
*اپڈیٹ**11 نومبر 2025، کیڈٹ کالج وانا، جنوبی وزیرستان*کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے اب تک 115 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا ہے۔ *سیکیورٹی ذرائع**کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجین کو کالج کی ایک مخصوص عمارت تک محدود کر دیا گیا ہے، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔* سیکیورٹی ذرائعجس عمارت میں افغان خوارج موجود ہیں، وہ کیڈٹس کی رہائشی عمارتوں سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ ابھی تک تمام کیڈٹ محفوظ ہیں*سیکیورٹی ذرائع**افغان خوارجیوں کی کالج میں موجودگی کے باعث کیڈٹس کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن نہایت احتیاط سے جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع*کالج کی حدود سے کیڈٹس کو نکالنے کا عمل بتدریج جاری ہے۔ *سیکیورٹی ذرائع*اس وقت بھی کالج کے اندر تقریباً 535 افراد موجود ہیں۔ *سیکیورٹی ذرائع*وانا کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجیوں کے خلاف آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔ *سیکیورٹی ذرائع*واضح رہے کہ 10 نومبر کو افغان خوارجیوں نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی۔ *سیکیورٹی ذرائع*دھماکے سے کالج کا مرکزی دروازہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا، جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ *سیکیورٹی ذرائع*پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے دو خوارجیوں کو موقع پر ہی جہنم واصل کر دیا تھا۔ *سیکیورٹی ذرائع*معصوم قبائلی بچوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ پاکستان کی خوشحالی سے۔دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے

وزیر دفاع خواجہ آصف ہم حالت جنگ میں ہیں۔ جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ پاک فوج یہ جنگ افغان پاکستان کے سرحدی علاقے اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں لڑ رہی ہے اسے اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں پر ہونے والے آج کے خودکش حملے کو ویک اپ کال کے طور پر لینا چاہیے: یہ پورے پاکستان کی جنگ ہے، جس میں پاک فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ہے اور عوام کو محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ اس ماحول میں کابل کے حکمرانوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی زیادہ امید رکھنا فضول ہوگا۔ کابل کے حکمران پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتے ہیں لیکن اس جنگ کو اسلام آباد تک پہنچانا کابل کی طرف سے ایک پیغام ہے، الحمد للہ پاکستان جواب دینے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔

ایس ایس جی کمانڈوز نے کیڈٹ کالج وانا میں موجود 3 دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیاکیڈٹ کالج پر خودکش حملہ آور کے علاوہ 4 دہشتگردوں کو ہلاک کرلیا گیاآپریشن کے دوران کیڈٹ کالج کے کسی بھی طالبعلم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا

محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دیاسلام آباد حملے کے بعد پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹمحکمہ داخلہ پنجاب نے تمام اضلاع میں سکیورٹی پلان پر من و عن عملدرآمد کی ہدایت کیدہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر پیشگی اقدامات کی ہدایت کی گئی محکمہ داخلہ کی پنجاب کے حساس، اہم اور گنجان آباد علاقوں میں سکیورٹی بڑھانے کی ہدایتآئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور، تمام آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی آوز کو ہدایت جاریپنجاب بھر میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا مراسلہ جاریانتہاپسندی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مربوط اور فعال اقدامات اٹھائے جائیں، محکمہ داخلہ پنجابشہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے
سینیٹ سیکرٹریٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹسینٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایوان بالا کے اجلاس کا دن اور وقت تبدیل کر دیا گیا۔ اجلاس 13 نومبر 2025 شام 4 بجے کی بجائے اب 12 نومبر شام 5 بجے ہو گا ۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے

خودکش حملہ اور ایجنسی ۔ اظہر سیدپاکستان کی ایجنسیاں بیک وقت سی آئی اے ،را،موساد اور خاد کو افغانستان میں ناکوں چنے چبوا چکی ہیں۔لال مسجد آپریشن ایک تزویراتی غلطی تھی جس نے افغانستان میں پاکستان سے عاجز آئے امریکیوں کو بدلہ لینے کیلئے طالبان میں نفوز کرنے کا موقع ملا ۔بنے بنائے تربیت یافتہ اور مقامی آبادیوں کا حصہ جنگجو پاکستان مخالف ایجنسیوں کی پراکسی بن گئے۔پاکستان پر 2008 سے 2012 کے دوران وہ جنگ مسلط کی گئی جو دنیا کی حالیہ تاریخ میں اپنی نوعیت کی واحد جنگ تھی ۔پنجاب میں آئی ایس آئی کے دفاتر خودکش حملوں کا نشانہ بنائے گئے،جدید ترین طیاروں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا تھا۔ایک لیفٹیننٹ جنرل جی ایچ کیو سے نکلتے وقت خود کش حملہ آور کا نشانہ بنا ۔دو بریگیڈیئر خود کش حملہ آوروں کا نشانہ بنے ۔دہشت گردوں کو جدید ترین مواصلاتی ٹیکنالوجی حاصل تھی ،مصنوعی سیاروں کی مدد حاصل تھی ۔قربانیاں بے شمار دی گئیں ۔ایک دن آیا آئی ایس آئی تمام مخالف ایجنسیوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئی۔دہشتگردی کے تمام نیٹ ورک تباہ کر دئے گئے ۔ہماری ایجنسیاں ایران ایسی نہیں ہیں جہاں ایک ہی رات میں اسرائیل درجنوں کمانڈر اور سائنسدان اپنی پراکیسوں کے زریعے مار دیے ۔ہماری ایجنسیاں بہت بہتر اور بہت آگے کی ہیں۔اسلام آباد کچہری میں خودکش حملہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا تھا۔انہیں خیبرپختونخوا میں محدود کر کے ختم کیا جا رہا تھا۔پھر خودکش بمبار کیسے دارالحکومت پہنچ گیا۔ایسے نہیں ہوتا کسی نے بارود بھری جیکٹ پہنی اور دھماکہ کرنے پہنچ گیا۔ایک مکمل نیٹ ورک ہوتا یے۔سہولت کار ہوتے ہیں۔مقامی آبادیوں میں محفوظ ٹھکانہ ہوتا ہے۔بارود کی ترسیل ہوتی ہے۔جیکٹ بنتی ہے ۔محفوظ نقل و حمل ہوتی ہے ۔وفاقی دارالحکومت میں حملہ کا مطلب یہ ہے پاکستان مخالف دہشتگرد نیٹ ورک ماضی کی طرح سلیپر سیل بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔

ایجنسی یقینی طور پر کام شروع کر چکی ہو گی۔سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ جاری ہو گی ۔حملہ اور کی نقل و حمل کو جانچا جا رہا ہو گا ۔ہمیں لگتا ہے کچی آبادیوں میں مقیم افغان باشندوں پر ایک بڑے کریک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔جی الیون کچہری کے ساتھ ہی میرا بادی غیر قانونی کچی بستی ہے ۔یہاں غیر قانونی مدارس بھی ہیں۔دارالحکومت کی سبزی اور فروٹ ہول سیل منڈی کے ساتھ گندے نالے کے کنارے بھی ایک کچی بستی ہے جہاں بڑی تعداد میں افغان مہاجرین موجود ہوتے تھے۔راولپنڈی کی دو بڑی آٹو مارکیٹ سلطان کا کھو اور مٹھو کا احاطہ میں کافی تعداد میں افغان مہاجرین برسوں سے کام کر رہے ہیں ۔دہشتگرد نیٹ ورک نے سلیپر سیل بنائے ہیں یقینی طور پر انہی علاقوں میں ہیں جہاں افغان مہاجرین کے ٹھکانے ہیں۔ایجنسی یقینی طور پر تمام ممکنہ ٹھکانوں کی جانچ کرے گی تاکہ مستقبل میں دہشتگرد کامیاب نہ ہو سکیں۔

سینیٹر عرفان صدیقی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پاکستان ایک شفیق، باوقار اور اصول پسند آواز سے محروم ہو گیا ہے۔ انہوں نے دہائیوں تک اپنے قلم، اپنی علمی و ادبی کاوشوں، اپنی عوامی خدمت اور پارلیمان میں اپنی ذمہ دارانہ کردار کے ذریعے ہمیشہ سوچ سمجھ کر، خلوص کے ساتھ اور وقار کے ساتھ قوم کی خدمت کی۔سینیٹر عرفان صدیقی کا مکالمے، اعتدال اور جمہوری اقدار سے عزم انہیں تمام سیاسی حلقوں میں عزت اور احترام دلاتا تھا۔ وہ دل کے استاد اور عمل کے سیاست دان تھے، جو تلخی کے بجائے دانائی اور شائستگی پر مبنی سیاست کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی روح کو جنتِ فردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا کرے، اور ان کے اہلِ خانہ کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبر دے۔ آمین۔پاکستان کی علمی، فکری اور سیاسی دنیا میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ ان کی شفقت بھری رہنمائی میسر رہی، جس کی یادیں ہمیشہ میرے لیے قیمتی اثاثہ رہیں گی

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے اسلام آباد میں منعقدہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے ملائیشیا کے ڈپٹی پریذیڈنٹ داتوک نور جزلان بن تن سری محمد نے اس آج پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، اقتصادی روابط اور مختلف شعبہ جات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط اور نئی جہت فراہم کرے گا۔ اسپیکر نے اپنے ملائیشین ہم منصب کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیم، سیاحت، حلال فوڈ، اور پام آئل کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں

۔ اسپیکر نے عوامی سطح پر روابط اور تجارتی تعلقات کے فروغ کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ گوادر پورٹ پورے خطے میں رابطوں اور اقتصادی تعاون کا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو دونوں ممالک کے لیے مشترکہ اقتصادی مفادات کا ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اس موقع پر مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز اور منفی پروپیگنڈا کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے مسلم اُمہ کے مابین اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

سردار ایاز صادق نے ملائیشیا کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی و اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔داتوک نور جزلان بن تن سری محمد نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں کی گئی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر نے پاکستان کے جمہوری عزم اور علاقائی امن کے لیے کوششوں کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔










