کے باعث شہریوں کو فنگرپرنٹس کی تصدیق میں دشواری کا مسئلہ ختم ہوگیا۔

100 سالہ مہاتیر محمد ہپ فریکچر کا شکارملائیشیا کے 100 سالہ سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو منگل کے اپنی رہائش گاہ پر گرنے کے بعد کولہے کی ہڈی میں فریکچر ہوا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی مطابق ان کے ایک معاون نے بتایا علاج کے لیے مہاتیر محمد کو زیر علاج رکھا گیا ہے ۔ مہاتیر محمد حالیہ برسوں میں مختلف صحت کے مسائل کا شکار رہے ہیں۔ اس سے قبل جولائی میں اپنی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے بعد تھکن کے باعث انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

*گیس صارفین کے لیے بڑی خوشخبری: وفاقی حکومت کا قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان*وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر یکم جنوری 2026 سے گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا اور رواں سال قیمتیں مستحکم رہیں گی۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق گیس کے گردشی قرضے کا فلو اس وقت صفر ہے، جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھانے کی ضرورت پیش نہیں آئی، تاہم مجموعی گردشی قرضہ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس میں 1700 ارب روپے صرف سود کی مد میں ہیں۔ بریفنگ میں قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود قطر نے سستی فراہمی جاری رکھی، جبکہ پاور سیکٹر کی جانب سے گیس کی طلب میں بار بار تبدیلی اور نئے جوائنٹ وینچرز کے لیے فنڈز کی ادائیگی جیسے چیلنجز پر بھی کام جاری ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام اور صنعتی شعبے کو بڑی راحت ملنے کی توقع ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام معاشی سرگرمیوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اسرائیل اور شام کے درمیان پیرس میں مذاکرات شام کے ساتھ بات چیت مثبت رہی، مذاکرات کی رفتار تیز کرنے، زیادہ ملاقاتیں کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ کے لیے صدر ٹرمپ کے وژن کے مطابق سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیلی اہلکار کی Axios سے گفتگو

سوویت فوج کا ایک سپاہی، جسے 1980 میں جنگ میں مارا گیا قرار دیا گیا تھا، تین دہائیوں بعد افغانستان میں زندہ پایا گیا — ایک نئے نام کے ساتھ، اور روسی زبان کی یاد کے بغیر۔جب 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان میں فوجیں بھیجیں، تو ہزاروں نوجوان سپاہی یہ سوچ کر سرحد پار کر گئے کہ وہ ایک دن ضرور واپس لوٹیں گے۔ انہی میں ایک نوجوان سپاہی تھا — بَخرالدین حکیموف — جسے 1980 میں جنگ کے ابتدائی اور خونی ترین مرحلے میں تعینات کیا گیا۔زیادہ وقت نہیں گزرا کہ سب کچھ بدل گیا۔ایک شدید لڑائی کے دوران حکیموف بری طرح زخمی ہوا۔ ہنگامہ خیز حالات میں وہ لاپتا ہو گیا۔ اس کی یونٹ نے اسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔ اس کا نام خاموشی سے اُن سپاہیوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا جو جنگ میں مارے گئے سمجھے جاتے تھے۔ گھر والوں نے اس کا سوگ منایا —

لاش کے بغیر، صرف یادوں کو دفن کر کے۔ ان کے لیے کہانی یہیں ختم ہو گئی۔مگر حقیقت ختم نہیں ہوئی تھی۔حکیموف زندہ تھا۔افغان دیہاتیوں نے اسے زخمی حالت میں پایا، اُسے اٹھایا، پناہ دی، علاج کیا — اور تنہا نہیں چھوڑا۔ صحت یابی سست تھی۔ جسم تو ٹھیک ہو گیا، مگر اُس کی پرانی زندگی واپس نہ آ سکی۔وقت گزرنے کے ساتھ، وہ اسی دنیا میں ڈھل گیا جو اس کے سامنے تھی۔ اس نے نیا نام اختیار کیا — شیخ عبداللہ۔ نئی شناخت، نئی زندگی، نیا معمول۔ آہستہ آہستہ وہ ہرات میں ایک معزز روایتی حکیم بن گیا۔ سال گزرتے گئے — پھر دہائیاں۔ اس کی روسی زبان مٹتی گئی، حتیٰ کہ بالکل ختم ہو گئی۔ وہ صرف مقامی زبانیں بولتا تھا۔ سپاہی ماضی کا حصہ بن چکا تھا — اب صرف افغان حکیم باقی تھا۔ادھر، دور کہیں، اس کا گھرانہ ایک بے نام غم کے ساتھ جی رہا تھا۔ فوجی ریکارڈ میں اس کا نام ویسے ہی درج رہا — جنگ کا ایک اور گم شدہ سپاہی۔پھر آیا سال 2013۔لاپتا سوویت فوجیوں کو تلاش کرنے والی ایک روسی رضاکار تنظیم نے پرانے سراغ اور مبہم خبروں کا پیچھا شروع کیا۔ ایک اشارہ ہرات کے ایک حکیم تک جا پہنچا — اور ٹکڑے جڑنے لگے۔اور ایک دن — تیس سے زیادہ برس بعد — حکام اُس شخص کے سامنے بیٹھے تھے جسے کبھی بَخرالدین حکیموف کہا جاتا تھا۔وہ زندہ تھا۔اس کی زبان بدل چکی تھی، زندگی بدل گئی تھی، برادری بدل گئی تھی۔ لمبی داڑھی، روایتی لباس، پُرسکون مزاج — روس اس کی یاد سے لگ بھگ محو ہو چکا تھا۔ وہ قیدی نہیں رہا تھا — بس ایک نئی زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔یہ بعد از سوویت دور کی سب سے حیران کن دریافتوں میں سے ایک تھی — اس یاد دہانی کے ساتھ کہ جنگ ہمیشہ ہیرو اور ولن پیدا نہیں کرتی؛ کبھی کبھی انسانوں کو زندگیوں کے درمیان کہیں گم کر دیتی ہے۔حکیموف نے افغانستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ بہت پہلے یہ جگہ اس کا گھر بن چکی تھی۔ جو شخص روس سے نکلا تھا — وہ لوٹا ہی نہیں، اور جس دنیا سے وہ آیا تھا — وہ بھی باقی نہ رہی۔مگر سچ سامنے آ ہی گیا۔ایک سپاہی، جسے مُردہ سمجھا گیا، دراصل دوسری زندگی میں داخل ہو کر آگے بڑھتا رہا۔اور ایک خاندان — جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ سوگ منا رہا تھا — آخرکار جان پایا کہ جس بیٹے کو انہوں نے دل میں دفن کر دیا تھا… وہ کبھی گرا ہی نہیں تھا۔