وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فول پروف سکیورٹی انتظامات۔ آئی جی اسلام آباد کے احکامات پر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مشترکہ گرینڈ کومبنگ سرچ آپریشنز جاری۔تھانہ کرپا، شالیمار، آبپارہ، ترنول، بھارہ کہو، سبزی منڈی اور تھانہ کھنہ کے علاقوں میں زونل ایس پیز کی زیرِ نگرانی سرچ آپریشنز کئے گئے، جس میں لیڈیز پولیس نے بھی حصہ لیا۔سرچ آپریشن کے دوران 475 افراد، 191 گھرانوں، 30 ہوٹلز، 99 دکانوں، 227 موٹر سائیکلز اور 76 گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔ 24 مشکوک افراد اور 31 موٹر سائیکلز کو مزید جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ تھانوں میں منتقل کیا گیا۔ منشیات فروشی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے 540 گرام ہیروئن اور 33 گرام آئس برآمد۔شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کے لیے خصوصی چیکنگ پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں۔
تمام پٹرولنگ یونٹس اور خصوصی سکواڈ شہر بھر میں گشت کر رہے ہیں، سینئر افسران فیلڈ میں موجود رہتے ہوئے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں، شہری چیکنگ کے دوران پولیس سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ اسلام آباد پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنا رہی
خواجہ سعد رفیق کا کانسٹیٹیوشن ایونیو میں آٹھ فلیٹس کے حوالے سے اہم بیان 👈 “کانسٹیٹیوشن ایونیو میں میرا کوئی ذاتی فلیٹ نہیں ہے اور نہ ہی میرے پاس اتنی مالی استطاعت ہے کہ میں وہاں آٹھ فلیٹس خرید سکوں۔
👈 چند ماہ قبل مجھے معلوم ہوا کہ میرے نام، دستخط اور شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے وہاں آٹھ فلیٹس میرے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔
👈 میں نے ٹاور مالکان کو متعدد بار مطلع کیا کہ یہ فلیٹس میرے نام سے ہٹا دیے جائیں، مگر ان کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
👈 کل رات مجھے معلوم ہوا کہ یہ تمام فلیٹس میرے سوشل میڈیا مینیجر نے میرے نام پر خریدے تھے اور بینک نے بھی میرے علم کے بغیر ادائیگیاں منتقل کر دی تھیں۔
سعد بھائی غریب آدمی ہیں، اتنے غریب کہ اپنی دوسری بیگم کو پی ٹی وی پر اینکر رکھوانا پڑا گھر کا خرچ چلانے کے لیے ,جس کا پیکج صرف 4 لاکھ روپے تھا اور دونوں مشکل سے گذارا کر رہے تھے۔
سابق صدر پرویز مشرف نے 2005 میں زلزلے کی ڈونرز کانفرنس کے بعد کنونشن سینٹر کے ساتھ ایک ھوٹل بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ مندوب کنونشن سینٹر کے ساتھ نزدیک ھوٹل میں ٹھہریں شوکت عزیز نے 2006 میں اس کا افتتاح کیا 2006 میں یہ ھوٹل شروع ھوا 2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس پر سٹے دے دیا 20011 امریکیوں نے اعتراض کر دیا شاہ محمود قریشی نے امریکیوں کی حمایت کر دی اور زرداری نے انکی چھٹی کروا دی کیونکہ امریکیوں سے قریشی نے عوض میں وزارت عظمی مانگ لی اسی وقت درخواست سی ڈی کو موصول ھوی اسکو ھوٹل سے فلیٹ میں تبدیل کیا جاے لکین حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد شریف حکومت میں سی ڈی کی جانب سے اسکو این او سی جاری کر دیا گیا سعد رفیق کی سفارش پر اس کے بعد جسٹس رحمتیں نازل ھوے ایک برگئڈیر نے خودکشی بھی کی اب این او سی کینسل ھونے کے بعد سعد رفیق کی سفارش پر وزیراعظم نے مداخلت کی اور نواز لیگ کی میڈیا ٹیم نے محسن نقوی کی کردار کشی کی حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج
اسلام اباد۔۔۔۔۔تین ایم این ایز تین کہانیاں۔۔۔۔۔۔یہ سامنے جو تین صاحبان اپ دیکھ رہے ہیں یہ اسلام اباد کے مقامی لوگ ہیں اور یہ اس وقت قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔اسلام اباد کی مقامی ابادی جتنے بھی ہے وہ سب ان کے بارے میں ایک سپیسیفک رائے رکھتی ہے۔۔۔ بہت دلچسپ صورتحال ہے کہ یہ لوگ عوام کے جو پیچیدہ مسائل ہیں جن میں ان کی زمینوں کو سوسائٹیوں نے سرکاری اداروں نے قبضہ کر لیا ہے مقامی ابادی جب ان کے پاس جاتی ہے تو یہ ان کے کان میں کہتے ہیں کہ یہ ہمارے بس میں نہیں ہے ہم خود مجبور ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔تینوں ایم این ایز کے علاقوں میں اپ دیکھیں تو کس طرح سینہ زوری سے زمینوں کو حاصل کیا گیا اور مقامی ابادی کے لوگ اپنی زمین کے معاوضے کے حصول کے لیے کئی کئی سالوں سے لٹکے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض مشاہدوں میں یہ بھی ایا کہ یہ رہنما بجائے اپنے ووٹرز اپنے علاقے کے لوگوں کی داد رسی کرنے کے یہ اداروں کے کرپٹ مافیا ٹائپ کے بیوروکریٹس کا ساتھ دیتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے?سب سے اسان ٹارگٹ انہوں نے جو رکھا ہوا ہے وہ ہے کنکریٹ کا کاروبار گلیاں نالیاں ڈالنا پلیاں ڈالنا مطلب جہاں پہ ریت سریا کرش بجری کا کام ہے ہوگا یہ لوگ بھاگ بھاگ کے کرتے ہیں۔۔۔
۔۔۔انجم عقیل خان صاحب کا جو حلقہ ہے وہ ادھا سی ڈی اے کے قبضے میں ہے اور ادھا فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے قبضے میں ہے۔۔۔۔مگر یہ موصوف معاوضے کے اصول کے لیے یا ایکوزیشن میکنزم کو اڈاپٹ کروانے کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہے۔۔۔۔۔طارق فضل چوہدری ان کے حلقے میں سید پور بری امام مل پور قائد اعظم یونیورسٹی راؤنڈ اباؤٹ علاقہ اتا ہے۔۔۔۔اپ نے میڈیا پہ دیکھا ہوگا 50 60 سال سے انسٹال کی گئی ابادی کو 50 دنوں میں ملیامیٹ کیا گیا مگر طارق فضل چوہدری صاحب نے اپنا کوئی کردار ادا نہیں کیا۔۔۔۔یہی حال راجہ خرم نواز کے علاقے کا ہے وہاں بھی مختلف نجی و سرکاری سوسائٹیوں نے کیا حال کیا مقامی ابادی کا۔۔۔۔۔۔مگر اب ہمیں واقعی یقین ہو گیا کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایم این اے بنے کیسے ہیں پھر ان کے ڈیروں پہ اکثر ویڈیوز اور تصویریں بھی اتی ہیں کہ اج پبلک ڈے منایا گیا عوام کی کثیر تعداد وہاں پہ ائی موقع پہ ان کے مسائل حل کیے گئے تو پھر یہ سب کیا ہے?ان کے حلقوں میں لوکل گورنمنٹ کے ذریعے جو ترقیاتی پروجیکٹ ہوئے ان میں بدترین کرپشن ہوئی۔۔۔۔۔۔اور اپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ ان کا فوکس ہی ان ترقیاتی پروجیکٹس کی طرف ہے جو کہ لوکل گورنمنٹ کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں گو کہ اب عوام اتنی اوئیر ہو چکی ہے کہ عوام کو پتہ ہے کہ ان پروجیکٹس کی مد میں کیا ہوتا ہے سیکٹر ایف 14 کی ابادی کا جو بلڈ اف پراپرٹی کا ایوارڈ تھا وہ پچھلے 11 12 سال سے پینڈنگ ہے تو انجم عقیل خان صاحب نے بجائے وہ مسئلہ حل کروانے کے اس سیکٹر کا غیر قانونی ڈویلپمنٹ کا افتتاح کروا دیا جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ پہلے جو حقیقی مسئلہ تھا اس کو حل کیا جاتا لیکن انہوں نے علاقے کی عوام کو اگنور کیا اور بیوروکریٹس کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔ مطلب یہ کہ مجموعی طور پر اگر اپ دیکھیں تو ان تینوں ایم این ایز کا علاقے کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہے سوائے گلیاں پکی کرنے کے۔۔۔۔۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہوں نے ائندہ سیاست کرنی ہے کیا ان حالات میں عوام ان کو ووٹ دے گی بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ انہوں نے اپنی سیاست کو دفن کر دیا ہے کیونکہ حلقے کے عوام میں سے کسی بھی بندے کو اپ اٹھا کے دیکھیں سوائے ان کے چیلے چماٹے باقی سب لوگوں کو شکایت ہے کہ ہم پہ مشکل وقت ایا تو ان ایم این اے ایز نے ہمارا ساتھ نہیں دیا تو سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کو ووٹ کون دے گا ائندہ اور یہ کس طرح ایم این اے بنے گےاور اب جو ہے میں نے بنے ہیں وہ کس بہاف پہ بنے ہیں اگر یہ عوام کے ووٹوں سے بنے ہیں تو پھر ان
”اسلام آباد میں اشرافیہ کے خلاف پہلی کارروائی“اس عنوان سے ابھی ایک تحریر نظر سے گزری۔ علم/ معلومات میں اضافہ ہوا کہ پس منظر/ درون خانہ کھیل کا پتہ نہ ہونا، اور سادہ لوح ہونا زندگی کو کس قدر آسان بنا دیتا ہے۔بھائیو، اور اُن کی بہنو ! ایسا کچھ نہیں کہ یہ کوئی اشرافیہ کے خلاف کارروائی ہے۔جو لوگ یہ سب کچھ سی ڈی اے کے ذریعے حکومت اور سپریم کورٹ سے کروا رہے تھے مالک اب بھی وہی ہیں اور زیادہ کُھل کر مرضی کرتے ہیں۔نوٹ: جس دن بلڈنگ کی مالک کمپنی اور سی ڈی اے کے سابق چیئرمینوں اور اُن کے پیچھے موجود اُس وقت کے حکومتی عہدیداروں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اس حوالے سے پوچھ گچھ شروع ہوئی تب شاید اوپر لکھی اپنی رائے میں معمولی تبدیلی کرنا پڑے۔ اور جس دن ملوث حکام کے اثاثے بحق عوام/ سرکار ضبط ہوئے پھر میں بھی کہوں گا کہ اشرافیہ کے خلاف پہلی کارروائی۔اُس وقت تک ایسی باتیں کرنے والے سادہ لوح ہی ٹھہرائے جائیں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی پاکستان سپر لیگ کے فائینل میچ کے موقع پر قزافی اسٹیڈیم لاہور آمد*وزیراعظم نے چیٔرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے ہمراہ کھلاڑیوں سے فرداً فرداً مصافحہ کیا.میچ شروع ہونے سے پہلے فائنل کھیلنے والی ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ وزیرِ اعظم اور چیئرمین پی سی بی کی تصویر ہوئی. وزیرِ اعظم نے فائنل تک پہنچنے کیلئے دونوں ٹیموں کی محنت اور لگن کو سراہا اور فائنل میچ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا.
اس موقع پر وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، اعظم نزیر تارڑ ، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، عبد العلیم خان، رانا مبشر اقبال اور معاون خصوصی طلحہ برکی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے.
طارق ملک صاحب پاکستان آئے، چیئرمین نادرا بنے، چوہدری نثار دور میں کیسز کا خوف دلا کر نکالا گیا، عمران خان دور میں دوبارہ چیئرمین نادرا بنایا گیا، ن لیگ حکومت آئی پھر استعفیٰ لے لیا گیا۔ آج طارق ملک صاحب کا دنیا میں نام ہےنادرا کو عالمی معیار پر لانے والے طارق ملک اور احساس جیسا بے مثال پروگرام دینے والی ثانیہ نشتر—دونوں سیاسی انا کی نذر ہو گئے۔ جس ملک میں میرٹ کا گلا گھونٹ کر درباریوں کو نوازا جائے، وہاں ترقی صرف اشتہاروں تک محدود رہ جاتی ہے
آبدوز سے بورڈ روم تک، صدر آصف علی زرداری کا دورۂ چین محض ایک کہانی نہیں تھا۔جب صدر زرداری چین پہنچے تو ایک طرف ان کے خلاف پروپیگنڈا تھا، سوشل میڈیا پر تنقید اور بدتمیزی کا طوفان تھا، لیکن باخبر حلقے جانتے تھے کہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ بظاہر ساری توجہ ہنگور آبدوز کی کمیشننگ پر رہی، جو ایک نمایاں اور پروقار دفاعی تقریب تھی، اور یہی وہ منظر تھا جو سب نے دیکھا۔مگر اس تقریب کے پیچھے ایک اور اہم عمل خاموشی سے جاری تھا۔ کیمروں سے دور، دستاویزات پر دستخط ہو رہے تھے اور مستقبل کے فیصلے طے پا رہے تھے۔پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے مفاہمتی یادداشتوں نے وہ کام کر دکھایا جو برسوں کی معاشی بحثیں نہ کر سکیں۔ ایک واضح اور عملی روڈ میپ سامنے آگیا۔ان معاہدوں کا دائرہ کار آئی سی ٹی انفراسٹرکچر، چائے کی صنعت کی بہتری، اور معدنی وسائل کی پراسیسنگ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ بظاہر مختلف شعبے ہیں، مگر درحقیقت یہ پاکستان کے بنیادی مسائل سے جڑے ہیں، جن میں نوجوانوں کی بے روزگاری، زرعی پسماندگی، اور خام وسائل برآمد کرکے مہنگی تیار اشیاء درآمد کرنے کی پرانی روش شامل ہے۔پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے، خاص طور پر معدنیات کے معاملے میں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کے درست استعمال کا رہا ہے۔ دہائیوں سے یہ وسائل خام شکل میں بیرون ملک جاتے رہے اور اصل فائدہ دوسروں کو ہوتا رہا۔اب ایک نئی سوچ ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ وسائل کو ملک کے اندر پراسیس کرنا، یہیں ویلیو ایڈ کرنا، اور تیار مصنوعات کی صورت میں برآمد کرنا۔
آئی سی ٹی کا شعبہ طویل المدتی طور پر سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت اور بڑی تعداد میں نوجوان موجود ہیں، مگر انہیں عالمی منڈی سے جوڑنے کے لیے انفراسٹرکچر اور مواقع کی کمی رہی ہے۔ یہ خلا اب پُر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔چائے کا شعبہ بظاہر چھوٹا لگ سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ بھی ایک بڑی معاشی حقیقت ہے۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کی چائے درآمد کرتا ہے۔ اس شعبے میں بہتری صرف ایک فصل کی بہتری نہیں بلکہ ایک مکمل صنعت کو خود کفیل بنانے کا عمل ہے۔یہاں ایک اور اہم پیش رفت بھی سامنے آئی۔ سی پیک کے تصور کو عملی شکل دینے میں صدر آصف علی زرداری کا کردار بنیادی رہا، اور اب اسی دورۂ چین کے دوران سی پیک 2 کا عملی آغاز بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ یہ دوسرا مرحلہ صرف منصوبوں کا تسلسل نہیں بلکہ پاکستان کی صنعتی، ٹیکنالوجیکل اور برآمدی معیشت کی نئی بنیاد بن سکتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے ان معاہدوں کو معاشی خودمختاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا روڈ میپ قرار دیا۔ یہ الفاظ اہم ضرور ہیں، مگر اصل فرق اس بات نے ڈالا کہ یہ کہاں اور کس ماحول میں کہے گئے۔نہ کوئی سیاسی جلسہ تھا، نہ پریس کانفرنس، یہ سب اس کمرے میں ہوا جہاں معاہدوں پر دستخط ہو رہے تھے، چین میں، گواہوں کی موجودگی میں، اور باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بن کر۔دن کے آغاز میں کمیشن ہونے والی آبدوز ماضی کی ایک علامت تھی، ایک ایسی وراثت جس نے دفاع کو مضبوط کیا۔اور دن کے اختتام پر ہونے والے معاہدے مستقبل کی سمت متعین کر رہے تھے۔ایک قدم پاکستان کے دفاع کے لیے تھا۔ اور دوسرا اس پاکستان کی تعمیر کے لیے جس کا یہ ملک حق دار ہے، جہاں سی پیک 2 ترقی کے ایک نئے باب کو
کنگ چارلس کی ماسٹر کلاس! زندگی میں بہت سے گلوبل لیڈرز کو براہ راست بولتے سنا، ٹی وی پر دیکھا، مگر کنگ چارلس کا امریکی کانگریس سے خطاب ایک ماسٹر کلاس تھی. اگر دیکھ سکیں تو ضرور دیکھیں، نیکسٹ لیول!! 28 اپریل کی شام لندن میں میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ موسم بدلا ہوا، باہر ہلکی پھوار، چائے کا کپ ٹھنڈا ہو رہا تھا، اور ٹیلی ویژن پر سی این این کا براہِ راست نشریہ چل رہا تھا۔ سکرین پر واشنگٹن کا کیپٹل ہل تھا، اور کانگریس کے مشترکہ ایوان میں شاہ چارلس سوم اسٹیج پر داخل ہو رہے تھے۔ پیچھے ڈاؤننگ سٹریٹ کا وزیراعظم نہیں، ساتھ کوئی کابینہ کا وفد نہیں، صرف ملکہ کیملا، اور بکنگھم پیلس کا روایتی پروٹوکول۔امریکی نائب صدر اور سپیکر آف دی ہاؤس مائیک جانسن دائیں جانب۔ کانگریس مین، سینیٹرز، فوجی جنرل، سپریم کورٹ کے ججز، سب اُٹھ کر تالیاں بجا رہے تھے۔ امریکی تاریخ میں یہ نواں موقع تھا جب ایک برطانوی بادشاہ نے کانگریس سے براہِ راست خطاب کیا، اور پہلا موقع شاہ چارلس کا تھا۔شاہ نے پوڈیم تک پہنچ کر ایک لمحے کا توقف کیا۔ ہلکا سر ہلایا اور بات شروع ہو گئی۔ مدھم آواز، ٹھہراؤ، اور ایک ایسا انگریزی لہجہ جو پانچ صدیوں کی تربیت سے نکلتا ہے، جسے سیکھا نہیں جا سکتا، وراثت میں ملتا ہے۔تقریر اکتالیس منٹ کی تھی۔ اُس میں چودہ مرتبہ ہال اِجتماعی کھڑے ہو کر تالی بجانے پر مجبور ہوا (اسٹینڈنگ اوویشن) ۔ یہ کانگریس کی روایت میں کسی بھی غیر امریکی مقرر کے لیے ایک معیار سے بلند ترین تعداد ہے۔ اور ہر ’سٹینڈنگ اوویشن‘ ایک خاص فقرے پر آئی تھی، اور ہر فقرہ ایک بادشاہی پیغام تھا، چائے کے بھاپ سے بھرا ہوا تیر۔پہلا تیر دوسرے ہی منٹ میں چلا۔ شاہ نے کہا، “تین صدیاں پہلے میرے بزرگوں نے، آپ کے بزرگوں سے، ایک ضروری مشورہ کیا تھا۔ وہ مشورہ یہ تھا کہ بادشاہت سے فاصلہ رکھنا چاہیے۔ آج کے دن، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اُس مشورے سے پوری طرح متفق ہوں”۔ ہال میں ایک سیکنڈ کا سکوت آیا۔ پھر ہنسی۔
پھر تالیاں۔ پہلی سٹینڈنگ اوویشن۔ یہ برطانوی مزاح کا کلاسیک ’سیلف ڈی پری کیشن‘ تھا، یعنی اپنا مذاق خود اڑانا۔ اور پنہاں پیغام؟ “ہم نے سیکھ لیا، آپ کو بھی سیکھنا چاہیے”۔پھر کسی موڑ پر وہ مرکزی جملہ آیا۔ ” ایک بندے کی مرضی سے، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے”۔ “نوٹ بائی دی وِل آف ون، بٹ بائی دی ڈی لیبریشن آف مینی”۔ ہال میں دو سیکنڈ کا سکوت۔ پھر تالیاں۔ مگر یہ تالیاں پہلے کی تالیوں جیسی نہیں تھیں۔ یہ تالیاں ایسی تھیں جیسے ہال نے فقرہ پہلے سُنا، پھر سمجھا، پھر یاد آیا کہ یہ فقرہ کس کے بارے میں تھا، اور پھر تالی بجائی۔ پانچویں سٹینڈنگ اوویشن پر شاہ نے میگنا کارٹا کا ذکر کیا۔ “1215 میں ایک کمزور بادشاہ کو، ایک طاقتور بیرنوں کے گروہ نے، ایک کاغذ کے ٹکڑے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ بادشاہ کا نام جان تھا، اور وہ بادشاہ بہت ناراض تھا”۔ یہاں شاہ نے ایک سیکنڈ کا توقف کیا، تھوڑی سی شرارتی مسکراہٹ آنکھوں میں آئی، اور بولے، “میں اپنے ایک پرکھ کا دفاع کرنے نہیں آیا۔ مگر اُس کاغذ نے، آپ کا آئین، اور آپ کے بانیوں کا سارا فلسفہ، صدیوں بعد ممکن بنایا”۔ ہال قہقہے سے گونج اُٹھا۔ ٹرمپ نے بھی ہنسی، مگر ہنسی اُس وقت تک پہنچ چکی تھی جب اُسے سمجھ آ چکا تھا کہ “ناراض بادشاہ” کا تذکرہ تاریخی نہیں، حالی تھا۔پھر آٹھویں سٹینڈنگ اوویشن پر بادشاہ نے ایک ایسا برطانوی مذاق کیا جس پر سب ہنسے بغیر نہ رہ سکے۔ “ہم نے 1773 میں آپ کو اپنی بہترین چائے بھیجی تھی”، شاہ نے کہا، “اور آپ نے اُسے بوسٹن کی بندرگاہ میں ڈبو دیا”۔ توقف۔ “اب جب کبھی میں چائے کی پیالی اٹھاتا ہوں، تو سوچتا ہوں، شاید ہم نے آپ کو اپنی بہترین نہیں، بلکہ گھٹیا چائے بھیجی تھی۔ آپ کے ردِعمل سے یہی لگتا ہے”۔ ہال میں قہقہے۔ یہ برطانوی ’ڈرائی ہیومر‘ تھا۔ تین سو سال کی ایک شکست کا ذکر، خود کو رعایتی ڈانٹ، اور پنہاں طور پر یہ یاد دہانی کہ “آپ بھی تو کبھی ہماری چائے سے ناراض ہو کر باغی ہو گئے تھے، تو آج جب آپ کے اپنے ادارے ناراض ہو رہے ہیں، تو ذرا غور کیجیے”۔دسویں سٹینڈنگ اوویشن چرچل کے ایک پُرانے فقرے پر آئی، جسے شاہ نے نئے رنگ میں ادا کیا۔ چرچل نے یہ کہا تھا کہ “آپ امریکیوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، آپ ہمیشہ صحیح کام کرتے ہیں، اور باقی سب کچھ آزمانے کے بعد”۔ شاہ نے یہ فقرہ دہرایا، اور پھر آخر میں ہلکی سی شرارت کے ساتھ کہا، “میں آپ کو دعا دیتا ہوں کہ آپ ’باقی سب کچھ‘ کا تجربہ بہت طویل نہ کریں”۔ تیرہویں سٹینڈنگ اوویشن نسلِ انسانی کی مشترک میراث پر تھی۔ “ہم برطانیہ میں چھ سو سال میں سیکھ پائے کہ بادشاہت ایک علامتی ادارہ بن سکتی ہے، اور پارلیمنٹ ہی اصل اقتدار کی جگہ ہے”، شاہ نے کہا۔ “آپ نے دو سو پچاس سال پہلے یہی بات سیکھی تھی، اور اپنے بانیوں نے اِسے اپنے آئین میں لکھ دیا تھا۔ ہم تاخیر سے سیکھنے والے رہے، آپ تیز سیکھنے والے۔ مگر سیکھا تو دونوں نے ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی، یہ سبق بھول تو نہیں رہا”۔یہ آخری فقرہ، “ہم میں سے کوئی، یہ سبق بھول تو نہیں رہا”، اِس سارے دورے کا نچوڑ تھا۔ کسی کا نام نہیں، کسی پر تنقید نہیں، صرف ایک سوال، ہوا میں چھوڑ دیا گیا۔ ہر کانگریس مین نے اپنے لیے سُنا۔ ہر سینیٹر نے اپنی پارٹی کے لیے سُنا۔ اب ذرا تین تہوں میں اِس صورتحال کو دیکھتے ہیں۔پہلی تہہ یہ ہے کہ شاہ چارلس کسی تنہا سفر پر نہیں آئے تھے۔ یہ اپریل دو ہزار چھبیس کا وہ نازک دور ہے جب ٹرمپ کی مایگا بنیاد بکھر رہی ہے۔ ٹکر کارلسن، سٹیو بینن، اور رپبلکن پارٹی کے ایک حصے نے علانیہ ٹرمپ پر تنقید شروع کی ہوئی ہے۔ یورپی اتحادی، خاص طور پر اٹلی کی جورجیا میلونی اور ہنگری کے وکٹر اوربان، جو ابھی تک ٹرمپ کے ساتھی تھے، اب فاصلہ رکھ رہے ہیں۔ کانگریس میں ایران جنگ کے خلاف خط بھیجا جا چکا ہے۔ ڈاؤ جونز اڑتالیس گھنٹوں میں دو ہزار پوائنٹس گر چکا ہے۔ ٹرمپ کا ’کنگ ڈم‘ زیرِ دباؤ ہے۔ایسے میں برطانوی شاہ کا واشنگٹن پہنچنا اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جس کی منصوبہ بندی ڈاؤننگ سٹریٹ نے، فارن آفس نے، اور خود بکنگھم پیلس نے، مہینوں پہلے کی تھی۔ پیغام واضح تھا، “ہم آپ کے اتحادی ہیں، مگر ہم آئین کی روایت کے بھی پاسبان ہیں۔ آپ سے دوستی نبھائیں گے، آپ کی اخلاقی پھسلن میں ساتھ نہیں دیں گے”۔دوسری تہہ زیادہ دلچسپ ہے۔ شاہ چارلس خود کوئی فرشتہ نہیں ہیں۔ شہزادی ڈیانا کا سایہ آج بھی ان کے کندھوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ میگن مارکل کے ساتھ خاندان کے رویے پر دنیا بھر میں سوال اٹھے ہیں۔ کیملا کا کوئین کنسارٹ بننا ایک ایسی کہانی ہے جس کے بارے میں برطانوی عوام کا ایک بڑا حصہ آج تک نالاں ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، برطانوی نوآبادیات کا تاریخی بوجھ، چاہے وہ بنگال کا قحط ہو، کینیا کا مَؤ مَؤ ہو، یا برصغیر کی تقسیم، شاہی خاندان کی بنیادوں سے کبھی پوری طرح اُترا نہیں۔یہ سب درست ہے۔ مگر یہاں بھی ایک سبق ہے۔ آدمی اپنی شخصیت کی کمزوریوں کے باوجود، اپنے ادارے کی روایت کا پاسدار بن سکتا ہے۔ شاہ چارلس آئین کی پاسداری کا وہ سبق دے رہے تھے جو شاہی خاندان نے سترہویں صدی سے سیکھا ہے۔ کنگ چارلس اوّل نے بات نہیں سنی، تو اُس کا سر کاٹ دیا گیا۔ بادشاہ سیکھ گئے۔ آج برطانوی بادشاہ علامتی ہے، اصل اقتدار پارلیمنٹ کے پاس ہے، اور بادشاہ اِس بات پر ناخوش نہیں، مطمئن ہے۔ ادارے کی موت کا خوف، اقتدار کی کمی کے غم سے بڑا ہوتا ہے۔ٹرمپ کے امریکا میں اس وقت اُلٹا سفر چل رہا ہے۔ وہاں صدر، کانگریس، عدلیہ، ایجنسی، سب کا تنازع آہستہ آہستہ ایک شخص کی مرضی کی طرف کھِسک رہا ہے۔ ایگزیکٹو آرڈرز کی تعداد ایک سال میں سب سے زیادہ، عدالتی فیصلے غیر مؤثر، کانگریس مفلوج، اور صدارتی محل نما رہائش گاہیں نئے سرے سے سجائی جا رہی ہیں۔ ’ٹرمپ ہاؤس‘، ’ٹرمپ ٹاور‘، ’ٹرمپ آرگنائزیشن‘۔ تین سو سال پہلے یورپ کے بادشاہوں کا یہی شغل تھا، اور یہی شغل اُن کی تاج پوشیوں اور تاج کشیوں کی وجہ بنا تھا۔اور یہاں شاہ چارلس کا فقرہ ایک تاریخی آئینہ تھا۔ “نہ ایک کی مرضی سے، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے”۔ یعنی، جناب صدر، آپ کا ملک اِس فقرے پر بنا تھا۔ آپ بادشاہت سے بھاگ کر اِس فقرے پر پہنچے تھے۔ اور آپ آج اُسی بادشاہت کی طرف لوٹ رہے ہیں جس سے آپ کے بزرگ بھاگے تھے۔ ذرا رُک کر سوچیں۔تیسری تہہ، شاید سب سے دلچسپ، یہ ہے کہ شاہ چارلس نے ٹرمپ پر تنقید نہیں کی۔ تنقید بادشاہی شان نہیں ہے۔ بادشاہی شان آئینہ پکڑنا ہے، اور یہ کام انہوں نے نفاست سے کیا۔ بھائی، یہ وہ ہنر ہے جو شاید ہمارے سفارت کار کبھی نہیں سیکھ سکیں گے۔ ہمارے ہاں اگر کوئی پیغام دینا ہو تو ہم تین گھنٹے کی پریس کانفرنس بلاتے ہیں، نام لے کر گالی دیتے ہیں، پھر معافی مانگتے ہیں، پھر معافی واپس لیتے ہیں۔ شاہ نے اکتالیس منٹ میں، چودہ تالیوں کے ساتھ، بغیر کسی نام کے، ایسے فقرے ادا کر دیے جو دنیا بھر کے اخباروں میں اگلے دن کی شہ سرخی بنے۔اور یہاں برطانوی مزاح کا کمال دیکھیں۔ مزاح بادشاہی ہتھیار ہے، اور اِس ہتھیار کی دھار اتنی نفیس ہے کہ کاٹ تو جاتی ہے، خون کا قطرہ نظر نہیں آتا۔ امریکی صدور تنقید کا جواب گالی سے دیتے ہیں۔ روسی صدر زہر سے۔ چینی قیادت خاموشی سے۔ مگر برطانوی شاہ مذاق سے دیتے ہیں۔ “ناراض بادشاہ”، “اوسط چائے”، “باقی سب کچھ کا تجربہ بہت طویل نہ کریں”۔ تینوں فقرے بظاہر ہنسی کے، اندر سے تیر۔ اور ہنسنے والا بھی ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا، کیونکہ نہ ہنسے، تو سب کو پتا چل جائے کہ تیر اُسی کی طرف تھا۔یہی فرق ہے جو ادارے بناتا ہے، اور یہی فرق ہے جو ادارے گراتا ہے۔ شاہ چارلس کی کوئی شخصی فضیلت نہیں ہے۔ ان کے ساتھ پانچ صدیوں کی ادا، تربیت، روایت، اور اِسٹیج کرافٹ ہے۔ یہ روایت چھ سو برس میں بنی ہے، اور چھ سو برس میں ہی اِسے بنایا جا سکتا ہے۔ تیار شدہ نہیں ملتی۔ٹرمپ کے پاس یہ روایت نہیں ہے، اور وہ اِسے دو ہزار چوبیس کی ٹویٹ سے تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ٹویٹ سے ادارہ نہیں بنتا۔ ادارہ بنانے کے لیے صدیوں کی پابندی، ضابطے کی محبت، اور خود سے کم ظاہر کرنے کی استعداد چاہیے۔ ٹرمپ یہ تینوں چیزیں نہیں رکھتے۔ اِسی لیے، شاہ چارلس کے ساتھ کھڑے ہوئے، وہ بڑا کم لگا۔ بھاری وزن کے باوجود، چھوٹا لگا۔ زیادہ تالیوں کے باوجود، تنہا لگا۔اور یہ منظر امریکا کے کانگریس مین بھی محسوس کر رہے تھے۔ سی این این کے کیمرے نے سینیٹر مٹ رومنی کا چہرہ پکڑا، جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں مگر مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے۔ رومنی نے ہلکا سا سر ہلایا، جیسے کہہ رہے ہوں، “ہاں، یہ ہم سب کو سُننے کی ضرورت تھی”۔ ڈیموکریٹک سینیٹر چک شومر کی آنکھیں نم تھیں۔ سپیکر مائیک جانسن، جو ٹرمپ کے قریبی اتحادی ہیں، چہرے پر ایک خاص بے چینی لیے تالی بجا رہے تھے۔ ہال نے پیغام سُنا، اور ہر ایک نے اپنی اپنی فہم کے مطابق سُنا۔تقریر کے بعد بکنگھم پیلس کی روایتی عشائیہ تقریب تھی۔ ٹرمپ آئے، تصویریں بنیں، ہنسی مذاق ہوا۔ مگر اخباروں کی شہ سرخی صبح کو ایک ہی تھی۔ ’دی ٹائمز‘، ’دی ٹیلی گراف‘، ’دی گارجین‘، اور ’فنانشل ٹائمز‘، چاروں نے وہی فقرہ سرخی میں رکھا۔ “نہ ایک کی مرضی سے، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے”۔نیویارک ٹائمز نے ایک ادارتی مضمون میں لکھا، “ایک بادشاہ نے امریکا کو وہ سبق یاد دلایا جو امریکا اپنے بانیوں سے بھول گیا تھا”۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا، “اگر یہ کسی برطانوی وزیراعظم نے کہا ہوتا، تو ایک بحران ہوتا۔ بادشاہ نے کہا، تو یہ ایک ’سفارتی توضیح‘ تھی”۔اور بی بی سی کی صحافی لورا کؤنز برگ نے ایک سادہ بات لکھی، “بادشاہت کی واپسی نہیں ہوئی، بادشاہت کی روایت کی واپسی ہوئی”۔ یعنی، ہم چارلس کے کنگ ہونے سے کم دلچسپی رکھتے ہیں، اور اُس روایت سے زیادہ جس کے وہ آج کے امین ہیں۔اب کانگریس کی اُس عمارت میں رات ہو چکی ہے۔ مہمان جا چکے ہیں۔ کیپٹل ہل کے ستون چپ ہیں۔ مگر آئینہ ابھی وہیں رکھا ہوا ہے، جہاں شاہ نے رکھ دیا تھا۔ آنے والے دنوں میں جب کوئی ایگزیکٹو آرڈر دستخط ہوگا، جب کوئی فیصلہ ایک شخص کی مرضی سے کیا جائے گا، تب وہ آئینہ خاموشی سے کہے گا، “ایک شخص کی مرضی سے نہیں، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے”۔شاید سُنا جائے گا، شاید نہیں۔ مگر آئینہ پکڑنے والے کا کام آئینہ پکڑنا ہے۔ اُس میں چہرہ دکھنا یا نہ دکھنا، یہ سامنے کھڑے شخص کا اپنا مسئلہ ہے۔
یونیورسٹی روڈ منصوبہ ، چار مرکزی مجرم بقلم خود سید منور عالم کراچی کی یونیورسٹی روڈ اس وقت شہر کے سب سے زیادہ زیرِ بحث منصوبوں میں شامل ہے۔ یہ سڑک نہ صرف تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور کاروباری مراکز کو جوڑتی ہے بلکہ روزانہ لاکھوں افراد اس سے گزرتے ہیں۔ اسی سڑک پر جاری ریڈ لائن بس منصوبہ اب ترقی سے زیادہ مسائل کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ تاخیر، ناقص منصوبہ بندی اور ٹھیکہ داری نظام پر اٹھتے سوالات نے اسے ایک سنجیدہ عوامی مسئلہ بنا دیا ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ منصوبہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کا نہیں بلکہ سندھ حکومت کا ہے۔ مرتضیٰ وہاب تو صرف تصویریں کھنچوانے کی بیماری کی وجہ سے اس منصوبہ میں رگڑے گئے۔ کچھ جاہل یوٹیوبرز نے رگڑ دیا اس منصوبے کو چلانے کے لیے سندھ حکومت نے ایک الگ ادارہ قائم کیا جس کا نام ٹرانس کراچی کمپنی ہے جبکہ فنڈنگ میں Asian Development Bank سمیت عالمی ادارے شامل ہیں۔یہ منصوبہ تقریباً 27 کلومیٹر طویل ہے، جو ملیر ہالٹ سے نمائش تک جانا تھا۔ ابتدا میں اس کی لاگت تقریباً 79 ارب روپے بتائی گئی، مگر تاخیر، بدانتظامی اور لاگت بڑھنے کے بعد یہ تخمینہ 103 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ کام 2022 میں شروع ہوا، پہلے 2023، پھر 2024 اور اب 2026 تک completion کی بات کی جا رہی ہے۔ پہلا حصہ ائیرپورٹ سگنل سے موسمیات اور دوسرا حصہ موسمیات سے نمائیش چورنگی تک ہے اس منصوبے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا تاکہ کام تیزی سے مکمل ہو سکے۔ لیکن یہی تقسیم بعد میں مسائل کا سبب بن گئی۔ خاص طور پر یونیورسٹی روڈ والا حصہ، جو سب سے زیادہ مصروف اور اہم ہے، شدید تاخیر کا شکار ہو گیا۔ اس حصے کا ٹھیکہ ایک مشترکہ کمپنی کو دیا گیا تھا، جس کا نام جوائنٹ وینچر JV ہے جس میں مقامی اور غیر ملکی ادارے شامل تھے۔حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ ٹھیکیدار اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکا۔ کام کی رفتار بہت سست رہی، معیار بھی تسلی بخش نہیں تھا، اور کئی بار تنبیہ کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔ اسی بنیاد پر حکومت نے اس ٹھیکے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو منصوبہ مزید کئی سال تاخیر کا شکار رہتا۔دوسری طرف ٹھیکیدار کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں منصوبے کی مکمل معلومات وقت پر فراہم نہیں کی گئیں۔ نقشے اور تفصیلات تاخیر سے دی گئیں، کام کی جگہ بھی وقت پر خالی نہیں کرائی گئی، اور ادائیگیوں میں بھی رکاوٹیں آئیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کرتی تو منصوبہ اتنی تاخیر کا شکار نہ ہوتا۔ اس معاملے پر قانونی کارروائی بھی جاری رہی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں جانب سے کوتاہی ہوئی۔اس تاخیر کے دو مرکزی ملزمان ہیں ایک وزیر اعلی سندھ دوسرا وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن ۔ جب صورتحال قابو سے باہر ہونے لگی تو حکومت نے ایک نیا راستہ اختیار کیا۔ کچھ حصوں کا کام ایک سرکاری تعمیراتی ادارے کو دے دیا گیا تاکہ کم از کم اہم جگہوں پر پیش رفت ہو سکے۔ اس ادارے نے آ کر فوری طور پر کچھ کام شروع بھی کیا، جس سے وقتی طور پر امید پیدا ہوئی کہ شاید اب رفتار تیز ہو جائے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ابھی بھی پورا منصوبہ ایک ہی ادارے کے حوالے نہیں کیا گیا بلکہ مختلف حصوں میں کام جاری ہے۔اس تمام صورتحال میں مئیر کراچی دراصل ایک خاموش تماشائی تھے مگر سندھ حکومت کے منصوبہ پر تصویریں کھنچوانے کا کیڑہ کاٹ گیا اور مرتضیٰ وہاب منصوبہ کے آغاز میں اس قدر تصویریں کھنچوائیں کہ لوگ اس منصوبہ کو میئر کراچی کا شاہکار سمجھنے لگے یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ ٹھیکیدار واقعی نااہل تھا تو اسے ابتدا میں ٹھیکہ کیوں دیا گیا؟ کیا اس کے تجربے اور صلاحیت کا درست جائزہ لیا گیا تھا؟ اگر نہیں، تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اسی طرح اگر منصوبے کے نقشے، جگہ کی فراہمی اور دیگر انتظامی امور میں تاخیر ہوئی تو اس کی جوابدہی بھی ضروری ہے۔چوتھا مجرم وہ ہے جس نے یہ تین افراد عوام پر مسلط کئے ہیں سمجھ جائیں ٹھیکہ دینے کی بے ضابطگیوں اور کمیشن پر تنازعہ کی کہانی دوسری قسط میں دونگا تاہم کراچی کے صحافیوں کو ٹھیکیدار کمپنی اور اس کے وکیل کا بھی تفصیلی انٹرویو کرنا چاہیئے مگر کیونکہ صحافت ابھی قید ہے شاید یہ ہمت کوئی نہ کرے
گرینڈ حیات بلڈنگ یہ ایک عمارت پورے پاکستان کے ائین اور قانون سے بالاتر ہے- اج تک اس بلڈنگ کو کوئی بھی ہاتھ نہیں ڈال سکا-اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ نے شاہراہِ دستور پر واقع ‘ون کانسٹیٹیوشن ایونیو’ نامی بلند و بالا عمارت(جسے گرینڈ حیات بلڈنگ بھی کہا جاتا
“ وزیراعلیٰ کے پی بڑا اعتراض کرتے ہیں کہ میں نے عدالت میں سلام کیا تو چیف جسٹس نے جواب نہیں دیا، میں وزیراعلیٰ کے پی کو کہتا ہوں کہ وعلیکم اسلام” چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے الفاظ پر عدالت میں قہقہے
*حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کر دیا**ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے لیٹر اضافہ* *پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا**پیٹرول کی نئی قیمت 399.86 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی نئی قیمت 399.58 روپے فی لیٹر ہوگئی**نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔*
بابر سرفراز الپا کو دوبارہ آر پی او راولپنڈی تعینات کردیا گیا راولپنڈی ( )بابر سرفراز الپا کو دوبارہ آر پی او راولپنڈی تعینات کردیا گیا،وہ اس سے قبل 2سال 9ماہ ریجنل پولیس آفیسر راو لپنڈی تعینات رہے اور رواں سال 124ویں نیشنل منیجمنٹ کورس کے لئے انہوں نے جنوری میں چارج چھوڑ دیاتھا،حکومت پنجاب کی جانب سے ایک بار پھر انہیں آرپی او راولپنڈی مقرر کیاگیا ہے ،چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کے دستخطوں سے منگل کو ان کی بطور ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی تعیناتی کانوٹیفیکیشن جاری کیاگیا
اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کا تبادلہ متنازع کیسے بنا؟پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی کرنے والے فورم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان تین ججوں کی ملک کی دیگر ہائی کورٹس میں تبادلوں کی منظوری دی تو اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی۔اس اجلاس کے دو شرکا اور کمیشن کے رکن بیرسٹر گوہر اور علی ظفر نے بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ججز کی ’مرضی کے بغیر‘ انتظامیہ نے انھیں ’بدنیتی‘ سے دوسری عدالتوں میں ’بطور سزا‘ ٹرانسفر کر دیا ہے۔بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس ارباب طاہر اور خادم حسین سومرو کے تبادلے کا معاملہ ڈراپ کر دیا گیا جبکہ جسٹس بابر ستار کو پشاور، جسٹس محسن کیانی کو لاہور اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو سندھ ٹرانسفر کر دیا گیا۔انھوں نے بتایا کہ ججز کا یہ تبادلہ نو اور تین کی اکثریت سے ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ’تمام ہائیکورٹس میں ججز کی تعداد مکمل ہے۔ ججز کا تبادلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔‘تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ججز کے ٹرانسفر کو سزا قرار دینا غلط ہے۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے مقامی چینل جیو نیوز کو بتایا کہ ’یہ عدلیہ پر نہ کسی قسم کی قدغن ہے اور نہ ہی کوئی وار ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن نے ججز کے ٹرانسفر کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق کیا ہے۔ہائیکورٹ کے ججز کا کس قانون کے تحت تبادلہ ہوا؟جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی صدارت کی تھی۔سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹری نے آئین کے آرٹیکل 175 اے کی شق (22) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے طلب کیا کیونکہ کمیشن کے چیئرمین (چیف جسٹس یحییٰ آفریدی) نے وجوہات بتاتے ہوئے کُل ارکان کے ایک تہائی کی جانب سے دی گئی ریکوزیشن پر اجلاس بلانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ چیف جسٹس نے خود بھی اس ٹرانسفر کی مخالفت کی۔بیان کے مطابق کمیشن نے جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ان تبادلوں کی منظوری اکثریتی رائے سے دی گئی۔جوڈیشل کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کسی ہائی کورٹ سے جج کے تبادلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی خالی اسامی کو صرف تبادلے کے ذریعے ہی پُر کیا جائے گا، اور ایسی اسامی کو کسی صورت ابتدائی تقرری کی خالی نشست تصور نہیں کیا جائے گا
۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جس رُکن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کو بلوچستان ہائی کورٹ اور جسٹس خادم حسین سومرو کو سندھ ہائی کورٹ منتقل کرنے کے لیے اجلاس بلانے کی درخواست دی تھی، اس نے دونوں تجاویز واپس لے لیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ سے یہ تبادلے آئین کے آرٹیکل 200 میں ترمیم کے بعد کیے گئے ہیں، جس کے تحت جوڈیشل کمیشن کو ججوں کی رضامندی کے بغیر تبادلے کی سفارش کا اختیار دیا گیا ہے۔یہ ترمیم 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی، جس سے قبل کسی بھی جج کے ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ تبادلے کے لیے اس کی رضامندی لازمی تھی۔ نئی شق کے تحت یہ اختیار اب جوڈیشل کمیشن کو حاصل ہو گیا ہے۔ترمیم کے مطابق، اگر کوئی جج تبادلہ قبول کرنے سے انکار کرے تو اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ سے ججوں کے تبادلوں کے امکان پر سنجیدہ آئینی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی غیر رسمی درخواستوں کے جواب میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اس نوعیت کے تبادلے وفاقیت اور مساوی نمائندگی کے اصولوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور عدالتی تقرریوں کو عارضی اور قابلِ واپسی انتظامی فیصلوں میں بدل سکتے ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ نو رکنی اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کو فوری متبادل تقرریوں کے بغیر منتقل کرنا عدالتی ادارے میں سنگین خالی اسامیاں اور انتظامی عدم استحکام پیدا کر دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وجوہات کے بغیر ایسے تبادلے تادیبی کارروائی کا تاثر دے سکتے ہیں، جو مناسب آئینی طریقۂ کار کے بغیر عملی طور پر برطرفی کے مترادف ہوں گے۔انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججوں کے خلاف الزامات کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم موجود ہے۔
چیف جسٹس کے مطابق ایسے تبادلوں کی اجازت دینا جو عملی طور پر برطرفی کی شکل اختیار کر لیں، آئینی تحفظات کو کمزور کرے گا، ایک خطرناک مثال قائم کرے گا اور عدلیہ کی آزادی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچائے گا۔بابر ستار، محسن اختر کیانی اور ثمن امتیاز: ٹرانسفر ہونے والے تین ججزجن ججز کا تبادلہ ہوا ہے، وہ ان چھ ججوں میں شامل تھے جنھوں نے مارچ 2024 میں سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کو ایک غیر معمولی خط لکھا تھا، جس میں ملکی خفیہ اداروں پر عدالتی امور میں مداخلت، ججوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد، اور ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔یہی جج فروری 2025 میں اُن پانچ ججوں میں بھی شامل تھے جنھوں نے اُس وقت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ڈوگر کے ممکنہ تبادلے کی باقاعدہ مخالفت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ ان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تقرری آئینی طریقۂ کار اور عدالتی روایات کی خلاف ورزی ہو گی۔اس کے باوجود، جسٹس ڈوگر کو 13 فروری 2025 کو قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ مقرر کر دیا گیا۔ اگلے روز حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں تمام ججوں کو مدعو کیا گیا تھا، تاہم پانچ جج، جن میں اب ٹرانسفر کیے جانے والے تینوں جج بھی شامل تھے، نے تقریب میں شرکت نہیں کی اور اس کا بائیکاٹ کیا۔اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں سینیئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی کے اختیارات نمایاں طور پر کم کر دیے گئے، جو اس سے قبل اہم فیصلہ سازی کے امور میں مرکزی کردار رکھتے تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی ایڈمنسٹریشن کمیٹی، جو پہلے چیف جسٹس، سینیئر ترین جج اور ایک سینیئر جج پر مشتمل تھی، اسے تبدیل کر کے چیف جسٹس ڈوگر اور ان کے دو نامزد ججوں پر مشتمل کر دیا گیا، جس سے عدالت میں فیصلہ سازی کے اختیارات کا توازن نمایاں طور پر بدل گیا۔بعد ازاں جسٹس ڈوگر نے 8 جولائی 2025 کو بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ حلف اٹھایا، اور ان پانچ سینیئر ججوں کو، جنھوں نے ان کے تبادلے کی مخالفت کی تھی، مختلف اہم کمیٹیوں سے الگ کر دیا گیا۔گذشتہ سال ستمبر میں ان پانچ ججوں نے سپریم کورٹ میں مشترکہ طور پر متعدد درخواستیں بھی دائر کی تھیں، جن میں بینچوں کی تشکیل، روسٹر، اور مقدمات کی منتقلی جیسے معاملات پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور ایڈشنل جج تعینات ہونے والے بابر ستار سنہ 1975 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اسی شہر سے حاصل کی۔ انھوں نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اُنھوں نے بطور وکیل پریکٹس شروع کی۔بابر ستار کی سنہ 2006 میں ہائی کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے انرولمنٹ ہوئی اس کے بعد سنہ 2017 میں ان کی انرولمنٹ بطور سپریم کورٹ کے وکیل کے طور پر ہوئی۔ بابر ستار کو ٹیکس کے معاملات اور کارپوریٹ لا پر عبور حاصل ہے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے کیس میں بابر ستار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی وکلا کی ٹیم میں شامل تھے اور اُنھوں نے ایف بی آر اور ٹیکس قوانین کے بارے میں دلائل بھی دیے تھے۔اس صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے بابر ستار کی تعریف کی تھی۔بابر ستار مقامی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے پروگراموں میں بطور مبصر بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی فروری 1970 میں اسلام آباد میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اسلام آباد ایف جی بوائز ہائی سکول اینڈ کالج سے حاصل کی۔ بعد ازاں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے وکالت جبکہ کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔ قانونی پریکٹس انھوں نے سنہ 1995 سے اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار سے شروع کر دی تھی۔ جبکہ سنہ 2009 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے وکیل بنے۔ جسٹس محسن اختر کیانی 2014-2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ 2011 میں فعال کی گئی تو محسن اختر کیانی دسمبر 2015 میں پہلے جج تھے جو اسلام آباد سے ہی تعینات ہوئے۔ان کی تعیناتی سے قبل اسلام آباد کی بار ایسوسی ایشن کا یہ مطالبہ رہا تھا کہ اسلام آباد میں فیڈرل ڈومیسائل والا جج بار ایسوسی ایشن سے تعینات ہونا چاہیے۔ثمن رفعت امتیاز کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ سپریم کورٹ کی وکیل بھی ہیں۔ وہ 2004 سے کراچی میں وکالت کر رہی ہیں جبکہ امتیاز لا کے نام سے انھوں نے اپنی لا فرم بھی بنائی ہوئی ہے۔اے لیولز کے بعد ثمن امتیاز نے دبئی میں امریکن یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد قانون کی ڈگری رچمنڈ یونیورسٹی ورجینیا سے حاصل کی تھی۔ثمن امتیاز 2007 سے بطور وکیل ہائی کورٹ وکالت کر رہی ہیں جبکہ 2019 میں وہ سپریم کورٹ کی وکیل کے طور پر بھی رجسٹرڈ ہو گئی تھیں۔انھوں نے لا جرنل کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جب وہ دبئی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کر رہیں تھیں تو اس وقت ان کا ایک کورس بزنس لا بھی تھا جس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے سوچا کہ آگے اسی شعبے میں جانا ہے۔ثمن امتیاز نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ وہ ’بے نظیر بھٹو کو آئیڈلائز کرتی ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ وہ تقریباً 12 سال کی تھیں جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔ ’ایک خاتون کو اتنے بڑے عہدے پر دیکھنا یقیناً بہت مثبت اور متاثرکن تھا۔‘قانونی ماہرین اس فیصلے پر تنقید کیوں کر رہے ہیں؟اگرچہ حکومت کی طرف سے اس فیصلے کا دفاع کیا گیا ہے تاہم بعض قانونی ماہرین اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔قانونی ماہر بیرسٹر صلاح الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ منتقلی ’بلاوجہ کی گئی اور اس کا مقصد ججز کو سزا دینا ہی تھا۔‘ان کے مطابق اس سے ’عدلیہ کے انتظامیہ کے ماتحت ہونے‘ کا تاثر ملتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’جو یہ کہا گیا ہے کہ تبادلے کے بعد نئے ججز کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جائے گی اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انتظامیہ اب اپنی پسند کے ججز کو ان عدالتوں میں لے کر آئے گی۔‘جبکہ کالم نگار اور قانونی ماہر بیرسٹر اسد رحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ ان کی رائے میں جس طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کے ’جسٹس طارق محمود جہانگیری کو گھر بھیجا گیا اور وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا، اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ کیسے اب عدلیہ ایک ایگزیکٹو کے ماتحت ادارے کے سوا کچھ نہیں۔‘اسد رحیم کا کہنا ہے کہ یہ آئین سازی ’بنیادی تقاضوں کے ہی خلاف ہے کہ عدلیہ کو انتظامیہ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ یہ اصول سنہ 1954 میں طے ہو چکا تھا کہ عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ رکھنا ہے کیونکہ بصورت دیگر اس کا غلط استعمال ہوگا۔‘بی بی سی نے جب اس فیصلے کے بارے میں قانونی ماہر ایڈووکیٹ اسد جمال سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے ججز جو حکمرانوں کے لیے باعث زحمت بن سکتے ہیں ان کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں۔‘اسد جمال کے بقول انھوں نے اس قانون سازی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے مگر دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک شنوائی ہی نہیں ہو سکی ہے۔وہ خبردار کرتے ہیں کہ یہ قانون ’ہائیکورٹ کے ججز پر ایک لٹکتی تلوار ہے۔‘حکومتی ردعمل: ’انتقام کا تاثر غلط ہے‘تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ تینوں ججز کے ٹرانسفر کو ’انتقام کا تاثر دینا غلط‘ ہے۔وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کہتے ہیں کہ ’آئین کے آرٹیکل 200 اور 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں اکثریتی ووٹ سے ان چیزوں پر فیصلہ کیا گیا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے اور آئینی عدالت کے چیف جسٹسز اور پانچ سینیئر ججز ہیں، جبکہ حکومت کے صرف چار لوگ ہیں: وزیرِ قانون، اٹارنی جنرل اور حکومتی بینچر کے دو اراکین۔’یہ کوئی سزا نہیں ہے، آپ کو پتا ہے بار ایسوسی ایشنز کا بھی یہ مطالبہ رہا ہے کہ ججز کا ٹرانسفر کیا جانا چاہیے۔‘وہ کہتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی پر ’کوئی قدغن نہیں، نہ یہ کوئی وار ہے۔‘ رپورٹ اعظم خان، بی بی سی
پٹرولیم کے سٹریٹیجک ذخائر رکھنا ضروری ہیں ۔عالمی ترسیل مشکلات کا شکار ہے ۔یہی حالات جاری رہے جلد کرفیو لگانا پڑے گا ۔فرنس آئل ڈیزل اور گیس سے بجلی کی پیداوار روکنا پڑے گی ۔بہت بڑا بحران دروازوں پر دستک دے رہا ہے ۔مہنگا تیل خریدنے کیلئے زرمبادلہ کے زخائر ناکافی ہیں ،پیسوں کا بندوبست ہو بھی جائے امریکہ سے تیل کی درآمد بہت مہنگا سودا ہو گا ۔ملک چلانے کیلئے خلیجی تیل کے علاؤہ کوئی آپشن قابل عمل نہیں ۔
جنگ سے گریز اور امن کی تلاش =====================شاہد اقبال کامران ===================پہلگام سانحے کے بعد اپنی نااہلی اور غفلت پر پردہ ڈالنے کے لیے انڈیا نے فوری طور پر آسان ترین راستہ اختیار کرتے ہوئے سارا الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا۔ پہلگام حادثہ نہایت درجہ محتاط مگر گہری اور تفصیلی تحقیقات کا متقاضی ہے ۔ انڈیا ہمیشہ اپنی ہر انتظامی اور حفاظتی ناکامی کے بعد پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر ؛ گویا اپنے عوام اور دنیا بھر کو الو بنا کر ؛اپنا الو جیسا منہ دکھانے کا بندوست کر لیتا ہے ۔اس بار نریندر مودی نے ریاست بہار کے چناو کے دباو کو اپنے اعصاب پر اس قدر سوار کر لیا کہ وہ اپنے اوسان ہی خطا کر بیٹھا۔پہلگام سانحہ افسوسناک اور تشویشناک ہے ۔وہاں بے گناہ سیاحوں کی جان لینے والے دہشت گرد کسی معافی اور رحم کے مستحق نہیں ہیں۔لیکن وہ دہشت گرد پہلگام جیسے دور دراز ، محفوظ اور امرناتھ یاترا کے مصروف روٹ پر واقع مقام تک کیسے پہنچ پائے؟ مقبوضہ کشمیر میں شنید ہے کہ انڈیا نے نو لاکھ فوج بٹھا رکھی ہے۔ان نو لاکھ فوجیوں کو بٹھانے کے علاوہ چلنے پھرنے اور مقبوضہ علاقے کی سیکیورٹی کی طرف توجہ بھی دینی چاہیئے تھی۔ دہشت گردی کے اس واقعے کو روایتی الزام تراشی کا عنوان بنا کر انڈین اتھارٹیز نے اپنے غیر مستحکم قبضے کے غیر موثر ہونے کی خبر خود ہی عام کر دی ہے ۔ جب سے لائن آف کنٹرول پر سیزفائر ہوا تھا ، اور دنوں اطراف تعینات افواج نے باہم امن و امان کے ساتھ رہنے کی تربیت حاصل کرنی شروع کی تھی،نریندر مودی کی طبیعی انتہا پسندی یہ سب کچھ برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔ وہ جس کی سیاست کی بنیاد ہی مذہبی منافرت پر ہو ، اس سے امن ، برداشت اور سلامتی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ۔نریندر مودی کی اصل دشمنی کشمیر میں بسنے والے پرامن مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ مودی روز بروز کشمیر میں آبادی کے قدرتی تناسب کو ختم کرتے ہوئے ہندو آباد کاروں کو کشمیر میں بسانے میں مصروف ہے۔مودی نے اس حوالے سے اسرائیل کا “ڈیزائن” اپنا رکھا ہے ۔حیرت در حیرت ہے کہ انڈیا کی روز اول سے اسرائیل کے ساتھ گہری دوستی، جنگی تعاون، دفاعی تجارتی روابط اور ہر قضیئے میں اسرائیل کی حمایت اور اعانت کے باوجود دنیائے عرب اور ایران سب انڈیا کی محبت میں مبتلا اور اسیر رہتے ہیں۔اور یہ وہی عالم عرب اور ایران ہے جسے ہماری درسی کتابوں میں عالم اسلام، دنیائے اسلام ،ملت اسلامیہ اور امت واحدہ جیسے پرفریب عنوانات سے یاد کیا اور کرایا جاتا ہے۔ اور پھر فلسطین کے علامتی و ملامتی صدرمحمود عباس کا اس موقع پر اسرائیل کے قریبی اتحادی اور دوست ملک انڈیا کی حمایت کا اعلان کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے۔اس ساری صورتحال کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پاکستان خارجہ پالیسی کے میدان میں “سارے خسارے ہمارے” کا آزمودہ سوداگر رہا ہے اور ہے بھی۔ایک آ جا کے چین بچتا ہے ،لیکن ساتھ ہی ساتھ چین امریکیوں کے سامنے ہماری بے طرح خودسپردگی سے بھی حیران و پریشان رہتا ہے۔وہ ہماری جغرافیائی ترتیب پر فریفتہ اور ہمارے دعوی دوستی پر یقین رکھنے والا دوست ملک ہے ، 1962ء میں چین انڈیا جنگ کے آغاز سے چند گھنٹے پہلے پاکستان کو پیغام پہنچایا گیا تھا کہ یہی وقت ہے ، کشمیر کو اپنی تحویل میں لے لیں ، دوسری طرف سے مزاحمت کا کوئی امکان نہیں ہے۔لیکن پاکستان کے نام نہاد اور دراز قد فیلڈ مارشل نے ایرانی مشورے پر انڈیا کی فوجوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے پاکستانی افواج کو تو نہیں بھیجا ،لیکن امریکہ کے کہنے پر انڈیا کو کشمیر کے محاذ پر مکمل امن فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ۔شاید پاکستان کے لیے کشمیر حاصل کرنے کا یہ آخری موقع تھا۔ امر واقعہ تو یہ ہے کہ ؛چین مشکل وقت کے فیصلہ کن لمحات میں دل و جان سے پاکستان کے کام آ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ آرزو رکھتا ہوں کہ پاکستان کو اپنے مفادات کو تحفظ دیتے ہوئے ، چین کے ساتھ اپنے تعلق اور رشتے و رابطے کو مستحکم رکھنا چاہیئے ۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ ؛جنگ سیاسی بزنس بھی ہے ۔پاکستان کو نریندر مودی کی سیاسی حیات نو کے لیے اس بزنس کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔اگر ایک میزائل بھی پاکستان کے کسی علاقے میں گرا،تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے دفاع میں ناکام رہے ہیں ۔انڈیا کے نزدیک اس میزائل حملے کا مطلب ہو گا کہ اس نے اپنے دعوے کے عین مطابق “مبینہ و مفروضہ دہشت گردی کے کیمپس” تباہ کر دیئے ہیں۔میں ایسی جنگ کے سخت خلاف ہوں۔میرے خیال میں پاکستان کے وزیراعظم کو پوری دنیا کو بلند آواز میں بتانا چاہیے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور انڈیا اس دہشت گردی کے کاروبار میں ملوث ہے۔کیا جعفر ایکسپریس کے سانحے کو پاکستان نے اقوام عالم کے سامنے ڈھنگ سے پیش کیا؟ مارکیٹ کیا؟ انڈیا کے ملوث ہونے کا شور مچایا؟ 2019 ء سے انڈیا نے کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کر رکھا ہے ،تو کیا پاکستان نے اس پر اقوام متحدہ اور دیگر فورمز پر آواز اٹھائی؟ میں جنگ کے کاروبار کو جڑ سے ختم کرنا چاہتا ہوں مجھے اپنے ہمسائے میں دشمن نہیں ، دوست ملک درکار ہیں۔ ====================
پاکستان میں جتنی بھی کورئیر کمپنیاں کام کر رہی ہیں ان کے بارے میں میرا مشاہدہ یہ ہے کہ سب کی کسٹمر سروس اس وقت تک بہت اچھی ہے جب تک آپ کا ان سے واسطہ نہ پڑے۔ بدقسمتی سے ٹی سی ایس کے ساتھ میرا واسطہ ایک ایسے امانت کے بوجھ کی صورت میں پڑا جو اب میرے لیے ذہنی کوفت کا باعث بن چکا ہے۔ گزشتہ سال اگست میں جب سیلاب کی وجہ سے ملک کا مواصلاتی نظام درہم برہم تھا، میں نے کراچی میں اپنے ایک دوست کی ضرورت مند بیٹی کے لیے ایک موبائل فون روانہ کیا۔ دو ماہ تک سیلاب کا بہانہ بنا کر مجھے لارے لگائے جاتے رہے اور آخر کار اکتوبر 2025 میں کمپنی نے تحریری طور پر یہ تسلیم کر لیا کہ پارسل گم ہو چکا ہے اور اس کے متبادل تاوان ادا کیا جائے گا۔اس تحریری وعدے کو ملے اب چھ ماہ بیت چکے ہیں، سال بدل گیا اور سال کا پہلا کوارٹر بھی گزر گیا، مگر ٹی سی ایس کی سرد مہری نہیں بدلی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ فزیکل آفس والے ہاتھ جھاڑ کر مجھے آن لائن سروس کی دیوار سے ٹکر مارنے بھیج دیتے ہیں، جہاں ہر بار ایک نیا نمائندہ مجھ سے وہی پرانی داستانِ غم دوبارہ سنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ستم ظریفی دیکھیے کہ جب میں انہیں کمپنی کا اعترافی خط دکھاتا ہوں تو وہ ٹریکنگ آئی ڈی مانگتے ہیں اور پھر کمال معصومیت سے کہتے ہیں کہ ہم تین ماہ سے پرانا ریکارڈ ٹریک نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ جب نقصان کا اعتراف ہو چکا اور ازالے کی فائل بن چکی تو اب ٹریکنگ کا راگ کیوں الاپا جا رہا ہے؟ میں نے اب تک سینکڑوں ای میلز کی ہیں لیکن جواب میں ہمیشہ وہی ایک رٹی رٹائی خودکار میل موصول ہوتی ہے جس کا ایک ایک نقطہ مہینوں سے وہی ہے، جیسے میرا واسطہ کسی جیتے جاگتے انسان سے نہیں بلکہ ایک ایسی بے حس مشین سے ہے جس کے پاس صرف الفاظ ہیں، احساس نہیں۔ ہر ہفتے وہی تماشہ، وہی شناخت کی طلب اور وہی ‘معذرت خواہ ہیں’ کی گردان سن سن کر اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ادارہ کسٹمر کو انصاف دینے کے بجائے اسے تھکا کر دستبردار کر دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس کسی کنسائنمنٹ نمبر کے حوالے سے کمپلینٹ کا کوئی ٹریک ریکارڈ نہیں ہوتا، ہر دفعہ ان کے لئے آپ ایک نیا کیس اور یک نیا بندہ ہیں اس لئے ہر دوسرے دن آپ کو ان کے نمائندے کو پورا رام کتھا دوبارہ سنانا پڑتا ہے ۔ اگر آپ میں سے کسی کا اس حوالے سے کوئی تجربہ ہو تو وہ مجھے اس کیس میں پیش رفت کے لئے کیا مشورہ دے گا ۔۔
بریکنگ نیوز نارمل پاسپورٹ 21 دن سے کم کرکے اب 14 کر دیا گیا اسلام آباد۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کی زیر صدارت اجلاس میں شہریوں کی سہولت کیلئے بڑے فیصلے نارمل پاسپورٹ 21 دن سے کم کرکے اب 14 کر دیا ہے ۔ محسن نقوی پاسپورٹ دفاتر میں مکمل کیش لیس سسٹم رائج ہوگا۔ محسن نقوی وزیر داخلہ کی بزنس پاسپورٹ کے اجراء کے نظام کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت پاسپورٹ کی گھروں کی دہلیز تک ڈلیوری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ وزیر داخلہ نے پاسپورٹ دفاتر میں 15 روز تک مکمل کیش لیس نظام رائج کرنے کا ٹاسک دے دیا کیش ادائیگی ختم ہونے سے ایجنٹ مافیا کا خاتمہ ہوگا اور شہریوں کو سہولت ملے گی۔ محسن نقوی بزنس پاسپورٹ کے اجراء سے متعلق امور پر کام تیز کرنے کی ہدایتپاسپورٹ نظام کو بہتر بنانے اور عوامی سہولت کے لیے پاسپورٹ اتھارٹی کا قیام انتہائی ضروری ہے، محسن نقوینارمل پاسپورٹ پہلے 21 روز میں ڈلیور کیا جاتا تھا۔ اب 14 روز میں ڈلیور کیا جائے گا۔ بریفنگ وفاقی سیکرٹری داخلہ ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن اور متعلقہ حکام کی اجلاس میں شرکت
سی ایس ایس کے انٹرویو میں ایک امیدوار سے سوال ہوا:سوال: تقسیمِ ہند کب ہوئی؟ امیدوار:جناب… شروعات تو کافی پہلے ہو چکی تھی،البتہ قصہ مکمل 1947 میں ہوا…پینل نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، متاثر ہوئے…دوسرا سوال: آزادی میں سب سے اہم کردار کس کا تھا؟ امیدوار:جناب… کردار تو بہت زیادہ تھے…کسی ایک کا نام لینا باقیوں کے ساتھ زیادتی ہوگی…اب پینل پوری طرح قائل ہو چکا تھا…تیسرا سوال: کیا کرپشن ملک کا سب سے بڑا دشمن ہے؟ امیدوار:جناب… اس پر ایک کمیٹی تحقیق کر رہی ہے…جب تک رپورٹ نہ آ جائے…میں قبل از وقت کچھ نہیں کہہ سکتا…یہ جواب سنتے ہی پینل خوش…فیصلہ:آپ سلیکٹ ہو گئے ہیں… مبارک ہو…! بس پلیز… سوالات باہر کسی کو مت بتائیے گا…امیدوار باہر نکلا تو دوسرے امیدواروں نے گھیر لیا…سب نے پوچھا: بھائی! کیا پوچھ رہے ہیں اندر؟ امیدوار بولا:سوال تو نہیں بتا سکتا…لیکن جوابات کا وعدہ نہیں لیا گیا…لہٰذا جوابات سن لو…—اگلا امیدوار اندر گیا…سوال: آپ کب پیدا ہوئے؟ جواب:جناب… کوششیں تو کافی پہلے شروع ہو گئی تھیں…قصہ مکمل 1947 میں ہوا…سوال: آپ کے والد صاحب کا نام؟ جواب:جناب… کردار تو بہت ہیں…کسی ایک کا نام لینا زیادتی ہوگی…سوال: کیا آپ پاگل ہیں؟ جواب:جناب… ایک کمیٹی تحقیق کر رہی ہے،جب تک رپورٹ نہ آ جائے…میں کچھ نہیں کہہ سکتا…🤣🤣🤣انتخاب
***وفاقی وزراء کا معرکہ حق کے کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس شہید کے گھر آمد*وفاقی وزراء نے معرکہ حق کے کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس شہید کو خراج عقیدت پیش کیاوفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر اس موقع پر موجود تھیںوفد کے ارکان نے بھارتی جارحیت سے شہید ہونے والے سات سالہ ارتضیٰ عباس کے عزم و ہمت کو سلام پیش کیاارتضیٰ عباس کی شہادت کے وقت ان کے والد لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس لائن آف کنٹرول پر دشمن سے نبرد آزما تھےکمسن بیٹے کی شہادت کے باوجود لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس فرض کی ادائیگی میں محاذ جنگ پر دشمن کو بھرپور جواب دیتے رہےوفاقی وزراء نے لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کیامعرکہ حق میں جرات کے نشان کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس کی شہادت نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، *عطاء اللہ تارڑ*پاکستان کی سلامتی اور استحکام کیلئے دی جانے والی یہ قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، *وفاقی وزیر اطلاعات*معرکہ حق میں افواج پاکستان کی قربانیوں اور قوم کی دعاؤں سے فتح نصیب ہوئی جس پر اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے، *وفاقی وزیر اطلاعات*شہداء کی لازوال قربانیوں سے قوم کے حوصلے مزید مضبوط ہوئے ہیں، عظیم سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں، *مصدق ملک*شہداء کے اہل خانہ صبر و استقامت کی علامت ہیں، قوم ان کے جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، *وجیہہ قمر*