موسم پھر بدلنے والا ہے! مزید بارشوں کا امکان، محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی۔۔پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب۔ بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سریز سے قبل پاکستانی کھلاڑیوں کا فوٹو شوٹ.۔پاکستان اور زمبابوے کی ویمنز ٹیموں کے درمیان دوسرا ون ڈے۔۔ہم ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کریں گے: صدر ٹرمپ۔۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی چین میں سب کچھ طے۔ امریکا اور ایران کے درمیان ایک صفحے پر مشتمل معاہدہ طے۔۔کمزور پاسپورٹ میں ہمارا چوتھا نمبر کیوں ہے؟۔۔جبکہ ایتھوپیا، نائجیریا اور یوگنڈا ہم سے بہتر ہیں۔ ایسا کیوں؟ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

کل اچانک حاتم طائی مل گئے میں نے پوچھا او بھائی آپ کہاں سے آ گئے بولے تھا تو قبر میں مگر آپ کی حکومت نے لات ہی ایسی غضب کی ماری کہ قبر سے باہر آنا پڑاقوم کو بجلی کی قیمت میں تاریخی کمی اور پانچ سو یونٹ کے استعمال پر پورے پانچ روپے کی عظیم الشان بچت پر ڈھیروں ڈھیر مبارک باد اور حکومت کے اس عظیم الشان کارنامے کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گاشکریہ شوباز شریف

بڑے ذلیل ہو کہ ایران کے کوچے سے ہم نکلےبڑے نکلے ٹرمپ کے قبضے کے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلےٹرمپ کا دعوی ہے کہ آخر کار ایران کے نیوکلئیر ہتھیار نہ بنانے پہ جنگ بندی ھو گئ🤣جبکہ ایران نے آبناے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی شپنگ کمپنیوں کیلیے نئ ہدایات جاری کی ہیں اب امریکن تجارتی جہاز بھی ٹول دیے بنا نہیں گزر سکیں گے ابناۓ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو پیشگی کلئیرنس کیلیے ایمیل کرنی ہو گی1

. ایرانی کرنسی میں ٹول پیمنٹ کو ترجیح دی جاے گی2. ایرانی بنکس سے گارنٹی لیٹر کا اجرا ضروری ہو گا3. جن ممالک کی سرزمین سے ایران پہ حملے کیے گۓ وہ پہلے نقصان کے ازالہ کیلیے جنگی ہرجانہ ادا کریں گے پھر ابی گزرگاہ کے استعمال کی اجازت ہو گی علاوہ ازیں جن ممالک نے ایران پہ تجارتی پابندیاں لگائ ہیں یا ایران کا پیسہ\اکاؤنٹس روک رکھا ہے انھیں ابناے ہرمز استعمال کی اجازت نہیں ہو گی4. تمام تجارتی کاغزات میں آبناے ہرمز کے بجاۓ فارس\ایرانی گلف لکھنا ضروری ہے5. اوپر دی گئ ہدایات میں عمل نہ کرنے کی وجہ سے کسی بھی تجارتی جہاز پہ قپضہ کیا جا سکتا ہے اور جہاز پہ موجود سامان کی کل مالیت کا 20% جرمانہ ادا کرنا ہو گا

بیس سال پہلے ٹھیک آج کے دن ایک سیاہ فام نوجوان “گائے گوما” آئی ٹی کی جاب کے لیے بی بی سی کے دفتر پہنچا۔ وہ اپنی باری کا منتظر تھا کہ ایک شخص نے آکر پوچھا، آپ آئی ٹی سے ہیں؟ کیا آپ ہی مسٹر گائے ہیں؟ گائے گوما نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ نوجوان انھیں ایک کمرے میں لے گیا۔چند منٹ بعد ایک خاتون وہاں آئیں۔ گائے گوما کو لگا کہ انھیں کہیں دیکھا ہے۔ کسی نے نوجوان سے پوچھا کہ میک اپ کروائیں گے؟ ابھی وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ انٹرویو شروع ہوگیا۔ وہ بی بی سی ٹی وی پر لائیو انٹرویو تھا۔گائے گوما کو احساس ہوگیا کہ کچھ مسئلہ ہوگیا ہے۔ لیکن اس نے حواس بحال رکھے۔ خاتون اینکر نے ایک آن لائن میوزک کیس کے عدالتی فیصلے کے بارے میں دو سوالات کیے۔ گائے گوما نے سکون سے ان کا جواب دیا۔ جوابات غلط نہیں تھے لیکن اینکر کو بھی احساس ہوگیا کہ کچھ مسئلہ ہے۔ اس نے انٹرویو فورا ختم کردیا۔بعد میں پتا چلا کہ اینکر نے آئی ٹی ایکسپرٹ گائے کیونی کا انٹرویو کرنا تھا۔ پہلا نام یکساں ہونے کی وجہ سے غلطی ہوئی۔ بہرحال وہ بھنڈ منظر عام پر آیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ بعد میں بی بی سی نے خود بھی اسے دوبارہ نشر کیا۔آج اس بھنڈ کے بیس سال ہونے پر نیویارک ٹائمز نے تفصیل سے پوری کہانی چھاپی ہے اور بی بی سی کے اس کلپ کا لنک بھی شئیر کیا ہے۔میں نے جیو میں کم از کم دو بھنڈ ایسے ہوتے دیکھے ہیں۔ عام طور پر اسائنمنٹ ڈیسک کے پاس ایک فون ڈائریکٹری ہوتی ہے جس میں ان تمام لوگوں کے نمبر ہوتے ہیں، جن کا کبھی انٹرویو کیا ہو یا کرنا پڑجائے

۔ سیاست دان، سرکاری حکام، ترجمان، کھلاڑی، فنکار، تجزیہ کار، سب نام ہوتے ہیں۔ جب کسی کا بیپر، یعنی لائیو انٹرویو کرنا ہو تو اسائنمنٹ ڈیسک سے ہی نمبر مانگا جاتا ہے۔پی سی آر، وہ جگہ جہاں پینل پروڈیوسر اور آڈیو انجینر بیٹھے ہوتے ہیں، کئی فون رکھے ہوتے ہیں جن سے انٹرویو کے لیے کال ملائی جاتی ہے۔ ایک بار اسائنمنٹ ڈیسک نے کوئی غلط نمبر دے دیا۔ بریکنگ نیوز کی جلدی تھی۔ ایسوسی ایٹ پروڈیوسر نے کال ملاکر لائن اسٹوڈیو میں ٹرانسفر کردی۔ آن ائیر جانے کے بعد معلوم ہوا کہ کال غلط شخص کو ملادی گئی ہے۔پہلی بار یہ غلطی ایسوسی ایٹ پروڈیوسر سے ہوئی۔ دوسری بار اس وقت جیو دبئی کے بیورو چیف ایم کے عباس نے بھنڈ مارا۔ پرویز مشرف کا دور تھا۔ کسی اہم معاملے پر چوہدری شجاعت حسین کا لائیو بیپر کرنا تھا۔ وہ حسب عادت بھاگے بھاگے آئے اور پی سی آر کے فون سے خود کال ملاکر اسٹوڈیو میں ٹرانسفر کی۔ اینکر نے سوال پوچھا تو پتا چلا کہ فون غلط ملایا گیا۔

چوہدری شجاعت کے بجائے کسی عام آدمی کا فون مل گیا تھا۔میں اسائننمٹ ڈیسک پر کم بھروسا کرتا تھا۔ جب میں نے جیو چھوڑا تو میری اپنی فون ڈائریکٹری میں ڈھائی ہزار نمبر تھے۔ وائس آف امریکا میں وہ ذخیرہ بہت کام آیا۔ لیکن ایک دن مجھ سے بھی غلطی ہوئی لیکن چونکہ وہ لائیو انٹرویو نہیں تھا اس لیے بھنڈ نہیں تھا۔میں نے کسی معاملے پر ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے رائے لینا چاہی۔ فون بک میں خالد مقبول کا نام دیکھ کر کال ملائی۔ پوچھا کہ خالد مقبول صاحب بات کررہے ہیں؟ کال ریسیو کرنے والے نے تصدیق کی۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور سیاسی سوال پوچھا۔ وہ صاحب ہنسے اور کہا، میں وہ خالد مقبول نہیں ہوں۔میں نے فون بک دوبارہ کھولی اور کہا، معذرت چاہتا ہوں جنرل صاحب۔وہ مشرف کے سابق ساتھی اور سابق گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول تھے۔

ڈاکٹر کی ڈائری آپ یہ پوسٹ اور اس پر موجود کمنٹس پڑھ لیں ، اور پھر ڈاکٹرز کے خلاف معاشرے کا عمومی رویہ سمجھنے کی کوشش کریں۔کمنٹس کرنے والے دونوں صاحبان دو مختلف پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس پوسٹ کے دو پہلو ہیں۔پرائیویٹ پریکٹس میں بیٹھے ہوے سپیشلسٹ ڈاکٹر کا پہلا انٹرسٹ اس کے پیشنٹ کا صحت یاب ہونا ہے کیونکہ وہ پیشنٹ ہی ڈاکٹر کی ائندہ کی مارکیٹنگ ہے ، ایک مریض صحت یاب ہو کر جائے تو کم از کم دس نئے خاندان اس ڈاکٹر پر اپنے مریض کے لیئے اعتبار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر چاہے اپنے مریض کو کوئ اضافی دوائی لکھ کر دے ، یا کوئی دوائی ہلکی کمپنی کی لکھ کر دے ، مگر اس کی پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ مرض کی تشخیص کے مطابق جو دوائی ہو، وہ بہترین ہو ، تاکہ مریض صحت یاب ہو جائے ۔ اگر ڈاکٹر کو فارمولا نام لکھنے کا پابند کر دیا جائے تو پھر دوائی کسی اچھی ملٹائ نیشنل کمپنی کی دینی ہے یا لوکل کمپنی کی دینی ہے اس کا ٹوٹل اختیار میڈیکل اسٹور والے کے پاس ہوگا۔اور یہ بات تو طے ہے کہ لوکل کمپنیوں کی غیر تسلی بخش دوائیوں پر کمپنیز بھی دگنا تگنا پرافٹ کماتی ہیں ، اور میڈیکل سٹور والوں کو بہت بڑے بڑے کمیشنز کا فائدہ ہوتا ہے ، پھر میڈیکل سٹور والا کم پیسوں میں وہ سستی دوائی خرید کر مہنگے دام کیوں نہ بیچے گا؟کتنے فیصد لوگ ایسے ہیں ، جو فارمولا نام دیکھ کر خود یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ ہمیں کون سی دوائی لینی چاہیے ؟اب اتے ہیں دوسرے پہلو کی طرف …کمنٹ میں جو صاحب یہ طنز فرما رہے ہیں کہ ڈاکٹرز کو کمیشن لینے کی کھلی چھوٹ ہونی چاہیے۔کیا وہ میڈیکل اسٹور اور فارمیسی والوں کو کمیشن کی کھلی چھٹی دینے کے حق میں ہیں ؟ کیا باقی سارے ہی شعبے ، چاہے وہ تدریس سے ہوں طب سے ہوں ،

قانون سازی سے ہوں ، مینجمنٹ یا ڈیولپمنٹ سے ہوں ، فوڈ سیفٹی ، پولیس ، افسر شاہی یا صحافت سے ہوں ، اپنا کام 100 فیصد ایمانداری کے ساتھ بغیر کسی کرپشن اور کمیشن کے کر رہے ہیں ؟انسانی معاشرے تو تمام شعبوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے ہی چلتے ہیں ،دوائیاں بنانے والی کمپنیاں ، انہیں اپروو اور ریگولیٹ کر کے مارکیٹ میں بزنس کی اجازت دینے والے ادارے ، اور مارکیٹ میں دوائیوں کا بزنس کرنے والے میڈیکل سٹورز اور فارمیسز ، یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ لنکڈ ہیں ، یہ نہیں ہو سکتا کہ باقی تمام شعبوں کی کوتاہیوں کو یکسر نظر انداز کر کے ایک جملہ کہہ دیا جائے کہ ڈاکٹر کا تعلق ڈائریکٹ انسانی جان سے ہوتا ہے اس لیے اس پر ذمہ داری زیادہ ہے۔پہلی ذمہ داری ان پر ہے جنہوں نے ناقص میڈیسن بنائی ، پھر اس میڈیسن کی اپروول دی ، پھر اسے مارکیٹ میں لانچ کیا ، میڈیکل سٹور والوں کو بڑے پرافٹ دیکر سیل کی ، ڈاکٹرز کا نمبر تو ان سب کے بعد آتا ہے کہ جب وہ اس دوا کو لکھے گا۔صرف ڈاکٹر کو مورد الزام ٹھہرا کے اپ اوپر والی ساری چین کی ذمہ داری سے تہی دامن نہیں ہو سکتے ۔یاد رکھیں کہ ڈاکٹر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے ،

جیسے باقی سارے ادارے اور شعبے اخلاقی اور فنانشل کرپشن میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ، ڈاکٹرز تو اس کے مقابلے میں سمندر میں کچھ گھونٹ بھی نہیں ہیں ۔خدارا اپنی سوچ کو مثبت رکھیں ،خدارا ڈاکٹرز کے خلاف اپنی نفرت اور بغض کو اتنا نہ بڑھائیں ۔ابھی تو ہم مذاق میں یہ جملہ کہتے ہیں کہ بہاولپور میں درجنوں ڈاکٹر صرف یہ کہنے کی تنخواہ لے رہے ہیں کہ” اینے نہیں بچنا اینوں لاہور لے جاؤ “خدانہ کرے اگر لاہور کے ڈاکٹروں نے بھی سیریس مریضوں کو ریسیو کرنا چھوڑ دیا تو پھر کیا ہوگا ؟ لاہور سے آگے کہاں؟ڈاکٹر فرح رحمان 6 مئ 2026

ایران نے رپورٹ ہونے کے مقابلے میں کہیں زیادہ امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے، سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے۔ایرانی فضائی حملوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر کم از کم 228 ڈھانچوں یا سامان کے ٹکڑوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا ہےواٹنگٹن پوسٹ کی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق، یہ حملے ہینگرز، بیرکس، فیول ڈیپو، طیاروں اور کلیدی ریڈار، مواصلاتی اور فضائی دفاعی سامان کو نشانہ بناتے رہے۔ تباہی کی مقدار امریکی حکومت کی طرف سے عوامی طور پر تسلیم کیے گئے یا پہلے رپورٹ ہونے والے سے کہیں زیادہ ہے۔علاقے میں امریکی اڈوں پر فضائی حملوں کے خطرے نے انہیں نارمل سطح پر عملے سے بھرنا خطرناک بنا دیا تھا، اور جنگ کے آغاز میں کمانڈروں نے ان مقامات سے زیادہ تر عملے کو ایرانی فائر کے دائرے سے باہر منتقل کر دیا تھا، حکام نے بتایا۔جنگ کے آغاز 28 فروری سے اب تک، علاقے میں امریکی سہولیات پر حملوں میں سات فوجی ہلاک ہوئے — جن میں سے چھ کویت میں اور ایک سعودی عرب میں — اور اپریل کے آخر تک 400 سے زائد فوجی زخمی ہوئے، امریکی فوج نے بتایا۔ زخمیوں میں سے زیادہ تر چند دنوں میں ڈیوٹی پر واپس آ گئے،

لیکن کم از کم 12 کو وہ زخم لگے جنہیں فوجی حکام نے سنگین قرار دیا، امریکی حکام نے بتایا جو دیگر کے علاوہ اس معاملے کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہے تھے۔مشکل سے حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر فی الحال مشرق وسطیٰ کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کرنا غیر معمولی طور پر مشکل ہے۔ دو بڑے کمرشل فراہم کنندگان، وینٹر اور پلانٹ، نے امریکی حکومت — اپنے سب سے بڑے کسٹمر — کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے علاقے کی تصاویر کی اشاعت کو محدود، تاخیر یا لامحدود طور پر روک دیا ہے جب تک جنگ جاری ہے، جس سے ایرانی جوابی حملوں کا جائزہ لینا مشکل یا ناممکن ہو گیا ہے۔ یہ پابندیاں جنگ شروع ہونے کے دو ہفتوں سے بھی کم عرصے بعد لگائی گئیں۔تاہم، ایرانی سرکاری میڈیا سے منسلک نیوز ایجنسیوں نے شروع سے ہی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اعلیٰ ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر باقاعدگی سے شائع کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ امریکی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کی دستاویز ہیں۔اس جائزے کے لیے — جو علاقے میں امریکی سہولیات کو پہنچنے والے نقصان کا پہلا جامع عوامی اکاؤنٹ ہے — واٹنگٹن پوسٹ نے ایرانی جاری کردہ 100 سے زائد اعلیٰ ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا۔ پوسٹ نے ان میں سے 109 تصاویر کی تصدیق یورپی یونین کے سیٹلائٹ سسٹم، کوپرنیکس کی کم ریزولوشن تصاویر اور جہاں دستیاب ہو، پلانٹ کی اعلیٰ ریزولوشن تصاویر سے موازنہ کر کے کی۔ پوسٹ نے نقصان کے تجزیے سے 19 ایرانی تصاویر کو خارج کر دیا کیونکہ کوپرنیکس تصاویر سے موازنہ غیر حتمی تھا۔ کوئی ایرانی تصویر جعلی یا مینیپولیٹڈ نہیں پائی گئی۔کویت میں علی ال سالم ایئر بیس پر نو فیول بلیڈرز کو نقصان پہنچا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے اینوٹیٹ تصاویر جاری کیں، اور پوسٹ نے پلانٹ کی تصاویر سے نقصان کی تصدیق کی۔پلانٹ تصاویر کی الگ تلاش میں، پوسٹ کے رپورٹرز نے 10 ایسے ڈھانچے دریافت کیے جو نقصان زدہ یا تباہ شدہ تھے اور جن کا ذکر ایرانی جاری کردہ تصاویر میں نہیں تھا۔ کل ملا کر، پوسٹ نے علاقے کے 15 امریکی فوجی مقامات پر 217 ڈھانچوں اور 11 سامان کے ٹکڑوں کو نقصان زدہ یا تباہ شدہ پایا۔

واٹنگٹن پوسٹ کے تجزیے کا جائزہ لینے والے ماہرین نے کہا کہ مقامات پر پہنچنے والا نقصان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی نشانہ بندی کی صلاحیت کو کم سمجھا، جدید ڈرون جنگی حکمت عملی کے مطابق خود کو کافی نہیں بدلا، اور کچھ اڈوں کو ناکافی تحفظ دیا۔سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے سینئر ایڈوائزر اور ریٹائرڈ میرین کور کرنل مارک کینشین نے، جنہوں نے پوسٹ کی درخواست پر ایرانی تصاویر کا جائزہ لیا، کہا: “ایرانی حملے درست تھے۔ کوئی بے ترتیب گڑھے نہیں جو نشانہ چوک جانے کی نشاندہی کرتے ہوں۔” پوسٹ نے پہلے انکشاف کیا تھا کہ روس نے ایران کو امریکی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس فراہم کی تھی۔کچھ نقصان امریکی فوجیوں کے اڈوں سے نکل جانے کے بعد بھی ہوا ہو گا، جس سے ڈھانچوں کی حفاظت کم اہم رہ گئی۔ کینشین اور دیگر ماہرین نے کہا کہ ان کا خیال نہیں کہ ان حملوں نے ایران میں امریکی بمباری مہم کو نمایاں طور پر محدود کیا ہے۔مشرق وسطیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے والے یو ایس سینٹرل کمانڈ نے پوسٹ کے نتائج کے تفصیلی خلاصے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ایک فوجی ترجمان نے ماہرین کی طرف سے اڈوں کے نقصان کو وسیع یا ناکامی کی دلیل قرار دینے سے اختلاف کیا اور کہا کہ تباہی کا جائزہ پیچیدہ ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں گمراہ کن ہو سکتا ہے، لیکن تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔ ترجمان نے کہا کہ فوجی قائدین جنگ کے خاتمے کے بعد ایرانی حملوں کا مکمل سیاق فراہم کر سکیں گے۔نقصان کی تفصیل جنگ کے پہلے ہفتوں میں کئی نیوز آؤٹ لیٹس نے نقصان کا جائزہ شائع کیا، جن میں نیویارک ٹائمز شامل ہے جس نے 14 امریکی فوجی مقامات یا فضائی دفاعی تنصیبات پر حملے پائے۔ اپریل کے آخر میں این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ ایک ایرانی جیٹ نے کویت میں امریکی اڈے پر بمباری کی، جو کئی سالوں میں پہلا موقع تھا جب دشمن کا لڑاکا طیارہ امریکی اڈے پر حملہ کرتا ہے، اور اس نے تحقیق کا حوالہ دیا جس کے مطابق ایران نے 11 اڈوں پر 100 اہداف کو نشانہ بنایا۔ سی این این نے پچھلے ہفتے رپورٹ کیا کہ 16 امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔لیکن پوسٹ کا جائزہ — جو جنگ کے آغاز سے 14 اپریل تک کی تصاویر پر مبنی ہے — بتاتا ہے کہ ان مقامات پر درجنوں اضافی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جو بنیادی طور پر امریکی فوج استعمال کرتی ہے لیکن میزبان ممالک کی فوج اور اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ ہیں۔تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی حملوں نے پوسٹ کے جائزے والے امریکی اڈوں کے نصف سے زائد پر متعدد بیرکس، ہینگرز یا گوداموں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا۔ نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین، عیسیٰ ایئر بیس، رفاعہ ایئر بیس، اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ، حریر ایئر بیس، علی ال سالم ایئر بیس، کیمپ عریفجان، کیمپ بوہرنگ، شعبیہ پورٹ، ال عدید ایئر بیس، پرنس سلطان ایئر بیس، ال ظفرہ ایئر بیس۔ — ایرانی سرکاری میڈیا)”ایرانیوں نے متعدد مقامات پر رہائشی عمارتوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا تاکہ بڑی تعداد میں جانی نقصان پہنچایا جا سکے،” اوپن ایکسیس ریسرچ پروجیکٹ کانٹیسٹڈ گراؤنڈ کے انویسٹی گیٹر ولیم گڈ ہنڈ نے کہا، جنہوں نے تصاویر کا جائزہ لیا۔

“نہ صرف سامان، فیول سٹوریج اور ایئر بیس انفراسٹرکچر بلکہ نرم اہداف جیسے جم، فوڈ ہالز اور رہائش بھی نشانے پر ہیں۔”پوسٹ نے یہ بھی پایا کہ حملوں میں قطر کے ال عدید ایئر بیس پر سیٹلائٹ مواصلاتی مقام، بحرین کے رفاعہ اور عیسیٰ ایئر بیس اور کویت کے علی ال سالم ایئر بیس پر پیٹریاٹ میزائل دفاعی سامان، بحرین کی نیول سپورٹ ایکٹیویٹی (جو یو ایس ففتھ فلیٹ کا ہیڈ کوارٹر ہے) پر سیٹلائٹ ڈش، کویت کے کیمپ بوہرنگ پر پاور پلانٹ، اور تین اڈوں پر پانچ فیول سٹوریج بلیڈر سائٹس شامل تھیں۔ایرانی تصاویر نے کویت کے کیمپ عریفجان اور علی ال سالم ایئر بیس اور ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹرز پر ریڈومز کو پہلے رپورٹ ہونے والا نقصان یا تباہی بھی دستاویز کیا، اردن کے موافق سلطی ایئر بیس اور متحدہ عرب امارات کے دو مقامات پر ٹرمینل ہائی الٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) میزائل دفاعی ریڈارز اور سامان، ال عدید پر دوسرا سیٹلائٹ مواصلاتی مقام، اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ای-3 سینٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ اور ریفولنگ ٹینکر بھی شامل ہیں۔پوسٹ کے جائزے والے نقصان کا نصف سے زائد ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹرز اور کویت کے تین اڈوں — علی ال سالم ایئر بیس، کیمپ عریفجان اور کیمپ بوہرنگ — پر ہوا۔

کیمپ عریفجان امریکی آرمی کا علاقائی ہیڈ کوارٹر ہے۔کویت کے کیمپ عریفجان کو 4 مارچ کو پہنچنے والا نقصان (پلانٹ)کچھ خلیجی ممالک نے امریکی فوج کو اپنے اڈوں سے جارحانہ آپریشنز کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ایک امریکی حکام نے بتایا کہ بحرین اور کویت کے اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، شاید اس لیے کہ انہوں نے اپنی سرزمین سے حملوں کی اجازت دی، جن میں ہائی موبلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (HIMARS) شامل تھے جو 310 میل سے زیادہ رینج پر میزائل فائر کر سکتے ہیں۔پوسٹ کا جائزہ دستیاب سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر نقصان کا صرف جزوی شمار ہے۔کینشین نے کہا کہ کچھ نقصان امریکی انتخاب یا دھوکے کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ قیمتی انٹر سیپٹرز بچانے کے لیے امریکی فورسز غیر اہم اہداف پر آنے والے میزائل کو لگنے دے سکتی ہیں، اور ممکن ہے کہ کمانڈروں نے خالی اڈوں کو مصروف دکھا کر ایرانی فورسز کو دھوکہ دیا ہو۔بدلتا ہوا میدان جنگ ماہرین نے کہا کہ فوجی مقامات کی ایرانی حملوں کے سامنے کمزوری متعدد عوامل کا نتیجہ تھی

۔سب سے اہم بات، ماہرین نے کہا، یہ ہے کہ ایرانی فورسز ٹرمپ انتظامیہ کے اندازے سے زیادہ لچکدار ثابت ہوئیں۔ سٹمسن سینٹر کی سینئر فیلو کیلی گریکو نے کہا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون فورسز کو اتنی تیزی سے تباہ کرنے کے منصوبے جن سے وہ امریکی انفراسٹرکچر کو سنگین نقصان نہ پہنچا سکیں، “امریکی مقررہ انفراسٹرکچر پر ایرانی پری پوزیشنڈ ٹارگٹنگ انٹیلی جنس کی گہرائی” کو کم سمجھتے تھے۔گریکو نے کہا کہ حکمت عملی نے جون میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان 12 روزہ تنازع کے دوران امریکی اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کے استعمال شدہ ہونے کی حد کو بھی مدنظر نہیں رکھا۔سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے اندازے کے مطابق، فوج نے 28 فروری سے 8 اپریل تک کم از کم 190 تھاڈ انٹر سیپٹرز اور 1,060 پیٹریاٹ انٹر سیپٹرز استعمال کیے، جو ان کے جنگ سے پہلے کے ذخیرے کا بالترتیب 53 فیصد اور 43 فیصد ہے۔لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو جسٹن برونک نے کہا کہ امریکی اور اتحادی فضائی دفاعی نظام نے حملوں کو روکنے میں متاثر کن کام کیا، لیکن “سطح سے ہوا میں میزائل انٹر سیپٹرز اور ہوا سے ہوا میں میزائلوں کے لحاظ سے بہت بڑی قیمت پر”۔اس کے علاوہ، ماہرین نے کہا کہ امریکی فوج نے ایک طرفہ حملہ آور ڈرونز کے استعمال کے مطابق خود کو کافی نہیں بدلا، جو ان کے خیال میں یوکرین جنگ سے سیکھنا چاہیے تھا۔

سینٹر فار نیول اینالیسز کے ایسوسی ایٹ ریسرچ اینالسٹ ڈیکر ایولیتھ نے کہا: “اگرچہ ڈرونز کے پے لوڈ چھوٹے ہوتے ہیں — ان میں سے کچھ نے زیادہ نقصان نہیں کیا — لیکن انہیں روکنا زیادہ مشکل ہے اور وہ بہت زیادہ درست ہوتے ہیں، جو انہیں امریکی فورسز کے لیے بڑا خطرہ بناتا ہے۔”انہوں نے ساختہ چیلنجز کی طرف بھی اشارہ کیا، جن میں کلیدی مقامات اور ممکنہ اہداف پر فوجیوں اور سامان کی حفاظت کرنے والے مضبوط پناہ گاہوں کی کمی شامل ہے۔مثال کے طور پر، کویت میں ٹیکنیکل آپریشن سینٹر، جہاں مارچ کے آغاز میں ایرانی ڈرون حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے، میں اوور ہیڈ پروٹیکشن یا چھپنے کی جگہ بہت کم تھی، جو ڈیموکریٹک قانون سازوں کی طرف سے ہلاکتوں کی تفتیش میں زیر غور متعدد مسائل میں سے ایک ہے۔شعبہ پورٹ، کویت، 2021۔ مارچ میں ایرانی ڈرون حملے میں نشانہ بننے والی عمارت کی چھت پتلی دھات کی بنی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ (یو ایس آرمی فوٹوز بذریعہ سٹاف سارجنٹ ڈیوڈ سائمن)ایک کیس میں، سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ای-3 سینٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ اس وقت تباہ ہوا جب اسے بار بار ایک ہی غیر محفوظ ٹیکس وی پر پارک کیا گیا تھا۔یو ایس سینٹرل کمانڈ نے نقصان کے ماہرین کے تجزیے پر سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔علاقے میں امریکی اڈوں پر حملوں نے فوجی منصوبہ سازوں کو نئے ٹریڈ آف پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے، سٹمسن سینٹر کے نان ریزیڈنٹ فیلو اور ریٹائرڈ ایئر فورس آفیسر میکسیمیلین بریمر نے کہا: فوجیوں کو محفوظ مقامات پر واپس کھینچیں اور ان کی لڑنے کی صلاحیت محدود کریں، یا اڈوں کو ویسے ہی رکھیں اور مستقبل میں ممکنہ جانی نقصان قبول کریں۔ایک امریکی حکام نے بتایا کہ نیول سپورٹ ایکٹیویٹی پر نقصان “وسیع” ہے اور وہاں ہیڈ کوارٹرز کو فلوریڈا کے ٹمپا میں میک ڈیل ایئر فورس بیس — جو یو ایس سینٹرل کمانڈ کا گھر ہے — منتقل کر دیا گیا۔ حکام نے کہا کہ فوجی، کنٹریکٹرز یا سول ملازمین “جلد ہی” اس اڈے پر واپس نہیں آئیں گے۔دو دیگر حکام نے بتایا کہ امریکی فورسز ممکنہ طور پر علاقائی اڈوں پر بڑی تعداد میں کبھی واپس نہ آئیں، اگرچہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔بریمر نے کہا: “ہم سٹیلتھ کے دور سے نکل کر ایک ایسے دور میں آ گئے ہیں جہاں پورا میدان جنگ شفاف اور بڑھتا ہوا شفاف ہے۔ لگتا ہے کہ ہمیں آفنس پر ہونا چاہیے، لیکن ہم یقینی طور پر ان اڈوں کے گرد ڈیفنس کھیل رہے ہیں۔طریقہ کار اس کہانی کی رپورٹنگ کے لیے، واٹنگٹن پوسٹ کے رپورٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا سے منسلک نیوز میڈیا کی طرف سے شائع کردہ 128 سیٹلائٹ تصاویر کو جغرافیائی طور پر لوکیٹ کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصان کو ظاہر کرتی ہیں، تاکہ تصدیق ہو سکے کہ وہ کیپشنز میں دعویٰ کردہ مقامات کی عکاسی کرتی ہیں۔ پھر ہم نے نقصان کی تصدیق سینٹینل-2 سیٹلائٹ (یو ایس ای یو سسٹم کوپرنیکس کا حصہ) کی درمیانی ریزولوشن تصاویر سے مختلف اسپیکٹرل بینڈز کا جائزہ لے کر کی، تاکہ نقصان کو جتنا ممکن ہو واضح طور پر دیکھا جا سکے، اور پلانٹ کی اعلیٰ ریزولوشن آپٹیکل تصاویر سے۔ امریکی حکومت کی درخواست پر پلانٹ نے 8 مارچ کے بعد کی تصاویر کو آن لائن پلیٹ فارم سے روکنے کی پالیسی اپنا لی، یعنی اس تاریخ کے بعد اعلیٰ ریزولوشن تصاویر موازنہ کے لیے عام طور پر دستیاب نہیں تھیں۔جہاں اعلیٰ ریزولوشن تصاویر دستیاب نہ تھیں، ہم نے صرف ایک ڈھانچے پر حملہ شمار کیا، چاہے ایرانی تصویر میں متعدد ڈھانچوں پر حملہ دکھائی دیتا ہو۔ تجزیے میں غیر فوجی اہداف جیسے آئل ریفائنریز اور امریکی فورسز کے زیر انتظام نہ ہونے والی فوجی تنصیبات جیسے اتحادیوں کے ریڈار انسٹالیشنز پر مبینہ ایرانی حملوں کو خارج کر دیا گیا۔بشکریہ دی واشنڳتن پوسٹ

*پاک فضائیہ کی کامیابیوں نے پاکستانی قوم کے اعتماد، حوصلے اور جذبۂ حب الوطنی کو مزید مضبوط کیا،آئی ایس پی آر**🛑 پاکستانی مسلح افواج کی ہر تیاری، ہر کوشش اور ہر صلاحیت کا محور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کا فروغ ہے، آئی ایس پی آر**پاکستانی مسلح افواج کی ہر تیاری، ہر کوشش اور ہر صلاحیت کا محور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کا فروغ ہے،آئی ایس پی آر*

خلیج میں امریکی طیارہ لاپتہ، خطرے کی گھنٹی بج گئی..عرب امارات ریاست 7 حصوں میں تقسیم۔۔امریکی نائب صدر کی پاکستان آمد۔۔کور کمانڈر کانفرس سب کچھ طے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلال جرات، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 275ویں کور کمانڈر ز کانفرنس*فورم کا مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کو زبردست خراجِ عقیدتفورم نے شہداء کی بے مثال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ؛ شہداء کی لازوال قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی قومی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی بنیاد بنی رہیں گیآرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا پاکستان کی مسلح افواج کی تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہارآرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمانڈرز اور فارمیشنزکے عزم، مستعدی اور کامیابی کو سراہادہشت گرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے، اُن کے معاون انفراسٹرکچر کی تباہی اور پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی شر انگیز کارروائی سے روکنے کے لیے موجودہ آپریشنل رفتار برقرار رکھی جائے گی ، *کورکمانڈرز کانفرنس*فورم نے آپریشن غضب للحق کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کی مسلسل تباہی کا احاطہ کیا افغان طالبان رجیم کی غیر منطقی اور گمراہ کن پالیسی کے تحت خوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں، *کورکمانڈرز کانفرنس**افغان طالبان رجیم کی دہشتگردی کو سپورٹ افغان عوام کے مفادات کے مکمل برعکس ہے اور یہ رجیم اب اپنے عوام کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے، *کور کمانڈرز کانفرنس* افغان طالبان رجیم حالیہ دنوں میں ایک مسلسل پروپیگنڈا کے تحت پاکستان پر افغانستان کے اندر شہریوں کو نشانہ بنا نے کا جھوٹا الزام لگا رہا ہے، *فورم**یہ گمراہ کن بیانیہ افغان طالبان رجیم کی ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور خود کو مظلوم پیش کرنے کا ڈرامہ رچانا ہے ، *فورم* پاکستان ان بے بنیاد الزامات کو واضح طور پر مسترد کر تا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ہماری دفاعی کارروائیاں صرف دراندازوں، دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معان انفراسٹرکچر کے خلاف درست اہداف پر مبنی ہیں، *فورم* فورم نے علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ ابھرتی ہوئی جیو پولیٹیکل پیش رفت علاقائی استحکام پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیںکورکمانڈرز کانفرنس میں علاقائی کشیدگی سے بچاؤ اور تحمل اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا *پاکستان مسلسل ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطہ میں استحکام کے فروغ اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے ، *کورکمانڈرز کانفرنس* *فورم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ؛* *خطہ میں امن اور استحکام کا دارومدار باہمی تحمل، ذمہ داری اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہے* *فیلڈ مارشل نے “معرکۂ حق” کا یاد گار سال مکمل ہونے پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی اور اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا**” معرکہ حق قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور پاکستان کی خودمختاری کی ہر قیمت پر تحفظ کے غیر متزلزل عہد کی عکاسی کرتا ہے”، *فیلڈ مارشل* قومی سطح پر معرکۂ حق کی یاد منانا بھارتی متکبرانہ سیاسی سوچ کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستانی قوم متحد، مضبوط اور ہر لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہے، *کورکمانڈرز کانفرنس**معرکہ ٔ حق عوام، حکومت اور افواجِ پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے، جو تمام اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مدِمقابل “بنیانٌ مرصوص” کی مانند یکجا کھڑیں ہیں، *فیلڈ مارشل*فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم، ماورائے عدالت قتل اور آبادیاتی تبدیلیوں کی شدید مذمت کی فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیرکے عوام کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کیاکانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ ابھرتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر مستعدی اور آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح کو برقرار رکھیںآرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزنے پیشہ ورانہ مہارت کے تسلسل، مربوط ردِعمل اور روایتی و غیر روایتی دونوں نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا

آسٹریلیا میں پاکستانی کیڈٹ کی شاندار کامیابی، پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کی عالمی سطح پر پذیرائی* آسٹریلیا کے رائل ملٹری کالج میں پاکستانی کیڈٹ سردار ارسام عباس بہترین کارکردگی کی بنیاد پر *”اوورآل بیسٹ فارن ملٹری کیڈٹ”* قرار ارسام عباس کو اس اعزاز سے 5 مئی 2026 کو آسٹریلیا میں منعقدہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب میں نوازا گیا

*آسٹریلیا میں پاکستانی کیڈٹ کی شاندار کامیابی، پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کی عالمی سطح پر پذیرائی* آسٹریلیا کے رائل ملٹری کالج میں پاکستانی کیڈٹ سردار ارسام عباس بہترین کارکردگی کی بنیاد پر *”اوورآل بیسٹ فارن ملٹری کیڈٹ”* قرار ارسام عباس کو اس اعزاز سے 5 مئی 2026 کو آسٹریلیا میں منعقدہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب میں نوازا گیا تقریب میں سفارتی عملے کے ارکان، بشمول آسٹریلیا میں پاکستانی ہائی کمشنرعرفان شوکت نے خصوصی شرکت کی سردار ارسام عباس آسٹریلیا میں “بیسٹ فارن ملٹری کیڈٹ” کا اعزاز حاصل کرنے والے 14ویں پاکستانی کیڈٹ بن گئے ارسام عباس کا اعزاز پاک فوج کے نوجوان افسران کی عالمی سطح پرشاندار کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے 2013 سے اب تک بطور فیکلٹی پاک فوج کے 7 افسران جبکہ 2009 سے 46 پاکستانی کیڈٹس تربیت مکمل کر چکے ہیں2020 کو شمالی وزیرستان میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ ناصر حسین خالد، تمغۂ بسالت نے بھی آسٹریلیا میں بہترین کیڈٹ کا اعزاز حاصل کیا تھا*بیرون ملک پاکستانی کیڈٹس کی کامیابیاں پاک فوج کی اعلیٰ تربیت، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کی عکاس ہیں*

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلال جرات، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 275ویں کور کمانڈر ز کانفرنس

*فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلال جرات، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 275ویں کور کمانڈر ز کانفرنس*فورم کا مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کو زبردست خراجِ عقیدتفورم نے شہداء کی بے مثال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ؛ شہداء کی لازوال قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی قومی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی بنیاد بنی رہیں گیآرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا پاکستان کی مسلح افواج کی تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہارآرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمانڈرز اور فارمیشنزکے عزم، مستعدی اور کامیابی کو سراہادہشت گرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے، اُن کے معاون انفراسٹرکچر کی تباہی اور پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی شر انگیز کارروائی سے روکنے کے لیے موجودہ آپریشنل رفتار برقرار رکھی جائے گی ، *کورکمانڈرز کانفرنس*فورم نے آپریشن غضب للحق کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کی مسلسل تباہی کا احاطہ کیا افغان طالبان رجیم کی غیر منطقی اور گمراہ کن پالیسی کے تحت خوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں، *کورکمانڈرز کانفرنس**افغان طالبان رجیم کی دہشتگردی کو سپورٹ افغان عوام کے مفادات کے مکمل برعکس ہے اور یہ رجیم اب اپنے عوام کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے، *کور کمانڈرز کانفرنس* افغان طالبان رجیم حالیہ دنوں میں ایک مسلسل پروپیگنڈا کے تحت پاکستان پر افغانستان کے اندر شہریوں کو نشانہ بنا نے کا جھوٹا الزام لگا رہا ہے، *فورم**یہ گمراہ کن بیانیہ افغان طالبان رجیم کی ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور خود کو مظلوم پیش کرنے کا ڈرامہ رچانا ہے ، *فورم* پاکستان ان بے بنیاد الزامات کو واضح طور پر مسترد کر تا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ہماری دفاعی کارروائیاں صرف دراندازوں، دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معان انفراسٹرکچر کے خلاف درست اہداف پر مبنی ہیں، *فورم* فورم نے علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ ابھرتی ہوئی جیو پولیٹیکل پیش رفت علاقائی استحکام پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیںکورکمانڈرز کانفرنس میں علاقائی کشیدگی سے بچاؤ اور تحمل اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا *پاکستان مسلسل ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطہ میں استحکام کے فروغ اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے ، *کورکمانڈرز کانفرنس* *فورم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ؛* *خطہ میں امن اور استحکام کا دارومدار باہمی تحمل، ذمہ داری اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہے* *فیلڈ مارشل نے “معرکۂ حق” کا یاد گار سال مکمل ہونے پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی اور اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا**” معرکہ حق قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور پاکستان کی خودمختاری کی ہر قیمت پر تحفظ کے غیر متزلزل عہد کی عکاسی کرتا ہے”، *فیلڈ مارشل* قومی سطح پر معرکۂ حق کی یاد منانا بھارتی متکبرانہ سیاسی سوچ کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستانی قوم متحد، مضبوط اور ہر لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہے، *کورکمانڈرز کانفرنس**معرکہ ٔ حق عوام، حکومت اور افواجِ پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے، جو تمام اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مدِمقابل “بنیانٌ مرصوص” کی مانند یکجا کھڑیں ہیں، *فیلڈ مارشل*فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم، ماورائے عدالت قتل اور آبادیاتی تبدیلیوں کی شدید مذمت کی فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیرکے عوام کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کیاکانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ ابھرتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر مستعدی اور آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح کو برقرار رکھیںآرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزنے پیشہ ورانہ مہارت کے تسلسل، مربوط ردِعمل اور روایتی و غیر روایتی دونوں نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا

ایرانی نظام اپنے فوجیوں کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہوگیا: امریکی وزیر خزانہ۔۔ایران ڈٹ گیا،سمندر میں امریکی جہاز پرحملہ فیس سیونگ یا بڑی جنگ۔۔ابنائے ہرمز سونے کی چڑیا ہے ! ہر سال ایران کو 90 ارب ڈالر ٹول سے ملے گا!۔۔سعد رفیق آپ بھی۔ پر ۔ 23 سال سے جو ھو رھا اب نھی ھو گا کھیل آخری مراحل میں داخل تخت یا تختہ۔۔اسلام آباد کا سیکٹر ایف 6 جس کو انسٹا گرامرز امریکہ کا لاس اینجلس کہتے ہیں اس میں ایک شہری کو آدھی رات کو غنڈے اٹھا کر لے جاتے ہیں۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی سے راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن کے عہدے دار ذوالفقار بیگ ظہیر الحق ،طاہر شیرازی ،محمد زاہد واپڈ ملاقات کے دوران پھولوں کا گلدستہ پیش کررہے ہیں

یہ شخص ن لیگ میں کچھ حد تک اصول پسند سمجھا جاتا تھا۔اب پتہ چلا کہ کانسٹٹیوشن آیونیو میں اس کے 8 ارب کے 8 فلیٹس ہیں۔پوچھنے پر بتایا کہ یہ فلیٹس مجھے بتائے بغیر میرے سوشل میڈیا منیجر نے خریدے ہیں اور مجھے خبر کئے بغیر میرے اکاونٹ سے ادائگیاں ہوئیں ہیں۔۔یہ ملک ایسے نہیں کمزور ہوا۔اس کے لئے گئے قرضے کس طرح بانٹے گئے ہیں

💔حضرت امام بری سرکار میں پریشن بیان سنیں ون کانسٹیٹیوشن پر میرا موقف وہی ہے کہ سب غیر قانونی ہوا، قانون سب کیلئے برابر ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ غریب کیلئے قانون الگ اور امیر کیلئے الگ ، عمارت کے پیچھے نہیں، جنہوں نے مُلک کو نقصان پہنچایا، اُن کے پیچھے جانا چاہئے، جیت قانون کی ہو گی، محسن نقوی

میں نہیں جانتا کہ یہ کس ملک کے کون سے شہر کی تصویر ہے ، قیاس چاہتا ہے کہ ہمارے آس پڑوس کا کوئی ملک ہو سکتا ہے۔یہ تصویر دیکھ کر 1923ء میں ترکیہ میں مصطفی کمال اتاترک کی انقلابی فتوحات اور جمہوری ترکیہ کا قیام ذہن میں تازہ ہو گیا

۔مصطفی کمال پاشا کی فتوحات کو علامہ اقبال نے طلوع اسلام عنوان کی ایک طویل نظم میں خراج تحسین بھی پیش کر رکھا ہے ۔اسی مصطفی کمال اتاترک کا ایک قریبی دوست امیر امان اللہ خان افغانستان میں حکمران تھا اور ترکیہ جیسا جدید جمہوری معاشرہ اور نظم ریاست افغانستان میں بھی قائم کرنا چاہتا تھا ۔

امیر امان اللہ خان کی ملکہ ثریا ایک تعلیم یافتہ باوقار خاتون تھیں اور افغان خواتین کی تعلیم کی طرف خصوصی طور متوجہ تھیں ۔ان کی درخواست پر ترکیہ نے اپنی یونیورسٹیوں میں افغان خواتین کو اعلی تعلیم کے لیے وظائف بھی جاری کیےتھے۔پھر ہوا یہ کہ ترکیہ جیسی ہزیمت اور خفت برطانیہ (اور امریکہ) افغانستان میں اٹھانا نہیں چاہتے تھے ۔ افغانستان میں بغاوت کرائی گئی اور ملاوں کو سیاست میں متحرک کیا گیا۔ مغربی طاقتوں کے ذہن میں افغانستان کے مستقبل کا جو نقشہ تھا، یہ تصویر شاید اس کا عمدہ اظہار کر رہی ہے ۔اگر 1923ء میں مصطفی کمال پاشا ہار جاتا اور برطانیہ اپنے یورپی اتحادیوں سمیت جیت جاتا تو آج خلافت کی آڑ میں ترک خواتین بھی کسی نہ کسی گدھے پر سواری کر رہی ہوتیں۔

مدھم پڑتا سلامنیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کا بتدریج زوالتحریر: رانا تصدق حسیناسلام آباد — ایک وقت تھا جب گاڑیوں کے پیچھے لکھی ایک سادہ سی عبارت قوم کے اعتماد کی عکاس ہوتی تھی“موٹروے پولیس کو سلام”یہ محض ایک نعرہ نہیں تھا۔یہ ایک ایسے ادارے پر فخر کی علامت تھا جو نظم و ضبط، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کی پہچان سمجھا جاتا تھا۔نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی)، جس کی بنیاد اپنے ابتدائی دور میں ڈیپوٹیشن پر آئے افسران کی انتھک محنت سے رکھی گئی، پاکستان کے بہترین قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شمار ہوتی تھی۔آج وہ سلام خاموشی سے مدھم پڑ چکا ہے۔اس کی جگہ ایک تشویشناک داستان جنم لے رہی ہے۔اعلیٰ تعلیم یافتہ افسران کی موجودگی کے باوجود ایک ایسا نظام سامنے آ رہا ہے

جو اپنی کارکردگی کھوتا دکھائی دیتا ہے۔مسئلہ قابلیت یا صلاحیت کی کمی نہیں۔اصل مسئلہ ایک ایسا ڈھانچہ ہے جہاں میرٹ اب فیصلہ کن عنصر نہیں رہا۔اس زوال کے مرکز میں ترقیوں کا ایک نہایت کمزور اور ناقص نظام ہے۔صوبائی پولیس کے برعکس، جہاں افسران کو لسٹ اے اور بی ون جیسے باقاعدہ امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، موٹروے پولیس میں ترقی کا دارومدار محض سنیارٹی پر ہے۔نہ کوئی تحریری امتحان۔نہ پیشہ ورانہ جانچ پڑتال۔نہ ہی اہلیت کا کوئی بامعنی جائزہ۔ایسے نظام میں نتیجہ واضح ہے۔مختلف صلاحیتوں کے حامل افسران، خواہ وہ انتہائی قابل ہوں، اوسط درجے کے ہوں یا کمزور کارکردگی کے حامل، سب بلا امتیاز ترقی پاتے جاتے ہیں۔میرٹ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور بہترین کارکردگی کی کوئی قدر باقی نہیں رہتی

۔وقت گزرنے کے ساتھ اس غیر متوازن نظام نے پورے ادارے کی ساخت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔وہ افسران جو کبھی جونیئر پیٹرول آفیسرز (جے پی اوز) کے طور پر بھرتی ہوئے تھے، اب بڑی تعداد میں گریڈ 17 کے انسپکٹرز (ایس پی اوز) بن چکے ہیں۔ترقیاں تو فراخدلی سے دی گئیں، مگر بغیر کسی ساختی منصوبہ بندی کے۔نتیجہ ایک واضح ادارہ جاتی عدم توازن کی صورت میں سامنے آیا ہے۔عہدوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، مگر اس کے مطابق آسامیوں کی تخلیق نہ ہو سکی۔گریڈ 17 کے افسران کی بھرمار ہے، مگر ڈی ایس پی جیسے مساوی عہدے دستیاب نہیں۔یوں ترقی کا پورا نظام اپنی ہی ساخت کے بوجھ تلے دب کر مفلوج ہو چکا ہے۔ادارے کے اندر اس کے اثرات نہایت سنگین ہیں۔جب کارکردگی ترقی کا معیار نہ رہے تو حوصلہ شکنی جنم لیتی ہے۔قابل افسران خود کو نظرانداز محسوس کرتے ہیں، جبکہ کمزور صلاحیتوں کے حامل افراد اہم ذمہ داریوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔ادارے کے اندر ایک تلخ جملہ زبان زد عام ہو چکا ہے“موٹروے پولیس میں تو درختوں کو بھی رینک مل جاتے ہیں”ان ساختی مسائل کے ساتھ ایک اور تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔باوثوق اطلاعات کے مطابق این ایچ ایم پی کو ریاست کی جانب سے اپنی قانونی حدود سے کہیں زیادہ مالی اور لاجسٹک سہولیات حاصل ہو رہی ہیں۔مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ جرمانوں کی وصولی میں پچاس فیصد حصہ، میچنگ گرانٹ، اور ٹراما سینٹر کے آپریشنل اخراجات جیسی مالی سہولیات مبینہ طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے آر ایم اے قواعد کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے فراہم کی جا رہی ہیں۔معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب یہ الزامات سامنے آتے ہیں کہ ایسے انتظامات وفاقی وزیر برائے مواصلات اور قائم مقام سیکریٹری کی سرپرستی میں کیے جا رہے ہیں، جو گورننس، شفافیت اور قواعد و ضوابط کی پاسداری پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ادھر داخلی نظام کمزور پڑتا جا رہا ہے، جبکہ بیرونی دنیا تیزی سے آگے بڑھ چکی ہے۔ملک بھر میں صوبائی پولیس فورسز نے ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے نمایاں پیش رفت کی ہے۔کیمروں پر مبنی ای چالان سسٹمز فعال ہو چکے ہیں۔ڈرائیونگ لائسنس اور جرمانوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عام ہو چکے ہیں۔موبائل ایپلی کیشنز شہری سہولت میں اضافہ کر رہی ہیں۔اس کے برعکس، موٹروے پولیس، جس کا بنیادی دائرہ کار ہی ٹریفک قوانین کا نفاذ ہے، جدیدیت میں قیادت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔لائسنس کی تجدید کے لیے کوئی جامع آن لائن نظام موجود نہیں۔فیسوں کی ادائیگی کے لیے پرانے بینکنگ طریقہ کار ہی رائج ہیں۔جدید نفاذی ٹیکنالوجی محدود حد تک ہی استعمال ہو رہی ہے۔

جو ادارہ کبھی معیار قائم کرتا تھا، آج انہی اداروں سے پیچھے رہ گیا ہے جنہیں وہ رہنمائی فراہم کرتا تھا۔تاہم اصل مسئلہ ادارہ جاتی جمود ہے۔اصلاحات کا فقدان، جدت کی کمی، اور واضح حکمت عملی کا نہ ہونا، ان تمام عوامل نے مل کر اس زوال کو جنم دیا ہے۔یہ کسی اچانک تباہی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک تدریجی انحطاط ہے جہاں نظام نے میرٹ کی جگہ لے لی، توسیع نے ساخت کو نظرانداز کیا، اور نگرانی وقت کے ساتھ کمزور پڑتی چلی گئی۔اشارے واضح ہیں۔ خدشات سنجیدہ ہیں۔اب سوال ناگزیر ہےکیا بااختیار حلقے موٹروے پولیس کی ساکھ اور ساخت کی بحالی کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں گے، یا یہ کبھی مثالی ادارہ اپنی خاموش زوال پذیری کا سفر جاری رکھے گا؟

اسلام آباد میں ڈکیتی کی ایک اور سنگین واردات، مزاحمت پر شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھااسلام آباد: تین مئی 2026 کو رات تقریباً 11:35 بجے تھانہ ہمک کی حدود میں Giga Mall کے سامنے کلٹانا موڑ کے قریب واقع اصرار جنرل سٹور پر ڈکیتی کی واردات پیش آئی۔تفصیلات کے مطابق ایک نامعلوم مرد اور عورت سٹور پر آئے اور خریداری کے بہانے اندر داخل ہوئے۔ اچانک ملزمان نے سٹور کے مالک پر پستول تان کر ڈکیتی کی کوشش کی۔ اس دوران سٹور مالک اسرار ولد عبدالعزیز (عمر تقریباً 44 سال) نے مزاحمت کی، جس پر ملزم نے فائرنگ کر دی۔فائر لگنے کے نتیجے میں اسرار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ دونوں ملزمان واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، لاش کو قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے اور قریبی علاقوں کی سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہریوں میں اس واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس پایا

‏اسلام آباد کا سیکٹر ایف 6 جس کو انسٹا گرامرز امریکہ کا لاس اینجلس کہتے ہیں اس میں ایک شہری کو آدھی رات کو غنڈے اٹھا کر لے جاتے ہیں لیکن لاس اینجلس کی پولیس بندہ بازیاب نہیں کرا پاتی حتی کہ اس کی مت شدد ل اش خیبر پختونخواکے شہر صوابی سے برآمد ہو

میانوالی اور بھکر کے کچھ حصوں میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ شدید ژالہ باری۔۔ایران بھی سپرپاور ہےترجمان ایرانی وزارت خارجہ۔۔پاسداران انقلاب گارڈز کی بحریہ نے ایرانی فوج کے زیرکنٹرول آبنائے ہرمزکا نیا نقشہ جاری۔۔۔۔معرکہ حق؛ پاکستان نے ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ۔۔آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا: ایرانی۔۔اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے۔دوبئی جانے والی پروازوں کے رخ موڑ دیے گئے اس وقت دوبئی پر میزائل حملہ جاری ہے۔‏دبئی میں دوبارہ سائرن بجنے لگے۔۔ امریکہ ایران سیزفائر کے بعد ایسا پہلی بار ہوا۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت پیٹرولیم، آئل اور لبریکنٹس کے ذخائر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سوموار کو ہوئے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزارت پیٹرولیم کی جانب سے بتایا گیا کہ موجودہ صورت حال اور آنے والی کھیپوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اتنے ہیں کہ جون 2026 کے تیسرے ہفتے تک ملک بھر میں بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔پیٹرولیم وزارت کے مطابق سپلائی چین کی صورت حال کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کمیٹی (NCMC) کے ذریعے کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ سے بروقت نمٹا جا سکے۔نائب وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی اور ملکی چیلنجز کے باوجود ایندھن کی مستحکم فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں قید رکھا گیا ہے، جو کہ بہت بڑا ظلم ہے اور پاکستانی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی ہے۔

علیمہ خان

کراچی میں شدید گرمی سے عوام بے حال، درجہ حرارت 43 ڈگری پر پہنچ گیا

کراچی: شہر قائد میں موسم آج شدید گرم اور خشک ہونے کے سبب دوپہر ایک بجے درجہ حرارت 43 ڈگری پر پہنچ گیا۔

شہر میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ دوپہر کے وقت سمندری ہوائیں بند رہے گی جبکہ شام کے وقت سمندر کی ہوائیں بحال ہونے کا امکان ہے۔

کراچی میں آج صبح سے ہی شدید گرمی ہے اور دن 11 بجے درجہ حرارت 41 ڈگری پر پہنچ گیا تھا۔

معرکہ حق میں کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر سندھ حکومت کے زیر اہتمام کراچی کے نجی ہوٹل میں پُروقار یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن، ارکان اسمبلی، اعلیٰ سول و عسکری حکام، کاروباری ودیگر اہم شخصیات نے شرکت کی، تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جبکہ تقریب میں معرکہ حق کی کامیابی سے متعلق دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ معرکہ حق پاکستان کی تاریخ کا سنہرا باب ہے، پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی، معرکہ حق میں پاکستانی قوم نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا، یہ ہم سب کی یکجہتی

سفیان مقیم نے اپنا پی ایس ایل ایوارڈ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام کردیاپشاور زلمی کے نوجوان لیفٹ آرم اسپنر سفیان مقیم نے پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 22 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی اس جادوئی اسپن بولنگ کی بدولت انہیں ٹورنامنٹ کے اختتام پر “پلیئر آف دی ٹورنامنٹ” اور “اسٹرانگسٹ بولر آف دی ٹورنامنٹ” کے اعزازات سے نوازا گیا۔ ایوارڈ ملنے کے بعد سفیان مقیم نے گفتگو کرتے ہوئے اپنی اس کامیابی کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام منسوب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘میں یہ ایوارڈ محسنِ پاکستان، ڈاکٹر عبدالقدیر خان

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فول پروف سکیورٹی انتظامات۔ آئی جی اسلام آباد کے احکامات پر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مشترکہ گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز جاری

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فول پروف سکیورٹی انتظامات۔ آئی جی اسلام آباد کے احکامات پر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مشترکہ گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز جاری۔تھانہ کرپا، شالیمار، آبپارہ، ترنول، بھارہ کہو، سبزی منڈی اور تھانہ کھنہ کے علاقوں میں زونل ایس پیز کی زیرِ نگرانی سرچ آپریشنز کئے گئے، جس میں لیڈیز پولیس نے بھی حصہ لیا۔سرچ آپریشن کے دوران 475 افراد، 191 گھرانوں، 30 ہوٹلز، 99 دکانوں، 227 موٹر سائیکلز اور 76 گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔ 24 مشکوک افراد اور 31 موٹر سائیکلز کو مزید جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ تھانوں میں منتقل کیا گیا۔ منشیات فروشی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے 540 گرام ہیروئن اور 33 گرام آئس برآمد۔شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کے لیے خصوصی چیکنگ پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں۔

تمام پٹرولنگ یونٹس اور خصوصی سکواڈ شہر بھر میں گشت کر رہے ہیں، سینئر افسران فیلڈ میں موجود رہتے ہوئے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں، شہری چیکنگ کے دوران پولیس سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ اسلام آباد پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنا رہی

ابصار عالم 1200 سے 12 ارب روپے کا مالک کیسے بنا دنیا ٹی وی سے کیوں نکالا گیا۔ابصار عالم کے سسر نے وزارت اطلاعات کو کیسے لوٹا۔۔نیشن میں 2 ھزار کی نوکری سے چئیرمین پیمرا کیسے بنا۔۔اسکا این او سی بھی نواز شریف کے دور میں سی ڈی اے نے جاری کیا۔۔مجھے محسن نقوی کی نیت پر شبہ تھا کہ غریبوں کی بستیاں ہی گرائی جا رہی ہیں لیکن کانسٹی ٹیوشن ون اونیو پر کارروائی سے یہ شبہ دور ہو گیا ہے امیر غریب سب برابر ہیں قانون حرکت میں ہے محسن نقوی کو سلام۔۔ابصار عالم 1200 سے 12 ارب روپے کا مالک کیسے بنا۔۔ابصار عالم کے سسر نے وزارت اطلاعات کو کیسے لوٹا۔۔اسکا این او سی بھی نواز شریف کے دور میں سی ڈی اے نے جاری کیا۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

‏خواجہ سعد رفیق کا کانسٹیٹیوشن ایونیو میں آٹھ فلیٹس کے حوالے سے اہم بیان
‏👈 “کانسٹیٹیوشن ایونیو میں میرا کوئی ذاتی فلیٹ نہیں ہے اور نہ ہی میرے پاس اتنی مالی استطاعت ہے کہ میں وہاں آٹھ فلیٹس خرید سکوں۔

‏👈 چند ماہ قبل مجھے معلوم ہوا کہ میرے نام، دستخط اور شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے وہاں آٹھ فلیٹس میرے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔

‏👈 میں نے ٹاور مالکان کو متعدد بار مطلع کیا کہ یہ فلیٹس میرے نام سے ہٹا دیے جائیں، مگر ان کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔

‏👈 کل رات مجھے معلوم ہوا کہ یہ تمام فلیٹس میرے سوشل میڈیا مینیجر نے میرے نام پر خریدے تھے اور بینک نے بھی میرے علم کے بغیر ادائیگیاں منتقل کر دی تھیں۔

سعد بھائی غریب آدمی ہیں، اتنے غریب کہ اپنی دوسری بیگم کو پی ٹی وی پر اینکر رکھوانا پڑا گھر کا خرچ چلانے کے لیے ,جس کا پیکج صرف 4 لاکھ روپے تھا اور دونوں مشکل سے گذارا کر رہے تھے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے 2005 میں زلزلے کی ڈونرز کانفرنس کے بعد کنونشن سینٹر کے ساتھ ایک ھوٹل بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ مندوب کنونشن سینٹر کے ساتھ نزدیک ھوٹل میں ٹھہریں شوکت عزیز نے 2006 میں اس کا افتتاح کیا 2006 میں یہ ھوٹل شروع ھوا 2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس پر سٹے دے دیا 20011 امریکیوں نے اعتراض کر دیا شاہ محمود قریشی نے امریکیوں کی حمایت کر دی اور زرداری نے انکی چھٹی کروا دی کیونکہ امریکیوں سے قریشی نے عوض میں وزارت عظمی مانگ لی اسی وقت درخواست سی ڈی کو موصول ھوی اسکو ھوٹل سے فلیٹ میں تبدیل کیا جاے لکین حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد شریف حکومت میں سی ڈی کی جانب سے اسکو این او سی جاری کر دیا گیا سعد رفیق کی سفارش پر اس کے بعد جسٹس رحمتیں نازل ھوے ایک برگئڈیر نے خودکشی بھی کی اب این او سی کینسل ھونے کے بعد سعد رفیق کی سفارش پر وزیراعظم نے مداخلت کی اور نواز لیگ کی میڈیا ٹیم نے محسن نقوی کی کردار کشی کی حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج

اسلام اباد۔۔۔۔۔تین ایم این ایز تین کہانیاں۔۔۔۔۔۔یہ سامنے جو تین صاحبان اپ دیکھ رہے ہیں یہ اسلام اباد کے مقامی لوگ ہیں اور یہ اس وقت قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔اسلام اباد کی مقامی ابادی جتنے بھی ہے وہ سب ان کے بارے میں ایک سپیسیفک رائے رکھتی ہے۔۔۔ بہت دلچسپ صورتحال ہے کہ یہ لوگ عوام کے جو پیچیدہ مسائل ہیں جن میں ان کی زمینوں کو سوسائٹیوں نے سرکاری اداروں نے قبضہ کر لیا ہے مقامی ابادی جب ان کے پاس جاتی ہے تو یہ ان کے کان میں کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بس میں نہیں ہے ہم خود مجبور ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔تینوں ایم این ایز کے علاقوں میں اپ دیکھیں تو کس طرح سینہ زوری سے زمینوں کو حاصل کیا گیا اور مقامی ابادی کے لوگ اپنی زمین کے معاوضے کے حصول کے لیے کئی کئی سالوں سے لٹکے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض مشاہدوں میں یہ بھی ایا کہ یہ رہنما بجائے اپنے ووٹرز اپنے علاقے کے لوگوں کی داد رسی کرنے کے یہ اداروں کے کرپٹ مافیا ٹائپ کے بیوروکریٹس کا ساتھ دیتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے?سب سے اسان ٹارگٹ انہوں نے جو رکھا ہوا ہے وہ ہے کنکریٹ کا کاروبار گلیاں نالیاں ڈالنا پلیاں ڈالنا مطلب جہاں پہ ریت سریا کرش بجری کا کام ہے ہوگا یہ لوگ بھاگ بھاگ کے کرتے ہیں۔۔۔

۔۔۔انجم عقیل خان صاحب کا جو حلقہ ہے وہ ادھا سی ڈی اے کے قبضے میں ہے اور ادھا فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے قبضے میں ہے۔۔۔۔مگر یہ موصوف معاوضے کے اصول کے لیے یا ایکوزیشن میکنزم کو اڈاپٹ کروانے کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہے۔۔۔۔۔طارق فضل چوہدری ان کے حلقے میں سید پور بری امام مل پور قائد اعظم یونیورسٹی راؤنڈ اباؤٹ علاقہ اتا ہے۔۔۔۔اپ نے میڈیا پہ دیکھا ہوگا 50 60 سال سے انسٹال کی گئی ابادی کو 50 دنوں میں ملیامیٹ کیا گیا مگر طارق فضل چوہدری صاحب نے اپنا کوئی کردار ادا نہیں کیا۔۔۔۔یہی حال راجہ خرم نواز کے علاقے کا ہے وہاں بھی مختلف نجی و سرکاری سوسائٹیوں نے کیا حال کیا مقامی ابادی کا۔۔۔۔۔۔مگر اب ہمیں واقعی یقین ہو گیا کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایم این اے بنے کیسے ہیں پھر ان کے ڈیروں پہ اکثر ویڈیوز اور تصویریں بھی اتی ہیں کہ اج پبلک ڈے منایا گیا عوام کی کثیر تعداد وہاں پہ ائی موقع پہ ان کے مسائل حل کیے گئے تو پھر یہ سب کیا ہے?ان کے حلقوں میں لوکل گورنمنٹ کے ذریعے جو ترقیاتی پروجیکٹ ہوئے ان میں بدترین کرپشن ہوئی۔۔۔۔۔۔اور اپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ ان کا فوکس ہی ان ترقیاتی پروجیکٹس کی طرف ہے جو کہ لوکل گورنمنٹ کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں گو کہ اب عوام اتنی اوئیر ہو چکی ہے کہ عوام کو پتہ ہے کہ ان پروجیکٹس کی مد میں کیا ہوتا ہے سیکٹر ایف 14 کی ابادی کا جو بلڈ اف پراپرٹی کا ایوارڈ تھا وہ پچھلے 11 12 سال سے پینڈنگ ہے تو انجم عقیل خان صاحب نے بجائے وہ مسئلہ حل کروانے کے اس سیکٹر کا غیر قانونی ڈویلپمنٹ کا افتتاح کروا دیا جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ پہلے جو حقیقی مسئلہ تھا اس کو حل کیا جاتا لیکن انہوں نے علاقے کی عوام کو اگنور کیا اور بیوروکریٹس کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔ مطلب یہ کہ مجموعی طور پر اگر اپ دیکھیں تو ان تینوں ایم این ایز کا علاقے کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہے سوائے گلیاں پکی کرنے کے۔۔۔۔۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہوں نے ائندہ سیاست کرنی ہے کیا ان حالات میں عوام ان کو ووٹ دے گی بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ انہوں نے اپنی سیاست کو دفن کر دیا ہے کیونکہ حلقے کے عوام میں سے کسی بھی بندے کو اپ اٹھا کے دیکھیں سوائے ان کے چیلے چماٹے باقی سب لوگوں کو شکایت ہے کہ ہم پہ مشکل وقت ایا تو ان ایم این اے ایز نے ہمارا ساتھ نہیں دیا تو سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کو ووٹ کون دے گا ائندہ اور یہ کس طرح ایم این اے بنے گےاور اب جو ہے میں نے بنے ہیں وہ کس بہاف پہ بنے ہیں اگر یہ عوام کے ووٹوں سے بنے ہیں تو پھر ان

”اسلام آباد میں اشرافیہ کے خلاف پہلی کارروائی“اس عنوان سے ابھی ایک تحریر نظر سے گزری۔ علم/ معلومات میں اضافہ ہوا کہ پس منظر/ درون خانہ کھیل کا پتہ نہ ہونا، اور سادہ لوح ہونا زندگی کو کس قدر آسان بنا دیتا ہے۔بھائیو، اور اُن کی بہنو ! ایسا کچھ نہیں کہ یہ کوئی اشرافیہ کے خلاف کارروائی ہے۔جو لوگ یہ سب کچھ سی ڈی اے کے ذریعے حکومت اور سپریم کورٹ سے کروا رہے تھے مالک اب بھی وہی ہیں اور زیادہ کُھل کر مرضی کرتے ہیں۔نوٹ: جس دن بلڈنگ کی مالک کمپنی اور سی ڈی اے کے سابق چیئرمینوں اور اُن کے پیچھے موجود اُس وقت کے حکومتی عہدیداروں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اس حوالے سے پوچھ گچھ شروع ہوئی تب شاید اوپر لکھی اپنی رائے میں معمولی تبدیلی کرنا پڑے۔ اور جس دن ملوث حکام کے اثاثے بحق عوام/ سرکار ضبط ہوئے پھر میں بھی کہوں گا کہ اشرافیہ کے خلاف پہلی کارروائی۔اُس وقت تک ایسی باتیں کرنے والے سادہ لوح ہی ٹھہرائے جائیں گے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی پاکستان سپر لیگ کے فائینل میچ کے موقع پر قزافی اسٹیڈیم لاہور آمد*وزیراعظم نے چیٔرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے ہمراہ کھلاڑیوں سے فرداً فرداً مصافحہ کیا

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی پاکستان سپر لیگ کے فائینل میچ کے موقع پر قزافی اسٹیڈیم لاہور آمد*وزیراعظم نے چیٔرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے ہمراہ کھلاڑیوں سے فرداً فرداً مصافحہ کیا.میچ شروع ہونے سے پہلے فائنل کھیلنے والی ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ وزیرِ اعظم اور چیئرمین پی سی بی کی تصویر ہوئی. وزیرِ اعظم نے فائنل تک پہنچنے کیلئے دونوں ٹیموں کی محنت اور لگن کو سراہا اور فائنل میچ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا.

اس موقع پر وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، اعظم نزیر تارڑ ، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، عبد العلیم خان، رانا مبشر اقبال اور معاون خصوصی طلحہ برکی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے.