محسن نقوی نے کہا: پی سی بی نے کشمیر کے مظفرآباد کرکٹ اسٹیڈیم کا انتظام سنبھال لیا ہے۔ اسٹیڈیم خوبصورت مناظر اور صاف ماحول کے ساتھ شاندار کرکٹنگ تجربہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہاں فائیو اسٹار ہوٹل بھی موجود ہے، اور اب پی ایس ایل میچز اور انٹرنیشنل کرکٹ بھی اسی مقام پر منعقد کی جائے گی۔
*پی اے ایف پریس ریلیز*پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سوبیانتو کا پرتپاک فضائی استقبال08 دسمبر 2025: پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر کے چھ طیاروں پر مشتمل دستے نے انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سوبیانتو کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے پر روایتی فضائی مشایعت فراہم کی جو کہ دونوں ممالک کے درمیان شاندار مہمان نوازی اور برادرانہ تعلقات کی علامت ہے. فارمیشن لیڈر نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط اور باہمی احترام کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے صدر پرا بووو سوبیانتو کا پرتپاک خیرمقدم کیا، جس سے پاک فضائیہ کے اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے
۔یہ فضائی اسکارٹ نہ صرف خیرسگالی کے جذبات کا اظہار تھا بلکہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ دوستی اور برادرانہ تعلقات کا مظہر بھی ہے۔جے ایف-17 تھنڈر پاک فضائیہ کی جدید صلاحیتوں کا عکاس، 4.5 جنریشن کا ہمہ جہت اور انتہائی موثر لڑاکا طیارہ ہے۔ معزز مہمانانِ گرامی کو ایسی فضائی مشایعت فراہم کرنا پاک فضائیہ کی دیرینہ روایت ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاک فضائیہ کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ *ترجمان پاک فضائیہ*
”ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن”664,131 گاڑیوں کے چالان 27685 ایف آئی آرز1123.88 ملین روپے کے جرمانےقانون کی خلاف ورزی پر 142306 گاڑیاں ضبط
*پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سوبیانتو کا پرتپاک فضائی استقبال08 دسمبر 2025: پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر کے چھ طیاروں پر مشتمل دستے نے انڈونیشیا کے صدر پرا بووو سوبیانتو کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے پر روایتی فضائی مشایعت فراہم کی جو کہ دونوں ممالک کے درمیان شاندار مہمان نوازی اور برادرانہ تعلقات کی علامت ہے. فارمیشن لیڈر نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط اور باہمی احترام کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے صدر پرا بووو سوبیانتو کا پرتپاک خیرمقدم کیا، جس سے پاک فضائیہ کے اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔یہ فضائی اسکارٹ نہ صرف خیرسگالی کے جذبات کا اظہار تھا بلکہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ دوستی اور برادرانہ تعلقات کا مظہر بھی ہے۔جے ایف-17 تھنڈر پاک فضائیہ کی جدید صلاحیتوں کا عکاس، 4.5 جنریشن کا ہمہ جہت اور انتہائی موثر لڑاکا طیارہ ہے۔ معزز مہمانانِ گرامی کو ایسی فضائی مشایعت فراہم کرنا پاک فضائیہ کی دیرینہ روایت ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاک فضائیہ کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ *ترجمان پاک فضائیہ*
* *چیف آف دی آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب*نئے قائم ہونے والے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز میں بنیادی تبدیلی تاریخی ہے ، *فیلڈ مارشل*بڑھتے اور بدلتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ ہم ملٹی ڈومین آپریشنز کو تینوں افواج کے متحد نظام کے تحت مزید بہتر کریں، *فیلڈ مارشل* ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام اس تبدیلی کی جانب ایک ضروری قدم ہے، *فیلڈ مارشل*ہر سروس اپنی آپریشنل تیاریوں کیلئے اپنی انفرادیت برقرار رکھے گی، ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر سروسز کے آپریشن کو مربوط اور ہم آہنگ کرے گا، *فیلڈ مارشل*بالا کمانڈ کی یکجہتی کے ساتھ ساتھ تینوں افواج اپنی اندرونی خود مختاری اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھیں گی ، *فیلڈ مارشل*بھارت کسی خود فریبی یا گمان کا شکار نہ رہے ، اگلی بار پاکستان کا جواب اس سے بھی برق رفتار اور شدید ہوگا، *فیلڈ مارشل*طالبان رجیم کو واضح پیغام دیا گیا ہے
کہ ان کے پاس فتنہ آل خوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ، *فیلڈ مارشل*میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تاہم کسی کو بھی پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت پر آنچ اور ہمارے عزم کو آزمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، *فیلڈ مارشل*تمام یہ جان لیں کہ پاکستان کا تصور ناقابل تسخیر ہے اور اس کی حفاظت ایمان سے سرشار جانبازوں اور متحد قوم کے پختہ عزم نے کر رکھی ہے ، *فیلڈ مارشل**پاکستان ہمیشہ زندہ باد*
8 دسمبر، 2025وزیر اعظم نے مسز ثریا انور کی SOS چلڈرن ویلجز پاکستان کے لئے 50 سالہ خدمات کو سراہا۔وزیراعظم نے SOS چلڈرن ویلجز پاکستان کی سبکدوش ہونے والی صدر مسز ثریا انور کو یتیم اور کمزور بچوں کے لیے پانچ دہائیوں تک رضاکارانہ خدمات انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے ان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انکی سربراہی میں ایس او ایس 65 پراجیکٹس کر چکی ہے، 2600 بچوں کی دیکھ بھال، 12,500 طلباء کو تعلیم پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے اور ہر سال 1,200 نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے مسز ثریا انور کے دیئے ہوئے اعتماد کی بنیاد پر 25,000 عطیہ دہندگان کی حمایت کو بطور ثبوت اجاگر کیا۔وزیراعظم کا پیغام جناب شاہد حامد نے سالانہ جنرل باڈی اجلاس میں پڑھ کر سنایا اور تمام شرکاء کی جانب سے زبردست تالیوں سے اس کو سراہا گیا.حکومت نے ایس او ایس چلڈرن ویلجز پاکستان کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسز ثریا انور آنے والے سالوں میں اس تنظیم کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔سابق گورنر پنجاب جناب شاہد حامد کو SOS چلڈرن ویلجز پاکستان کا نیا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
پیچھے بیٹھیں ۔ اظہر سیدڈی جی آئی ایس پی آر غصہ دکھانے کی بجائے جیل میں نٹ بولٹ ٹائٹ کرتے بہتر تھا ،بھلے نام کی سہی ۔۔۔ ہے تو منتخب جمہوری حکومت اور فوج حکومت کا ایک ادارہ ۔نوسر باز بھلے فوجی قیادت کے خلاف دشنام کرتا ہے ہے تو سیاسی جماعت کا سربراہ اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتا ہے۔جس غصے کا اظہار فوج کے ترجمان نے کیا وہ وزیر داخلہ یا وزیر دفاع کے زریعے ہوتا بہتر تھا ۔ریاست کے پاس نٹ بولٹ ٹائٹ کرنے کیلئے پیچ کس سمیت تمام درکار آلات موجود ہیں ۔بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دسترس میں نہیں ملک کے اندر والے تو موجود ہیں ۔جو سیاستدان جھوٹا بیانیہ پھیلاتے ہیں گھڑے کی ان مچھلیوں کو تو پکڑا جا سکتا ہے ۔پکڑیں ،مصالحہ لگائیں ،بھونیں اور کھائیں ۔نوسر باز کی سیاست فوج مخالف بیانیہ پر قائم ہے وہ پیچھے نہیں ہٹے گا ۔وہ پیچھے ہٹ ہی نہیں سکتا
۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش بھی ٹھکرا چکا ہے ۔اس سے نپٹنے کیلئے سیاسی طریقے موجود ہیں۔جس شدت کی پریس کانفرنس تھی اس سے بہتر خیبرپختونخوا میں گورنر راج تھا ۔شائد گورنر راج سے کم ردعمل ہوتا اور بوجھ فوج کی بجائے حکومت اٹھاتی۔فوج جنرل عاصم منیر کی نہیں پاکستان کی ہے ۔جو بھی چیف ہو فوج ہمیشہ پاکستان کی ہی رہے گی ۔اس فوج نے پہلے ہی چار براہ راست فوجی حکومتوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے ۔بھٹو اور بینظیر کے بعد عمران کا بوجھ بھی فوج پر آ گیا مستقبل میں زیادہ نقصان ہو گا۔خاموش رہیں ۔جو کچھ بھی کرنا کرانا ہے چاچو پر بوجھ ڈالیں ۔سیاستدان میسنے بن کر سابقہ اثاثے اور فوج کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لا چکے ہیں۔سیاستدانوں نے سیاست کی ہے اسی لئے وہ سیاستدان ہیں ۔پیچھے ہٹ جائیں ۔زمہ داری زرداری اور نواز شریف پر ڈال دیں ۔جمہوریت ہے نہ مستقبل قریب میں آنے کا امکان ہے ۔ڈنڈا چلائیں لیکن پیچھے بیٹھ کر ۔ پردے کی آڑ میں دل کھول کر پٹائی کریں ۔ملک ہے تو سب کچھ ہے ۔
پیچھے بیٹھیں ۔ اظہر سیدڈی جی آئی ایس پی آر غصہ دکھانے کی بجائے جیل میں نٹ بولٹ ٹائٹ کرتے بہتر تھا ،بھلے نام کی سہی ۔۔۔ ہے تو منتخب جمہوری حکومت اور فوج حکومت کا ایک ادارہ ۔نوسر باز بھلے فوجی قیادت کے خلاف دشنام کرتا ہے ہے تو سیاسی جماعت کا سربراہ اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتا ہے۔جس غصے کا اظہار فوج کے ترجمان نے کیا وہ وزیر داخلہ یا وزیر دفاع کے زریعے ہوتا بہتر تھا ۔ریاست کے پاس نٹ بولٹ ٹائٹ کرنے کیلئے پیچ کس سمیت تمام درکار آلات موجود ہیں ۔بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دسترس میں نہیں ملک کے اندر والے تو موجود ہیں ۔جو سیاستدان جھوٹا بیانیہ پھیلاتے ہیں گھڑے کی ان مچھلیوں کو تو پکڑا جا سکتا ہے ۔پکڑیں ،مصالحہ لگائیں ،بھونیں اور کھائیں ۔نوسر باز کی سیاست فوج مخالف بیانیہ پر قائم ہے وہ پیچھے نہیں ہٹے گا ۔وہ پیچھے ہٹ ہی نہیں سکتا ۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش بھی ٹھکرا چکا ہے
۔اس سے نپٹنے کیلئے سیاسی طریقے موجود ہیں۔جس شدت کی پریس کانفرنس تھی اس سے بہتر خیبرپختونخوا میں گورنر راج تھا ۔شائد گورنر راج سے کم ردعمل ہوتا اور بوجھ فوج کی بجائے حکومت اٹھاتی۔فوج جنرل عاصم منیر کی نہیں پاکستان کی ہے ۔جو بھی چیف ہو فوج ہمیشہ پاکستان کی ہی رہے گی ۔اس فوج نے پہلے ہی چار براہ راست فوجی حکومتوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے ۔بھٹو اور بینظیر کے بعد عمران کا بوجھ بھی فوج پر آ گیا مستقبل میں زیادہ نقصان ہو گا۔خاموش رہیں ۔جو کچھ بھی کرنا کرانا ہے چاچو پر بوجھ ڈالیں ۔سیاستدان میسنے بن کر سابقہ اثاثے اور فوج کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لا چکے ہیں۔سیاستدانوں نے سیاست کی ہے اسی لئے وہ سیاستدان ہیں ۔پیچھے ہٹ جائیں ۔زمہ داری زرداری اور نواز شریف پر ڈال دیں ۔جمہوریت ہے نہ مستقبل قریب میں آنے کا امکان ہے ۔ڈنڈا چلائیں لیکن پیچھے بیٹھ کر ۔ پردے کی آڑ میں دل کھول کر پٹائی کریں ۔ملک ہے تو سب کچھ ہے ۔
*انسپیکٹر جنرل پولیس پنجاب عثمان انور کا بیان*سکول کے بچوں کی زندگیوں کی حفاظت پر کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے بغیر ڈرائیونگ لائیسنس ڈرائیونگ موت اور حادثات کو دعوت دینے کے مترادف ہے لائیسنس کے بغیر ڈرائیونگ ‘لائیسنس ٹو کل’ ہے جو دنیا میں کوئی ملک کسی کو نہیں دیتا ہڑتال کا مطلب ہے کہ سکول وینز الٹتی رہیں اور معصوم بچے مرتے رہیں اور کوئی نہ پوچھے، یہ رویہ کوئی مہذب ملک برداشت نہیں کرسکتا والدین کا مطالبہ رہا ہے کہ اس نظام کو تبدیل کیا جائے، اسی عوامی اور جانی اہمیت کے مسئلے پر ایک اچھے قدم کی حمایت ہونی چاہیے عوام کے جان ومال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے، یہ فرض کسی دباؤ کے بغیر ادا کرتے رہیں گےمہلت دے رہے ہیں، گاڑی بند رکھیں گے تو ہم سڑک پر گاڑی بھی نہیں آنے دیں گے اور ضبط کر لیں گے۔ ذمہ داری کا احساس کریں، یہ لوگوں اور بچوں کی جانوں کا معاملہ ہے قانون پر عمل درامد کے سوا کوئی چوائس نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔
*انسپیکٹر جنرل پولیس پنجاب عثمان انور کا بیان*سکول کے بچوں کی زندگیوں کی حفاظت پر کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے بغیر ڈرائیونگ لائیسنس ڈرائیونگ موت اور حادثات کو دعوت دینے کے مترادف ہے لائیسنس کے بغیر ڈرائیونگ ‘لائیسنس ٹو کل’ ہے جو دنیا میں کوئی ملک کسی کو نہیں دیتا ہڑتال کا مطلب ہے کہ سکول وینز الٹتی رہیں اور معصوم بچے مرتے رہیں اور کوئی نہ پوچھے، یہ رویہ کوئی مہذب ملک برداشت نہیں کرسکتا والدین کا مطالبہ رہا ہے کہ اس نظام کو تبدیل کیا جائے،
اسی عوامی اور جانی اہمیت کے مسئلے پر ایک اچھے قدم کی حمایت ہونی چاہیے عوام کے جان ومال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے، یہ فرض کسی دباؤ کے بغیر ادا کرتے رہیں گےمہلت دے رہے ہیں، گاڑی بند رکھیں گے تو ہم سڑک پر گاڑی بھی نہیں آنے دیں گے اور ضبط کر لیں گے۔ ذمہ داری کا احساس کریں، یہ لوگوں اور بچوں کی جانوں کا معاملہ ہے قانون پر عمل درامد کے سوا کوئی چوائس نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہمشیرہ مریم ریاض وٹو کا کہنا ہےکہ ایک ماہ گزر چکا ہے کسی کو بھی بشریٰ بی بی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مریم ریاض وٹو کا کہنا تھا کہ ہم خاندان والے ان کے لیے بے حد پریشان ہیں۔ مریم ریاض وٹو نے الزام لگایا کہ اس سے پہلے جب اسی طرح بشریٰ بی بی سے ملنے سے روکا گیا تھا تو ایک بار انہیں زہر دیا گیا تھا اور دوسری بار جب وہ شدید بیمار تھیں اور انہیں طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئی تھیں تاکہ ان کے دانت اور کان کے انفیکشن کا علاج نہ کرکے انہیں تکلیف دی جائے۔آخر میں مریم ریاض وٹو نے اپنی بہن بشریٰ بی بی کے لیے آسانی کی دعا بھی کی۔
ایک مولوی صاحب خوف خدا پہ تقریر فرما رہے تھے۔ خوف خدا پر لمبی تقریر سننے کے بعد مجمع میں سے کسی سامع نے سوال پوچھا:مولانا صاحب جانوروں میں سب سے کم چربی کون سے جانور کی ہے؟.مولوی صاحب دم بخود رہ گئے۔ جواب ان کے پاس تھا نہیں۔ تو تکا لگا کر کسی جانور کا نام لیا جو کہ غلط تھا۔اس پر سامع سے مولانا صاحب نے پوچھا کہ چلو تم ہی بتاؤ اگر تمہارے پاس اس کے بارے میں علم ہے تو؟.اس شخص نے کہا کہ جانوروں میں سب سے کم چربی ہرن میں پائی جاتی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اسے ہر وقت چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں کا خوف رہتا ہے۔ حتیٰ کہ جب وہ پانی پیتا ہے تو کئی مرتبہ ارد گرد نظر دوڑاتا ہے، کہ کہیں کسی کا شکار نہ بن جاؤں۔ اک خوف کی وجہ سے اس میں چربی نہیں بن پاتی۔ اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو آپ نے خوف خدا پر تو بڑی زبردست تقریر کی۔ لیکن آپ کی گردن چربی کی وجہ سے مڑتی نہیں ہے۔مجھے آپ کی سنائی ہوئی اس تقریر سے اتفاق نہیں ہے۔