All posts by admin

پروبنز سکول سسٹم چکوال نے سالانہ پراجیکٹ پریزنٹیشن ڈے کی میزبانی کی، جس میں بچوں کے پروجیکٹس پیش کیے گئے

پروبنز سکول سسٹم چکوال نے سالانہ پراجیکٹ پریزنٹیشن ڈے کی میزبانی کی، جس میں بچوں کے پروجیکٹس پیش کیے گئے

چکوال، پاکستان – 20 اپریل، 2024 – پروبنز اسکول سسٹم چکوال، ایک معروف تعلیمی ادارہ ہے جس نے 20 اپریل 2024 کو چکوال میں اپنے مرکزی کیمپس میں اپنے سالانہ پروجیکٹ پریزنٹیشن ڈے کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ تقریب میں نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (نیوٹیک) کے ڈائریکٹر ایڈمیشنز بریگیڈیئر شاہد منظور نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

پروبنز سکول سسٹم چکوال نے پراجیکٹ پر مبنی سیکھنے کے عمل کو لاگو کرتے ہوئے ایک اہم اقدام اٹھایا ہے، یہ ایک منفرد تعلیمی طریقہ ہے جو اس وقت پورے پاکستان میں صرف چند اداروں میں رائج ہے۔ ادارے کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ چکوال کا پہلا اسکول ہے جس نے اس جدید تدریسی طریقہ کار کو اپنایا ہے۔

اس تقریب میں ابتدائی سالوں کے پروگرام اور پرائمری سال کے پروگرام دونوں میں داخلہ لینے والے طلباء کی قابل ذکر کوششوں کو دکھایا۔ پرائمری سال کے پروگرام سے کل 18 پروجیکٹس اور ابتدائی سال کے پروگرام کے 7 پروجیکٹس پیش کیے گئے، جو طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں، تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

بریگیڈیئر شاہد منظور نے اس کامیاب تقریب کے انعقاد میں قابل ستائش کوششوں پر سکول انتظامیہ اور سٹاف کو سراہا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے مستقبل کی تشکیل میں تعلیم کے اہم کردار پر زور دیا اور نوجوان ذہنوں کو عملی تجربات فراہم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے طلباء کو قوم کا مستقبل تسلیم کیا اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ضرورت پر زور دیا۔

پروبنز سکول سسٹم چکوال ایک متحرک اور جامع تعلیمی ماحول کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے، جہاں طلباء کو پروجیکٹ پر مبنی سیکھنے کے ذریعے ضروری مہارتوں کو دریافت کرنے، اختراع کرنے اور ترقی دینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس منفرد نقطہ نظر کو لاگو کرتے ہوئے، ادارے کا مقصد اپنے طلبا کو ایک ابھرتی ہوئی دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری آلات سے آراستہ کرنا ہے۔

پاکستان کو تیسرے ون ڈے میں عبرت ناک شکست نسیم شاہ اور آفریدی کو چھترول۔نیوزی لینڈ کے کپتان کا لاٹھی چارج پاکستان کے چاچے افتخار کی مایوس کن کارکردگی۔کپتان کو 3 چانس بھی ملے رضوان عامر کو ریسٹ کروانا مھنگا پڑ گیا تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اپنا اختیار ختم کرنے کا عمل تیز کر دیا۔ وفاقی حکومت قیمتوں میں اضافے پر عوام کی تنقید سے بچنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار تیل کمپنیوں یا پٹرول پمپ مالکان کو منتقل کرنے کی خواہاں ہے

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اپنا اختیار ختم کرنے کا عمل تیز کر دیا۔ وفاقی حکومت قیمتوں میں اضافے پر عوام کی تنقید سے بچنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار تیل کمپنیوں یا پٹرول پمپ مالکان کو منتقل کرنے کی خواہاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کی طرف سے اوگرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ تین دن میں پٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن پر تجزیہ اور اس کے مضمرات پر بریفنگ دی جائے۔ ڈی ریگولیشن کے بعد ملک میں پٹرول و ڈیزل کی یکساں قیمتوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور تیل کمپنیاں شہروں اور دیہات کے لیے اپنی الگ قیمتیں مقرر کرنے میں آزاد ہوں گی۔ واضح رہے کہ فرنس آئل اور ہائی آکٹین کی قیمتوں کے تعین کا اختیار پہلے ہی تیل کمپنیوں کے پاس ہے۔

اسرائیل اور ایران امنے سامنے سعودی عرب کے لئیے خطرہ۔۔پاکستان کے لیے مشکلات

یکم اپریل 2024کے اسرائیلی حملے کے جواب میں جس کے نتیجے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے لیڈر سمیت 12افراد شہید ہوگئے تھے،ایران نے 13اپریل کو اس کا بدلہ لیتے ہوئے اسرائیل پر 100سے زیادہ ڈرون اور میزائل داغے ۔اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود اسرائیل نے جمعہ کے روز علی الصبح ایرانی شہر اصفہان کے قریب تین ڈرون حملے کئےتاہم انھیں ایرانی دفاعی نظام نے ناکارہ بنادیا۔ ایرانی حکام کے مطابق حملے میں اس کی جوہری تنصیبات محفوظ رہیں، صورتحال کنٹرول میں ہے جبکہ ملک بھر میں تمام پروازیں عارضی بندش کے بعد بحال کردی گئی ہیں۔ایرانی ذرائع کے مطابق اس کا اسرائیل کے خلاف فوری کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں۔اس سے قبل ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی کابینہ متذکرہ کارروائی کرنے کے حوالے سے مخمصے میں پڑی رہی۔اس دوران امریکہ جو درپردہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے حق میں ہے،صدر جوبائیڈن نےاسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو پر واضح کیا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف کارروائی میں براہ راست حصہ نہیں لےگا۔جمعہ کے روز امریکی نشریاتی ادارے نےسرکاری حکام کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں اصفہان کے قریب جوہری تنصیبات کے تحفظ پر مامور ایرانی میزائل بیٹریوں کو نشانہ بنایا گیا ۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کا مقصد ایران کو اسرائیلی صلاحیتوں کے بارے میں اشارہ دینا تھالیکن کشیدگی بڑھانا نہیں تھا۔حماس نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئےکہا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔اقوام متحدہ نے اس کارروائی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے روکنے پر زور دیا ہے۔چین، روس اوریورپی یونین نے الگ الگ طور پر ایران اور اسرائیل سے کشیدگی ختم اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا ہے۔ان کے مطابق پیدا شدہ صورتحال کسی کے مفاد میں نہیں۔عالمی توانائی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی جوہری تنصیبات بدستور محفوظ ہیں۔پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ایران پر اسرائیلی حملوں کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔یہاں یہ بھی واضح ہو کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق تین روز بعد اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر آرہے ہیں۔امریکہ اگر ایک طرف اس جنگ کا حصہ نہ بننے کا دعویٰ کر رہا ہے تو دوسری طرف اسرائیل کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فراہم کرنے جارہا ہے، ایک بین الاقوامی میگزین کے مطابق دونوں کے درمیان جو معاہدے ہونے جارہے ہیں ، ان میں جنگی سازوسامان، جس کی کل مالیت 1.3ارب ڈالر ہے ،نہتے فلسطینیوں اور ایران کے خلاف ممکنہ طور پر استعمال ہوگا۔ایران اپنے دفاعی بجٹ میں اسرائیل سے پیچھے، تاہم فوجیوں کی تعداد میں بھاری،اسرائیل کادفاعی بجٹ 67کھرب 66ارب جبکہ ایران 27کھرب 60ارب روپے کا حامل ہے۔اسرائیل 612جبکہ ایران کے پاس 551طیارے ہیں،اسرائیل کے پاس جنگی بحری جہازوں کی تعداد 67اور ایران کے پاس 101جہازوں کا بیڑا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے پاس اس وقت 80ایٹم بم ہیں جبکہ ایران کے پاس سرکاری اطلاعات کے مطابق کوئی نہیں۔محل وقوع کے مطابق ایران کے مغرب میں عراق، اردن اور شام کے ممالک اسے اسرائیل سے ملاتےہیں۔مشرق وسطیٰ گنجان آباد خطے پر مشتمل ہے اور اس میں شامل بیشتر ممالک تیل کی خطیرپیداوار کے حامل ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جو 70سالہ دیرینہ فلسطین کا مسئلہ حل کرنے میں تاحال ناکام ہے،اگر ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے بھی یہی حال رہا تو دنیا میں امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

بلو چستان سے کچے کے ڈاکوؤں کے لئے اسمگل کیا جانے والے اسلحے کی اسمگلنگ ناکام بنانے والے پولیس اہلکاروں کو پیپلز پارٹی رہنما بابل بھیو کے بیٹے سمیت 7 افراد کو گرفتار کرنے والے اسپیشل اسکواڈ انچارج طارق ترین، شفاعت اعوان اور شمس بیگ ڈھر کا تبادلہ جیکب آباد سے گھوٹکی کر دیا گیا ملوث افراد کے نام نکال کر چھوٹے ملازمین کو ملوث کر دیا گیا

کراچی ( بادبان نیوز ) بلو چستان سے کچے کے ڈاکوؤں کے لئے اسمگل کیا جانے والے اسلحے کی اسمگلنگ ناکام بنانے والے پولیس اہلکاروں کو پیپلز پارٹی رہنما بابل بھیو کے بیٹے سمیت 7 افراد کو گرفتار کرنے والے اسپیشل اسکواڈ انچارج طارق ترین، شفاعت اعوان اور شمس بیگ ڈھر کا تبادلہ جیکب آباد سے گھوٹکی کر دیا گیا ملوث افراد کے نام نکال کر چھوٹے ملازمین کو ملوث کر دیا گیا مبینہ طور پر اندرون سندھ کے ڈاکوؤں کو پیپلز پارٹی کے عہدیدار سردار وڈیروں کے اسکواڈ کی آڑ میں کراچی سے بزنس مین اور صاحب حثیت افراد کو اغوا کرکے کچے کے علاقے میں لے جاتے ہیں اور کروڑوں روپے تاوان لیکر کر انکو رھا کیا جاتا ہے مبینہ طور پر کراچی سے اغوا برائے تاوان ہونے والے افراد کو بھی اسی طریقہ واردات کے تحت کچے میں پہنچایا جاتا ہے منسٹر ایم پی اے یا پارٹی عہدے دار کی گاڑی کے ساتھ چلنے والے گاڑی کے زریعے مغو یان کو کچے کے ڈاکوؤں کے حوالے کیا جاتا ہےآئی جی سندھ نے افسران و اہلکاروں کو انعام اور شاباشی دینے کی بجائے ڈاکوؤں کے سرپرستوں کو مبینہ طور پر ان پولیس اہلکاروں کو مجرم پکڑنے کی پاداش میں ضلع بدر کردیا۔

آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوگیاانسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوگیا، علی ناصر رضوی ضمنی الیکشن کے بعد آئی جی اسلام آباد کا چارج لیں گے

آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوگیاانسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوگیا، علی ناصر رضوی ضمنی الیکشن کے بعد آئی جی اسلام آباد کا چارج لیں گے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ علی ناصر رضوی کو ڈی آئی جی آپریشنز سے جلد ریلیو کر دیا جائے گا جبکہ نئے ڈی آئی جی آپریشنز کے لیے رانا ایاز سلیم اور فیصل کامران کے ناموں پر غور شروع کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزاد بخاری اور سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کا نام بھی شامل ہے۔علی ناصر رضوی کی آئی جی اسلام آباد تعیناتی کا نوٹیفکیشن 30 مارچ کو جاری کیا گیا تھا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت اسلام آباد میں تعینات 3 ڈی آئی جیز علی ناصر رضوی سے سینئر ہیں۔