‏اگر بھٹو نے آئین دیا تھا (بھٹو کے دور میں 73 کا آئین آیا) تو اس کے داماد اور نواسے نے سود سمیت اس آئین کو کوڑے دان میں پھینک دیا ہے۔ آصف علی زرداری اور اس کے بیٹے نے اپنے سسر اور اسکی کاوشوں کا بھرپور بدلہ لے لیا ہے۔ اب زرداری خاندان بھٹو زندہ ہے کا نعرہ نہ لگائے، بھٹو کو اپنے ہاتھوں سے دفن

ملک میں غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے برقرار۔مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی عوام خودکشیوں پر مجبور۔۔پاکستان میں اٹا مھنگا خون سستا سب کچھ ختم ھونے کے قریب۔ملک بھر میں مھنگای دھشت گردی اور لا قانونیت کا خوف۔۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کو ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے زیادہ تر شہریوں کو کم از کم 2 ہزار ڈالر بطور ڈیویڈنڈ ادا کیے جائیں گے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

🚨 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کو ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے زیادہ تر شہریوں کو کم از کم 2 ہزار ڈالر بطور ڈیویڈنڈ ادا کیے جائیں گے۔صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکیوں کو ڈیویڈنڈ ادا کرنے کا اعلان کیا تاہم یہ واضح کردیا کہ زیادہ آمدن والے امریکی اس سے محروم رہیں گے۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم کھربوں ڈالر حاصل کر رہے ہیں اور بہت جلد اپنے 37 کھرب ڈالر کے بھاری قرضے کی ادائیگی شروع کریں گے۔ ہر شخص کو (زیادہ آمدنی والے افراد کے علاوہ) کم از کم 2 ہزار ڈالر ادا کیے جائیں گے‘۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ….!!!!وزیر اعظم کا حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کا خیر مقدم اور 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل میں ان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا…..!!!!صدر مملکت آصف علی زرداری کے اور تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے مشکور ہیں. وزیرِ اعظم….!!!!تمام اتحادی جماعتوں نے اس قومی سوچ کا بھرپور ساتھ دیا. وزیر اعظم….!!!!وفاق کی مضبوطی، ملک کے وسیع مفاد، صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور گورننس کو بہتر کرنے کے لئے 27ویں آئینی ترمیم کیلئے ہم سب نے مل کر کوشش کی، وزیراعظم ….!!!!اس حکومت کے دوران حاصل کیے گئے تمام سنگ میل حکومت اور اتحادی جماعتوں کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہیں، وزیراعظم….!!!! پاکستان کی سفارتی کامیابیاں اور دنیا میں نام تمام اتحادی جماعتوں کے مابین ہم آہنگی اور باہمی اتحاد کی عکاس ہے، وزیراعظم ….!!!!ہم سب کی مشترکہ کوششوں کی بدولت پاکستان کو شاندار مقام حاصل ہوا ہے. وزیر اعظم….!!!!ملکی معاشی صورتحال میں بتدریج بہتری ہو رہی ہے، وزیراعظم….!!!!اللہ کے فضل و کرم سے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کی بدولت ملک کی سمت درست ہوئی. وزیرِ اعظم….!!!!

تیسری عالمی جنگ کے قریب آنے کی سب سے بڑی علامت سونے کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے ۔سرمایہ حصص بازار کا ہو یا گولڈ مارکیٹ کا سب سے پہلے مستقبل دیکھ لیتا ہے ۔یہاں ریاستیں بھی سونے کے ذخائر جمع کر رہی ہیں نجی سرمایہ کار بھی ۔عالمی جنگ مقامی کرنسیوں کی قدر کھا جاتی ہے لیکن سونا اپنی قدر ہمیشہ برقرار رکھتا ہے ۔معلوم دنیا کی یہی تاریخ ہے ۔پرانے زمانے کی عظیم سلطنتوں کے خزانے بھی سونے کے ذخائر ہوتے تھے ۔جدید دور کی سلطنتیں امریکہ ،چین،مغربی ممالک ،سارے سونا خرید رہے ہیں۔سونا اسمگل ہونا بھی شروع ہو گیا ہے ۔اس کی طلب بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔عالمی سطح پر جاری کساد بازاری کی وجہ سے عام لوگ جو سونا فروخت کرتے ہیں ستر فیصد حصہ بسکٹ کی شکل میں ڈھل کر ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے شیطانی چکر میں غائب ہو جاتا ہے ۔یہ سلسلہ عالمی جنگ کے ساتھ بند ہو گا ۔یہی دنیا کی تاریخ ہے۔

سی ڈی اے کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ — 107 افسران برطرف، رندھاوا کی کرپشن کے خلاف کڑی کارروائی، ترقیاتی منصوبوں میں تیزی کا حکم — لیکن قدیم ترین سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی نے سوالات کھڑے کر دیےرانا تصدق حسیناسلام آباد – کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین محمد علی رندھاوا نے انجینئرنگ ونگ کو ہدایت دی ہے کہ سیکٹر C-14 میں تمام ترقیاتی کام آئندہ ماہ کے آخر تک جبکہ سیکٹر I-12 کے منصوبے تین ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔ ان ہدایات سے واضح ہوتا ہے کہ چیئرمین نے زیرِ التواء منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے ایک جارحانہ انتظامی مہم شروع کر دی ہے۔اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین رندھاوا نے انجینئرنگ اور لینڈ ونگ کے افسران پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کارکردگی میں ناکامی پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اتھارٹی نے دو خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں — ایک جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے، اور دوسرا پرانے سیکٹرز میں انفراسٹرکچر کی بحالی، ہارٹیکلچر، لینڈ اسکیپنگ اور جدید شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے۔

تاہم ان اقدامات کے باوجود سیکٹر E-12 — جہاں پلاٹوں کی الاٹمنٹ 1980 کی دہائی کے آخر میں کی گئی تھی — بدستور نظرانداز ہے۔ ہزاروں الاٹیز کئی دہائیوں سے انتظار میں ہیں، مگر تاحال وہاں کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام شروع نہیں ہوا، جو سی ڈی اے کے وعدوں اور کارکردگی کے درمیان واضح تضاد ظاہر کرتا ہے۔پچھلی انتظامیہ نے میر آبادی میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی تعمیرات جیسے شادی ہال، ورکشاپس اور شورومز منہدم کیے، مگر اسی دوران سری نگر ہائی وے کے ساتھ G-13 سے G-11 کے درمیان سروس روڈ پر ناجائز تعمیرات کو یکسر نظرانداز کیا گیا — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض کرپٹ عناصر اور سی ڈی اے کے اندر موجود اہلکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔اسی طرح مارگلہ ایونیو، جو حال ہی میں تعمیر کی گئی تھی، اب اپنی ڈیفیکٹ لائیبلیٹی مدت کے دوران ہی سنگین نقصانات اور سرفیس سیٹلمنٹ کا شکار ہے، مگر متعلقہ شعبہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے

۔دوسری جانب مارگلہ ایونیو اور موٹروے (M-1) کو جوڑنے والا لنک منصوبہ بھی صرف تشہیری مقاصد کے لیے مکمل کیا گیا، جبکہ اس کی فنی نگرانی اور دیکھ بھال پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔کرپشن کے خلاف ایک بڑے اقدام کے تحت سی ڈی اے نے گریڈ 19 تا 16 کے 107 افسران کو برطرف کر دیا ہے، جن پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، اور محکماتی انکوائریوں میں مداخلت کے الزامات تھے۔ذرائع کے مطابق یہ افسران طویل عرصے سے زیرِ نگرانی تھے اور ایک دوسرے کو ’’کلین چٹ‘‘ دلوانے اور انکوائریوں میں اثرانداز ہونے میں ملوث پائے گئے۔اطلاعات کے مطابق چیئرمین رندھاوا نے تین ماہ قبل میمبر ایڈمنسٹریشن کو خفیہ طور پر ہدایت دی تھی کہ ایسے تمام افسران کی فہرست میرٹ پر تیار کی جائے جن کی شہرت مشکوک ہو یا جن کے خلاف انکوائریاں جاری ہوں۔انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر اس عمل میں کسی قسم کی جانبداری، اقربا پروری یا انتقامی رویہ سامنے آیا تو متعلقہ افسر کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔میمبر ایڈمن نے تین ماہ کے اندر یہ کام مکمل کر لیا جس کے بعد چیئرمین نے اس مہم کو ’’آپریشن کلین اپ‘‘ کا نام دیا اور اعلان کیا کہ ادارے کو ’’کالی بھیڑوں‘‘ سے ہر قیمت پر پاک کیا جائے گا۔چیئرمین نے یہ بھی ہدایت دی کہ آئندہ کسی شہری کے جائز کام میں بلاوجہ رکاوٹ ڈالنے والا کوئی اہلکار ریٹائرمنٹ بینیفٹس کے بغیر فارغ کر دیا جائے گا۔سی ڈی اے کے لیگل ونگ کو تمام متعلقہ مقدمات کی پیروی کا ٹاسک دیا گیا ہے اور اسے مستند وکلاء کی خدمات سے مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔رندھاوا نے عزم ظاہر کیا کہ جو افسران قصوروار ثابت ہوں گے انہیں مثال بنا کر پیش کیا جائے گا تاکہ ادارے میں کرپشن کے خاتمے کا واضح پیغام جائے۔برطرف افسران میں متعدد سینئر عہدے دار شامل ہیں جن میں:گریڈ 19 کے ڈائریکٹر لاء عبدالحکیم بریروڈائریکٹر ٹریننگ اکیڈمی و لیبر ڈائریکٹر ممتاز علی شیرڈائریکٹر انفورسمنٹ و ایڈمن ایچ آر لاءڈپٹی ڈی جی (ایڈمن ایچ آر) میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کاشف شاہڈائریکٹر سول رانا طارق محمود (جو ڈپٹی ڈی جی میٹرو بس بھی رہ چکے ہیں)اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ای اینڈ ڈی ایم و آپریشنز ظفر اقبال (جنہیں 1122 ایمرجنسی سروسز کا اضافی چارج بھی حاصل تھا) شامل ہیں۔چیئرمین رندھاوا کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ سی ڈی اے کی حالیہ تاریخ میں احتساب کی سب سے بڑی مہم قرار دی جا رہی ہے، مگر سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی اب بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سی ڈی اے کے وعدے آج بھی ادھورے ہیں۔

سی ڈی اے کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ — 107 افسران برطرف، رندھاوا کی کرپشن کے خلاف کڑی کارروائی، ترقیاتی منصوبوں میں تیزی کا حکم — لیکن قدیم ترین سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی نے سوالات کھڑے کر دیےرانا تصدق حسیناسلام آباد – کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین محمد علی رندھاوا نے انجینئرنگ ونگ کو ہدایت دی ہے کہ سیکٹر C-14 میں تمام ترقیاتی کام آئندہ ماہ کے آخر تک جبکہ سیکٹر I-12 کے منصوبے تین ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔ ان ہدایات سے واضح ہوتا ہے کہ چیئرمین نے زیرِ التواء منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے ایک جارحانہ انتظامی مہم شروع کر دی ہے۔اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین رندھاوا نے انجینئرنگ اور لینڈ ونگ کے افسران پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کارکردگی میں ناکامی پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اتھارٹی نے دو خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں — ایک جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے، اور دوسرا پرانے سیکٹرز میں انفراسٹرکچر کی بحالی، ہارٹیکلچر، لینڈ اسکیپنگ اور جدید شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے۔تاہم ان اقدامات کے باوجود سیکٹر E-12 — جہاں پلاٹوں کی الاٹمنٹ 1980 کی دہائی کے آخر میں کی گئی تھی — بدستور نظرانداز ہے۔ ہزاروں الاٹیز کئی دہائیوں سے انتظار میں ہیں، مگر تاحال وہاں کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام شروع نہیں ہوا، جو سی ڈی اے کے وعدوں اور کارکردگی کے درمیان واضح تضاد ظاہر کرتا ہے۔پچھلی انتظامیہ نے میر آبادی میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی تعمیرات جیسے شادی ہال، ورکشاپس اور شورومز منہدم کیے، مگر اسی دوران سری نگر ہائی وے کے ساتھ G-13 سے G-11 کے درمیان سروس روڈ پر ناجائز تعمیرات کو یکسر نظرانداز کیا گیا — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض کرپٹ عناصر اور سی ڈی اے کے اندر موجود اہلکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔اسی طرح مارگلہ ایونیو، جو حال ہی میں تعمیر کی گئی تھی، اب اپنی ڈیفیکٹ لائیبلیٹی مدت کے دوران ہی سنگین نقصانات اور سرفیس سیٹلمنٹ کا شکار ہے، مگر متعلقہ شعبہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔دوسری جانب مارگلہ ایونیو اور موٹروے (M-1) کو جوڑنے والا لنک منصوبہ بھی صرف تشہیری مقاصد کے لیے مکمل کیا گیا، جبکہ اس کی فنی نگرانی اور دیکھ بھال پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔کرپشن کے خلاف ایک بڑے اقدام کے تحت سی ڈی اے نے گریڈ 19 تا 16 کے 107 افسران کو برطرف کر دیا ہے، جن پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، اور محکماتی انکوائریوں میں مداخلت کے الزامات تھے۔ذرائع کے مطابق یہ افسران طویل عرصے سے زیرِ نگرانی تھے اور ایک دوسرے کو ’’کلین چٹ‘‘ دلوانے اور انکوائریوں میں اثرانداز ہونے میں ملوث پائے گئے۔اطلاعات کے مطابق چیئرمین رندھاوا نے تین ماہ قبل میمبر ایڈمنسٹریشن کو خفیہ طور پر ہدایت دی تھی کہ ایسے تمام افسران کی فہرست میرٹ پر تیار کی جائے جن کی شہرت مشکوک ہو یا جن کے خلاف انکوائریاں جاری ہوں۔انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر اس عمل میں کسی قسم کی جانبداری، اقربا پروری یا انتقامی رویہ سامنے آیا تو متعلقہ افسر کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔میمبر ایڈمن نے تین ماہ کے اندر یہ کام مکمل کر لیا جس کے بعد چیئرمین نے اس مہم کو ’’آپریشن کلین اپ‘‘ کا نام دیا اور اعلان کیا کہ ادارے کو ’’کالی بھیڑوں‘‘ سے ہر قیمت پر پاک کیا جائے گا۔چیئرمین نے یہ بھی ہدایت دی کہ آئندہ کسی شہری کے جائز کام میں بلاوجہ رکاوٹ ڈالنے والا کوئی اہلکار ریٹائرمنٹ بینیفٹس کے بغیر فارغ کر دیا جائے گا۔سی ڈی اے کے لیگل ونگ کو تمام متعلقہ مقدمات کی پیروی کا ٹاسک دیا گیا ہے اور اسے مستند وکلاء کی خدمات سے مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔رندھاوا نے عزم ظاہر کیا کہ جو افسران قصوروار ثابت ہوں گے انہیں مثال بنا کر پیش کیا جائے گا تاکہ ادارے میں کرپشن کے خاتمے کا واضح پیغام جائے۔برطرف افسران میں متعدد سینئر عہدے دار شامل ہیں جن میں:گریڈ 19 کے ڈائریکٹر لاء عبدالحکیم بریروڈائریکٹر ٹریننگ اکیڈمی و لیبر ڈائریکٹر ممتاز علی شیرڈائریکٹر انفورسمنٹ و ایڈمن ایچ آر لاءڈپٹی ڈی جی (ایڈمن ایچ آر) میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کاشف شاہڈائریکٹر سول رانا طارق محمود (جو ڈپٹی ڈی جی میٹرو بس بھی رہ چکے ہیں)اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ای اینڈ ڈی ایم و آپریشنز ظفر اقبال (جنہیں 1122 ایمرجنسی سروسز کا اضافی چارج بھی حاصل تھا) شامل ہیں۔چیئرمین رندھاوا کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ سی ڈی اے کی حالیہ تاریخ میں احتساب کی سب سے بڑی مہم قرار دی جا رہی ہے، مگر سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی اب بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سی ڈی اے کے وعدے آج بھی ادھورے ہیں۔

ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر کی بیوی اور بیٹی لاپتہ — پنجاب پولیس کی تفتیش ناکام یا چھپانے کی کوشش؟خاندانی معاملہ یا سرکاری وردی کے پیچھے چھپا سنگین جرم؟رانا تصدق حسینلاہور — لاہور پولیس کے ڈی ایس پی انویسٹیگیشن (کاہنہ سرکل) عثمان حیدر گجر کی بیوی اور بیٹی کے لاپتہ ہونے کا کیس سنگین اور سنسنی خیز رخ اختیار کر گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے خاندانی معاملہ قرار دیا گیا، مگر اب یہ کیس پنجاب پولیس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ڈی ایس پی کی سالی تہمینہ شوکت نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو فریق بنایا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو بھی ایک تحریری درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔تہمینہ شوکت کے مطابق، ڈی ایس پی عثمان حیدر اپنی بیوی سمعیہ اور بیٹی خنسا پر تشدد کرتے تھے، اور اب انہیں شبہ ہے کہ ڈی ایس پی نے اپنی اہلیہ کو قتل کر دیا ہے جبکہ بیٹی کو چھپا دیا گیا ہے۔تہمینہ کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹا چکی ہیں مگر پولیس کی جانب سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق تھانہ برکی کا ایس ایچ او اور خود ڈی ایس پی عثمان حیدر انہیں خاموش رہنے پر مجبور کر رہے ہیں اور جعلی پولیس مقابلے میں مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ایس پی کینٹ انویسٹیگیشن بشریٰ نثار نے عدالت کے باہر انہیں مدد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے پولیس کی گاڑی میں بٹھایا، مگر بعد ازاں غائب ہو گئیں۔ اس دوران تھانیدار بدتمیزی کرتا رہا جبکہ ان کے شوہر کو تھانہ برکی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ آئی جی پنجاب کے خلاف کارروائی کی جائے اور کیس کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔دوسری جانب، ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر نے اپنی بیوی اور بیٹی کے اغوا کا مقدمہ 23 دن بعد تھانہ برکی میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کروایا، جس سے معاملہ مزید مشکوک ہوگیا ہے۔تفتیشی عمل میں تاخیر، متضاد بیانات اور اعلیٰ پولیس افسران کی مبینہ مداخلت نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ کہیں واقعہ کو چھپانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی۔اب یہ کیس پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے اعتماد اور انصاف کا امتحان بن چکا ہے — اور سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس اپنے ہی افسر کے خلاف شفاف تحقیقات کر پائے گی؟

فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ تاحیات یونیفارم میں رہ سکیں گے مجوزہ ترمیم تفصیلات بادبان ٹی وی پر

آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترامیمصدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس پر چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر کریں گے چیف آف آرمی سٹاف چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے وزیراعظم آرمی چیف کی سفارش پر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ کا تقرر کریں گے فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمیرل آف فلیٹ کا رینک مراعات اور وردی تاحیات رہیں گے

ستائیسویں آئینی ترمیم صدر وزیر اعظم کی سفارش پر چیف آف ڈیفنس فورسز کا تقرر کرے گا چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا جائے گا وزیر اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کی تقرری کرے گا

‏ آرمی چیف بننے کی راہمیں ساری شیطانی قوتیں اکٹھی ہو کر راستے میں کھڑی ہو گئی تھیں پہلے وہ”چیف بنافائیو سٹار جنرل”فیلڈ مارشل”بنااب چاروں مسلح افواج کا مشترکہ سربراہ”کمانڈر آف ڈیفینس فورسز”جلد”کمانڈر آف مسلم ڈیفینس فورسز”بھی بنے گا

کاروبار تباہ بل چارگنا ، چور باعزت بری عوام کی سوچ دو وقت کی روٹی تک محدود۔۔پاکستان کی آنے والی ہنگور آبدوز چینی YJ-17 ہائپر سونک میزائل سے لیس۔پاکستان کی آنے والی ہنگور آبدوز چینی YJ-17 ہائپر سونک میزائل سے لیس ہونے کا امکان ہے۔ *ترکی میں پاک۔افغان مذاکرات غیر نتیجہ خیز….!!!! ترکی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات غیر نتیجہ خیز رہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

“مدر آف آل گند”

نواز شریف کا مطالبہ تھا کہ اپنا گند خود صاف کریں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ اب تک کون کون سا گند صاف کرنے میں پیش رفت ہو چکی ہے۔

پہلا گند فوج کے اندر عمرانڈو سہولت کار تھے جس پر کریک ڈاؤن تسلی بخش ہے۔

دوسرا گند پی ٹی آئی کی بلیک میلنگ تھی کہ ہماری بات نہ مانی گئی تو پاکستان بند کر دیں گے کوئی کھان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا وغیرہ وغیرہ آج پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں سرکاری سرپرستی کے بغیر پورے ملک میں چوں کرنے کی اہلیت سے محروم ہو چکی ہے یہ تو بہت بڑی صفائی ہے۔

تیسرا گند عدلیہ میں بیٹھے سہولت کار تھے جو کھان صاحب کی تھوک کے حساب سے ضمانتیں لیتے تھے جج بننے کی بجائے پی ٹی آئی کے مقدمے میں خود پی ٹی آئی کے وکیل بن جاتے تھے پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچانے کے لیے آئین کو ری رائیٹ بھی کرنا پڑے تو کر گزرتے تھے آج وہ سارے خط وغیرہ لکھ کر اجتماعی طور پر پوسٹ آفس خط پوسٹ کرنے جاتے دیکھے گئے ہیں۔
یہ صفائی بھی تسلی بخش ہے۔

چوتھا گند جو صاف کیا جا رہا ہے وہ خود اپنے بنائے ہوئے مذھبی جتھے تھے آج کل انکے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد یوں لگتا ہے کہ یہ صفائی ہونا بھی اب زیادہ دور کی بات نہیں آغاز تو ہو چکا۔

پانچواں اور سب سے بڑا گند آف گانستان پر صاحب لوگوں کی پالیسی ہے جس کے تحت لاکھوں آف گانیوں کو پاکستان بسایا گیا ،اف گانستان میں تزویراتی گہرائی ڈھونڈتے ڈھونڈتے 80 ہزار لوگ مروا لیے ڈیڑھ دو سو ارب ڈالر کا معیشت کو نقصان کروا لیا اور آج جس کا صلہ یہ ملا ہے کہ جو نمک حرام پالے تھے وہ آج پاکستان کی طرف بندوقیں تانے کے کھڑے ہو گئے۔
مگر آخر کار صاحب لوگ اپنے سب سے قدیم اور محبوب اثاثے سے دستبردار ہو کر اب ان نمک حراموں کی ٹھکائی کرنے میں مصروف ہوئے ہیں
یہ “مدر آف آل گند” تھا جس کی صفائی شروع کی گئی ہے۔

چھٹا گند اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے سیاستدانوں سے لاتعلقی تھی جو دھائیوں سے اسٹیبلیشمنٹ سے تعلق کی وجہ سے قوم کو بڑے بڑے بھاشن دیتے تھے اور دانشوری کی اس معراج پر فائز ہو چکے تھے جہاں دوسروں کی عقل مذاق لگتی تھی آج وہ ریڑھی سے چھلیاں کھانے کی وڈیوز پوسٹ کر رہے ہیں تندور میں نان لگا رہے ہیں،گھروں میں بیٹھ کر اپنے نااھل بیٹے کو یاد کرتے ہیں جس نے انہیں دھکا دیا یا پھر سواد چوھدری کی طرح مفت مشورے دینے کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔
کیا کبھی سوچا تھا کہ یہ گند بھی صاف ہو گا؟

ساتوں گند میڈیا پر کھمبیوں کی طرح اگے رنگ برنگے اینکرز تجزیہ نگار تھے جن کا خیال تھا کہ پاکستان میں وہ بیانیہ چلے گا جو وہ بتائیں گے
دن رات جھوٹ کی فیکٹریاں چل رہی تھی، بیس لاکھ سے شروع ہو کر ڈیڑھ کروڑ تک تنخواہیں لیتے اور کام صرف ملک میں انتشار پھیلانا شام کو کوٹ ٹائیاں لگا کر دو چار سیاستدان اکٹھے کر لینا اور انکی آپس میں لڑائیاں کروا کر ٹی آر پی لینا انہیں پاکستان کے مسائل کا حل نظر آتا تھا۔
آج الحمدللہ سب کے سب تیر کی طرح سیدھے ہو چکے ہیں جو ہلکی پھلکی موسیقی چل رہی ہے وہ بھی اجازت لے کے چل رہی ہے ساری حریت پسندی نکل چکی ہے کچھ ملک سے بھاگ گئے کچھ کو چینلوں نے نکال باہر کیا اور آج وہ سرد آہیں بھر کے ملک میں جمہوری آزادیاں ختم ہونے کے رونے روتے ہیں وہ جمہوری آزادیاں جن پر تاک تاک کے یہ خود وار کرتے رہے۔

دوستو تین سال کے اندر اندر یہ پرفارمنس بری نہیں
کچھ لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ آپ اسٹیبلشمنٹ مخالف تھے اب کیوں انکے ہر کام کی حمایت میں آ جاتے ہیں تو جناب من عرض ہے کہ سیدھی اور صاف بات ہے یہ گند صاف کرنا کم از کم ہمارے بس کی بات نہیں تھی یہ وہی صاف کر سکتے تھے جنہوں نے یہ پھیلایا تھا اور یہ ممکن نہیں کہ ہم گند پھیلانے کے بھی مخالف ہوں اور صاف کرنے کے بھی۔

پ ریلیز61 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب کا انعقاد07 نومبر، 2025: 61 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب آج پاک فضائیہ کے ائیروسپیس پاور سنٹر آف ایکسیلینس میں منعقد کی گئی۔  تقریب کے مہمانِ خصوصی ائیروائس مارشل محمد عاصم رانا، ائیر آفیسر کمانڈنگ، سنٹرل ائیر کمانڈ پی اے ایف تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کورس کے شرکاء کی غیر معمولی لگن، پیشہ وارانہ مہارت اور ثابت قدمی کو سراہا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگی تیاری پاک فضائیہ کے عملی نظریے (Operational Doctrine) کی بنیاد ہے اور یہ کہ حقیقت پسندانہ، لچکدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت، فضائیہ کی فیصلہ کن برتری برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاک فضائیہ کا ایرو سپیس پاور سینٹر آف ایکسیلینس (PAF ACE) حربی مہارت کا گہوارہ ہے جہاں فضائی جنگ کے جدید تصورات کو آزمایا، بہتر بنایا اور عملی نظریات میں ڈھالا جا تا ہے۔ ادارے کے علیٰ پیشہ وارانہ معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کہا کہ PAF ACE کے تمام اسکول بہترین ہم آہنگی کے ساتھ ایسے جنگی قائدین تیار کر رہے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے مختلف میدانوں میں مؤثر طور پر یکجا کر سکتے ہیں۔ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف دی ائیر سٹاف، پاک فضائیہ کی بصیرت افروز قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے مہمانِ خصوصی نے کہا کہ پاک فضائیہ اپنی قیادت کی رہنمائی میں ایک غیر معمولی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ائیر چیف کی جانب سے شروع کی گئی جامع جدید کاری کی مہم نے ایک بے مثال ترقی کے دور کا آغاز کیا ہے، جو مقامی تیاری، نیٹ ورک پر مبنی آپریشنز، مصنوعی ذہانت کے انضمام اور فضائی، سائبر اور خلائی شعبوں میں مشترکہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے کورس کے گریجویٹس کو ٹرافیز اور اسناد سے نوازا جنہوں نے اس کٹھن کورس کے دوران اپنی شاندار کارکردگی سے نمایاں مقام حاصل کیا۔

کمبیٹ پائلٹس کے درمیان بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر چیف آف دی ائیر سٹاف ٹرافی ونگ کمانڈر اقراش منیر اعوان نے حاصل کی جبکہ کمبیٹ کنٹرولرز کے درمیان بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ائیر آفیسر کمانڈنگ ائیر ڈیفنس کمانڈ ٹرافی سکواڈرن لیڈر جاوید اقبال نے حاصل کی۔یہ تقریب ایک کٹھن اور بھرپور تربیتی پروگرام کے اختتام کی علامت تھی، جس کا مقصد پاک فضائیہ کے لیے اگلی نسل کے جنگی قائدین کو تیار کرنا ہے۔ تقریب میں سینئیر عسکری افسران، فیلڈ کمانڈرز اور پاک فضائیہ کی مختلف فارمیشنز سے تعلق رکھنے والے انسٹرکٹرز نے شرکت کی، جس سے اس موقع کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی جو پاک فضائیہ کے عملی کیلنڈر کا ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ

نئی دہلی ائیرپورٹ پر ائیر ٹریفک کنٹرول نظام میں خرابی، سیکڑوں پروازیں تاخیر کا شکار -بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ائیر ٹریفک کنٹرول سسٹم میں خرابی کے باعث سیکڑوں پروازیں تاخیر کا شکار ہیں اور ملک بھر میں فضائی ٹریفک بری طرح متاثر ہے۔بھارتی میڈیا نے فلائٹ ڈیٹافراہم کرنے والی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ائیرپورٹ سے روانہ ہونے والی تقریباً 95 فیصد پروازوں کو اوسطاً 55 منٹ کی تاخیر کا سامنا ہے جبکہ آنے والی 69 فیصد پروازیں بھی تاخیر سے پہنچ رہی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق جمعے کے روز مجموعی طور پر 800 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ کم از کم 20 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ائیرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ خودکار پیغام رسانی کے اُس نظام میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی ہے جو ائیر ٹریفک کنٹرول کے ڈیٹا کی معاونت کرتا ہے۔اتھارٹی کے مطابق سسٹم کی خرابی کے باعث ائیر ٹریفک کنٹرولرز کو فلائٹ پلانز دستی طور پر پراسیس کرنے پڑے جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔

*ترکی میں پاک۔افغان مذاکرات غیر نتیجہ خیز….!!!!* ترکی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات غیر نتیجہ خیز رہے۔ پاکستانی وفد اسلام آباد واپسی کے لیے ایئرپورٹ پہنچ گیا ہے، تاہم مذاکراتی سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا اور سفارتی رابطے جاری رہنے کا امکان ہے۔….!!!!

پاکستان کی آنے والی ہنگور آبدوز چینی YJ-17 ہائپر سونک میزائل سے لیس ہونے کا امکان ہے۔یہ چائنیز اینٹی شپ ہائپر سونک میزائل ہے اس کی رینج 1200 کلومیٹر ہے 🚀

پاور ڈویژن کا وفاقی وزیر عوام کا خون چوس رھے 100 افراد ای پی پی( I p p) حکومت سے مضبوط ھے۔۔۔حکومت کا وزیر ملوث وزیر اعظم سھولت کار نہ بنے عبدالقادر بجلی کا بل دھشت گردی ھے غریب عوام کا احساس نھی عوام کا دکھ رکھے 15 کروڑ عوام دھشت گردی میں ملوث فرانزنک اڈٹ کرواے

ریڈ زون کی سیکورٹی بڑھا دی گئی سپریم کورٹ میں دھماکے کے بعد پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں اضافہ۔۔۔سوات میں قاری کی سات سالہ بچے سے زیادتی۔۔پاکستان کی باولنگ مکمل طور پر ناکام ریلو کٹوں کی شمولیت۔۔3 فارمیٹ میں کپتان کی جگہ بنتی لکین وہ پاکستان کے کامیاب تجربے کر رھے ھے۔۔27 ویں ترمیم کی منظوری کیلئے آج ہونیوالا وفاقی کابینہ کاا جلاس معینہ مدت کیلئے مؤخر ۔۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

61 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب آج پاک فضائیہ کے ائیروسپیس پاور سنٹر آف ایکسیلینس میں منعقد کی گئی۔  تقریب کے مہمانِ خصوصی ائیروائس مارشل محمد عاصم رانا، ائیر آفیسر کمانڈنگ، سنٹرل ائیر کمانڈ پی اے ایف تھے۔

61 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب آج پاک فضائیہ کے ائیروسپیس پاور سنٹر آف ایکسیلینس میں منعقد کی گئی۔  تقریب کے مہمانِ خصوصی ائیروائس مارشل محمد عاصم رانا، ائیر آفیسر کمانڈنگ، سنٹرل ائیر کمانڈ پی اے ایف تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کورس کے شرکاء کی غیر معمولی لگن، پیشہ وارانہ مہارت اور ثابت قدمی کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگی تیاری پاک فضائیہ کے عملی نظریے (Operational Doctrine) کی بنیاد ہے اور یہ کہ حقیقت پسندانہ، لچکدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت، فضائیہ کی فیصلہ کن برتری برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاک فضائیہ کا ایرو سپیس پاور سینٹر آف ایکسیلینس (PAF ACE) حربی مہارت کا گہوارہ ہے جہاں فضائی جنگ کے جدید تصورات کو آزمایا، بہتر بنایا اور عملی نظریات میں ڈھالا جا تا ہے۔ ادارے کے علیٰ پیشہ وارانہ معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کہا کہ PAF ACE کے تمام اسکول بہترین ہم آہنگی کے ساتھ ایسے جنگی قائدین تیار کر رہے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے مختلف میدانوں میں مؤثر طور پر یکجا کر سکتے ہیں۔ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف دی ائیر سٹاف، پاک فضائیہ کی بصیرت افروز قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے مہمانِ خصوصی نے کہا کہ پاک فضائیہ اپنی قیادت کی رہنمائی میں ایک غیر معمولی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ائیر چیف کی جانب سے شروع کی گئی جامع جدید کاری کی مہم نے ایک بے مثال ترقی کے دور کا آغاز کیا ہے،

جو مقامی تیاری، نیٹ ورک پر مبنی آپریشنز، مصنوعی ذہانت کے انضمام اور فضائی، سائبر اور خلائی شعبوں میں مشترکہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے کورس کے گریجویٹس کو ٹرافیز اور اسناد سے نوازا جنہوں نے اس کٹھن کورس کے دوران اپنی شاندار کارکردگی سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ کمبیٹ پائلٹس کے درمیان بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر چیف آف دی ائیر سٹاف ٹرافی ونگ کمانڈر اقراش منیر اعوان نے حاصل کی جبکہ کمبیٹ کنٹرولرز کے درمیان بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ائیر آفیسر کمانڈنگ ائیر ڈیفنس کمانڈ ٹرافی سکواڈرن لیڈر جاوید اقبال نے حاصل کی۔یہ تقریب ایک کٹھن اور بھرپور تربیتی پروگرام کے اختتام کی علامت تھی، جس کا مقصد پاک فضائیہ کے لیے اگلی نسل کے جنگی قائدین کو تیار کرنا ہے۔ تقریب میں سینئیر عسکری افسران، فیلڈ کمانڈرز اور پاک فضائیہ کی مختلف فارمیشنز سے تعلق رکھنے والے انسٹرکٹرز نے شرکت کی، جس سے اس موقع کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی جو پاک فضائیہ کے عملی کیلنڈر کا ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ

27 ویں آئینی ترمیم آج بل پیش کئے جانے کے گونج۔ ریڈ زون کی سیکورٹی بڑھا دی گئی سپریم کورٹ میں دھماکے کے بعد پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں اضافہ۔۔قطر کا افغان امن عمل میں اھم کردار مذاکرات کی راہ ھموار ھوی زرداری۔ سوات میں قاری کی سات سالہ بچے سے زیادتی۔۔غزہ میں 15 فلسطینی مزید شھید۔۔پاکستان کی باولنگ مکمل طور پر ناکام ریلو کٹوں کی شمولیت۔3 فارمیٹ میں کپتان کی جگہ بنتی لکین وہ پاکستان کے کامیاب تجربے کر رھے ھے۔۔کرکٹ کا جنازہ نکال دیا گیا۔۔برطانیہ کے چیف اف جنرل سٹاف کمیٹی کے سربراہ کی ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی معاونت چیف آف جنرل سٹاف کور کمانڈر 10 کور کمانڈر ملٹری انٹیلی جنس کے چیف اور فیلڈمارشل کے چیف اف سٹاف نے بھی شرکت کی۔چین اور روس افغانستان میں مذہب کا لبادہ اوڑھے دہشتگردوں کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔پاکستان کو زومبیز کے خاتمہ پر حوصلہ افزائی کا خصوصی انعام دینے کا وعدہ ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

🚨 *لاہور میں اتوار کو کمرشل سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم*لاہور ہائیکورٹ نے اتوار کے روز لاہور شہر میں کمرشل سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کردیا۔اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیخلاف درخواستوں پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کی۔عدالتی حکم پر ڈپٹی کمشنر لاہور موسیٰ رضا نے مارکیٹوں کی 10 بجے بندش کا نوٹیفکیشن پیش کیا اور بتایا کہ ریسٹورینٹس کو بھی رات 10 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ مقصد نوٹیفکیشن نکالنا نہیں بلکہ اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے، پابندی لگانے کا مقصد اسموگ کا تدارک کرنا ہے، ماحول میں آلودگی بڑھنے سے اسموگ بڑھ رہی ہے۔ممبر ماحولیاتی کمیشن نے بتایا کہ خیابان فردوسی کے قریب واسا نے کھدائی کر رکھی ہے، کھدائی کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی ہے جبکہ لیگل ایڈوائزر واسا عرفان اکرم نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میں سیوریج سسٹم کو تبدیل کیا جا رہا ہے،

جس پر عدالت نے کہا آپ آئندہ سماعت پر جاری پروجیکٹس کی ٹائم لائن پیش کریں۔لاہور ہائیکورٹ نے اتوار کے روز لاہور میں کمرشل سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شادی ہالوں کی رات 10 بجے پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔عدالت نے ہر سماعت پر محکمہ ماحولیات کے ڈائریکٹر سطح کے افسر کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے عملدرآمد رپورٹس طلب کر لی اور سماعت 7 نومبر تک ملتوی کر دی۔

‏🚨چین نے سرکاری فنڈ سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز میں غیر ملکی اے آئی (مصنوعی ذہانت) چِپس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔🚨امریکی صدر ٹرمپ:ہم امریکہ کو بٹ کوائن کی سپر پاور اور دنیا کا کرپٹو دارالحکومت بنا رہے ہیں۔اگر ہم نے کرپٹو کرنسی کا کام ٹھیک طریقے سے نہ کیا، تو چین یہ کر لے گا۔

صدر آصف علی زرداری دوحہ کے دورے کے بعد وطن واپس روانہ۔صدر مملکت کو دوحہ ایئرپورٹ پر اعلیٰ قطری حکام اور پاکستان کے سفیر نے الوداع کہا۔صدر زرداری نے دورے کے دوران امیرِ قطر، وزیراعظم، وزیرِ دفاع اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔صدر مملکت نے سماجی ترقی کے لئے دوسری عالمی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی اور اجلاس سے خطاب کیا۔دورے میں صدر نے دو طرفہ تعلقات، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔صدر زرداری نے قطر کی میزبانی اور خطے میں امن کے فروغ میں اس کے کردار کو سراہا-

ایوانِ صدر(میڈیا وِنگ)⸻دوحہ، 6 نومبر 2025: پاکستان کی خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے خواتین کے بااختیاری کے لیے ’’پرنسس سبیکہ بنت ابراہیم الخلیفہ گلوبل ایوارڈ‘‘ کی تیسری تقریب میں شرکت کی۔یہ تقریب اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (UN Women) اور مملکتِ بحرین کی سپریم کونسل برائے خواتین کے اشتراک سے قطر نیشنل کنونشن سینٹر میں منعقد ہوئی۔خاتونِ اوّل نے اپنے خطاب میں ایوارڈ کے وژن کو سراہا اور مملکتِ بحرین کی خواتین کے حقوق کے فروغ میں قائدانہ کردار کی تعریف کی۔بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو خواتین کی قیادت پر فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم، ہنر مندی، معاشی شمولیت اور ڈیجیٹل بااختیاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔خاتونِ اوّل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی معاہدوں، بشمول CEDAW، بیجنگ ڈیکلریشن اور 2030 پائیدار ترقیاتی ایجنڈے، پر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔تقریب کے موقع پر خاتونِ اوّل نے بحرین کی سپریم کونسل برائے خواتین کی سیکریٹری جنرل محترمہ لُلوہ الاوعَدھی، اقوامِ متحدہ کے علاقائی ڈائریکٹر برائے عرب ریاستیں جناب معیذ دورید، اور متحدہ عرب امارات کی جنرل ویمنز یونین کی سیکریٹری جنرل محترمہ نُورہ خلیفہ السویدی سے ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں میں علاقائی تعاون کے فروغ،

ادارہ جاتی شراکت داری کے استحکام اور خواتین کی معاشی و سیاسی شمولیت کے مواقع بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔خاتونِ اوّل نے مملکتِ بحرین اور اقوامِ متحدہ کی خواتین کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خواتین کی ترقی و بااختیاری کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا:“دنیا اُس وقت بدلتی ہے جب خواتین اسے بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ہمیں اُن بہادر خواتین کے نقشِ قدم پر چلنا ہے جنہوں نے تاریخ رقم کی، اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کرنا ہے۔”

پاکستان افغانستان کی سرحد پر عارضی جنگ بندی ہوئی۔قطر کے شہر دوحہ میں مُلا صاحبان اس بار پاکستانی سکیورٹی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھے۔ادھر شمالی وزیرستان میں فورسز کے کیمپ سے بارود سے بھری گاڑی خودکش حملے میں ٹکرا دی گئی۔اور پھر سکیورٹی ذرائع کے مطابق رات کو پاک افغان سرحد کے قریب ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی

۔افغانستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے ساتھ میچوں کا شیڈول منسوخ کر دیا۔جنگ بہت بُری شے ہے۔اگر کسی کی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کی معاوضے پر ملنے والی تصاویر تک رسائی ہو تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس جنگ میں سرحد کے ایک طرف چھ ماہ کے بچے کی لاش اُٹھائے شہری ہیں اور دوسری طرف 20 برس کے نوجوان کو سُپردِ خاک کیا جا رہا ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان اور عام افغان شہری اُن ملا صاحبان کو نہیں سمجھا سکتے جنہوں نے اوسامہ، ایل قاعدہ کے لیے پورا ملک تباہ کر دیا تھا اور اب نور ولی محسود کو پناہ میں رکھنے کے لیے پڑوسی سے برسوں کی جنگ پر بضد ہیں۔