ایک سال میں زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں 3.47 کروڑ ڈالر سے زائد کا اضافہ -ایک سال میں زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر میں 3 ارب 47 کروڑ 65 لاکھ ڈالرزکا اضافہ ہوگیا، اگلےہفتے آئی ایم ایف فنڈز کی منظوری سے زرمبادلہ کے ذخائر مزید بڑھنے کا امکان ہے۔اسٹیٹ بینک کے دستاویز کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر ایک سال میں 2 ارب 52 کروڑ 28 لاکھ ڈالرز بڑھ گئے ہیں،
اسی مدت میں کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 95 کروڑ 37 لاکھ ڈالرزکا اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔دستاویز کے مطابق زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر 19 ارب 60 کروڑ 50لاکھ ڈالرز ہوچکے ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر14 ارب56 کروڑ7 لاکھ ڈالرزپر پہنچ گئے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس5 ارب 4 کروڑ 43 لاکھ ڈالرز کے ذخائر ہیں۔دستاویز کے مطابق ایک سال قبل زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر 16 ارب 12 کروڑ 85 لاکھ ڈالرز تھے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 12 ارب 3 کروڑ 79 لاکھ ڈالرز کے ذخائر تھے جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس4 ارب 9 کروڑ 6لاکھ ڈالرز کے ذخائر تھے۔دستاویز کے مطابق پاکستان کے لیےآئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈکا اجلاس8 دسمبرکو شیڈول ہے جس میں پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز جاری کرنے کاجائزہ لیا جائے گا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے اور دفعہ 144 کے تحت کسی بھی قسم کے احتجاج یا جلسے جلوس کی اجازت نہیں۔ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ کسی بھی غیرقانونی سرگرمی کے انعقاد پرقانون فی الفورحرکت میں آئے گا۔اُدھر ڈپٹی کمشنر پنڈی حسن وقارچیمہ نے ضلع راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کردی۔ ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ یکم سے 3 دسمبرتک ہوگا اورراولپنڈی میں ہرقسم کے اجتماع،ریلی،جلسے جلوس پرپابندی عائد رہے گی۔
*سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات ایک بار پھر شروع ہوگئے*ذرائع کے مطابق افغان حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سعودی عرب کی دعوت پر نئے مذاکراتی مرحلے کے لیے سعودی عرب پہنچ چکا ہے۔ذرائع کے مطابق وفد میں طالبان کے سینئر رکن انس حقانی، نائب وزیر داخلہ مولوی رحمت اللہ نجیب، اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی شامل ہیں۔دریں اثنا ایک پاکستانی وفد بھی سعودی عرب میں موجود ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاض کی ثالثی میں کابل اور اسلام آباد کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
*24 گھنٹوں میں صوبے بھر میں 63 ہزار 970 چالان ہوئے*خیال رہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سرگودھا سمیت پنجاب بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔ترجمان ٹریفک پولیس پنجاب کے مطابق 24 گھنٹوں میں صوبے بھر میں 63 ہزار 970 گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے چالان ہوئے اور 8 کروڑ 42 لاکھ 90 ہزار 950 روپےکے جرمانےکیےگئے۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق 23904 گاڑیاں پنجاب کے مختلف تھانوں میں بندکی گئیں، ہیلمٹ کی خلاف ورزی پر ایک دن میں 28 ہزار چالان ہوئے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 4312 افرادکے خلاف مقدمات درج ہوئے
رضیہ بٹ بھی گرفتار : لاہور میں من شیات فروشوں کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری ۔۔۔ طویل عرصے سے نوجوان نسل کی رگوں کو ز۔ہر سے بھرنے والی خاتون من شیات فروش رضیہ بٹ کو گرفتار کر لیا گیا ۔ رضیہ بٹ مکروہ دھندے سے مال کما کر ایک مالدار عورت بن چکی تھی ، اسکی سپلائی پورے لاہور میں تھی، اسکے استعمال میں 6 لگژری گاڑیاں تھیں ، اینٹی نارکاٹکس اور سی سی ڈی نے مشترکہ کارروائی میں ملزمہ کو گرفتار کیا اور متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔۔۔
کراچی میں رواں سال مین ہول اور نالوں میں گرکر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 23 ہوگئی ہے۔ ایدھی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مین ہول میں گر کر جان سے جانے والوں میں 3 سال کے بچوں سے لے کر 48 سال تک کے افراد شامل ہیں، حادثات سب سے زیادہ گاڈن میں پیش آئے جہاں 3 افراد مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئے۔
*کراچی میں دودھ کے تمام نمونے مضر صحت اور انسانوں کیلیے ناقابل استعمال پائے گئے : سندھ ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع*سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں کراچی میں دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت کے حکم پر ممبر انسپکشن ٹیم نے دودھ کے نمونوں کی کوالٹی کے متعلق رپورٹ پیش کردی ۔لیبارٹری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دودھ کے تمام نمونے غیر معیاری اور صحت کے لیے مضر تھے اور کوئی بھی نمونہ انسانی استعمال کے قابل نہیں پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، شہر کے مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے درجنوں نمونے پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی لیبارٹری کو ارسال کیے گئے تھے۔ عدالت میں کمشنر کراچی کی جانب سے دودھ کی قیمتوں کا نیا نوٹیفکیشن بھی پیش کیا گیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مہران نے عدالت کو بتایا کہ اسٹیک ہولڈرز کے اجلاس کے بعد 27 نومبر کو یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیری فارمز 200روپے، ہولسیلرز 208 روپے اور ریٹیلرز 220روپے فی لٹر دودھ فروخت کرینگے۔
— پاکستان کی وہ طاقتیں جن سے دنیا خوفزدہ ہے 🔥دنیا کی تاریخ میں کچھ قومیں شور مچاتی ہیں، طاقت دکھانے کے لیے نعرے لگاتی ہیں، لیکن کچھ قومیں ایسی ہوتی ہیں جو خاموش رہ کر دشمنوں کے دل دہلا دیتی ہیں۔ پاکستان انہی خاموش مگر خطرناک طاقتوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس کے بارے میں دنیا کھل کر بات نہیں کرتی، لیکن بند کمروں میں، خفیہ رپورٹس میں، اور عالمی اداروں کے اندر، سب ایک خوف کے ساتھ پاکستان کا نام لیتے ہیں۔ اور اس خوف کی سب سے بڑی وجہ ہے پاکستان کی وہ صلاحیتیں جو نظر نہیں آتیں، لیکن وقت آنے پر دشمن کے غرور کا جنازہ نکال دیتی ہیں۔دنیا کا سب سے بڑا ڈر آئی ایس آئی سے ہے۔
وہ ادارہ جس کا نام سن کر بڑے بڑے انٹیلی جنس سربراہوں کے چہرے کا رنگ اُڑ جاتا ہے۔ آئی ایس آئی شور نہیں مچاتی، کام کرتی ہے۔ یہ وہ سایہ ہے جو نظر نہیں آتا، لیکن دشمن کو ہر سمت سے گھیر لیتا ہے۔ دنیا تسلیم کرتی ہے کہ آئی ایس آئی کی پہنچ، اس کی خاموشی، اس کا نیٹ ورک اور اس کی اسٹریٹجی ایسے ہیں کہ سپر پاورز بھی اس سے محتاط رہتی ہیں۔ اگر کوئی دشمن پاکستان کے خلاف حرکت کرتا ہے، تو اس سے پہلے آئی ایس آئی اس کے ذہن میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔
ڈر صرف آئی ایس آئی کا نہیں۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام دنیا کی آنکھوں میں کانٹا ہے۔ وہ واحد مسلم ملک جس نے اپنے دم پر، اپنے خون پسینے سے یہ طاقت حاصل کی، اور کسی سپر پاور کے سامنے جھکا نہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے جو دکھایا ہے وہ کم ہے، اصل ٹیکنالوجی ابھی بھی پردوں میں چھپی ہوئی ہے۔ پاکستان کے پاس وہ وہ چیزیں ہیں جن کے بارے میں عالمی رپورٹس میں ہوسکتا ہے صرف ایک لائن لکھی ہو، مگر ان کے دل میں زلزلہ برپا شدہ ہوتا ہے۔
پاکستان کے میزائل… شاہین، نصر، بابر، غوری، اور سب سے بڑھ کر Ababeel— وہ میزائل جو ایک وقت میں کئی ہدف تباہ کر سکتا ہے۔ بھارت کے دفاعی ماہر آج بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ایسی صلاحیتیں ہیں جو بھارت کے پاس اگلے پندرہ سال میں بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ دنیا کو اس بات کا ڈر ہے کہ پاکستان کے پاس جو میزائل پروگرام خفیہ ہے، وہ کہیں اچانک منظرِ عام پر نہ آ جائے، کیونکہ اگر وہ آگیا… تو پورے خطے کا توازن ایک لمحے میں الٹ جائے گا۔، بھارت کے طیارے ایسے ہی نہیں گرے تھے۔ پاکستان کی الیکٹرانک وار فیئر، جیمِنگ ٹیکنالوجی اور ریڈار بلیک آؤٹ کی صلاحیت دنیا میں بہت آگے ہے۔ جس دن بھارت نے غرور میں آ کر غلطی کی، اس دن پاکستان نے چند لمحوں میں ان کے سات طیارے ایسے گرا دیے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ بھارت آج تک یہ سچ نہیں بتاتا کہ اس کے سسٹم کیوں فیل ہوئے،
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ابھی ہم نے پوری دنیا کو دکھائی ہی نہیں۔پھر آتی ہے وہ طاقت جس کا کوئی مقابلہ نہیں — پاکستان کی فوج۔ ایک ایسی فوج جو دنیا کی مشکل ترین جنگیں لڑ چکی ہے، جو دہشت گردی کے خلاف دنیا کی واحد کامیاب فوج ہے، جس کی SSG کو دنیا کی ٹاپ فور فورسز میں شمار کیا جاتا ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ پاکستان سے ٹکر لینا صرف ہتھیاروں سے جنگ نہیں، بلکہ ایک ایسی قوم سے مقابلہ ہے جو آخری سانس تک لڑتی ہے۔ وہ چیز جس سے دنیا سب سے زیادہ ڈرتی ہے
— پاکستان کے خفیہ پروگرام۔ ڈرونز، سائبر وار، انویزیبل آپریشنز، بلیک باکس ٹیکنالوجی… دنیا کھل کر اعتراف کرتی ہے کہ پاکستان کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو ہم نے ابھی تک دنیا کو بتایا ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی رپورٹس میں بار بار یہ جملہ آتا ہے: “Pakistan may have undisclosed capabilities.” یعنی “پاکستان کے پاس وہ صلاحیتیں ہیں جن کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا۔” یہ جملہ خود دشمن کی نیندیں اُڑا دیتا ہے۔پاکستان ایک چیختی ہوئی طاقت نہیں، ایک خاموش طاقت ہے۔ اور دنیا ہمیشہ اس طاقت سے ڈرتی ہے جو غیر متوقع ہو۔ پاکستان کم بولتا ہے، زیادہ کر کے دکھاتا ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ اگر پاکستان نے کبھی اپنی پوری قوت کھول دی، تو نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کا نقشہ بدل جائے گا۔اسی لیے تو ارمی چیف نے امریکہ میں گھس کر کہا کہ اگر ہمیں خطرہ ہوا تو ہم پوری دنیا کو لے ڈوبیں گے✌️… اپنی فوج کی قدر کرے، اپنے اداروں کی قدر کرے اپنے ملک کی قدر کرو۔ دنیا اس لیے ڈرتی ہے کہ پاکستان نے خود کو نہ صرف محفوظ کیا ہے بلکہ مضبوط بھی کیا ہے۔ اور جو قوم اپنی حفاظت کرنے والوں کی قدر کرتی ہے، ۔وہ اللہ تعالی کے فضل سے کبھی ہار نہیں
معیشیت کو “اجاڑنے ” والے ہی عوام کو سمجھا بھی رھے ھوتے ہیں کہ ایسا کیوں ھوا- انتہائی پر اعتماد لہجے میں عوام کو اس وقت اعتماد میں لیتے ہیں جب خزانہ خالی کر بیٹھتے ہیں – پاکستان کی #economy اور مڈل آرڈر بیٹینگ کا کرائسس بہت پرانی روایت ھے-
*کراچی میں مظاہرہ؛ حلیم عادل شیخ سمیت پی ٹی آئی کے 20 خواتین و مرد کارکنان گرفتار*کراچی پریس کلب کے باہر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں سمیت 20 کارکنان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔عمران خان سے ملاقاتوں کی کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کراچی ڈویژن نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا جس کے اختتام پر پولیس نے کریک ڈاؤن کیا۔پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان کے احتجاج سے قبل ہی پولیس کی بھاری نفری کراچی پریس کلب کے باہر پہنچی اور پھر دھاوا بول کر پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق رکن قومی اسمبلی حلیم عادل شیخ سمیت دیگر کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔
این ایچ اے سی ای او کی تقرری نے نیا بحران چھیڑ دیا:پارلیمانی کمیٹیاں، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی قانونی خلاف ورزی پر خاموشرانا تصدق حسیناسلام آباد — انجینئرنگ کمیونٹی، این ایچ اے کے پیشہ وران، اور حکومتی معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین میں اس وقت شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے جب وفاقی حکومت نے ایک بار پھر NHA (Amendment) SOE Act 2024 کو نظرانداز کرتے ہوئے کیپٹن (ر) اسداللہ خان (BS-21, PAS) کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کردیا۔یہ تقرری اس بنیاد پر شدید تنقید کی زد میں ہے کہ قانون کے مطابق این ایچ اے کے اعلیٰ انجینئرنگ و تکنیکی عہدے صرف اہل، تجربہ کار اور متعلقہ پیشہ ور انجینئروں کے لیے مخصوص ہیں— نہ کہ سیاسی یا بیوروکریٹک شخصیات کے لیے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کیپٹن (ر) اسداللہ خان جو اس وقت پنجاب حکومت میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضیاء اللہ خان (مرحوم) کے صاحبزادے ہیں — کو وزارت مواصلات کے ماتحت تعیناتی کے لیے این ایچ اے میں بطور سی ای او بھیجا گیا ہے۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ملک کی کھربوں روپے کی شاہراہوں کی نگران اتھارٹی کو سیاسی تعلقات رکھنے والے افسران کے لیے تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے، جبکہ یہ ادارہ گہرے انجینئرنگ، مالیاتی نظم و ضبط اور آپریشنل اہلیت کا متقاضی ہے
۔پارلیمنٹ کا اپنا قانون — کھلی خلاف ورزی کے باوجود مکمل خاموشیاین ایچ اے ایس او ای ایکٹ میں سی ای او کے لیے واضح، غیر مبہم، اور سخت معیار وضع ہے۔مگر اس کے باوجود یہ تقرری کھلی آنکھوں کے سامنے کی گئی اور پارلیمانی نگرانی کے ادارے مکمل طور پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی — سب خاموش تماشائیسب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ:قائمہ کمیٹی برائے مواصلاتچیئرمین سینٹاسپیکر قومی اسمبلیتینوں ہی اس کھلی قانونی خلاف ورزی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ خاموشی ایک خطرناک پیغام دے رہی ہے:> اگر پارلیمنٹ اپنے ہی منظور کردہ قوانین کا دفاع نہیں کرے گی، تو اس کی اتھارٹی پہلے ہی کمزور ہو چکی ہے۔یہ طرز عمل حکمرانی کے لیے تباہ کن ہے کیونکہ ادارہ جاتی حفاظتی دیواریں سیاسی مصلحت کے ہاتھوں ٹوٹ رہی ہیں۔این ایچ سی اجلاس ای-چینل کے ذریعے “منظوری” — محض ربڑ اسٹیمپمزید حیران کن بات یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے کونسل (NHC) کا اجلاس محض ایک نکاتی ایجنڈے کے ساتھ ای-سرکولیشن کے ذریعے بلایا گیا تاکہ:کیے گئے فیصلے پر بعد ازاں رسمی مہر ثبت کی جا سکے۔کسی نے یہ دیکھنے کی زحمت تک نہ کی کہ ایس او ای ایکٹ کیا کہتا ہے اور تقرری کا درست طریقہ کار کیا ہے
۔یہ پورا عمل ایک مشینی منظوری کے سوا کچھ نہ تھا۔قانونی طوفان سر اٹھا رہا ہے: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واضح خبرداریاںاندرونی ذرائع کے مطابق اگر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے این ایچ اے میں مزید کسی افسر— خاص طور پر کسی ڈیپوٹیشنسٹ — کو ممبر ایڈمن یا کسی ترقیاتی عہدے پر تعینات کرنے کی کوشش کی تو:پورا این ایچ اے انتظامیہ عدالتی کارروائی کے لیے طلب ہو سکتی ہے۔خصوصاً حالیہ فیصلے کے بعد جو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے دیا ہے، جس میں واضح کہا گیا ہے کہ:> ڈیپوٹیشن پر خدمات صرف وہاں لی جا سکتی ہیں جہاں اندرونِ ادارہ اہل اور تجربہ کار افسر دستیاب نہ ہوں۔این ایچ اے میں، حقیقت اس کے برعکس ہے:سینئر ترینتجربہ کارمکمل طور پر اہل افسرانکو مسلسل ان کے جائز حقِ ترقی اور تبادلوں سے محروم رکھا جا رہا ہے
۔اس کے برعکس تنازعوں میں گھرے اور بیرونی اثر و رسوخ رکھنے والے افسران مسلط کیے جا رہے ہیں۔یہ صورت حال این ایچ اے کو ایک انتظامی اور قانونی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔مالی اسکینڈلز اور قیادت کا بحران — مزید اندیشےیہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب:شاہریار سلطانعمر سعید دونوں کو 5 نومبر 2025 کو وسیع مالی بے ضابطگیوں کے باعث ہٹایا گیا۔ایسی حساس صورتحال میں تکنیکی اور پیشہ ور انجینئر کی تعیناتی ناگزیر تھی، مگر حکومت نے ایک بار پھر سیاسی و غیر تکنیکی تقرری کا فارمولا دہرایا ہے۔آگے کیا ہوگا؟نئے سی ای او این ایچ اے میں گہرے انتظامی مسائل اور بدعنوانیوں کا سامنا کس حد تک کر پائیں گے — اس پر شدید شکوک ہیں۔لیکن اصل سوال کچھ اور ہے:> اگر پارلیمنٹ اپنی ہی بنائی ہوئی قانون سازی کا دفاع نہیں کرے گی، تو پاکستان کے اداروں کو سیاسی اور بیوروکریٹک قبضے سے کون بچائے گا؟این ایچ اے میں جنم لیتا ہوا بحران اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں-یہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔
اے ٹی وی کے ملازمین قابل تحسین ہیں جنہوں نے کل اپنا پیٹ کاٹ کر وکیل کی فیس کے لیے پیسے اکٹھے کیے اور سی ایم ہائی کورٹ میں دائر کی، اج ہائی کورٹ نے 15 تاریخ دے دی اور فیصلہ دیا اگر 15 تاریخ تک وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے پلان سامنے نہ ایا تو اے ٹی وی کی پراپرٹی بیچ کر ملازمین کی تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی۔حیرت اس بات کی ہے اس جمہوری دور میں حکومتی سطح پر کوئی اس ادارے کو بچانے کی کوشش نہیں کر رہا۔خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی، کیونکہ صدر پاکستان اصف علی زرداری کا اس ادارے کو کامیاب بنانے میں بڑا ہاتھ رہا ہے۔ گو کہ میرا براہ راست اب اے ٹی وی سے واسطہ نہیں رہا لیکن میں نے زندگی کے تقریبا 12 سال اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات محنت کر کے اسے مقبول ترین چینل بنایا ۔ میرا سفر پروڈیوسر سے شروع ہوا اور جنرل منیجر تک پہنچا ۔ہماری ٹیم میں سینکڑوں لوگ شامل تھے ۔ لاہور ،کراچی ، پشاور ،کوئٹہ ، ملتان اور اسلام آباد کے دفاتر میں بیٹھے افرادصرف اے ٹی وی کے لئے کام کرتے تھے۔جبار صاحب کی سربراہی میں یہ ایسی ٹیم تھی جس نے میڈیا انڈسٹری کے لیے ٹیکنیکل ہنر مند، اینکرز ،نیوز کاسٹرز ،اسکرپٹ رائٹرز اور اداکار تیار کئے ۔وقت گزرنے کے ساتھ اے ٹی وی کے ساتھ وہی ہوا جو پاکستان میں ہوتا آیا ہے ،جوکامیاب ہوتا ہے سب اسے گرانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ۔ ایک سادہ اور محنتی انسان جس نے میڈیا انڈسٹری کو کھڑا کیا تھا اب وہ آنکھوں میں کھٹکنے لگا تھا۔2017 میں جب اے ٹی وی کو ختم کیا گیا تو ایس آر بی سی کے ملازمین نے خوشیاں منائیں حالانکہ اس وقت بھی سینکڑوں خاندان بے روزگار ہوئے تھے ۔سپورٹس سٹار انٹرنیشنل جس نے اے ٹی وی کی بنیاد رکھی تھی یہ سینکڑوں لوگ اس ادارے سے منسلک تھے جن کو بے روزگار کر دیا گیا ۔اے ٹی وی کو چلانے میں سپورٹس سٹار انٹرنیشنل کے ہنرمند کام کرتے تھے اور ایس آر بی سی کے لوگ صرف میٹھا پھل کھاتے تھے ۔ 2017 سے آج 2025 تک اے ٹی وی صرف نقصان میں گیا۔بڑے بڑے دعوے کرنے کے باوجود ایس ار بی سی اے ٹی وی نہیں چلا سکا۔ تقریبا تین سال سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں ۔۔افسوس اس ادارے کو گرانے میں جن لوگوں نے اس وقت کی طاقتور شخصیت سکھیرا کے ساتھ مل کر اسے تباہ کرنے میں کردار ادا کیا،
آج وہ اسی صف میں کھڑے ہیں لیکن ہم ایس آر بی سی کے ملازمین کے دکھ میں شریک ہیں جو 15 دسمبر 2026 تک سولی پر لٹکے رہیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بے روزگاری کس بلا کا نام ہے ۔یہ فیصلہ ایک جمہوری دور میں کیا گیا ہے ، ہماری اب بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پوری کوشش ہے کہ حکومت اپنا یہ فیصلہ واپس لے تاکہ لوگوں کا روزگار اور جمہوریت کا بھرم قائم رہے۔میں وفاقی حکومت ، اور وزارت اطلاعات سے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں اگر اپ ایک ٹک ٹاکر کے چینل کو سپورٹ دے سکتے ہیں تو اے ٹی وی کو سپورٹ دیجئے یہ اپ کے بہت کام ائے گا اب بھی کئی پرائیویٹ کمپنیاں “اے ٹی وی ” کو چلانا چاہتی ہیں لہذا ورکرز کا روزگار بچانے کے لئے اس نکتے پر غور کریں اور اپنا فیصلہ واپس لیں تاکہ 280 خاندان بے روزگار نہ ہوں ۔یاد رکھیں جب آپ کسی کی روزی روٹی چھینتے ہیں تو اس n
انڈے تو ہم سب ہی روزانہ ناشتے میں کھاتے ہیں اور درجنوں کے حساب سے خریدتے بھی ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی انڈے کا وزن کیا ہے؟ انڈوں کا معیار بھی ان کے وزن کے مطابق ہوتا ہے۔ یعنی انڈا بھی سبزی پھل کی طرح درجہ اول، دوم اور سوم ہوتا ہے۔ اور دکاندار گاھکوں کو اس انڈے کے فنڈے میں بھی چونا لگاتے ہیں۔ اپنے یہاں بڑا انڈہ دیتے ھوۓ مرغی کو اتنی تکلیف نہیں ھوتی جتنی ان دو نمبر جھوٹے دوکانداروں کو ھے۔عام صارفین کو شاید یہ علم نہ ہو کہ سب سے چھوٹا انڈا تقریباً 50 گرام تک اور درمیانہ انڈا عموما 60 گرام تک اور سب سے بڑا انڈا عموما 70 گرام تک ھوتا ھے۔۔
ایک دور دراز گاؤں کا وہ خاموش لڑکا… جسے لوگ اکثر تنہائی میں بیٹھا ہوا دیکھتے تھے۔ اس کی آنکھوں میں اداسی بھی تھی اور روشنی بھی اداسی والدین کے بچھڑ جانے کی، اور روشنی ایک بڑے خواب کی۔ لوگ اسے یتیم، بے سہار، اور مستقبل سے خالی سمجھتے تھے، مگر اس کے دل کی گہرائی میں ایک آگ جلتی تھی:”میں اپنے ملک کے لیے زندہ بھی رہوں گا، اور ضرورت پڑی تو جان بھی دوں گا۔”اس نے ہر مشکل، ہر طعنہ، ہر تنہائی کو برداشت کیا۔ پڑھائی میں وہ خاموش مگر مسلسل محنت کرنے والوں میں سے تھا۔ جب اسے فوج میں داخلے کا موقع ملا، تو اس نے اسے صرف نوکری نہیں سمجھا اس نے اسے اپنی نئی زندگی سمجھا۔⭐ فوج اس کا خاندان بن گئیجیسے ہی اس نے وردی پہنی، وہ سمجھ گیا کہ“یہی میرا گھر ہے، یہی میرا خاندان!”اس کے پاس اپنا کوئی قریبی خون کا رشتہ نہیں تھا، اس لیے اس نے یونٹ کو ہی اپنا سب کچھ بنا لیا۔ وہ اکثر کہتا تھا:“اگر میں کبھی شہید ہو جاؤں، تو میری ہر چیز میرا نام، میرا نامۂ عمل، میری یاد سب کچھ میری یونٹ کے نام ہے۔ یہی لوگ میرے وارث ہیں، یہی میرا خاندان!”اس نے ہر قدم پر ثابت کیا کہ خاندان خون کا نہیں، وفاداری کا ہوتا ہے۔⭐ 40 سالہ خدمات خراجِ تحسینوقت گزرتا گیا… لڑکا جوان ہوا، افسر بنا، کمانڈر بنا۔اس کے کردار، ایمانداری، ذہانت اور قیادت نے اسے وہاں پہنچایا جہاں پہنچنا ناممکن سمجھا جاتا ہے۔٭ 40 سال کی مسلسل خدمت٭ سینکڑوں کی رہنمائی٭ ہزاروں کے لیے مثال٭ اور ملک کے دفاع میں گنتی سے باہر فیصلےجب اس کی سروس نے چار دہائیاں مکمل کیں تو فوج کے ہر سپاہی نے اسے یوں خراجِ تحسین پیش کیا جیسے کوئی قافلہ اپنے رہنما کو سجدۂ شکریہ پیش کرتا ہے۔اس کے لیے الوداعی تقریب میں صرف سلامی نہیں تھی یہ ایک عہد کے ختم ہونے کا اعلان بھی تھا⭐ آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹافپھر وہ دن آیا جب اس نے تاریخ میں وہ مقام پایا جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔وہ ملک کاآخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹیبنا۔اس عہدے کے ساتھ ہی اس کا سفر ایک نئے مقام پر پہنچ گیا وہ مقام جہاں پہنچ کر انسان صرف عہدہ نہیں ہوتا، تاریخ بن جاتا ہے۔جب وہ رخصت ہوا، تو لوگ صرف ایک سپاہی کو نہیں رخصت کر رہے تھے…وہ ایک عہد کو رخصت کر رہے تھے۔آخر میں، جب پوری فوج نے ایک آواز ہو کر کہا:“تم نے 40 سال اس ملک کا سر فخر سے بلند رکھا!”تو اس کی آنکھوں میں وہی روشنی جگمگا اٹھی جو بچپن کے ایک تنہا لڑکے کی آنکھوں میں تھی۔اور تب دنیا نے جانا کہ وہ لڑکا کون تھا جنرل ساحر شمشاد
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا جاری ہے۔ ان کے ہمراہ چیئرمین تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان مشر محمود خان اچکزئی، صوبائی وزراء اور قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین موجود ہیں۔ سرد رات کے باوجود قائدین اور کارکنان کے حوصلے بلند اور نعرے بازی جاری ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ریماکس۔ میاں صاحب کی جو آپ نے بات کی وہ ایوان سے باہر تھی اسکا ایوان سے کوئی تعلق نہیں۔عمر ایوب خان صاحب کی سیٹ کی بات کی وہ معاملہ ٹرائبیونل ہے آپ وہاں جہاں ہم بھی جاتے رہے ہیں۔اسپیکر نے گوہر علی خان کی بات کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے کل 342 نہیں بلکہ 336 اراکین ہیں۔آپ کے لیڈر کہتے ہیں کہ ہندوستان سے بات کر لیں افغانستان سے بات کر لیں ہم بار بار مذکرات کی پیشکش لیکن آپ ہماری بات نہیں سنتے۔
شمالی وزیرستان کے ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ26 نومبر 2025 کو میرانشاہ میں پاک فوج کے زیرِ انتظام ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ منعقد ہوا ۔جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور قیام امن کے حوالے سے قبائلی عمائدین کے کردار کو سراہا ۔جرگے میں شمالی وزیرستان کی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشتگردی اور فلاحی کاموں پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔جی او سی نے کہا کہ عوام، سول انتظامیہ اور پاک فوج کے باہمی تعاون سے ہی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے۔ قبائلی رہنماؤں نے امن و امان کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔جرگے کا اختتام قومی یکجہتی اور سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ کیا گیا ۔
سروساہم ترین—وزیراعظم۔۔۔خطابپاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان اور بحرین کے مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہارمنامہ۔27نومبر :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور بحرین کے مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار اور بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے،زراعت ،آئی ٹی ،معدنیات، توانائی اور دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلے ہیں، بحرین کے سرمایہ کار پاکستان آئیں اور ہمارے ساتھ شراکت داری کریں،ہم سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے،پاکستان کے پاس افرادی قوت ،وسائل، ابھرتی منڈی،سٹرٹیجک محل وقوع اور نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے،پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، یہ معاہدہ تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گا ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں
کاروباری برادری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انتہائی فیاضی اور گرمجوشی سے خوش آمدید کہنے پر بحرین کی حکومت اور عوام کا شکر گزار ہوں ،ہم اپنے بحرینی بھائیوں خاص طور پر شاہ بحرین اور ولی عہد و وزیراعظم کی مہمان نوازی سے مستفید ہوئے ہیں جس انداز میں ہمارا استقبال کیا گیا وہ ہمیشہ ہمیں یاد رہے گا ،بحرین ا ٓ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم اپنے ہی گھر آئے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ بحرین اور پاکستان دو برادر ملک ہیں اور ہمارے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں ،یہ تعلقات ثقافتی ،مذہبی، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں اور یہی ہمارے تعلقات کے ستون ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کئی دہائیوں سے موجود ہے لیکن آج وہ ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کےلئے آئے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ اور ولی عہد و وزیراعظم سے کہا ہے کہ پاکستان برادر ملک بحرین کے ساتھ زراعت، آئی ٹی، اے آئی، فن ٹیک اور دیگر تمام شعبوں سمیت اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے،ہم ان شعبوں میں اپنی کوششوں، علم ،تجربے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے عزم کے ذریعے ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ ا ن کے دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں نئی پیش رفت لانا ہے، شاہ بحرین اور ولی عہد و وزیراعظم کی پاکستان کے ساتھ غیرمتزلزل وابستگی پر ان کا انتہائی شکر گزار ہوں ۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ملاقاتوں کا ماحول بالکل ایک خاندان کے مل بیٹھنے جیسا تھا اور یہ ملاقاتیں انتہائی با مقصد اور نتیخہ خیز رہی ہیں ، اسی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ میں یہاں مہمان نہیں ہوں بلکہ اپنے خاندان کے افراد، اپنے بحرینی بھائیوں اور بہنوں سے ملنے آیا ہوں
۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوان ہماری طاقت ہیں ہمارے 60 فیصد نوجوانوں کی عمر15 سے 30 سال کے درمیان ہے،نوجوان آبادی ایک چیلنج ،بڑی نعمت اور ایک موقع بھی ہے، چینی کہاوت کے مطابق یہ ایک چیلنج بھی ہے اور ایک زبردست موقع بھی ہے ہم اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنا کر اس چیلنج کو عظیم موقع میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، انہیں آئی ٹی ،اے آئی ،فنی و پیشہ ورانہ مہارت اور دیگر شعبوں میں تربیت دے کر اس چیلنج کو موقع میں بدلیں گے اور اپنے بحرینی کاروباری بھائیوں کے ساتھ مل کر ہم ان شعبوں میں ایک زبردست قوت بنیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہی وقت ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے کیونکہ وقت اور لہر کسی کا انتظار نہیں کرتی،یہ دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے کہ بحرین میں ہماری متحرک پاکستانی کمیونٹی ایک لاکھ سے زائد کی تعداد میں موجود ہے، یہ کمیونٹی ہمارے لئے باعث فخر ہے، جس ملک کا بھی میں نے دورہ کیا ہے میں نے پاکستانی کمیونٹی سے بات چیت کی ہے اور میں نے وہاں پاکستانیوں کی داستانیں سنی ہیں جن کی پاکستان سے محبت کبھی کم نہیں ہوئی اگرچہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور محنت کو دوسرے ممالک اور ثقافتوں کی ترقی کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی شناخت کسی جغرافیہ کی پابند نہیں ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں یہ شناخت ان پاکستانیوں کے دلوں میں موجود ہوتی ہے ،یہاں بحرین میں بھی یہی جذبہ کسی شک و شبہ سے بالاتر واضح طور پر نظر آتا ہے ، عظیم پاکستانیوں کو بحرین اور پاکستان دونوں کے لیے خدمات پر سلام پیش کرتا ہوں، یہ پاکستان کے عظیم سفیر ہیں اور پاکستان کی قومی معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے پر ان پر فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحرین میں مقیم پاکستانیوں کی محنت و کوششوں سے کمائی ہوئی رقم قیمتی ترسیلات زر کی شکل میں گزشتہ مالی سال کے دوران 48 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک رہی، یہ انتہائی قابل قدر ہے ،شاہ بحرین کی پاکستانیوں کے لیے فراخدالانہ حمایت پر ان کا شکر گزار ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے گزارش کروں گا کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ بحرین کے بھی عظیم سفیر بنیں کیونکہ پاکستان اور بحرین یک جان دو قالب ہیں اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی زبردست خدمات سے اپنے بحرینی بھائیوں اور بہنوں کو خود پر فخر کرنے پر مجبور کر دیں گے، آپ کےلئے پاکستان اور میرے دروازےہمیشہ کھلے رہیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ کی بصیرت افروز، متحرک اور دانشمندانہ قیادت اور بحرین کے ولی عہد و وزیراعظم کی عظیم قیادت اور رہنمائی میں بحرین معاشی ترقی، مالیاتی جدت اور انسانی مرکزیت پر مبنی ترقی کی ایک مشعل کے طور پر ابھرا ہے، پاکستان بحرین کی ترقی کے ماڈل سے بہت متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسیع مواقع ، ہنرمندی ، وسائل اور صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد والی مارکیٹ کا حامل ملک ہے جو تزویراتی محل وقوع رکھتا ہے
،بحرین کی مالیاتی مہارت ،کاروباری بصیرت اور عالمی نقطہ نظر کا اشتراک ہو جائے تو پاکستانی منڈیاں وسیع امکانات کی حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے جو معاشی اصلاحات، ڈیجیٹل جدیدیت اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے فیصلہ کن کردار کا حامل ہو چکا ہے، ہم نے سرخ فیتے کی رکاوٹوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے، اپنے ضوابط کو مضبوط بنایا ہے، زرعی کاروبار، آئی ٹی ،معدنیات، توانائی اور سیاحت جیسے نئے شعبوں میں طویل مدت شرکت داری کے لیے کھول دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحرین کے نائب وزیراعظم، وزیر خزانہ ،وزیر صنعت، وزیر خارجہ اور بحرین کے کاروباری اداروں کے سرمایہ کار پاکستان آئیں ہم آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، آپ کے عظیم تجربے اور مہارت سے ہم سیکھیں گے، آپ اپنے مشورے اور علم سےپاکستان کی صنعت اور زراعت کو متحرک بنائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جس پر جلد دستخط ہونے کی توقع ہے ،اس معاہدے سے پاکستان اور جی سی سی ممالک بالخصوص بحرین کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم کےطور پر ہی نہیں بلکہ ایک ایسی ایک قوم کے سی ای او کے طور پر مخاطب ہیں جو بحرینی کاروباری افراد کے ساتھ شراکت کی خواہاں اور مشترکہ منصوبوں کے لیے ہر طرح کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے اور بحرین کی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں سہولت فراہم کرنے اور باہمی طور پرمفید سفر میں تعاون کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے ایک مشہور کہاوت ہے کہ اگر آپ جلدی پہنچنا چاہتے ہیں تو اکیلے جائیں اور اگر اپ دور جانا چاہتے ہیں تو اکٹھے سفر کریں، ہم پاکستان اور بحرین کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں
چاہے آپ ایک بحرینی سرمایہ کار ہوں جو پاکستان میں امکانات دیکھ رہے ہوں یا ایک پاکستانی کاروباری شخص ہوں جو بحرین کی عظیم ترقی میں حصہ ڈال رہا ہو، دعا ہے کہ یہ لمحہ ایک جرأت مندانہ اور معنی خیز تعاون کا نقطہ آغاز ثابت ہو۔بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ الخلیفہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی موجودگی ہمارے تعلقات کی تجدید ہے،نسل در نسل پاکستانی شہریوں نے بحرین کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور آج بہت سے پاکستانی مملکت بحرین کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حبیب بنک ،یونائٹڈبنک اور نیشنل بنک جیسے پاکستانی مالیاتی ادارے نصف صدی سے زیادہ عرصے سے ہمارے مالیاتی شعبے میں اہم کردار ادا کرتے ا ٓرہے ہیں،پاکستان اور بحرین کے رشتے تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہورہی ہے، یہ خطہ جدت ، پائیداری اور تکنیکی برتری کا مرکز بنتا جارہا ہے،مملکت بحرین کو اس تبدیلی میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر فخر ہے، بحرین ایک ایسا ماحول تشکیل دے رہا ہے جہاں تخلیقی صلاحیت، کاروباری جذبہ اور جرأت مندانہ خیالات خوشحال مستقبل کی بنیاد بنے ہیں ۔مالیاتی خدمات کےلئے بحرین کا جدید نظام بہترین افرادی قوت اور ابھرتا ہوا فن ٹیک موجود ہے، بحرین کا جدید نظام پاکستانی بنکوں اور جدت کاروں کےلئےعلاقائی اورعالمی سطح پر بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرین وژن 2030ء کو اگے بڑھاتے ہوئے وژن 2050ء کی بنیاد رکھ رہا ہے ،ہم پاکستان کو ایک مشترکہ معاشی مستقبل کے حامل شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
معیشت پر توجہ دیں ۔ اظہر سیدنادہندگی سے ریاست بچ گئی لیکن ریاست میں رہنے والوں کی اکثریت نادہندہ ہو گئی ہے۔روزگار نہیں ہے ۔مہنگائی ہے ۔صنعتی عمل مہنگے انفراسٹرکچر یعنی بجلی ،پانی ،گیس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ،مہنگے قرضوں اورقوت خرید میں کمی کی وجہ سے منافع بخش نہیں رہا ۔پیچھے زندگی گزارنے کیلئے جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ بچتا ہے ،یا پھر بیرون ملک نقل مکانی ۔نوجوان فراڈ سیکھ رہے ہیں یا پھر بیرون ملک جانے کیلئے اپنی کشتیاں جلا رہے ہیں۔ریاست کے مالکوں کو سوچنا چاہئے خلیجی ممالک میں پاکستانی بھیک کیوں مانگتے ہیں۔زندگی تو گزارنا ہے ۔کیسے گزاریں ۔معاش کا بندوبست تو کرنا ہے کیسے کریں ۔ائر پورٹس پر نوجوانوں کو بیرون ملک سفر سے روکنا مسلہ کا حل نہیں ہے ۔شائد دس پندرہ فیصد بیرون ملک جا کر بھیک مانگتے ہونگے باقی تو قسمت آزمانے نکلتے ہیں ۔معیشت ٹھیک کریں سارے مسائل حل ہو جائیں گے ۔خارجی جو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں انہیں بے روزگار نوجوانوں کی وجہ سے بھی ایندھن ملتا ہے ۔افغان ملڑے جو پاکستان میں دہشتگردی پھیلا رہے ہیں اس کے پیچھے بھی معیشت ہے ۔مدارس میں جو لاکھوں بچوں کو غریب والدین دینی تعلیم کیلئے جمع کراتے ہیں اور مولوی ان سے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں اس کے پیچھے بھی معیشت ہے ۔والدین خوشحال ہونگے تو وہ اپنے بچوں کو مدارس بھیجنے کی بجائے اعلی تعلیم دلائیں گے ۔چوری ،ڈکیتی،رشوت ،ملاوٹ چور بازاری ہر معاشرتی بیماری کے پیچھے معیشت ہے ۔ریاست بانجھ نہیں ہے ۔شاندار زہین لوگ موجود ہیں۔خلوص نیت کے ساتھ کام کرنا شروع کریں گے تو بتدریج معیشت مستحکم ہوتی جائے گی ۔افسران، ججوں ،وزرا اور اراکین پارلیمنٹ کی مراعات ختم کریں قومی اعتماد پیدا ہو گا ۔بہتری کا راستہ نکلے گا۔ٹیکس بڑھا کر اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سے معیشت نہیں چلتی۔ عوامی مسائل میں اضافہ سے معیشت کی جڑیں کھوکھلی ہوتی جاتی ہیں۔بہت مسائل ہیں ۔طاقتور فوج احتجاج کرنے والوں کو بندوق سے خاموش تو کر سکتی ہے معاشی استحکام کیلئے کچھ نہیں کر سکتی۔ایجنسی اگر ملک دشمنوں کو پاتال سے جاکر پکڑ لیتی ہے تو آئی پی پی ایز کے مالکان کی ڈی بریفنگ سے انہیں کیوں مہنگی بجلی کے معاہدوں پر نظر ثانی پر مجبور نہیں کر سکتی۔لوگ پریشان ہیں۔غریب لوگوں کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں ۔انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے اور جنگی بنیادوں پر عملدرامد کی ۔