تازہ تر ین

‏ستائیسویں آئینی ترامیم سینٹ سے منظور ،ترمیم کے حق میں 64 ووٹ پڑے ‏پی ٹی آئی کے سینٹر ابرار اللہ ابڑو اور جمعیت علما اسلام نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔یہ آئینی ترامیم فریب دینے اور فریب سہنے کا نصاب ہوا کرتی ہیں۔ عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،کیونکہ ان کا آئین سے کیا لینا دینا۔۔گنا 400 روپے من اور گنے کی گنڈیری 4000 روپے م کسان۔مافیا تیری قسمت کسانوں کو ویلیوز ایڈیشن کی طرف توجہ دینی چاہیے۔پاکستان نے محدود پیمانے پر تباہی مچا نے والہ ائٹم بم کا تجربہ۔*سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں دو کارروائیاں، 20 دہشتگرد جہنم واصل کردئیے گئے، آئی ایس پی آر ۔*سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں دو کارروائیاں، 20 دہشتگرد جہنم واصل کردئیے گئے، آئی ایس پی آر۔پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کی غیر قانونی اسلحے تک رسائی امن کیلئے خطرہ قرار دیدی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہنگامہ، 31 افراد ہلاک*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہونے والے ہنگاموں میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایکواڈورکی مچالا جیل میں صبح کے وقت ہنگامے ہوئے جس میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا جب کہ اس دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگاموں کے بعد مچالا جیل سے 27 افراد کی لاشیں ملیں جن کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حکام جیل میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی موت کی وجوہات کے بارے میں مزید پتا لگایا جائے۔

*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہنگامہ، 31 افراد ہلاک*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہونے والے ہنگاموں میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایکواڈورکی مچالا جیل میں صبح کے وقت ہنگامے ہوئے جس میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا جب کہ اس دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگاموں کے بعد مچالا جیل سے 27 افراد کی لاشیں ملیں جن کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حکام جیل میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی موت کی وجوہات کے بارے میں مزید پتا لگایا جائے۔

*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہنگامہ، 31 افراد ہلاک*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہونے والے ہنگاموں میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایکواڈورکی مچالا جیل میں صبح کے وقت ہنگامے ہوئے جس میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا جب کہ اس دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگاموں کے بعد مچالا جیل سے 27 افراد کی لاشیں ملیں جن کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حکام جیل میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی موت کی وجوہات کے بارے میں مزید پتا لگایا جائے۔

سوڈان کے وسطی علاقوں میں تازہ جھڑپوں کے باعث گزشتہ تین دنوں میں تقریباً دو ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی (IOM) کے مطابق یہ لوگ صوبہ شمالی کردفان کے علاقے بارا اور اس کے گردونواح کے قصبوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔کردفان اور مغربی دارفور حالیہ ہفتوں میں سوڈان کی خانہ جنگی کے اہم محاذ بن چکے ہیں، جہاں سرکاری فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔دارفور میں آر ایس ایف کے حملوں کے نتیجے میں الفاشر شہر پر قبضے کے بعد سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں۔ امدادی اداروں کے مطابق شہریوں کے خلاف مبینہ مظالم کے باعث لوگ تنگ کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔یہ خانہ جنگی 2023 میں اُس وقت شروع ہوئی جب فوج اور ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان جمہوری انتقالِ اقتدار کے عمل پر اختلافات پیدا ہوئے۔ ماضی میں یہ دونوں فورسز اتحادی تھیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس خانہ جنگی میں اب تک کم از کم 40,000 افراد ہلاک اور ایک کروڑ 20 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں، لیکن امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ججوں کو نکیل ۔ اظہر سیدنظریہ ضرورت کی تلوار سے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب کو جواز دینے،بھٹو کو پھانسی دینے،جنرل مشرف کو آئین کی تین سال تک عصمت دری کی اجازت دینے ۔ منتخب وزیراعظم کو بلیک لا ڈکشنری کی تلوار سے قتل کرنے والی عدلیہ اور غلیظ ججوں پر کچھ لوگوں کو بہت پیار آیا ہوا ہے ۔ یہ لوگ آئین اور قانون کی پٹاری کھولے بیٹھے ہیں ۔27 ویں آئینی ترامیم پر بال کھولے بین ڈال رہے ہیں۔چند لفظوں میں کہیں تو یہی اختصاریہ ہے گندی غلیظ عدلیہ گندے غلیظ جج ۔ہمیشہ فوج کی بندوق سے جمہوریت کا شکار کرتے آئے ہیں۔انکے منہ کو خون لگ گیا ہے۔مالکوں کے دلال بن کر از خود نوٹس کی تلوار سے منتخب حکومتوں کو مفلوج کرتے آئے ہیں۔حکم امتناعی کی آر میں ریاستی انتظام برباد کرنے کے عادی ہیں۔مالکوں نے نوسر باز کے بدترین تجربہ یا بلنڈر کے بعد اپنی غلطیاں سدھارنے کا فیصلہ کیا ہے۔تحریک لبیک پر پابندی سے خوارج کو دیکھتے ہی گولیوں سے بھون دینے تک سب کچھ ٹھیک کیا جا رہا ہے۔ایف آئی اے کے بدعنوان افسران پر گرفت سے لے کر نوسر باز گنڈوئے پر نمک ڈالنے تک سب کچھ ملک کے مفاد میں ہو رہا ہے ۔نئی آئینی ترامیم بھی عدلیہ میں اصلاحات کا عمل ہے اور واضح اشارہ ہے مالکان نے ججوں کو پالتوبنا کر ریاست پر گرفت قائم کرنے کی پالیسی ترک کر دی ہے ۔مالکوں نے گویا فیصلہ کر لیا ہے اب انہیں استمال نہیں کرنا اس لئے از خود نوٹس کا اختیار ختم کیا جا رہا ہے ۔ججوں کو حکومتی معاملات سے دور رکھنے کیلئے الگ سے آئینی عدالت قائم کی جا رہی ہے ۔دنیا بھر میں ریاستوں کا انتظام حکومتیں چلاتی ہیں ۔پاکستان واحد بدقسمت ریاست ہے جہاں غلیظ دلال جج حکومتوں کو مفلوج کر دیتے تھے ۔ہمیں آئینی ترامیم کے متعلق حسن ظن ہے ۔اس وقت ججوں کی مداخلت سے پاک حکومت کی اشد ضرورت ہے تاکہ بنیادی نوعیت کے فیصلے کئے جا سکیں ۔دنیا بہت تیزی کےساتھ تبدیل ہو رہی ہے ۔اس تیزی سے بدلتی دنیا میں حرامدے ججوں کی ضرورت نہیں ایسے ججوں کی ضرورت ہے جو صرف سول اور فوجداری مقدمات نمٹائیں اور بس ۔

این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل میں ہوشربا انکشافات: راولپنڈی اور اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹر مافیا بے نقابرانا تصدق حسیناسلام آباد – این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل کے حوالے سے حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں قائم غیر قانونی کال سینٹرز کے ذریعے بھتہ خوری اور بدعنوانی کا ایک منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے 15 کال سینٹرز سے ماہانہ 15 ملین روپے وصول کیے جاتے تھے۔ یہ رقوم ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر کی نگرانی میں ان کی ٹیم حسن امیر نامی فرنٹ مین کے ذریعے اکٹھی کرتی تھی۔ستمبر 2024 سے اپریل 2025 تک اس نیٹ ورک نے 120 ملین روپے جمع کیے۔ سب انسپکٹر بلال نے ایک نئے کال سینٹر کے لیے آٹھ لاکھ روپے ماہانہ کا معاہدہ طے کیا، جبکہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف-الیون میں کال سینٹر پر چھاپہ مارا گیا لیکن بعد ازاں ڈیل کے ذریعے معاملہ نمٹا دیا گیا۔ذرائع کے مطابق ایس ایچ او میاں عرفان نے یہ ڈیل 40 ملین روپے میں فائنل کی۔ بعد ازاں مئی 2025 میں عامر نذیر کو راولپنڈی آفس کی کمانڈ دے دی گئی، جبکہ ندیم خان بطور ڈپٹی ڈائریکٹر اور صارم علی بطور سب انسپکٹر تعینات ہوئے۔ کچھ ہی عرصہ بعد ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان علوی بھی اس ٹیم میں شامل ہوگئے۔نئی ٹیم نے بھی ماہانہ 15 ملین روپے بھتہ وصول کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ صارم علی نے اپنے فرنٹ مین کے طور پر محی الدین کو مقرر کیا۔ایک چھاپے کے دوران راولپنڈی کے ایک کال سینٹر سے 14 چینی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ صارم نے اپنے فرنٹ مین کے ذریعے چینی شہری کیلون کی اہلیہ پاکستانی خاتون عریبہ رباب سے رابطہ کیا۔عریبہ نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے 8 ملین روپے ادا کیے، جبکہ باقی 13 چینی شہریوں کی رہائی کے لیے مزید 12 ملین روپے وصول کیے گئے۔ حیران کن طور پر، صارم نے کیلون پر تشدد کیا اور ویڈیو عریبہ کو بھیج دی، جس کے بعد مزید 1 ملین روپے قانونی کارروائی کے نام پر وصول کیے گئے۔اس چھاپے سے حاصل 21 ملین روپے یوں تقسیم کیے گئے:صارم علی – 1.7 ملین روپےعثمان بشارت – 1.4 ملین روپےظہیر عباس – 1.0 ملین روپےڈپٹی ڈائریکٹر ندیم – 9.5 ملین روپے (عثمان بشارت کے دفتر سے)ایڈیشنل ڈائریکٹر عامر نذیر – 7.0 ملین روپے (ندیم کے ذریعے ادا کیے گئے)ندیم نے 2.7 ملین روپے خود رکھے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق تمام ملوث افسران کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔یہ اسکینڈل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک زبردست دھچکہ اور ندامت کا باعث بن گیا ہے، جو نظام احتساب پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

قہوہ خانوں کی تہذیب اور ان کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملنے والے کہیں پہ رک گئے ہیں قہوہ خانوں کا سفر جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمودرضاسیداگر ہم زندگی کے سفر کو پیچھے مر کر دیکھیں تو گاؤں کی راہوں، پکڈنڈیوں، اور دیہاتی بازاروں میں چھوٹے چھوٹے پھٹے لگے ہوتے تھے جہاں لکڑی کی بینچیں رکھی ہوتیں۔ ان بینچوں پر گاؤں کے بزرگ بیٹھ کر چائے اور قہوہ نوش فرماتے، اپنے مسائل پر گفتگو کرتے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے۔ یہ کہوہ خانے صرف چائے پینے کی جگہ نہ تھے بلکہ فکرو دانش کے مراکز ہوا کرتے تھے۔وقت گزرتا گیا تو شہروں میں بھی یہی روایت پروان چڑھی۔ اگر لاہور کا جائزہ لیں تو قیامِ پاکستان سے پہلے ہی یہاں پاک ٹی ہاؤس ادب و فنون کا مرکز بن چکا تھا۔ آج بھی وہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے۔ وہاں بڑے بڑے ادیب، شاعر، نقاد اور محقق چائے کے کپ پر بیٹھ کر دیر تک گفتگو کرتے۔ ان میں فیض احمد فیض، ناصر کاظمی، انتظار حسین، انیس ناگی، یونس جاوید، ڈاکٹر سہیل احمد خان، اسرار زیدی، سعادت حسن منٹو، اعتبار ساجد، اقبال ساجد اور دیگر بڑے نام شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جس نے لاہور آ کر پاک ٹی ہاؤس کی چائے نہ پی، اُس نے لاہور دیکھا ہی نہیں۔شام ڈھلتے ہی یہاں کی محفلیں رنگ پکڑتیں، چائے کے کپوں کے ساتھ مکالمے اور تخلیقی گفتگو کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا۔ پاک ٹی ہاؤس کے ایک مخصوص گوشے میں سید اسرار زیدی کی نشست ہوا کرتی تھی، جہاں کوئی دوسرا بیٹھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ دروازے کے ساتھ ڈاکٹر سہیل احمد خان، انتظار حسین، یونس جاوید اور دیگر شخصیات کا مخصوص حلقہ ہوتا۔میں خود انیس سو چوراسی پچاسی کے زمانے میں جب شاعری کی دنیا میں نیا نیا قدم رکھا، پاک ٹی ہاؤس جانا اپنے لیے فخر سمجھتا تھا۔ اسی دور میں میری ملاقات عباس تابش اور بہت سے ادیبوں سے ہوئی۔ اس زمانے میں حلقہ اربابِ ذوق لاہور کے اجلاس پاک ٹی ہاؤس میں ہوتے تھے

۔ ان کے سیکریٹری رشید مصباح اور جوائنٹ سیکریٹری اظہر غوری ہوا کرتے تھے۔ میری ایک نظم کی صدارت جیلانی کامران نے اور ایک غزل کی صدارت ڈاکٹر انور سدید نے فرمائی۔ریڈیو پاکستان لاہور کی کینٹین کا ذکر کیے بغیر قہوہ خانوں کی روایت مکمل نہیں ہوتی۔ یہ کینٹین قیامِ پاکستان سے پہلے آل انڈیا ریڈیو لاہور کے زمانے سے آباد تھی۔ یہاں شاعر، موسیقار، فنکار، سرنگی نواز اور پروڈیوسر بیٹھ کر چائے پیتے، محفلیں سجاتے اور پروگراموں کے لیے لائحہ عمل طے کرتے۔ ان میں احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر ریاض مجید، ناصر کاظمی، ڈاکٹر وزیر آغا، احمد فراز، نجیب احمد، خالد احمد، مہدی حسن، نور جہاں، ترنم ناز اور دیگر بڑے نام شامل تھے۔اسی طرح لاہور کی پرانی انارکلی ساری ساری رات جاگتی۔ جب پاک ٹی ہاؤس بند ہوتا، تو شاعر، ادیب اور دانشور پرانی انارکلی کا رخ کرتے۔ یہاں چائے کے کپوں کے ساتھ بڑی بڑی گفتگو ہوتی، ادب و سیاست کے موضوعات زیر بحث آتے۔ آج بھی یہ روایت برقرار ہے، اور شاعر واجد امیر ہر رات ایک محفل سجاتے ہیں جہاں نوجوان شعرا بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔اب اگر لائلپور (فیصل آباد) کی بات کریں تو یہاں بھی پرانے وقتوں سے قہوہ خانوں کی ایک دلکش روایت موجود ہے۔ چنیوٹ بازار فیصل آباد کی روح سمجھا جاتا ہے، جو ساری رات جاگتا ہے۔ یہاں سٹیج ڈراما آرٹسٹ، گونگے، بہرے، شاعر اور فنکار اکٹھے ہوتے۔ گونگے اشاروں سے گفتگو کرتے، شاعر اپنی غزلیں سناتے اور رات گئے تک قہوہ خانے جگمگاتے رہتے۔یہی بازار سردار کمال، ناصر چنیوٹی، نسیم وکی جیسے فنکاروں اور ڈاکٹر ریاض مجید، انور محمود خالد، ڈاکٹر سید احسن زیدی، ڈاکٹر شبیر احمد قادری، حمید شاکر، ڈاکٹر محمود رضا سید، خواجہ زہدی، حاتم بھٹی، علی اختر، ثنا اللہ ظہیر، عارف عسکری، انجم سلیمی، علی زریون، عماد اظہر، ڈاکٹر شاہد اشرف، فضل حسین راہی جیسے ادیبوں کا مرکز بنا رہا۔اسی بازار میں ایک زمانے میں محفل ہوٹل ادبی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا جہاں افتخار فیروز، اقبال فیروز نے کئی سال محفلیں سجائیں۔ حلقہ اربابِ ذوق لائلپور کے اجلاس بھی یہاں منعقد ہوتے تھے۔ اسی طرح ایک اور معروف مقام تھری اسٹار ہوٹل تھا، جو شاعر، ادیب اور سیاست دان فضل حسین راہی کا دوسرا گھر کہلاتا تھا۔ وہ سفید مائل شلوار قمیص میں صبح سویرے یہاں آتے، عوامی خدمت اور دوستانہ محفلوں کے ساتھ چائے نوش فرماتے، اور اکثر رات گئے تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا۔جنگ بازار میں دو قہوہ خانے خاص طور پر مشہور تھے — کیفے دیوان اور کیفے لطیف۔ یہاں شاعر، فنکار اور ادیب دن بھر بیٹھتے، محفلیں جمتی رہتیں۔ کیفے لطیف کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں پرانے ٹیپ ریکارڈر پر گاہکوں کی فرمایش پر غزلیں اور نغمے سنائے جاتے، اور چائے کے ساتھ موسیقی کا لطف دوبالا ہو جاتا۔کچہری بازار میں جھنڈے دا ہوٹل (کشمیری ہوٹل) اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا تھا۔ یہ پہلے جاوید ہوٹل کے قریب واقع تھا اور بعد میں کچہری کے سامنے منتقل ہو گیا۔ یہاں بڑے بڑے ادیب اور شاعر — آس لدھیانوی، حزیں لدھیانوی، فضل حسین راہی، مسعود قمر، سید جیلانی، بابر شاہین، ڈاکٹر ریاض مجید، انور محمود خالد، ڈاکٹر محمود رضا سید، ڈاکٹر شاہد اشرف، راشد اقبال، مقصود وفا، فیضی،ناصر مجید، ڈاکٹر وحید احمد، جاوید انور — سب قہوہ نوش فرماتے اور فکری تبادلہ خیال کرتے۔ آج بھی یہ روایت جاری ہے۔لائلپور کی تہذیب اور ثقافت کے فروغ میں یہاں کی یونیورسٹیوں کا بھی بڑا کردار ہے۔ ایگری کلچر یونیورسٹی فیصل آباد، جی سی یونیورسٹی، ایجوکیشن یونیورسٹی، این ایف سی یونیورسٹی اور دیگر اداروں نے مختلف علاقوں سے آنے والے طلبہ کو موقع دیا کہ وہ آپس میں مل بیٹھیں۔ ان طلبہ نے قہوہ خانوں کی روایت کو نئی روح بخشی۔ یونیورسٹیوں کے اطراف چھوٹے چھوٹے کیفے کھل گئے جہاں طلبہ رات گئے تک محفلیں جماتے، چائے نوش فرماتے اور مکالمے کو فروغ دیتے۔ان مکالموں کی بدولت زبان و بیان کے نئے رنگ پیدا ہوئے۔ جھنگ، بھکر اور دیگر مضافاتی علاقوں سے آنے والے طلبہ نے فیصل آباد کی زبان اور لہجے میں ایک خوبصورت تنوع پیدا کیا۔ یوں قہوہ خانے صرف ادبی مراکز ہی نہیں رہے بلکہ ثقافتی میل جول اور لسانی تبادلوں کے پلیٹ فارم بن گئے۔اب لائلپور کے نئے قہوہ خانوں میں لائلپور ٹی ہاؤس، ندیم کیفے، وقاص کیفے، چائے شائے، کوئٹہ کیفے، چاشنی، چائے خانہ جیسے مقامات نمایاں ہیں۔ یہاں پیش کی جانے والی سیپرٹ چائے اپنے انداز میں منفرد ہے، جس میں سیٹ، ہاف سیٹ، اور کوارٹر سیٹ کے ذریعے چائے نوشی کا لطف دوبالا کیا جاتا ہے۔ یہ کیفے جدید دور کے فکری اڈے ہیں جہاں چائے کے ہر گھونٹ کے ساتھ مکالمہ بھی جاری رہتا ہے۔یوں لاہور اور لائلپور کی قہوہ خانہ تہذیب آج بھی زندہ ہے۔ پاک ٹی ہاؤس سے لے کر جھنڈے دا ہوٹل تک، اور پرانی انارکلی سے چنیوٹ بازار تک، ہر جگہ قہوہ خانے محض چائے پینے کی جگہ نہیں، بلکہ مکالمے، محبت، فکر اور تخلیق کے چراغ ہیں —جو نسل در نسل ادب و تہذیب کے سفر کو روشنی بخشتے چلے آ رہے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved