All posts by admin

مولانا فضل الرھمان شراب اور امریکہ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

‏شراب خانے کے سامنے کھڑے ہوکر ایک مولوی لوگوں کو روک روک کر بتا رہا تھا کہ شراب پینا بری عادت ھےبار میں داخل ہونے والے ایک آدمی نے رک کر پوچھا: کیا آپ نے کبھی پینے کی کوشش کی؟مولوی: نہیں ، کبھی نہیں!آدمی: ٹھیک ہے ، آپ ایک بار کوشش کریں ، اگر آپ کو یہ پسند نہیں آئے تو میں شراب پینا چھوڑدوں گامولوی: ٹھیک ہے ، لیکن شراب چائے کے کپ میں لانا ، میں نہیں چاہتا کہ لوگ مجھے شراب پیتے ہوئے دیکھیں۔آدمی بارٹینڈر کے پاس گیا اور کہا: چائے کے کپ میں مجھے دو شاٹ وہسکی دوبارٹینڈر:کیا مولوی پھر آیا ھوا ھے؟

حج 2025 مفصل کرپشن سومرو کی وجہ سے بیمار پاکستانی حجاج فریضہ حج ادا نہ کر سکے منی میں 22 فیصد حجاج کو منی میں رھاشیی نہ مل پای بلیک لسٹ کروڑوں روپے کے فارم فروخت کرنے والہ کس کا فرنٹ مین حج کا اخری روز سھیل رانا لاءیو مکہ مکرمہ سے براہ راست

خوبصورت تصویر،،،،اللہ کو عاجزی بہت پسند ہے،جن کو قرآن وسنت کا علم ہوتا ہےوہ ہمیشہ عاجری اوردوسرے کااحترام کرتاہے،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کا سر دنیا میں جھکا کر خانہ کعبہ کے سامنے عاجزی سے اپنا سر جھکارکھا ہے بادبان نیوز رپورٹ مکہ

وزیر اعطم اور فیلڈ مارشل کے اعزاز میں ظہرانہ جنگ جیتنے پر ولی عہد راولپنڈی تھانہ رتہ امرال کے علاقے میں سات ماہ کی بچی کو اغواء کے بعد نالے میں پھینک کر مار دیا گیا گجرات مویشی منڈی میں جانوروں کا ریٹ گر گیا، ۔ بیوپاری پریشان ، خریداروں کی کمی ، گوشت کے ریٹ پر جانور فروخت کرنے کو تیار۔بھارت کی اچھی طرح تسلی کرا دی وہ پھر آزما سکتا ہے ۔بلاول بھٹو۔ ٹرمپ کی صدارت امریکی کرنسی سرنگوں رضوان کی مکمل چھٹی بابر ون ڈے اور ٹیسٹ کے لئے برقرار۔ ایشین چیمپئن میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد میاں چنوں سرکار سے حکومتیں لا تعلق۔طاقت ور اشرفیہ سے 71 روپے غریب عوام سے 10 روپے فی یونٹ بجلی حکومت یا ڈائین پاکستانی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ شاداب خان کی جگہ فخر زمان کو پاکستانی ٹیم کا نائب کپتان بنائے جانے کا امکان تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

#اسلام_آباد_آبپارہ_مارکیٹ_کے_نام_کا_پس_منظراسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ کا نام ایک نوزائیدہ بنگالن بچی کے نام پر پڑا جس کی پیدائش کو اسلام آباد میں پہلی بار رجسٹر کیا گیا تھا۔ زیر نظر تصویر میں آبپارہ اپنےوالدین کے ہمراہ دکھائی دے رہی ہے۔

جب دارالحکومت کراچی سے نئے بسائے گئے شہر اسلام آباد تبدیل کیا گیا تو ملازمین بھی یہیں منتقل ہو کر بس گئے۔

کچھ ہی عرصے بعد مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے والدین کے ہاں ایک لڑکی کی پیدائش ہوئی جس کو آبپارہ کے نام سے متعلقہ ادارے کے ریکارڈ میں رجسٹر کیا گیا

اور یہ اسلام آباد میں پہلی بچی کی پیدائش کا ریکارڈ نوٹ کیا گیا تھا۔لہذا اسی نام کی مناسبت سے نئی بننے والی پہلی مارکیٹ کو بھی آبپارہ مارکیٹ کا نام دیا گیا۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد آبپارہ کےوالدین بنگلہ دیش چلے گئے اور اب آبپارہ کہاں ہے، کس حال میں ہے، نہیں معلوم۔۔۔!!!

*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دو روزہ دورہءِ سعودی عرب**وزیرِ اعظم کی شاہی دیوان میں ولی عہد و وزیرِ اعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے دئیے گئے

خصوصی ظہرانے میں بطور مہمانِ خاص شرکت**ولی عہد سعودی عرب نے وزیرِ اعظم کا خصوصی استقبال کیا اور خود گاڑی چلا کر وزیرِ اعظم کو ظہرانے میں شرکت کیلئے لے کر گئے*

*ظہرانے میں سعودی ولی عہد نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا بھرپور استقبال کیا اور دونوں رہنماؤں کے مابین غیر رسمی گفتگو ہوئی**ظہرانے میں مشرق وسطی کے اہم رہنماؤں سمیت سعودی کابینہ کے ارکان اور اعلی سعودی سول و عسکری قیادت شریک تھے**وزیرِ اعظم کا سعودی ولی عہد کی جانب سے شاندار استقبال اور ظہرانے میں بطور مہمان خاص شرکت، پاکستان و سعودی عرب کے دیرنہ برادرانہ تعلقات اور وزیرِ اعظم کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا مظہر ہے*

طاقت ور اشرافیہ کے پاور پلانٹس سے 70،80 روپے فی یونٹ بجلی خرید لے گی حکومت لیکن ایک عام پاکستانی جو ہر طرح کے ٹیکس ادا کر کر کے پاگل ہو چکا، اُس سے 22 روپے یونٹ بجلی خریدنا بھی مہنگا لگ رہا ہمارے حکمران طبقے کو۔۔ نہ انصافی اور ظلم ۔۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی تیاری، بجٹ میں ریلیف پیکج متوقعگریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کیلئے 30 فیصد ڈسپیئرٹی الاؤنس کی تجویزگریڈ 17 سے 22 کے ملازمین کیلئے 15 فیصد تنخواہوں میں اضافے کی تجویزآئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز 2022ء کے ایڈہاک الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی بھی تجویز زیر غور

پاکستانی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ شاداب خان کی جگہ فخر زمان کو پاکستانی ٹیم کا نائب کپتان بنائے جانے کا امکان ۔جب کہ سلمان علی آغا پاکستانی ٹیم کے تینوں فارمیٹ کے کپتان ہوں گے

وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے اعزاز میں ظہرانہ جنگ جیتنے پر۔۔ ولی عہد کا خصوصی استقبال, ظہرانے میں مشرقی وسطی کے اھم ترین رہنماوں کی ملاقات آرمی چیف کو سربراہ مملکت کا پروٹوکول

*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دو روزہ دورہءِ سعودی عرب**وزیرِ اعظم کی شاہی دیوان میں ولی عہد و وزیرِ اعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے دئیے گئے خصوصی ظہرانے میں بطور مہمانِ خاص شرکت**ولی عہد سعودی عرب نے وزیرِ اعظم کا خصوصی استقبال کیا اور خود گاڑی چلا کر وزیرِ اعظم کو ظہرانے میں شرکت کیلئے لے کر گئے**ظہرانے میں سعودی ولی عہد نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا بھرپور استقبال کیا اور دونوں رہنماؤں کے مابین غیر رسمی گفتگو ہوئی**ظہرانے میں مشرق وسطی کے اہم رہنماؤں سمیت سعودی کابینہ کے ارکان اور اعلی سعودی سول و عسکری قیادت شریک تھے**وزیرِ اعظم کا سعودی ولی عہد کی جانب سے شاندار استقبال اور ظہرانے میں بطور مہمان خاص شرکت، پاکستان و سعودی عرب کے دیرنہ برادرانہ تعلقات اور وزیرِ اعظم کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا مظہر ہے*

2025 حج مزدلفہ سے حجاج شیطانوں کو کنکریاں مار کر طواف زیارہ میں مصروف ہے عرفات سے مزدلفہ کے لیے بسیں غائب ٹرین پر 40 فیصد حجاج خوش میدان عرفات میں حجاج کو خیمے نہ مل سکے سب کچھ جانتے کے لئے بادبان نیوز سھیل رانا لاءیو میں مکہ سے 2 سعودی وقت 2 بجے پاکستانی وقت شام 4 بجے مفت خور حجاج کی عیاشیاں

وزیر اعطم ارمی جیف جدہ پھنچ گئے گورنر نے استقبال کیا۔فلسطین کے دشمنوں کو تباہ وبرباد کر دے خطبہ حج۔پاکستان کی جانب سے شملہ معاہدہ ختم ایل او سی پر 1948 والی پوزیشن پر آ گئے، وزیر دفاع۔رضوان اور شان مسعود کی چھٹی۔سلمان علی آغا پر پی سی بی مہربان ٹی 20 کے بعد ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی دینے کا فیصلہ۔ملک بھر مھنگای کا طوفان 9 اھم مافیا کے شکنجے میں۔۔پاکستان کی 2 بڑی سفارتی کامیابیاں۔۔۔بھارت کو غشی کے دورے۔ارمی چیف اور وزیر اعظم سعودی عرب میں۔مکہ مکرمہ اور جدہ میں 3 اھم ترین ملاقاتیں اسحاق ڈار بھی موجود۔۔اھم ترین ملاقاتیں عمرے کی ادائیگی۔۔حج کے روز ارمی چیف اور وزیر اعظم کا استقبال گورنر جدہ نے کیا۔۔پاکستان کا دباو ماننے سے انکار بڑا دباو رف۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کو انسداد دہشت گردی کمیٹی کا نائب چئیر اور طالبان پر پابندی کے نفاذ کے لیے قائم نگران کمیٹی کا چیئر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ دونوں عہدے پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھے جارہے ہیں لیکن انڈیا میں اس پر زبردست ردعمل سا

==میں ذاتی طور پر اس مفروضے پر یقین نہیں رکھتا کہ اسلام آباد شہر کا مخفی انتظام و انصرام چند “بابوں” یعنی چند ضعیف العمر اور کشادہ کمر بڈھوں کے ہاتھ میں رہا ہے یا اب بھی ہے۔ اس مفروضے کو بنیاد بنا کر کئی سفید ریش اور گریز ریش نفوس نے علم و ادب کی دکان بھی سجائی اور انواع و اقسام کی تحریریں بیچ کر منافع بھی کمایا۔مگر ؛ چونکہ یہ کاٹھ کی ہنڈیا تھی ، زیادہ نہ چڑھ سکی اور بالآخر جل گئی ،

کہ اس طرح اور طرز کے تحریری اور تقریری تماشوں کو دوام نہیں ملتا۔ ہاں البتہ یہ بات قرین قیاس ہے کہ ہر شہر کی تعمیر اور توقیر میں قد آور شخصیات ،دانشوروں ، عالموں اور ادیبوں کی مساعی شامل حال رہتی ہے ،اور ایسے ہی نام وروں کو مرزا غالب “پوشیدہ ولی ” قرار دیتے ہیں ، جو کہ ؛ وہ خود بھی تھے ۔اسلام آباد جیسے ہجوم گریز اور کم آمیز شہر کے مزاج اور ماحول پر اثر انداز ہونے والے عصر رواں کے پوشیدہ ولی کا نام قاسم بگھیو ہے، قاسم بگھیو لسانیات کے ڈاکٹر اور انسانیت کے اسیر ہیں ۔ انسان دوستی عقیدہ اور انسان پرستی ان کا مذہب ہے ۔قاسم بگھیو سندھ دھرتی کی جملہ خوبیوں کا مجموعہ اور متعدد خرابیوں کی عمدہ مثال ہیں،

خوبیوں کو آپ خود تلاش کرلیں،خرابیاں میں بتا دیتا ہوں ۔ان کی سب سے بڑی خرابی دوست داری اور محفل سازی ہے۔دوست داری کی بنیاد یک طرفہ اعتماد اور بلا وجہ کا اعتبار ہے۔ یہ خرابیاں قاسم بگھیو کی کمزوریاں بننے کی بجائے ان کی طاقت بن کر سامنے آتی ہیں۔ان کی ایک خرابی نت نئے راستوں کی تلاش ہے۔حیرت اس وقت ہوتی ہے جب نت نئے راستوں کی تلاش کی ہر مہم قاسم بگھیو کو بھٹکانے کی بجائے کسی نئی منزل تک پہنچا دیتی ہے ۔قاسم بگھیو کی ایک اور خرابی عقل گریزی اور عشق شماری ہے۔لیکن یہاں وضاحت کرتا چلوں کہ وہ عقل اور عشق کی باہم آویزش کے نازک نکات اور باہم التفات کے مقامات سے بخوبی واقف و آگاہ ہیں ،قاسم بگھیو کے ہاں عقل اور عشق یمین و یسار کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ رانجھا بن کر بھی جوگی نہیں بنتے، وہ مرزا جٹ ہو کر بھی نہ تو نیند کے حصار میں آتے ہیں ،اور نہ ہی اپنے تیر تڑواتے ہیں۔ وہ ہمہ وقت کسی نئے اور جدا خیال کی تجسیم میں مصروف رہتے ہیں ۔ سوچنے اور تخلیق کرنے والے عموماً کم آمیز اور محفل گریز ہوتے ہیں۔لیکن جب بات قاسم بگھیو کی ہو رہی ہو تو پھر سارے اصول و قیاس ایک طرف منہ لپیٹ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ قاسم بگھیو نے اسلام آباد کو اپنی جائے قرار بنا کر یہاں کی فضا اور یہاں کے ماحول میں ایک طرح کا تحرک اور ایک طرز کا جوش و جنون پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ،اور یہ بھی کوئی چھوٹی برائی تو ہے نہیں۔وہ جو مرزا غالب نے کہا تھا کہ؛میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیابلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیںتو بالکل اسی طرح قاسم بگھیو کے ورود اسلام آباد نے یہاں کی ذہنی فضا پر مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔اور کتنی ہی بلبلیں غزل خواں ہو چکی ہیں۔حال ہی میں مجلس ترقی ادب لاہور کے زیر اہتمام ان کی ایک سندھی زبان میں لکھی کتاب ‘ شخص و عکس ‘ کا اردو ترجمہ ‘تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو ‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے ۔میں شاید اس کتاب کے چند ابتدائی خواستگاروں میں شامل ہوں ،کیونکہ میں نے مجلس ترقی ادب سے فوری طور پر یہ کتاب منگوا لی تھی،اور ایک دو روز کی تاخیر کے باعث جب مجلس کے دفتر سے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ پریس سے آتے ہی پہلی کتاب آپ کو ارسال کی جائے گی۔یوں میرے پاس پہنچنے والی کتاب پہلی ہو یا نہ ہو ، ترو تازہ ضرور ہے۔قاسم بگھیو جیسے زبان شناس اور سماج فہم دانشور کی سندھی زبان و ادب اور ثقافت و سماج سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات کے حوالے سے باتیں اور یادیں یقینی طور پر دلچسپی کے ہزار سامان اپنے اندر رکھتی ہوں گی ، یہی خیال اس کتاب کا بے چینی سے انتظار کرنے کا باعث بنا تھا۔میرا تاثر ہے کہ ؛ کتاب کے اردو ترجمے کا عنوان کتاب کے مندرجات کی بجائے کتاب کے مصنف کی شخصیت کو سامنے رکھ کر منتخب کیا گیا ہے۔ اگرچہ مجھے نہیں لگتا کہ اکیسویں صدی کے فرشتوں کو وضو کرنے کے لیے کسی “تر دامن” پر شیخ کی دراز دستی کا محتاج ہونا پڑے گا۔اور پھر شیخ بے چارے کو تو کیا کہیں کہ وہ ہماری ادبیات کا مطعون اور معتوب ترین کردار ہے ہی ،اور یہ سعادت بھی شیخ کو اپنے الٹے سیدھے اعمال کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر قاسم بگھیو کی مبینہ تر دامنی سے قطع نظر ؛ ان کی شیخ شناسی اور شیخ شکنی ہمیشہ مثالی رہی ہے ۔وہ جو میر تقی میر نے کہہ رکھا ہے کہ؛تمہیں تو زہد و ورع پر بہت ہے اپنے غرورخدا ہے شیخ جی ہم بھی گناہگاروں کاتو اسی اعتماد کی بنیاد پر ڈاکٹر قاسم بگھیو بھی تر دامنی اور شیخ کے بیانیے کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے۔ سندھی دانش اور بصیرت کی نقاب کشائی کے لیے ڈاکٹر قاسم بگھیو نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے

،اور متنوع خوبیوں سے متصف سندھی شخصیات پر گاہے گاہے لکھے گئے شخصی خاکوں اور تاثراتی مضامین کو یکجا کر کے ” عکس و شخص” کے عنوان سے کتابی صورت میں یکجا کیا تھا۔سندھی زبان کا یہ مجموعہ مقبول ہوا اور بے حد پسند کیا گیا تھا۔اب پروفیسر ساجد سومرو نے ڈاکٹر قاسم بگھیو کے سندھی میں لکھے شخصی خاکوں کی اس کتاب کو “تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو” کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ساجد سومرو نے اپنے رواں اردو ترجمے کے ذریعے ہمیں ڈاکٹر قاسم بگھیو کی زمین سے جڑی اور آسمان تک پھیلی دانش کے روبرو کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔اس کتاب میں علامہ آئی آئی قاضی پر دو مضامین کے بعد تیسرا مضمون مرزا قلیچ بیگ پر ہے۔

مرزا قلیچ بیگ کو مضمون نگار نے سندھ کا سدا روشن سورج قرار دیا ہے۔لیکن میرے لیے مرزا قلیچ بیگ کی سب سے نمایاں خوبی اور کارنامہ یہ ہے کہ وہ پروفیسر قاسم بگھیو کے ساتھ میرے تعارف ، تعلق اور دوستی کا باعث بنے تھے۔قصہ 2009 ء کا ہے۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں مرزا قلیچ بیگ کی علمی ،ادبی اور ثقافتی خدمات پر انٹرنیشنل کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔مجھے اس کانفرنس میں مقالہ پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ اس کانفرنس سے آغاز کرتے ہوئے آج تک ڈاکٹر قاسم بگھیو کی دوستی ، توجہ اور التفات کا لطف جاری ہے۔شیخ ایاز ڈاکٹر قاسم بگھیو کے ممدوح اور مربی تھے۔ ایک مشرقی عاشق کے برعکس ،ڈاکٹر قاسم بگھیو نے شیخ ایاز کے ساتھ اپنی عقیدت ،مروت اور محبت کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ان پر لکھے دونوں مضمون اس بات کی گواہی پیش کرتے ہیں ۔ڈاکٹر قاسم بگھیو کی تحریر میں اختصار کے باوجود کمال درجے کا ابلاغ پایا جاتا ہے۔تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو میں شامل مختلف مضامین اور خاکے مختلف اوقات اور جدا جدا مزاج میں لکھے گئے تھے ،اس لیے ان تمام تحریروں میں وحدت تاثر کو تلاش کرنا مناسب نہیں

۔ہر مضمون ایک الگ محل اور الگ تاثر کا حامل ہے ،لیکن ان سب میں مصنف کی شخصیت اور انداز کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔میں نے شروع میں ڈاکٹر قاسم بگھیو کی چند برائیوں کا ذکر کیا تھا۔ان برائیوں میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ؛ وہ لکھتے ہوئے اور بات کرتے ہوئے اپنی رائے اور اپنی فہم کو مستور نہیں رکھتے۔کسی کو اچھا لگے یا برا محسوس ہو ،وہ لکھ جاتے ہیں ،وہ بات کر گزرتے ہیں۔وہ عمومی طور پر اپنے دل کو پاسبان عقل کی قربت کی بجائے تنہا رکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو کی باتیں اور یادیں جابجا میرے اس تاثر کی تصدیق کریں گی۔ ڈاکٹر قاسم بگھیو کبھی کسی ناصح یا محتسب کو قریب نہیں آنے دیتے، اور یہ کوئی چھوٹی برائی نہیں ہے۔اس کے برعکس ان کا دل اور در ،دونوں دوستوں کے لیے ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔ان کے سارے دوست از راہ احتیاط و مروت ؛ مرزا غالب کے اس شعر کو ہمہ وقت پیش نظر رکھتے ہیں، کہ؛دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئیہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا