حکومت کی ایک اور حرام خوری۔ ایک نئی قسم کا فکسڈ ٹیکس متعارف کرا دیا گیا ہے۔ اب اگر آپ بجلی کا ایک یونٹ بھی استعمال نہ کریں تب بھی آپ کو اس کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔ یہ ٹیکس منظور شدہ لوڈ (Sanctioned Load) کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، یعنی آپ کا جتنا منظور شدہ لوڈ ہوگا، اسی کے مطابق آپ سے رقم وصول کی جائے گی چاہے آپ ایک یونٹ بجلی بھی استعمال نہ کریں۔مزے کی بات یہ ہے کہ میری کل بجلی کی لاگت Rs. 2,176.68 ہے، اور اس پر منظور شدہ لوڈ کا فکسڈ ٹیکس Rs. 982.19 ہے، اور زُل یہ کہ اس فکسڈ ٹیکس پر بھی 17% GST لگا دیا گیا ہے۔ بے شرم حکومت!اس حکومت کو سلام — پتہ نہیں ایسے آئیڈیاز کہاں سے لاتے ہیں۔ صرف یہی ٹیکس میرے کل بجلی کے بل کا تقریباً 50 فیصد بن رہا ہے۔ شرم آنی چاہیے اس حکومت کو، اور ہمیں بھی، کیونکہ ہمارے اندر اس کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت نہیں ہے۔
آپریشن غضب للحق ، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے*پاک افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ، *سیکیورٹی ذرائع*ان حملوں میں پاک افواج نے کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایمونیشن سٹوریج کو موثر انداز میں تباہ کیا ، *سیکیورٹی ذرائع* *ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ* فضائی حملے کے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا *سیکیورٹی ذرائع*افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کا ڈرگ ہسپتال کو نشانہ بنانے کا بیان مضحکہ خیز ہے ، *سیکیورٹی ذرائع*ننگر ہار میں کاروائی کرتے ہوئے پاک افواج نے چار مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا *سیکیورٹی ذرائع*ننگر ہار میں فضائی کاروائیوں کے دوران ملڑی تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک ، ایمونیشن، ٹیکنیکل انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا *سیکیورٹی ذرائع**آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی*
🚨 ٹرمپ کی پکار اور جرمنی کا صاف انکار: ہرمز اتحاد ناکام، اور دنیا خوراک کے بحران کے دہانے پر! 🌾📉دوستو! چند گھنٹے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مکار نے فاکس نیوز پر آ کر اعلان کیا کہ وہ یورپی اتحادیوں اور علاقائی حکومتوں کو کال کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک “عالمی اتحاد” بنایا جا سکے۔اور چند ہی گھنٹوں بعد… جرمنی (Germany) نے صاف انکار کر دیا!جرمن حکومت کے ترجمان کا آج کا باضابطہ بیان ذرا غور سے پڑھیں:”جب تک یہ جنگ جاری ہے، ہماری کوئی شرکت نہیں ہوگی، یہاں تک کہ آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت کے ذریعے کھلا رکھنے کی کسی بھی کوشش میں بھی ہم حصہ نہیں لیں گے۔”یہ وہ لمحہ ہے جب مارکیٹ کی وہ تمام خوش فہمیاں دم توڑ گئیں کہ ہرمز کا مسئلہ چند دنوں میں حل ہو جائے گا۔آئیے اس سفارتی زلزلے کا ڈیپ انالیسس کرتے ہیں:🤦♂️ جرمنی کی حیران کن چال
:ذرا سوچیں کہ ابھی کیا ہوا ہے۔ امریکہ نے یورپ کی سب سے بڑی معیشت سے مدد مانگی ہے—وہ ملک جس نے روسی انرجی بحران میں سب سے زیادہ امریکی مدد لی، اور وہ نیٹو اتحادی جسے خلیجی توانائی کی سب سے زیادہ ضرورت بھی رہتی آئ ہے۔اس 33 کلومیٹر کے سمندری راستے سے دنیا کی ایک تہائی (1/3) فرٹیلائزر (کھاد) اور عالمی تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔لیکن جرمنی نے کیا کہا؟ “اس کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں ہے،” اور وہ پیچھے ہٹ گیا۔
● جاپان پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔● آسٹریلیا پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔● امریکی نیوی 12 مارچ کو تصدیق کر چکی ہے کہ وہ اکیلے سیکیورٹی دینے کے لیے “تیار نہیں” ہے۔ٹرمپ 7 ممالک سے جنگی جہاز مانگ رہا ہے، اور آج شام تک کنفرم کمٹمنٹس کی تعداد کیا ہے؟ پتا ہے؟… زیرو (Zero)!⏱️ دو گھڑیاں جو کبھی نہیں ملیں گی:اب ذرا کیلنڈر پر ریاضی کا حساب لگائیں۔فرض کریں کہ اگلے ہفتے کوئی جادوئی اتحاد بن بھی جاتا ہے۔ اس 33 کلومیٹر کے راستے سے ایرانی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں پھر بھی مہینوں لگیں گے۔ پھر انشورنس کمپنیوں کو اپنا حساب دوبارہ کرنے میں جو وقت لگے گا وہ الگ۔دوسری طرف زراعت کا کیلنڈر دیکھیں:● امریکی کارن بیلٹ (Corn Belt): انہیں وسط اپریل تک نائٹروجن چاہیے۔● انڈیا: انہیں مئی تک ‘خریف’ کی فصل کی تیاری کے لیے کھاد چاہیے۔
● آسٹریلیا: انہیں جون تک یوریا چاہیے۔کیا آپ کو مسئلہ سمجھ آ رہا ہے؟فوجی اتحاد بننے کا وقت “مہینوں” میں ناپا جا رہا ہے، جبکہ فصلیں بونے کا وقت “ہفتوں” میں ختم ہو رہا ہے! یہ دونوں ٹائم لائنز آپس میں نہیں ملتیں۔ دنیا 2026 کے آخر میں جو کھانا کھائے گی، اس کا فیصلہ مٹی کی کیمسٹری کر رہی ہے، نہ کہ یہ بات کہ کون سا وزیرِ خارجہ ٹرمپ کا فون اٹھاتا ہے۔☠️ عالمی غذائی قلّت؟ ● دنیا بھر میں ٹریڈ ہونے والی 49% یوریا (Urea) خلیجی ممالک سے آتی ہے۔
اس کی سپلائی 97% تک گر چکی ہے۔● بنگلہ دیش: چاول کے سیزن کے عین وسط میں 6 میں سے 5 یوریا فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔● انڈیا: اس نے باقاعدہ چین سے ایمرجنسی یوریا مانگا ہے۔ جواب میں چین نے اگست تک فاسفیٹ (Phosphate) کی ایکسپورٹ پر ہی پابندی لگا دی ہے!● مصر (Egypt): اپنے 6 کروڑ 90 لاکھ لوگوں کو روٹی کی سبسڈی دینے کے لیے اپنے غیر ملکی ذخائر پانی کی طرح بہا رہا ہے۔🛑 کھاد کے بغیر انشورنس کا کیا کریں گے؟جرمنی کی گیس کی قیمتیں (TTF) بندش کے بعد سے 45 سے 60 فیصد بڑھ چکی ہیں، اور بظاھر ان کی GDP گر رہی ہے۔ پھر بھی وہ اسی گیس کے راستے کو محفوظ بنانے میں حصّہ داری لے کر ایران کے مقابل آنا نہیں چاہ رہے-امریکی حکومت کی 20 ارب ڈالر کی DFC انشورنس کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ انشورنس صرف مالی نقصان پورا کرتی ہے، وہ سمندر سے وہ بارودی سرنگیں صاف نہیں کرتی-کیا آپ کو لگتا ہے دنیا امریکہ مکار کی چالوں کو سمجھنے لگی ہے اسی لئے کوئی ساتھ نہیں آ رہا ؟👇
متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں میں پیر کے روز میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں دارالحکومت ابو ظہبی میں ایک شہری ہلاک ہو گیا جبکہ دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایندھن کے ٹینک میں آگ لگنے سے فضائی سفر متاثر ہوا۔ حکام کے مطابق ایک ڈرون سے متعلق واقعے کے بعد ہوائی اڈے کے قریب ایندھن کے ذخیرے میں آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث پروازوں میں خلل پڑا۔ بعد ازاں حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔مشرقی امارت فجیرہ میں بھی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔ چند روز قبل اسی امارت میں ایک بڑی توانائی کی تنصیب سے دھواں اٹھتا بھی دیکھا گیا تھا۔
دنیا بدل گئی ہے ۔ اظہر سید امریکہ کو کسی نے نہیں ڈبویا یہ کیپٹلزم کے گھاٹ اترا ہے ۔سپر پاور کی کہانی اسی طرح ختم ہو رہی ہے جس طرح ماضی کی عظیم سلطنتیں فنا کے گھاٹ اتریں۔ایران پر حملہ اونٹ کی کمر پر تنکہ ہے جس کا بوجھ اٹھایا جانا ممکن نہیں رہا ۔سب کو حقیقت کا پتہ چل گیا ہے ۔ایرانی جنگ بندی کا معاوضہ مانگنے لگے ہیں ۔سعودی عرب نے ایران پر حملہ نہیں کیا امریکی شکوہ کرنے لگے ہیں۔کیپٹلزم خود غرض ہے ۔ یہ کیپٹلزم بیس سال تک امریکہ کو افغانستان میں بٹھا کر اس کا دودھ نکالتا رہا ۔ایک امریکی فوجی کی عینک ،کپڑے اور جسم پر سجے دوسرے سازو سامان سے دو سو سے زیادہ جونکیں خون چوستی رہیں ۔کھربوں ڈالر کے اخراجات کے بعد جب ہاتھی نڈھال ہو گیا تو ان جونکوں یعنی جنگی صنعتوں نے امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت دے دی۔جنگی صنعت کے منہ کو جو خون لگ چکا ہے اس نے پہلے وینزویلا پر حملہ کروایا پھر ایران پر چڑھ دوڑا ۔مارکیٹ میں دوسرے کھلاڑی بھی موجود ہیں۔جب جونکیں امریکی معیشت کو چوس رہی تھیں چینی خاموشی سے ترقی کرتے جا رہے تھے ۔آپریشن سیندور کے بعد بھارت کی دھوتی اتری ایران پر حملہ امریکی دھوتی اتار دے گا ۔سعودی عرب اس لئے ایران پر حملہ نہیں کر رہا باقیوں کی طرح سعودیوں کو بھی پتہ چل چکا ہے ہاتھی دم توڑ رہا ہے ۔اردن،قطر،عراق ،بحرین شام کسی نے ایران پر حملہ نہیں کیا باوجود اس کے ایرانی میزائل انہیں نشانہ بناتے رہے ۔ظلم تو یہ کرد بھی امریکیوں کے قابو میں نہیں آئے ۔کوئی دن جاتا ہے ایران جنگ ختم ہو جائے گی ۔امریکی دھوتی اتر جائے گی ۔خلیج کی ساری ریاستیں امریکیوں کے اثر سے آزاد ہو جائیں گے ۔دنیا کو چلانے کے نئے اصول وضع ہونگے ۔
گورباچوف نے پسپائی کا فیصلہ کر کے دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچا لیا تھا ۔سوویت یونین کو تحلیل کر دیا تھا ۔سوویت یونین چاہتا تو دنیا کو تین مرتبہ تباہ کر سکتا ہے ۔خود بھی مرتا ساری دنیا کو بھی مار دیتا لیکن روسی انسانیت کے محسن ثابت ہوئے ۔امریکی معیشت بھی سوویت معیشت کی طرح برباد ہو چکی ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سپر پاور کو کھا لیا ہے ۔امریکی اسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں کبھی سوویت یونین کھڑا تھا۔وہی آپشن امریکہ کے پاس ہے جو کبھی سوویت یونین کے پاس تھا ۔ایٹمی ہتھیار استعمال کریں اور ایران کو شکست دے دیں یا پسپا ہو جائیں ۔امریکی ریاستوں کو آزاد ہونے کی اجازت دے دیں ۔سوویت یونین نے ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے تھے ۔دیکھنا یہ ہے امریکی کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ایران میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استمال کئے یا روایتی ایٹم بم استعمال کیا پورے خلیج کا نقشہ تبدیل ہو گا اور ساتھ میں دنیا کا نقشہ بھی بدلے گا
۔دوسری جنگ عظیم میں صرف امریکیوں کے پاس جوہری ہتھیار تھے آج پانچ نہیں سات ایٹمی طاقتیں ہیں ۔کر لیں ایران میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال اور لے آئیں دنیا کو اس سطح پر جہاں اگلی عالمی جنگ پتھروں سے لڑی جائے ۔
ہم ایسے محب وطن ہیں صحافت کی آڑ میں اس مٹی کے خلاف اپنا خبیث باطن ظاہر کرتے ہیں ۔کھاتے یہاں سے ہیں پلیٹ میں کھایا ہوا ہگتے ہیں ۔اقوام متحدہ میں ایک قرار داد سعودی عرب اور عرب امارات پر حملہ کی تھی ۔بیس ارب ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ یہاں سے آتا ہے ۔ہم ایسے غلیظ ہیں خبر بناتے ہیں گویا اپنے اندر کا گند باہر نکالتے ہیں “پاکستان نے ایران کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دیا”اتنے گندے ہیں پاکستان نے ایران پر امریکہ اسرائیل حملہ کی مذمت کی اور دوسری قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ۔ایران نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا چونکہ کتے کے بچے ہیں اس کا زکر ہی گول کر دیا ۔ مٹی سے وفا ہر جنٹلمین کے خمیر میں ہوتی ہے چونکہ ہم خنجر ہیں اس لئے اس مٹی سے وفا ممکن ہی نہیں ہاں نوکری یہاں کرنا ہے ۔پیسے یہاں سے کمانے ہیں لیکن خنجر ہیں اس لئے گندگی بھی یہاں ہی کرنا ہے ۔پختون،پنجابی،بلوچ،سندھی ہم سب ایک ہیں ۔یہ ملک ہم سب کے بچوں کی چھت ہے ۔
جو اس مٹی میں گھس بیٹھئے ہیں وہ چن چن کر ایسی چیزیں لاتے ہیں ایک دوسرے سے نفرت پھیلے ۔وفاق کمزور ہو ۔جو معاشرہ تباہی کے گھاٹ اترے پیچھے ایسے ہی دلال ہوتے ہیں جنہوں نے معاشرے میں بھائی چارہ کی بجائے نفرت پھیلائی ہوتی ہے ۔ انتشار پیدا کیا ہوتا ہے۔ہم ایسی ذہنیت کو جانتے ہیں ۔پہچانتے ہیں۔سدباب کرنا بھی آتا ہے لیکن رحم کرتے ہیں ۔شائد سنبھل جائیں۔
ایران جنگ ۔اظہر سید امریکہ اور اسرائیل نے جن مفروضوں پر ایران کو نشانہ بنایا جنگ کے نو روز گزرنے پر جو حقائق دنیا کے سامنے ہیں ایران،چین اور روس کی تیاریاں زیادہ مکمل تھیں ۔ابتدائی حملہ سے آج تک ایرانی شہروں پر تباہی مسلط کی گئی ۔بیشتر سیاسی اور فوجی قیادت ختم کر دی گئی لیکن ردعمل حیرت انگیز ہے ۔خلیج میں ٹھاڈ میزائل دفاعی سسٹم کے چار ریڈار موجود تھے امریکہ اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے بعد ایرانی ردعمل میں کویت،اردن،قطر میں سارے ریڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔اب صرف پٹریاٹ،ایرن ڈوم اور ایرو دفاعی شیلڈ موجود ہیں لیکن وہ ایرانی میزائل روکنے میں ناکام ہیں۔تباہی ایران میں مچی ہے ناکامی اسرائیل اور امریکہ کی زیادہ خوفناک ہے ۔اس مرتبہ ایرانی میزائلوں کو جو گائیڈنس میسر ہے وہ سات ماہ پہلے حاصل نہیں تھی
۔اس دفعہ ابرہم لنکن حملہ کے دوسرے روز ہی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن گیا باوجود اس کے طیارہ بردار جہاز مکمل حفاظتی شیلڈ میں تھا لیکن شائد چینی اور روسی ٹیکنالوجی سے بچ نہیں پایا ۔لڑائی کے دوران چینی اور روسی مدد کے کوئی شواہد موجود نہیں لیکن امریکی میڈیا روسی معاونت کی خبریں دے رہا ہے لیکن بغیر شواہد کے ۔دو چیزیں ممکن ہیں چینی معاونت پہلے سے شروع تھی اور متوقع حملہ کے تناظر میں تھی ۔شائد چینی ہنر مند اب بھی زیر زمین میزائل ٹھکانوں پر موجود ہوں جو چینی سٹلائٹ کی معاونت سے سو فیصد درست نشانہ بازی کروا رہے ہیں ۔سو فیصد درستگی کا یہ عالم ہے امریکی فوجی کویت کے ہوٹل کے جس کمرے میں موجود تھے اسے نشانہ بنایا گیا ۔سات امریکی فائٹر جیٹ کویت میں “فرینڈلی” فائرنگ کا نشانہ بن گئے بقول امریکی کویتی موقف کے لیکن ایوی ایشن کے عالمی ماہرین امریکہ کویت موقف کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں امریکی طیارے برتر ٹیکنالوجی کا نشانہ بنے ہیں ۔ابرہم لنکن میدان جنگ سے بھاگ گیا ہے ۔خلیج میں موجود لڑاکا جیٹ قبرص منتقل ہو گئے ہیں ۔قطر،بحرین اور اردن میں فوجی اہلکار وہاں سے نکال لئے گئے ہیں۔خلیج میں بچے کچھے ریڈار وہاں سے اسرائیل منتقل کر دئے گئے ہیں ۔لگتا ہے ایران ،روس اور چین کا ہوم ورک زیادہ مکمل تھا اور اس میں ایرانی فوجی اور سیاسی قیادت کے قتل ہونے کا باب بھی شامل تھا ۔آسان لفظوں میں ایران کا انتظامی ڈھانچہ تباہ کرنے،سیاسی اور فوجی قیادت کو راہ سے ہٹانے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ ہار گئے ہیں۔جوابی حملوں کی ایرانی صلاحیت برقرار ہے۔ ایسا لگتا ہے زمینی قبضے کے بغیر یہ صلاحیت ختم کرنا ممکن نہیں ۔صرف دو آپشن باقی ہیں ۔ایران میں زمینی افواج اتریں اور کامیابی حاصل کریں ۔امریکہ ایٹمی حملہ کرے ۔جیٹ طیاروں سے بمباری میں تباہی مچانا ممکن ہے زیر زمین میزائل کے سارے ٹھکانے ختم کرنا ممکن نہیں کہ اب ایرانی میزائل سو فیصد درستگی کے ساتھ ریڈار بیٹریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔آبنائے ہرمز بند ہوئے آج چھٹا دن ہے صدر ٹرمپ کے تمام تر بانگ دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز کو کھولا نہیں جا سکا ۔دنیا بحران کا شکار ہو چکی ہے ۔امیر ترین خلیجی ریاستوں سے سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں اور مسلسل بھاگ رہے ہیں۔ہر گزرتے دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے کپڑے اترتے جا رہے ہیں کچھ دن اور گزر گئے دونوں دہشت گرد دنیا کے سامنے ننگے کھڑے ہونگے ۔پاکستان کی باری تو جب آئے گی تب آئے گی ابھی ایران پر حملہ کے نتایج تو بھگت لیں ۔ایٹمی حملہ کی آپشن استمال کریں گے اسکی قیمت تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ہے ۔زمینی افواج اتریں گے تو پتہ نہیں روس اور چین نے اسکی ایران کو کیسی تیاری کرا رکھی ہے ۔سیاسی اور فوجی قیادت کے ختم ہونے کے باوجود جو مزاحمت ہو رہی ہے اس کا دوسرا مطلب یہ ہے ہوم ورک مکمل تھا ۔ایران پر حملہ کے نتایج آئیں گے اور ضرور آئیں گے جو مغربی دنیا کیلئے ناقابل برداشت ہونگے ۔
شجاعت ہاشمی نماز جمعہ کے دوران روزے کی حالت میں خالق حقیقی سے جا ملا !! انا للہ و انا الیہ راجعون ہ۔۔۔۔۔۔تیریاں تو ای جانڑیں ربا ۔۔۔۔۔۔جنازے کی نماز آج 13 مارچ 2026 ء بعد از نماز تراویح 9 بجے رات جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور میں ہو گی شجاعت ہاشمی ۔۔۔۔۔اداکار نہیں فنکار تھا ، راولپنڈی کی ہر علمی ادبی تقریبات میں تسلسل سے شریک ہوتا ، مگر لکھا کبھی نہیں ، گورڈن کالج راولپنڈی سے انگریزی ادب میں ماسٹر 1994 ء میں صدارتی ایوارڈ تمغۂ حسن کارکردگی ملا راولپنڈی میں 1948 ء میں ولادت ہوئی ، نوجوانی میں اکثر شجاعت ہاشمی راولپنڈی کے محلہ بنی یا ملحقہ سرکلر روڈ پر کبھی کبھار ہماری نظر میں آجایا کرتا ، قبیلہ قریش سے تھا ، اس لئے ،ملکوں ، سے محبت کرتا تھا گورڈن کالج کے پروفیسر نصراللہ ملک سے متاثر تھا راولپنڈی میں پیدا ہونے والا شجاعت ، آج لاہور میں سپرد خاک ہو گا ، بقول سید ضمیر جعفری خلد سے نکلے تو درماندہ کلاں پیدا ہوئے ہم کہاں بوئے گئے اور کہاں پیدا ہوئے۔۔۔۔۔۔جبار مرزا 13 مارچ 2026 ء ۔۔۔۔۔۔
نانی کمیٹیاں والی ==================شاہد اقبال کامران ============== میں ایسے شرپسند لوگوں کے خلاف قانون سازی کرنا چاہتا ہوں ،جو دوسروں کو ہر لحظہ ان کی عمر کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔شرلی بے بنیاد بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہے ۔ہزار بار سمجھا چکا ہوں ،تربیت کرنے کی کوشش کر چکا ہوں ، دم بھی کروا کر دیکھ لیا ہے ،لیکن اس کے نظام غور و فکراور طرز گفتار میں دوسروں کی بڑھتی عمر کا شمار اور برملا اظہار شامل رہتا ہے۔وہ بظاہر اپنائیت سے ،مگر درحقیقت شرپسندی سے لوگوں کے نام رکھتا ہے ، چاچو، ماموں، تایا، کھالہ(خالہ کو کہتا ہے) پھپھو یا پھپھی، اور نانی وغیرہ ۔اسے لاکھ بار سمجھایا ہے کہ لوگوں کو ان کے اعمال و کردار اور ان کی گفتار سے جانچا کرو ۔کسی کو ماما یا نانی کہہ دینے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔اس کا موقف بڑا عجیب و غریب سا ہے۔کہتا ہے کچھ غلطیاں انسان کم علمی ، نادانی اور انجانے میں کر گزرتا ہے۔وہ درگزر کے قابل ہوتی ہیں ۔لیکن غلطیوں اور مکاریوں کی بعض قسموں کا تعلق خالصتاً بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ہوتا ہے ۔وہ کہتا ہے کہ نانی کتنا محترم اور پیار بھرا رشتہ ہے ۔لیکن جن بزرگ مسمات میں نہ شفقت اور پیار ہو ،نہ دوسروں کا احساس ،لیکن بظاہر وہ ایسے ڈرامے کرتی پھریں جیسے وہ تو بہت ہی ہمدرد ،غم خوار دوسروں سے محبت اور شفقت کرنے والی ہستی ہیں۔ایسیوں کو وہ شیطان کی نانی قرار دیتا ہے۔خیر میں اس سے کیا بحث کروں ۔اس کا ایک ذاتی دکھ بھی سمجھتا ہوں ۔اس نے موٹر سائیکل خریدنے کے لیے محلے کی ایک عمر رسیدہ مگر ماہر امور کمیٹی خاتون کے ساتھ ایک کمیٹی میں شرکت کی تھی۔ یہ کمیٹیوں والی خاتون پیشے کے اعتبار سے دایہ تھی ۔اس پیشے اور مہارت کی وجہ سے وہ محلے کی تمام عورتوں کی رازدار ، خدمت گزار اور واقف حال تھی ۔شرلی باقاعدگی سے اپنے حصے کی کمیٹی اسے ادا کرتا تھا ۔اس نے اپنے اخراجات بہت ہی محدود کر دیئے تھے۔اس نے پلے سے چائے پینی چھوڑ دی تھی ،گھر میں ہوتا تو کھانا نہیں کھاتا تھا ، کوئی کھلا دے تو انکار نہیں کرتا تھا۔یہاں تک کہ ایک دن چھوڑ کر صابن سے منہ دھویا کرتا ۔اس نے پرانا پرفیوم ختم ہونے کے بعد نیا پرفیوم نہیں خریدا ،کہتا تھا کہ اب احساس ہوا ہے کہ انسان کے خیالات اچھے ہوں ، تو اس کے جسم انسانی کی اپنی مہک بھی بڑی دلفریب ہوتی ہے۔ستم ظریف کئی بار کہہ چکا تھا کہ شرلی بھائی میں گواہ ہوں کہ تم نے سب سے زیادہ فریب خود اپنے ہی دل کو دیئے ہیں۔لیکن اس دن قیامت ہی آگئی جب شرلی کو علم ہوا کہ جس مہینے کی سات تاریخ کو اس کی کمیٹی نکلنے والی تھی ،اس مہینے کی چھ تاریخ کو نانی کمیٹیاں والی ساری رقم لے کر غائب ہو گئی ۔نانی کمیٹیاں والی بلوچ ہوتی تو اس کے گم شدہ ہوجانے کو طرح طرح کے امکانات میں شمار کیا جا سکتا تھا،ممکن ہے شرلی اس کی تصویر والا پوسٹر لئے لاپتا افراد کے کسی احتجاج میں بھی شامل ہوا کرتا۔لیکن نانی کمیٹیاں والی تو شرلی کے شہر کے وسط میں رہنے والی سرد گرم چشیدہ اور بعد ازاں جہاں دیدہ خاتون تھی۔اس نقد نقصان نے شرلی کا دل توڑ کر رکھ دیا۔وہ خاموش آواز میں نانی کمیٹیاں والی کو بددعائیں دیا کرتا ۔ایک دن کھلکھلا کر ہنس پڑا ۔اس کے اس طرح سے بغیر کسی وجہ کے کھلکھلا کر ہنسنے سے میں اور ستم ظریف بڑے حیران ہوئے ۔پوچھا کیا ہوا شرلی؟
کہنے لگا یار میں ایک عرصے سے نانی کمیٹی خور کو بددعائیں دے رہا ہوں، ابھی ابھی اچانک ایک خیال میرے دل آیا کہ او نادان جس خدا نے آج تک تمہاری کوئی دعا قبول نہیں کی ، وہ تمہاری بددعا کیونکر سنے گا ۔چل چپ کر اور اپنے دھیان کو کسی دوسرے گیان میں لگا۔میری ہنسی چھوٹ گئی۔میں نے شرلی کو احتیاط سے تھپکی دی اور کہا کہ شرلی یار تم اچھے آدمی ہو ،دفع کرو نانی کے فراڈ کو ،وہ اللہ کی پکڑ میں ضرور آئے گی۔چند روز بعد شرلی دھڑام سے کمرے میں داخل ہوا ،اس سے پہلے کہ اس کے اس طرح آنے کی وجہ پوچھتے ،اکھڑے سانسوں کے ساتھ کہنے لگا وہ نانی کمیٹیاں والی واپس آ گئی ،واپس آ گئی ،قسمے بالکل پہچانی نہیں جارہی ۔فل ڈرامہ بن کر آئی ہے۔لوگوں نے اسے گھیر رکھا تھا ، وہ بڑے اطمینان کے ساتھ کہانی سنا رہی تھی کہ اس کے گھر چور گھس آئے تھے اور اس سے سارےپیسے چھین کر فرار ہو گئے ۔وہ فوری طور پر تھانے گئی تھی ،تھانیدار نے اسے مشورہ دیا کہ وہ کچھ دنوں کے لیے کسی عزیز رشتے دار کے ہاں چلی جائے ۔جب چور پکڑے گئے تو تمہیں اطلاع کر دیں گے۔بس اتنی سی بات ہے۔محلے میں کوئی بھی اس کی باتوں پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔لیکن پتہ نہیں کس طرح ،اس نے تھانیدار کو ساتھ ملایا ہوا ہے ۔تھانیدار نے ایک رضاکار سپاہی اس کے گھر کے باہر بٹھا دیا ہے تاکہ کوئی غصیلا محلے دار نانی فراڈن کا سر ہی نہ پھاڑ دے۔وہ تو بھلا ہو محلے کی اس دلیر خاتون کا ،جو دو وکیلوں کی بیوہ اور تیسرے وکیل کی بیوی ہے، اس نے اپنے حاضر سروس شوہر کی مدد سے نہ صرف نانی کمیٹیاں والی کے خلاف مقدمہ دائر کروایا ،بلکہ مسلسل پیروی اور اثر و رسوخ کے متناسب اور مناسب استعمال سے نانی کو مالی خرد برد کا الزام ثابت ہو جانے پر سزائے قید بھی دلوا دی۔اب نانی کمیٹیاں والی کو جیل کیا ہوئی ، شرلی مزید اداس اور مایوس ہو گیا۔پوچھا کہ یار تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے تھا نانی کے جیل جانے سے۔کہنے لگا اس کے جیل جانے سے خوشی تو ملے نہ ملے ،لیکن اب ہماری رقم ملنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ایک روز شرلی نے خبر دی کہ نانی ضمانت پر رہا ہو گئی ہے۔محلے میں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ اس کی پشت پر تھانیدار کی حمایت اور سفارش موجود ہے۔جیل سے آنے کے بعد نانی کے طور طریقے ، انداز نششت و برخاست ، یہاں تک کے چلنے پھرنے کا انداز بھی تبدیل ہوگیا۔اس نے یہ بات پھیلانا شروع کردی کہ وہ جیل کسی مالی خرد برد کی وجہ سے نہیں ، سیاسی مخالفین کی سازش کی وجہ سے گئی تھی۔وہ بڑے اعتماد سے کہتی کہ جیل نے مجھے گہرے غوروفکر کا موقع دیا ہے ۔وہاں میں نےجیل لائبریری کی ساری اردو کتابیں پڑھ ڈالیں ہیں ۔شاعری اور ناول تو منہ زبانی یاد ہیں ۔بس میڈیکل ایجوکیشن پوری نہیں ہو سکی ،اس لیے چھوڑنی پڑی ،اس کے علاؤہ میں نے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔شرلی اس بدلی ہوئی نانی کی باتیں سنتا اور توبہ توبہ کرتا ہے ،کہتا تھا کہ پہلے یہ دایہ گیری کیا کرتی تھی ،اب دادا گیری پر اتر آئی ہے۔وہ حیران تھا کہ اسے یہ چالاکیاں کون سکھا رہا ہے۔ پھر ایک روز بتانے لگا کہ ایک آن لائن اخبار روزنامہ تمانچہ انٹرنیشنل کا مدیر ہوشیار موٹا اس کا مشیر بن گیا ہے۔یہ ہوشیار موٹا بنیادی طور پر پولیس کا مخبر شمار ہوتا تھا ،پھر اس نے اپنی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ پر پریس لکھوانے کے لیے ایک آن لائن اخبار جاری کر دیا اور اب وہ نانی کا مشیر اعلی بنا پھرتا ہے۔اب نانی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ یونین کونسل کا الیکشن لڑے گی۔لوگ کہتے ہیں کہ ہوشیار موٹا اس کی سیاسی تربیت کر رہا ہے۔ہوشیار موٹے نے نانی کو سکھایا اور سمجھایا ہے کہ وہ جاہلوں کی طرح چیخ چیخ کر نہ بولا کرے۔اسے رک رک کر ،ٹھہر ٹھہر کر آہستہ آواز میں بولنا چاہییے۔ہوشیار موٹے نے نانی کو سمجھایا کہ وہ جیل کو شرمندگی کی بجائے اپنے لیے ایک فخر بنا کر پیش کیا کرے ۔وہ بار بار کہا کرے کہ وہ سیاسی قیدی تھی۔ ہوشیار موٹے نے اسے بہت ساری کتابوں اور ان کے مصنفین کے نام بھی یاد کرائے ،اور اسے سکھایا کہ وہ بس یہی باتیں کیا کرے ۔ہوشیار موٹے نے ایک سوشل میڈیا چینل پر ایک انٹرویو بھی اپنے موبائل فون سے ریکارڈ کر کے اپ لوڈ کروا دیا۔شرلی نے جس روز اپنے موبائل فون پر ہمیں نانی کمیٹی خور کا ہوشیار موٹے کو دیا گیا انٹرویو سنایا ،اس روز یقین آ گیا کہ اگر اب قیامت نہیں آئی ،تو پھر کبھی نہیں آئے گی ۔یعنی نانی بڑے تحمل اور آرام سے کہہ رہی تھی کہ”میرے ہسٹیریا میں مبتلا رہنے کی وجہ ہسٹری ہے ، جو میں نے فکشن پڑھتے ہوئے پائی کولو کے ہاں دیکھی ۔” مزید کہنے لگی کہ” جیل میں بہشتی زیور کی ایک سے زیادہ جلدیں دیکھ کر حیرت ہوئی،پوچھنے پر جیلر نے بتایا کہ جیل میں سنیارے بھی کافی زیادہ آتے ہیں۔” اس انٹرویو میں ایک سوال کے رٹے رٹائے جواب میں دایہ نانی کمیٹیاں والی کمال درجے کے اعتماد سے کہہ رہی تھی کہ” ایف ایس سی میں میرے کارل مارکس کم آئے تھے لیکن ابو نے چونکہ سرمایہ پڑھنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے سرمایہ جمع کرنے پر توجہ دے رکھی تھی
،اسلیے انہوں نے مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ دلوا دیا۔وہ تو میں نے خود ہی واپس کر دیا تھا ورنہ آج میں بھی ڈاکٹر ہوتی۔” ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایاکہ نطشے تھا تو گوالمنڈی ہی کا ،پر اردو ذرا مشکل سی لکھتا تھا۔پھر میں نے جیب خرچ سے رقم بچا کر لعنت کی ایک کتاب خریدی ،اس میں مشکل الفاظ کے معنی دیکھ لیتی تھی۔ یہ اچھا آدمی تھا ،اگر نشہ چھوڑ دیتا تو اور زیادہ اچھی کتابیں لکھ سکتا تھا۔ستم ظریف یہ انٹرویو سن کر کہنے لگا کہ یہ ساری “جاتی عمریا” کی کارستانیاں ہیں۔نانی کمیٹیاں والی نے سستے اسکرپٹ اور سست اینکر کا انتخاب کیا۔اور ایسے ایسے دعوے کر ڈالے ،جن کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اتنا “شدید” مطالعہ کرنے کی بجائے اگر یہ خاتون صرف خود سے میٹرک ہی کر لیتی، تو اس کی آنکھیں وغیرہ کھل چکی ہوتیں۔ شرلی پوچھنے لگا کہ یہ شدید مطالعے سے کیا مراد ہے ؟ ستم ظریف نے جواب دیا کہ یہ مطالعے کی وہ قسم ہے جو ذوق و شوق کی بجائے اندھا دھند طریقے سے کیا جاتا ہے۔اس میں کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا ،بلکہ جس طرح ختم پڑھنے کے لیے مدرسے کے بچے بلائے جاتے ہیں ،اسی طرح معمولی معاوضے پر لوگوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ ہسٹری میں سے فکشن نکال کر پڑھیں اور کاغذ پر لکھ کر چٹ پکڑا دیں۔ایسی بہت ساری چٹیں جب جمع ہو جائیں تو شرطیہ رنگ چٹا ہو جاتا ہے ۔کچھ یہی وجہ ہے کہ اب جاتی عمریا کی نانی کمیٹیاں والی اپنے گورے رنگ کے ساتھ ایک متحمل مزاج لیڈر بننے کی مشق کر رہی ہے۔
اب دوبئ کی ٹریڈنگ بذریعہ پاکستان ہو رہی ہے کنٹینرز جہازوں میں گراچی آ رہے ہیں اور لانچیں انہیں دوبئ لے کر جا رہی ہیں کراچی پورٹ اور قاسم پورٹ کو ٹرانزٹ شنپمنٹ کے لیئے تیزی کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے اگر اس سچوئیشن کو صحیح مینج کیا جاۓ تو کراچی واپس کراچی بنُ سکتا ہے
اسلام آباد:پاکستان میں برطانیہ کی سفیر جین میریٹ کی اسلام آباد میں جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد جین میریٹ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پاکستان اور خطے کی سیاسی و سیکورٹی صورتحال پر بات چیت رہنماؤں میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت پاکستان افغانستان،اسرائیل/امریکہ ایران اور خلیجی ریاستوں کی سیکورٹی صورتحال پر بات چیت پاک برطانیہ تعلقات بڑھانے پر اتفاقامیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا برطانیہ سے خطے میں سکیورٹی صورتحال پر اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہہم اس حوالے سے ان تمام ممالک سے رابطے میں ہیں اور اپنا سفارتی کردار ادا کررہے ہیں،جین میریٹملاقات میں انجنئیر ضیاء الرحمان اور برطانوی پولیٹیکل قونصلر بھی موجود تھے۔
“عدلیہ نے وہی کیا جو پچھلے 3 سال سے کررہی ہے،ایک بار پھر عدلیہ نے اپنا اصل چہرہ دکھادیا۔۔ جج سے استدعا کی کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے، جج نے دوران سماعت ہماری تمام باتوں سے اتفاق کیا کہ یہ عمران خان کا بنیادی حق ہے،انکے سارے ٹیسٹ ہونے چاہئیں اور یہ بھی پتہ چلنا چاہئے کہ کلاٹ کیسے آیا؟ لیکن پھر سماعت میں وقفہ آیا ، جج صاحب 15 منٹ کیلئے اندر چلے گئے اور انہیں لکھا لکھایا فیصلہ آگیا”۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے_*وزیراعظم سعودی عرب میں چند گھنٹے قیام کریں گے اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کے بعد وطن واپس روانہ ہو جائیں گے جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رائل ٹرمینل پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر عزت مآب پرنس سعود بن مشعل بن عبد العزیز ، ریاض میں تعینات پاکستان کے سفیر احمد فاروق ، جدہ میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان سے کے درمیان ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہو گیاس دورہ سے پاکستان کا سفارتی میدان میں مثبت کردار واضح ہو رہا ہے اور پاکستان یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔__
دنیا بدل گئی ہے ۔ اظہر سید امریکہ کو کسی نے نہیں ڈبویا یہ کیپٹلزم کے گھاٹ اترا ہے ۔سپر پاور کی کہانی اسی طرح ختم ہو رہی ہے جس طرح ماضی کی عظیم سلطنتیں فنا کے گھاٹ اتریں۔ایران پر حملہ اونٹ کی کمر پر وہ تنکہ ہے جس کا بوجھ اٹھایا جانا ممکن نہیں رہا ۔سب کو حقیقت کا پتہ چل گیا ہے ۔ایرانی جنگ بندی کا معاوضہ مانگنے لگے ہیں ۔سعودی عرب نے ایران پر حملہ نہیں کیا امریکی شکوہ کرنے لگے ہیں۔کیپٹلزم خود غرض ہے ۔ یہ کیپٹلزم بیس سال تک امریکہ کو افغانستان میں بٹھا کر اس کا دودھ نکالتا رہا ۔ایک امریکی فوجی کی عینک ،کپڑے اور جسم پر سجے دوسرے سازو سامان سے دو سو سے زیادہ جونکیں خون چوستی رہیں ۔کھربوں ڈالر کے اخراجات کے بعد جب ہاتھی نڈھال ہو گیا تو ان جونکوں یعنی جنگی صنعتوں نے امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت دے دی۔جنگی صنعت کے منہ کو جو خون لگ چکا ہے اس نے پہلے وینزویلا پر حملہ کروایا پھر ایران پر چڑھ دوڑا ۔مارکیٹ میں دوسرے کھلاڑی بھی موجود ہیں۔جب جونکیں امریکی معیشت کو چوس رہی تھیں چینی خاموشی سے ترقی کرتے جا رہے تھے ۔آپریشن سیندور کے بعد بھارت کی دھوتی اتری ایران پر حملہ امریکی دھوتی اتار دے گا ۔سعودی عرب اس لئے ایران پر حملہ نہیں کر رہا باقیوں کی طرح سعودیوں کو بھی پتہ چل چکا ہے ہاتھی دم توڑ رہا ہے ۔اردن،قطر،عراق ،بحرین شام کسی نے ایران پر حملہ نہیں کیا باوجود اس کے ایرانی میزائل انہیں نشانہ بناتے رہے ۔ظلم تو یہ کرد بھی امریکیوں کے قابو میں نہیں آئے ۔کوئی دن جاتا ہے ایران جنگ ختم ہو جائے گی ۔امریکی دھوتی اتر جائے گی ۔خلیج کی ساری ریاستیں امریکیوں کے اثر سے آزاد ہو جائیں گے ۔دنیا کو چلانے کے نئے اصول وضع ہونگے ۔
گورباچوف نے پسپائی کا فیصلہ کر کے دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچا لیا تھا ۔سوویت یونین کو تحلیل کر دیا تھا ۔سوویت یونین چاہتا تو دنیا کو تین مرتبہ تباہ کر سکتا ہے ۔خود بھی مرتا ساری دنیا کو بھی مار دیتا لیکن روسی انسانیت کے محسن ثابت ہوئے ۔امریکی معیشت بھی سوویت معیشت کی طرح برباد ہو چکی ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سپر پاور کو کھا لیا ہے ۔امریکی اسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں کبھی سوویت یونین کھڑا تھا۔وہی آپشن امریکہ کے پاس ہے جو کبھی سوویت یونین کے پاس تھے ۔ایٹمی ہتھیار استعمال کریں اور ایران کو شکست دے دیں یا پسپا ہو جائیں ۔امریکی ریاستوں کو آزاد ہونے کی اجازت دے دیں ۔سوویت یونین نے ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے تھے ۔دیکھنا یہ ہے امریکی کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ایران میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استمال کئے یا روایتی ایٹم بم استعمال کیا پورے خلیج کا نقشہ تبدیل ہو گا اور ساتھ میں دنیا کا نقشہ بھی بدلے گا ۔دوسری جنگ عظیم میں صرف امریکیوں کے پاس جوہری ہتھیار تھے آج پانچ نہیں سات ایٹمی طاقتیں ہیں ۔کر لیں ایران میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال اور لے آئیں دنیا کو اس سطح پر جہاں اگلی عالمی جنگ پتھروں سے لڑی جائے ۔
گورنر سندھ۔۔۔۔۔۔۔!تحریر: ایڈووکیٹ محمد نواز ڈاہری گورنر ہاؤس اور گورنر کہ منصب کو اپنے صحافتی کیریئر میں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اگر موجودہ گورنر سندھ کامران ٹسوری سندھ کہ تقسیم کی بات اور گورنر ہاؤس کو سندھ میں لسانیت پھیلانے کہ لیے استعمال نہ کرتا تو شاید سندھ کا واحد عوامی گورنر ہوتا۔ جس نے بغیر کسی سرکاری فنڈز کہ عوام کی خدمت کی اور گورنر ہاؤس کو عوام کہ لیے کھولا اور بڑے پیمانے پر عوامی فلاحی کام کئے۔ بحرحال ایک بات ملک بھر کہ سیاستدانوں کو سمجھ لینی چاہئے کہ سندھ کہ لوگ اپنی دھرتی سے جنون کی حد تک عشق کرتے ہیں۔ اور اپنی ماں سمجھتے ہیں۔ جس پر دھرتی کا بٹوارا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ سندھ دھرتی میلی آنکھ رکھنے والا شخص بھلے کتنا ہی اثر رکھنے والا ہوں وو قبل قبول نہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نئیں گورنر سندھ جس کا تعلق نون لیگ سے ہے وو صوبے کہ عوام کہ لیے کتنے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ یا پھر ماضی کہ نون لیگ کہ گورنر کی طرح پیشہ ورانہ کام پر توجہ کم اور اواری ٹاور میں وقت زیادہ بسر کریں گے۔ ماضی کا ایک تلخ تجربہ رہا ہے کہ نواز لیگ کبھی بھی سندھ صوبے کہ لیے کوئی خاص فائدہ مند نہیں رہی۔ نہ ہی سنجیدہ رہی ہے۔
اسرائیل نے مصر میں برطانوی دفاتر پر بمب بلاسٹ کروائے تاکہ برطانیہ مصر سے جنگ شروع کردے۔۔کہانی شروع کرنے سے پہلے آپ کو اس کا تھوڑا پس منظر بتادیتا ہوں 1859فرانس کا ایک سفارت کار فرڈینینڈ ڈی لیسیپس مصر میں آیا اور اس نے اس نہر کا منصوبہ پیش کیا اور اسی کی کمپنی نے نہر کا نقشہ ،نہر بنانا وغیرہ سب سنبھالا مزدور مصر کے کسان تھے حالانکہ اس سے پہلے بھی یہ نہر بنانے کی کوشش ہوچکی تھی لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر تعمیر شروع نہیں کی گئی اس نہر کے بارے میں بتادوں کہ دنیا کی بارہ فیصد تجارت اس نہر کے ذریعے سے ہوتی اور روزانہ اربوں ڈالر مالیت کا سامان اس نہر سے گزرتا خیر نہر سے بحیرہ روم اور بحیرہ احمر آپس میں مل گئے جس سے 8900 کلومیٹر کا سفر کم ہوگیا اس کی لمبائی 193 کلومیٹر ہے اور یہ دس سال میں بنی اس میں پندرہ لاکھ مزدوروں نے حصہ لیا اور ڈیڑھ لاکھ مزدور مارا گیا جبری مشقت اور بیماریوں کی وجہ سے یہ ظلم کی الگ کہانی ہے جو فلحال موضوع نہیں دس سال بعد نہر تعمیر ہوگئ لیکن تب مصر کافی مالی مشکلات کا شکار تھا اور قرضے میں ڈوبا ہوا تھا قرضے میں ڈبونے کے لیے بھی ایک جال بچھایا گیا تھا دو لائنوں میں بتادیتا ہوں کہ پہلے کسانوں سے مفت زبردستی کام کروایا جارہا تھا پھر فرانس ایک قانون پاس کرتا ہے کہ کسانوں سے جبری مزدوری کروانا بند کیا جائے اس سے کیا ہوا مزدور اجرت پر بھرتی کرنے پڑے ،کمپنی سے معاہدہ ہوا تھا کہ فری مزدوری ہوگی لیکن اب مشینیں منگوانی پڑیں گی تو کمپنی کے معاہدے کو توڑنے کا جرمانہ کردیا فرانس نے مصر پر جس سے مصر مزید قرضے میں ڈوب گیا خیر یہ بہت بڑی سازش تھی اس پر الگ سے تحریر لکھوں گا تب اس وقت کے حکمران اسمائیل پاشا نے فیصلہ کیا کہ اس نہر کے کچھ حصص بیچے جائیں آج کے دور میں آپ سمجھ لیں جیسے ٹول پلازے ہوتے جو گرزنے والی گاڑیوں سے ٹیکس لیتے
،اس نہر سے جو بھی جہاز گزرتا تو اس کو ٹیکس دینا پڑتا پاشا نے اس کے شئیر بیچنے کا اعلان کیا برطانیہ کے وزیراعظم کی پہلے ہی نظریں اس نہر پر تھی اور جتنی بڑی رقم چاہیے تھی وہ اس کے پاس نہیں تھی نہ سرکاری فنڈ میں سے لے سکتا تھا تو اس نے فورا ایک رتھشیلڈ خاندان کے یہودی سے رابطہ کیا جس نے چند گھنٹوں میں چالیس لاکھ پاونڈ بھیج دیا اب یہ بھی بتادوں کہ جن بینکوں کے قرضے تلے مصر ڈوبا تھا وہ بھی اسی رتھشیلڈ خاندان کے تھے 💀یہ بھی الگ کہانی ہے قرضے یہودیوں کے جال ہیں اس دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے جن میں پاکستان بھی پھنسا ہوا افسوس کے ساتھ خیر اس سے قرضوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا تو فرانس برطانیہ اور خاندان نے قرضوں کا بہانہ لگاکر اسمائیل کی حکومت کو ختم کرکے ایک نیا بندا بٹھادیا جس کا نام توفیق پاشا جو فرانس ،برطانیہ اور رتھشیلڈ وغیرہ کی کٹھ پتلی تھی اس کے دور میں مصر کا سارے نظام کو یورپین چلاتے تھے اور عوام کو یہ بات پتہ چل گئی تھی اس وجہ سے اس سے نفرت کرنے لگ گئی اس نہر سے ملینز آف ڈالر فرانس ،برطانیہ اور رتھشیلڈ کو جاتے تھے جبکہ جن کے ملک میں نہر تھی ان کو کچھ نہیں ملتا تھا پھر مصر میں بغاوت ہوئی احمد عرابی نے بغاوت کردی کہ مصر صرف مصریوں کے لیے یورپ برطانیہ کو نکالا جائے اس ملک سے توفیق پاشا بزدل تھا وہ خوفزدہ ہوکر برطانوی بحریہ کے پاس پناہ میں چلا گیا اور برطانیہ نے مصر پر حملہ کرکے احمد عرابی کی بغاوت کو کچل دیا اس کو گرفتار کرلیا اور مصر پر قبضہ کرلیا اور توفیق کو واپس بٹھادیا پھر توفیق پاشا فوت ہوگیا اس کا بیٹا اگیا جو مصر کے ساتھ مخلص تھا وہ برطانیہ کو پسند نہیں آیا تو اس کو بھی ہٹادیا عہدے سے اور مزید کٹھ پتلیاں کھڑی کردی جو ستر سال چلی 1954 میں شاہ فاروق جو توفیق پاشا کے ہی خاندان سے ایک کٹھ پتلی تھا اس کی حکومت میں جمال الناصر نے بغاوت کرکے اس کی حکومت کو ختم کیا لیکن برطانیہ کی فوج اس وقت نہر سوئیز کی حفاظت پر مامور تھی جو شاید اسی ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی ناصر نے برطانیہ کو مجبور کردیا کہ وہ اپنی فوج یہاں سے نکال لے ،برطانیہ ویسے ہی کمزور ہوچکا تھا بہت سے علاقے ہاتھ سے نکل چکے تھے جن میں پاکستان اور بھارت بھی تھا تو برطانیہ نے فوج واپس بلانے کا سوچا لیکن اس وقت اسرائیل نے دیکھا کہ اگر برطانیہ چلا گیا تو ناصر ہمارے لیے خطرہ بن سکتا اور اس سے رتھشیلڈ کا جو اس نہر پر قبضہ تھا خفیہ طور پر وہ خطرے میں دکھائی دیا تو اسرائیل کے وزیر دفاع نے فورا کچھ یہودیوں کو بمب دئیے کہ وہ مصر میں موجود امریکی اور برطانوی دفاتر ،سفارت خانوں اور دیگر عمارتوں کو اڑھادیں اس منصوبے کو لاوون افئیر کہا جاتا اس کا تاثر یہ دینا تھا کہ ناصر برطانیہ اور امریکہ کے لیے خطرہ ہے اس کو ہٹادیں دونوں مل کر اور جو برطانیہ کی فوج نہر پر حفاظت کرتی اس کو مصر سے نہ نکالا جائے لیکن یہ ناکام ہوگیا جب ایک ایجنٹ کا بمب اس کی جیب میں ہی پھٹ گیا تب کاروائی ہوئی اور پورا ایجنٹ گروپ پکڑ لیا گیا اسرائیل نے شروع میں انکار کیا لیکن ثبوت اتنے واضح تھے کہ اسرائیل کو قبول کرنا پڑے اور اپنے ایک وزیر دفاع کو بھینٹ چڑھایا اس کو عہدے سے برطرف کرکے کہ سب اسی نے کیا تھاتب اسرائیل نے اپنا سازشی نظام بھی تبدیل کیا تھا تاکہ دوبارہ کچھ ایسا ہو تو اوپر والے کسی کا نام آئے جو الگ کہانی جب اسرائیل پکڑا گیا تو برطانیہ نے اپنی فوج نکال لی مصر سے اس سے اسرائیل اور برطانیہ کے تعلقات پر اثر پڑا لیکن جب بیٹھی ہی کٹھ پتلیاں ہوں تو کیا فرق پڑتا سب پہلے جیسا ہوگیا
پھر ناصر نے اعلان کردیا کہ نہر ہمارے قبضے میں ہے اب اس سے رتھشیلڈ اور برطانیہ کے مفادات کو خطرہ محسوس ہوا کیونکہ اسی نہر سے تجارت اور ٹول ٹیکس سمجھ لیں اس کے ملینز آف ڈالرز ان دونوں کو آتے تھے تب فرانس اسرائیل اور برطانیہ نے مصر پر حملہ کردیا یہاں پر بہت کچھ ہوا ،اسرائیل نے مصر کا کمیونیکینشن سسٹم ہیک کیا تھا جو ناصر کی موت کا سبب بن گیا لمبی کہانی ہے اگلی تحریر میں بتاوں گا ۔کچھ لوگ کمنٹس میں کہہ رہے کہ سب کچھ اگلی تحریروں میں کیوں آنا اسی میں کیوں نہیں تو یہ ایک صدی کا واقعہ ہے جو میں نے ایک تحریر میں لکھا اب نہر سویر پر ایک پوری کتاب ہے اس کو ایک تحریر میں کیسے لکھا جاسکتا ؟سمجھنے کی کوشش کیا کریں بات کو ۔#LavonAffair
ایران اور اسرائ*یل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بھارت جانے والے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جسے بعض ماہرین ایران کے ممکنہ ردعمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تھائی لینڈ کے مال بردار جہاز مے یوری ناری کو اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس جہاز پر بھارت کے شہر گجرات کے لیے سامان لے جایا جا رہا تھا۔رپورٹس کے مطابق حم*لے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور اس کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، تاہم عملے کے کئی ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و بھارت تعلقات میں موجود پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایران بھارت کی اس پالیسی سے ناراض ہے جس میں وہ بیک وقت ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ عملی طور پر اسرائ*یل کے قریب سمجھا جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران حالیہ بعض اقدامات کو اپنے خلاف بھارتی صف بندی کا حصہ سمجھ رہا ہے، اسی لیے بھارت جانے والے
**Operation Ghazab Lil Haq/ Update 13 March 2026*🚨🚨*آپریشن غضب للحق جاری
، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملوں کی ویڈیو جاری*پاک افواج نے 12/13 مارچ کی درمیانی شب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد ٹھکانوں بشمول فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ، *سیکیورٹی ذرائع*ان حملوں میں پاک افواج نے قندھار میں تراوو (Tarawo) دہشتگرد کیمپس کو موثر انداز میں تباہ کیا ، *سیکیورٹی ذرائع*ان کامیاب فضائی حملوں میں صوبہ پکتیا میں شیرِناؤ دہشتگرد کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا، *سیکیورٹی ذرائع**آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی*