ارکان پارلیمنٹ پریشان حکومتی وزراء پر انجانے کا خوف چھمگوئیاں اپوزیشن کے ارکان خوش۔ عید قربان سے پھلے قربانی سیٹی بج گئی۔قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس پارلیمنٹرین حواس باختہ جمھوریت کی سانسیں اکھڑنے لگی۔۔11 سے 18 مئی تک انٹرنیٹ کی رفتار پر مرگی کے دورے حکومت سھولت کار۔۔وزیر اعطم اور صدر کون فیصلہ ھو گیا۔۔۔پٹواریوں نے مطالبات پورے نہ ہونے پر قلم چھوڑ ہرتال کا اعلان کردیا۔۔میرا کتا ٹومی تمھارا کتا کتا پاکستانی تاریخ کی گھٹیا حکومت۔۔ پاکستان تاریخ میں صدر کی موجودگی میں صدارتی ھاوس سے پاکستانی پرچم اتار دئیے گئے۔۔ایک طرف زرداری کی استعفے کی بازگشت اور دوسری طرف صدر مملکت کی موجودگی میں پرچم اتارنا سازش نھی تو کیا ھے۔۔وزیر اعطم سپیکر وزیر داخلہ کی صدارتی ھاوس امد رپورٹ سھیل رانا۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

Jehangir Karamat پاکستان آرمی کے ایک ریٹائرڈ چار ستارہ جنرل، سفارت کار اور عسکری دانشور ہیں جنہوں نے فوجی، تعلیمی اور سفارتی شعبوں میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ پاکستان آرمی کے سربراہ (Chief of Army Staff) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی دونوں عہدوں پر فائز رہے۔ ان کا دورِ خدمت پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کے ایک اہم مرحلے سے متعلق ہے، جب ملک میں سول و عسکری تعلقات، جوہری پالیسی اور خطے کی سکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی۔ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظرJehangir Karamat 20 فروری 1941ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک فوجی خاندان سے تھا۔ ان کے والد بھی برطانوی ہندوستانی فوج اور بعد ازاں پاکستان آرمی سے وابستہ رہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مختلف فوجی اور تعلیمی اداروں میں ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی۔فوجی کیریئر کا آغازوہ 1961ء میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کر کے Frontier Force Regiment میں شامل ہوئے۔ ابتدائی دور میں انہوں نے مختلف کمانڈ اور اسٹاف ذمہ داریاں انجام دیں۔انہوں نے 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں کے زمانے میں بھی فوجی خدمات انجام دیں، اگرچہ ان جنگوں میں ان کے کردار کی تفصیلات محدود عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

عسکری تعلیم اور اسٹاف ذمہ داریاں جہانگیر کرامت نے پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک عسکری اداروں سے بھی تربیت حاصل کی۔ وہ National Defence University اور دیگر عسکری تعلیمی اداروں سے وابستہ رہے۔انہوں نے مختلف ادوار میں:بریگیڈ کمانڈڈویژن کمانڈکور ہیڈکوارٹر اسٹافجنرل ہیڈکوارٹر (GHQ) میں اہم عہدےتدریسی اور پالیسی نوعیت کی ذمہ داریاںسرانجام دیں۔وہ نیشنل ڈیفنس کالج (بعد ازاں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی) میں بطور استاد اور بعد میں پالیسی امور سے متعلق عہدوں پر بھی کام کرتے رہے۔ ان کی دلچسپی عسکری حکمتِ عملی، قومی سلامتی اور سول-ملٹری تعلقات کے موضوعات میں سمجھی جاتی تھی۔چیف آف آرمی اسٹاف1996ء میں Farooq Leghari نے انہیں پاکستان آرمی کا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا۔ انہوں نے Abdul Waheed Kakar کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا۔بطور آرمی چیف ان کا دور کئی اہم قومی اور علاقائی واقعات سے وابستہ رہا:افغانستان میں طالبان کے عروج کا زمانہبھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقاتپاکستان کے جوہری پروگرام کے گرد بڑھتا عالمی دباؤاندرونی سیاسی عدم استحکامسول حکومت اور فوج کے تعلقات میں تناؤچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی1997ء میں وہ Joint Chiefs of Staff Committee کے چیئرمین بھی بنے۔ اس طرح وہ بیک وقت پاکستان کے دو اہم ترین عسکری عہدوں پر فائز رہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطے اور مشترکہ عسکری پالیسی سے متعلق ہوتا ہے، اگرچہ عملی طاقت روایتی طور پر آرمی چیف کے پاس زیادہ سمجھی جاتی رہی ہے۔سول حکومت سے اختلافات اور استعفیٰ1998ء میں ان کا نام خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوا

جب ان کے بعض عوامی بیانات اور پالیسی خیالات کو سول حکومت نے حساس تصور کیا۔ایک لیکچر کے دوران انہوں نے قومی سلامتی کے ڈھانچے اور ادارہ جاتی مشاورت کے حوالے سے گفتگو کی، جسے اُس وقت کی حکومت نے سیاسی مداخلت سے تعبیر کیا۔اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم Nawaz Sharif تھے۔ حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کے بعد جہانگیر کرامت نے اکتوبر 1998ء میں استعفیٰ دے دیا۔یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا کیونکہ ایک حاضر سروس آرمی چیف نے دباؤ کے ماحول میں عہدہ چھوڑا۔ان کے بعد Pervez Musharraf پاکستان آرمی کے سربراہ مقرر ہوئے۔بعد از ریٹائرمنٹ کردارریٹائرمنٹ کے بعد جہانگیر کرامت نے سفارتی اور فکری میدان میں سرگرمیاں جاری رکھیں۔انہیں United States میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے 2004ء سے 2006ء تک خدمات انجام دیں۔ یہ دور 9/11 کے بعد پاکستان-امریکہ تعلقات کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے مختلف تعلیمی، پالیسی اور تھنک ٹینک فورمز پر بھی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور سول-ملٹری تعلقات پر اظہارِ خیال کیا۔عسکری اور سیاسی تناظر میں اہمیتجہانگیر کرامت کا دور پاکستان کی تاریخ میں اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ:یہ ایٹمی دھماکوں سے قبل اور بعد کے حساس دور سے جڑا تھا۔سول اور عسکری قیادت کے تعلقات میں تناؤ نمایاں تھا۔

ان کے استعفے نے بعد کی سیاسی و عسکری تبدیلیوں کے لیے ایک نئی صورتحال پیدا کی۔ان کے بعد آنے والے دور میں پاکستان میں فوجی مداخلت اور اقتدار کی سیاست نے نیا رخ اختیار کیا۔نتیجہJehangir Karamat کی زندگی پاکستان کے عسکری اداروں، ریاستی پالیسی سازی، سفارت کاری اور سول-ملٹری تعلقات کے کئی اہم مراحل سے وابستہ رہی۔ انہوں نے فوجی کمان، تدریسی خدمات، دفاعی پالیسی اور سفارت کاری میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیں، اور ان کا نام خاص طور پر 1998ء کے سیاسی و عسکری تناظر میں پاکستان کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔

پٹرول کتنا مہنگا ہے اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں عقل کتنی سستی ہے۔چاہے کچھ بھی ہو جائے ٹائیگر قیدی نمبر 804 کے نعرے لگاتا رہے گا اور نونی آپ کو اورنج لائن، میٹرو بس، ترقیاتی پراجیکٹس اور سڑکوں کی تصویریں دکھاتا رہے گا۔ دراصل اس ملک میں عاقل پیدا نہیں ہوتے بلکہ عقیدت مند پیدا ہوتے ہیں۔سنہ 2022 کے عدم اعتماد سے پہلے پٹرول 150 روپے لیٹر تھا تو نونیوں کو لگتا تھا قیامت آ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی دردناک ٹویٹس کی جاتی تھیں جیسے ابھی ابھی کسی نے غریب کے چولہے سے آخری روٹی اٹھا لی ہو۔ مگر آج وہی پٹرول 414 ہو گیا ہے اور نونی ایسے دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں جیسے سب نارمل ہے۔جو صاحب پہلے مہنگائی پر روز ماتم کیا کرتے تھے آج وہی مہنگائی کنٹرول کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ یعنی جو کل مہنگائی کا مریض تھا آج وہی ڈاکٹر بن کر نسخے لکھ رہا ہے۔تبدیلی والوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے ہوئے مگر جب بے روزگاری بڑھنے لگی تو بے روزگاری کا سروے ہی بند کر دیا گیا۔ گویا مسئلہ حل کرنے کا بہترین طریقہ یہ نکلا کہ آئینہ ہی توڑ دو تاکہ چہرہ صاف نظر نہ آئے۔مہنگائی بڑھی تو علاج معاشی پالیسی نہیں بلکہ جذباتی تقریریں تھیں۔ کبھی سازش، کبھی بارودی سرنگیں، کبھی عالمی حالات۔ فواد چوہدری اور اسد عمر نے عوام کو سمجھایا کہ مسئلہ مہنگائی نہیں آپ کے ذرائع آمدن ہیں وہ بڑھا لیں۔

دونوں سیاسی دھڑوں نے اپنے اپنے حامیوں کو اس حد تک تقسیم کر دیا ہے کہ اب ان کے لیے سچ اور جھوٹ کا معیار بھی پارٹی وابستگی سے طے ہوتا ہے۔ اگر مہنگائی ان کے مخالف کے دور میں ہو تو قیامت ہے اور اگر اپنے دور میں ہو تو مجبوری۔ آج کی حکومت سے پہلے حکومت میں مہنگائی آج کے دور سے کم تھی۔ خان صاحب سے پہلے دور میں ان سے کم۔ نواز شریف صاحب کے دور سے قبل اور کم اور مشرف کا دور مہنگائی کے لحاظ سے کافی بہتر معلوم ہوتا ہے۔ اس سے پیچھے چلتے جائیں آخر کار آپ ڈیڑھ روپے فی لیٹر پٹرول تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن ہر دور میں مہنگائی کا شور کم و بیش یکساں ہی رہا۔ حکومت مخالف سراپا احتجاج ہی رہے اور ہر دور میں ایک عوامی گروہ اپنی حکومت کا دفاع ہی کرتا رہا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں سیاستدانوں سے زیادہ وفادار ان کے اندھے حمایتی ہیں۔

لیڈر کچھ بھی کر لے دلیل ہمیشہ تیار ہوتی ہے۔نعرے تیار ، ہیش ٹیگز تیار، سب تیار ہوتا ہے۔ماضی اچھا اور حال قیامت لگتا ہے۔ مہنگائی ہر حکومت میں بڑھتی ہے مگر دفاع کرنے والے بدل جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ عوام ہیں۔ جب تک عوام پارٹیوں کے بجائے اپنے مفاد کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے تب تک پٹرول بھی مہنگا ہوتا رہے گا اور عقل بھی سستی ہی رہے گی۔تاحال تو یہی ضابطہ حیات ہے “ میرا کتا ٹومی، تیرا کتا کتا۔”

ایک قوم جو اپنے مستقبل کا تعین کرنے والے سوالات سے اب بھی گریزاں ہےرانا تصدق حسیناسلام آباد: کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتے نہیں۔یہ دہائیوں تک زندہ رہتے ہیں، مختلف صورتوں میں ابھرتے ہیں، ہر بحران کے ساتھ مزید واضح اور ہر گزرتے سال کے ساتھ زیادہ ناگزیر ہوتے جاتے ہیں۔پاکستان آج بھی ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام ہی مسئلہ نہیں بلکہ وہ بنیادی سوالات بھی ہیں جو برسوں سے موجود ہیں مگر جن کے جوابات آج تک اخلاص، وضاحت اور عملی اقدامات کے ساتھ نہیں دیے گئے۔پاکستان کی سفارتی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو ان کے ایک قریبی ہم منصب وین جیا باؤ نے ایک ایسا سوال کیا جو رسمی سفارت کاری سے کہیں آگے تھا۔کیا پاکستان اپنی آئینی ذمہ داریاں خصوصاً دور دراز اور نظر انداز شدہ علاقوں کے عوام کے لیے مؤثر طریقے سے پوری کر رہا ہے؟کیا تعلیم، صحت، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ واقعی عام شہری تک پہنچ رہا ہے؟ملک کا کتنا حصہ عملاً ریاست کی عملی رسائی سے باہر ہے؟اور تیزی سے بڑھتی آبادی میں کتنے شہری خود کو واقعی نظامِ حکومت میں نمائندہ، محفوظ اور شریک محسوس کرتے ہیں؟چینی نقطۂ نظر ایک ایسے اصول کی عکاسی کرتا تھا جس نے ان کی قومی ترقی کی بنیاد رکھی۔ایک ریاست صرف اداروں سے نہیں بنتی بلکہ اجتماعی ذمہ داری سے تشکیل پاتی ہے، جہاں ریاست خدمات فراہم کرتی ہے اور شہری اس میں حصہ ڈالتا ہے۔ان کی ترقی اتفاقی نہیں تھی بلکہ منظم، مربوط اور شمولیتی تھی۔تاہم اس سوال کا کوئی بامعنی جواب کبھی سامنے نہ آ سکا۔ایک اور اہم لمحہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت کے عروج میں سامنے آیا۔مرکزی اختیار کے اس دور میں جب اقتدار پر سوال اٹھانا ایک جرات مندانہ عمل تھا، جامعہ بنوریہ کراچی کے ایک طالب علم نے براہِ راست اس وقت کے حکمران کے سامنے تاریخ سے جڑے ہوئے، گہرے اور بنیادی سوالات اٹھائے۔یہ سوالات نظریاتی نہیں تھے۔یہ عملی زمینی حقائق تھے گورننس کی ناکامی، انصاف میں عدم مساوات، احتساب کی کمی، اور آئینی وعدوں اور عملی نفاذ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج۔سال گزر گئے۔یہ سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔اور آج پاکستان ان سوالات کے جواب نہ دینے کے نتائج بھگت رہا ہے۔معاشی صورتحال مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔مہنگائی قوتِ خرید کو مسلسل کم کر رہی ہے، تنخواہ دار طبقہ اپنی عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنے میں دشواری کا شکار ہے، توانائی کے اخراجات غیر مستحکم ہیں اور قومی قرضے ملکی فیصلوں کو محدود کر رہے ہیں۔ادارے اسٹریٹجک کے بجائے ردعمل دینے والے نظر آتے ہیں اور عوامی اعتماد کمزور ہوا ہے۔تاہم گورننس کے مسائل سے آگے ایک گہرا مسئلہ موجود ہےایک اجتماعی ذہنیت جو وقت کے ساتھ اجتماعی ذمہ داری سے بے اعتنائی کو معمول بنا چکی ہے۔تاریخی مثالیں اس کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔1970 کی دہائی میں اسلام آباد کے لال کوارٹرز کے رہائشی مفت گیس کی وجہ سے چولہے مسلسل جلتے رہنے دیتے تھے۔رحیم یار خان کی اینگرو کالونی میں، جہاں بجلی مفت تھی، گھروں میں غیر موجودگی کے باوجود دنوں تک آلات چلتے رہتے تھے۔یہ ضرورت نہیں بلکہ رویہ تھا۔اس کے برعکس عالمی مثالیں ایک مختلف شہری شعور کو ظاہر کرتی ہیں۔جرمنی میں کھانے کے ضیاع کو سماجی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔چین میں معمولی سی احتیاط بھی، جیسے غیر ضروری طور پر زیادہ پکے پھل نہ لینا، قومی ذمہ داری اور معاشی شعور کی علامت ہے۔یہ مثالیں ایک بنیادی حقیقت واضح کرتی ہیں۔قومیں وسائل کی فراوانی سے نہیں بلکہ ذمہ داری سے پہچانی جاتی ہیں۔یہ حقیقت ایران کے تناظر میں مزید واضح ہو جاتی ہے۔طویل عرصے کی پابندیوں، بیرونی دباؤ اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے باوجود ایران نے بنیادی خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔تعلیمی ادارے کھلے رہتے ہیں،

سرکاری دفاتر کام کرتے ہیں اور روزمرہ نظام اچانک تعطل کا شکار نہیں ہوتا۔حکومتی سطح پر عوامی نقل و حرکت اور معمولات میں بلاوجہ رکاوٹیں معمول نہیں بنائی جاتیں۔پاکستان میں تاہم تاثر مختلف ہوتا جا رہا ہے۔بڑھتی ہوئی رائے یہ ہے کہ حکمرانی عوامی حقیقت سے کٹ چکی ہے۔فیصلے شمولیت کے بجائے مسلط کیے جاتے ہیں۔استحقاق بڑھ رہا ہے جبکہ احتساب کمزور ہو رہا ہے۔اور عوامی مشکلات کا ذکر تو ہوتا ہے مگر ان کا حل نظر نہیں آتا۔یہ تاثر چاہے مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو، خطرناک ضرور ہے کیونکہ حکمرانی کا انحصار صرف اختیار پر نہیں بلکہ اعتماد اور جواز پر بھی ہوتا ہے۔اور آج یہ اعتماد دباؤ میں ہے۔عام شہری بڑھتی ہوئی مہنگائی، محدود ریلیف اور سکڑتی ہوئی معاشی گنجائش کا سامنا کر رہا ہے۔روزمرہ زندگی میں خلل بڑھ رہا ہے جبکہ عدم مساوات واضح ہو رہی ہے۔ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ اب نظریاتی نہیں بلکہ عملی ہو چکا ہے۔اور اس کے نیچے ایک بڑھتی ہوئی اجتماعی بے چینی موجود ہے۔پاکستان کا مسئلہ صرف معاشی یا انتظامی نہیں رہا۔یہ ایک نظامی اور گہرا ساختی مسئلہ ہے۔یہ ایک ایسا چکر ہے جہاں سوالات اٹھتے ہیں مگر جواب نہیں ملتے، وعدے کیے جاتے ہیں مگر پورے نہیں ہوتے، وسائل مختص ہوتے ہیں مگر محفوظ نہیں رہتے، اور اختیار استعمال ہوتا ہے مگر مسلسل احتساب کے بغیر۔نتیجہ یہ ہے کہ ایک قوم امکانات اور جمود کے درمیان معلق ہو کر رہ گئی ہے۔تاہم یہی لمحہ ایک انتخاب بھی فراہم کرتا ہے۔ایسا انتخاب جو مشکل سچائیوں کا سامنا کرے نہ کہ ان سے فرار اختیار کرے۔ایسا انتخاب جو وقتی سہولت کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کو ترجیح دے۔ایسا انتخاب جو شفافیت، انصاف اور عملی اصلاحات کے ذریعے اعتماد کی بحالی کرے۔اور ایسا انتخاب جس میں شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو بھی شامل کریں۔

صدارتی ھاوس میں بڑی بیٹھک کے بعد جھنڈے اتر گئے

صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات۔ ملاقات میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزیرِداخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیرِقانون اعظم نذیر تارڑ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم بھی موجود تھے۔ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال، افغانستان سے متعلق امور اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال۔ ملاقات میں معرکۂ حق کے شہداء اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین، قومی دفاع پر غیر متزلزل عزم کا اعادہ

۔صدرِ مملکت نے کہا کہ مشکل جغرافیائی و علاقائی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی چین متاثر ہونے کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔صدرِ مملکت نے مہنگائی کے دباؤ میں کمی، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے ممکنہ اقدامات کی ہدایت کی۔۔۔۔۔

ایف بی آر ان ایکشن تہذیب بیکری سیل۔۔راولپنڈی میں قتل پٹھانوں نےلڑکے کو موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر گھسیٹ کر قتل کردیا۔۔۔۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کا دشمن کو اشعار کی زبان میں دو ٹوک موقف۔۔افغانستان کسی پراکسی کا حصہ نہ بنے بھارت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ھے۔مئی 2025 کی لڑائی کے بعد انڈیا نے امریکی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی تھی: فیلڈ مارشل عاصم منیر۔ے پاکستان ناقابل تسخیر ھے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دبنگ قوم سے خطاب۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وفاقی دارالحکومت کے تجارتی مرکز بلیو ایریا میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر کی معروف تہذیب بیکری کو مبینہ طور پر سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی اور غیر دستاویزی لین دین کے خلاف جاری ملک گیر کریک ڈاؤن کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق، ایف بی آر حکام نے بیکری کے آؤٹ لیٹ کا معائنہ کیا جہاں غیر تصدیق شدہ رسیدیں اور ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم میں خامیاں پائی گئیں۔ اس چھاپہ مار کارروائی کا بنیادی مقصد کھانے پینے کے شعبے میں مالی شفافیت کو یقینی بنانا اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ڈیجیٹل نظام کو مستحکم کرنا ہے۔اسلام آباد کے بڑے تجارتی مراکز میں اس حالیہ سختی نے کاروباری حلقوں اور شہریوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ضابطہ جاتی اقدامات میں مزید تیزی لا رہی ہے تاکہ معاشی نظام میں بہتری لائی جا سکے۔

سوشل میڈیا اور خفیہ ایجنسیاں ۔ اظہر سید سوشل میڈیا نے سارے پرانے نظریئے تبدیل کر دئے ہیں ۔خفیہ ایجنسیوں کو اب اپنے جاسوس دشمن ملک بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی ۔ضرورت مند کو ڈھونڈنا بھی مشکل نہیں رہا ۔ٹک ٹاک،ٹویٹر،فیس بک ،لنکڈن کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ضرورت مند تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ضرورت مند کو پیسے بھیجنے کے ایک ہزار طریقے ہیں۔وہ اپنے فون سے کسی بھی پل، عمارت،حساس تنصیبات کی تصویر کھینچ کر چند لمحوں میں پیسے بھیجنے والے کو بھیج سکتا ہے ۔ضرورت مند کو کہیں بھی کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ٹارگٹ کلر بنائے جا سکتے ہیں ۔حساس معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔بھارتی اگر مقامی لوگوں کو استعمال کر کے سابق مجاہدین کو مروا سکتے ہیں یہی کام پاکستانی بھی زیادہ بہتر طریقے سے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔اسرائیلیوں نے ایرانی اور افغان مہاجرین کو استعمال کیا ایرانی کے فوجی اور سیاسی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ۔سائنسدان گھروں ،دفتروں اور سڑکوں پر قتل کروا دئے ۔روحانی قائد کو قتل ہی نہیں کروایا اسی لمحے مردہ جسم کی تصویر بھی حاصل کر لی ۔ضرورت مندوں ،کم نسلوں کو پیسوں کا لالچ دے کر ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل پراپیگنڈہ کروایا جا سکتا ہے ۔پراپیگنڈہ والے وی لاگ کرو ،سائبر سیلوں میں بیٹھے زمہ دار گھنٹوں یہ وی لاگ دیکھیں گے ۔ڈالر بنتے جائیں گے ۔گھٹیا یو ٹیوبر کو اسی طریقے سے سلیبرٹی بنا کر سماجی ڈھانچہ کی دیواریں توڑی جا سکتی ہیں ۔کمزور کی جا سکتی ہیں ۔سوشل میڈیا کے جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ سے کسی زناکار کو مسیحا اور لیڈر بنایا جا سکتا ہے ۔عوام میں تقسیم پیدا کی جا سکتی ہے ۔

قومی اور لسانی نفرتوں کی آگ بھڑکائی جا سکتی ہے ۔فرقہ ورانہ نفرت پھیلائی جا سکتی ہے ۔ہر شخص کے ہاتھ میں فون ہے ۔اس فون کے زریعے ہر شخص کو کوئی مخصوص سوچ مسلسل دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنا زہن تبدیل کر لے ۔بہت جلد روایتی ہتھیاروں کی جگہ چھوٹے چھوٹے ہتھیار جنگوں کے روایتی تصورات بھی پاش پاش کر دیں گے ۔آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پر آسکتا نہیں۔

راولپنڈی کے علاقے چکری روڈ، پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا سانحہ ہے۔سترہ سالہ سید زین شاہ ایک معصوم، محنتی اور بااخلاق نوجوان تھا جس کا تعلق ایک شریف سادات گھرانے سے تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر ملازمت کرکے اپنے بوڑھے والدین کا سہارا بنا ہوا تھا۔ جس علاقے میں زین پیدا ہوا اور اس نے سترہ سال گزارے، وہاں کا کوئی ایک فرد بھی یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ وہ جھگڑالو، بدتمیز یا شرپسند تھا۔

یہاں تک کہ اس کے والد نے بھی کبھی کسی کے ساتھ اونچی آواز میں بات نہیں کی۔اطلاعات کے مطابق محض 1300 روپے کے معمولی لین دین کے تنازعے کے بعد سراج محسود نامی شخص اپنے بھائیوں، متعدد افراد اور خواتین کے ہمراہ زین شاہ کے گھر پر حملہ آور ہوا۔ ایف آئی آر کے مطابق پہلے تلخ کلامی ہوئی اور بعد میں معاملہ ختم کر دیا گیا، مگر اس کے باوجود دوبارہ “گلہ” کرنے کے نام پر زین کے گھر جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق وہاں پہنچتے ہی دوبارہ جھگڑا شروع کیا گیا، جس دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا۔اس کے بعد مشتعل افراد نے زین شاہ کے گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ زین شاہ کو زبردستی گھر سے اٹھا کر لے جایا گیا۔ ذرائع اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق زین شاہ پر کئی گھنٹوں تک انسانیت سوز تشدد کیا گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے جسم پر بدترین تشدد کے نشانات سامنے آئے۔ گلے اور بازوؤں پر بلیڈ کے زخم، ٹوٹی ہوئی انگلیاں، جسم کو جلانے کے نشانات، رسیوں سے باندھ کر گھسیٹنے جیسے دل دہلا دینے والے شواہد اس ظلم کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ بعد ازاں مبینہ طور پر اس کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے گھر کے باہر پھینک دیا گیا۔اگر کسی قسم کا تنازع یا جرم موجود بھی تھا تو اس کا فیصلہ صرف اور صرف قانون کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر جتھوں کی صورت میں حملہ کرے، اغواء، تشدد اور قتل جیسے غیر انسانی اقدامات کرے۔

ایسے واقعات کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض عناصر اس واقعے کو لسانیت اور قومیت کا رنگ دے کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پنجابی اور پٹھان کے نام پر نفرت پھیلانا، جرگوں اور احتجاج کے ذریعے ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنا اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جرم کا تعلق صرف مجرم سے ہوتا ہے، کسی قوم، زبان یا قبیلے سے نہیں۔اگر کسی کے اہلِ خانہ زیرِ حراست ہیں تو اس کا قانونی راستہ موجود ہے، مگر اصل ترجیح قاتلوں کو گرفتار کرکے قانون کے سامنے پیش کرنا ہونی چاہیے۔ اگر کوئی منشیات فروش، سمگلر، چور، ڈاکو یا دہشت گرد قانون کی گرفت میں آتا ہے تو اسے لسانی یا قبائلی رنگ دینا ریاستی اداروں اور قانون کی عملداری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

ہمیں اپنے اداروں، پنجاب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اس دلخراش واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے تمام ملوث عناصر کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ اگر ایسے سفاک عناصر کے خلاف بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں مزید معصوم جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ہم حکومتِ پنجاب، حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ سید زین شاہ کے اہلِ خانہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور اس انسانیت سوز واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ

دھمیال کے واقعے میں تین ظلم ہوئے،پہلا ظلم پنجابی نوجوان کی جانب سے محسود جوان کا قتل، یہ ظلم عملا اس وقت ختم ہوگیا جب مقتولین کے ورثاء نے جوابا اسے قتل کردیا،دوسرا ظلم، اس پنجابی کی لاش کو موٹر سائیکل سے باندھ کر گھسیٹا جانا،تیسرا ظلم محسود نوجوان کی لاش اسے ورثاء کے حوالے نہ کرنا، اور اسکے ان عزیزوں کی خواتین کو گرفتار کرنا جنہوں نے پنجابی جوان کو قتل کیا اور اسکی لاش کی بیحرمتی کی،تیسرے ظلم کے خلاف محسود قبیلے نے دیگر پختونوں اور غیر قانونی افغانیوں کو اکٹھا کرکے آج جرگہ کیا ہے، اور اس جرگے کیں 400 کلومیٹر دور سے بھی شرکاء شریک ہوئے ہیں، بلکہ شاید ان علاقوں سے منتخب ایک دو ایم این اے، اور ایم پی ایز بھی اور انکے اعلامیے میں بھی جرم نمبر 2 کا کوئی ذکر نہیں ہے کے کیسے انکی قوم کے افراد نے ایک شخص کو قانون سے بالاتر ہوکر قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو سڑکوں پر گھسیٹا یہ عمل قانونی، اخلاقی، شرعی تینوں اطوار سے بدترین ظلم تھا، اور ہم جرگے کے ارکان پاکستانی ریاست یا پولیس کی بھرپور مدد کریں گے اس ظلم کو انجام دینے والے لوگوں کو پکڑنے میں، ہم خود بھی انکو پناہ نہیں دیں گے، اور اگر وہ آبائی علاقوں میں کا چھپے پیں تو وہاں سے انکو خود پکڑ کر لاکر پولیس کے حوالے کریں گے، خیر وہ ایسا کہتے بھی کیوں کے انکا جرگہ انکی قوم کے لیے تھا ہمارے لیے نہیں،جبکہ ہم پورے پنجاب کے پنجابی بالخصوص راولپنڈی کے مقامی حضرات اور ان میں بھی بالخصوص دھمیال وغیرہ کے مقامی راجے، مقامی سیاستدان، ایم این اے، ایم پی ایز اس قدر بغیرت واقعہ ہوئے ہیں،کے کوئی ایک احتجاج نہیں ہوا،کوئی ایک پریس کانفرنس نہیں ہوئی،کوئی ایک منتخب نمائندہ نہیں بڑھا یہ کہنے کو،کے یہ ہمارا علاقہ ہے،

یہ ہمارا کھلا دل تھا کے ہم نے اپنے پاکستانی مسلمان بھائیوں کو جو اپنے علاقے میں موجود سورش و بدامنی کی وجہ سے روزگار اور اپنی مائوں بہنوں کی عزت کی رکھوالی کے لیے پنجاب آئے، انہیں کھلے دل سے ویلکم کیا، انہیں کام کاروبار کی مکمل آزادی دی، انکی رسم و رواج کی عزت کی،اسکے باوجود انہوں نے جو ایک مقامی ہمارے ہم زبان بھائی کو قانون سے بالاتر ہوکر پہلے قتل کیا، پھر اسکی لاش کی بیحرمتی کی اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا، اور پولیس سے مطالبہ کیا جائے کے جو جو فرد ان قاتلوں کے پیچھے کھڑا ہے ان سب کے خلاف بھی کاروائی کی جائے، اور یقینی بنایا جائے کے ان قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے قانون کے مطابق فی الفور پھانسی کی سزا دی جائے …!!خیر کوئی شک نہیں، پنجابی اس معاملے میں ہیں ہی بغیرت…!!اور کوئی مسئلہ نہیں انتظار کریں، کے کب راولپنڈی میں بھی محسود قبیلے کے آبائی علاقے کی طرح حالات ہوجائیں گے،کے مخالف قبیلے/گائوں کا جانور ہمارے کھیت میں کیوں چرنے آیا، اس بات پر لڑائی شروع ہوگی اور پورا قبیلہ ہزاروں افراد پر مشتمل لشکر بنا کر راکٹ لانچرز جیسے ہتھیار لیکر دقسرے قبیلے/گائوں پر حملہ

پارلیمنٹ کے اراکین کے لئے نئی رہائشی سکیم تیار کی جا رہی ہے جس میں 104 فیملی سوٹس کے لئے 500 ائیر کنڈیشنرز اور لابیوں میں وی آر ایف سسٹم نصب کرنے کے لئے ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں

پارلیمنٹ کے اراکین کے لئے نئی رہائشی سکیم تیار کی جا رہی ہے جس میں 104 فیملی سوٹس کے لئے 500 ائیر کنڈیشنرز اور لابیوں میں وی آر ایف سسٹم نصب کرنے کے لئے ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے پر ایک ارب نو کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اس سکیم میں 500 خدمت گاروں کے لئے کوارٹرز اور چار بلاکس پر مشتمل رہائشی اپارٹمنٹس ہوں گے۔ سی بلاک میں شاپس، جم، سوئمنگ پول وغیرہ ہوں گے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے 30 جون کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔۔

راولپنڈی کے عوام اور وکلا برادری کے لیے بڑی خوشخبری۔کچہری چوک راولپنڈی کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے اتوار کے روز کھول دیا جائے گا۔

راولپنڈی کے عوام اور وکلا برادری کے لیے بڑی خوشخبری۔کچہری چوک راولپنڈی کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے اتوار کے روز کھول دیا جائے گا۔اس میگا منصوبے پر 20 ارب روپے سے زیادہ لاگت آئی۔ اس میں دو فلائی اوورز، تین انڈر پاسز اور دو آہنی پل شامل ہیں، جبکہ حیران کن طور پر یہ منصوبہ صرف 187 دنوں میں مکمل کیا گیا۔مزید یہ کہ کچہری چوک کا نام اب “معرکہ حق سکوائر” رکھ دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz Sharif اتوار کے روز اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کریں گی، جس کے بعد ٹریفک کے لیے اسے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا. Afzal Butt Afzal Butt

‏پاکستان کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی جرات، قوم کی عسکری تاریخ کا روشن باب بن چکی ہے!! پاکستان فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف ایئر وائس مارشل طارق غازی نے جمعرات کو کہا ہے کہ مئی میں انڈیا سے ہونے والی جنگ آخری نہیں تھی اور وہ ’مستقبل کی جنگوں‘ کی تیاری کر رہے ہیں۔پاک فضائیہ ھر طرح کی جنگ کے لیے تیار ہیں دنیا سن لے ڈپٹی ائیر چیف طارق غازی۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا دورۂ پاکستان، ون ڈے سیریز کیلئے 23 مئی کو اسلام آباد پہنچے گی۔۔۔عباس عراقچی کا دورہ روس، جنگ کا رُخ تبدیلپیوٹن کا پیغام، امریکہ میں۔۔ مڈل ایسٹ: متحدہ عرب امارات نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔۔ تھران کا میزائل سسٹم فعال ، تھران کے میزائل ۔۔سھیل ظفر چٹھہ کا پھلے پٹواری پٹواری پر ھاتھ۔۔ائئنی عدالت کا بڑا فیصلہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نے ایک فوجی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی حملے کے بعد ایران کی فوج نے “دشمن یونٹس” پر میزائل داغے۔ فوجی عہدیدار کے مطابق ان “دشمن یونٹس” کو نقصان پہنچا اور وہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

بھارت بنے گا پاکستان ۔ اظہر سید پاکستان تو بدل گیا ہے لیکن بھارتی پاکستان کے راستے پر چل نکلے ہیں ۔بنگال اور کیرالہ کے صوبائی اسمبلی کے نتایج اس بات کی واضح دلیل ہیں جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ کے جس مکروہ نظام سے ایک زناکار پلے بوائے کو پاکستان میں مسیحا بنایا گیا

اسی جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ پر مشتمل مسلمان دشمنی کے پراپیگنڈہ سے بی جے پی بنگال میں کامیاب ہو گئی ہے ۔کیرالہ میں پانچ دہائیوں سے کامیاب ہونے والی کیمونسٹ پارٹی شکست کھا گئی ہے ۔بھارت جتنا بڑا ملک ہے ۔جتنی متنوع ابادی بھارت کی ہے صرف سیکولرازم ہی اس کی بقا کی ضمانت بن سکتا ہے ۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سیکولرازم کی بجائے ہندوازم کی بھینٹ چڑھ گئی ہے اور اس کی کوکھ سے صرف انتشار پیدا ہو گا اور بس ۔پاکستان میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مالکان نے کھل کر مذہب کا استعمال کیا ۔ریاست پر گرفت قائم رکھنے کیلئے عدلیہ اور میڈیا میں دلالی کی صنعت کو فروغ دیا ۔ نچلے طبقہ کے کم نسل لوگوں کو اعلی عہدے اور اختیارات دے کر اپنی منشا کے نتایج حاصل کئے

۔اس پالیسی کی انتہا مرشد کی صورت میں سامنے آئی تو مالکوں کو ہوش آیا ادارے تباہ ہو جائیں ،عوام کا ریاست پر اعتماد ختم ہو جائے، ملک ٹوٹ جاتے ہیں ۔پاکستان نے زناکار مرشد کے تجربہ کے بعد واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے ۔اس کے نتایج بھی سامنے آنے لگے ہیں لیکن بھارتی پاکستان کے راستے پر چل نکلے ہیں

۔ملا ملٹری اتحاد جو کبھی پاکستان کے انتشار کا باعث بنا تھا بالکل وہی اتحاد بھارتی فوج اور انتہا پسند ہندوؤں کی جماعت میں نظر آرہا ہے ۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سب سے بڑی سیکولر فوج کا سربراہ حلف سنبھالنے کے بعد مندر میں اظہار تشکر کیلئے جاتا ہے ،اس سے پہلے بھارتی فوج کے کسی سربراہ نے فوج کا سیکولر تشخص مجروح نہیں ہونے دیا تھا ۔ففتھ جنریشن وار کا جو چن جنرل باجوہ نے چڑھایا تھا وہی چن اب بھارتی ہندوانہ جمہوریت چڑھا رہی ہے ۔اپریشن سیندور میں جس طرح جھوٹ کا طومار باندھا گیا جنرل باجوہ کے حواری پیچھے رہ گئے ہیں ۔بھارتی عدلیہ بھی انتہا پسند ہندوؤں کی عدلیہ بنتی جا رہی ہے اور اسکی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب بی جے پی کے ایجنڈے پر چلنے والے چیف جسٹس کو ریٹارمنٹ کے بعد بھارتی راجیہ سبھا کی

ممبر شپ کا تحفہ دیا گیا۔بھارت میں مسلمان ایک بہت بڑی حقیقت ہیں ۔انکے خلاف پراپیگنڈہ کی بنیاد پر الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے میں پاکستان کے حوالہ سے شر نہیں خیر ہی خیر ہے ۔بھارتی معاشرہ انتشار کا شکار ہو گا ۔ممتا بنیر جی پندرہ سال بعد ہاری ہیں ۔بے جی پی نے بنگال کا مورچہ مسلمان نفرت کی بنیاد پر جیتا ہے ۔کیرالہ میں بھلے بی جے پی کامیاب نہیں ہوئی لیکن وہاں کیمونسٹ پارٹی کے خلاف کئے گئے مسلسل پراپیگنڈہ نے اسے شکست سے دو چار کر دیا ۔دنیا جس تیز رفتاری سے تبدیل ہو رہی ہے بھارتی معاشرہ میں انتشار پاکستان کے حوالہ سے خوش کن ہے ۔

قانونی پیچیدگی کی ڈرامے بازیاں آج سوشل میڈیا پہ پبلک نیوز چینل کی ایک ویڈیو دیکھی ۔ جس میں ایک پولیس آفیسر شاید ایس ایس پی ٹریفک ، محکمہ ایسائیز پنجاب کے آفیسر اور مذکورہ چینل کےنمائیندے ایک گاڑی کو روکتے ہیں ۔ اور ان سے گاڑی کے نمبر کے بارے می ںسوال کیاجاتا ہے ۔ گاڑی میں موجود شخص نےبتایا کہ میری وائف گاڑی میں علیل ہیں جن کو ایمرجنسی میں فلاں ہسپتال لے کر جا رہا ہوں ۔ اور یہ گاڑی کراچی سے رجسٹرڈ ہے ۔ پولیس آفیسر نے کہا چونکہ خاتون کی علالت کامعاملہ ہے اس لیۓ آپ کو جانے کی اجازت ہے ۔ ورنہ قانونی طور پر آپ پاکستان میں ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ میں بغیر اجازت کے داخل ہوئے ہیں تو آپ کے خلاف قانونی کاروائی بنتی ہے ۔ خیر آپ جلدی ہسپتال جائیں ۔ مذکوہ شخص کےجانے کے بعد صحافی نے پوچھا کہ جناب اب آپ ہمارے ناظریں کو اس قانون کے بارے میں بتائیں۔ جس پر پولیس آفیسر صاحب نے فرمایا ۔ چونکہ صوبہ سندھ کی گاڑی کراچی سے رجسٹرڈ ہے ۔ اور اس گاڑی نے ٹیکس اس صوبے کی حکومت کو دیا ہے ۔ تو اس گاڑی کو پنجاب کے روڈ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

۔ اگر ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ میں گاڑی جائے گی تو وہ ایکسائیز ڈیپارٹمنٹ سے ایک لیٹر لے گی ۔ اور فیس ادا کرنے کے بعد روڈ پہ آسکتی ہے ۔ جس کا مطلب مجھے یہ سمجھ آیا کہ کراچی سے پنجاب کے کسی چھوٹے شہر تلہ گنگ یا حضرو جانے والا فرد پہلے لاہور ، راولپنڈی یا کسی بڑے شہر میں جا کر محکمہ ایسائیز کا دفتر تلاش کرے۔ اور دفتری اوقات کے بعد پہنچنے پر کسی ہوٹل میں پانچ افراد کی رہائش ، دو وقت کے کھانے پینے کا بندوبست کرے

۔ اگلے دن دفتر کھلنے ، صاحب بہادر کی آمد کا انتظار کرے، اور پھرلیٹرجاری ہونے اور اس کے پراسس کا انتظارکرے پھر گاؤں جاکر اپنی والدہ سے ملاقات کرے اور پھر لاہور آ کر بتائے کہ سر اب میں واپس جا رہا ہوں ۔ مجھے کراچی جانے کا اجازت نامہ دے دیں ۔ اب محترم ایس ایس پی ٹریفک صاحب کے دوسرے نقطہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ محترم نے فرمایا کہ چونکہ کراچی یا کسی اورشہر سے آنے والی گاڑی ٹیکس تو اپنے شہر کو دیتی ہے اور روڈ پنجاب کے خراب کرتی ہے ۔ اس لئے روڈ ٹیس ادا کرنے کا اجازت نامہ ضروری ہے ۔۔ جناب ادب سے گزارش ہے کہ پنجاب میں داخل ہونے سے قبل گاڑی چھتیس ٹول پلازہ سے ہزاروں روپے کا ٹول ادا کرتی پنجاب میں داخل ہوتی ہے ۔ جہاں سرکار نے ہر چالیس پچاس کلومیٹر پر ٹول پلازہ بنا رکھاہے ۔ اگر وہ ٹول ٹیکس روڈ پہ چلنے کا نہیں ہے تو وہ پیسے کس مد میں لئے جاتے ہیں ؟ صحافی صاحب بھی ماشاء اللہ بڑے صحافی تھے ۔ او بھئی پوچھو ایس ایس پی صاحب سے سر جی ہر ٹول پلازہ پہ کس مرض کی دوا کے پیسے لئے جاتے ہیں ؟ چلیں مان لیا یہ قانون لاگو ہے اور کسی وجہ سے درست بھی ہے ۔ تو کیا کراچی سے چلنے والی آٹھ دس ہزار بسیں اور پچاس ہزار ٹرک کراچی پورٹ سے روزانہ کی بنیاد پر تین صوبوں کو جاتے ہیں وہ روزانہ یا ماہانہ محکمہ ایسائیز سے اجازت نامہ لیتے ہیں؟؟؟ ۔ یا یہ قانون کار والوں کے لئے ہے ۔؟ خیر مجھے اس قانونی شک کا بالکل اندازہ نہیں ۔ اگر کسی دوست کو معلوم ہو تو راہنمائی فرمائیں ۔ ہم تو سنتے تھے یورپ کے ایک ویزہ پہ آپ اپنی گاڑی پہ ہر ملک کا روڈ خراب کر سکتے ہیں ۔۔۔ شاہدداؤد ملک

‏ڈی جی اینٹی کر۔پشن سہیل ظفر چٹھہ کا تازہ ترین کھڑاک ۔۔۔‏ ایک طاقتور پٹواری پر ہاتھ ڈال دیا ۔۔۔۔ ‏اس پٹواری کے کالے کرتوت آپ کو حیران کر دیں گے ۔۔ راولپنڈی کے معروف صحافی راجہ لیاقت کی ایک رپورٹ کے مطابق مری کے ممتاز پٹواری کا شمار مری اور راولپنڈی کی معروف بااثر شخصیات میں ہوتا ہے ، ممتاز پٹواری کھلا کھاتا ہے اور کھلا لگاتا ہے ۔‏ اندازہ کریں کہ ایک پٹواری جسکی زیادہ سے زیادہ تنخواہ 1 لاکھ روپے ہو سکتی ہے وہ کروڑوں کی گاڑی میں سفر کرتا ہے ۔ اسکے 15 ذاتی ملازم ہیں ۔ مری روڈ پر ایک عالیشان دفتر میں بیٹھتا ہے اور اس جس پلازے میں اسکا دفتر ہے وہاں اسکی بدمعاشی اور غنڈہ گردی سے ہر شخص کی جان جاتی ہے ۔ ‏ممتاز پٹواری نے مری میں زمینوں کے انتقالات میں کئی ہیر پھیر کیے ، اسکے خلاف متعدد پرچے درج ہوئے جو اس نے اپنا اثر اور بابا قائداعظم استعمال کرکے خارج کروا دیے ۔۔۔۔کئی کمزور لوگوں کی اراضیاں اور قیمتی زمینیں اس نے اپنے قلم کی جنبش سے بااثر اور مالدار لوگوں کے نام کردیں جنہوں نے اسے مال کھلایا ۔ ‏اس پٹواری کے ڈسے کئی لوگ گھروں سے بے گھر ہو گئے اور عدالتوں کچہریوں میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں

۔۔۔۔ اپنے مری روڈ والے دفتر کے قریب اس نے ایک غریب دکاندار کو چند روز قبل مارا پیٹا جو کہ پلازے کی سیڑھیوں کے نیچے دکان لگاتا تھا ۔ بے غیرتی کی اس سے بڑی انتہا اور کیا ہو سکتی ہے ۔۔‏اگرچہ مذکورہ پٹواری اس وقت ضمانت قبل از وقت گرفتاری پر ہے ۔ لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ اب ممتاز پٹواری کا معاملہ سہیل ظرف چٹھہ کے پاس ہے اور پٹواری انکے راڈار پر آگیا ہے ، ‏جہلم کے ایک آفیسر نے بے دھڑک ہو کر اور بغیر پریشر قبول کیے ممتاز پٹواری کے خلاف انکوائری مکمل کر لی ہے ۔ 11 مئی کو ممتاز پٹواری کی اینٹی کر۔پشن ہیڈ کے سامنے پیشی ہے۔‏ دیکھنا یہ ہے کہ غنڈہ بدمعاش، بدعنوان، بااثر کر۔پٹ اور مالدار پٹواری قانون کے شکنجے میں آتا ہے یا ماضی کی طرح بچ نکلتا ہے ۔۔۔ ‏لیکن اگر سہیل ظفر چٹھہ کی طرف دیکھا جائے تو ممتاز پٹواری کا ٹھکانہ اب جیل ہی نظر آرہا ہے ۔۔۔

‏بھارت کی فوج سیاست زدہ ہے ترجمان افواج پاکستان ۔۔سنددو تو عورتیں لگاتی ھے آپریشن کا نام تبدیل کر لے فوجی ترجمان کا بھارت کو مفت مشورہ۔۔‏پاکستانی مسلح افواج کی ہر تیاری، ہر کوشش اور ہر صلاحیت کا محور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کا فروغ ہے!! آئی ایس پی آر۔۔افغانستان کے پاس گھڑی ھے تو ھمارے پاس گھڑیال ھے فوجی ترجمان۔۔‏پاکستان کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی جرات، قوم کی عسکری تاریخ کا روشن باب بن چکی ہے!!ترجمان کی پریس کانفرنس کا نچوڑ بادبان نیوز

ابھی میں نے اپنی گاڑی میں ڈیزل ڈلوایا بلاشبہ قیمت کچھ زیادہ ہے مگر اضافی رقم ادا کرتے ہوئے مجھےخوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ موجودہ حالات کےتناظر میں میں کسی نہ کسی صورت اپنے وطنِ عزیز کے کام آ رہا ہوں قوم کے ہر فرد کو بھی اسی طرح جذبہ حب الوطنی اپنانا چاہیے اگر ہم سب مل کر قربانی کا یہ جذبہ برقرار رکھیں تو جلد آسانیاں پیدا ہوں گی۔ حضرت علامہ طاہر اشرفی