All posts by admin
“چین سے ڈرتا ہے، پاکستان سے مار کھائی ہے۔۔۔””جنوبی ایشیا میں بھارت کو تنہا کرنے والہ ھمارا فیلڈ مارشل.لبیک اللھم لبیک منیٰ میں دنیا کی سب سےبڑی خیمہ بستی ارمی چیف نے 2 سال 6 ماہ کی انتھک کوششوں سے بھارت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کر دیا. .بابر رضوان آفریدی سنٹرل کنٹریکٹ کی اے کٹیگری سے اوٹ؟؟؟؟صادق آباد میں گردے نکال لئیے گئے.سٹاک ایکسچینج بلند ترین سطح پر.وزار ت بجل میں نا اھل افراد کا ٹولہ..منڈیوں میں مویشی موجود گاھگ غائب. سیکورٹی فورسز کی جانب 14 دھشت گرد ھلاک… تفصیلات بادبان ٹی وی پر

گردے نکال لیےصادق آباد پنجاب میں 25 افراد کو گردوں میں پتھری کے اپریشن کا کہہ کر سب کے گردے نکال لیے گئےمیں اپنی اور اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کر رہا ہوں لیکن جس ملک میں میرے بچے رہتے ہیں اس ملک سے انصاف اٹھا ہے اس لیے برکت اور رحمت بھی روٹتی جا رہی ہے یہاں اناج ہوگا رزق نہیں پیسے ہوں گے خوشحالی نہیں قانون ہوگا انصاف نہیں اج حقیقت میں انکھوں میں نمی اگئی کہ میری یا اس قوم کی نسل کا کیا ہوگا اگے
👈 *یومِ عرفہ کا زندگی بدل دینے والا سبق* 👉۔ایک بھائی نے یہ دل کو چھو لینے والا واقعہ شیئر کیا:بالکل ایک سال پہلے، میرے سپرمارکیٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی، جس نے میری دکان کے تین چوتھائی سے زیادہ مال کو جلا کر راکھ کر دیا۔یہ واقعہ یومِ عرفہ سے صرف دو دن پہلے پیش آیا!آپ تصور کر سکتے ہیں کہ میری حالت کیا تھی — عیدالاضحی قریب تھی، مگر میری دکان، میرا سامان، میرا کاروبار — سب تباہ ہو چکا تھا۔ نہ کوئی عیدی، نہ خوشی، نہ مسرت — صرف غم، پریشانی، اور قرض کا بوجھ۔اس وقت میری شادی کو صرف دو ماہ ہوئے تھے۔ جلا ہوا مال تقریباً 15,000 ڈالر کے برابر تھا۔ میں سوچنے لگا: اب کیا کروں؟ کیسے اس نقصان کی تلافی ہو؟ کیا اپنی نئی نویلی دلہن سے کہوں کہ اپنا سونا بیچ دے؟ یا کسی سے قرض لوں؟ لیکن کس سے؟آخرکار میں نے سوچا کہ دوستوں سے قرض لینا بہتر ہے۔ مگر جب بھی کسی دوست سے بات کی، وہ یہی کہتا، “عید قریب ہے، معاف کرنا — اس وقت مدد نہیں کر سکتا۔”دو دن اسی حالت میں گزر گئے — ذہنی دباؤ اور مایوسی کے ساتھ۔ بمشکل 800 ڈالر جمع کر پایا — جو میرے نقصان کے مقابلے میں ایک قطرہ بھی نہیں تھے۔اس رات میں گھر واپس جا رہا تھا تو ایک پڑوسی ملا، کہنے لگا:“عید مبارک بھائی! کل روزہ نہ بھولنا!”میں نے دل میں سوچا: روزہ؟ اس حال میں؟ مجھے اکیلا چھوڑ دو…میری بیوی نے میرا دل ہلکا کرنے کے لیے کہا کہ تھوڑی دیر چہل قدمی کرتے ہیں۔ ہم باہر نکلے، مگر میرا دل غم سے بوجھل تھا —

میں کسی چیز سے لطف نہیں اٹھا پا رہا تھا۔جب گھر واپس آئے، تو وہ بولی:“چلو سحری کی تیاری کرتے ہیں؛ فجر کا وقت قریب ہے۔”میں نے تلخی سے جواب دیا:“سحری؟ مجھے تو یاد ہی نہیں رہا کہ کل یومِ عرفہ ہے!تم اور میں جیسے دو مختلف دنیاؤں میں جی رہے ہیں۔ کیا سحری؟ کیا عرفہ؟ کیا تمہیں ہماری حالت نظر نہیں آ رہی؟”اس نے نرمی سے کہا:“اللہ نے ہمارے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔ وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ لیکن روزہ ضرور رکھو۔”اس نے اصرار کیا — اور ہم نے نیت کر کے روزہ رکھ لیا۔افطار کے وقت، وہ بولی:“اللہ سے دعا مانگو۔”میں نے کہا:“کس چیز کی دعا؟”کہنے لگی:“جو دل چاہے، مانگو۔”میں نے طنزیہ انداز میں کہا:“کیا مانگوں؟ یہ کہ آسمان سے 15,000 ڈالر آ جائیں؟ کیا یہ ممکن ہے؟”وہ بولی:“جس نے آسمان بنایا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔”وہ چپ چاپ نماز پڑھنے لگی اور دعا میں مشغول ہو گئی۔ میں نے بھی دعا کی، مگر دل میں صرف وہی 15,000 ڈالر گھوم رہے تھے — میں چاہتا تھا سب کچھ واپس مل جائے۔مغرب کے ایک گھنٹے بعد، میرے ایک دوست کا فون آیا:“کافی شاپ آؤ، تم سے ضروری بات کرنی ہے۔”میں گیا، تو اس نے کہا:“میرے ایک جاننے والے نے پیسے جمع کیے ہیں اور وہ کسی کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ تم سے بہتر کوئی نہیں لگا مجھے۔”ہم نے اس شخص کو بلایا — وہ آیا اور کہا:“میرے پاس 30,000 ڈالر ہیں، اور میں کاروبار میں لگانا چاہتا ہوں۔”میں نے کہا:“میری دکان کو 15,000 ڈالر کے مال کی ضرورت ہے۔ کیوں نہ آدھے پیسے مال میں لگاؤ اور آدھے دکان کی تزئین و آرائش میں؟ منافع میں 50/50 کا حصہ ہوگا، جب تک تمہارا اصل سرمایہ پورا واپس نہ ہو جائے۔”ہم نے معاہدہ کر لیا۔ میں نے دکان دوبارہ بنائی، مال خریدا، اور عید کے بعد دکان کھول دی۔ اس دن میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔اوہ! میں بھول گیا —

دکان میں آگ لگنے سے ایک ہفتہ پہلے میری والدہ کو کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ٹیسٹ کروا لیے تھے، اور نتائج عرفہ کے دن آنے تھے۔نتیجے آئے — منفی تھے۔ الحمدللہ، وہ مکمل طور پر صحت مند تھیں!جب امی کو پتہ چلا، تو وہ خوشی سے پورا دن روتی رہیں — اللہ کا شکر ادا کرتی رہیں۔دکان دوبارہ کھل گئی، امی شفا یاب ہو گئیں، اور پھر میری بیوی نے فون کر کے بتایا کہ اس نے حمل کا ٹیسٹ کیا ہے — وہ حاملہ ہے!پھر اُس نے مجھ سے کہا:“اب سمجھ آیا روزہ رکھنے اور عرفہ کے دن دعا مانگنے کی طاقت کیا ہوتی ہے؟”میں نے دل میں کہا:سبحان اللہ!کچھ دن پہلے لگ رہا تھا جیسے پوری دنیا ختم ہو گئی ہے، اور آج صرف ایک مخلص دعا سے سب کچھ پلٹ گیا۔اس دن میں نے اللہ کے سامنے عاجزی کا وہ سبق سیکھا جو کبھی نہیں بھولوں گا۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔کبھی وہ ہمیں آزماتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف رجوع کریں، توبہ کریں۔عید کے بعد کاروبار اچھا چلنے لگا، اور جلد ہی وہ 30,000 ڈالر واپس ہو گئے۔میں وہ پیسے واپس دینے گیا — مگر تب کہانی میں ایک نیا موڑ آیا۔اس شخص نے کہا:“سچ یہ ہے کہ یہ پیسے میرے نہیں تھے۔ کسی شخص نے، جس کی بیوی کینسر سے صحت یاب ہوئی تھی، اللہ کی رضا کے لیے یہ تمہیں دلوائے۔ وہ تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا — گمنام رہ کر۔”“یہ پیسے تمہارے ہیں — کوئی واپس نہیں مانگے گا۔”اللہ کی قسم، میں گھر آ کر کمرے میں بند ہو گیا — اور ایک گھنٹہ بچوں کی طرح رویا۔اللہ کی رحمت اور عنایت پر — جو میں نے محسوس کی۔اب بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے، آنکھوں سے صرف آنسو نہیں — خون کے آنسو نکلتے ہیں — کہ میں نے رب سے دوری میں وقت گزارا، جب کہ وہ تو ہمیشہ قریب تھا۔اسی تجربہ نے مجھے یومِ عرفہ، روزہ، دعا، اور اللہ پر اعتماد کا اصل مطلب سکھایا۔یہ میری زندگی کا نقطۂ آغاز بن گیا — میں نے توبہ کی اور دین سے جُڑ گیا۔سبق:> “اللہ کبھی کبھی دینے کے لیئے روکتا ہے، اور روکنے کے لیئے دیتا ہے — یہی اُس کی حکمت ہے۔”یہ ذوالحجہ کے پہلے دس بابرکت دن ہیں، ہم دعا، توبہ، اور ذکر میں محنت کریں — اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کو نہ بھولیں۔> رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:*”جو کسی کو نیکی کی طرف رہنمائی کرے، اُسے بھی وہی اجر ملے گا جو نیکی کرنے والے کو ملتا ہے۔”*(مسلم)اس لیئے اس واقعے کو ضرور دوسروں سے شیئر کریں۔کیا پتہ آپ کی زندگی ختم ہو جائے — اور آپ کے اعمال نامے میں یہ نیکی کی دعوت باقی رہ جائے۔
ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا مبینہ قاتل رینٹ پر فارچونر گاڑی لے کر فیصل آباد سے اسلام آباد آیا، خود کو لینڈ لارڈ کا بیٹا بتاتا، گاڑی کا رینٹ بھی ادا نہیں کیا۔ ثنا کی سالگرہ پر کیک اور تحائف لے کر جی 13 پہنچا تو ثنا نے ملنے سے انکار کر دیا، ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ نہ ملنے کا رنج تھا۔!!یہ کوئی غیرت کی بنا پر قتل نہیں۔ بلکہ بے غیرتی ہے۔ جہالت ہے، ایک انسان کی جان کی قدروقیمت نہیں؟ اسے تو نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔
منی میں پاکستانی حجاج رل گئے کتنے سرکاری مفت حجاج وفاقی وزیر کے ھمراہ اور سعودی حکومت کی طرف سے رشوت میں ھمارے بڑے سیاست دان وزراء اور بیورو کریٹ عوام کے خون کو فروخت کر کے پر تعیش حج میں مصروف ہے تفصیلات پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ بادبان میدان عرفات جانے سے قبل ناظرین کو مفصل رپورٹ پیش کرے گا سرکاری اشتہارات اور حکومتی مراعات سے محفوظ اپنی نشریات 30 جون سے امریکہ سے ان ائیر کرے گا مکمل اشاعت کے30 سال مکمل
منی جانے کے لیے بسیں غائب پاکستانی حاجی دھکم پیل حاجی شھید ڈائریکٹر جنرل سومرو غائب 14 سو مفت کے معاون کھا ھے ’’ہم قرض میں ڈوب چکے ہیں‘‘ – کار میں زہر کھا کر ایک ہی خاندان کے 7 افراد نے خودکشی کرلیآسٹریلیا کرکٹ ٹیم اگلے سال کے شروع میں وائٹ بال سیریز کے لئے پاکستان کا دورہ کرے گی۔ اس کے دادا نے قائد اعظم سے غداری کی اس کے باپ فاروق لغاری سے غداری کی اور یہ شریف خاندان سے غداری کرے گا کل یہ کسی اور جماعت میں ھو گا اس کو پاکستان کی عوام سے کیا یہ تو بجلی کے میٹڑ پر ماہانہ ایک ھزار اور 180 روپے جی ایس ٹی وصول کر رہے ہیں۔بکنگز الیون پنجاب کو انکا راجہ پکشے لے ڈوبا۔ ۔ٹرمپ نے کہا نریندر سرنڈر راھول گاندھی کے مودی پر وار۔مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر کوئی جنوبی ایشیا میں امن نھی ھو سکتا ۔پاکستان ھر طرح کی دھشت گردی کی مذمت کرتا ہے اسلام آباد پولیس نے مجرم گرفتار کر لیا لکین قتل کیوں ھوا پھول نے پھول کو دفنایا۔دشمن سے نہیں، اُس منافق سے ڈروجو بیچ میں میٹھی دوغلی چالیں چلتا ہے۔بادبان ٹی وی الرٹ۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز



وزیراعظم ۔۔۔۔خطاب خیبر پختونخوا کے لیے این ایف سی میں مقرر کردہ ایک فیصد فنڈ دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا، سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستانی عوام کا حق ہے،

—وزیراعظم ۔۔۔۔خطابخیبر پختونخوا کے لیے این ایف سی میں مقرر کردہ ایک فیصد فنڈ دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا، سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستانی عوام کا حق ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا پشاور میں جرگہ سے خطابپشاور۔ 03 جون وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبر پختونخوا کے لیے این ایف سی میں مقرر کردہ ایک فیصد فنڈ دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا، 2010ء سے اس مدد میں خیبرپختونخوا کو 700 ارب روپے سے زیادہ فنڈز دئیے گئے ہیں، 1960 ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستانی عوام کا حق ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو زندگی کا وہ سبق سکھایا جو وہ تاقیامت نہیں بھلائیں گے، اگر ہندوستان نے پھر کوئی حرکت کی تو انہیں پھر سبق سکھائیں گے، خیبرپختونخوا کےغیور عوام نے پاکستان کے دفاع کےلیے قربانیاں دی ہیں، خیبرپختونخوا عظیم صوبہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں منگل کو پشاور میں جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی ،وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور، کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری ،وفاقی و صوبائی وزراء، سینیٹرز، اراکین صوبائی اسمبلی اور قبائلی زعماء بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے لئے بہت عزت کی بات ہے کہ میں اس جرگے میں آپ کے سامنے موجود ہوں، ہم نے زعماء کی باتیں سنیں، وزیراعلی خیبر پختونخوا کی باتیں سنیں، ہم سب آپ کی باتیں سننے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا عظیم صوبہ ہے، میں نے ہمیشہ اپنی تقاریر میں کہا کہ یہ پاکستان کے خوبصورت ترین صوبوں میں ہے جہاں پر برف پوش پہاڑ ہیں، وادیاں اور انتہائی دلیر عوام ہیں، آپ نے 1947ء میں ریفرنڈم میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دے کر ثابت کیا کہ آپ واقعی پاکستان کے بہت بڑے حامی تھے۔ آپ نے پاکستان کا دفاع کیا، خیبر پختونخوا کے ہمارے بے شمار بھائی، بزرگ اور بہنیں شہید ہوئیں، یہ وہ عظیم قربانیاں ہیں جن کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی۔یقیناً جب بھی پاکستان کی بات آئی، آپ نے تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کرپاکستان کا سبز ہلالی جھنڈا بلند کیا، میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے تحسین پیش کرنے آیا ہوں۔ پشاور میں 2016ء میں اے پی ایس کا واقعہ ہوا، وہاں پر بچوں اور اساتذہ کو شہید کیا گیا اور پھر پشاور میں میٹنگ ہوئی، سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا گیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے، آج جو باتیں عمائدین اور مشران نے کی ہیں، اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور مل بیٹھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے این ایف سی پر نظر ثانی کی بات کی، یہ بات اسلام آباد میں ڈیرھ ماہ قبل ہوئی اور میں نے فوراً کمیٹی بنائی، این ایف سی کے لیے جو صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے، اس کےلیے نام دیئے گئے ہیں، پہلی میٹنگ اگست میں بلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2010ء کے این ایف سی ایوارڈ میں سب سے پہلے آئٹم میں چاروں صوبوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبرپختونخوا کےلیے ایک فیصد فنڈز پر اتفاق کیا۔ یہ جائز اور درست فیصلہ تھا جو دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا تاہم اس میں بلوچستان شامل نہیں کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اب تک اس مد میں خیبرپختونخوا کو 700 ارب روپے سے زیادہ فنڈز حوالے کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ نے دوسرے مطالبات کئے ان پر مل بیٹھ حل نکال لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ہمارے پاس وسائل ہیں، وہ پاکستان کے وسائل ہیں جس میں سارے صوبوں کا حصہ ہے، میں معاملات کے حل کےلئے کمیٹی تشکیل کرتا ہوں جو گورنر خیبر پختونخوا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کور کمانڈر اور قبائلی زعماء کے ساتھ بیٹھے گی اور معاملہ آگے بڑھا تو ہم اس کو پارلیمنٹ میں بھی لے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ابھی ہندوستان کے ساتھ جنگ ہوئی ، پاکستان کے تمام صوبوں کے عوام کی دعائیں شامل تھیں، 6 اور 7 مئی کو جس طرح دشمن نے گھات لگا کر حملہ کیا اور ہمارے بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا، فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو زندگی کا سبق سکھایا ہے جو وہ قیامت تک نہیں بھولیں گے۔ اتحاد سے ہم پاکستان کی تقدیر بدلیں گے، جس طرح اس جنگ میں کامیابی عطا ہوئی، اسی طرح پاکستان معاشی میدان میں بھی کامیابیاں حاصل کرے گا۔

ابھی چار ممالک کا دورہ کرکے آیا ہوں، سب کے چہروں پر خوشی تھی، آج پوری قوم یکجا ہے ،ہمیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کےلیے بڑے فیصلے کرنے ہیں، چاروں صوبوں کی قیادت بلا کر ہم مل کر بیٹھیں گے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کو شکست فاش ہوئی ہے اور مودی سرکار اپنے زخم چاٹ رہی ہے، ہندوستان پانی کی دھمکیاں دیتا ہے، 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کے ایک ایک قطرہ پر پاکستانی عوام کا حق ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پانی کے اوپر ہمیں فیصلہ کرنا ہے تاکہ ہندوستان کے مذموم عزائم دفن ہو جائیں، ہمارے پاس بے شمار ڈیم ہیں جہاں پر ہم پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ شرکا نے پاکستان کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سویلین اور فوجی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
بادبان کا تازہ شمارہ ان لائن کر دیا گیا مودی پاکستان خفیہ ایجنسی ای ایس ای کا ایجنٹ نکلا حج 2025 کرپشن کہانی بادبان کی زبانی تفصیلات سھیل رانا لاءیو میں رات 10 بجے
بادبان میگزین جون کا تازہ شمارہ اپنے ھاکر سے طلب کرے ان لائن کے لئے



حجاج بھوکے 34 ریال کھانے کی قیمت ادا کرنے کے باوجود دوسری طرف وزیر مزھبی امور ھزاروں ریال کا مفت کھانا اپنے سٹاف اور دوستوں کے ھمراہ کھانے میں مصروف تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
رل تے گئے ا پر چس بڑی ای جے۔ بھارت کی اجارہ داری ختم؛ مودی کی زندگی خطرے میں۔سکھوں مسلمانوں بھاریوں کو وزیر اعظم کی سیکورٹی سے ھٹھا لیا گیا۔۔مودی کو سیکورٹی سٹاف سے قتل ھونے کا خطرہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا الرٹ جاری۔مودی کی سیکورٹی صرف ھندو فورس کے حوالے بھارت کی سب سے بڑی جمہوریت خطرے میں ۔اسلام آباد بادبان رپورٹ سھیل رانا سے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
* *ڈی جی آئی ایس پی آر کیHILAL TALKS میں اساتذہ سے خصوصی گفتگو* * بلوچستان ، پاکستان کا حصہ ہے اور کبھی پاکستان سے الگ نہیں ہو سکتا۔* ہندوستان اور ہندوستانی پراکسیز پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔ * بی ایل اے ( فتنہ الہندوستان ) کو ہندوستان سے مکمل مالی معاونت حاصل ہے۔* کشمیر بنے گا پاکستان ۔* عوام سے افواج ہیں اور افواج سے عوام ۔ یہ محبت کا لازوال رشتہ ہمیشہ قائم دائم رہے گا ۔ انشاء اللّٰہ









