All posts by admin

نانی کے بڑھاپے کے عشق میں پوری قوم زلیل.😡جب تین سال پہلے ‏سارے فراڈی مہنگائی کیخلاف نکلے تھےتب سیمنٹ کی بوری 500 روپے کی تھیآج 1450 روپے کی ہےتب چینی 70 روپے کلو تھیآج 200 روپے کلو ہےتب پٹرول ڈیڑھ سو لیٹر تھاآج 275 روپے ہےتب بجلی 15 روپے یونٹ تھیآج 50 روپے سے بھی زیادہ ہےتب گیس 100 روپے تھیآج 300 روپے ہے کھربوں ڈالر کی کرپشن جاری
گنڈا پور فارغ عمران خان کا بڑا فیصلہ۔۔ماں دھرتی پر کمانڈنگ آفیسر ٹو ای سی صوبیدار میجر سمیت 11 شھید۔۔قربان ھونے والے بادبان ٹی وی پر ۔۔۔‏وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظر عام پر آگیا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

افواجِ پاکستان — کب تک ہمارے ہیروز قوم کے لیے قربانیاں دیتے رہیں گے جبکہ سیاستدان منافقت اور کرپشن میں ڈوبے رہیں گے؟!چیئرمین پیمرا کون ہوگا؟ طاقت، سیاست اور دباؤ کی نئی جنگ چھڑ گئی! تفصیلات بادبان ٹی وی پر

Pakistan Armed Forces — How Much Longer Will Our Heroes Bleed for a Nation Shackled by Corruption and Political Hypocrisy

Who Will Be the Next Chairman of PEMRA? Power, Politics, and Pressure Collide

پاکستان اور سعودی عرب کے سرمایہ کاری وفود ایک دوسرے کے ممالک میں موجود — نتائج تاحال صفر!اب تک سعودی عرب کی پاکستان میں کل سرمایہ کاری تقریباً 2.8 بلین ڈالر تک محدود، جبکہ پاکستان کو موخر ادائیگیوں پر 1.2 بلین ڈالر مالیت کا تیل فراہم کیا جا رہا ہے۔دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد اور ریاض میں مذاکرات میں مصروف، مگر عملی پیش رفت ابھی تک سامنے نہیں آئی

پاکستان اور سعودی عرب کے سرمایہ کاری کےوفود ایک دوسرے ممالک میں موجود رزلٹ صفر

Pakistan and Saudi Arabia’s investment delegations are present in each other’s countries — yet results remain zero!So far, Saudi Arabia’s total investment in Pakistan stands at $2.8 billion, while Pakistan continues to receive $1.2 billion worth of oil on deferred payment.Despite high-level delegations holding talks in Islamabad and Riyadh, no concrete progress has been achieved yet.

ویمنز ورلڈ کپ: جنوبی افریقہ نے سنسنی خیز مقابلے میں نیوزی لینڈ کو شکست دی.ذرائع کے مطابق ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026 کیلئے سلمان آغا کی چھٹی یقینی ہے اور پاکستان کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کپتانی کیلئے مضبوط امیدوار ہے اور اس کو کپتان دینے پر غور کیا جارہا ہے چئیرمین جائینٹ چیف کون بڑی .عمران خان کے لیے مشکلات مے اضافہ یا کمی. تحریک انصاف کی اھم شخصیات عمران خان کے ساتھ میر جعفر کے روپ میں۔۔ عمران خان نے بیانیہ بنانے کی ذمہ داری علیمہ خان کے حوالے کر دی۔۔۔پاکستان کرکٹ بورڈ ۔ پاکستان کرکٹ انسٹیٹیوٹ بن گیا ہے۔فرینڈلی فائر نہ کریں، سنجیدہ ہیں تو عدم اعتماد لائیں، ہم ساتھ دیں گے۔ اسد قیصر کی پیپلزپارٹی کو پیشکش۔عاصم ملک برقرار 30 ستمبر 2026 تک جبکہ فیاض شاہ گلریز رضا اور نعمان زکریا میں چئیرمین جائینٹ چیف کون۔یسین ملک کو سزائے موت۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*شمالی کوریا کے صدر کم جونگ کا اعلان۔۔۔ امریکہ پریشان**امریکہ ہمارے مزائیلوں کے نشانے پر ہیں، کم جونگ**امریکہ کا کوئی ڈیفس سسٹم ہمارے میزائل کو روک نہیں سکتا،کم جونگ**اپنے نئے میزائل اپنی آنیوالی پریڈ میں دنیا کو دیکھے جائے گئے،کم جونگ**ہمارے پاس ایسا میزائل ہے جو امریکہ کے کونے کونے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کم جونگ*

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ملاقات_* وزیر اعظم محمد شہباز شریف جو اس وقت ملائیشیاء کے سرکاری دورے پر ہیں، نے ملائیشیاء کے وزیر اعظم عزت مآب داتو سری انور ابراہیم سے آج پتراجایا میں پردانا پوترا میں ملاقات کی۔ پردانا پترا آمد پر، وزیر اعظم کا استقبال ایک سرکاری استقبالیہ تقریب میں کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے وفود کی سطح پر ملاقات میں اپنے اپنے وفد کی قیادت کی ۔ وزیراعظم نے دورہ کے دوران ان کے اور ان کے وفد کے ارکان کے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر ملائیشیاء کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ اپنی انتہائی تعمیری اور مفید ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے اکتوبر 2024 میں ملائیشیاء کے وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے بعد، دونوں طرف سے دو طرفہ تعاون میں مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہء خیال کیا، خاص طور پر اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان ملائیشیاء دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی تجدید کی اور اس حوالے سے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن، حلال انڈسٹری، آٹوموٹیو، کنیکٹیویٹی، گرین انرجی، الیکٹریکل اور الیکٹرانک مینوفیکچرنگ، سیاحت، اعلیٰ تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور زراعت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں سمیت تعاون کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔*دونوں فریقین نے پاکستان سے ملائیشیاء کو حلال گوشت کی برآمدات کا کوٹہ 200 ملین امریکی ڈالرز تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان سے ملائیشیاء کو چاول کی خاطر خواہ برآمدات ہو رہی ہیں جو کہ مقرر کردہ کوٹہ سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔* دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کی اہم علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہء خیال کیا۔ ملائیشیاء کے وزیراعظم نے فلسطین کے تنازعے حل کے لئے اور امن کے قیام کے لئے پاکستان کے تعمیری کردار بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اقدام کی تعریف کی۔انہوں نے اقوام متحدہ (UN) اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سمیت کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ حل کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور تنازعہء جموں و کشمیر کی اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی مطابق حل کے لئے ملائیشیاء کی حمایت کی تعریف کی۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان-آسیان تعلقات کو مضبوط بنانے پر مزید غور کیا۔ ملائیشیاء کے وزیر اعظم کو آسیان کی سربراہی سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وزیر اعظم انور ابراہیم کا آسیان کا مکمل ڈائیلاگ پارٹنر بننے کے حوالے سے پاکستان کے لئے ملائیشیاء کی حمایت کی توثیق پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اہم بین الاقوامی امور پر ایک دوسرے کو اپنے نقطہء نظر سے آگاہ رکھنے کے لیے کیے گئے اہم فیصلوں پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلوں کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان سفارتکاروں کی تربیت، سیاحت ، حلال سرٹیفیکیشن ، اعلیٰ تعلیم ، کرپشن اور بدعنوانی کی روک تھام اور خاتمے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے وزیراعظم انور ابراہیم کی کتاب “اسکرپٹ” ، جو کہ لیڈر شپ کے حوالے سے ان کے خیالات کا اظہار ہیں ، کی رونمائی بھی کی۔ملائیشیاء کے وزیراعظم کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا

نیفے میں پستول ۔پراسکیوشن جتنا مرضی مضبوط کیس بنائے جج ویڈیو شواہد کے باوجود فرانزک رپورٹ اور دیگر قانونی موشگافیوں کے زریعے ملزموں کو ضمانت دے دیتے ہیں ۔کراچی پولیس کے پکڑے ہزاروں کریمنل ضمانتیں لے کر پھر وارداتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔کئی ملزمان تو عادی ضمانتی ہیں ۔یہی حال وفاقی دارالحکومت اور ملک کے دیگر شہروں کا ہے ۔ملزمان کو ضمانت مل جاتی ہے وہ پھر سے جرائم کرنے لگتے ہیں ۔پراسکیوشن کے زریعے سزا موجود نظام انصاف میں صرف فراڈ ہے اور کچھ نہیں ۔ججوں کے منہ کو خون لگ چکا ہے ۔بار بار کے مارشل لا اور سیاسی حکومتوں میں پالتو ججوں کو نظام انصاف پر مسلط کرنے کے عمل نے نظام انصاف کو تباہ کر دیا ہے ۔ججوں کی اکثریت کا ایک مائنڈ سیٹ بن چکا ہے ۔حکم امتناعی کے زریعے انصاف روکنے کا کام بھی جج ہی کرتے ہیں ۔جب تک نظام انصاف کو گندھک کے تیزاب سے غسل نہیں دیا جاتا سی سی ڈی کا انصاف ہی عوام کیلئے قابل قبول طریقہ ہے ۔

جنگ ہو گی یا نہیں ؟ اظہر سیدامریکی صدر ٹرمپ بھارت کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے وہ اصل میں عالمی معیشت پر قابض ملٹی نیشنل اور اسلحہ ساز کمپنیوں کو چلانے والی امریکی ڈیپ اسٹیٹ کرا رہی ہے ۔بھارتیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے وہ پاکستان کو مکمل اور بڑی جنگ میں الجھائیں تاکہ ان کے حقیقی حریف چین کو کھینچ کر ایک بڑی جنگ میں پھنسایا جا سکے اپنی سالوں سے جاری اجارہ داری کو بچایا جا سکے ۔سات مئی کو بھارتی حملہ اسی پس منظر میں تھا لیکن پاکستان کے بھر پور جواب کے بعد بھارتی بڑی اور مکمل جنگ کے بغیر ہی میدان سے بھاگ نکلے ۔ بھارتیوں نے دیکھ لیا تھا چینی پاکستان کے پیچھے پوری طاقت سے کھڑے ہیں اور مکمل جنگ میں بھارتیوں کے پاس کھونے کیلئے پاکستان سے زیادہ چیزیں ہیں ۔یہ چیز امریکی ڈیپ اسٹیٹ کیلئے قابل قبول نہیں تھی کہ بھارتیوں کو اسرائیل کے زریعے مکمل معاونت بھی دی جا رہی تھی ۔سیز فائر کے بعد بھارتیوں کو سزا دینے کا عمل شروع ہوا ۔ٹیرف میں اضافہ کے بعد یورپین یونین کو بھی بھارت سے پٹرولیم درآمدات روکنے کا کہا گیا۔بھارتیوں پر ویزہ کی پابندیاں لگائی گئیں ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں میں بھارتی انتظامیہ کو ہدف بنایا گیا ۔بھارتی معیشت تیزی سے ترقی کرنے والی ایک ارب لوگوں کی مارکیٹ سمجھی جاتی ہے ۔امریکی اقدامات براہ راست بھارتی معیشت اور نئی عالمی طاقت بننے کے خوابوں کو پریشان کرنے والے اقدامات تھے ۔معاملات کو سمجھنے کیلئے ریاستوں کے اقدامات اور طرز عمل کو دیکھا جاتا ہے ۔اس ہفتے جو تصویر واضح ہو رہی ہے چیخ چیخ کر بتا رہی ہے ،بھارتی شائد امریکی بلیک میلنگ کے آگے جھک گئے ہیں اور شائد پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کیلئے رضامند ہو گئے ہیں ۔پہلے طالبان حکام پر امریکی آشیرباد سے سفری پابندیاں ختم ہوئیں پھر فوری طور پر افغان وزیر خارجہ کے ایک ہفتہ کے دورہ بھارت کا شیڈول جاری ہو گیا ۔بھارتی میڈیا میں خبریں چلنا شروع ہوئیں افغان وزیر خارجہ کے دورہ کے دوران اشرف غنی دور کے مختلف شہروں میں قائم بھارتی قونصلیٹ بحال ہوں گے اور دفاعی معاملات میں دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے ہونگے ۔میڈیا کو اس طرح کی کلاسیفائیڈ خبریں ہر ملک کی ڈیپ اسٹیٹ فراہم کرتی ہے بھلے پاکستان ہو ،امریکہ یا بھارت ،صحافیوں کو رائے عامہ بنانے کیلئے خبریں فراہم کی جاتی ہیں۔اچانک چار ماہ کی خاموشی کے بعد بھارتی وزیر دفاع،ارمی چیف،ائیر چیف اور قومی سلامتی کے مشیر پاکستان کو دھمکیاں دینے لگے ۔آزاد کشمیر احتجاج کے دوران بھارتی دفتر خارجہ نے باقاعدہ پریس نوٹ بھی جاری کر دیا ۔اب بھارتی میڈیا میں گلگت بلتستان میں احتجاج کی خبریں چل رہی ہیں جبکہ وہاں حالات پر امن ہیں ۔ان خبروں کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی اب اپنے حلیفوں کی مدد سے گلگت بلتستان میں فرقہ ورانہ فسادات کرانے کی کوشش کریں گے ۔بھارتی سیاستدان شائد امریکی دباؤ پر پاکستان کے ساتھ جنگ نہ کریں لیکن بھارتی اسٹیبلشمنٹ شائد امریکی دباؤ کے سامنے جھک جائے ۔ہر ریاست میں اصل طاقت ڈیپ اسٹیٹ کی ہی ہوتی ہے بھلے سامنے امریکی صدر ٹرمپ ہو یا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ۔بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے اگر پاکستان کے ساتھ جنگ کا فیصلہ کر لیا تو بھارتی جمہوریت اسے روک نہیں پائے گی اور یہ جنگ ہو جائے گی ۔پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کسی کیلئے قابل قبول نہیں اس لئے پاکستان کو پھنسانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی ۔ہمیں مستقبل قریب میں امریکہ ،بھارت اور افغانستان اتحاد نظر آتا ہے ۔اس اتحاد کے متعلق چینی ،روسی اور پاکستانی یقینی طور پر خبریں رکھتے ہونگے اور وہ جوابی اقدامات بھی کر رہے ہونگے ۔جو کچھ خطہ میں اور دنیا میں ہونے جا رہا ہے وہ جلد یا بدیر ہونا ہی ہے اور بہت جلد سامنے اجائے گا۔

عاصم ملک برقرار 30 ستمبر 2026 تک جبکہ فیاض شاہ گلریز رضا اور نعمان زکریا میں چئیرمین جائینٹ چیف کون تفصیلات بادبان یوٹیوب پر

Power Shake-Up! Asim Malik Retains Command Till September 30, 2026 — But Who Will Seize the Chairman Joint Chiefs Post? Contest Between Fayaz Shah, Gulraiz, Amir Raza, and Nauman Zakaria Heats Up!

پاکستان پر 3 اطراف سے بھارتی حملے کا خطرہ۔۔حکومت کے آخری ھچکولے غدااروں کی تعداد میں اضافہ۔۔پنجاب لاوارث نہیں ہے پنجاب کے وارث ہیں جیسی بات کرینگے ویسا جواب آئے گا۔۔پاکستان کرکٹ ٹیم پر نحوست کے ساے بدستور برقرارخواتین کھلاڑیو ی کی ٹیم کوانڈین ٹیم سے شکست۔۔۔پیمرا مالی بحران کا شکار ملازمین تنخواہوں سے محروم۔۔اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جنرل سرفراز اور مصدق ملک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل۔۔پاکستان میں دھشت گردی مھنگای اور کرپشن میں مقابلہ۔۔بھارت میں 19 ریاستوں میں علیحدگی کی تحاریک۔۔پینشن خیرات نھی ائینی حق ہے۔۔پاکستان قطر اور سعودی عرب میں معاھدہ۔۔۔پاکستان خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق کشمیر اور بلوچستان پر حملے کی اطلاعات۔پاک فوج نے دہلی ممبئی آگرہ سمیت 75 ٹارگٹس لاک کر دیئے حریت رہنما یاسین ملک کو سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے10 نومبر کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*پاکستان کرکٹ بورڈ کی نئی کابینہ تشکیل**سلیکشن کمیٹی**ہیڈ سرفراز احمد۔ اظہر علی۔ شاہد خان آفریدی**ہیڈ کوچ**یونس خان**اسپن باولنگ کوچ۔ ثقلین مشتاق**فاسٹ باولنگ کوچ۔ وسیم اکرم۔ شعیب اختر۔ عمر گل۔*

وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ماہ نور چیمہ کی ملاقات وزیر اعظم نے گزشتہ ہفتے دورہ لندن کے دوران تعلیمی میدان میں ورلڈ ریکارڈ ہولڈر پاکستانی نژاد طالبہ ماہ نور چیمہ سے ملاقات کی.وزیرِ اعظم نے ماہ نور چیمہ کو اے لیول کے امتحانات میں 24 مضامین میں انفرادی طور پر امتیازی گریڈ کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے اور شاندار کارکردگی دکھانے پر دلی مبارکباد دیوزیرِ اعظم نے کہا کہ ماہ نور چیمہ ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ اور نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔انہوں نے ماہ نور کے والدین کو بھی اس کامیابی پر مبارکباد دی اور ماہ نور کے لیے مزید کامیابیوں کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیرِ اعظم نے ماہ نور چیمہ کو تحائف بھی پیش کیے۔ ماہ نور چیمہ نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تعلیمی میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی.

امریکہ نے طالبان حکام پر سفری پابندیاں ختم کر دیں،افغان وزیر خارجہ ایک ہفتے کے دورہ پر بھارت جا رہے ہیں،حامد کرزئی دور کے قونصلیٹ کی بحالی اور بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر بات ہو گی ۔امریکی سہولت کاری کر رہے ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگز محض ملکی سطح تک محدود نہیں رہتی تھیں بلکہ دنیا بھر میں دیکھی اور سنی جاتی تھیں۔ ان بریفنگز کو دشمن ممالک کے تھنک ٹینکس تک تجزیے کے لیے استعمال کرتے تھے، اور انہی سے ریاستِ پاکستان کا بیانیہ تشکیل پاتا تھا۔جہانگیر نصراللہ سے افتخار بابر تک— وہ تمام افسران، اگرچہ صرف میجر جنرل کے رینک پر تھے، مگر ان کے الفاظ میں ادارے کی ساکھ، اعتماد، اور بیانیے کی طاقت جھلکتی تھی۔ وہ بولتے تھے تو قوم سنتی تھی، دشمن سوچتا تھا، اور دنیا نوٹس لیتی تھی۔مگر آج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے دور میں آئی ایس پی آر کا منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے۔ نہ وہ ادارتی قوت باقی رہی، نہ وہ قومی بیانیے کی گونج جو پہلے پاکستان کی آواز کو عالمی فورمز تک پہنچاتی تھی۔ یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ موجودہ ڈی جی صاحب — باوجود اپنی دیانتداری اور شائستگی کے — اپنے ادارے کو مؤثر ابلاغ کے میدان میں ایک متحرک قوت کے بجائے ایک خاموش تماشائی بنا بیٹھے ہیں۔یہ صرف احمد شریف کی ناکامی نہیں بلکہ ان کے گرد موجود ٹیم کی فکری کمزوری، تزویراتی ناپختگی اور پروفیشنل بےسمتی کا مظہر بھی ہے۔ایمانداری اپنی جگہ، مگر قومی بیانیے کی حفاظت صرف نیک نیتی سے نہیں بلکہ بصیرت، جراتِ اظہار، اور حکمتِ عملی سے ممکن ہوتی ہے۔ احمد شریف انہیں ریاستی تاثر کی قیادت سونپی گئی تھی— مگر بدقسمتی سے وہ قیادت اب پس منظر میں گم ہو چکی ہے۔

شرم الشیخ: ٹرمپ منصوبے پر فیصلہ کن مذاکرات!!مصر کے سیاحتی شہر شرم الشیخ میں کل پیر کے روز وہ فیصلہ کن مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد پر بات چیت ہوگی۔ اس منصوبے کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کو یقینی بنانا ہے، جو اب اپنے تیسرے سال میں داخل ہونے والی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ پیر کو واشنگٹن میں دجالی خنزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ جنگ ختم کرنے اور اسرائیل و اسلامی مزاحمت کی تحریک کے درمیان یدیوں کے مکمل تبادلے کے لیے ایک امن فارمولا پیش کر رہے ہیں۔مزاحمت کا ردعمل:اسلامی مزاحمت کی تحریک نے ٹرمپ کے منصوبے کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ وہ تمام اسرائیلی قیدیوں، زندہ اور مردہ، دونوں کو رہا کرنے پر آمادہ ہے اور وہ غزہ کی انتظامیہ کو غیر جانبدار فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی ایک عارضی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ تاہم تحریک نے یہ بھی کہا کہ غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق امور پر مشترکہ قومی موقف اپنایا جائے گا، جو بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کی بنیاد پر طے پائے گا۔اسرائیلی منظوری اور امریکی مؤقف:امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے بھی ان کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے اور فوجی انخلا کے ابتدائی خاکے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اسرائیلی فوج کی واپسی کا منصوبہ ایک نقشے کی صورت میں مزاحمت کو دکھایا گیا ہے، جس کے تحت دجالی فوج کو غزہ کی سرحد سے ڈیڑھ سے ساڑھے تین کلومیٹر پیچھے ہٹنا ہوگا۔ تاہم اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، دجالی ریاست اب بھی 3 اسٹرٹیجک مقامات پر طویل المدت فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے: (1) غزہ کی سرحد کے اندر ایک عارضی بفر زون۔ (2) فیلاڈلفیا راہداری (مصر کی سرحد پر) اور(3) تلہ 70 کے علاقے میں ایک پہاڑی چوٹی، جو شمالی غزہ پر عسکری اور بصری برتری فراہم کرتی ہے۔مذاکرات میں کون شریک ہے؟مصری وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ اسلامی مزاحمت کی تحریک اور اسرائیلی وفود سمیت قطر، امریکہ اور دیگر ثالث ممالک کے نمائندوں کی میزبانی کرے گی۔ الجزیرہ کے مطابق، مزاحمت کا وفد آج اتوار کو دوحہ سے مصر روانہ ہو چکا ہے، جبکہ قطری وفد کل مذاکرات کے آغاز پر شریک ہوگا۔ امریکی حکام کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی مصر پہنچ رہا ہے، جبکہ جیرڈ کشنر (ٹرمپ کا داماد) بھی مذاکرات میں شریک ہوگا۔امریکی مقاصد؟صدر ٹرمپ نے امریکی ویب سائٹ Axios کو بتایا کہ ان کا مقصد غزہ کی جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا ہے۔ ان کے بقول: “یہ جنگ اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کر چکی ہے اور میرا مقصد اس کی بین الاقوامی حیثیت اور ساکھ کو بحال کرنا ہے۔” ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دجالی وزیر اعظم کے پاس اب میری پیش کردہ امن تجویز کو ماننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔عرب و اسلامی ممالک کا ردعمل:قطر، سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے اتوار کے روز ایک مشترکہ بیان میں مزاحمت کے اقدام کا خیر مقدم کیا اور ٹرمپ امن منصوبے پر بات چیت شروع کرنے کی حمایت کی۔ ان ممالک نے کہا کہ ضروری ہے کہ تمام فریق مذاکرات کے ذریعے ایک ایسا فریم ورک طے کریں جو مکمل اسرائیلی انخلا اور جامع امن کی ضمانت دے۔منصوبے کی بنیادی نکات:جنگ بندی کا فوری نفاذ اور قیدیوں کا تبادلہ 72 گھنٹوں میں۔اسرائیلی فوج کا تدریجی انخلا۔اسلامی مزاحمت کی تحریک کے عسکری و انتظامی کردار کا خاتمہ۔غزہ کی نگرانی ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹس اتھارٹی کے سپرد کرنا، جس پر صدر ٹرمپ براہِ راست نگرانی کرے گا۔ٹرمپ کا یہ منصوبہ غزہ کی جنگ کے خاتمے کی سمت ایک بڑا قدم تصور کیا جا رہا ہے، لیکن میدانِ عمل میں اس کی کامیابی کا انحصار فریقین کے عملی تعاون پر ہوگا۔ مزاحمتی تحریک کی مشروط رضامندی اور اسرائیل کی سیکورٹی شرائط مستقبل کے مذاکرات کو نہایت نازک بنا رہی ہیں۔اللہ کرے کہ یہ مذاکرات اہل غزہ کے لیے کوئی مثبت پیغام لائیں اور 2 سال بعد انہیں امن نصیب ہو۔ آمین۔

ہم چھوٹے چھوٹے مسائل کو فوری حل کرنے کی بجائے انہیں ٹالتے رہتے ہیں، اور یہی چھوٹے مسائل دبے چھپے ایک بڑے مسئلے کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ بڑے مسائل پھر ایک عظیم بحران کے گہرے گڑھے میں جا گرتے ہیں، جہاں دیگر مسائل بھی شامل ہو کر تعفن پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تعفن ہر طرف پھیلتا ہے اور سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ مثال کے طور پر، گھر کے باہر کوڑا پھینکنے کی معمولی عادت وقت کے ساتھ پورے علاقے کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیتی ہے۔‎جب مسائل بڑھتے ہیں تو وہ گھنے جنگل کی طرح آپس میں الجھ جاتے ہیں۔ اگر یہ جنگل کیکر کا ہو تو اس سے گزرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ کیونکہ نہ صرف کانٹے راستے کی دیوار بن جاتے ہیں بلکہ گھنے جنگل میں چھپی جنگلی مخلوق خطرات کو اور بڑھا دیتی ہے۔ ایسی صورت میں راستہ تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔‎اگر آپ کسی بڑے مسئلے کا سرا پکڑ کر اس کی جڑوں تک جائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس کے پیچھے کوئی طاقتور گروہ یا کارٹل موجود ہے جو اسے کنٹرول کر رہا ہوتا ہے۔ یہی کارٹلز مل کر ہمارے درمیان اور اردگرد کانٹوں کا گھنا جنگل اور گندگی کا گڑھا بنا دیتے ہیں، جس میں ہم سب پھنس چکے ہیں۔‎سیاست اور مزاح کا آپس میں گہرا تعلق نظر آتا ہے، شاید اسی لیے سیاستدانوں کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ماضی میں سیاست فکر و عمل کا میدان ہوا کرتی تھی۔ ارسطو، سقراط، افلاطون، میکاولی، مورگن تھاؤ، کانت اور چانکیہ جیسے مفکرین نے سوچ کی آخری حدود کو چھوا۔ لیکن خروشیف، ہٹلر، مسولینی، نیتن یاہو، مودی، حسنی مبارک اور حسینہ واجد جیسے رہنماؤں نے فکر و آگہی کی دیواروں کو مسمار کر کے دنیا کو اندھیرے میں دھکیل دیا۔‎مسائل حل نہ کرنے کی عادت اور ان کے بڑھنے کے اثرات اب دنیا پر واضح ہو رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا چیلنج آزاد منڈی کی معیشت میں لالچی سوداگروں کے دھوکے کو روکنا ہے۔‎چھوٹی چھوٹی عادتیں جب پختہ ہو جاتی ہیں تو وہ افراد اور معاشروں کا کردار بن جاتی ہیں۔ قطار بنانا، ٹریفک سگنل پر رکنا، دائیں طرف سے اوورٹیک کرنا، سچ بولنا، کوڑے دان کا استعمال، عوامی مقامات پر نہ تھوکنا، وقت پر کھانا کھانا، کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، جلدی سونا اور پانچ وقت کی نماز کی پابندی — اگر یہ عادتیں بچپن سے ہماری زندگی کا حصہ ہوں تو بڑے ہو کر ہم ٹیکس ادا کریں گے، ملازمین کی تنخواہ وقت پر دیں گے اور ملاوٹ یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں گے، کیونکہ اچھی عادتیں ہمیں برے کاموں سے روکتی ہیں۔ اچھی عادت ایک ایسی حد ہے جو ہمیں غلط کاموں سے باز رکھتی ہے۔‎رچرڈ ایچ تھیلر اور کاس آر سنسٹین کی کتاب “نج” (Nudge) معاشروں کی بہتر تشکیل کے لیے ایک مفید رہنما ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو مکمل آزادی دیں لیکن ان کی چھوٹی عادات کو بہتر بنائیں تاکہ بڑے ہو کر وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔ یہ عادتیں علامتی طریقوں (سمبولزم) سے پروان چڑھائی جاتی ہیں، جیسے مسجد میں جوتوں کے بغیر داخل ہونا، جو پاکیزگی اور احترام کی علامت ہے۔‎علامتیں ایک تحریک کی مانند ہیں۔ مثال کے طور پر، قومی ترانہ بجے تو احترام میں کھڑے ہو جائیں، اذان شروع ہو تو خاموش ہو جائیں، بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل نہ ہوں، کھانا شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھیں۔ مغربی معاشروں میں ان چھوٹی پابندیوں سے معاشرے کو منظم کیا گیا ہے۔ خاص طور پر ٹریفک قوانین کی پابندی اور قطار بنانے کی عادت خودغرضی سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ عادتیں نہ صرف انفرادی کردار بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

کمراٹ میں موسم سرما کی پہلی برفباری کالام اور بالائی علاقوں میں بھی برفباری سوات،تیمرہ گرہ ، میدان واڑی میں۔۔حکومت کے آخری ھچکولے غدااروں کی تعداد میں اضافہ۔وزیر اعطم کی چوتھی جھوٹی مبارکباد – – مطالبات 42 منظور ۔بونگا وزیر خارجہ۔۔۔۔پاکستان اسحاق ڈار کی معاهده پر بونگیاں جاری .. یہ جھکی جھکی۔۔پنجاب لاوارث نہیں ہے پنجاب کے وارث ہیں جیسی بات کرینگے ویسا جواب آئے گا۔۔پاکستان کرکٹ ٹیم پر نحوست کے ساے بدستور برقرارخواتین کھلاڑیو ی کی ٹیم کوانڈین ٹیم سے شکست۔۔۔۔ہارے ہوئے لشکر کی جیتی ہوئی سدرہ سپاہی، 40 اوور اکیلے وکٹ پر کھڑی رہی اور پاکستان کی کسی حد تک عزت بچا لی۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہء ملائیشیاء_**وزیراعظم محمد شہباز شریف ملائیشیاء کے سرکاری دورے پر کوالالمپور پہنچ گئے*کوالالمپور کے بنگا رایا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ملائیشیاء کے وزیر اطلاعات /کمیونیکیشنز عزت مآب فہمی فادضل ، ملائشیاء میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر سید احسن رضا شاہ اور سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیاوزیراعظم کو شاہی پروٹوکول میں ان کی رہائش پر لایا گیا*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی رہائش آمد پر ملائیشیاء کے وزیراعظم عزت مآب انور ابراہیم نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور انہیں ملائیشیاء آمد پر خوش آمدید کہا*ملائیشیاء آ کر بے حد خوشی ہو رہی ہے ؛ پر تپاک استقبال پر ملائیشیاء کے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں

: وزیراعظم اس دورے سے پاکستان -ملائیشیاء دو طرفہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی : وزیراعظم نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیںوزیراعظم پاکستان ، ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کی دعوت پر ملائیشیاء کا دورہ کر رہے ہیں وزیراعظم اپنے دورے کے دوران ملائیشیاء کے وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر بھی بات چیت ہو گی.دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوں گے۔دونوں رہنما تجارت، آئی ٹی اور ٹیلی کام، حلال انڈسٹری، سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل معیشت میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے پر بھی غور کریں گے۔ عوام سے عوام کے روابط بڑھانے کے لئے نئے تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر گفتگو ہوگیوزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

حکومت کے آخری ھچکولے غدااروں کی تعداد میں اضافہThe government’s final tremors — the number of traitors is on the rise.وزیر اعطم کی چوتھی جھوٹی مبارکباد – – مطالبات 42 منظور ۔بونگا وزیر خارجہ اور پاکستان اسحاق ڈار کی معاهده پر بونگیاں جاری .. یہ جھکی جھکی نگاہیں ان کو میرا سلام که دین#alert #news #trending #army #military #pakarmy #pakistan #rain #indiapakistanwar #latest #nationalassembly #shehbazsharif

بھارت۔پاک سرحد پر AK-630 نصب ایک منٹ میں 3000 راؤنڈ فائر کرنے کی صلاحیت! انڈین سوشل میڈیا نیوز. پنجاب میں دفعہ 144 نافذ* صوبہ بھر کی فیڈ ملز میں مرغیوں کے دانے کی تیاری میں گندم کے استعمال پر 30 دن کیلئے پابندی عائد۔*اسرائیل نے ٹرمپ کا غزہ پر حملے روکنےکا مطالبہ بمباری میں اُڑا دیا، مزید 66 فلسطینی شہید کردیے۔علی امین گنڈاپور کی ہدایات کے باوجود ایمل ولی خان سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی۔طیفی بٹ دبئی میں ایک دعوت کے دوران ڈرامائی انداز میں گرفتار۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

🚨 *طیفی بٹ دبئی میں ایک دعوت کے دوران ڈرامائی انداز میں گرفتار*لاہور میں بالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے دبئی میں اشتہاری ملزمان کی گرفتاری میں جانے والے ڈی ایس پی نے طیفی بٹ کو موقع پر پہچان کر گرفتار کیا ۔پولیس ذرائع کے مطابق طیفی بٹ دبئی میں ایک دعوت کے دوران ڈرامائی انداز میں گرفتار ہوا، محکمہ پولیس کے ایکسٹراڈیشن سیل کے ڈی ایس پی دبئی میں 2 اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے موجود تھے اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے دبئی پولیس کے ساتھ خالد وریا نےفلیٹ میں کارروائی کی،کارروائی کے دوران اسی فلیٹ میں طیفی بٹ بھی دعوت پر موجود تھا، ڈی ایس پی نے طیفی بٹ کو پہچان کر اس کی بھی گرفتاری کا پراسس شروع کر دیا۔ذرائع کے مطابق طیفی بٹ ابھی دبئی پولیس کی حراست میں ہے، طیفی بٹ کی گرفتاری کے لیے لاہور پولیس کی جانب سے ریڈوارنٹ بھی جاری کروائے گئے تھے، ریڈوارنٹ سے گرفتاری اور پاکستان روانگی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔طیفی بٹ کو ریڈوارنٹ کا پروسیس مکمل ہونے پر لاہور ائیرپورٹ لایا جائے گا،طیفی بٹ بالاج قتل کے فوری بعد اسلام آباد سے گلاسکو روانہ ہواتھا، لندن کاویزہ ختم ہونے پر طیفی بٹ لندن کاویزہ رینیو کروانے کے لیے دبئی آیا تھا۔

علی امین گنڈاپور کی ہدایات کے باوجود ایمل ولی خان سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی۔ آئی جی خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ کی ہدایات نظرانداز کرتے ہوئے آج صبح تمام پولیس اہلکاروں کو لائن حاضر کر دیا گیا۔ ترجمان اے این پی احسان اللہ خان

*اسرائیل نے ٹرمپ کا غزہ پر حملے روکنےکا مطالبہ بمباری میں اُڑا دیا، مزید 66 فلسطینی شہید کردیے*اسرائیل نے امریکی صدر ٹرمپ کا غزہ پر حملے روکنےکا مطالبہ بمباری میں اُڑا دیا، غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں، 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوجی حملوں میں مزید 66 فلسطینی شہید اور 265 زخمی ہوئے ہیں۔گزشتہ رات بھی اسرائیل نے غزہ شہر اور دیگر علاقوں پر درجنوں فضائی حملے اور توپوں سے گولا باری کی۔ 2 سالہ جنگ میں فلسطینی شہدا کی تعداد 67 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔اس کے علاوہ اسرائیل کے جبری قحط سے بھی مزید 2 بچے دم توڑ گئے، بھوک کی شدت سے انتقال کرنے والوں کی تعداد 154 بچوں سمیت 459 ہوگئی۔

*اسرائیل نے ٹرمپ کا غزہ پر حملے روکنےکا مطالبہ بمباری میں اُڑا دیا، مزید 66 فلسطینی شہید کردیے*اسرائیل نے امریکی صدر ٹرمپ کا غزہ پر حملے روکنےکا مطالبہ بمباری میں اُڑا دیا، غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں، 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوجی حملوں میں مزید 66 فلسطینی شہید اور 265 زخمی ہوئے ہیں۔گزشتہ رات بھی اسرائیل نے غزہ شہر اور دیگر علاقوں پر درجنوں فضائی حملے اور توپوں سے گولا باری کی۔ 2 سالہ جنگ میں فلسطینی شہدا کی تعداد 67 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔اس کے علاوہ اسرائیل کے جبری قحط سے بھی مزید 2 بچے دم توڑ گئے، بھوک کی شدت سے انتقال کرنے والوں کی تعداد 154 بچوں سمیت 459 ہوگئی۔

سیرین ایئرلائن کا فضائی آپریشن پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) نے معطل کر دیا ہے اس کی وجہ ایئرلائن کے پاس پرواز کے قابل طیاروں کی کمی ہے۔ آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے لیے سیرین ایئر کو کم از کم تین طیارے فعال حالت میں پیش کرنے ہوں گے۔ اس معطلی کی وجہ سے تمام ملکی اور بین الاقوامی پروازیں رک گئی ہیں، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

*پنجاب میں دفعہ 144 نافذ* *صوبہ بھر کی فیڈ ملز میں مرغیوں کے دانے کی تیاری میں گندم کے استعمال پر 30 دن کیلئے پابندی عائد*