
افغان حکومت کا پاکستان کے ساتھ تجارت بند کرنے کا فیصلہ ممکن نہیں ۔نقصان ان بڑے افغان سرمایہ کاروں کو پہنچے گا جو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں ارپوں روپیہ کی درآمدات واپس پاکستان بھیجنے کیلئے کرتے ہیں ۔یہ بہت بڑا مافیا ہے جس میں پاکستانی اور افغانی دونوں اطراف کے سرمایہ دار شامل ہیں۔سنٹرل ایشیا سے تجارت ممکن ہی نہیں ۔جو پھل ،سبزیاں اور ڈرائی فروٹ انہیں بیچنا چاہیں گے ان کے پاس پہلے ہی وافر اور زیادہ بہتر پیداوار کی صورت میں موجود ہیں

۔گاہک پاکستان میں ہیں جہاں اس معیار کے پھل ڈرائی فروٹ موجود نہیں۔صنعتیں موجود ہی نہیں تو کونسی نئی مارکیٹیں ڈھونڈیں گے اور کیا بیچیں گے۔فرض کریں سنٹرل ایشیا اور ایران میں پھل ،سبزیاں اور ڈرائی فروٹ کی مارکیٹ مل گئی ہے تو پیداواری لاگت کا کیا کریں گے جو تورخم یا سپین بولدک بارڈر کی پیداواری لاگت سے تقریبا بیس فیصد بڑھ جائے گی ۔بھارت سبسڈی دے کر خریداری کر سکتا ہے لیکن پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت اجازت ہی نہیں دے گا۔اب اسمگلنگ کیلئے نئے روٹس اور نئے طریقے تلاش کرنا پڑیں گے اس کے علاؤہ کوئی راستہ موجود ہی نہیں ۔

عدالتی پھرتیاں, ترقیاں اور اقرباپروریاں۔جسٹس اطہر من اللہ: چیف کے خود ساختہ ترجمان سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تک۔۔۔۔مصنف,شہزاد ملکعہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد29 نومبر 2018اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس اطہر من اللہ جج تعینات ہونے کے بعد صرف چار سال کی مدت میں کسی عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس کے عہدے پر پہنچے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے جسٹس اطہر من اللہ کو 17 جون سنہ 2014 میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا تھا

۔دو سال کے بعد انھیں مستقل کر دیا گیا اور 28 نومبر سنہ 2018 کو وہ اسی عدالت کے سب سے اہم عہدے پر پہنچ گئے اور ان کی مدت ملازمت سنہ 2023 میں پوری ہو گی۔پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں ان سے تیزی سے اس اعلیٰ عہدے پر شاید سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس فائز عیسیٰ ہی آئے جنھیں 2009 میں براہ راست بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔تاہم ان کی تعیناتی ایک مخصوص صورتحال میں عمل میں آئی تھی کیونکہ پی سی او ججوں کی برطرفی کے بعد عدالت میں کوئی بھی جج باقی نہیں رہا تھا۔ اس صورتحال میں ہائی کورٹ کے انتظامی امور چلانے کے لیے جسٹس قاضی فائز عسیی کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔اطہر من اللہ کا نام سنہ 2007 کی ’عدلیہ بحالی تحریک‘ کے دوران پہلی مرتبہ عوامی سطح پر سامنے آیا تھا۔نو مارچ 2007 سے لے کر تین نومبر2007 اور پھر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ان کے عہدے پر بحالی تک وکلا کی تحریک کے جو سرکردہ رہنما تھے ان میں بیرسٹر اعتزاز احسن، عاصمہ جہانگیر، علی احمد کرد اور حامد خان کے علاوہ اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔اطہر من اللہ کو اس وقت وکلا تحریک کے علاوہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جب افتخار چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے آٹھ ججوں کو ججز کالونی میں نظربند کیا گیا تو ان کے حالات کے بارے میں بھی معلومات اطہر من اللہ سے ہی ملتی تھیں۔سنہ 2014 میں جب اطہر من اللہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا

تو اس وقت وکلا برادری میں یہ تاثرعام تھا کہ ان کی تعیناتی جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سفارش پر ہی عمل میں آئی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کو ایک دھیمے مزاج کا انسان سمجھا جاتا ہے اور عدالت میں سماعت کے دوران کبھی وہ بلند آواز میں ریمارکس بھی نہیں دیتے دکھائی دیے۔جسٹس اطہر من اللہ کے اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے میں دیکھا جائے تو قسمت کا بھی عمل دخل ہے۔حال ہی میں عہدے سے برطرف کیے جانے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی سنیارٹی لسٹ میں جسٹس اطہر من اللہ سے اوپر تھے اور اگر انھیں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر عہدے سے نہ ہٹایا جاتا تو وہ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے۔ماضی قریب میں جسٹس اطہر من اللہ کے کچھ فیصلوں پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا۔یہ جسٹس اطہر من اللہ ہی تھے جنھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کو نااہل قرار دیا تھا۔ ان کا فیصلہ بعد میں سپریم کورٹ میں چیلنج ہو کر تبدیل ہوا تاہم سوشل میڈیا پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے ان کی تعریفوں کے پل باندھے۔لیکن کچھ عرصے کے بعد جب جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے اُنھیں رہا کرنے کا حکم دیا تو اسی سوشل میڈیا پر جسٹس اطہر من اللہ کو نہ صرف ہدف تنقید بنایا گیا بلکہ ان کے خلاف نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔بات یہاں تک بگڑی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامیہ کو اس سلسلے میں مقدمہ درج کروانا پڑا اور تب کہیں جا کر جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ رکا تھا۔.

اے پی پی اردو نیوز سروساہم ترین—قومی اسمبلی اجلاس۔۔۔وزیراعظممیثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا،فتنہ الخواج اوردشمنان پاکستان کی حرکتوں کا اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اوراب بھی منہ توڑجواب دیں گے ، وزیراعظم محمدشہبازشریف کاقومی اسمبلی میں خطاباسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمدشہبازشریف نے کہاہے کہ میثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا ہے،افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،فتنہ الخواج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اور اب بھی منہ توڑجواب دیں گے، خواہش ہے پاکستان سمیت پوراخطہ ترقی اور خوشحالی کاگہوارہ بن جائے، قومی یکجہتی اوروفاق کیلئے 100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعداپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ آج اس ایوان نے یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے قومی اتحاد اوریگانگت کوفروغ دیاہے جس پرتمام سیاسی جماعتوں اوران کے قائدین کا مشکورہوں، کل ہمارے انتہائی شفیق ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی صاحب اللہ کوپیارے ہوگئے،وہ استادوں کے استاد تھے اورپوری زندگی لکھائی پڑھائی میں گزاری،جب میدان سیاست میں قدم رکھا تو ذمہ داری اورعزم کے ساتھ مسلم لیگ کا ساتھ نبھایا، قائد نواز شریف کے ساتھ ان کی وابستگی ضرب المثل تھی، اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ اوراہلخانہ کوصبرجمیل عطا ءفرمائے۔انہوں نے کہاکہ کل وانا میں دہشت گردوں نے ایک بارپھردہشت گردی کابازارگرم کرنے کی گھٹیا اور مذموم حرکت کی ،اس واقعہ نے سانحہ اے پی ایس کی یاد تازہ کیں، اللہ تعالیٰ کاشکر ہے کہ خوارج جس میں بدقسمتی سے افغانستان کے لوگ شامل تھے، وہ تمام کے تمام جہنم رسید ہوئے اورتمام کیڈٹس اورٹیچرز کوبحفاظت نکالاگیا، میں اس پرپوری قوم کومبارکبادپیش کرتا ہوں اورمسلح افواج کا شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے اعلیٰ پایہ کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کامظاہرہ کیا، اسی طرح کل اسلام آباد میں دہشت گردی کااندوہناک واقعہ ہوا، دہشت گردوں نے جوڈیشمل کمپلیکس کونشانہ بنایا اور افراتفری میں اپنے آپ کودھماکہ سے اڑادیا جس میں وکلاء سمیت 12لوگ شہید ہوگئے اور 4موت و حیات کی کشمکش میں ہیں، ہم تمام شہدا ء کے بلندی درجات اورزخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہیں،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان واقعات میں خارجی ہاتھ نمایاں ہے، کل میں نے بیان دیا کہ فتنہ الخوارج میں ہندوستانی ہاتھ شامل ہے اوراس میں بدقسمتی سے ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کے فٹ پرنٹ نظرآرہے ہیں، اس پرہندوستان کی حکومت کی جانب سے ٹویٹ آیا کہ الزامات غلط ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان میں جعفرایکسپریس پرحملہ کے ثبوت ہم پوری دنیا کے سامنے لے کرآئے کہ کس طرح ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغانستان سے متحرک تھے اوردہشت گردوں کارابطہ ان کے ساتھ تھااورآگے ان کا رابطہ ہندوستان میں ان کے حمایتیوں سے تھا،یہ حقائق ہم نے پوری دنیا کے سامنے پیش کئےجس کوکسی نے چیلنج نہیں کیا اورنہ ہی اس کی تردید کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ فتنہ الخوارج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، ان کوپہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اوراب بھی منہ توڑجواب دیں گے، پاکستان کی ترقی اورخوشحالی کی راہ میں ان کو قطعی طور پر رکاوٹیں ڈالنے نہیں دیا جائے گا، حال ہی میں دوحہ اور استنبول میں امن مذاکرات ہوئے جس میں پاکستان نے شرکت کی، ہماری افغانستان کی عبوری حکومت سے ایک ہی شرط تھی کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دہشت گردگروپوں کو افغانستان کی سرزمین پاکستان، پاکستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کرنے سے روکاجائے، آئے روز ہماری افواج بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں ان کامقابلہ کر رہی ہوتی ہیں ، ہرروز ہمارے افسراورجوان شہید ہورہے ہیں،پاکستان کے عظیم کڑیل جوان جام شہادت نوش کرتے ہوئے اپنے بچوں کویتیم کرتے ہیں مگرلاکھوں بچوں کویتیم ہونے سے بچاتے ہیں، اس سے بڑی قربانی کوئی ہو ہی نہیں سکتی جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے ،ہم چاہتے کہ امن قائم ہو اور افغانستان امن میں برابرشریک ہو کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جوپاکستان کیلئے اچھا ہے وہ افغانستان کیلئے بھی اچھا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ جھوٹے سچے وعدے کرے اور پھران گروپوں کولگام نہ دیں، ایک ماہ پہلے جب پاکستان پرحملہ ہوا توان کے وزیرخارجہ متقی دہلی میں تھے،جن افغان بہن بھائیوں کو40سال تک پاکستان نے اپنے وسائل سے کسی بیرونی امداد کے بغیر امداددی اوران کومحسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ یہاں پرپرائے ہیں اوریہ مہمان نوازی ہم کرتے رہیں گے جب تک وہ سکون کے ساتھ اپنے گھروں کونہیں چلے جاتے، 40سال کی مہمان نوازی کاجوصلہ ہمیں دیاگیاہے

وہ پوری دنیادیکھ رہی ہے،اٖفغان حکام کے دہلی کے دورہ کے پیغامات ہمیں اچھی طرح سے سمجھ میں آرہے ہیں، انہوں نے دعوت دی کہ صدق دل کے ساتھ ہمارے ساتھ بیٹھیں اوردہشت گردوں کولگام دیں ہمارے ساتھ وعدہ کریں کہ پوری طرح ہمارے ساتھ چلیں گے تاکہ خطہ میں امن ہو اورپاکستان سمیت پوراخطہ ترقی اورخوشحالی کاگہوارہ بن جائے۔ وزیراعظم نے کہاکہ آج جوترامیم منظورہوئی ہیں اس حوالے سے وہ سب سے پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے بھی مشکورہیں جو خود بنفس نفیس یہاں پر تشریف لائے اور آج اس پوری کارروائی میں شریک رہے ، میں بلاول بھٹو زرداری، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، چوہدری سالک حسین عبدالعلیم خان، اعجازالحق اور ایمل ولی خان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، اسی طرح ہم سپیکر، ڈپٹی سپیکر ڈپٹی پرائم منسٹر، وزیرقانون، اٹارنی جنرل، قائمہ کمیٹیز اور اس عمل میں شریک تمام اہلکاروں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ ان ترامیم پرمشاورت کے ساتھ کام کیا اس مشاورت کے نتیجے میں یہ ترامیم آج آئین کا حصہ بن گئی ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ میثاق جمہوریت میں بڑے واضح انداز میں آئینی عدالت کے قیام کاوعدہ کیاگیاتھا آج وہ خواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا مجھے پورا یقین ہے کہ آج محترمہ شہید بے نظیر بھٹو صاحبہ کی روح کو تسکین مل رہی ہوگی اور میرے قائد میاں محمد نواز شریف کے خواب کی تکمیل ہوئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 19 سال اپوزیشن کو میثاق جمہوریت یاد نہیں آیا، آج ان کو آئینی عدالت پر تکلیف کیوں ہو رہی ہے،یہ سمجھ سے بالاتر ہے، اختلاف کرنا حق ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں لیکن گالی گلوچ اور دشنام طرازی کو ہمیں ختم کرنا ہوگا،ہمیں ملک کو آگے لے کر چلنا ہے اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان کو پاکستان نے چار دن کے معرکے میں شکست فاش دی اور افواج پاکستان کا نام پوری دنیا میں چمکا تو اس کے نتیجے میں چیف آف آرمی سٹاف کو اس حکومت نے فیڈ مارشل کا لقب دیا انہی دنوں میں بلاول بھٹو کی سربراہی میں ایک وفد نے امریکہ، یورپ کا دورہ کیا اور انہوں نے شاندار سفارتکاری کی اور اپنی سفارتی مہارت کے ذریعے وہاں پر پاکستان کے موقف کواجاگرکیا، دہائیوں بعد ہم نے جنگ جیتی اورسفارتی محاذ پر بھی کامیابی سمیٹی،ہندوستان بالکل بے بسی کی تصویر بنا رہا، مودی بالکل بے بسی کا شکار تھا، آج وہ تنہائی کا شکار ہیں،ہمیں اس حوالے سے پوری طرح قومی یکجہتی اور قومی اتحاد کو برقرار رکھنا چاہئے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے آئین کے دائرے میں رہ کر بھرپور معاونت کی، میں نے ان کے پاس جاکر گوشگزار کیا کہ عدالت عظمیٰ،عدالت عالیہ اور نچلی عدالتوں میں ریونیو کے کیسز 10،10 سال سے التواء میں پڑے ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے کمال مہربانی سے اس کا نوٹس لیا، بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ اس اجلاس کے نتیجے میں میرٹ پر ان عدالتوں نے فیصلے کئے اور آج قومی خزانے میں اربوں روپے ا ٓچکے ہیں، ہم اس بات کی بھی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل اور لا ء اینڈ جسٹس کمیشن جیسے اہم اداروں کی بدستور سربراہی کرتے رہیں گے، اس کے ذریعے ہمیں ان کی رہنمائی حاصل رہے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو معرکہ حق میں جو شاندار کامیابی اللہ نے عطاء فرمائی،ہندوستان سے ہم نے وہ وہ قرض اتارے اور بدلے لئے کہ شاید دیکھتی آنکھ دنگ رہ گئی، سنتے کانوں کو یقین نہیں آرہا تھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بے پایہ فضل و کرم تھا، آج ہم جس ملک میں جاتے ہیں وہاں کس طرح پانچ قدم آگے چل کر پاکستان کاخیرمقدم کیاجاتاہے اس سے بڑی اور عزت کیا ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی عزت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال مہربانی سے چار چاند لگائے،اس کے لئے جرأت مندانہ فیصلے ہوئے یہ جری کردار اور اخلاص کا نتیجہ ہے، یہ باہمی مشاورت کا نتیجہ ہے یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا نتیجہ ہے،یہ فجر کے وقت اللہ کے حضور سربسجود ہوکر دعا مانگنے کا نتیجہ ہے،دلیری کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے سفارتی معاشی اور عسکری محاذ پر عزت دی ہے اور اس سے قبل دہائیوں تک پاکستان کو اس طرح کی عزت نصیب نہیں ہوئی، اسی وجہ سے حکومت نے تمام حلیف جماعتوں کی مشاورت سے سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا دیا تو پوری قوم نے اس کو سراہا اور آج اگر اس کو آئینی تحفظ دینے کے لئے آئینی ترمیم کا حصہ بنا رہے ہیں تو اس میں کوئی بری بات نہیں ہے، قومیں اپنے ہیروز کو یوں ہی عزت دیتی ہیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کو دن رات یاد کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بڑی عظیم اور جری قوم ہے ہم اپنے ہیروز کو اپنے شہیدوں کو عزت دینا اور عزت کرانا بھی جانتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بلاول بھٹو میرے انتہائی قریبی ساتھی ہیں اور چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں انہوں نے اپنی تقریر میں بڑی اچھی باتیں کی ہیں،انہوں نے بڑی پرجوش اور متعلقہ تقریر کی ہے اور مجھے بھی اچھے القابات سے نوازا ہے،اس پر میں ان کا شکر گزار ہوں،ان کی اور میری سوچ میں کوئی فرق نہیں اگر صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا، یہ چار اکائیاں مل کر پاکستان بنتا ہے،یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مشاورت کے بغیراٹھارویں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ میں کوئی ترمیم ہو سکے،ہمیں اس کا پوری طرح احترام ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے جتنی بھی ترقی کریں ،ہمیں خوشی ہوگی، اس میں کوئی دو رائے نہیں، جس چیز سے پاکستان اور وفاق کو مضبوط ہوتا ہے،میں اس کے ساتھ ہوں جو پاکستان اور وفاق کو کمزور کرتی ہے وہ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ جو چیزپاکستان کے لئے مفید نہیں ہے جیسے کالا باغ ڈیم ہے اگراس پراتفاق رائے نہیں ہے توقومی یکجہتی پر100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کریں گے،سب سے زیادہ قربانیاں وہ دے رہے ہیں،پورے ملک میں امن وامان برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے ان کے اخراجات وفاق برداشت کرتا ہے۔میری استدعا ہے کہ ہم بیٹھ کر بات کریں گے جہاں چاروں اکائیاں نہیں مانیں گی کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے،وفاق ہے تو ہم ہیں۔ہم سب وفاقی اکائیاں ہیں مل کر دکھ سکھ ختم اور خوشیاں بانٹنی ہیں۔










