جسٹس منصور اور اطہر من اللہ نے متعلقہ فورم سے پہلے اپنے استعفے میڈیا کو جاری کئے جو کوڈ آف کنڈیکٹ کی واضح خلاف ورزی ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی ہو سکتی ہے ۔پنشن اور مراعات بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔۔پنشن اور مراعات بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔فیلڈ مارشل عاصم منیر 2030 ارمی چیف اور چیف آف ڈیفنس برقرار.آج کے بعد جو بھی آرمی چیف ہوگا وہ چیف آف ڈیفنس فورس بھی ہوگا،دونوں عہدوں کی مدت اکٹھی شروع ہوگی اور اکٹھی ختم ہوجائے گی ۔عاصم منیر اس کےینیفشری ہیںان کی نئی مدت 2025سے شروع ہوگی اور نومبر 2030 تک رہے گی..نئی مدت 2025سے شروع ہوگی اور نومبر 2030 تک رہے گی.جنرل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنایا جارہا ہے فیلڈ مارشل تینوں مسلح افواج کے سربراہ ہونگے۔ اس عہدے کی مدت پانچ سال ہے اور عہدے کا پہلا دن 27 نومبر 2025 سے شروع ہوگا مطلب جنرل عاصم منیر 2030 تک چیف ہونگے..19 سال کے بعد ائینی عدالت کا قیام شرمندہ تعبیر۔۔افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو تباہ کر دیا گیا۔50 ھزار افراد کا ڈیٹا 50 ھزار ارب روپے کے مالک۔۔ملک بھر میں سیکورٹی ھای الرٹ دھشت گردی کا خطرہ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*💥آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہونگے،عہدے کی مدت 5 سال ہوگی: قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور*اسلام آباد: قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی۔مجوزہ آرمی ایکٹ کے تحت آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹی فکیشن جاری ہو گا۔مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ نئے نوٹی فکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ سے شروع ہوگی۔ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے۔مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق وزیراعظم آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے۔مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہو گی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کو تین سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے: وزیر قانونوزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے،عہدے کی مدت 5 سال ہو گی۔ وزیر اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کریں گے۔ان کی تقرری کی مدت اس دن سے شروع ہوگی جب تعیناتی ہو گی۔اعظم نذیر نے کہا کہ قانون نے وضاحت کی ہے چیف آف ڈیفنس کا عہدہ اپوائنٹمنٹ سے5 سال کا ہوگا۔ وزیر قانون نے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔

—قومی اسمبلی اجلاس۔۔۔وزیراعظممیثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا،فتنہ الخواج اوردشمنان پاکستان کی حرکتوں کا اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اوراب بھی منہ توڑجواب دیں گے ، وزیراعظم محمدشہبازشریف کاقومی اسمبلی میں خطاباسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمدشہبازشریف نے کہاہے کہ میثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا ہے،افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،فتنہ الخواج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اور اب بھی منہ توڑجواب دیں گے، خواہش ہے پاکستان سمیت پوراخطہ ترقی اور خوشحالی کاگہوارہ بن جائے، قومی یکجہتی اوروفاق کیلئے 100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعداپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ آج اس ایوان نے یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے قومی اتحاد اوریگانگت کوفروغ دیاہے جس پرتمام سیاسی جماعتوں اوران کے قائدین کا مشکورہوں، کل ہمارے انتہائی شفیق ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی صاحب اللہ کوپیارے ہوگئے،وہ استادوں کے استاد تھے اورپوری زندگی لکھائی پڑھائی میں گزاری،

جب میدان سیاست میں قدم رکھا تو ذمہ داری اورعزم کے ساتھ مسلم لیگ کا ساتھ نبھایا، قائد نواز شریف کے ساتھ ان کی وابستگی ضرب المثل تھی، اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ اوراہلخانہ کوصبرجمیل عطا ءفرمائے۔انہوں نے کہاکہ کل وانا میں دہشت گردوں نے ایک بارپھردہشت گردی کابازارگرم کرنے کی گھٹیا اور مذموم حرکت کی ،اس واقعہ نے سانحہ اے پی ایس کی یاد تازہ کیں، اللہ تعالیٰ کاشکر ہے کہ خوارج جس میں بدقسمتی سے افغانستان کے لوگ شامل تھے، وہ تمام کے تمام جہنم رسید ہوئے اورتمام کیڈٹس اورٹیچرز کوبحفاظت نکالاگیا، میں اس پرپوری قوم کومبارکبادپیش کرتا ہوں اورمسلح افواج کا شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے اعلیٰ پایہ کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کامظاہرہ کیا، اسی طرح کل اسلام آباد میں دہشت گردی کااندوہناک واقعہ ہوا، دہشت گردوں نے جوڈیشمل کمپلیکس کونشانہ بنایا اور افراتفری میں اپنے آپ کودھماکہ سے اڑادیا جس میں وکلاء سمیت 12لوگ شہید ہوگئے اور 4موت و حیات کی کشمکش میں ہیں، ہم تمام شہدا ء کے بلندی درجات اورزخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہیں،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان واقعات میں خارجی ہاتھ نمایاں ہے، کل میں نے بیان دیا کہ فتنہ الخوارج میں ہندوستانی ہاتھ شامل ہے اوراس میں بدقسمتی سے ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کے فٹ پرنٹ نظرآرہے ہیں، اس پرہندوستان کی حکومت کی جانب سے ٹویٹ آیا کہ الزامات غلط ہیں

۔وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان میں جعفرایکسپریس پرحملہ کے ثبوت ہم پوری دنیا کے سامنے لے کرآئے کہ کس طرح ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغانستان سے متحرک تھے اوردہشت گردوں کارابطہ ان کے ساتھ تھااورآگے ان کا رابطہ ہندوستان میں ان کے حمایتیوں سے تھا،یہ حقائق ہم نے پوری دنیا کے سامنے پیش کئےجس کوکسی نے چیلنج نہیں کیا اورنہ ہی اس کی تردید کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ فتنہ الخوارج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، ان کوپہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اوراب بھی منہ توڑجواب دیں گے، پاکستان کی ترقی اورخوشحالی کی راہ میں ان کو قطعی طور پر رکاوٹیں ڈالنے نہیں دیا جائے گا، حال ہی میں دوحہ اور استنبول میں امن مذاکرات ہوئے جس میں پاکستان نے شرکت کی، ہماری افغانستان کی عبوری حکومت سے ایک ہی شرط تھی کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دہشت گردگروپوں کو افغانستان کی سرزمین پاکستان، پاکستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کرنے سے روکاجائے، آئے روز ہماری افواج بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں ان کامقابلہ کر رہی ہوتی ہیں ، ہرروز ہمارے افسراورجوان شہید ہورہے ہیں،پاکستان کے عظیم کڑیل جوان جام شہادت نوش کرتے ہوئے اپنے بچوں کویتیم کرتے ہیں مگرلاکھوں بچوں کویتیم ہونے سے بچاتے ہیں، اس سے بڑی قربانی کوئی ہو ہی نہیں سکتی جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے ،ہم چاہتے کہ امن قائم ہو اور افغانستان امن میں برابرشریک ہو کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جوپاکستان کیلئے اچھا ہے وہ افغانستان کیلئے بھی اچھا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ جھوٹے سچے وعدے کرے اور پھران گروپوں کولگام نہ دیں، ایک ماہ پہلے جب پاکستان پرحملہ ہوا توان کے وزیرخارجہ متقی دہلی میں تھے،جن افغان بہن بھائیوں کو40سال تک پاکستان نے اپنے وسائل سے کسی بیرونی امداد کے بغیر امداددی اوران کومحسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ یہاں پرپرائے ہیں اوریہ مہمان نوازی ہم کرتے رہیں گے جب تک وہ سکون کے ساتھ اپنے گھروں کونہیں چلے جاتے، 40سال کی مہمان نوازی کاجوصلہ ہمیں دیاگیاہے وہ پوری دنیادیکھ رہی ہے،اٖفغان حکام کے دہلی کے دورہ کے پیغامات ہمیں اچھی طرح سے سمجھ میں آرہے ہیں، انہوں نے دعوت دی کہ صدق دل کے ساتھ ہمارے ساتھ بیٹھیں اوردہشت گردوں کولگام دیں ہمارے ساتھ وعدہ کریں کہ پوری طرح ہمارے ساتھ چلیں گے تاکہ خطہ میں امن ہو اورپاکستان سمیت پوراخطہ ترقی اورخوشحالی کاگہوارہ بن جائے۔ وزیراعظم نے کہاکہ آج جوترامیم منظورہوئی ہیں اس حوالے سے وہ سب سے پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے بھی مشکورہیں جو خود بنفس نفیس یہاں پر تشریف لائے اور آج اس پوری کارروائی میں شریک رہے ، میں بلاول بھٹو زرداری، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، چوہدری سالک حسین عبدالعلیم خان، اعجازالحق اور ایمل ولی خان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، اسی طرح ہم سپیکر، ڈپٹی سپیکر ڈپٹی پرائم منسٹر، وزیرقانون، اٹارنی جنرل، قائمہ کمیٹیز اور اس عمل میں شریک تمام اہلکاروں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ ان ترامیم پرمشاورت کے ساتھ کام کیا اس مشاورت کے نتیجے میں یہ ترامیم آج آئین کا حصہ بن گئی ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ میثاق جمہوریت میں بڑے واضح انداز میں آئینی عدالت کے قیام کاوعدہ کیاگیاتھا آج وہ خواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا مجھے پورا یقین ہے کہ آج محترمہ شہید بے نظیر بھٹو صاحبہ کی روح کو تسکین مل رہی ہوگی اور میرے قائد میاں محمد نواز شریف کے خواب کی تکمیل ہوئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 19 سال اپوزیشن کو میثاق جمہوریت یاد نہیں آیا، آج ان کو آئینی عدالت پر تکلیف کیوں ہو رہی ہے،یہ سمجھ سے بالاتر ہے، اختلاف کرنا حق ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں لیکن گالی گلوچ اور دشنام طرازی کو ہمیں ختم کرنا ہوگا،ہمیں ملک کو آگے لے کر چلنا ہے اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان کو پاکستان نے چار دن کے معرکے میں شکست فاش دی اور افواج پاکستان کا نام پوری دنیا میں چمکا تو اس کے نتیجے میں چیف آف آرمی سٹاف کو اس حکومت نے فیڈ مارشل کا لقب دیا انہی دنوں میں بلاول بھٹو کی سربراہی میں ایک وفد نے امریکہ، یورپ کا دورہ کیا اور انہوں نے شاندار سفارتکاری کی اور اپنی سفارتی مہارت کے ذریعے وہاں پر پاکستان کے موقف کواجاگرکیا،

دہائیوں بعد ہم نے جنگ جیتی اورسفارتی محاذ پر بھی کامیابی سمیٹی،ہندوستان بالکل بے بسی کی تصویر بنا رہا، مودی بالکل بے بسی کا شکار تھا، آج وہ تنہائی کا شکار ہیں،ہمیں اس حوالے سے پوری طرح قومی یکجہتی اور قومی اتحاد کو برقرار رکھنا چاہئے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے آئین کے دائرے میں رہ کر بھرپور معاونت کی، میں نے ان کے پاس جاکر گوشگزار کیا کہ عدالت عظمیٰ،عدالت عالیہ اور نچلی عدالتوں میں ریونیو کے کیسز 10،10 سال سے التواء میں پڑے ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے کمال مہربانی سے اس کا نوٹس لیا، بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ اس اجلاس کے نتیجے میں میرٹ پر ان عدالتوں نے فیصلے کئے اور آج قومی خزانے میں اربوں روپے ا ٓچکے ہیں، ہم اس بات کی بھی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل اور لا ء اینڈ جسٹس کمیشن جیسے اہم اداروں کی بدستور سربراہی کرتے رہیں گے، اس کے ذریعے ہمیں ان کی رہنمائی حاصل رہے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو معرکہ حق میں جو شاندار کامیابی اللہ نے عطاء فرمائی،ہندوستان سے ہم نے وہ وہ قرض اتارے اور بدلے لئے کہ شاید دیکھتی آنکھ دنگ رہ گئی، سنتے کانوں کو یقین نہیں آرہا تھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بے پایہ فضل و کرم تھا، آج ہم جس ملک میں جاتے ہیں وہاں کس طرح پانچ قدم آگے چل کر پاکستان کاخیرمقدم کیاجاتاہے اس سے بڑی اور عزت کیا ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی عزت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال مہربانی سے چار چاند لگائے،اس کے لئے جرأت مندانہ فیصلے ہوئے یہ جری کردار اور اخلاص کا نتیجہ ہے، یہ باہمی مشاورت کا نتیجہ ہے یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا نتیجہ ہے،یہ فجر کے وقت اللہ کے حضور سربسجود ہوکر دعا مانگنے کا نتیجہ ہے،دلیری کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے سفارتی معاشی اور عسکری محاذ پر عزت دی ہے اور اس سے قبل دہائیوں تک پاکستان کو اس طرح کی عزت نصیب نہیں ہوئی، اسی وجہ سے حکومت نے تمام حلیف جماعتوں کی مشاورت سے سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا دیا تو پوری قوم نے اس کو سراہا اور آج اگر اس کو آئینی تحفظ دینے کے لئے آئینی ترمیم کا حصہ بنا رہے ہیں تو اس میں کوئی بری بات نہیں ہے، قومیں اپنے ہیروز کو یوں ہی عزت دیتی ہیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کو دن رات یاد کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بڑی عظیم اور جری قوم ہے ہم اپنے ہیروز کو اپنے شہیدوں کو عزت دینا اور عزت کرانا بھی جانتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بلاول بھٹو میرے انتہائی قریبی ساتھی ہیں اور چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں انہوں نے اپنی تقریر میں بڑی اچھی باتیں کی ہیں،انہوں نے بڑی پرجوش اور متعلقہ تقریر کی ہے اور مجھے بھی اچھے القابات سے نوازا ہے،اس پر میں ان کا شکر گزار ہوں،ان کی اور میری سوچ میں کوئی فرق نہیں اگر صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا، یہ چار اکائیاں مل کر پاکستان بنتا ہے،یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مشاورت کے بغیراٹھارویں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ میں کوئی ترمیم ہو سکے،ہمیں اس کا پوری طرح احترام ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے جتنی بھی ترقی کریں ،ہمیں خوشی ہوگی، اس میں کوئی دو رائے نہیں، جس چیز سے پاکستان اور وفاق کو مضبوط ہوتا ہے،

میں اس کے ساتھ ہوں جو پاکستان اور وفاق کو کمزور کرتی ہے وہ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ جو چیزپاکستان کے لئے مفید نہیں ہے جیسے کالا باغ ڈیم ہے اگراس پراتفاق رائے نہیں ہے توقومی یکجہتی پر100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کریں گے،سب سے زیادہ قربانیاں وہ دے رہے ہیں،پورے ملک میں امن وامان برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے ان کے اخراجات وفاق برداشت کرتا ہے۔میری استدعا ہے کہ ہم بیٹھ کر بات کریں گے جہاں چاروں اکائیاں نہیں مانیں گی کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے،وفاق ہے تو ہم ہیں۔ہم سب وفاقی اکائیاں ہیں مل کر دکھ سکھ ختم اور خوشیاں بانٹنی ہیں۔

آج پاکستان کی موجودہ سپریم کورٹ پر آخری سورج غروب ہو رہا ہے، کل سورج صرف محض سپریم کورٹ پر طلوع ہوگا — نام سپریم، اختیار غیر سپریم سہیل رانا لائیو میں

The final sun sets over Pakistan’s existing Supreme Court; tomorrow, the sun will rise only on a Supreme Court name is supreme, there is no real supremacy in authority.

وفاکی کابینہ کا ھنگامہ خیز اجلاس طلب کر لیا گیا۔۔ترکی میں 2024ء فوجی ہلاک۔ ٹیم میں رھنا ھے تو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلوں بھارتی بورڈ کی کوھلی اور شرما کو ھدایت۔۔وفاق مضبوط ھو گا تو صوبے مضبوط ھونگے وزیر اعظم۔۔افغان حکومت تجارت بند ڈرامہ۔۔اسپیکر ایاز صادق کی تحریک انصاف کو آفر ؟مذاکرات واحد حل۔سینٹ میں اج اھم ترین شخصیات کی ملاقات۔۔جعلی ترامیم کو نھی مانتے۔پاکستان میں دھشت گردی بم دھماکوں کا خطرہ۔ خفیہ اداروں کی رپورٹ کے بعد سیکورٹی ھای الرٹ دفعہ 144 لگا دی گئی۔۔ملک بھر میں سرحدوں کی سیکورٹی بڑھا دی گئی پارلیمنٹ کے داخلی خارجی راستوں پر چیکنگ سخت۔۔ستائيسویں ترمیم پاس آٹھویں ترمیم کی گونج۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

افغان حکومت کا پاکستان کے ساتھ تجارت بند کرنے کا فیصلہ ممکن نہیں ۔نقصان ان بڑے افغان سرمایہ کاروں کو پہنچے گا جو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں ارپوں روپیہ کی درآمدات واپس پاکستان بھیجنے کیلئے کرتے ہیں ۔یہ بہت بڑا مافیا ہے جس میں پاکستانی اور افغانی دونوں اطراف کے سرمایہ دار شامل ہیں۔سنٹرل ایشیا سے تجارت ممکن ہی نہیں ۔جو پھل ،سبزیاں اور ڈرائی فروٹ انہیں بیچنا چاہیں گے ان کے پاس پہلے ہی وافر اور زیادہ بہتر پیداوار کی صورت میں موجود ہیں

۔گاہک پاکستان میں ہیں جہاں اس معیار کے پھل ڈرائی فروٹ موجود نہیں۔صنعتیں موجود ہی نہیں تو کونسی نئی مارکیٹیں ڈھونڈیں گے اور کیا بیچیں گے۔فرض کریں سنٹرل ایشیا اور ایران میں پھل ،سبزیاں اور ڈرائی فروٹ کی مارکیٹ مل گئی ہے تو پیداواری لاگت کا کیا کریں گے جو تورخم یا سپین بولدک بارڈر کی پیداواری لاگت سے تقریبا بیس فیصد بڑھ جائے گی ۔بھارت سبسڈی دے کر خریداری کر سکتا ہے لیکن پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت اجازت ہی نہیں دے گا۔اب اسمگلنگ کیلئے نئے روٹس اور نئے طریقے تلاش کرنا پڑیں گے اس کے علاؤہ کوئی راستہ موجود ہی نہیں ۔

عدالتی پھرتیاں, ترقیاں اور اقرباپروریاں۔جسٹس اطہر من اللہ: چیف کے خود ساختہ ترجمان سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تک۔۔۔۔مصنف,شہزاد ملکعہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد29 نومبر 2018اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس اطہر من اللہ جج تعینات ہونے کے بعد صرف چار سال کی مدت میں کسی عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس کے عہدے پر پہنچے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے جسٹس اطہر من اللہ کو 17 جون سنہ 2014 میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا تھا

۔دو سال کے بعد انھیں مستقل کر دیا گیا اور 28 نومبر سنہ 2018 کو وہ اسی عدالت کے سب سے اہم عہدے پر پہنچ گئے اور ان کی مدت ملازمت سنہ 2023 میں پوری ہو گی۔پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں ان سے تیزی سے اس اعلیٰ عہدے پر شاید سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس فائز عیسیٰ ہی آئے جنھیں 2009 میں براہ راست بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔تاہم ان کی تعیناتی ایک مخصوص صورتحال میں عمل میں آئی تھی کیونکہ پی سی او ججوں کی برطرفی کے بعد عدالت میں کوئی بھی جج باقی نہیں رہا تھا۔ اس صورتحال میں ہائی کورٹ کے انتظامی امور چلانے کے لیے جسٹس قاضی فائز عسیی کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔اطہر من اللہ کا نام سنہ 2007 کی ’عدلیہ بحالی تحریک‘ کے دوران پہلی مرتبہ عوامی سطح پر سامنے آیا تھا۔نو مارچ 2007 سے لے کر تین نومبر2007 اور پھر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ان کے عہدے پر بحالی تک وکلا کی تحریک کے جو سرکردہ رہنما تھے ان میں بیرسٹر اعتزاز احسن، عاصمہ جہانگیر، علی احمد کرد اور حامد خان کے علاوہ اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔اطہر من اللہ کو اس وقت وکلا تحریک کے علاوہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جب افتخار چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے آٹھ ججوں کو ججز کالونی میں نظربند کیا گیا تو ان کے حالات کے بارے میں بھی معلومات اطہر من اللہ سے ہی ملتی تھیں۔سنہ 2014 میں جب اطہر من اللہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا

تو اس وقت وکلا برادری میں یہ تاثرعام تھا کہ ان کی تعیناتی جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سفارش پر ہی عمل میں آئی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کو ایک دھیمے مزاج کا انسان سمجھا جاتا ہے اور عدالت میں سماعت کے دوران کبھی وہ بلند آواز میں ریمارکس بھی نہیں دیتے دکھائی دیے۔جسٹس اطہر من اللہ کے اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے میں دیکھا جائے تو قسمت کا بھی عمل دخل ہے۔حال ہی میں عہدے سے برطرف کیے جانے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی سنیارٹی لسٹ میں جسٹس اطہر من اللہ سے اوپر تھے اور اگر انھیں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر عہدے سے نہ ہٹایا جاتا تو وہ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے۔ماضی قریب میں جسٹس اطہر من اللہ کے کچھ فیصلوں پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا۔یہ جسٹس اطہر من اللہ ہی تھے جنھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کو نااہل قرار دیا تھا۔ ان کا فیصلہ بعد میں سپریم کورٹ میں چیلنج ہو کر تبدیل ہوا تاہم سوشل میڈیا پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے ان کی تعریفوں کے پل باندھے۔لیکن کچھ عرصے کے بعد جب جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے اُنھیں رہا کرنے کا حکم دیا تو اسی سوشل میڈیا پر جسٹس اطہر من اللہ کو نہ صرف ہدف تنقید بنایا گیا بلکہ ان کے خلاف نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔بات یہاں تک بگڑی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامیہ کو اس سلسلے میں مقدمہ درج کروانا پڑا اور تب کہیں جا کر جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ رکا تھا۔.

اے پی پی اردو نیوز سروساہم ترین—قومی اسمبلی اجلاس۔۔۔وزیراعظممیثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا،فتنہ الخواج اوردشمنان پاکستان کی حرکتوں کا اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اوراب بھی منہ توڑجواب دیں گے ، وزیراعظم محمدشہبازشریف کاقومی اسمبلی میں خطاباسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمدشہبازشریف نے کہاہے کہ میثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا ہے،افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،فتنہ الخواج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اور اب بھی منہ توڑجواب دیں گے، خواہش ہے پاکستان سمیت پوراخطہ ترقی اور خوشحالی کاگہوارہ بن جائے، قومی یکجہتی اوروفاق کیلئے 100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعداپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ آج اس ایوان نے یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے قومی اتحاد اوریگانگت کوفروغ دیاہے جس پرتمام سیاسی جماعتوں اوران کے قائدین کا مشکورہوں، کل ہمارے انتہائی شفیق ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی صاحب اللہ کوپیارے ہوگئے،وہ استادوں کے استاد تھے اورپوری زندگی لکھائی پڑھائی میں گزاری،جب میدان سیاست میں قدم رکھا تو ذمہ داری اورعزم کے ساتھ مسلم لیگ کا ساتھ نبھایا، قائد نواز شریف کے ساتھ ان کی وابستگی ضرب المثل تھی، اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ اوراہلخانہ کوصبرجمیل عطا ءفرمائے۔انہوں نے کہاکہ کل وانا میں دہشت گردوں نے ایک بارپھردہشت گردی کابازارگرم کرنے کی گھٹیا اور مذموم حرکت کی ،اس واقعہ نے سانحہ اے پی ایس کی یاد تازہ کیں، اللہ تعالیٰ کاشکر ہے کہ خوارج جس میں بدقسمتی سے افغانستان کے لوگ شامل تھے، وہ تمام کے تمام جہنم رسید ہوئے اورتمام کیڈٹس اورٹیچرز کوبحفاظت نکالاگیا، میں اس پرپوری قوم کومبارکبادپیش کرتا ہوں اورمسلح افواج کا شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے اعلیٰ پایہ کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کامظاہرہ کیا، اسی طرح کل اسلام آباد میں دہشت گردی کااندوہناک واقعہ ہوا، دہشت گردوں نے جوڈیشمل کمپلیکس کونشانہ بنایا اور افراتفری میں اپنے آپ کودھماکہ سے اڑادیا جس میں وکلاء سمیت 12لوگ شہید ہوگئے اور 4موت و حیات کی کشمکش میں ہیں، ہم تمام شہدا ء کے بلندی درجات اورزخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہیں،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان واقعات میں خارجی ہاتھ نمایاں ہے، کل میں نے بیان دیا کہ فتنہ الخوارج میں ہندوستانی ہاتھ شامل ہے اوراس میں بدقسمتی سے ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کے فٹ پرنٹ نظرآرہے ہیں، اس پرہندوستان کی حکومت کی جانب سے ٹویٹ آیا کہ الزامات غلط ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان میں جعفرایکسپریس پرحملہ کے ثبوت ہم پوری دنیا کے سامنے لے کرآئے کہ کس طرح ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغانستان سے متحرک تھے اوردہشت گردوں کارابطہ ان کے ساتھ تھااورآگے ان کا رابطہ ہندوستان میں ان کے حمایتیوں سے تھا،یہ حقائق ہم نے پوری دنیا کے سامنے پیش کئےجس کوکسی نے چیلنج نہیں کیا اورنہ ہی اس کی تردید کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ فتنہ الخوارج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، ان کوپہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اوراب بھی منہ توڑجواب دیں گے، پاکستان کی ترقی اورخوشحالی کی راہ میں ان کو قطعی طور پر رکاوٹیں ڈالنے نہیں دیا جائے گا، حال ہی میں دوحہ اور استنبول میں امن مذاکرات ہوئے جس میں پاکستان نے شرکت کی، ہماری افغانستان کی عبوری حکومت سے ایک ہی شرط تھی کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دہشت گردگروپوں کو افغانستان کی سرزمین پاکستان، پاکستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کرنے سے روکاجائے، آئے روز ہماری افواج بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں ان کامقابلہ کر رہی ہوتی ہیں ، ہرروز ہمارے افسراورجوان شہید ہورہے ہیں،پاکستان کے عظیم کڑیل جوان جام شہادت نوش کرتے ہوئے اپنے بچوں کویتیم کرتے ہیں مگرلاکھوں بچوں کویتیم ہونے سے بچاتے ہیں، اس سے بڑی قربانی کوئی ہو ہی نہیں سکتی جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے ،ہم چاہتے کہ امن قائم ہو اور افغانستان امن میں برابرشریک ہو کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جوپاکستان کیلئے اچھا ہے وہ افغانستان کیلئے بھی اچھا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ جھوٹے سچے وعدے کرے اور پھران گروپوں کولگام نہ دیں، ایک ماہ پہلے جب پاکستان پرحملہ ہوا توان کے وزیرخارجہ متقی دہلی میں تھے،جن افغان بہن بھائیوں کو40سال تک پاکستان نے اپنے وسائل سے کسی بیرونی امداد کے بغیر امداددی اوران کومحسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ یہاں پرپرائے ہیں اوریہ مہمان نوازی ہم کرتے رہیں گے جب تک وہ سکون کے ساتھ اپنے گھروں کونہیں چلے جاتے، 40سال کی مہمان نوازی کاجوصلہ ہمیں دیاگیاہے

وہ پوری دنیادیکھ رہی ہے،اٖفغان حکام کے دہلی کے دورہ کے پیغامات ہمیں اچھی طرح سے سمجھ میں آرہے ہیں، انہوں نے دعوت دی کہ صدق دل کے ساتھ ہمارے ساتھ بیٹھیں اوردہشت گردوں کولگام دیں ہمارے ساتھ وعدہ کریں کہ پوری طرح ہمارے ساتھ چلیں گے تاکہ خطہ میں امن ہو اورپاکستان سمیت پوراخطہ ترقی اورخوشحالی کاگہوارہ بن جائے۔ وزیراعظم نے کہاکہ آج جوترامیم منظورہوئی ہیں اس حوالے سے وہ سب سے پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے بھی مشکورہیں جو خود بنفس نفیس یہاں پر تشریف لائے اور آج اس پوری کارروائی میں شریک رہے ، میں بلاول بھٹو زرداری، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، چوہدری سالک حسین عبدالعلیم خان، اعجازالحق اور ایمل ولی خان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، اسی طرح ہم سپیکر، ڈپٹی سپیکر ڈپٹی پرائم منسٹر، وزیرقانون، اٹارنی جنرل، قائمہ کمیٹیز اور اس عمل میں شریک تمام اہلکاروں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ ان ترامیم پرمشاورت کے ساتھ کام کیا اس مشاورت کے نتیجے میں یہ ترامیم آج آئین کا حصہ بن گئی ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ میثاق جمہوریت میں بڑے واضح انداز میں آئینی عدالت کے قیام کاوعدہ کیاگیاتھا آج وہ خواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا مجھے پورا یقین ہے کہ آج محترمہ شہید بے نظیر بھٹو صاحبہ کی روح کو تسکین مل رہی ہوگی اور میرے قائد میاں محمد نواز شریف کے خواب کی تکمیل ہوئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 19 سال اپوزیشن کو میثاق جمہوریت یاد نہیں آیا، آج ان کو آئینی عدالت پر تکلیف کیوں ہو رہی ہے،یہ سمجھ سے بالاتر ہے، اختلاف کرنا حق ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں لیکن گالی گلوچ اور دشنام طرازی کو ہمیں ختم کرنا ہوگا،ہمیں ملک کو آگے لے کر چلنا ہے اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان کو پاکستان نے چار دن کے معرکے میں شکست فاش دی اور افواج پاکستان کا نام پوری دنیا میں چمکا تو اس کے نتیجے میں چیف آف آرمی سٹاف کو اس حکومت نے فیڈ مارشل کا لقب دیا انہی دنوں میں بلاول بھٹو کی سربراہی میں ایک وفد نے امریکہ، یورپ کا دورہ کیا اور انہوں نے شاندار سفارتکاری کی اور اپنی سفارتی مہارت کے ذریعے وہاں پر پاکستان کے موقف کواجاگرکیا، دہائیوں بعد ہم نے جنگ جیتی اورسفارتی محاذ پر بھی کامیابی سمیٹی،ہندوستان بالکل بے بسی کی تصویر بنا رہا، مودی بالکل بے بسی کا شکار تھا، آج وہ تنہائی کا شکار ہیں،ہمیں اس حوالے سے پوری طرح قومی یکجہتی اور قومی اتحاد کو برقرار رکھنا چاہئے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے آئین کے دائرے میں رہ کر بھرپور معاونت کی، میں نے ان کے پاس جاکر گوشگزار کیا کہ عدالت عظمیٰ،عدالت عالیہ اور نچلی عدالتوں میں ریونیو کے کیسز 10،10 سال سے التواء میں پڑے ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے کمال مہربانی سے اس کا نوٹس لیا، بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ اس اجلاس کے نتیجے میں میرٹ پر ان عدالتوں نے فیصلے کئے اور آج قومی خزانے میں اربوں روپے ا ٓچکے ہیں، ہم اس بات کی بھی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل اور لا ء اینڈ جسٹس کمیشن جیسے اہم اداروں کی بدستور سربراہی کرتے رہیں گے، اس کے ذریعے ہمیں ان کی رہنمائی حاصل رہے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو معرکہ حق میں جو شاندار کامیابی اللہ نے عطاء فرمائی،ہندوستان سے ہم نے وہ وہ قرض اتارے اور بدلے لئے کہ شاید دیکھتی آنکھ دنگ رہ گئی، سنتے کانوں کو یقین نہیں آرہا تھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بے پایہ فضل و کرم تھا، آج ہم جس ملک میں جاتے ہیں وہاں کس طرح پانچ قدم آگے چل کر پاکستان کاخیرمقدم کیاجاتاہے اس سے بڑی اور عزت کیا ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی عزت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال مہربانی سے چار چاند لگائے،اس کے لئے جرأت مندانہ فیصلے ہوئے یہ جری کردار اور اخلاص کا نتیجہ ہے، یہ باہمی مشاورت کا نتیجہ ہے یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا نتیجہ ہے،یہ فجر کے وقت اللہ کے حضور سربسجود ہوکر دعا مانگنے کا نتیجہ ہے،دلیری کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے سفارتی معاشی اور عسکری محاذ پر عزت دی ہے اور اس سے قبل دہائیوں تک پاکستان کو اس طرح کی عزت نصیب نہیں ہوئی، اسی وجہ سے حکومت نے تمام حلیف جماعتوں کی مشاورت سے سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا دیا تو پوری قوم نے اس کو سراہا اور آج اگر اس کو آئینی تحفظ دینے کے لئے آئینی ترمیم کا حصہ بنا رہے ہیں تو اس میں کوئی بری بات نہیں ہے، قومیں اپنے ہیروز کو یوں ہی عزت دیتی ہیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کو دن رات یاد کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بڑی عظیم اور جری قوم ہے ہم اپنے ہیروز کو اپنے شہیدوں کو عزت دینا اور عزت کرانا بھی جانتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بلاول بھٹو میرے انتہائی قریبی ساتھی ہیں اور چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں انہوں نے اپنی تقریر میں بڑی اچھی باتیں کی ہیں،انہوں نے بڑی پرجوش اور متعلقہ تقریر کی ہے اور مجھے بھی اچھے القابات سے نوازا ہے،اس پر میں ان کا شکر گزار ہوں،ان کی اور میری سوچ میں کوئی فرق نہیں اگر صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا، یہ چار اکائیاں مل کر پاکستان بنتا ہے،یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مشاورت کے بغیراٹھارویں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ میں کوئی ترمیم ہو سکے،ہمیں اس کا پوری طرح احترام ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے جتنی بھی ترقی کریں ،ہمیں خوشی ہوگی، اس میں کوئی دو رائے نہیں، جس چیز سے پاکستان اور وفاق کو مضبوط ہوتا ہے،میں اس کے ساتھ ہوں جو پاکستان اور وفاق کو کمزور کرتی ہے وہ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ جو چیزپاکستان کے لئے مفید نہیں ہے جیسے کالا باغ ڈیم ہے اگراس پراتفاق رائے نہیں ہے توقومی یکجہتی پر100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کریں گے،سب سے زیادہ قربانیاں وہ دے رہے ہیں،پورے ملک میں امن وامان برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے ان کے اخراجات وفاق برداشت کرتا ہے۔میری استدعا ہے کہ ہم بیٹھ کر بات کریں گے جہاں چاروں اکائیاں نہیں مانیں گی کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے،وفاق ہے تو ہم ہیں۔ہم سب وفاقی اکائیاں ہیں مل کر دکھ سکھ ختم اور خوشیاں بانٹنی ہیں۔

27 ویں آئینی ترمیم بل پاس سب کچھ طے پا گیا۔۔مدرسے غیر قانونی ہیں جبکہ چکلے، مساج سینٹر اور شراب خانے مکمل قانونی زمین پر بنے ہوئے ہیں شرم کرو وزیر صاحب ان مدرسوں والوں نے ہی تیرا جنازہ پڑھانا اے۔*سری لنکا کرکٹ ٹیم سیریز چھوڑا کر واپس جانے چاہتی ہے۔ منیجر سری لنکا کرکٹ ٹیم چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کچھ دیر میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم سے ملاقات کریں گے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*اسلام آباد دھماکا: حملہ آور کو جوڈیشل کمپلیکس تک لانیوالے موٹرسائیکل رائیڈر کو پکڑ لیا گیا*اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش دھماکا کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور جوڈیشل کمپلیکس تک کیسےپہنچا اس حوالے سے پولیس نےتحقیقات میں سراغ لگا لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نےحملہ آور کو جوڈیشل کمپلیکس تک لانے والے موٹرسائیکل رائیڈر کو پکڑلیا۔پولیس ذرائع کے مطابق آن لائن موٹرسائیکل رائیڈر نے حملہ آور کو 200 روپے میں کچہری تک پہنچایا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور کے گولڑہ تک پہنچنے سے متعلق بھی سیف سٹی کیمروں کی مدد سے سراغ کی کوششیں جاری ہیں۔اس سے قبل تحقیقاتی اداروں کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خودکش حملہ آور جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچا، حملہ آور پیرودھائی سے موٹر سائیکل پر جی الیون کچہری آیا۔

*قومی اسمبلی نے بھی 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی**اسلام آباد۔۔۔ قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم پیش کر دی گئی**اسلام آباد ۔۔۔ 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں 231 اراکین نے ووٹ دے**اسلام آباد ۔۔ 4 اراکین نے مخالفت کی* *اسلام آباد۔۔۔ وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم پیش کی تھی*

مدرسے غیر قانونی ہیں جبکہ چکلے، مساج سینٹر اور شراب خانے مکمل قانونی زمین پر بنے ہوئے ہیں شرم کرو وزیر صاحب ان مدرسوں والوں نے ہی تیرا جنازہ پڑھانا اے

چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کچھ دیر میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم سے ملاقات کریں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکن ہائی کمشنر،ٹیم منیجر سے ملاقات، مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی، وزیر داخلہ محسن نقوی نے سری لنکن ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی کی ضمانت دی، سری لنکن کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو دورہ پاکستان مکمل کرنے کی ہدایت کردی(‏دورہ ادھورا چھوڑنے والےکھلاڑی پر 2 سال کی پابندی لگے گی)

اسلام آباد بادبان + ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ۔۔۔وانا کیڈٹ دھشت گرد حملہ 525 کیڈٹس 115 بحفاظت ریسکیو کر لیا بادبان ٹی وی رپورٹ۔۔3 دھشت گرد کیڈٹ کالج کے اندر موجود 310 جنٹلمین کیڈٹ بھی۔27 آئینی ترمیم کے سینیٹ اجلاس میں ہمارے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔آپریشن کے دوران کیڈٹ کالج کے کسی بھی طالبعلم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ائینی ترمیم اج منظور ھو کر صدر مملکت دستخط کرینگے۔ملک بھر میں سیکورٹی ھای سیکورٹی ھای الرٹ۔منسٹری آف فارن افئیرز افغانستان کا اسلام آباد کچہری اور وانا کیڈٹ کالج پہ اظہار یکجہتی کا بیان جاری۔ وزیر داخلہ وضاحت کریں کہ اسلام آباد کی سول کورٹس کے مین گیٹ کے بالکل سامنے دہشتگرد کیسے پھنچے.۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*اپڈیٹ**11 نومبر 2025، کیڈٹ کالج وانا، جنوبی وزیرستان*کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے اب تک 115 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا ہے۔ *سیکیورٹی ذرائع**کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجین کو کالج کی ایک مخصوص عمارت تک محدود کر دیا گیا ہے، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔* سیکیورٹی ذرائعجس عمارت میں افغان خوارج موجود ہیں، وہ کیڈٹس کی رہائشی عمارتوں سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ ابھی تک تمام کیڈٹ محفوظ ہیں*سیکیورٹی ذرائع**افغان خوارجیوں کی کالج میں موجودگی کے باعث کیڈٹس کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن نہایت احتیاط سے جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع*کالج کی حدود سے کیڈٹس کو نکالنے کا عمل بتدریج جاری ہے۔ *سیکیورٹی ذرائع*اس وقت بھی کالج کے اندر تقریباً 535 افراد موجود ہیں۔ *سیکیورٹی ذرائع*وانا کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجیوں کے خلاف آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔ *سیکیورٹی ذرائع*واضح رہے کہ 10 نومبر کو افغان خوارجیوں نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی۔ *سیکیورٹی ذرائع*دھماکے سے کالج کا مرکزی دروازہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا، جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ *سیکیورٹی ذرائع*پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے دو خوارجیوں کو موقع پر ہی جہنم واصل کر دیا تھا۔ *سیکیورٹی ذرائع*معصوم قبائلی بچوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ پاکستان کی خوشحالی سے۔دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے

وزیر دفاع خواجہ آصف ہم حالت جنگ میں ہیں۔ جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ پاک فوج یہ جنگ افغان پاکستان کے سرحدی علاقے اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں لڑ رہی ہے اسے اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں پر ہونے والے آج کے خودکش حملے کو ویک اپ کال کے طور پر لینا چاہیے: یہ پورے پاکستان کی جنگ ہے، جس میں پاک فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ہے اور عوام کو محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ اس ماحول میں کابل کے حکمرانوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی زیادہ امید رکھنا فضول ہوگا۔ کابل کے حکمران پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتے ہیں لیکن اس جنگ کو اسلام آباد تک پہنچانا کابل کی طرف سے ایک پیغام ہے، الحمد للہ پاکستان جواب دینے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔

ایس ایس جی کمانڈوز نے کیڈٹ کالج وانا میں موجود 3 دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیاکیڈٹ کالج پر خودکش حملہ آور کے علاوہ 4 دہشتگردوں کو ہلاک کرلیا گیاآپریشن کے دوران کیڈٹ کالج کے کسی بھی طالبعلم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا

‏محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دیاسلام آباد حملے کے بعد پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹمحکمہ داخلہ پنجاب نے تمام اضلاع میں سکیورٹی پلان پر من و عن عملدرآمد کی ہدایت کیدہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر پیشگی اقدامات کی ہدایت کی گئی محکمہ داخلہ کی پنجاب کے حساس، اہم اور گنجان آباد علاقوں میں سکیورٹی بڑھانے کی ہدایتآئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور، تمام آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی آوز کو ہدایت جاریپنجاب بھر میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا مراسلہ جاریانتہاپسندی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مربوط اور فعال اقدامات اٹھائے جائیں، محکمہ داخلہ پنجابشہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے

‎سینیٹ سیکرٹریٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹسینٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایوان بالا کے اجلاس کا دن اور وقت تبدیل کر دیا گیا۔ اجلاس 13 نومبر 2025 شام 4 بجے کی بجائے اب 12 نومبر شام 5 بجے ہو گا ۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے

خودکش حملہ اور ایجنسی ۔ اظہر سیدپاکستان کی ایجنسیاں بیک وقت سی آئی اے ،را،موساد اور خاد کو افغانستان میں ناکوں چنے چبوا چکی ہیں۔لال مسجد آپریشن ایک تزویراتی غلطی تھی جس نے افغانستان میں پاکستان سے عاجز آئے امریکیوں کو بدلہ لینے کیلئے طالبان میں نفوز کرنے کا موقع ملا ۔بنے بنائے تربیت یافتہ اور مقامی آبادیوں کا حصہ جنگجو پاکستان مخالف ایجنسیوں کی پراکسی بن گئے۔پاکستان پر 2008 سے 2012 کے دوران وہ جنگ مسلط کی گئی جو دنیا کی حالیہ تاریخ میں اپنی نوعیت کی واحد جنگ تھی ۔پنجاب میں آئی ایس آئی کے دفاتر خودکش حملوں کا نشانہ بنائے گئے،جدید ترین طیاروں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا تھا۔ایک لیفٹیننٹ جنرل جی ایچ کیو سے نکلتے وقت خود کش حملہ آور کا نشانہ بنا ۔دو بریگیڈیئر خود کش حملہ آوروں کا نشانہ بنے ۔دہشت گردوں کو جدید ترین مواصلاتی ٹیکنالوجی حاصل تھی ،مصنوعی سیاروں کی مدد حاصل تھی ۔قربانیاں بے شمار دی گئیں ۔ایک دن آیا آئی ایس آئی تمام مخالف ایجنسیوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئی۔دہشتگردی کے تمام نیٹ ورک تباہ کر دئے گئے ۔ہماری ایجنسیاں ایران ایسی نہیں ہیں جہاں ایک ہی رات میں اسرائیل درجنوں کمانڈر اور سائنسدان اپنی پراکیسوں کے زریعے مار دیے ۔ہماری ایجنسیاں بہت بہتر اور بہت آگے کی ہیں۔اسلام آباد کچہری میں خودکش حملہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا تھا۔انہیں خیبرپختونخوا میں محدود کر کے ختم کیا جا رہا تھا۔پھر خودکش بمبار کیسے دارالحکومت پہنچ گیا۔ایسے نہیں ہوتا کسی نے بارود بھری جیکٹ پہنی اور دھماکہ کرنے پہنچ گیا۔ایک مکمل نیٹ ورک ہوتا یے۔سہولت کار ہوتے ہیں۔مقامی آبادیوں میں محفوظ ٹھکانہ ہوتا ہے۔بارود کی ترسیل ہوتی ہے۔جیکٹ بنتی ہے ۔محفوظ نقل و حمل ہوتی ہے ۔وفاقی دارالحکومت میں حملہ کا مطلب یہ ہے پاکستان مخالف دہشتگرد نیٹ ورک ماضی کی طرح سلیپر سیل بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔

ایجنسی یقینی طور پر کام شروع کر چکی ہو گی۔سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ جاری ہو گی ۔حملہ اور کی نقل و حمل کو جانچا جا رہا ہو گا ۔ہمیں لگتا ہے کچی آبادیوں میں مقیم افغان باشندوں پر ایک بڑے کریک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔جی الیون کچہری کے ساتھ ہی میرا بادی غیر قانونی کچی بستی ہے ۔یہاں غیر قانونی مدارس بھی ہیں۔دارالحکومت کی سبزی اور فروٹ ہول سیل منڈی کے ساتھ گندے نالے کے کنارے بھی ایک کچی بستی ہے جہاں بڑی تعداد میں افغان مہاجرین موجود ہوتے تھے۔راولپنڈی کی دو بڑی آٹو مارکیٹ سلطان کا کھو اور مٹھو کا احاطہ میں کافی تعداد میں افغان مہاجرین برسوں سے کام کر رہے ہیں ۔دہشتگرد نیٹ ورک نے سلیپر سیل بنائے ہیں یقینی طور پر انہی علاقوں میں ہیں جہاں افغان مہاجرین کے ٹھکانے ہیں۔ایجنسی یقینی طور پر تمام ممکنہ ٹھکانوں کی جانچ کرے گی تاکہ مستقبل میں دہشتگرد کامیاب نہ ہو سکیں۔

سینیٹر عرفان صدیقی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پاکستان ایک شفیق، باوقار اور اصول پسند آواز سے محروم ہو گیا ہے۔ انہوں نے دہائیوں تک اپنے قلم، اپنی علمی و ادبی کاوشوں، اپنی عوامی خدمت اور پارلیمان میں اپنی ذمہ دارانہ کردار کے ذریعے ہمیشہ سوچ سمجھ کر، خلوص کے ساتھ اور وقار کے ساتھ قوم کی خدمت کی۔سینیٹر عرفان صدیقی کا مکالمے، اعتدال اور جمہوری اقدار سے عزم انہیں تمام سیاسی حلقوں میں عزت اور احترام دلاتا تھا۔ وہ دل کے استاد اور عمل کے سیاست دان تھے، جو تلخی کے بجائے دانائی اور شائستگی پر مبنی سیاست کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی روح کو جنتِ فردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا کرے، اور ان کے اہلِ خانہ کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبر دے۔ آمین۔پاکستان کی علمی، فکری اور سیاسی دنیا میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ ان کی شفقت بھری رہنمائی میسر رہی، جس کی یادیں ہمیشہ میرے لیے قیمتی اثاثہ رہیں گی

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے اسلام آباد میں منعقدہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے ملائیشیا کے ڈپٹی پریذیڈنٹ داتوک نور جزلان بن تن سری محمد نے اس آج پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، اقتصادی روابط اور مختلف شعبہ جات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط اور نئی جہت فراہم کرے گا۔ اسپیکر نے اپنے ملائیشین ہم منصب کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیم، سیاحت، حلال فوڈ، اور پام آئل کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں

۔ اسپیکر نے عوامی سطح پر روابط اور تجارتی تعلقات کے فروغ کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ گوادر پورٹ پورے خطے میں رابطوں اور اقتصادی تعاون کا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو دونوں ممالک کے لیے مشترکہ اقتصادی مفادات کا ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اس موقع پر مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز اور منفی پروپیگنڈا کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے مسلم اُمہ کے مابین اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

سردار ایاز صادق نے ملائیشیا کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی و اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔داتوک نور جزلان بن تن سری محمد نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں کی گئی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر نے پاکستان کے جمہوری عزم اور علاقائی امن کے لیے کوششوں کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اسلام آباد کچہری کے باہر ہندوستانی سپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج کا دھماکہ خودکش نکلا۔اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکا میں جاں بحق افراد کی تعداد 12 ہوگئی۔سینٹ اور قومی اسمبلی مچھلی منڈی بن گئے۔ ۔گنا 400 روپے من اور گنے کی گنڈیری 4000 روپے من کسان۔امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ نئی تجارتی ڈیل کا اعلان کردیابھارت کے ساتھ نئی ڈیل ماضی سے مختلف ہے،امریکی صدر ٹرمپ۔سموگ سولر پینل مارکیٹ پر بجلی بن کر گر پڑی سولر پینل کی قیمتیں 10 ہزار سے کم ہونے کا امکان۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بھارت کا ایک اور فراڈ پکڑا گیا بھارتی 34 شھری ھلاک کر کے ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش ناکام تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ٹاپ بریکنگ بھارتی سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں نے نئی دہلی دھماکے کو انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا، بی جے پی حکومت پر انگلیاں اٹھنے لگیںبھارتی صحافی شالنی شکلہ نے کہا: “ہر بار جب بی جے پی بحران میں آتی ہے، دہشتگردی یا بلاسٹ کا نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، فوراً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے”کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ پردیوت بوردولوی کا انکشاف: “یہ سب بہار انتخابات سے پہلے کا ایک متوقع سیاسی اقدام تھا”صحافی روی نیر نے لکھا: “بہار الیکشن کے دوران بی جے پی کمزور پوزیشن پر ہے، مزید ایسے دھماکوں کی توقع ہے”بھارتی شہری سوال اٹھانے لگے: “ہر انتخاب سے پہلے بم دھماکے کیوں ہوتے ہیں؟ آخر فائدہ کس کو ہوتا ہے؟”سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے بی جے پی پر سیاسی مفاد کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کے الزامات لگا دیےبھارتی صحافی رویندر کپور اور سربھی ایم نے تمام بڑے دہشت گرد حملوں کو ’’بی جے پی حکومت‘‘ سے جوڑا، پٹھان کوٹ، پلوامہ، پہلگام اور اب لال قلعہ دھماکہسابق آر ایس ایس رہنما یشونت شنڈے کے عدالتی حلفیہ بیان کا حوالہ دوبارہ زیرِ بحث “سنگھ پریوار نے انتخابی فائدے کے لیے بم دھماکے کروائے”بھارتی اخبار Coastal Digest نے بھی تصدیق کی تھی کہ “سنگھ پریوار ملک بھر میں دھماکے کروا کر بی جے پی کو فائدہ پہنچاتا رہا ہے”بھارتی صحافی کلکی نے کہا: “بی جے پی حکومت نے دہلی میں اپنے ہی شہریوں پر بم گرائے تاکہ احتجاج روکے جائیں۔ یہ دہشتگردی ہے”عوامی ردِعمل میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ امت شاہ کے وزیرِ داخلہ بننے کے بعد ہر بڑا حملہ بی جے پی حکومت کے دور میں ہی کیوں ہوتا ہے؟تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لال قلعہ دھماکے کے فوراً بعد پاکستان کو ملوث ٹھہرانا بی جے پی کا پرانا حربہ ہے۔ مقصد صرف انتخابی ہمدردی حاصل کرنا ہےبھارتی عوام کا نیا بیانیہ اب سامنے آ گیا: ’’یہ دھماکے پاکستان نہیں، سیاست کی فیکٹریاں کروا رہی ہیں‘‘

*بھارت میں فالس فلیگ کی پرانی چال ، سفاک مودی سرکار کا نیا ڈرامہ پھر ناکام*نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب میٹرو اسٹیشن پر دھماکہ کے بعد بھارتی میڈیا نے سنجیدہ سوالات اٹھا دئیے*بھارتی جریدہ دی ٹریبیون انڈیا کے مطابق؛*بھارت کے تاریخی لال قلعہ کے قریب دھماکہ نے تفتیشی اداروں کو سخت الجھن میں ڈال دیا ہے جائے وقوعہ پر نہ کوئی اسپلنٹر ملا، نہ زمین پھٹی اور نہ ہی کسی دھماکہ خیز مواد( RDX ) کے شواہد ملے ، *دی ٹریبیون انڈیا* کسی دھماکہ خیز مواد کے ٹکڑے،بارود ی بو اوربارودی دھوئیں کے کوئی آثار نہیں ملے ، *دی ٹریبیون انڈیا**دی ٹریبیون انڈیا کے مطابق بھارتی پولیس نے خود کش امکانات کو مسترد کر دیا* ایک اعلیٰ بھارتی پولیس افسر کے مطابق، ابتدائی شواہد اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں کہ یہ کوئی خودکش حملہ تھا ، *دی ٹریبیون انڈیا*دہلی پولیس نے اس واقعہ کو مقبوضہ کشمیر اور فرید آباد میں برآمد اسلحہ سے جوڑنے سے گریز کیا ہے ، *دی ٹریبیون انڈیا**سفاک مودی کی فالس فلیگ اور پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم مکمل طور پر ناکام ہو* چکی ہے

‏ستائیسویں آئینی ترامیم سینٹ سے منظور ،ترمیم کے حق میں 64 ووٹ پڑے ‏پی ٹی آئی کے سینٹر ابرار اللہ ابڑو اور جمعیت علما اسلام نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔یہ آئینی ترامیم فریب دینے اور فریب سہنے کا نصاب ہوا کرتی ہیں۔ عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،کیونکہ ان کا آئین سے کیا لینا دینا۔۔گنا 400 روپے من اور گنے کی گنڈیری 4000 روپے م کسان۔مافیا تیری قسمت کسانوں کو ویلیوز ایڈیشن کی طرف توجہ دینی چاہیے۔پاکستان نے محدود پیمانے پر تباہی مچا نے والہ ائٹم بم کا تجربہ۔*سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں دو کارروائیاں، 20 دہشتگرد جہنم واصل کردئیے گئے، آئی ایس پی آر ۔*سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں دو کارروائیاں، 20 دہشتگرد جہنم واصل کردئیے گئے، آئی ایس پی آر۔پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کی غیر قانونی اسلحے تک رسائی امن کیلئے خطرہ قرار دیدی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہنگامہ، 31 افراد ہلاک*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہونے والے ہنگاموں میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایکواڈورکی مچالا جیل میں صبح کے وقت ہنگامے ہوئے جس میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا جب کہ اس دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگاموں کے بعد مچالا جیل سے 27 افراد کی لاشیں ملیں جن کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حکام جیل میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی موت کی وجوہات کے بارے میں مزید پتا لگایا جائے۔

*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہنگامہ، 31 افراد ہلاک*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہونے والے ہنگاموں میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایکواڈورکی مچالا جیل میں صبح کے وقت ہنگامے ہوئے جس میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا جب کہ اس دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگاموں کے بعد مچالا جیل سے 27 افراد کی لاشیں ملیں جن کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حکام جیل میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی موت کی وجوہات کے بارے میں مزید پتا لگایا جائے۔

*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہنگامہ، 31 افراد ہلاک*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہونے والے ہنگاموں میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایکواڈورکی مچالا جیل میں صبح کے وقت ہنگامے ہوئے جس میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا جب کہ اس دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگاموں کے بعد مچالا جیل سے 27 افراد کی لاشیں ملیں جن کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حکام جیل میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی موت کی وجوہات کے بارے میں مزید پتا لگایا جائے۔

سوڈان کے وسطی علاقوں میں تازہ جھڑپوں کے باعث گزشتہ تین دنوں میں تقریباً دو ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی (IOM) کے مطابق یہ لوگ صوبہ شمالی کردفان کے علاقے بارا اور اس کے گردونواح کے قصبوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔کردفان اور مغربی دارفور حالیہ ہفتوں میں سوڈان کی خانہ جنگی کے اہم محاذ بن چکے ہیں، جہاں سرکاری فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔دارفور میں آر ایس ایف کے حملوں کے نتیجے میں الفاشر شہر پر قبضے کے بعد سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں۔ امدادی اداروں کے مطابق شہریوں کے خلاف مبینہ مظالم کے باعث لوگ تنگ کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔یہ خانہ جنگی 2023 میں اُس وقت شروع ہوئی جب فوج اور ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان جمہوری انتقالِ اقتدار کے عمل پر اختلافات پیدا ہوئے۔ ماضی میں یہ دونوں فورسز اتحادی تھیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس خانہ جنگی میں اب تک کم از کم 40,000 افراد ہلاک اور ایک کروڑ 20 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں، لیکن امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ججوں کو نکیل ۔ اظہر سیدنظریہ ضرورت کی تلوار سے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب کو جواز دینے،بھٹو کو پھانسی دینے،جنرل مشرف کو آئین کی تین سال تک عصمت دری کی اجازت دینے ۔ منتخب وزیراعظم کو بلیک لا ڈکشنری کی تلوار سے قتل کرنے والی عدلیہ اور غلیظ ججوں پر کچھ لوگوں کو بہت پیار آیا ہوا ہے ۔ یہ لوگ آئین اور قانون کی پٹاری کھولے بیٹھے ہیں ۔27 ویں آئینی ترامیم پر بال کھولے بین ڈال رہے ہیں۔چند لفظوں میں کہیں تو یہی اختصاریہ ہے گندی غلیظ عدلیہ گندے غلیظ جج ۔ہمیشہ فوج کی بندوق سے جمہوریت کا شکار کرتے آئے ہیں۔انکے منہ کو خون لگ گیا ہے۔مالکوں کے دلال بن کر از خود نوٹس کی تلوار سے منتخب حکومتوں کو مفلوج کرتے آئے ہیں۔حکم امتناعی کی آر میں ریاستی انتظام برباد کرنے کے عادی ہیں۔مالکوں نے نوسر باز کے بدترین تجربہ یا بلنڈر کے بعد اپنی غلطیاں سدھارنے کا فیصلہ کیا ہے۔تحریک لبیک پر پابندی سے خوارج کو دیکھتے ہی گولیوں سے بھون دینے تک سب کچھ ٹھیک کیا جا رہا ہے۔ایف آئی اے کے بدعنوان افسران پر گرفت سے لے کر نوسر باز گنڈوئے پر نمک ڈالنے تک سب کچھ ملک کے مفاد میں ہو رہا ہے ۔نئی آئینی ترامیم بھی عدلیہ میں اصلاحات کا عمل ہے اور واضح اشارہ ہے مالکان نے ججوں کو پالتوبنا کر ریاست پر گرفت قائم کرنے کی پالیسی ترک کر دی ہے ۔مالکوں نے گویا فیصلہ کر لیا ہے اب انہیں استمال نہیں کرنا اس لئے از خود نوٹس کا اختیار ختم کیا جا رہا ہے ۔ججوں کو حکومتی معاملات سے دور رکھنے کیلئے الگ سے آئینی عدالت قائم کی جا رہی ہے ۔دنیا بھر میں ریاستوں کا انتظام حکومتیں چلاتی ہیں ۔پاکستان واحد بدقسمت ریاست ہے جہاں غلیظ دلال جج حکومتوں کو مفلوج کر دیتے تھے ۔ہمیں آئینی ترامیم کے متعلق حسن ظن ہے ۔اس وقت ججوں کی مداخلت سے پاک حکومت کی اشد ضرورت ہے تاکہ بنیادی نوعیت کے فیصلے کئے جا سکیں ۔دنیا بہت تیزی کےساتھ تبدیل ہو رہی ہے ۔اس تیزی سے بدلتی دنیا میں حرامدے ججوں کی ضرورت نہیں ایسے ججوں کی ضرورت ہے جو صرف سول اور فوجداری مقدمات نمٹائیں اور بس ۔

این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل میں ہوشربا انکشافات: راولپنڈی اور اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹر مافیا بے نقابرانا تصدق حسیناسلام آباد – این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل کے حوالے سے حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں قائم غیر قانونی کال سینٹرز کے ذریعے بھتہ خوری اور بدعنوانی کا ایک منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے 15 کال سینٹرز سے ماہانہ 15 ملین روپے وصول کیے جاتے تھے۔ یہ رقوم ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر کی نگرانی میں ان کی ٹیم حسن امیر نامی فرنٹ مین کے ذریعے اکٹھی کرتی تھی۔ستمبر 2024 سے اپریل 2025 تک اس نیٹ ورک نے 120 ملین روپے جمع کیے۔ سب انسپکٹر بلال نے ایک نئے کال سینٹر کے لیے آٹھ لاکھ روپے ماہانہ کا معاہدہ طے کیا، جبکہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف-الیون میں کال سینٹر پر چھاپہ مارا گیا لیکن بعد ازاں ڈیل کے ذریعے معاملہ نمٹا دیا گیا۔ذرائع کے مطابق ایس ایچ او میاں عرفان نے یہ ڈیل 40 ملین روپے میں فائنل کی۔ بعد ازاں مئی 2025 میں عامر نذیر کو راولپنڈی آفس کی کمانڈ دے دی گئی، جبکہ ندیم خان بطور ڈپٹی ڈائریکٹر اور صارم علی بطور سب انسپکٹر تعینات ہوئے۔ کچھ ہی عرصہ بعد ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان علوی بھی اس ٹیم میں شامل ہوگئے۔نئی ٹیم نے بھی ماہانہ 15 ملین روپے بھتہ وصول کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ صارم علی نے اپنے فرنٹ مین کے طور پر محی الدین کو مقرر کیا۔ایک چھاپے کے دوران راولپنڈی کے ایک کال سینٹر سے 14 چینی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ صارم نے اپنے فرنٹ مین کے ذریعے چینی شہری کیلون کی اہلیہ پاکستانی خاتون عریبہ رباب سے رابطہ کیا۔عریبہ نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے 8 ملین روپے ادا کیے، جبکہ باقی 13 چینی شہریوں کی رہائی کے لیے مزید 12 ملین روپے وصول کیے گئے۔ حیران کن طور پر، صارم نے کیلون پر تشدد کیا اور ویڈیو عریبہ کو بھیج دی، جس کے بعد مزید 1 ملین روپے قانونی کارروائی کے نام پر وصول کیے گئے۔اس چھاپے سے حاصل 21 ملین روپے یوں تقسیم کیے گئے:صارم علی – 1.7 ملین روپےعثمان بشارت – 1.4 ملین روپےظہیر عباس – 1.0 ملین روپےڈپٹی ڈائریکٹر ندیم – 9.5 ملین روپے (عثمان بشارت کے دفتر سے)ایڈیشنل ڈائریکٹر عامر نذیر – 7.0 ملین روپے (ندیم کے ذریعے ادا کیے گئے)ندیم نے 2.7 ملین روپے خود رکھے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق تمام ملوث افسران کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔یہ اسکینڈل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک زبردست دھچکہ اور ندامت کا باعث بن گیا ہے، جو نظام احتساب پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

قہوہ خانوں کی تہذیب اور ان کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملنے والے کہیں پہ رک گئے ہیں قہوہ خانوں کا سفر جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمودرضاسیداگر ہم زندگی کے سفر کو پیچھے مر کر دیکھیں تو گاؤں کی راہوں، پکڈنڈیوں، اور دیہاتی بازاروں میں چھوٹے چھوٹے پھٹے لگے ہوتے تھے جہاں لکڑی کی بینچیں رکھی ہوتیں۔ ان بینچوں پر گاؤں کے بزرگ بیٹھ کر چائے اور قہوہ نوش فرماتے، اپنے مسائل پر گفتگو کرتے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے۔ یہ کہوہ خانے صرف چائے پینے کی جگہ نہ تھے بلکہ فکرو دانش کے مراکز ہوا کرتے تھے۔وقت گزرتا گیا تو شہروں میں بھی یہی روایت پروان چڑھی۔ اگر لاہور کا جائزہ لیں تو قیامِ پاکستان سے پہلے ہی یہاں پاک ٹی ہاؤس ادب و فنون کا مرکز بن چکا تھا۔ آج بھی وہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے۔ وہاں بڑے بڑے ادیب، شاعر، نقاد اور محقق چائے کے کپ پر بیٹھ کر دیر تک گفتگو کرتے۔ ان میں فیض احمد فیض، ناصر کاظمی، انتظار حسین، انیس ناگی، یونس جاوید، ڈاکٹر سہیل احمد خان، اسرار زیدی، سعادت حسن منٹو، اعتبار ساجد، اقبال ساجد اور دیگر بڑے نام شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جس نے لاہور آ کر پاک ٹی ہاؤس کی چائے نہ پی، اُس نے لاہور دیکھا ہی نہیں۔شام ڈھلتے ہی یہاں کی محفلیں رنگ پکڑتیں، چائے کے کپوں کے ساتھ مکالمے اور تخلیقی گفتگو کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا۔ پاک ٹی ہاؤس کے ایک مخصوص گوشے میں سید اسرار زیدی کی نشست ہوا کرتی تھی، جہاں کوئی دوسرا بیٹھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ دروازے کے ساتھ ڈاکٹر سہیل احمد خان، انتظار حسین، یونس جاوید اور دیگر شخصیات کا مخصوص حلقہ ہوتا۔میں خود انیس سو چوراسی پچاسی کے زمانے میں جب شاعری کی دنیا میں نیا نیا قدم رکھا، پاک ٹی ہاؤس جانا اپنے لیے فخر سمجھتا تھا۔ اسی دور میں میری ملاقات عباس تابش اور بہت سے ادیبوں سے ہوئی۔ اس زمانے میں حلقہ اربابِ ذوق لاہور کے اجلاس پاک ٹی ہاؤس میں ہوتے تھے

۔ ان کے سیکریٹری رشید مصباح اور جوائنٹ سیکریٹری اظہر غوری ہوا کرتے تھے۔ میری ایک نظم کی صدارت جیلانی کامران نے اور ایک غزل کی صدارت ڈاکٹر انور سدید نے فرمائی۔ریڈیو پاکستان لاہور کی کینٹین کا ذکر کیے بغیر قہوہ خانوں کی روایت مکمل نہیں ہوتی۔ یہ کینٹین قیامِ پاکستان سے پہلے آل انڈیا ریڈیو لاہور کے زمانے سے آباد تھی۔ یہاں شاعر، موسیقار، فنکار، سرنگی نواز اور پروڈیوسر بیٹھ کر چائے پیتے، محفلیں سجاتے اور پروگراموں کے لیے لائحہ عمل طے کرتے۔ ان میں احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر ریاض مجید، ناصر کاظمی، ڈاکٹر وزیر آغا، احمد فراز، نجیب احمد، خالد احمد، مہدی حسن، نور جہاں، ترنم ناز اور دیگر بڑے نام شامل تھے۔اسی طرح لاہور کی پرانی انارکلی ساری ساری رات جاگتی۔ جب پاک ٹی ہاؤس بند ہوتا، تو شاعر، ادیب اور دانشور پرانی انارکلی کا رخ کرتے۔ یہاں چائے کے کپوں کے ساتھ بڑی بڑی گفتگو ہوتی، ادب و سیاست کے موضوعات زیر بحث آتے۔ آج بھی یہ روایت برقرار ہے، اور شاعر واجد امیر ہر رات ایک محفل سجاتے ہیں جہاں نوجوان شعرا بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔اب اگر لائلپور (فیصل آباد) کی بات کریں تو یہاں بھی پرانے وقتوں سے قہوہ خانوں کی ایک دلکش روایت موجود ہے۔ چنیوٹ بازار فیصل آباد کی روح سمجھا جاتا ہے، جو ساری رات جاگتا ہے۔ یہاں سٹیج ڈراما آرٹسٹ، گونگے، بہرے، شاعر اور فنکار اکٹھے ہوتے۔ گونگے اشاروں سے گفتگو کرتے، شاعر اپنی غزلیں سناتے اور رات گئے تک قہوہ خانے جگمگاتے رہتے۔یہی بازار سردار کمال، ناصر چنیوٹی، نسیم وکی جیسے فنکاروں اور ڈاکٹر ریاض مجید، انور محمود خالد، ڈاکٹر سید احسن زیدی، ڈاکٹر شبیر احمد قادری، حمید شاکر، ڈاکٹر محمود رضا سید، خواجہ زہدی، حاتم بھٹی، علی اختر، ثنا اللہ ظہیر، عارف عسکری، انجم سلیمی، علی زریون، عماد اظہر، ڈاکٹر شاہد اشرف، فضل حسین راہی جیسے ادیبوں کا مرکز بنا رہا۔اسی بازار میں ایک زمانے میں محفل ہوٹل ادبی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا جہاں افتخار فیروز، اقبال فیروز نے کئی سال محفلیں سجائیں۔ حلقہ اربابِ ذوق لائلپور کے اجلاس بھی یہاں منعقد ہوتے تھے۔ اسی طرح ایک اور معروف مقام تھری اسٹار ہوٹل تھا، جو شاعر، ادیب اور سیاست دان فضل حسین راہی کا دوسرا گھر کہلاتا تھا۔ وہ سفید مائل شلوار قمیص میں صبح سویرے یہاں آتے، عوامی خدمت اور دوستانہ محفلوں کے ساتھ چائے نوش فرماتے، اور اکثر رات گئے تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا۔جنگ بازار میں دو قہوہ خانے خاص طور پر مشہور تھے — کیفے دیوان اور کیفے لطیف۔ یہاں شاعر، فنکار اور ادیب دن بھر بیٹھتے، محفلیں جمتی رہتیں۔ کیفے لطیف کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں پرانے ٹیپ ریکارڈر پر گاہکوں کی فرمایش پر غزلیں اور نغمے سنائے جاتے، اور چائے کے ساتھ موسیقی کا لطف دوبالا ہو جاتا۔کچہری بازار میں جھنڈے دا ہوٹل (کشمیری ہوٹل) اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا تھا۔ یہ پہلے جاوید ہوٹل کے قریب واقع تھا اور بعد میں کچہری کے سامنے منتقل ہو گیا۔ یہاں بڑے بڑے ادیب اور شاعر — آس لدھیانوی، حزیں لدھیانوی، فضل حسین راہی، مسعود قمر، سید جیلانی، بابر شاہین، ڈاکٹر ریاض مجید، انور محمود خالد، ڈاکٹر محمود رضا سید، ڈاکٹر شاہد اشرف، راشد اقبال، مقصود وفا، فیضی،ناصر مجید، ڈاکٹر وحید احمد، جاوید انور — سب قہوہ نوش فرماتے اور فکری تبادلہ خیال کرتے۔ آج بھی یہ روایت جاری ہے۔لائلپور کی تہذیب اور ثقافت کے فروغ میں یہاں کی یونیورسٹیوں کا بھی بڑا کردار ہے۔ ایگری کلچر یونیورسٹی فیصل آباد، جی سی یونیورسٹی، ایجوکیشن یونیورسٹی، این ایف سی یونیورسٹی اور دیگر اداروں نے مختلف علاقوں سے آنے والے طلبہ کو موقع دیا کہ وہ آپس میں مل بیٹھیں۔ ان طلبہ نے قہوہ خانوں کی روایت کو نئی روح بخشی۔ یونیورسٹیوں کے اطراف چھوٹے چھوٹے کیفے کھل گئے جہاں طلبہ رات گئے تک محفلیں جماتے، چائے نوش فرماتے اور مکالمے کو فروغ دیتے۔ان مکالموں کی بدولت زبان و بیان کے نئے رنگ پیدا ہوئے۔ جھنگ، بھکر اور دیگر مضافاتی علاقوں سے آنے والے طلبہ نے فیصل آباد کی زبان اور لہجے میں ایک خوبصورت تنوع پیدا کیا۔ یوں قہوہ خانے صرف ادبی مراکز ہی نہیں رہے بلکہ ثقافتی میل جول اور لسانی تبادلوں کے پلیٹ فارم بن گئے۔اب لائلپور کے نئے قہوہ خانوں میں لائلپور ٹی ہاؤس، ندیم کیفے، وقاص کیفے، چائے شائے، کوئٹہ کیفے، چاشنی، چائے خانہ جیسے مقامات نمایاں ہیں۔ یہاں پیش کی جانے والی سیپرٹ چائے اپنے انداز میں منفرد ہے، جس میں سیٹ، ہاف سیٹ، اور کوارٹر سیٹ کے ذریعے چائے نوشی کا لطف دوبالا کیا جاتا ہے۔ یہ کیفے جدید دور کے فکری اڈے ہیں جہاں چائے کے ہر گھونٹ کے ساتھ مکالمہ بھی جاری رہتا ہے۔یوں لاہور اور لائلپور کی قہوہ خانہ تہذیب آج بھی زندہ ہے۔ پاک ٹی ہاؤس سے لے کر جھنڈے دا ہوٹل تک، اور پرانی انارکلی سے چنیوٹ بازار تک، ہر جگہ قہوہ خانے محض چائے پینے کی جگہ نہیں، بلکہ مکالمے، محبت، فکر اور تخلیق کے چراغ ہیں —جو نسل در نسل ادب و تہذیب کے سفر کو روشنی بخشتے چلے آ رہے ہیں۔