نومبر ٢٠٢٥ کو سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کیس) لاہور کے زیر اہتمام “حیاتیاتی خطرات، عالمی معاہدات اور پاکستان کے اختیارات” کے عنوان سے ایک گول میز نشست منعقد ہوئی۔ ایک خود مختار تھنک ٹینک کے طور پر کیس لاہور قومی سلامتی کے مختلف پہلوؤں پر اہلِ دانش اور ماہرین کے لیے علمی مجالس کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ اس نشست میں ماہرین، دانشوروں اور محققین نے شرکت کی۔

نومبر ٢٠٢٥ کو سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کیس) لاہور کے زیر اہتمام “حیاتیاتی خطرات، عالمی معاہدات اور پاکستان کے اختیارات” کے عنوان سے ایک گول میز نشست منعقد ہوئی۔ ایک خود مختار تھنک ٹینک کے طور پر کیس لاہور قومی سلامتی کے مختلف پہلوؤں پر اہلِ دانش اور ماہرین کے لیے علمی مجالس کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ اس نشست میں ماہرین، دانشوروں اور محققین نے شرکت کی۔ افتتاحی کلمات محترمہ ازباء ولایت خان، ریسرچ اسسٹنٹ، کیس لاہور نے پیش کیے۔پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید خورشید، کنسلٹنٹ برائے سائنس کمیونیکیشن و ڈپلومیسی، نے دو نشستوں پر مشتمل خطاب کیا۔ پہلی نشست “حیاتیاتی تحفظ و سلامتی کے موجودہ عالمی معاہدات اور ان کے نفاذ کے چیلنجز” کے عنوان سے تھی۔ انہوں نے ١٩٧٢ کے حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن (بی ڈبلیو سی) کے ارتقا کا جائزہ لیا اور بتایا کہ اس معاہدے میں تصدیقی نظام کی عدم موجودگی سے اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور ریاستیں خلاف ورزی کے خطرے سے دوچار رہتی ہیں۔ انہوں نے جدید حیاتیاتی سائنس کی “دوہری نوعیت” کی جانب توجہ دلائی کہ وہ ایک طرف انسانیت کے لیے مفید ہے مگر دوسری طرف اسی علم کا غلط استعمال حیاتیاتی جنگ یا دہشت گردی کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کووِڈ ١٩ کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ قدرتی وباؤں اور ممکنہ حیاتیاتی حملوں میں فرق کرنا کس قدر دشوار ہے۔دوسری نشست “حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن پر عمل درآمد کے نئے عالمی چیلنجز اور پاکستان کے پالیسی اختیارات” کے عنوان سے تھی۔ ڈاکٹر خورشید نے زور دیا کہ اقوام کو اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے حیاتیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہیے، جس کے لیے تعلیم و تربیت، بیماریوں کے پھیلاؤ کی بروقت شناخت اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے روس یوکرین تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ نے حیاتیاتی ہتھیاروں کے خدشات کو ایک بار پھر عالمی ایجنڈے پر لا کھڑا کیا ہے۔انہوں نے پاکستان کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک نے بی بلیو سی ایکٹ، ایکسپورٹ کنٹرول قوانین اور ٢٠٠٥ کے بایوسیفٹی رولز کے ذریعے عالمی ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے۔ انہوں نے سفارش کی کہ پاکستان کو ویکسین بینک قائم کرنا چاہیے، ضروری ویکسینز کی مقامی تیاری پر توجہ دینی چاہیے، اور آسٹریلیا گروپ و واسنا آرینجمنٹ میں شمولیت کی کوشش کرنی چاہیے۔اپنے اختتامی کلمات میں صدر کیس لاہور، ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی سلامتی کے منظرنامے میں حیاتیاتی خطرات کے مقابلے کے لیے مضبوط قومی و بین الاقوامی ردعمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے اپنے بی ڈبلیو سی تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے مؤثر قانون سازی، ادارہ جاتی نظام اور سائنسی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ملک کو حیاتیاتی سلامتی کے لیے اخلاقی اختراع اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے اپنی لچک کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔یہ نشست ایک متحرک مکالمے پر اختتام پذیر ہوئی جس میں پاکستان کی بی ڈبلیو سی سے وابستگی اور حیاتیاتی تحفظ کے چیلنجز پر روشنی ڈالی گئی۔ شرکاء نے قومی صحت کی سلامتی کے لیے بایوٹیکنالوجی اور دواسازی کے مقامی فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور سی اے ایس ایس لاہور کی جانب سے ایسی علمی و فکری نشست کے انعقاد کو سراہا۔

خفیہ اداروں کے نام استعمال کر کے لوگوں کو بلیک میل کرنے والے اعلیٰ بیوروکریٹس گرفتار! بڑے استعفے، حکومت کی رخصتی کا طبلِ جنگ بج گیا — نظام ہل گیا حکمران دہل گئے! سہیل رانا لائیو میں

Top Bureaucrats Arrested for Blackmailing People Using Intelligence Agencies’ Names — Major Resignations Trigger Political Earthquake as the War Drums of Government’s Fall Begin to Sound

صدر آصف علی زرداری دوحہ کے دورے کے بعد وطن واپس روانہ۔صدر مملکت کو دوحہ ایئرپورٹ پر اعلیٰ قطری حکام اور پاکستان کے سفیر نے الوداع کہا۔صدر زرداری نے دورے کے دوران امیرِ قطر، وزیراعظم، وزیرِ دفاع اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کیں

صدر آصف علی زرداری دوحہ کے دورے کے بعد وطن واپس روانہ۔صدر مملکت کو دوحہ ایئرپورٹ پر اعلیٰ قطری حکام اور پاکستان کے سفیر نے الوداع کہا۔صدر زرداری نے دورے کے دوران امیرِ قطر، وزیراعظم، وزیرِ دفاع اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کیں

۔صدر مملکت نے سماجی ترقی کے لئے دوسری عالمی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی اور اجلاس سے خطاب کیا۔دورے میں صدر نے دو طرفہ تعلقات، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔صدر زرداری نے قطر کی میزبانی اور خطے میں امن کے فروغ میں اس کے کردار کو سراہا-

پنجاب حکومت نے زمینوں اور جائیدادوں کے حقیقی مالکان کے حقوق کے تحفظ اور ناجائز قبضوں کے خاتمے کے لیے ’’پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف ام موویبل (immovable)پراپرٹی آرڈیننس 2025‘‘ نافذ کر دیا ہے۔ نئے قانون کا مقصد زمینوں پر غیر قانونی قبضے، دھوکہ دہی اور زبردستی کی روک تھام اور ملکیتی تنازعات کے فوری حل کو ممکن بنانا ہے۔ آرڈیننس کے تحت کسی بھی غیر منقولہ جائیداد پر بلااجازت یا دھوکہ دہی کے ذریعے قبضہ سنگین جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔

پنجاب حکومت نے زمینوں اور جائیدادوں کے حقیقی مالکان کے حقوق کے تحفظ اور ناجائز قبضوں کے خاتمے کے لیے ’’پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف ام موویبل (immovable)پراپرٹی آرڈیننس 2025‘‘ نافذ کر دیا ہے۔ نئے قانون کا مقصد زمینوں پر غیر قانونی قبضے، دھوکہ دہی اور زبردستی کی روک تھام اور ملکیتی تنازعات کے فوری حل کو ممکن بنانا ہے۔ آرڈیننس کے تحت کسی بھی غیر منقولہ جائیداد پر بلااجازت یا دھوکہ دہی کے ذریعے قبضہ سنگین جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔ معاونت یا سازش کرنے والوں کو ایک سے تین سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ کمپنیوں اور سوسائٹیوں کے سربراہان بھی جوابدہ ہوں گے، جب تک وہ اپنی لاعلمی یا احتیاط ثابت نہ کر سکیں۔ آرڈیننس کے مطابق ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (ڈی آر سی) تشکیل دی جائے گی۔پراپرٹی ٹریبونلز کی سربراہی لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج یا ڈسٹرکٹ جج کریں گے، جنہیں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سفارش پر تین سال کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ ٹریبونل کو ملکیت، قبضہ اور فوجداری نوعیت کے تمام مقدمات سننے کا خصوصی اختیار ہوگا۔

جرنل ساحر شمشاد مرزا (جب کرنل تھے) تو ایک مرتبہ وہ وزیرستان میں ایک اہم فوجی منصوبے کی نگرانی کر رہے تھے، اس دوران ملک دشمنوں نے حملہ کر دیا تو وہ اپنی بندوق اٹھا کر فرنٹ پہ سب سے آگے کھڑے ہو گئے ، سپائیوں نے کہا سر پلیز آپ پیچھے رہ کر آپریشن لیڈ کریں یہ سن کر آپ سپاہیوں کو ڈانٹنے لگے کہ جب ملک پہ حملہ ہو جائے تو کرنل پیچھے نہیں آگے ہوتے ہیں حب الوطنی کی یہ مثال دیکھ کر سپائیوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ایک اور مرتبہ ایک ٹھیکیدار نے ان سے ملاقات کی اور نرمی سے کہا کہ اگر وہ تھوڑا سا “تعاون” کر لیں تو منصوبے کے کچھ حصے میں نفع دونوں کو ہو سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے 27 ویں آئینی ترمیم پر مگر مچھ کے آنسو۔تمام سیاسی جماعتیں تحریک انصاف سمیت 27 ویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کیلئے یک زبان۔ جس رات ستائیسویں ترمیم پاس ہونی ہے، اس رات پیپلزپارٹی نے کہنا ہے ہم نے اٹھارویں ترمیم کو بچا لیا۔پاکستان اور قطر یک زبان صدر زرداری۔۔عمران اسماعیل فواد چوھدری اور اسد عمر کا تحریک انصاف سے کوی تعلق نہیں عمران خان۔شبر زیدی پر 16 ارب روپے کی ایف آئی آر ہوئی کہ آپ نے اپنی وزارت کے دوران اپنی من پسند انڈسٹریز و اداروں کو فنڈز جاری کیے مزے کی بات بتاؤ؟ایئر کموڈور (ر) عبدالسلام نے بنی گالہ کے قریب خودکشی کر لی خود کو سر پر گولی ماری، زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

صدر آصف علی زرداری سے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی کی دوحہ میں ملاقات۔صدر مملکت نے پاکستان اور قطر کے مابین دفاعی اور سلامتی کے تعلقات کو تاریخی اور قابلِ فخر قرار دیا۔صدر آصف علی زرداری نے تربیت، استعداد کار، دفاعی پیداوار اور مشترکہ منصوبوں میں دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور مشترکہ دفاعی پیداوار و منصوبوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افغان تنازعے میں کردار ادا کرنے کا بھی یقین دلایا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی شراکت کو مزید فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہے۔

دوحہ: پاکستان کی خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی قطر فاؤنڈیشن میں محترمہ شیخہ موزا بنت ناصر سے ملاقات۔ملاقات میں تعلیم، صحت، اختراع اور خواتین کے بااختیار ہونے کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال۔خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے شیخہ موزا بنت ناصر کی تعلیم اور انسانی ترقی کے فروغ میں بصیرت افروز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔خاتونِ اوّل نے ایجوکیشن ابوو آل (EAA) کے پاکستان میں 13 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم کی فراہمی میں قابلِ قدر خدمات کی تعریف کی۔خاتونِ اوّل نے پاکستانی جامعات اور قطر فاؤنڈیشن کے درمیان اشتراک بڑھانے کی تجویز پیش کی۔شیخہ موزا بنت ناصر نے پاکستانی طلبہ کی کارکردگی اور تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔خاتونِ اوّل نے شیخہ موزا کے فلسطین کے حق میں مؤقف اور غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔دونوں رہنماؤں نے تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی شمولیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے دوحہ میں ملاقات۔امیرِ قطر نے کہا قطر کو پاکستان اور اس کی کامیابیوں پر فخر ہے۔امیرِ قطر نے پاکستانی کمیونٹی کے کردار کی تعریف کی اور ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔صدرِ مملکت نے امیرِ قطر کو حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔دونوں رہنماؤں نے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔صدرِ مملکت نے قطر کی ترقی اور امیرِ قطر کی بصیرت افروز قیادت کو سراہا۔

امیرِ قطر نے پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کو خوش آئند اور بروقت قرار دیا۔امیرِ قطر نے کہا پاکستان منفرد حیثیت رکھتا ہے جو چین، مغرب اور خلیجی ممالک سے بیک وقت تعلقات رکھتا ہے۔صدرِ مملکت نے دفاع، دفاعی پیداوار، زراعت اور غذائی تحفظ میں تعاون بڑھانے کی تجویز دی۔امیرِ قطر نے تعاون بڑھانے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری رابطوں کی ہدایت دی۔صدر زرداری نے قطر میں دوحہ مذاکرات کی میزبانی اور افغانستان سے متعلق کردار کو سراہا۔امیرِ قطر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور افغانستان موجودہ مسائل حل کرکے حالیہ چیلنجز کو پسِ پشت ڈال دیں گے۔امیرِ قطر نے صدرِ پاکستان کی دعوت قبول کرتے ہوئے آئندہ سال کے اوائل میں پاکستان کے دورے کا اعلان کیا۔ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری اور پاکستانی سفیر بھی موجود تھے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا*اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پارلیمانی وفد کی ملاقات۔**پاکستان ایران کو برادر ہمسایہ اور دوست ملک تصور کرتا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی**اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حمایت کو ایران کبھی نہیں بھول پائے گا، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف**ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان زندہ آباد کے نعرے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے دلوں کی آواز تھی، ایرانی اسپیکر*اسلام آباد (5 نومبر 2025ء): اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلسِ شوریٰ اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے آج پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، علاقائی صورتحال، اور اقتصادی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایرانی اسپیکر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مذہب، ثقافت اور برادرانہ رشتوں کے مضبوط بندھن میں جڑے ہوئے ہیں۔ اسپیکر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم، پارلیمنٹ اور حکومت پاکستان ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایران اور پاکستان باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنا سکتے ہیں اور پارلیمانی سفارتکاری اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے ایران کی عوام اور حکومت کو اسرائیلی حملے کو ناکام بنانے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پاکستانی پارلیمنٹ پہلی پارلیمنٹ تھی جس نے واشگاف انداز میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے “پاکستان زندہ باد” کے نعروں کو برادرانہ محبت کی علامت قرار دیتے ہوئے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے جذبات کو سراہا۔ انہوں نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعلقات میں فروغ انتہائی خوش آئند ہے۔ اسپیکر نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کا قابلِ اعتماد برادر ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں۔

ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہوئے انہیں دلی مسرت ہوئی۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران کی غیر مشروط حمایت پر پاکستانی عوام، پارلیمنٹ اور حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ “مشکل وقت کا ساتھی ہی حقیقی دوست ہوتا ہے”۔ایرانی اسپیکر نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی حقیقی حمایت دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تعاون ایران اور پاکستان کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایران پاکستان کی جانب سے تمام عالمی فورمز پر حمایت پر تہہ دل سے شکرگزار ہے۔ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی وفود کے باہمی تبادلے اعتماد سازی اور دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، ترقی اور عوامی خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ایرانی اسپیکر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کو سراہا۔ ایرانی پارلیمانی وفد کے اراکین نے پاکستان کی پارلیمان کے فعال اور تعمیری کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ملاقات میں ممبر قومی اسمبلی اور کنوینر ایران پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ سید نوید قمر بھی موجود تھے۔

🎓 تحقیقی آرٹیکلتعلیم کا جنازہ — بٹگرام کے جعلی اساتذہ، بند اسکول، اور کھویا ہوا مستقبلتحریر: باقی ملک جان⸻سال 2010-11 ضلع بٹگرام کے تعلیمی نظام کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا۔اسی سال محکمہ تعلیم (ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) بٹگرام نے لاکھوں روپے ایسے اساتذہ کو ادا کیے جو اسکولوں سے غیر حاضر تھے یا ان کی جگہ غیر تربیت یافتہ مقامی افراد پڑھا رہے تھے۔یہ سب کچھ اُس وقت کے سیاسی ماحول میں ہوا جب تحصیل بٹگرام میں جمعیت علمائے اسلام (JUI) کے نمائندے شاہ حسین باچا ایم پی اے کی حکومت تھی، جن کے اثر و رسوخ میں پورا تعلیمی نظام سیاسی رنگ اختیار کر گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق، اساتذہ کی بھرتیاں اور تبادلے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے۔کئی خواتین کو محض سیاسی وفاداری کے انعام کے طور پر بھرتی کیا گیا تاکہ ووٹ بینک مضبوط کیا جا سکے۔یوں تعلیم کا اصل مقصد پسِ منظر میں چلا گیا اور پورا نظام کرپشن، اقربا پروری اور انتظامی کمزوری کا شکار ہو گیا۔

⸻جعلی تدریس کا جال — Annex-D کی کہانیآڈٹ رپورٹ کے مطابق، درجنوں اساتذہ ایسے پائے گئے جو خود اسکولوں میں حاضر نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنی جگہ غیر تربیت یافتہ افراد کو تدریس کے لیے بھیج دیتے تھے۔یہ جعلی تدریس کا ایک منظم طریقہ تھا جس میں اصل استاد گھر پر بیٹھ کر مکمل تنخواہ لیتا رہا اور اس کی جگہ کوئی مقامی شخص تین سے پانچ ہزار روپے ماہانہ کے عوض بچوں کو پڑھاتا رہا۔کل نقصان تقریباً پچپن لاکھ روپے رپورٹ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق، مثال کے طور پر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول اجمیرا میں ایک فلا بی بی نامی ٹیچر غیر حاضر رہی مگر اس کی تنخواہ پوری ملتی رہی۔اسی طرح گورنمنٹ ہائی سکول کُز بانڈہ میں ایک اور فلا بی بی نے اپنی جگہ دوسری خاتون کو بھیج رکھا تھا جو باقاعدہ طور پر غیر تربیت یافتہ تھی۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بٹگرام ٹاؤن میں ایک فلا بی بی نے کئی ماہ تک اسکول حاضری رجسٹر میں جعلی دستخط کروائے،اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول بنہ میں ایک اور فلا بی بی کی جگہ کسی مقامی عورت نے بچوں کو پڑھایا۔یہ تمام خواتین اساتذہ گھر پر بیٹھی رہیں اور حکومتی خزانے سے ان کی تنخواہیں باقاعدگی سے جاری رہیں۔محکمہ تعلیم کی اندرونی نگرانی مکمل طور پر ناکام رہی۔کاغذوں میں سب کچھ درست ظاہر کیا گیا مگر زمینی سطح پر اسکولوں میں نہ اساتذہ تھے نہ تدریس۔یہ سب کچھ انتظامیہ کی آشیر باد اور سیاسی مداخلت کے نتیجے میں ممکن ہوا۔⸻بند اسکولوں کا گھوٹالہ — Annex-E کی تفصیلآڈٹ رپورٹ کے دوسرے حصے میں ان اسکولوں کی فہرست شامل ہے جو عرصہ دراز سے بند تھے مگر ان کے عملے کو تنخواہیں دی جاتی رہیں۔کل نقصان تقریباً ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے بتایا گیا۔رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ پرائمری اسکول سَری بند تھا مگر وہاں کے استاد محمد اسماعیل کو دو لاکھ گیارہ ہزار روپے سے زائد کی ادائیگی ہوئی

۔گورنمنٹ پرائمری اسکول شملائی میں استاد عمر جان کو تنخواہ دی گئی حالانکہ اسکول کئی مہینوں سے غیر فعال تھا۔گورنمنٹ پرائمری اسکول کوٹکئی کے استاد اسلم خان مستقل غیر حاضر رہے،گورنمنٹ پرائمری اسکول میرا کے استاد ہارون رشید کا نام فہرست میں شامل تھا جو کئی ماہ سے اسکول نہیں گئے،جبکہ گورنمنٹ ہائی اسکول تھاکوٹ کے ایک استاد خان محمد 2008 سے غیر حاضر تھے لیکن ان کی تنخواہ بھی باقاعدگی سے نکلتی رہی۔بعض اسکولوں میں چوکیدار اور نائب قاصد بھی بیرون ملک مقیم پائے گئے، جیسے ایک اہلکار سعودی عرب میں تھا مگر اس کی تنخواہ بٹگرام سے جاری ہوتی رہی۔یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بند اسکولوں کو فعال ظاہر کر کے بجٹ کو سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔⸻سیاسی سرپرستی اور سماجی تباہییہ تمام بے ضابطگیاں اس وقت کے سیاسی و مذہبی اتحاد کے زیر سایہ پنپیں۔جمعیت علمائے اسلام کے نمائندوں کی سرپرستی میں خواتین اساتذہ کو گھروں میں بٹھا کر تنخواہیں دی گئیں،جبکہ اصل تدریسی عمل غیر تربیت یافتہ افراد کے سپرد کیا گیا۔یہ صرف مالی کرپشن نہیں بلکہ تعلیم دشمنی کی بدترین مثال تھی۔بٹگرام جیسے پسماندہ ضلع میں تعلیم کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا تاکہ سیاسی اثر برقرار رہے۔اس کے نتیجے میں بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر رہ گئی،اساتذہ کی پوسٹنگ رشوت اور سفارش پر ہونے لگی،اور تعلیمی ادارے عوامی خدمت کے بجائے طاقت کے کھیل کا حصہ بن گئے۔⸻نتیجہیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سیاست تعلیم پر غالب آ جائے تو ادارے محض کاغذی رہ جاتے ہیں۔2010 کے بعد بٹگرام کے تعلیمی ادارے ظاہری طور پر تو موجود تھے، مگر عملی طور پر خالی تھے۔اساتذہ غیر حاضر، اسکول بند، اور طلبہ بے سہارا تھے۔ریاست کے خزانے سے نکلا ہوا وہ پیسہ جو بچوں کے مستقبل کے لیے تھا،جعلی تدریس، غیر حاضر اساتذہ اور بند اسکولوں کی نذر ہو گیا۔یہ واقعہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح علامت ہے۔تعلیم کا نظام کاغذوں میں زندہ رہا ۔

🎓 تحقیقی آرٹیکلتعلیم کا جنازہ — بٹگرام کے جعلی اساتذہ، بند اسکول، اور کھویا ہوا مستقبلتحریر: باقی ملک جان⸻سال 2010-11 ضلع بٹگرام کے تعلیمی نظام کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا۔اسی سال محکمہ تعلیم (ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) بٹگرام نے لاکھوں روپے ایسے اساتذہ کو ادا کیے جو اسکولوں سے غیر حاضر تھے یا ان کی جگہ غیر تربیت یافتہ مقامی افراد پڑھا رہے تھے۔یہ سب کچھ اُس وقت کے سیاسی ماحول میں ہوا جب تحصیل بٹگرام میں جمعیت علمائے اسلام (JUI) کے نمائندے شاہ حسین باچا ایم پی اے کی حکومت تھی، جن کے اثر و رسوخ میں پورا تعلیمی نظام سیاسی رنگ اختیار کر گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق، اساتذہ کی بھرتیاں اور تبادلے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے۔کئی خواتین کو محض سیاسی وفاداری کے انعام کے طور پر بھرتی کیا گیا تاکہ ووٹ بینک مضبوط کیا جا سکے۔یوں تعلیم کا اصل مقصد پسِ منظر میں چلا گیا اور پورا نظام کرپشن، اقربا پروری اور انتظامی کمزوری کا شکار ہو گیا۔

⸻جعلی تدریس کا جال — Annex-D کی کہانیآڈٹ رپورٹ کے مطابق، درجنوں اساتذہ ایسے پائے گئے جو خود اسکولوں میں حاضر نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنی جگہ غیر تربیت یافتہ افراد کو تدریس کے لیے بھیج دیتے تھے۔یہ جعلی تدریس کا ایک منظم طریقہ تھا جس میں اصل استاد گھر پر بیٹھ کر مکمل تنخواہ لیتا رہا اور اس کی جگہ کوئی مقامی شخص تین سے پانچ ہزار روپے ماہانہ کے عوض بچوں کو پڑھاتا رہا۔کل نقصان تقریباً پچپن لاکھ روپے رپورٹ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق، مثال کے طور پر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول اجمیرا میں ایک فلا بی بی نامی ٹیچر غیر حاضر رہی مگر اس کی تنخواہ پوری ملتی رہی۔اسی طرح گورنمنٹ ہائی سکول کُز بانڈہ میں ایک اور فلا بی بی نے اپنی جگہ دوسری خاتون کو بھیج رکھا تھا جو باقاعدہ طور پر غیر تربیت یافتہ تھی۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بٹگرام ٹاؤن میں ایک فلا بی بی نے کئی ماہ تک اسکول حاضری رجسٹر میں جعلی دستخط کروائے،اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول بنہ میں ایک اور فلا بی بی کی جگہ کسی مقامی عورت نے بچوں کو پڑھایا۔یہ تمام خواتین اساتذہ گھر پر بیٹھی رہیں اور حکومتی خزانے سے ان کی تنخواہیں باقاعدگی سے جاری رہیں۔محکمہ تعلیم کی اندرونی نگرانی مکمل طور پر ناکام رہی۔کاغذوں میں سب کچھ درست ظاہر کیا گیا مگر زمینی سطح پر اسکولوں میں نہ اساتذہ تھے نہ تدریس

۔یہ سب کچھ انتظامیہ کی آشیر باد اور سیاسی مداخلت کے نتیجے میں ممکن ہوا۔⸻بند اسکولوں کا گھوٹالہ — Annex-E کی تفصیلآڈٹ رپورٹ کے دوسرے حصے میں ان اسکولوں کی فہرست شامل ہے جو عرصہ دراز سے بند تھے مگر ان کے عملے کو تنخواہیں دی جاتی رہیں۔کل نقصان تقریباً ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے بتایا گیا۔رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ پرائمری اسکول سَری بند تھا مگر وہاں کے استاد محمد اسماعیل کو دو لاکھ گیارہ ہزار روپے سے زائد کی ادائیگی ہوئی۔گورنمنٹ پرائمری اسکول شملائی میں استاد عمر جان کو تنخواہ دی گئی حالانکہ اسکول کئی مہینوں سے غیر فعال تھا۔گورنمنٹ پرائمری اسکول کوٹکئی کے استاد اسلم خان مستقل غیر حاضر رہے،گورنمنٹ پرائمری اسکول میرا کے استاد ہارون رشید کا نام فہرست میں شامل تھا جو کئی ماہ سے اسکول نہیں گئے،جبکہ گورنمنٹ ہائی اسکول تھاکوٹ کے ایک استاد خان محمد 2008 سے غیر حاضر تھے لیکن ان کی تنخواہ بھی باقاعدگی سے نکلتی رہی۔بعض اسکولوں میں چوکیدار اور نائب قاصد بھی بیرون ملک مقیم پائے گئے، جیسے ایک اہلکار سعودی عرب میں تھا مگر اس کی تنخواہ بٹگرام سے جاری ہوتی رہی۔یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بند اسکولوں کو فعال ظاہر کر کے بجٹ کو سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔⸻سیاسی سرپرستی اور سماجی تباہییہ تمام بے ضابطگیاں اس وقت کے سیاسی و مذہبی اتحاد کے زیر سایہ پنپیں۔جمعیت علمائے اسلام کے نمائندوں کی سرپرستی میں خواتین اساتذہ کو گھروں میں بٹھا کر تنخواہیں دی گئیں،جبکہ اصل تدریسی عمل غیر تربیت یافتہ افراد کے سپرد کیا گیا۔یہ صرف مالی کرپشن نہیں بلکہ تعلیم دشمنی کی بدترین مثال تھی۔بٹگرام جیسے پسماندہ ضلع میں تعلیم کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا تاکہ سیاسی اثر برقرار رہے۔اس کے نتیجے میں بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر رہ گئی،اساتذہ کی پوسٹنگ رشوت اور سفارش پر ہونے لگی،اور تعلیمی ادارے عوامی خدمت کے بجائے طاقت کے کھیل کا حصہ بن گئے۔⸻نتیجہیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سیاست تعلیم پر غالب آ جائے تو ادارے محض کاغذی رہ جاتے ہیں۔2010 کے بعد بٹگرام کے تعلیمی ادارے ظاہری طور پر تو موجود تھے، مگر عملی طور پر خالی تھے۔اساتذہ غیر حاضر، اسکول بند، اور طلبہ بے سہارا تھے۔ریاست کے خزانے سے نکلا ہوا وہ پیسہ جو بچوں کے مستقبل کے لیے تھا،جعلی تدریس، غیر حاضر اساتذہ اور بند اسکولوں کی نذر ہو گیا۔یہ واقعہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح علامت ہے۔تعلیم کا نظام کاغذوں میں زندہ رہا ۔

جس رات ستائیسویں ترمیم پاس ہونی ہے، اس رات پیپلزپارٹی نے کہنا ہے ہم نے اٹھارویں ترمیم کو بچا لیا ہے، ہم نے اٹھارویں ترمیم پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا، لیکن باقی ترامیم ہم نے روتی آنکھوں اور رستے کانوں سے منظور کیں، مصطفی نواز کھوکھر۔۔شیخ رشید کو بیرون ملک روانگی سے روک دیا گیا۔ وہ عمرے پر جانے کیلئے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عدالت نے انھیں عمرے پر جانے کے لیے خصوصی اجازت دی تھی۔۔۔عمران اسماعیل فواد چوھدری اور اسد عمر کا تحریک انصاف سے کوی تعلق نہیں عمران خان۔ڈیزل اور پٹرول کی نٸی قیمت طے کی جاے جارھی آج بارہ بجے کےبعد نٸی قیمتوں اعلان کیا جاے گا۔۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

صدر آصف علی زرداری سے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی کی دوحہ میں ملاقات۔صدر مملکت نے پاکستان اور قطر کے مابین دفاعی اور سلامتی کے تعلقات کو تاریخی اور قابلِ فخر قرار دیا۔صدر آصف علی زرداری نے تربیت، استعداد کار، دفاعی پیداوار اور مشترکہ منصوبوں میں دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور مشترکہ دفاعی پیداوار و منصوبوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افغان تنازعے میں کردار ادا کرنے کا بھی یقین دلایا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی شراکت کو مزید فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہے۔———

صدر آصف علی زرداری سے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی کی دوحہ میں ملاقات۔صدر مملکت نے پاکستان اور قطر کے مابین دفاعی اور سلامتی کے تعلقات کو تاریخی اور قابلِ فخر قرار دیا۔صدر آصف علی زرداری نے تربیت، استعداد کار، دفاعی پیداوار اور مشترکہ منصوبوں میں دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور مشترکہ دفاعی پیداوار و منصوبوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افغان تنازعے میں کردار ادا کرنے کا بھی یقین دلایا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی شراکت کو مزید فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہے۔———

دوحہ: پاکستان کی خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی قطر فاؤنڈیشن میں محترمہ شیخہ موزا بنت ناصر سے ملاقات۔ملاقات میں تعلیم، صحت، اختراع اور خواتین کے بااختیار ہونے کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال۔خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے شیخہ موزا بنت ناصر کی تعلیم اور انسانی ترقی کے فروغ میں بصیرت افروز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔خاتونِ اوّل نے ایجوکیشن ابوو آل (EAA) کے پاکستان میں 13 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم کی فراہمی میں قابلِ قدر خدمات کی تعریف کی۔خاتونِ اوّل نے پاکستانی جامعات اور قطر فاؤنڈیشن کے درمیان اشتراک بڑھانے کی تجویز پیش کی۔شیخہ موزا بنت ناصر نے پاکستانی طلبہ کی کارکردگی اور تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔خاتونِ اوّل نے شیخہ موزا کے فلسطین کے حق میں مؤقف اور غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔دونوں رہنماؤں نے تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی شمولیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

امریکا نے غزہ میں عالمی فوج کی تعیناتی کیلئے اقوام متحدہ سے منظوری مانگ لیآئی پی پیز معاہدوں کی منسوخی اور نظرثانی سے حکومت کو 3600 ارب کی بچت.امریکا نے غزہ میں عالمی فوج کی تعیناتی کیلئے اقوام متحدہ سے منظوری مانگ لی۔ آئی پی پیز معاہدوں کی منسوخی اور نظرثانی سے حکومت کو 3600 ارب کی بچت۔ اقوام متحدہ سے منظوری کے بعد 4 ممالک کی فوج تعینات ھوگی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا دورہ قطر قطری وزیر اعظم اور۔فیصل آباد میں کرکٹ کا جنون ٹریفک جام۔عوام کی اکثریت کا گراونڈ میں میچ دیکھنا۔کیا پیپلزپارٹی کو ن لیگ کی میت کو کندھا دینے کی پالیسی تبدیل کر لینی چاہیئے۔50 ھزار ارب روپے کی کرپشن گرفتاری کیوں رکی ۔27 ویں آئینی ترمیم سب کچھ تبدیل۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی کی دوحہ میں ملاقات۔قطری وزیراعظم خصوصی طور پر صدرِ مملکت سے ملاقات کے لیے ہوٹل پہنچے۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال۔صدر آصف علی زرداری نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں قطر کی قیادت کے اقدامات کو سراہا۔صدرِ مملکت نے فیفا ورلڈ کپ 2022 کے کامیاب انعقاد پر قطری قیادت کو مبارک باد دی۔قطری وزیراعظم نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کی بہادری کی تعریف کی۔قطری وزیراعظم نے افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں میں بہتری کی اُمید ظاہر کی۔صدر آصف علی زرداری نے قطر کو پاکستان میں بالخصوص اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔قطری وزیراعظم نے کہا کہ قطر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کا حجم مزید بڑھائے گا۔ملاقات میں خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان کے سفیر نے بھی شرکت کی۔

*سندھ حکومت کا خواتین کو پنک اسکوٹیز دینے کے دوسرے مرحلے کا اعلان*وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت خواتین کو پنک اسکوٹیز کی فراہمی کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کرنے جارہی ہے۔سندھ کے سینئر وزیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے خواتین کو مفت ٹریننگ کے ساتھ مفت لائسنس بھی فراہم کیے جارہے ہیں، طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو اسکوٹیز کی فراہمی کا مقصد ان کو روزمرہ کے سفری مسائل سے نجات دلانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں، تربیتی کورسز میں حصہ لیں اور پنک اسکوٹیز پروگرام کے دوسرے مرحلے میں رجسٹریشن کرائیں۔

پاکستان – ایران میڈیا تعاون کے حوالے سے اسلام آباد میں یادداشتوں پر دستخط کی تقریبوزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کی تقریب میں شرکت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا تقریب سے خطابایران اور پاکستان کے تعلقات ایک نئے اور مضبوط مرحلے میں داخل ہو چکے ہیںوزیراعظم شہباز شریف کے کردار اور مسلسل تعاون پر دلی شکریہ ادا کرتا ہوںچند ماہ قبل ایرانی صدر کے پاکستان کے تاریخی دورے نے تعلقات کا نیا باب رقم کیاپاکستانی عوام، حکومت اور میڈیا نے مشکل وقت میں ایران کا بھرپور ساتھ دیاصیہونی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے فیصلہ کن کردار ادا کیاایران کے عوام پاکستان کی دوستی اور بھائی چارے کو ہمیشہ یاد رکھیں گےمیڈیا کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گاآج دستخط ہونے والے معاہدے تعاون کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔آئی آر آئی بی ورلڈ سروس کے نائب صدر احمد نوروزی کا خطاب حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوامِ کے اصولی اور ثابت قدم مؤقف پر شکریہ ادا کرتے ہیںفلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں پاکستان کے کردار کو خراجِ تحسین کرتے ہیںمیڈیا تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی ضرورت ہےایران اور پاکستان کے تعلقات اب ایک متحرک اور عملی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیںعلامہ اقبالؒ، سید علی ہمدانیؒ جیسی مشترکہ شخصیات ہمارے ثقافتی رشتے کو مزید مضبوط کرتی ہیںایران کی جانب سے “علامہ اقبال” فلم/سیریز کی تجویز پاکستان کو پیش کی گئی ہےیہ منصوبہ دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات میں نیا باب ثابت ہوگاآئی آر آئی بی پاکستان کے سرکاری و نجی میڈیا اداروں کو تکنیکی معاونت دینے کے لئے تیار ہےایران کی میڈیا انڈسٹری پاکستانی ماہرین کو تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہےپاکستانی طلبہ کے لیے بین الاقوامی ورکشاپس اور تربیتی پروگرام منعقد کئے جائیں گےایران مشکل وقت میں ساتھ دینے والے دوستوں کو کبھی نہیں بھولے گاپاکستان کے میڈیا نے ایران کے مؤقف کو نمایاں طور پر اجاگر کیاجنگ کے ابتدائی دنوں میں آئی آر آئی بی ہیڈکوارٹر پر حملے کے باوجود صحافی ڈٹے رہےایرانی خاتون صحافی “سحر امامی” نے بمباری کے دوران بھی خبر رسانی جاری رکھیمیڈیا کی استقامت اور پیشہ ورانہ جذبہ دنیا بھر کے لیے مثال ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ کا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب ایران سے تشریف لانے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، وزیر اطلاعات صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے بہترین نتائج حاصل ہوئےہیں، وزیر اطلاعات صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دورے کا آغاز لاہور میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے مزار پر حاضری سے کیا، وزیر اطلاعات یہ عمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اقبالؒ کا پیغام اور فکر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے دلوں کو چھو چکی ہے، وزیر اطلاعات یہدورہ ہماری برادرانہ قربت اور دیرینہ تعلقات کی روشن مثال تھا، وزیر اطلاعات ہم ہمسایہ بھی ہیں، مگر اس سے بڑھ کر ہم مسلمان بھائی ہیں، وزیر اطلاعات خوشی ہے کہ یہ رشتہ حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوا ہے، جو ہماری دیرینہ خواہش تھی، وزیر اطلاعات میڈیا کے شعبے میں ہم اپنے باہمی تعاون کو مزید وسعت دے رہے ہیں، وزیر اطلاعات یہ ہمارا مشترک وژن، اقوام کی ترقی، استحکام اور خوشحالی ہے، وزیر اطلاعات ایران کے دورہ پر ہمیں جو احترام، محبت اور عزت ملی، وہ قابلِ قدر ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں نے گزشتہ برسوں میں ثابت کیا کہ ہماری اقوام نہایت باہمت اور ثابت قدم ہیں جب ایران پر حملہ ہوا تو پاکستانی عوام، حکومت اور میڈیا نے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔پاکستانی میڈیا نے نہایت فعال اور متحرک کردار ادا کیا اور ایرانی قوم کے حوصلے اور عزم کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔جب زلزلے کے دوران پورا اسٹوڈیو ہل رہا تھا، تب بھی نیوز کاسٹرز ثابت قدمی، عزم اور وقار کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے یہی ایران کے عوام کی ہمت اور جرأت کی علامت ہےگزشتہ ماہ ایرانی سفیرِ سے ملاقات میں ہم نے میڈیا کے مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات کی،

آج وہ بات عملی شکل اختیار کر چکی ہےمعاہدوں کی تیاری میں شامل ٹیموں کو مبارکباد دیتا ہوں پی ٹی وی اور ایرانی نشریاتی ادارے IRIB کے درمیان، پیمرا اور ایرانی ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو رہے ہیں۔ یہ معاہدے میڈیا کے میدان میں ہمارے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ دونوں ممالک کی فکری و نظریاتی اساس مشترک ہے، اقبالِ لاہوری ایران میں اتنے ہی مقبول ہیں جتنے پاکستان میں مقبول ہیںاقبالؒ کا فلسفہ خودی، یعنی خود انحصاری، علم اور عمل کے امتزاج پر مبنی ہے۔اقبالؒ فرماتے ہیں کہ علم ہی زندگی کا محافظ ہے اور انسان کو غلامی سے آزاد کر کے خود انحصاری کی راہ دکھاتا ہے۔زندگی کا مفہوم عمل میں پوشیدہ ہے، اور تخلیق کی لذت ہی زندگی کا قانون ہے۔اقبالؒ کا پیغام علم، عمل اور خود انحصاری ہےایرانی قوم نے یہ پیغام اپنے کردار سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ خود انحصاری ہی اصل طاقت ہےمیں یقین دلاتا ہوں کہ ہم میڈیا کے شعبے میں آپ سے ایک قدم آگے ہوں گے۔یہ معاہدے محض کاغذی نہیں رہیں گے بلکہ ان پر عمل درآمد کیا جائے گا ہم ڈیجیٹل میڈیا کے میدان میں بھی تعاون کے خواہاں ہیں۔ بھارت کے ساتھ جب تنازعہ ہوا، تو میدانِ جنگ میں فوجی معرکہ تھا، سفارتی سطح پر، بیانیے کی جنگ تھی ہمارے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر مزاح اور تخلیقی میمز کے ذریعے دشمن کو بھر پور جواب دیا۔یہی ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت ہے، اور یہ وہ میدان ہے جہاں ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ علامہ اقبالؒ پر ایک مشترکہ ڈرامہ سیریز تیار کی جا رہی ہے

۔یہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں ہوگی نئی نسل کو اقبالؒ کے فلسفے، خودی، علم اور عمل کا پیغام پہنچائے گی۔اقبالؒ کا خواب پاکستان کی شکل میں حقیقت بنا، جسے قائداعظم محمد علی جناحؒ نے عملی جامہ پہنایا۔یہ سیریز دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے ایک تعلیمی سرمایہ ثابت ہوگی۔ہماری ثقافت اور زبان میں بھی بے شمار قدریں مشترک ہیں۔آج بھی ہمارے ادبی ورثے کا ایک بڑا حصہ فارسی میں ہے۔ فارسی زبان، مذہب اور ثقافت کی اشتراکیت سے ہمارے عوامی تعلقات کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔ معاہدوں سے ہمارا میڈیا تعاون نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورۂ پاکستان اور جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں نے دونوں رہنماؤں کی گرمجوشی اور بھائی چارے کی مثال قائم کی ہے یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو لفظوں سے نہیں، دل کی زبان سے سمجھا جا سکتا ہے۔پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے،۔۔۔۔۔۔۔ وزارتِ اطلاعات و نشریاتِ کے زیر اہتمام پی ٹی وی اور ایران براڈکاسٹنگ کے درمیان میڈیا کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فاطمہ شیخ اور ایران براڈکاسٹنگ کے نائب صدر احمد نوروزی نے یادداشت پر دستخط کئے۔ پیمرا اور ایرانی ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان بھی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ایرانی میڈیا اور تین نجی پاکستانی اداروں کے درمیان بھی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایرانی وفد کے ارکان کو یادگاری سوئینئرز بھی پیش گئے

یہ واقعہ بیان کرکے میں ہرگز یہ تَأثُّر نہیں دینا چاہتا کہ خدانخواستہ میں کوئی بہت بڑی توپ ہوں بلکہ یہ کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹر عبد القادر طبعیت کے کتنے سادہ اور غرور سے عاری انسان تھے۔ 1978ء میں بھارت کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی تھی اور راولپنڈی میں غالبا” پریذیڈنٹ الیون کے ساتھ تین روزہ میچ کھیل رہی تھی۔ بھارتی ٹیم کے مینجر بڑودہ کے مہاراجہ فتح سنگھ راو پرتاپ راو گائیکواڈ ثانی تھے۔ اس وقت سیکورٹی کے مسائل نہیں ہوتے تھے۔ مجھے زندگی میں پہلی دفعہ کسی مہاراجہ سے ملنے کا موقع ملا۔ وہ بھارتی ٹیم کے ساتھ انٹرکانٹینینٹل ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس وقت موبائل نہیں ہوتے تھے۔ چنانچہ کھلاڑی اپنے پاس اپنی کافی ساری تصویریں رکھتے تھے اور جو سپورٹس رپورٹر فوٹو مانگے اسے جیب سے نکال کر دے دیتے تھے۔ میں فلیشمین ہوٹل میں پاکستانی کھلاڑیوں سے مختصر بات چیت کرکے ان کی تصویریں جمع کر رہا تھا۔ عبدالقادر ابھی تک قومی ٹیم میں نہیں آئے تھے۔ وہ اس میچ میں بارہویں کھلاڑی تھے۔ میں نے ان سے تصویر کا تقاضا نہ کیا۔ جب میں رخصت ہونے لگا تو وہ الگ سے میرے پاس آئے، میری ٹھوڑی کو ہاتھ لگایا اور اپنی تصویر میری طرف بڑھا دی۔

ائینی ترمیم پنجاب اسمبلی نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔۔چین نے ایٹمی تجربات کے ٹرمپ الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔۔، پاکستان کو بھی اپنے ایٹمی پروگرام کو دروغ گفتاری سے بچانا چاہیے ۔27 ویں آئینی ترمیم کا معاملہ پوشیدہ کیوں رکھا گیا؟نواز لیگ پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن تیار۔عبدالقیوم نیازی ان ایکشن وزیر اعظم انوار الحق کے لئے مشکلات۔ ۔پختونخواہ امن وامان کیلئے حوالے سے سب سے رپورٹ مانگ لی گئی جس کی کارگردگی کمزور ہوگی اسکو معطل کیاجائےگا۔پیپلز پارٹی نواز لیگ مکمل طور پر 27 ویں آئینی ترمیم تھوک کر چاٹنے کے لیے تیار۔اسلام آباد پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس جمعرات 6نومبر کو طلب کرلیا۔پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلاول ہاؤس کراچی میں ہوگا۔اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر غور ہوگا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

عبدالقیوم نیازی کا وزیر اعظم انوارالحق اور ساتھی وزراء کو تحریک انصاف میں شامل کرنے اور منحرفین ممبران قانون ساز اسمبلی کیخلاف رٹ کرنے سے صاف انکار،زرائع کے مطابق تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس مرکزی سیکرٹری سلیمان اکرم راجہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں آزاد کشمیر پارٹی صدر قیوم نیازی،اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق ،سیکرٹری جنرل میر عتیق،عمران خان کے مشیر برائے امور کشمیر خالد یوسف ایڈوکیٹ اور ممبران قومی اسمبلی نے شرکت کی اجلاس میں وزیر اعظم اور ان کے ساتھ بچ جانے والے وزراء کی پارٹی میں شمولیت کی تجویز رکھی گئی ساتھ ہی ممبران اسمبلی کو عدم اعتماد میں ووٹ نہ ڈالنے سے متعلق ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنے کاُ معاملہ بھی زیر غور آیا تاہم پارٹی صدر عبدالقیوم نیازی نے وزیر اعظمُ سمیٹ منحرف وزراء جنہوں نے عمران خان کے ساتھ غداری اور دھوکہ کیا کو واپس لینے سے انکار کردیا اور ساتھ ہی انوار الحق حکومت کو ریسکو کرنے کیلئے ممکنہ رٹ پٹیشن بھی پارٹی کی جانب سے دائر کرنے سے صاف انکار کردیا۔

*💥فیلڈ مارشل کاعہدہ آئینی بنانے کیلئے آرٹیکل243 میں ترمیم کی جائے گی، وفاقی حکومت 27 آئینی ترمیم کیلئے تیار*وفاقی حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری پکڑلی۔27 ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 میں ترمیم ہوگی جس کا مقصد آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تسلیم کرنا ہے۔مجوزہ ترمیم میں آئینی عدالتوں کا معاملہ بھی شامل ہے، ايگزيکٹو کی مجسٹریل پاور کی ڈسٹرکٹ لیول پر ترسیل بھی مجوزہ ترمیم میں شامل ہوگی، اس کے ساتھ پورے ملک میں ایک ہی نصاب کا ہونا بھی ستائيسویں ترمیم کی تیاری میں زیر غور آنے کا امکان ہے۔وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ستائيسویں ترمیم پر بات چیت چل رہی ہے لیکن باضابطہ کام شروع نہيں ہوا۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کا مقصد معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تحفظ دینا ہے۔

صدر آصف علی زرداری تین روزہ سرکاری دورے پر دوحہ، قطر پہنچ گئے۔حماد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر صدرِ مملکت اور ان کے وفد کا استقبال سینئر قطری حکام اور دوحہ میں تعینات پاکستان کے سفیر نے کیا۔صدر آصف علی زرداری کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا۔صدر آصف علی زرداری عالمی سماجی ترقیاتی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔اپنے کلیدی خطاب میں صدر مملکت عالمی برادری کو سماجی ترقی اور جامع معاشی نمو کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔صدر آصف علی زرداری سماجی تحفظ، غربت میں کمی اور کمزور طبقوں کو مستحکم کرنے میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔صدر مملکت دوحہ الائنس، سوشل پروٹیکشن اینڈ جابز کمپیکٹ کے آغاز کے لیے پاکستان کے اقدامات اور عالمی ترقیاتی وعدوں سے ہم آہنگ منصوبوں پر بات کریں گے۔صدر آصف علی زرداری سماجی و ماحولیاتی تبدیلیوں کے لیے مالی وسائل کے حصول، ایس ڈی جی اسٹمولیس اور دیگر عالمی اقدامات کی اہمیت پر زور دیں گے۔صدر آصف علی زرداری اپنے دورے کے دوران مختلف عالمی و علاقائی رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

*ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھری کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو*غزہ امن فوج کافیصلہ حکومت اورپارلیمنٹ کرےگی:ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان اپنی سرحدوں،عوام کی حفاظت کیلئےتیارہے:ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان پالیسی بنانےمیں خودمختارہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریفتنہ الخوارج کےخلاف آپریشن میں1667دہشت گردمارےگئے:ڈی جی آئی ایس پی آرفوج سیاست میں نہیں الجھناچاہتی:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریفوج کوسیاست سے دوررکھاجائے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریجرائم پیشہ اوردہشت گردگروپ ملک میں جرائم،سمگلنگ روکنےمیں رکاوٹ ہیں:ڈی جی آئی ایس پی آرگورنرراج سےمتعلق فیصلےکااختیارحکومت کےپاس ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان کی شرائط معنی نہیں رکھتیں،دہشت گردی کاخاتمہ اہم ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان میں منشیات سمگلرزکی افغان سیاست میں مداخلت ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان سےبڑے پیمانےپرمنشیات پاکستان سمگل کی جارہی ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان کیلئےمحبت جاگ رہی ہےتو آپ وہیں چلےجائیں:ڈی جی آئی ایس پی آردہشت گرد عشرکےنام پرٹیکس لیتےہیں:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریزیادہ ترآپریشن بلوچستان میں ہوئے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریحالیہ پاک افغان کشیدگی کےدوران206افغان طالبان مارےگئے:ڈی جی آئی ایس پی آرحالیہ پاک افغان کشیدگی کےدوران112فتنہ الخوارج ہلاک ہوئے:ڈی جی آئی ایس پی آرٹی ٹی پی نےافغان طالبان کےامیرکےنام پربیعت کی:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریٹی ٹی پی افغان طالبان کی شاخ ہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریبھارت گہرےسمندرمیں ایک اورفالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہاہے:ڈی جی آئی ایس پی آربھارت نے زمین،سمندراورفضامیں جوکچھ کرناہےکرے:ڈی جی آئی ایس پی آربھارت جان لے،اس بارجواب پہلےسےزیادہ شدیدہوگا:ڈی جی آئی ایس پی آراس سال62ہزار113آپریشن کیے،582فوجی جوان شہیدہوئے:ڈی جی آئی ایس پی آرمدارس کی تعداد2014میں48ہزار،اب ایک لاکھ سےزائدہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان میں ہمارارسپانس سوئفٹ ہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریکوشش کی افغانستان کےساتھ معاملات طے ہوں:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریپاکستان کاون پوائنٹ ایجنڈاہے،افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو:ڈی جی آئی ایس پی آررواں سال62113آپریشن کیے،زیادہ تربلوچستان میں ہوئے:ڈی جی آئی ایس پی آر

سی سی ڈی نے چوہنگ ٹریننگ سینٹر لاہور سے پولیس کے سب انسپکٹر عدنان ورک کو حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق سب انسپکٹر عدنان ورک نے ڈی آئی جی محبوب اسلم کے خلاف واٹس ایپ گروپ میں غیراخلاقی زبان استعمال کی تھی۔اطلاعات کے مطابق کمانڈنٹ چوہنگ ٹریننگ سینٹر نے عدنان ورک کو اپنے دفتر بلا کر وارننگ دی، تاہم ڈی آئی جی کے دفتر سے باہر نکلنے کے بعد عدنان ورک نے دوبارہ گالم گلوچ شروع کر دی، جس پر سی سی ڈی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عدنان ورک ماضی میں ایس ایچ او کے طور پر بھی تعینات رہ چکے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور سب انسپکٹر کے خلاف محکمانہ کارروائی متوقع ہے۔

ایف آئی اے کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤنایف آئی اے کمپوزٹ سرکل ڈیرہ غازی خان کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیاں کرنے والے عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیاں میں ملوث 12 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔چھاپہ مار کارروائیاں بورڈ آفس، پل ڈاٹ، اور کوٹ چھٹہ پر کی گئیں۔

گرفتار ملزمان مستحق خواتین کو دی جانے والی مالی امداد میں سے فی کس 1000 سے 1500 روپے غیر قانونی کمیشن کے طور پر کاٹ رہے تھے۔گرفتار ملزمان میں محمد عمران ، محمد اکرم ، صادق حسین ، عطا حسن ، نصراللہ ، ابوذر عباس ، شیر علی ، محمد عاقب ، الطاف حسین ، احمد حسن ، عمران حسین اور محمد ابرار شامل ہیں۔ملزمان کو کمیشن وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران ملزمان سے لاکھوں روپے برآمد کر لئے گئے۔ ملزمان سے متعدد شناختی کارڈز ، چیک بکس ، بینک کنیکٹ ڈیوائسز اور دیگر متعلقہ مواد برآمد کیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر دیئے گئے ہیں۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش کا اغاز کر دیا گیا۔

آرٹیکل 144 (1) کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں غور کے لیے آئینی قرارداد پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد میں مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں “مقامی حکومتیں” کے عنوان سے ایک الگ باب بنانے کے لیے آرٹیکل 140-A میں آئینی ترمیم کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد پنجاب لوکل گورنمنٹ کاکس کی طرف سے پیش کی گئی تھی ۔اسےمسلم لیگ ن کے احمد اقبال چودھری اور پیپلز پارٹی کے علی حیدر گیلانی نے اسپانسر کیا تھا۔قرارداد کی متقفہ منظوری کا کریڈٹ مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آٸ سمیت ایوان میں موجود تمام جماعتوں اور اراکین کو جاتا ھے ۔

عام آدمی کے مسائل اسکے اپنے شھر میں حل کرنے کیلئے اس قرارداد کو پیش کرنے اور منظور کرنیوالے شاباش اور مبارکباد کے مستحق ھیں ۔قوی امید ھے کہ خیبر پختونخواہ ، بلوچستان اور سندھ کی صوبائ اسمبلیاں بھی ایسی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرینگی مقامی حکومتوں کے فعال نظام کو آئینی ترمیم کے ذریعے مکمل آئینی تحفظ دینا اپنی اپنی سیاسی ضرورت کے تابع آئینی ترامیم لانے سے کہیں بہتر ھے ۔بلدیاتی نظام حکومت کو آئینی تحفظ اور صوبائ فنانس ایوارڈ کے ذریعے مالی خود مختاری دیے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم ،بنیادی جمہوریتوں اور مقامی حکومتوں کے نظام سے سیاسی قیادتوں کے اوپر آنے کا عمل مکمل نہیں ھو سکتا ۔۔

Clour جامعہ کراچی میں دو طلبہ گروپوں میں تصادمتصادم کے دوران طلباء نے پولیس پر بھی حملہ کردیاحملے میں ایک سب انسپکٹر زخمی ہوگیاپولیس نے2ملزمان کوگرفتار کر لیا، باقی فرار ہوگئے، ایس ایس پی ایسٹپولیس نے گرفتار ملزمان اور ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر