All posts by admin

وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ آئی پی پی کے معاہدوں کو کسی صورت تبدیل نہیں کریں گے کیونکہ یہ سی پیک معاہدوں کی کی طرح اہم ہیں

وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ آئی پی پی کے معاہدوں کو کسی صورت تبدیل نہیں کریں گے کیونکہ یہ سی پیک معاہدوں کی کی طرح اہم ہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ سولر لگانے والے آئی پی پیز سے معاہدے بہت اہمیت رکھتے ہیں، سولر پینلز کے حوالے سے 7، 7 سال کے لیے معاہدے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ریکوڈک کی طرح 900 ملین کا فائن نہیں دے سکتے، ہماری اس حوالے سے نہ تو کسی چائنیز پاور پروڈیوسر نہ کسی اور پلانٹ والے کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے، ہم ایک ہی دفعہ پورے اسٹرکچر کو اسٹڈی کرکے ذمہ داری کے ساتھ بات کریں گے، جس میں دونوں کا فائدہ ہو۔

گوجرانوالہ میں بجلی کے بل سے تنگ خاتون نے خودکشی کر لی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

گوجرانوالہ میں بجلی کے بل سے تنگ خاتون نے خودکشی کر لی۔واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔ جس میں خاتون کو نہر میں چھلانگ لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔آخری اطلاع آنے تک خاتون کی لاش کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری تھا۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ رضیہ بی بی نے بجلی کابل جمع کروانے کے بعد خودکشی کی۔ورثاء نے مزید بتایا کہ رضیہ بی بی بیمار تھی اور علاج چل رہا تھا، گھر میں جو پیسے تھے اس کا بجلی کا بل جمع کروا دیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

جماعت اسلامی نے جمعے کو اسلام آباد میں مہنگائی، ٹیکسوں، بجلی کے بلوں اور ظالمانہ ٹیرف کے خلاف دھرنا دے دیا۔وفاقی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو ڈی چوک کی جانب مارچ اور دھرنے کی اجازت نہیں دی،

جماعت اسلامی نے جمعے کو اسلام آباد میں مہنگائی، ٹیکسوں، بجلی کے بلوں اور ظالمانہ ٹیرف کے خلاف دھرنا دے دیا۔وفاقی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو ڈی چوک کی جانب مارچ اور دھرنے کی اجازت نہیں دی، اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی راستوں پر کنٹینر لگا کر سڑکیں بند کر دی گئیں جس کی وجہ سے کارکنان نے تین بڑے مقامات لیاقت باغ، فیض آباد اور 26 نمبر چونگی کی مرکزی شاہراہوں پر دھرنے دے دئیے تاہم ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد جماعت اسلامی کو مری روڈ پر دو سے تین روز تک پُرامن دھرنا جاری رکھنے کی مشروط اجازت مل گئی۔وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے مذاکرات کی پیشکش بھی کر دی جسے امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے قبول کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری بااختیار کمیٹی بنائے اور اگر حکومت ریلیف دینے کی بات کرے گی تو پھر بات آگے بڑھے گی، دھرنا ایک ماہ چلے یا اِس سے بھی زیادہ وہ تیار ہیں،پانی سر سے گزر چکا،مراعات یافتہ طبقے کو اپنی مراعات چھوڑنا ہوں گی۔اُن کا کہنا تھا کہ نئے الیکشن کا مطالبہ کرنے والا کسی اور کا ایجنٹ تو ہو سکتا ہے مگر ملک اور پارٹی کا وفادار نہیں ہو سکتا۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کو ریلیف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا، بجلی بلوں پر ریلیف لئے بغیر وہ واپس نہیں جائیں گے۔انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر(آئی پی پیز) سے متعلق اُنہوں نے کہاکہ 80 فیصد مالکان پاکستانی ہیں،اُن سے بات کر کے معاہدوں پر نظرثانی کرنا ہو گی،یہ چند سرمایہ داروں کی کمپنیاں ہیں جو قوم کو لوٹ رہی ہیں، کپیسٹی چارجز اور پٹرول کی لیوی برداشت نہیں کریں گے، بجلی کے بلوں نے بے کس عوام کی کمر توڑ دی ہے، حالات اُس نہج کو پہنچ چکے ہیں کہ سگے بھائی ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ دھرنے کی وجہ سے راستے بند ہو گئے اسلام آباد، راولپنڈی میں دن بھر نظامِ زندگی درہم برہم رہا،ملحقہ علاقوں میں بھی ٹریفک کا نظام مفلوج رہا، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ر ہیں۔ جماعت اسلامی مُصر ہے کہ اگر اِس کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا یہ سلسلہ پورے ملک میں پھیل جائے گا۔ملک میں اِس وقت بجلی کی بڑھتی قیمتیں ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہیں،بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافے کے بارے میں گزشتہ ہفتے سابق نگران وفاقی وزیر برائے تجارت گوہر اعجاز نے مطالبہ کیا تھا کہ تمام 106 آئی پی پیز کا ڈیٹا عام کیا جائے، قوم کو بتایا جائے کہ کس بجلی گھر نے اپنی صلاحیت کے مطابق کتنی بجلی پیدا کی؟انہوں نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں اور ادائیگیوں پر کڑی تنقید بھی کی تھی۔اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران آئی پی پیز کو 1.95 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں کی گئیں جو کہ غلط معاہدات اور بدانتظامی کا نتیجہ ہیں۔اِن معاہدوں نے صارفین کے لئے بجلی کی قیمتوں میں بے حد اضافہ کیا ہے، کچھ بجلی گھر حکومت کو 750 روپے فی یونٹ تک بجلی فروخت کر رہے ہیں جبکہ کچھ کوئلے کے پلانٹس اوسطاً 200 روپے فی یونٹ جبکہ ہوا اور شمسی توانائی پلانٹس 50 روپے فی یونٹ سے زیادہ کی قیمت پر بجلی بیچ رہے ہیں۔ گوہر اعجاز نے اِن معاہدوں کی غیر مؤثر کارکردگی کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی پی پیز کو کم صلاحیت پر چلتے ہوئے بھی بھاری رقوم ادا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ”کیپیسٹی ادائیگیوں“ کی شق پر بھی تنقید کی جس کی وجہ سے آئی پی پیز بجلی پیدا نہیں کر رہے لیکن پھر بھی اُنہیں پوری ادئیگی کی جا رہی ہے۔ گوہر اعجاز نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اِن معاہدوں کو نہ صرف مذاکرات کے ذریعے دوبارہ طے کیا جائے اور تمام آئی پی پیز کو مرچنٹ پلانٹس کے طور پر رکھا جائے تاکہ بجلی صرف سستے فراہم کنندگان سے خریدی جائے۔سابق وفاقی وزیر نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اِن غیر منصفانہ معاہدوں کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ ملک کو مزید مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔اُن کا مطالبہ تھا کہ بجلی کی اصل قیمت 30 روپے فی یونٹ سے کم ہونی چاہیے،آئی پی پیز کے نتیجے میں پاکستان میں عوام کو بجلی کا ایک یونٹ 65 روپے کا پڑ رہا ہے جس میں ہرایک دو روز کے بعد اضافہ ہو جاتا ہے۔ افغانستان میں گھریلو صارفین کو بجلی کا ایک یونٹ 1 اعشاریہ 50 پاکستانی روپے میں پڑ رہا ہے اور بھارت میں گھریلو صارفین کو ایک یونٹ چھ سے نو روپے کے درمیان پڑتا ہے جبکہ کمرشل یونٹ کی قیمت 10 سے 20 روپے متعین کی گئی ہے۔ بنگلہ دیش میں ایک گھریلو یونٹ کی قیمت کم و بیش 20 روپے پاکستانی ہے،مذکورہ اعداد و شمار کے حساب سے جنوبی ایشیاء میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں ہے۔ بجلی کے بھاری بل ادا کرنا عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہو چکا ہے، بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ سے زیادہ اُن کا بِل آ جاتا ہے۔تنخواہ دار طبقہ بجلی کے علاوہ ٹیکس کے بوجھ تلے بھی دبا ہوا ہے، پاکستان بزنس کونسل نے دو روز قبل ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کی آمدنی پر ٹیکس بھارت سے 9.4 گنا زائد ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام کا معیارِ زندگی ابتر ہو گیا ہے، ہر کوئی ڈیپریشن کا شکار ہے، بھائی بھائی کا دشمن ہو رہا ہے، کوئی کسی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے جبکہ اشرافیہ کی مراعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔اِس وقت ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ بجلی اور مہنگائی پر قابو پایا جائے، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے اِس وقت گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں، جماعت اسلامی احتجاج کی راہ پر چل پڑی ہے، پُرامن احتجاج ہر کسی کا جمہوری حق ہے، حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے جسے جماعت اسلامی نے قبول بھی کر لیا ہے۔تمام فریقین کو مل بیٹھ کر اِس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے،جائز مطالبات کو مان لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ کیپسٹی ادائیگیوں سے نجات حاصل کرنے پر غور کرے، کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کرے جس سے سب کے لئے آسانی ہو جائے۔حکومت کو عام آدمی کو ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے بصورت دیگر معاملات مزید بگڑیں گے اور زندگی مشکل ہوتی چلی جائے گی۔ہ ٹیکسٹائل ملز مالکان کو گھر بیٹھے گزشتہ 10 برس سے سستی گیس کی مد میں ماہانہ قریباً 19 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے جو سالانہ 232 ارب روپے بنتی ہے۔ گزشتہ 10 برس میں ٹیکسٹائل مل مالکان کو سستی گیس کی مد میں دی گئی رعایت 2320 ارب روپے (9 ارب ڈالر) بنتی ہے۔ قریباً اتنا ہی حکومت نے پچھلے 10 برس میں آئی ایم ایف سے قرض لیا ہے۔سما ٹی وی پر اپنے ٹاک شو میں ابصار عالم نے کہا کہ گوہر اعجاز ٹیکسٹائل ٹائیکون، بزنس لیڈر اور سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔انہوں نے پاکستان میں مہنگی بجلی کے معاملے کو ہائی لائٹ کیا ہے، اپنی ایکس پوسٹس میں انہوں نے بجلی کے بلوں میں اضافے کی اصل وجوہات کا انکشاف کیا اور بتایا کہ بجلی کے کارخانے چلانے والے امیر ترین افراد اور کمپنیاں کس طرح عوام کو لوٹ رہی ہیں۔ابصار عالم کا کہنا تھا کہ اعجاز گوہر نے بہت اچھا کام کیا، ڈیٹا بھی شیئر کیا، اگرچہ یہ کام وہ حکومت رہتے ہوئے نہیں کر پائے تھے، اس کی جو بھی وجہ ہو لیکن اس کا فائدہ عوام کو ہوگا۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ اس لوٹ مار کا حساب لینے کے لئے سپریم کورٹ جا رہے ہیں اور اپنے پیسے سے فرانزک آڈٹ بھی کروائیں گے۔ 40 آئی پی پیز مالکان کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے حالانکہ 101 افراد نے بجلی کے کارخانے لگائے تھے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اعجاز گوہر صرف 40 کے خلاف کیوں عدالت جا رہے ہیں۔ اعجاز گوہر کا موقف درست ہے لیکن وہ آدھا سچ بتا رہے ہیں اور آدھا چھپا رہے ہیں جو ٹیکسٹائل ملز مالکان کے بارے میں ہے، کیونکہ وہ خود بھی ٹیکسٹائل مل کے مالک ہیں۔ کیا ان کے منتخب کردہ 40 آئی پی پیز مالکان میں وہ ٹیکسٹائل ملز مالکان بھی شامل ہیں جنہوں نے کیپٹیو پاور پالیسی کے تحت پاور پلانٹس لگائے پھر بجلی بیچی اور سستی گیس کی مد میں حکومت سے 2320 ارب روپے (9 ارب ڈالر) کی رعایت بھی حاصل کی۔ اس رعایت کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئی پی پیز کے علاوہ کیپٹیو پاور پلانٹس مالکان کے ساتھ بھی معاہدہ کیا تھا۔ ٹیکسٹائل ملز مالکان کا دعوی ٰ تھا کہ ہمیں سستی گیس فراہم کریں، جس سے ہم بجلی بنا کر سستی اشیا تیار کریں گے اور عالمی منڈی پر ان اشیا کی قیمت کم ہونے پر ہمیں کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا۔مذکورہ معاہدہ قریباً 10 برس قبل 2012- 13 میں ہوا تھا۔ اس دوران تمام بڑے ٹیکسٹائل ملز مالکان کو سستی گیس کی مد میں 1300 سے 1600 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو والی گیس 686 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو میں فراہم میں گئی۔ حکومتی پاور پلانٹس کو بھی یہ گیس ایک ہزار روپے فی ایم ایم بی ٹی یو میں دی جاتی تھی۔ٹیکسٹائل ملز مالکان کو گھر بیٹھے سستی گیس کی مد میں ماہانہ قریباً 19 ارب روپے کی سبسڈی ملتی رہی جو سالانہ 232 ارب روپے بنتی ہے۔ گزشتہ 10 برس میں ٹیکسٹائل مل مالکان کو سستی گیس کی مد میں دی گئی رعایت 2320 ارب روپے بنتی ہے، یعنی 9 ارب ڈالرز روپے کا فائدہ۔ اتنا ہی حکومت نے پچھلے 10 برس میں آئی ایم ایف سے قرض لیا۔ اس دوران برآمدات بھی نہیں بڑھیں۔کیا سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز 40 آئی پی پیز مالکان کی طرح ان ٹیکسٹائل ملز مالکان کو بھی سپریم کورٹ میں لیکر جائیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکسز بڑھانے کے لیے عوام کو سہولیات دینا ہوں گی اور چین سے توانائی قرض کی واپسی میں توسیع پر مثبت گفتگو ہوئی ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چین اور امریکا دونوں بلاکس کے ساتھ آگے چلنا ہے

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکسز بڑھانے کے لیے عوام کو سہولیات دینا ہوں گی اور چین سے توانائی قرض کی واپسی میں توسیع پر مثبت گفتگو ہوئی ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چین اور امریکا دونوں بلاکس کے ساتھ آگے چلنا ہے، چین نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی حمایت کی ہے، آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری میں چین پاکستان کی حمایت کرے گا۔وزیر خزانہ نے کہاکہ ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، اگر ٹیکسز بڑھانے ہیں تو حکومت کو بھی عوام کو سہولیات دینا ہوں گی، مقامی سطح پر ٹیکسز کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ مجھے کہتا ہے آپ نے ہمارے لئے کیا کیا، کوشش کر رہے ہیں نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجر دوست اسکیم متعارف کرائی ہے، تاجروں کیلئے ٹیکسیشن کے عمل کو انتہائی آسان کردیا ہے، ٹیکس نادہندگان ملک اور عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، ٹیکس واجبات کی ادائیگی سے معیشت مضبوط ہوگی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ تاجر اور سرمایہ کاروں کیلئے سہولیات کی فراہمی ترجیح ہے، ایف بی آر کی اصلاحات پر ہر ہفتے میٹنگ ہوتی ہے، وزرائے اعلیٰ زرعی شعبے میں ٹیکس کیلئے قانون سازی لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نان فائلز کا پورا لائف سٹائل کا ڈیٹا موجود ہے، ڈیٹا ہی سب سے بڑا ثبوت ہوگا، نان فائلرز کو ٹیکس افسران براہ راست نوٹس نہیں بھیج سکیں گے، اس کے نتیجے میں ایف بی آر سے ہراسگی ختم ہوگی، نان فائلز کو سینٹرلائزڈ طریقے سے نوٹس کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ توانائی پر تفصیلی بات چیت ہوئی، دورہ چین میں پانڈا بانڈ اور کول پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقلی کی بات ہوئی، چین کے وزرا نے آئی ایم ایف سے بات چیت کو سراہا، چین نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی حمایت کی ہے، آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری میں چین پاکستان کی حمایت کرے گا۔وزیر خزانہ نے زور دیا کہ ہمیں ٹیکس کے مراحل کو آسان کرنا ہوگا، بیرون ممالک میں ہر سال ایک سادہ فارم آتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے آپ کا اتنا ٹیکس کٹ چکا ہے، بس شہری کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ اس نے کوئی گاڑی یا گھر خریدا یا فروخت کیا، لیکن یہاں میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر سال تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے وکیل کی ضرورت پڑتی ہے۔چین کے ساتھ 15 ارب ڈالر کے توانائی قرضوں کی ری شیڈولنگ سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ چین سے 2 چیزوں پر بات ہوئی ہے، کہ برآمدی کوئلے والے پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر کیسے تبدیل کرنا ہے، دونوں ممالک مشترکہ طور پر اس پر کام کریں گے، بہت ہی نازک معاملہ ہے، معاہدہ تو ہم کل صبح ہی ختم کرسکتے ہیں، ختم کرکے آگے بڑھ جائیں گے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔

پاکستان مجموعی طور پر زوال کی ساری منزلیں طے کئے بیٹھا ہے۔کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔آج پاکستان کے پاس ان نوجوانوں کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ تعلیم ، نہ صحت اور نہ تحفظ۔حد یہ ہے کہ اس ملک میں انجینئرز ، ڈاکٹرز اور آئی ٹی نوجوانوں کے لیے نوکریاں دستیاب نہیں ہیں۔۔اب تو ایک طرح سے نوجوان نسل کی تمام امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔ مایوس ہو کر اب بڑے چھوٹے ملک چھوڑنے لگے ۔ایسے میں نوجوانوں کی مائیں اور باپ دکھی دل کے ساتھ اپنے اعلی تعلیم یافتہ بچوں کو الوداع کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ 1994 میں 23 لیفٹیننٹ جنرل میں 19 کے بیٹے فوج میں تھے اج 28 لیفٹیننٹ جنرلز میں سے کتنوں کے فرزند فوج کا حصہ ہیں۔؟سب سے بڑا بحران بجلی کے ناقابل برداشت بلوں کا ہے۔عوام کی اکثریت ان حد سے زیادہ رقم کے غیر منصفانہ بلوں کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہے۔

پاکستان میں انجینئر ڈاکٹر ای ٹی نوجوانوں کی امیدیں ختم۔بڑے چھوٹے ملک چھوڑنے لگے بجلی کے بل کل آمدن سے زائد۔مائیں اور والد دکھی دل کے ساتھ بچوں کو الوداع کرنے پر مجبور۔افغان نیشنل وزیر اور وزیراعظم راء کا ایجنٹ وزیر اطلاعات۔کلبھوشن کھا ھے۔۔۔1994 میں 23 لیفٹیننٹ جنرل میں 19 کے بیٹے فوج میں تھے اج 28 میں سے کتنوں کے سب کچھ جانتے کے لئے سھیل رانا لاءیو میں بادبان یو ٹیوب بادبان ٹی وی کو فالو کرے

ہیکرز حساس سرکاری معلومات چرانے کیلئے ایک بار پھرسرگرم ہوگئے جس کے بعد کابینہ ڈویژن نے تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اورصوبائی حکومتوں کو مراسلہ بھجوادیا۔

ہیکرز حساس سرکاری معلومات چرانے کیلئے ایک بار پھرسرگرم ہوگئے جس کے بعد کابینہ ڈویژن نے تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اورصوبائی حکومتوں کو مراسلہ بھجوادیا۔ہیکرز نے حکومتی افسران پر مختلف واٹس ایپ نمبرز اور جعلی ای میلز کے ذریعے سائبر حملے شروع کردیے۔کابینہ ڈویژن کے مراسلے کے مطابق ہیکرز کی جانب سے مختلف واٹس ایپ نمبرز اور جعلی ای میلز کے ذریعے ٹارگٹ کرکے سائبر حملے کیے جاتے ہیں، ہیکرز وائرس شدہ پیغامات بھیجنے کیلئے مختلف موبائل نمبرز اور ای میلز کاسہارا لیتے ہیں اور فیک ڈومین والے نمبرز سے ہیکرز وائرس کے ذریعے سائبر حملے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ہیکرز مختلف سسٹمز تک رسائی کیلئے ایک سافٹ وئیر کا استعمال کر کے فائلز بھی بھیجتے ہیں۔مراسلے میں ڈیپارٹمنٹس کو نامعلوم نمبرزیا ای میل سے موصول فائلوں کو ڈاؤن لوڈ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور تمام سرکاری اداروں کے افسران اورعملے کو ہدایات پرعمل درآمد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

لاہور کے صنعت کار اور تاجر بھی مہنگی بجلی کے خلاف میدان میں آگئے اور فیکٹریاں بند کرکے چابیاں حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا

لاہور کے صنعت کار اور تاجر بھی مہنگی بجلی کے خلاف میدان میں آگئے اور فیکٹریاں بند کرکے چابیاں حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا۔ لاہور چیمبر میں آئی پی پیز کے کپیسٹی چارجز اور مہنگی بجلی کے خلاف صنعت کاروں اور تاجروں کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں آئی پی پیز کے فارنزک آڈٹ کا مطالبہ کیا گیا۔قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹس ایسوسی ایشن کے رہنماؤں عدیل بھٹہ اور میاں خرم الیاس کا کہناتھاکہ مہنگی بجلی کے باعث کاروبارنہیں کرسکتے، فیکٹریاں بند کرکے چابیاں حکومت کے حوالے کر دیں گے۔صنعت کاروں نے متفقہ مطالبہ کیا کہ مہنگی بجلی سے نجات کیلئے آئی پی پیز سے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے۔