All posts by admin

ویمنز ایشیا کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں میزبان سری لنکا کی ویمنز ٹیم نے دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان ویمنز ٹیم کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

ویمنز ایشیا کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں میزبان سری لنکا کی ویمنز ٹیم نے دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان ویمنز ٹیم کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا۔دمبولا میں کھیلے گئے ویمنز ایشیا کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں سری لنکن ویمنز ٹیم نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستان ویمنز ٹیم نے مقررہ 20 اوور میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز بنائے، منیبہ علی 37 اور گل فیروزہ نے 25 رنز کی اننگز کھیلی۔سری لنکا کی جانب سے کاویشا اور اودیشیکا نے 2 ،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔پاکستان کا 141 رنز کا ہدف سری لنکا ویمنز نے 7 وکٹ کے نقصان پر آخری اوور میں پورا کرلیا۔ ویمنز ایشیا کپ: بنگلادیش کو شکست دیکر بھارتی ٹیم فائنل میں پہنچ گئیسری لنکا کی جانب سے چماری اتھاپتھو نے 63 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ انوشکا 24 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہیں۔یوں سری لنکا ویمنز نے 3 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے ایشیا کپ کے فائنل میں جگہ بنالی جہاں اس کا مقابلہ بھارت سے ہوگا۔

2024 کے اولمپک گیمز کی رنگارنگ افتتاحی تقریب آج سے فرانس کے شہر پیرس میں شروع ہورہی ہے، اس میگا ایونٹ میں 206 ممالک سے 10 ہزار 500 ایتھلیٹس حصہ لیں گے

2024 کے اولمپک گیمز کی رنگارنگ افتتاحی تقریب آج سے فرانس کے شہر پیرس میں شروع ہورہی ہے، اس میگا ایونٹ میں 206 ممالک سے 10 ہزار 500 ایتھلیٹس حصہ لیں گے۔یہ تمام ایتھلیٹس 32 کھیلوں میں 329 طلائی تمغوں کے لیے میدان میں اتریں گے ، 100 سال مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ 2024 کی افتتاحی تقریب ایک غیر معمولی، تفریحی اور انوکھا جشن ہونے والی ہے۔یہاں ہم پیرس اولمپکس کے حوالے سے کچھ دلچسپ اور منفرد معلومات آپ کے ساتھ شئیر کررہے ہیں ۔اولمپکس کی افتتاحی تقریب جمعہ 26 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجکر 30 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے) ہے۔100 سال بعد پہلی بار میزبانی2024 اولمپکس 1924 کے بعد پہلی بار پیرس میں کھیلے جائیں گے، یوں تقریبا ایک صدی بعد پیرس ان اولمپکس کی میزبانی کررہاہے ، اس سے قبل 1900 اور 1924 میں اس نے اولمپکس کی میزبانی کی تھی۔پیرس تین بار اولمپکس کی میزبانی کرنے والا دوسرا شہر بننے کا اعزاز بھی اپنے نام کرنے جارہا ہے اس سے قبل لندن نے 1908، 1948 اور 2012 میں میزبانی کی تھی۔افتتاحی تقریب کسی سٹیڈیم میں نہیںپیرس میں اس بار پیرس اولمپکس گیمز کی افتتاحی تقریب کسی سٹیڈیم میں نہیں بلکہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مشہور دریائے سین کے ساتھ چھ کلومیٹر طویل راستے پر منعقد ہو گی، یہ فاصلہ آسٹرلٹز پل سے شروع ہو کر ایفل ٹاور کے زیرِ سایہ ٹروکیڈیرو میں باغات، فواروں اور محلات کے درمیان ختم ہوگا۔اولمپکس میں شامل کھیلوں کی بات کی جائے تو تقریبا 32 کھیل اس ایونٹ میں شامل ہیں اور ایونٹ کے متعدد کھیل فرانس کے دیگر 16 شہروں میں بھی ہوں گے۔سرفنگاس ایونٹ میں سرفنگ کا مقابلہ سب سے منفرد اور حیرت انگیز ہوگا، جو بحرالکاہل کے ایک فرانسیسی علاقے تاہیٹی پر منعقد ہوگا ، پیرس سے 15 ہزار کلومیٹر دور واقع سمندر کی لہروں پر سرفنگ کا مقابلہ انتہائی دلچسپ ہوگا۔بریکنگ ، ایک نیا اولمپک کھیلبریکنگ ، پیرس گیمز میں ایک نیا اولمپک کھیل متعارف کروایا جائے گا جسے بریکنگ ڈانس کہتے ہیں، اس مقابلے میں دو ایونٹس ہوں گے، ایک مردوں کا اور ایک خواتین کا ، یہ مقابلہ 2018 کے بعد پہلی بار 9 اور 10 اگست کو پیرس میں منعقد ہوگا۔اس کے علاوہ سپورٹس کلائمبنگ، سکیٹ بورڈنگ اور سرفنگ بھی نئے کھیلوں میں شامل ہیں۔دریائے سین میں تیراکیاولمپکس گیمز کے دوران کھلے پانی میں تیراکی کے کئی مقابلوں کی دریائے سین کئی دہائیوں بعد پہلی بار میزبانی کرے گا، جن میں اولمپک گیمز میں میراتھن تیراکی اور اولمپک اور پیرا اولمپک ٹرائیتھلون کی تیراکی شامل ہیں۔دریائے سین کو 1900 میں پہلی بار پیرس گیمز کے دوران کچھ ایونٹس کے لیے استعمال کیا گیا تھا، 1923 سے لے کر ابھی تک دریائے سین کے پانی کے معیار کے مسائل کی وجہ سے یہاں تیراکی پر پابندی لگائی گئی تھی اور کئی دہائیوں تک یہ دریا مچھلیوں کے لیے بھی زہریلا پانی بن گیا تھا۔تاہم پیرس کے منتظمین نے یقین دلایا ہے کہ اولمپکس کے دوران پانی تیرنے کے لیے صاف ہو گا۔پہلی بار خواتین اور مردوں کی تعداد برابراس ایونٹ کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ پہلا اولمپکس ہوگا جس میں مرد اور خواتین ایتھلیٹس کی تعداد برابر ہوگی، 10 ہزار 500 کھلاڑیوں میں سے 5 ہزار 250 مرد اور 5 ہزار 250 ہی خواتین شامل ہیں ۔کھلاڑیوں کے کمروں میں ’اے سی‘ نہیں ہوگاپیرس 2024 میں ایتھلیٹس کے کمروں میں ایئرکنڈیشن (اے سی) نہیں رکھا گیا ہے ، کیونکہ اس بار اولمپک گیمز کو ماحول دوست بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ائر کنڈیشنگ استعمال کرنے کے بجائے جن عمارتوں میں کھلاڑی قیام کریں گے وہ عمارت یا کمرے جدید طریقوں سے ڈیزائن کیے گئے تاکہ وہ قدرتی طور پر ٹھنڈی رہیں ، یعنی عمارتوں کو براہ راست سورج کی روشنی سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو انہیں ٹھنڈا رکھنے میں مدد کرتا ہے۔پیرس میٹرو میں اے آئی ٹرانسلیشن کی ڈیوائسزایونٹ کے انتظامات کو بہترین بنانے کیلئے پیرس کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی انتظامیہ نے اپنے 3 ہزار سے زائد عملے کے ارکان کو اے آئی ٹرانسلیشن کی ڈیوائسز دی ہیں تاکہ ہزاروں سیاحوں کو اولمپک کے دوران راستہ تلاش کرنے میں مدد مل سکے، یہ اے آئی ڈیوائس فرانسیسی سمیت 16 مختلف زبانوں کا ترجمہ کر سکتا ہے۔اس سے قبل اولمپک مشعل نے 16 اپریل 2024 کو اولمپیا، یونان سے آغاز کیا جہاں کبھی قدیم اولمپکس منعقد ہوتے تھے، مشعل نے ایتھنز سے بحیرہ روم کا راستہ اختیار کیا ، فرانس کے 400 قصبوں اور درجنوں سیاحتی مقامات سے گزرتے ہوئے کیریبین، بحر ہند اور بحرالکاہل میں مین لینڈ اور سمندر پار فرانسیسی علاقوں میں 12ہزار کلومیٹر (7،500 میل) کا سفر طے کرتی ہوئی ایفل ٹاور تک پہنچ چکی ہے ۔اولمپک ریلے پیرس اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں مرکزی مشعل روشن کرنے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔

پنجاب بار کونسل نے کل صوبے بھر میں ہڑتال کی کال دے دی۔پنجاب بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبہ بھر کے وکلاء کل عدالتوں میں پیش نہ ہوں

پنجاب بار کونسل نے کل صوبے بھر میں ہڑتال کی کال دے دی۔پنجاب بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبہ بھر کے وکلاء کل عدالتوں میں پیش نہ ہوں، سیاسی پارٹیز کے نمائندگان اور وکلاء کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے، لاہور میں سول عدالتوں کی تقسیم کا نوٹیفکیشن فوری واپس لیا جائے۔پنجاب بار کونسل نے مطالبہ کیا کہ حکومت کورٹ فیس کے اضافے کو فوری واپس لے، پنجاب پولیس نے صوبے کو پولیس سٹیٹ بنا رکھا ہے، پولیس عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہے، حکومت مہنگائی اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، حکومت آئے روز ٹیکسز لگانا اور بجلی کے بلوں میں اضافے سے عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہے۔

وکلا نے عدالتوں سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔وزیر اعطم شھباز شریف نے خفیہ اجلاس میں کس کو کیا کھا۔10 بیورو کریسی کے فراڈیے 40 ھزار ارب روپے کے مالک۔ دما دم مست قلندر 3 ایڈھاک ججز کی منظوری۔۔سٹاک ایکسچینج کریش مندی کا رجحان۔۔لڈاخ میں مودی کی تقریر اور سویا ھوا پاکستانی وزارت خارجہ۔۔جماعت اسلامی کا دھرنا ایک ماہ چلے گا جماعت اسلامی کا اعلان۔۔وکلا نے عدالتوں سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے لیے بادبان ٹی وی، ٹویٹر ، یوٹیوب ، فیس بک اور ڈیلی پوسٹ انٹرنیشنل کو فالو کریں

‏جماعت اسلامی لوگوں کو نکالنے میں کامیاب۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کارکنان کو جہاں رکاوٹ ملے وہیں دھرنا دے دیں، ہم ایک دھرنے کو کئی دھرنوں میں تبدیل کریں گے۔ایک ویڈیو بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے تمام کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کے لیے پورے ملک سے قافلے روانہ ہو چکے ہیں، تمام فسطائیت کے بعد بھی کارکنان کو کہتا ہوں کہ مینیج کریں اور دھرنے میں پہنچیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اور پر امن رہنا چاہتے ہیں، اس کی ذمہ داری حکومت پر آتی ہے کے وہ کیسے امن قائم رکھتے ہیں؟ تمام نمائندگان کو کہتا ہوں جہاں رکاوٹ ملے وہیں دھرنا دے دیں، ہم ایک دھرنے کو کئی دھرنوں میں تبدیل کریں گے۔امیر جماعت اسلامی کے مطابق کارکنان کو کہتا ہوں رکاوٹ کے آگے دھرنا دے کر قیادت کی کال کا انتظار کریں، ہم بتائیں گے کہ عوام کی طاقت کو کنٹینر لگا کر نہیں روکا جا سکتا، ہمیں بجلی کے بل کم چاہئیں اور آئی پی پیز سے چھٹکارا چاہیے۔دوسری جانب لاہور میں پولیس نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے لیے 60 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے۔ پولیس ذرائع کے مطابق رات گئے مارے جانے والے چھاپوں میں 110 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔حراست میں لیے گئے افراد کا تعلق پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی سے ہے۔

اسلام آباد روالپندی سیل جگہ جگہ دھرنے جڑواں شہروں کی عوام رل گئی اسلام آباد سیل داخلی خارجی راستے بند تفصیلات بادبان ٹی وی پر

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ عوام کے حقوق کی جنگ ہے، ہم ان کیلئے دھرنا دینے آئے ہیں، حکومت سے بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ عوام کو ریلیف دیں۔اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ احتجاج ہمارا حق ہے، گرفتار کارکن رہا کیے جائیں، آئی پی پیز کو مسلط کر رکھا ہے، اربوں روپے کھائے جا رہے ہیں، دھرنے کا ابھی آغاز ہوا ہے انشا اللّٰہ ہم یہی رہیں گے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایک طرف آئی پی پیز ہم پر مسلط کرتے ہیں اوپر سے گرفتاریاں بھی کرتے ہو، یہ دھرنے کا اختتام یا ٹھہراؤ نہیں بلکہ ابتداء ہے، ہم مختلف جگہوں پر بیٹھیں گے، پورے پاکستان میں دھرنے دیں گے، ہمارا اگلا پڑاؤ مری روڈ ہے، اگلا لائحہ عمل وہاں بتاؤں گا۔یاد رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مقامات پر دھرنے دینے کے اعلان کے بعد جماعت اسلامی نے جڑواں شہروں کے 4 مقامات پر دھرنا دے دیا۔مہنگی بجلی اور ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی نے مری روڈ راولپنڈی، زیرو پوائنٹ اسلام آباد، چونگی نمبر 26، جبکہ راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر دھرنا دیا ہے۔

نیوٹیک اور دی نور پروجیکٹ، لاہور نے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سیکٹر میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔لاہور، پاکستان – 22 جولائی، 2024 – نیوٹیک (نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی) اور دی نور پروجیکٹ، لاہور نے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں

نیوٹیک اور دی نور پروجیکٹ، لاہور نے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سیکٹر میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔لاہور، پاکستان – 22 جولائی، 2024 – نیوٹیک (نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی) اور دی نور پروجیکٹ، لاہور نے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ایم او یو پر دستخط لاہور میں منعقدہ ایک تقریب میں کیے گئے، جہاں دی نور پروجیکٹ کے سی ای او کرنل مصدق (ر) نے نیوٹیک کے پرو ریکٹر میجر جنرل خالد جاوید (ر)کا استقبال کیا۔تقریب کے دوران، پرو ریکٹر نیوٹیک میجر جنرل خالد جاوید (ر) نے خاص طور پر معاشرے کے کم مراعات یافتہ طبقے کی بہتری کے لیے دی نور پروجیکٹ کے کام کو سراہانیوٹیک کے پرو ریکٹر میجر جنرل نے کہا، “ہم خطے میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن سسٹم کو بڑھانے کے لیے دی نور پروجیکٹ کے ساتھ شراکت کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔” “یہ تعاون ہمیں اپنی مہارت اور وسائل سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا تاکہ پسماندہ افراد کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکیں اور کمیونٹی کی پائیدار ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔”نور پراجیکٹ کے سی ای او، کرنل مصدق (ر) نے شراکت داری کے لیے اپنے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “یہ ایم او یو نیوٹیک اور دی نور پروجیکٹ کے درمیان ایک نتیجہ خیز تعاون کا آغاز ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اپنی کوششوں کو یکجا کرکے، ہم ایک اہم کام کر سکتے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد تعاون کے مختلف شعبوں کو تلاش کرنا بشمول مشترکہ تحقیق اور ترقی، فیکلٹی اور طلباء کے تبادلے کے پروگرام، اور صنعت سے متعلقہ نصاب اور تربیتی پروگراموں کی ترقی ہے۔

تحریک انصاف کا بھوک ھڑتال دھرنا شو ناکام۔40 ھزار افراد کے استعفے اور پاکستان۔ کھربوں روپے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کپیسٹی پے منٹ۔ قومی ائیر لائن کی نجکاری ستمبر میں لاکھانی گروپ خریدے گا۔ 80 فیصد وفاقی کابینہ کے وزراء کے خلاف گھیرا تنگ الٹی گنتی شروع۔3اداروں کے 70 افراد کی ٹیم تشکیل دے دی گئی سعودی عرب طرز کی ریکوری ریکارڈ قبضہ مین۔ 70 ھزار ارب روپے کی کرپشن کا روپیہ 12 روز مے 800 افراد سے ریکور کیا جائے گا۔بادبان ٹی وی رپورٹ کے مطابق گریڈ 7 سے 22 گریڈ کے ملازمین شکنجے میں بادبان نیوز کے مطابق۔کرنل رانا حسن کا ایک اور کارنامہ۔۔تمام خبروں کی تفصیلات بادبان نیوز پر فالو روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل اسلام آباد کراچی بادبان ٹوئٹر بادبان فیس بک بادبان یو ٹیوب چینل

اربوں روپے کی کرپشن۔ توھین عدالت کا خوف چیف الیکشن کمشنر بھی عمران خان کو پیارے۔شاہ محمود قریشی کو 12 مقدمات سے بری کر دیا گیا۔۔9 میئ کے مقدمات۔عمران خان کو 12 مقدمات میں بڑا ریلیف۔جسمانی ریمانڈ کالعدم۔پاکستان میں انٹرنیٹ سلو کر دیا گیا ہے۔تفصیلات بادبان نیوز پر

پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کا 9مئی کے 12مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنادیا، فیصلے میں عدالت کی جانب سے عمران خان کا 9 مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دیا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔بتایا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس انوار الحق پنوں پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، آج کی سماعت کے آغاز پر جسٹس انوار الحق نے استفسار کیا کہ ’درخواست گزار کتنے مقدمات میں نامزد ہیں؟‘، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ ’بانی پی ٹی آئی 3 مقدمات میں نامزد ملزم ہیں، کیسز کی 2 کیٹگری ہیں، ایک جس میں نامزد ہیں دوسری جس میں ضمنی کے ذریعے نامزد کیا گیا‘۔دوران سماعت پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عمران خان پر درج مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا، جس کے ساتھ مقدمات میں ہونے والی پیشرفت رپورٹ بھی جمع کروائی گئی، جسٹس انوارا الحق پنوں نے ریمارکس دیئے کہ ’جب درخواست گزار کو امید ہوئی کہ وہ جیل سے باہر آ جائے گا تب آپ نے ان مقدمات میں گرفتاری ڈال دی، قانون تو یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کو ملزم کا پتا چلے آپ اسے گرفتار کریں، آپ نے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا؟‘۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے جواب میں مؤقف اپنایا کہ ’ملزم تب عبوری ضمانت پر تھے، گرفتار نہیں کر سکتے تھے‘، جسٹس انوارالحق پنوں نے پوچھا کہ ’آپ نے اس سے پہلے تفتیش کرنے کی کوشش کی؟‘، پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ ’میں آپ کو ریکارڈ سے بتا سکتا ہوں، عمران خان نے ہمیں لکھ کہ دیا ہے کہ وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوں گے، ہمارے پاس پیمرا کی رپورٹس ہیں لیکن درخواست گزار تفتیش جوائن نہیں کر رہے‘۔اس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیئے کہ ’یہ بھی دیکھنا ہوگا اتنے دن کے ریمانڈ کی ضرورت بھی تھی کہ نہیں، اگر درخواست گزار کوئی ٹیسٹ نہیں کراتا تو اس کے نتائج وہ خود بھگتے گا‘، پراسکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ’عمران خان نے ہمیں لکھ کر دیا ہے کہ وہ اپنے وکیل کی موجودگی میں پولیس کو بیان دیں گے، انہیں پولیس پر اعتماد نہیں ہے‘، جسٹس طارق سلیم شیخ نے استفسار کیا کہ ’پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے؟ 15 یا 20 منٹ کے لیے آپ نے کچھ ٹیسٹ کرنے ہیں اس کے لیے جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیئے؟ درخواست گزار کی گرفتاری کی ٹائمنگ بھی اہم ہے‘۔پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ ’عمران خان نے خود کہا انہیں جان کا خطرہ ہے وہ عدالتوں میں پیش نہیں ہو سکتے، درخواست گزار ضمانت پر تھا اس لیے پہلے گرفتاری نہیں ڈالی گئی، جیسے ہی انسداد دہشتگردی عدالت سے ضمانتیں خارج ہوئیں ہم نے گرفتار کر لیا، پیمرا کی رپورٹس موجود ہیں ہم نے تفتیش کرنی ہے‘۔ عدالت نے پوچھا کہ ’پیمرا کی رپورٹس کیا ہے؟ اگر پیمرا لڑکی کو لڑکا کہہ دے تو اسے مانا تو نہیں جا سکتا، اگر ایک سیاسی بندہ تقریر کرتا ہے تو دیکھنا ہے اس کی ذہنیت مجرمانہ ہے یا نہیں؟ آپ یہ بتائیں جو درخواست گزار نے ٹویٹ کیا اس میں جرم کیا ہے؟ اور کس سیکشن کے تحت کارروائی ہو گی؟‘، اس پر پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے عمران خان کے سوشل میڈیا اکاونٹس کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کر دیں اور قائد پی ٹی آئی کی ٹویئٹس بھی پڑھ کر سنائیں۔اس پر جسٹس انوار الحق پنوں نے قرار دیا کہ ’جو آپ نے ٹوئٹ پڑھا ہے اس سے زیادہ دھمکیاں تو آج کل ججز کو مل رہی ہیں‘، پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی طرف سے بیانیہ بنایا گیا، آرمی چیف کے خلاف بیانیہ بنایا گیا نو مئی کے لیے پورا بیانیہ تیار کیا گیا‘، جس پر جسٹس انوارالحق پنوں نے استفسار کیا کہ ’آپ یہ بتائیں کیا ووٹ کو عزت دو بیانیہ نہیں ہے؟، اس لیے بیانیے کو چھوڑیں جرم ثابت کریں‘۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ’اگر درخواست گزار نے احتجاج کی کال دی تو یہ جرم کیسے بنے گا؟ جس جس جگہ پر حملہ ہوا کیا کبھی یہ کہا گیا کہ ان جگہوں پر حملہ کردو؟ کیا عمران خان نے اس احتجاج کو لیڈ کیا؟ اگر حملوں کو لیڈ کرتا تو پھر ضرور یہ جرم ہوتا، درخواست گزار کے خلاف کیا مواد ہے؟ پراسیکیوٹر جنرل خود پڑھیں گے ہم نہیں پڑھیں گے، یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو دیکھنا چاہیئے تھا کہ ریمانڈ بنتا بھی ہے کہ نہیں، جسمانی ریمانڈ کے لیے ضروری ہے وہ احاطہ جج کے کنٹرول میں ہو، اگر ویڈیو لنک پر حاضری ہوتی ہے اور ویڈیو کے لنک کے پیچھے کوئی اور کھڑا ہو تو کیا یہ محفوظ ماحول ہوگا؟ یہ بھی چھوڑیں وہ جہاں ملزم ہے وہ تو پورا احاطہ کسی اور کے کنٹرول میں ہے‘