All posts by admin

شتر اور مرغ کون احمد شریف کی پریس کانفرنس نے نئے سوالات کو جنم دیا سھیل رانا لاءیو ڈھاکہ سے

9مئی کے سانحہ کے بعد المیہ یہ ہوا کہ سابق نگران پنجاب حکومت اور سابق نگران وفاقی حکومت عوام کو جواب دیے بغیر رخصت ہوگئیں‘ آج ملک کی داخلی امنو امان کی ذمہداری پنجاب کے سابق نگران وزیر اعلی کے پاس ہے جنہیں وزارت داخلہ کا قلم دان دیا گیا ہے‘ لیکن اس کے جواب اور شہداء کے پاک خون اور ان کی پاک روحوں کے دفاع کے لیے آئی ایس پی آر کو آگے آنا پڑ رہا ہے جب کہ اصل میں اس کی ذمہداری سول انتظامیہ پر ہے جو شتر مرغ بنی ہوئی ہے اب یہاں سے شتر مرغ کی کہانی شروع ہوتی ہے کہ جب اس سے کہا گیا کہ تم کون ہے اس نے کہا کہ میں شتر ہوں‘ اس سے کہا گیا کہ وزن اٹھایا کرو اس نے جواب دیا کہ کبھی مرغ نے بھی وزن اٹھایا ہے اس جواب پر اسے کہا گیا کہ اچھا مرغ ہو تو انڈا دیا کرو اس نے جواب دیا کہ کبھی شتر نے بھی انڈا دیا ہے

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف اور سابق آرمی چیف جنرل ایوب کے بیٹے امنے سامنے تفصیلات بادبان نیوز پر۔ ‏ڈی جی آئی ایس پی آرکی عزم استحکام،بنوں واقعہ اورڈیجیٹل ٹیرارزم پرپریس کانفرنس۔نام لیےبغیرتحریک انصاف پرتنقیداورانتشاری ٹولہ قراردیا۔تحریک انصاف کابھی سخت جوابی ردعمل۔۔دونوں کامؤقف دیکھیے کھربوں روپے کی مراعات اور حکومت سے اربوں کے اشتھار لینے والے چینل جیو پر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ قانونی نظام 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچائے گا تو فسطائیت مزید بڑھے گی۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 9 مئی کے بعد انتشاری ٹولے نے پروپیگنڈا کیا اور کہا کہ فوج نے روکا کیوں نہیں؟ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اگر کچھ مسلح لوگ ہجوم میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے، امن مارچ ان دہشت گردوں کیخلاف بھی کریں جنہوں نے بنوں اور ڈی آئی خان میں حملے کیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بنوں کے تاجروں نے جو امن مارچ کیا اس میں کچھ لوگوں نے ریاست کے خلاف نعرے لگائے، اس امن مارچ میں کچھ مسلح لوگ بھی شامل تھے، جلوس میں شامل لوگوں نے ایک راشن ڈپو کو بھی لوٹا۔

پاکستان سنگین اندرونی اور بیرونی مشکلات کا شکار ہے۔یہ مشکلات کسی ڈراؤنے خواب کی طرح اس ملک کو گہری کھائی میں دھکیل رہی ہیں۔معاشی اور سیاسی بحران دامن گیر ہیں۔جدھر قدم بڑھائیں کسی دلدل کا سامنا ہے۔اندرونی اور بیرونی طور پر صیہونیت پسندوں کی یلغار اس ملک کی تباہی کے لئے کوشاں ہے۔ایک طرف تحریک انصاف کے قائد عمران خان ایک مربوط عالمی سازش کے تحت اس ملک اور اس کی سلامتی کے اداروں کو دنیا میں دہشتگرد ثابت کرنے کے لئے اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں اور پاکستان دشمن صیہونی فورمز کے ذریعے پاکستان کے خلاف زہریلی مہم چلانے میں مشغول ہیں اور دوسری جانب اسرائیل دوست ممالک دنیا میں پاکستانی مشنز کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مواقع تلاش کررہے ہیں۔ گزشتہ روز جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں پاکستان کے قونصلیٹ پر افغان نوجوانوں کے ایک گروہ نے بلاوجہ حملہ کیا، عمارت میں داخل ہوکر قومی پرچم کی توہین کی اور پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کی۔اس بلاجواز مظاہرے کے لئے فرینکفرٹ کی انتظامیہ نے باضابطہ اجازت نامہ جاری کیا۔شاید تحریک انصاف کی جانب سے پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی عالمی مہم کے نتیجے میں پاکستان عالمی سطح پر اپنا مقدمہ پیش کرنے میں ناکام ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کا ہرسیاستدان، ہر ادارہ اور دنیا کا ہر ملک اس کی گرتی ہوئی دیواروں کو دھکا دینے کے لئے اپنا اپنا حصہ’’”پوری ایمانداری‘‘ سے ڈال رہا ہے۔ہر وہ سیاسی پارٹی، ادارہ یا فرد’’محب وطن‘‘ ہے جو اقتدار میں ہے یا طاقتور ہے اور طاقت کا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آئین اختیار ہونے یا نہ ہونے، دونوں صورتوں میں آئین کی تشریح اپنے حق میں کرنے کی کوششوں میں ہے لیکن وہ طبقے جن کے مفادات اس ملک سے وابستہ ہیں یا بالفاظ دیگر جنہیں اس ملک کو چوسنے کے مزید مواقع میسر ہیں، اس کی بوسیدہ دیواروں کو اس وقت تک سہارا دینے پر یقین رکھتے ہیں جب تک ان کے’’زیرتکمیل‘‘ مفادات مکمل نہیں ہو جاتے۔سیاسی پارٹیاں ذاتی مفادات کے لئے آپس میں دست و گریبان ہیں۔وقتی الحاق اور اتحاد کرنے والی پارٹیاں سیاسی اور معاشی مفادات کے لئے وقتاً فوقتاً اپنےاتحادیوں کی پالیسیوں کے خلاف بیان داغ کر اپنی اہمیت منوانے اور وقت آنے پر بلیک میل کرکے مفادات حاصل کرنے کا اشارہ ہوتا ہے۔گزشتہ دنوں پی۔ٹی-آئی کے بڑے خیرخواہ اور ماضی کے بدترین مخالف مولانا فضل الرحمن نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی-ٹی-آئی خیبر پختونخواہ اورقومی اسمبلی سمیت مرکز اور تمام صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے پر آمادہ ہے، شاید یہ اشارہ انہوں نے اہم اتحادی ہونے کی حیثیت سے اپنی مستقبل کی حکمت عملی کے طور پر کیا ہو لیکن چیئرمین پی-ٹی-آئی بیرسٹر گوہر خان نے مولانا فضل الرحمٰن کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے انتہائی توہین آمیز انداز میں واضح کیا کہ مولاناسے اسمبلیاں تحلیل کرنے یا استعفوں کے حوالے سے کوئی مشاورت ہوئی اور نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ ہوا۔بیرسٹر گوہر کی اس حرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی-ٹی-آئی کی اعلیٰ قیادت اور فیصلہ ساز کور کمیٹی کے نزدیک مولانا سے اتحاد کی کوئی حیثیت نہیں، بلکہ مولانا کی سیاسی طاقت سے استفادہ کرنا ہے۔دوسری جانب اہم ادارے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور ایک دوسرے کےآئینی اختیارات ماننے کے لئے تیار نہیں، ان کی یہ رسہ کشی خطرناک صورت اختیار کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ علی الاعلان عدلیہ کی جانب سے غیرآئینی اقدام پر عملدرآمد روکنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے جبکہ پی-ٹی-آئی کی قیادت سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بزور بازوعملدرآمد کرانے کی دھمکی دے چکی ہے جو پی-ٹی-آئی کی سیاسی خصلت کی عکاس ہے۔ ایک طرف دہشتگردی کی شدت میں اضافہ اور دوسری طرف پی-ٹی-آئی کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس فائز عیسیٰ سمیت عدلیہ کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا اور سنگین ٹرالنگ کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔بیک وقت دہشتگردی اور ملک گیر دھرنوں کی تیاریاں دہشتگردوں اور پی-ٹی-آئی کے گٹھ جوڑ کا اعلان ہے۔یہ سب علامات عدلیہ کے اس طبقہ کے لئے قابل توجہ ہے جو عمران خان کو ہر بڑے چھوٹے جرم سے آزاد کرکے اقتدار کی کرسی پر دیکھنا چاہتا ہے تاکہ انہیں اپنا ادھورا مشن مکمل کرنے کا موقع مہیا کیا جاسکے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے ملک میں انتشار پھیلانے اور طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور دوسرا لیکن انتہائی سنگین اور خطرناک 9 مئی آئندہ 60 روز کے دوران ہونے کو ہونے کو ہے جب جلاؤ گھیراؤ اور حملوں کے علاوہ بغاوت اور سول نافرمانی کے ذریعے ملک کی تقسیم کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے گی۔لیکن دہشتگردوں اور دہشتگردی کو تحفظ دینے کی پالیسی معنی خیز ہے!

لیفٹیننٹ جنرل عامر سابق کور کمانڈر ایجوٹینٹ جنرل کو وزارت خارجہ کے گریڈ 21 کے افسر ترمذی کی جگہ یو اے ای میں تعینات کر دیا گیا وزارت خارجہ کے جو افسران کارکردگی نھی دکھاے گا اس کو معطل اور نوکری سے برطرف کردیا جائے گا گزشتہ روز وزیر خارجہ نے 2 افسران کو معطل کیا تھا یاد رھے جنرل عامر 76 پی ایم اے لانگ کورس کے آفیسر ھے وہ ان چار افسران میں شامل تھے جو ارمی چیف کی دوڑ میں شامل تھے انکا تعلق پاک فوج کی ارٹلری کور سے ھے۔ رپورٹ سہیل رانا

صدر زرداری سے ایجوٹینٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور وزیر اعلی سندھ کی اھم ملاقات تفصیلات بادبان نیوز پر

بادبان ٹی وی نیوز—صدر مملکت ۔ خطاب کراچی میں شہری سیلاب روکنے کیلئے جامع منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر تیار کرنا ہوگا،کراچی کو شہری سیلاب سے بچانے کیلئے حکومت ِسندھ پائیدار اور طویل مدتی حکمت عملی اپنائے ،صدر مملکت آصف علی زرداریاسلام آباد۔22جولائی (بادبان ٹی وی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کراچی میں شہری سیلاب کی روک تھام کیلئے جامع منصوبہ جلد تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں شہری سیلاب روکنے کیلئے جامع منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر تیار کرنا ہوگا،کراچی کو شہری سیلاب سے بچانے کیلئے حکومت ِسندھ پائیدار اور طویل مدتی حکمت عملی اپنائے ،عالمی معیار کے مطابق سیوریج اور سیلابی پانی کے مؤثر انتظام کا نظام اپنانا ہوگا ۔ ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت کراچی کو شہری سیلاب سے بچانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی شریک تھے ۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ کراچی میں زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعے سیلاب پر قابو پانے کی فزیبلٹی اسٹڈی تین ماہ میں مکمل کی جائے ، کراچی اور اس کے ساحلی علاقوں کو صاف ستھرا بنانے ، دنیا کے دیگر میٹروپولیٹن شہروں کے برابر لانے کی ضرورت ہے،سرنگوں کے مجوزہ منصوبے کے نمایاں ماحولیاتی اثرات ہوں گے، حکومت سندھ بین الاقوامی ڈونرز سے سرنگوں کے مجوزہ منصوبے کیلئے ماحولیاتی فنانسنگ حاصل کرنے پر غور کرے ۔ انہوں نے کہا کہ آلودہ پانی صاف کرنے کے نظام کی تعمیر سے بلوچستان کو بھی زراعت کیلئے پانی میسر ہوگا،صاف پانی کے نظام کی تعمیر سے ماہی گیری کے شعبے کو بھی فروغ حاصل ہوگا،حیدرآباد شہر کو بھی شہری سیلاب اور سیوریج کے مسائل کا سامنا ہے ، ترجیحاً حل کرنے کی ضرورت ہے، اجلاس میں صدر مملکت کو عالمی آبی اور سیوریج مینجمنٹ ماہرین کی طرف سے جامع بریفنگ دی گئی۔ماہرین نے کراچی میں شہری سیلاب اور سیوریج کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مختلف تجاویز دیں ۔ماہرین نے واشنگٹن ، لندن اور سنگاپور کے زیرِ زمین سرنگوں کے سیوریج نظام پر بھی روشنی ڈالی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی کے ہائی فلڈ زونز میں موجودہ سڑکوں کے نیچے چھوٹی اور بڑی سیوریج سرنگوں کا جال بچھایا جا سکتا ہے،جدید ٹیکنالوجی پر مبنی زیر ِزمین سرنگوں سے عوام، ٹریفک اور زمین کی ملکیت کے حوالے سے پریشانی نہیں ہوگی ،کراچی میں تقریباً 450 ملین گیلن یومیہ سیوریج پیدا ہوتا ہے، سیوریج اور بارش کا پانی چھوٹے اور بڑے کھلے نالوں میں جمع ہوتا ہے ،سیوریج اور سیلابی پانی بغیر ٹریٹمنٹ سمندر میں چھوڑنے سے سمندری ماحولیاتی نظام آلودہ ہوتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی کے نالوں کے موجودہ نیٹ ورک کی صلاحیت محدود ہے ، نالوں کا موجودہ جال عام حالات میں تقریباً 50 فیصد بارش کے پانی کو جذب کرتا ہے ، کراچی کے سسٹم کی جانب سے اضافی پانی جذب نہ ہونے سے شہری سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اجلاس میں ایڈجوٹنٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک ، وزیر بلدیات سندھ سعید غنی ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ، اجلاس میں سینئر سرکاری افسران ، مقامی اور بین الاقوامی پانی کے انتظام کے ماہرین بھی شریک تھے ۔

ایک انگریزی کہاوت ہے:”کبھی سور کے ساتھ کیچڑ میں مت لڑو، تم خود گندے ہو جاؤ گے اور اسے مزہ آئے گا۔”یعنی کبھی بھی کسی ایسے شخص کے ساتھ بحث نہ کرو، نہ معاملہ کرو، نہ بات کرو، نہ وضاحت دو اور نہ ہی کسی ایسے شخص کو کچھ سمجھاؤ جو تم سے نہ ملتا ہو اور نہ ہی تمہارے فکری، ادبی یا اخلاقی معیار سے مل سکتا ہے

سنئیر سفارت کاروں کی نااہلی ڈپٹی وزیراعظم کا ایکشن او ایس ڈی بنا دیا جبکہ نالائق جعلی بلوچ ترجمان وزارت خارجہ اپنی بونگیا اور ملک دشمن سرگرمیاں جاری رکھے گی مکمل تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کریں

وزیرخارجہ نے سینئر سفارتکاروں کیخلاف اہم ذمہ داری سے غفلت برتنے پرایکشن لے لیا۔وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ ڈیسک پر تعینات دوسئینرافسران کو عہدوں سے فارغ کردیا گیا،ڈائریکٹر جنرل فوزیہ فیاض اور ڈائریکٹر سعدیہ اعوان کو وزارت خارجہ میں عہدوں سے فوراً ہٹا دیا گیا ہے، اس سلسلے میں وزارت خارجہ نے نوٹس جاری کردیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ان افسران کی مبینہ لاپرواہی کے نتیجے میں ایک اعلیٰ عمانی وفد وزیراعظم اورسیکرٹری خارجہ اور دوسرے اعلی حکام سے بروقت ملاقات نہیں کر سکا تھا۔اعلی عمانی وفدمسقط دہشتگردی کے واقعہ کے بعد پاکستانی اعلیٰ ترین حکام سے اہم ملاقاتیں کرنا چاہتا تھا.زرائع نے بتایا کہ ایڈیشنل سیکرٹری مشرق وسطیٰ رضوان سعید عہدے پر کام جاری رکھیں گے۔سفارت کاروں کو وزارت خارجہ کے اپنے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔

شیخ حسینہ واجد کی زندگی خطرے میں بھارتی فوج کی ایک یونٹ بنگالی وزیر اعظم کی حفاظت کے لیے ڈھاکہ میں اخبار چینل بند انٹر نیٹ سروس ٹیلی فون خاموش بنگالی ارمی چیف عزیز پر امریکی پابندی بنوں میں حالات کشیدہ عوام اور فورس امنے سامنے جرمنی میں پاکستانی قونصلیٹ پر بھارتی اور افغان شہریوں کا حملہ وزارت خارجہ کی ترجمان جعلی بلوچ کا ٹیلی فون بند سب کچھ جانیے بادبان نیوز اور بادبان یو ٹیوب پر ڈھاکہ سے سھیل رانا کے ساتھ

شیخ حسینہ واجد کی زندگی خطرے میں بھارتی فوج کی ایک یونٹ بنگالی وزیر اعظم کی حفاظت کے لیے ڈھاکہ میں اخبار چینل بند انٹر نیٹ سروس ٹیلی فون خاموش بنگالی ارمی چیف عزیز پر امریکی پابندی بنوں میں حالات کشیدہ عوام اور فورس امنے سامنے جرمنی میں پاکستانی قونصلیٹ پر بھارتی اور افغان شہریوں کا حملہ وزارت خارجہ کی ترجمان جعلی بلوچ کا ٹیلی فون بند سب کچھ جانیے بادبان نیوز اور بادبان یو ٹیوب پر ڈھاکہ سے سھیل رانا کے ساتھ