کراؤن پرنس محمد بن سلمان: سعودی عرب کو نئے عالمی کردار کی طرف لے جانے والی قیادتکراؤن پرنس محمد بن سلمان جدید دور کے بااثر ترین عالمی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کی سیاسی معیشت، عالمی حیثیت اور اندرونی اصلاحات پر ان کا اثر زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہے۔

کراؤن پرنس محمد بن سلمان: سعودی عرب کو نئے عالمی کردار کی طرف لے جانے والی قیادتکراؤن پرنس محمد بن سلمان جدید دور کے بااثر ترین عالمی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کی سیاسی معیشت، عالمی حیثیت اور اندرونی اصلاحات پر ان کا اثر زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہے۔ بہت سے مبصرین کے نزدیک وہ مشرق وسطیٰ کی نئی قیادت کی نمائندگی کرتے ہیں، جو معیشت کی تنوع کاری، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور تیل پر مکمل انحصار سے دور جانے کے عزم سے جانی جاتی ہے۔اس بڑی تبدیلی کے مرکز میں وژن 2030 ہے، وہ خاکہ جو انہوں نے 2016 میں پیش کیا تاکہ سعودی عرب کو ایک متنوع، مسابقتی اور مستقبل پر نظر رکھنے والی معیشت میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ ایک مضبوط نجی شعبہ بنانے، غیر تیل صنعتوں کو وسعت دینے اور نئے معاشی محرکات پیدا کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ آج مملکت کی مجموعی قومی پیداوار کا نصف سے زائد حصہ غیر تیل شعبوں سے حاصل ہوتا ہے، جو گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ انتظامی اصلاحات نے کاروبار کے قیام کو آسان بنایا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا۔سعودی عرب کی بطور عالمی کاروباری مرکز ابھرتی ہوئی شناخت اس حقیقت سے واضح ہے کہ سینکڑوں ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے علاقائی دفاتر ریاض میں قائم کر رہی ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق 600 سے زائد کمپنیوں نے سعودی عرب میں اپنا علاقائی مرکز رجسٹر کرایا ہے، جو مملکت کی سرمایہ دوست پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ کاروباری لائسنسوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی کمپنیوں کے لیے مقامی منڈی میں کام کرنا آسان ہوا ہے۔محمد بن سلمان نے جدت اور ٹیکنالوجی کو قومی ایجنڈے کا محور بنایا ہے۔ 2025 میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے “ہومین” کے نام سے مصنوعی ذہانت کی ایک نئی کمپنی قائم کی، جس کا مقصد جدید عربی لینگویج ماڈلز تیار کرنا اور قومی اے آئی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔ ڈیجیٹل شعبے میں بھی نمایاں وسعت آئی ہے، خاص طور پر سعودی اتھارٹی فار ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے تحت، جو ڈیٹا گورننس اور اے آئی کو سرکاری خدمات میں شامل کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ “عینائی” جیسے منصوبے، جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ذیابطیس کے مریضوں میں بینائی کے مسائل کی جلد تشخیص کرتے ہیں، ٹیکنالوجی کے صحت عامہ میں کردار کو واضح کرتے ہیں۔سعودی عرب کی تبدیلی اس کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو نئی صنعتوں کی بنیاد ڈال رہے ہیں، عالمی سیاحت کو فروغ دے رہے ہیں اور طویل المدت معاشی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ نیوم، جو ان منصوبوں میں سب سے بڑا ہے، صاف توانائی اور جدید شہری ڈھانچے پر مبنی ایک مستقبل کی بستی کے طور پر تعمیر ہو رہا ہے۔ ’’دی لائن‘‘ اس منصوبے کا مرکزی حصہ ہے، جو جدید شہری زندگی کا نیا تصور پیش کرتا ہے۔ ریڈ سی پراجیکٹ، رواء المدینہ اور جدہ سینٹرل جیسے منصوبے ملک کے مختلف حصوں کو جدید بنا رہے ہیں اور ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا کر رہے ہیں۔معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ سماجی اور ادارہ جاتی اصلاحات بھی جاری ہیں۔ خواتین کی ورک فورس میں شمولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ خواتین نجی اور سرکاری شعبوں میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ لیبر قوانین، سرپرستی کے نظام اور تعلیم و روزگار میں نئے مواقع نے معاشرتی شمولیت میں اضافہ کیا ہے۔ سرکاری اداروں میں شفافیت کو مضبوط کیا گیا ہے، کارکردگی کو بہتر بنایا گیا ہے اور غیر ضروری سرکاری رکاوٹیں کم کی گئی ہیں۔عالمی سطح پر، کراؤن پرنس محمد بن سلمان زیادہ فعال خارجہ پالیسی کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ سعودی عرب نے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے ساتھ اپنا سفارتی دائرہ وسیع کیا ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات برقرار ہیں۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ دنیا کے اہم ترین سرمایہ کار اداروں میں شامل ہو چکا ہے، جس کی بدولت مملکت عالمی سرمایہ کاری اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔ محمد بن سلمان نے ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر منڈیوں کے درمیان ایک اہم پل کے طور پر پیش کیا ہے۔تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ ان کی قیادت پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ سیاسی مرکزیت، انسانی حقوق سے متعلق سوالات اور کچھ بڑے منصوبوں کی عملی حیثیت پر بحث بھی جاری ہے۔ بعض منصوبوں کے شیڈول میں تبدیلی آئی ہے جس سے ان کی لاگت اور تکمیل کے وقت پر سوال اٹھے ہیں۔ اس کے باوجود ان منصوبوں کے کم پیمانے کے ورژن بھی اپنی اسٹریٹجک اہمیت برقرار رکھتے ہیں اور طویل المدت معاشی تبدیلی کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔یہ بحث اپنی جگہ ہے، لیکن ایک حقیقت واضح ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ دس برسوں میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی ہے۔ واضح پالیسی، مضبوط اصلاحات اور مستقبل کی صنعتوں پر سرمایہ کاری نے مملکت کی عالمی شناخت بدل دی ہے۔ آج سعودی عرب صرف ایک بڑا توانائی فراہم کرنے والا ملک نہیں بلکہ تیزی سے ابھرتا ہوا کاروباری، تجارتی اور تکنیکی مرکز بن چکا ہے۔خواہ کوئی ان اصلاحات کو تحسین کی نظر سے دیکھے یا احتیاط کی نظر سے، وہ سعودی عرب کی جدید تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کراؤن پرنس محمد بن سلمان کی قیادت نے ملک کو ایک نئے راستے پر ڈال دیا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے معاشی استحکام اور عالمی اہمیت کا وعدہ کرتا ہے

پاکستان کا زبردست اقدام ، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پی سی بی نے تینوں ملکوں کے جھنڈے لگا دیئے ، پاکستان نے دنیا کو دیکھا دیا ہے کہ ہم کتنا مہمان نواز ہیں ، اور پاکستان کھیلوں کے مکمل طور محفوظ ملک ہے۔ ٹرائی نیشن ٹی 20 سیریز کا آغاز اج سے ہو گاابتدائی میچ میں میزبان پاکستان کا مقابلہ زمبابوے سے ہو گ۔۔ٹرائی نیشن ٹی 20 سیریز کا آغاز اج سے ہو گا۔ابتدائی میچ میں میزبان پاکستان کا مقابلہ زمبابوے سے ہو گ۔۔Movin pickاسلام اباد سیکورٹی ھای الرٹ جاری خفیہ اداروں کو نظر رکھنا ھو گی۔۔‏پشاور میں وکلاء سڑکوں پر نکل آئے 27ویں غیر آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج۔۔ایران کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے:ڈونلڈ ٹرمپ۔۔جنوبی افریقی کپتان کو مبینہ طور پر ’بونا‘ کہنے اور گالی دینے پر بھارتی سپر اسٹار بولر جسپریت بمرا شدید تنقید کی زد میں۔۔بشریٰ تسکین اور پرویز رشید 78 سال کے بعد غلاظت کے ڈھیر آج بھی۔بھارت نے بنگلہ دیش کی سرحد پر 2 لاکھ فوجی تعینات کر دیئے۔۔کیا بھارت بنگلہ دیش پر حملہ کر کے حسینہ واجد کو اقتدار میں واپس لانا چاہتا ہے۔نئی اسٹریٹیجک تبدیلیوں کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟۔۔بھارت بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر فوجیں کیوں بڑھا رہا ہے؟ڈھاکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں بھارت نے بنگلہ دیشی سرحد کے قریب اپنی فوجی موجودگی بڑھانا شروع کر دی ہے۔ ان نئی اسٹریٹیجک تبدیلیوں کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ۔۔چھوٹا اور چھوٹی اور ھمارا پاکستان فخر پاکستان۔کھربوں روپے کی کرپشن کر نے والے 4 کردار۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

کاتنے کمال کے کام ہو رہے ہیں کہ پاکستان دوبئی سے آگے نکل گیا ہے ماشاءاللہ جی عوام بہت خوش حال ہو بجلی گیس دوبئی کی طرح فری ہو گئی ہے روزگار چل رہے ہیں دنیا بھر سے لوگ پیسہ لے بلکہ کھربوں ڈالر لے کر پاکستان آ گئے ہیں غربت ختم ہوگئی ہے لوگوں کو روٹی 🍞 کی فکر ختم ہو گئی کمال ہو گیا ہے پاکستان دوبئی سے اتنے آگے نکل گیا ہے انڈیا والے ہماری نقل کرنے لگ گئے ہیں چین والے بھی پریشان ہو گئے ہیں پاکستان اتنی ترقی کر گیا ویلڈن بہت اعلیٰ کمال کر دیا ہے بہت زبردست

“خواجہ آصف نے کہا ہمارے DNA میں جمہوریت نہیں۔ اس پر اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ اناللہ وانا الیہ راجعون۔۔اسے کہتے ہیں اپنے اصل کی طرف لوٹنا۔۔ لگتا ہے کہ خواجہ صاحب کو بچپن کا یاد کیا ہوا وہ سبق دوبارہ یاد آگیا ہے، جب ملک پر جنرل ضیاء کی حکومت تھی تو خواجہ آصف کے بزرگ جنرل ضیاء کے اوپننگ بٹسمین بن گئے تھے۔ ترمیم کے موقع پر جمہوریت کا ڈھونگ رچانے والے اداکار پہنچے تھے اور بولے بغیر ہی ایکسپرینشنز سے مرشد کامل کی بیعت کا اعلان کیا، نہ جانے انہیں اداکاری میں ابھی تک آسکر ایوارڈ کیوں نہیں ملا؟”-

چھوٹا چھیمے کا اصل نام تو سلیم تھا لیکن اصل نام کو کریدنے کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی- چھیمے کا شناختی کارڈ بھی اس لئے بنا تھا کہ ووٹ دینا ھوتا ھے-شناختی کارڈ وہ واحد ڈاکومنٹ تھا جس پر سلیم لکھا تھا- اکثر جب چھیما بہت تنہا ہوتا اور اداسی ستانے لگتی تو وہ شناختی کارڈ کو اپنے ٹرنک سے نکال کر گھنٹوں دیکھتا رھتا- اس کی شناخت ٹرنک میں بند کر دی گئی تھی- چھیما سات آٹھ سال کا ھو گا جب اس کے والد کا انتقال ہوا- چھیمے کے والد ، بالا ( اقبال) حویلے کے سارے کام سنبھالتا تھا – ہمارے چودھراہٹ زدہ کلچر میں ان کام کرنے والوں کو کمّی کہتے ہیں- چودھدری صاحب نے بالے کی وفات کے بعد، اپنا دشتِ شفت سلیم کے سر پر رکھ کر اسے چھیما بنا دیا تو پورے گاؤں نے چودھدریوں کی اعلی ظرفی کے کئی دن تک گُن گائے – پچھلے دس سالوں میں چھیمے نے اپنے کام اور محنت سے حویلی میں سب کو گرویدہ بنا لیا تھا- چوھدریوں کی حویلی میں سارا کام چھیمے کے ذمّے تھا- جہاں کہیں خرابی ہوتی چھیمے کی شامت آ جاتی- یعنی وہ چودھدریوں کی حویلی کا کاما تو تھا مگر‏ fall guy بھی تھا- فال گائے وہ بندہ ہوتا ھے جس پر ہر خرابی کا الزام دھرا جاتا ہے- اشرافیہ نے یہ فن چودھراہٹ سے سیکھا-چودھراہٹ میں ہر خرابی کی ذمہ داری ” کمّی” پر ڈال دی جاتی ہے- امریکہ نے ویت نام کی جنگ کے بعد یہ سبق سیکھا کہ بڑی جنگ لڑنے سے پہلے fall guy یا “چھوٹے” کا انتخاب پہلے سے کر رکھنا چاہیے- مکینک، ریستورانوں ، فیکٹریوں میں fall guy کو ” چھوٹا” کہتے ہیں- پاکستان کا fall guy عوام ہے- نا ان کو بجلی استعمال کرنی آتی ھے، نہ چینی ، نہ آ ٹا گوندنا اور خواہ مخواہ بیمار ہو جاتے ہیں اور پھر دوائیاں بھی مانگتے ہیں- حکومت ان کے لئے اور کیا کرے، ہر کام تو بخوبی کر رھی ھے-‏Hierarchy کی ایجاد بھی نظریہ ضرورت تھی تاکہ fall guy ڈھونڈنے میں آسانی رہے-اپنی ناکامی کا الزام دوسروں پر لگانے سے بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے- کام خراب کرنے کے بعد سب سے پہلا کام ‘باس’ یہ کرتا ہے کہ کانفرنس بلا لے- اپنے آپ کو پورے قصّے سے الگ کر کے انکوائری شروع کرواتا ہے اور جس بندے کا اس پورے واقع میں بہترین کام ہوتا ہے اسے sack کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ساری غلطیوں کا چشم دید گواہ ہوتا ھے-امریکہ نے دھشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو شروع دن سے ساتھ رکھا تاکہ اپنی ناکامیوں کو ساتھ ساتھ ہی کلیئر کرتے جائیں

– ساری کوتاہیاں ساتھ ساتھ ہی پاکستان پر ڈال کر میڈیا کو بتاتے رہے کہ ” یہی ھے”- باقی کام امریکی، افغانی اور بھارتی میڈیا خود کر لیتا تھا-وہ تو ہماری خوش قسمتی کہ ایراق ، شام، لیبیا ہم سے دور تھے- روس دنیا کا واحد ملک ہے جسے fall guy کی ضرورت نہیں پڑتی- گوجرانوالہ کے پہلوانوں کی طرح ساری لڑائیاں اپنے زور بازو پر لڑتے ہیں- روس نے یورپ اور ایشیا کے سنگم پر ایسا پڑاؤ ڈالا ہوا ہے کہ کوئی چیز ،ادھر سے اُدھر ، بغیر نظروں میں آئے ،نہ آ سکتی ھے نہ ہی جا سکتی ہے- عالمی جنگیں ، انقلاب، تیل، تجارت، اسلحہ سازی سب کچھ کھیل لیتے ہیں- دنیا کا بہترین ادب بھی روس میں لکھا گیا- ہماری حکومتیں عین اس وقت جب اقتدار سے رخصت ہو رہے ہوتے ہیں ایک fall guy کا انتخاب کر چھوڑتی ہیں تاکہ اگلا الیکشن آرام سے لڑ سکیں- بھارت نے اندرونی مسائل پر پردہ داری کے لئے اپنی عوام کو پاکستان کے پیچھے لگا رکھا ہے – پاکستان میں دخل اندازی بھارت کا قومی کھیل بن چکا ہے جسے بی جے پی اور بالی ووڈ خوب نبھا رھا ھے- بھارت اپنے کام پر کم اور ہمارے معاملات پر زیادہ توجہ دیتا ہیں- پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی تو سٹریٹجی ہی fall guy کے انتخاب سے شروع ہوتی ہے- میچ شروع ھونے سے پہلے ہی بندہ ڈھونڈ چھوڑتے ہیں- کچھ نہ ملے تو ساری ذمہ داری ٹاس یا پچ پر ڈال دیتے ہیں-گھر میں تو fall guy آپ کو پتا ہی ہے کہ کون ہوتا ہے- نکاح کی definition ہی fall guy ہے-عورتوں کی روزانہ ملاقاتوں میں خاوند، ہر خرابی کی وجہ اور انتہاء کا نکمّا قرار پاتا ھے – ہر بیوی کا بندہ نکمّا اور بھائی کوگھو گھوڑا ہے-حکومتی معاملات میں جب بھی کوئی بڑا کانڈ ھو جائے تو پہلے اس کا نوٹس لیا جاتا ہے، پھر مزمّت، انکوائری کا اعلان، دو یا تین رکنی کمیٹی بنتی ھے جس نے پندرہ دن میں رپورٹ دینی ھوتی ہے- عوام کی یاداشت تو ہوتی ہی کمزور ھے اور میڈیا کو ہر روز نیا کانڈ چاہیے-کاروبار دنیا کو “چھوٹوں ” کے سہارے چلایا جا رھا ھے-

کاتنے کمال کے کام ہو رہے ہیں کہ پاکستان دوبئی سے آگے نکل گیا ہے ماشاءاللہ جی عوام بہت خوش حال ہو بجلی گیس دوبئی کی طرح فری ہو گئی ہے روزگار چل رہے ہیں دنیا بھر سے لوگ پیسہ لے بلکہ کھربوں ڈالر لے کر پاکستان آ گئے ہیں غربت ختم ہوگئی ہے لوگوں کو روٹی 🍞 کی فکر ختم ہو گئی کمال ہو گیا ہے پاکستان دوبئی سے اتنے آگے نکل گیا ہے انڈیا والے ہماری نقل کرنے لگ گئے ہیں چین والے بھی پریشان ہو گئے ہیں پاکستان اتنی ترقی کر گیا ویلڈن بہت اعلیٰ کمال کر دیا ہے بہت زبردست

سعودی عرب میں خوفناک ٹینکر دھماکہ — 50 زائرین جاں بحق، ہولناک سانحہ!

مدینہ میں آئل ٹینکر بھارتی عمرہ زائرین کی بس سے ٹکرا گیا، 42 افراد جاں بحق*مدینہ: بھارت سے سعودی عرب جانے والے عمرہ زائرین کی بس آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 42 افراد جاں بحق ہوگئے۔عرب میڈیا کے مطابق عمرہ کے لیے سعودی عرب میں موجود زائرین پیر کی صبح ایک بس میں مکہ سے مدینہ منورہ جا رہے تھے جہاں ان کی بس ایک آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی جس کے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ رپورٹ کے مطابق بس میں 42 سے 45 افراد سوار تھے جن کا تعلق بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے تھا اور ان عمرہ زائرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ عرب میڈیا کے مطابق بس اور آئل ٹینکر میں تصادم کے بعد بھڑک والی آگ سے اموات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جب کہ سعودی حکام امدادی کارروائی کررہے ہیں۔دوسری جانب بھارتی سیاستدان اسد الدین اویسی نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میری اطلاعات کے مطابق عمرہ زائرین کی بس کو پیش آنے والے حادثے میں 41 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم سعودی حکام کی جانب سے تاحال اموات کی تعداد کے حوالے سے کسی قسم کا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

Qپولیس حراست سے 2 روز پہلے فرار ہونے والے سابق ADCR سیالکوٹ اقبال سنگھیڑا بھاگتے بھاگتے یورپ پہنچ گئیا یہی صاحب خواجہ آصف کے حلقے ریٹرننگ افسر بھی تھا پولیس کی حراست سے فرار ہوکر سیدھا یورپ، واہ..فراڈ نظام کا اصل چہرہ جمھوریت زندہ باد

دنیا کی بہترین افواج اور ائئر فورس کے خلاف عالمی برادری کی کنسپریسی۔۔پاکستان تاریخ کے خطرناک دوراھے پر بڑے فیصلے کا انتظار۔۔مودی اور دنیا کے اھم ترین ملک کا گٹھ جوڑ 10 روز اھم۔۔ستائيسویں آئینی ترمیم زمین چب آسمان چب۔۔پاکستان پر جنگ مسلط کر دی گئی۔ھدف ایٹمی اثاثے۔جنوبی ایشیاء میں آگ چین کو روکنے کیلئے لگائی جا رہی ہے ۔پیچھے امریکہ ہے سہولت کار بھارت اور افغانستان ہیں ۔ہدف پاکستان اور چین ہے۔۔۔ہدف پاکستان اور چین ہے ۔۔۔جنوبی ایشیاء میں آگ چین کو روکنے کیلئے لگائی جا رہی ہے ۔ ۔۔۔پاکستان کرکٹ کے باوء جی۔آزاد کشمیر وزیر اعظمفیصل ممتاز راٹھور اج حلف اٹھانے کے لیے تیار۔۔3 اطراف کی طرف سے جنگ کا خطرہ پاکستان نے فورسز کی چھٹیاں منسوخ کر دی۔ائیر فورس نیوی گن میزائل کو تیار رھنے کا حکم بڑے حکم کا انتظار۔۔افغانستان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں پر مشتمل جھتوں کو بھی کریش کرنے کا فیصلہ۔پاکستان نے سری لنکا کو شکست دے کر سیریز جیت لی۔پاکستان ھاکی کی بنگلہ دیش کو 10 گولوں سے شکست۔نواز لیگ میں نئے قائد کی تلاش سینٹ کی نشست پر الیکشن۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی ۔خواجہ محمد اصف عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کے بارے میں بحث حالیہ برسوں میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے، خاص طور پر 27ویں آئینی ترمیم کے بعد۔ اس ترمیم کی ضرورت سمجھنے کے لیے ہمیں پچھلے چند سالوں میں سپریم کورٹ کے کام کرنے کے انداز کو دیکھنا ہوگا، جہاں ایک محدود گروپ کے جج صاحبان ہی ملک کے تمام بڑے سیاسی مقدمات سنتے رہے۔یہ سلسلہ پانامہ کیس سے شروع ہوا۔ اس وقت چیف جسٹس ثاقب نثار نے وہ بینچ تشکیل دیا جس نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا۔ اس بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزاور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔نواز شریف کی نااہلی کے بعد ایک اور بینچ بنایا گیا تاکہ یہ طے کیا جائے کہ ان کی نااہلی کتنی مدت کے لیے ہوگی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بینچ نے فیصلہ دیا کہ نااہلی تاحیات ہوگی

۔اس کے بعد ایک اور بینچ بنا جس کی سربراہی بھی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کی، اور اس میں جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔ اس بینچ نے قرار دیا کہ کوئی نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ ایک بار پھر وہی ججز نمایاں تھے۔اس کے بعد تقریباً ہر بڑے سیاسی مقدمے میں وہی چند ججز سامنے آتے رہے۔ عمران خان کی بنی گالہ جائیداد سے متعلق کیس میں بینچ میں چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس بندیال اور جسٹس فیصل عرب شامل تھے۔ ڈیم فنڈ کے معاملے میں بھی یہی نام نظر آئے، یعنی چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر۔2021 میں یہ معاملہ عدالت کے سامنے آیا کہ ازخود نوٹس (suo motu) لینے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ اس وقت قائم مقام چیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس علی مزہر اور جسٹس امین احمد نے فیصلہ دیا کہ ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہے۔

اس فیصلے سے چیف جسٹس کے اختیارات میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ اب وہی طے کرتے ہیں کہ کون سا کیس سنا جائے اور کون سے جج اسے سنیں گے۔یہی طرز عمل بعد کے تمام اہم مقدمات میں جاری رہا۔ عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق کیس میں بینچ میں چیف جسٹس بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس میاں خیل اور جسٹس مندوخیل شامل تھے

۔ پی ٹی آئی کے دھرنے سے متعلق کیس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل تھے۔ توہینِ عدالت کے کیس میں، جس میں پی ٹی آئی پر عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کا الزام تھا، بینچ میں چیف جسٹس بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس نقوی اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل تھے۔ صرف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو فوراً عدالت میں طلب کیا جانا چاہیے

۔اسی طرح آرٹیکل 63 اے سے متعلق کیس میں، کہ اگر کوئی رکن اپنی جماعت کے فیصلے کے خلاف ووٹ دے تو اس ووٹ کو شمار کیا جائے یا نہیں، ایک ہی گروپ کے ججز یعنی چیف جسٹس بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن نے ایک رخ کا فیصلہ دیا، جب کہ جسٹس میاں خیل اور جسٹس مندوخیل نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کو دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے۔ان تمام برسوں میں یہ بات واضح نظر آئی کہ ملک کے سیاسی نوعیت کے تمام اہم مقدمات میں صرف چند ججز ہی مسلسل سامنے آئے،

جب کہ دیگر سینئر ججز جیسے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس سردار طارق مسعود کو شاذ و نادر ہی ایسے بینچوں میں شامل کیا گیا۔یہ صورتحال ایک بڑا سوال پیدا کرتی ہے کہ آخر کیوں ہمیشہ وہی چند ججز سیاسی مقدمات سنتے رہے اور باقی ججز کو نظرانداز کیا گیا۔ جب ایسا ہوتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عدلیہ کے اندر توازن اور شفافیت کی کمی ہے۔27ویں آئینی ترمیم کا مقصد اسی مسئلے کو حل کرنا ہے۔ یہ ترمیم عدلیہ کے خلاف نہیں بلکہ اس کے تحفظ کے لیے ہے.

پاکستان کرکٹ کے باؤ جی – عبدالقادِرکرکٹ میں کچھ لوگ ریکارڈ چھوڑتے ہیں…اور کچھ کہانیاں چھوڑ جاتے ہیں۔عبدالقادِر وہ کہانی ہے جو آج بھی ہر کرکٹ لور کے دل میں زندہ ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا سمجھتی تھی کہ لیگ اسپن مر چکی ہے۔فاسٹ باؤلرز کا دور… رفتار، باؤنس، تھرلاور اسی شور میں لاہور کی گلیوں سے ایک لڑکا نکلا جس نے دنیا کو بتایا:“اصل فن لیگ سپن ہے، باقی سب شور ہے!”اور پھر عبدالقادِر نے ایسی گیند گھمائی کہ آج بھی انگلینڈ میں پبوں میں کرکٹ کی باتوں میں وہ قصے سنائے جاتے ہیں۔سابق انگلش بیٹسمین اور کپتان گراہم گوچ جس نے دونوں عظیم لیگ سپنرز کو کھیلا، اس نے واضح کہا،عبد القادر شین وارن سے بہتر تھا! یہ تعریف نہیں، اس مدعے پر مہر ہے۔ویوین رچرڈز دنیا کا سب سے خطرناک بیٹسمین…جو فاسٹ بولرز کو آنکھیں دکھا کر کھیلتا تھا

…وہ بھی عبدالقادِر کے سامنے محتاط ہو جاتا تھا۔کیوں؟کیونکہ قادِر پڑھا نہیں جاتا تھا۔گوگلی، فلپر، مختلف قسم کی ڈلیوریز ہر اوور میں…اور بیٹسمین کا دماغ گھوم جاتا تھا۔شین وارن بھی اُسی سے متاثر تھا سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے والا لیگ اسپنرجس نے پوری دنیا میں لیگ اسپن کو نیا جنم دیا…وہ بھی کہتا تھا:میں نے عبد القادر کو دیکھ کر سیکھا۔یعنی اگر شین وارن ایک قصہ ہےتو اس کا پہلا صفحہ عبدالقادِر لکھ کر گیا تھا۔اور ہاں… وہ بیٹنگ بھی کر لیتا تھا!نیچے آ کر وکٹ بھی بچاتا تھا، میچ بھی لمبا کرتا تھا۔وہ صرف اسپنر نہیں…ایک مکمل پرفارمر تھا۔6 ستمبر 2019 کو وہ اس دنیا سے انتقال کر گئے…لیکن کرکٹ کے میدانوں میں آج بھی جب کوئی نوجوان لیگ اسپنر گیند گھماتا ہے،تو کہیں نہ کہیں عبدالقادِر کی لیگیسی موجود ہوتی ہے۔۔ باسط سبحانی#fblifestyle

‎اٹلی کی شرح پیدائش میں ریکارڈ کمی- ‎گزشتہ ‎سال صرف 370,000 بچوں کی پیدائش پچھلی اڑھائی صدیوں میں کم ترین شرح ہے‎ماہرین کے مطابق شرح پیدائش میں اس قدر کمی اٹلی کے مستقبل کے لئے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔‎ موجودہ شرح فی عورت ایک بچے تک آ گئی ھے-یہ ایک طویل المدتی رجحان ہے جو 1960 کی دہائی سے جاری ہے اور 2008 کے معاشی بحران کے بعد مزید تیز ہو گیا- اس بحڑان کی اہم وجوہات میں نوجوانوں میں مستقل نوکریوں اور مناسب تنخواہوں کی کمی، عورتوں کی کم ملازمت کی شرح (51.3%)، بچوں کی پرورش کی ناکافی سہولیات، دیر سے شادیاں (پہلی ماں بننے کی اوسط عمر 31.4 سال)، 18-34 سال کے 70.5% نوجوانوں کا والدین کے ساتھ رہنا، روایتی خاندانی ڈھانچہ ، نوجوانوں کی ہجرت (2024 میں 191,000 افراد باہر چلے گئے)، بوڑھوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں، کمزور ویلفیئر سسٹم، علاقائی فرق، اور حکومتی پالیسیوں کی ناکامی شامل ہیں – ماہرین خبردار کیا ہے کہ صرف مالی امداد سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ بہتر نوکریاں، چائلڈ کیئر سہولیات اور سماجی تبدیلیاں ضروری ہیں

ستائیسویں آئینی ترمیم‎زمین چپ ہے زماں چپ ہے آسماں بھی چپ‎ہے چپ کا شور کچھ ایسا کہ لا مکاں بھی چپ‎ضعیف لوگ محلات میں ہیں ایستادہ‎نحیف ذہن ہوئے چپ ہیں جسم و جاں بھی چپ‎کوئی صدا کسی دربار سے نہیں آثی‎غلام گردشیں بھی چپ ہیں پاسباں بھی چپ‎یہ کیا کہ منبر و محراب کے جھمیلے میں‎خطیب عصر ہے چپ شور واعظاں بھی چپ‎صحافیوں میں کہاں ہے قلم کی مزدوری‎ہوئے ہیں چپ سبھی اخبار سرخیاں بھی چپ‎عدالتوں میں کھلے عام جج کی ہے تضحیک‎وکیل چپ ہیں بیاں چپ گواہیاں بھی چپ‎ہوئے ہیں چپ در و دیوار سب مکانوں کے

‎مکین چپ ہیں کہ ہے جان ناتواں بھی چپ‎کچھ آیسے زہر کی بارش ہوئی ہے شہر میں آج‎ہر ایک فرد ہوا چپ مشام جاں بھی چپ‎شکستہ ناؤ ہوئی چپ کہ پانیوں کے بیچ‎قضا کے خوف سے پتوار بادباں بھی چپ‎فضا میں پھیلے ہوئے پر سمیٹ کر پنچھی ‎گھروں کو لوٹ چلے چپ ہیں آشیاں بھی چپ‎ یہاں وہاں پہ ہوئی چپ کا راز کھولے کون۔۔‎کسی کے حکم کے آگے ہوئی زباں بھی چپ‎اداسیوں کے بھنور میں گھرے ہوئے ہیں تمام‎یہ کائنات بھی ہے چپ یہ کہکشاں بھی چپ‎عوام چپ ہے کہ سنتا نہیں کوئی فریاد‎ہر ایک سمت ہیں سائے ہیں سائباں بھی چپ‎ہمارے دیس کو آسیب نے ہے گھیر لیا‎ہوائیں چپ ہیں نظام اور حکمراں بھی چپ‎‎‎

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا یومِ برداشت کے موقع پر پیغامآج جب دنیا یومِ برداشت منا رہی ہے، تو پاکستان ہم آہنگی، باہمی احترام ، تمام شہریوں اور اقوام کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ آج کے عالمی دور میں، جہاں ثقافتیں اور معاشرے پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مکالمے، ہمدردی اور تعاون کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔برداشت کے اصول اسلام کی ان اعلیٰ تعلیمات میں گہرائی سے پیوست ہیں جو انسانیت کے لیے رحم، عدل اور احترام کا درس دیتی ہیں

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا یومِ برداشت کے موقع پر پیغامآج جب دنیا یومِ برداشت منا رہی ہے، تو پاکستان ہم آہنگی، باہمی احترام ، تمام شہریوں اور اقوام کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ آج کے عالمی دور میں، جہاں ثقافتیں اور معاشرے پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مکالمے، ہمدردی اور تعاون کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔برداشت کے اصول اسلام کی ان اعلیٰ تعلیمات میں گہرائی سے پیوست ہیں جو انسانیت کے لیے رحم، عدل اور احترام کا درس دیتی ہیں۔ ہمارے مذہب کی تعلیمات ہمارے لیے عظیم محرک ہیں، کیونکہ اسلام امن، ہم آہنگی اور رواداری کا علَمبردار ہے۔ ہمارے بانیِ قوم قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر تصور کیا جہاں مختلف مذاہب، ثقافتی پس منظر اور اعتقادات کے لوگ ہم آہنگی، برابری اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس وژن کو برقرار رکھیں اور ایک ایسی معاشرت تشکیل دیں جو شمولیت اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔مزید برآں، 1948 میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے منظور کردہ عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق نے ہر انسان کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو تسلیم کیا جو عالمگیر برابری اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ انہی اصولوں نے دنیا بھر کے قومی قوانین اور آئین کی تشکیل میں رہنمائی کی۔ اسی تناظر میں پاکستان کے آئین میں بھی ہر شہری کو مذہب پر عمل کرنے اور اپنے مذہبی اداروں کے انتظام کا حق دیا گیا ہے۔حکومتِ پاکستان کی پالیسیوں کا بنیادی محور ان محرکات کا خاتمہ ہے جو سماجی و مذہبی استحصال کا سبب بن سکتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص ہمارے غیر مسلم شہریوں کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ قومی زندگی میں بھرپور اور تعمیری کردار ادا کر سکیں۔ اسی سلسلے میں ہم ،بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی اور مذہبی رواداری کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں، جن کی باقاعدہ منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے۔اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کو ادارہ جاتی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ پارلیمانِ پاکستان نے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس بل 2025 منظور کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹ میں “منارٹیز کاکس” بھی قائم کیا گیا ہے، جس میں قومی اسمبلی کی نمائندگی بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد اقلیتوں کے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ، رواداری کا فروغ، بین المذاہب ہم آہنگی کو تقویت دینا اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔اس دن کے موقع پر، میں تمام شہریوں خصوصاً اپنی نوجوان نسل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کے تعصب، امتیاز اور نفرت کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہوں۔ میں معاشرے کے تمام طبقات،بشمول علمائے کرام، اقلیتی رہنماؤں اور میڈیاسے درخواست کرتا ہوں کہ وہ عوام کو محبت، برداشت، بھائی چارے اور اتحاد کے جذبے سے آگاہ کریں، تاکہ پاکستان کو ایسا محفوظ وطن بنایا جا سکے جہاں رواداری، اتحاد اور سماجی ہم آہنگی ہماری پہچان ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں برداشت، شفقت اور انسانیت کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم ایک زیادہ پُرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں کامیاب ہوں۔آمین!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردن کے فرماں روا شاہ عبدالّلہ دوم کی پاکستان آمدصدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نور خان ایئر بیس پہنچنے پر استقبال کیاشاہ عبدالّلہ دوم 21 برس بعد اردن کے کسی فرمانروا کے پہلی سرکاری دورے پر پاکستان پہنچےاردن کے شاہ عبدالّلہ دوم کے طیارے کی پاکستانی فضائی حدود میں آمد پر پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے شاہی طیارے کو اسلام آباد تک حفاظتی حصار فراہم کیا

اردن کے فرماں روا شاہ عبدالّلہ دوم کی پاکستان آمدصدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نور خان ایئر بیس پہنچنے پر استقبال کیاشاہ عبدالّلہ دوم 21 برس بعد اردن کے کسی فرمانروا کے پہلی سرکاری دورے پر پاکستان پہنچےاردن کے شاہ عبدالّلہ دوم کے طیارے کی پاکستانی فضائی حدود میں آمد پر پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے شاہی طیارے کو اسلام آباد تک حفاظتی حصار فراہم کیا۔وفاقی وزرا، خاتون اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور چیرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری بھی اس موقع پر موجود تھےشاہ عبدالّلہ دوم کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو نئی اسٹریٹجک جہت دے گا: صدر زرداریپاکستان اور اردن کے تعلقات تاریخی برادری، باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدار کی بنیاد پر قائم ہیں: صدرِ مملکت

پاکستان نے جوابی کارروائی کی تیاری مکمل پاکستان پر حملے کی صورت میں دھلی اور بمبئی پر میزائل حملے ھونگے۔۔امیت کا بیان اور بریک بینی سے جائزہ بھارتی وزیر داخلہ اور دفاع کے بیانات صرف جواب ھم نے چوڑیاں نھی پھنی ھے۔پاکستان میں ائینی ترمیم۔الٹی گنتی شروع عمران خان کو ریلیف اور اندرونی اختلافات ختم۔۔عمران خان کی ضمانت اور کے پی وزیر اعلی کی ملاقات جلد۔عمران خان سے بیک ڈور رابطے بحال اچگزی پلان کو ناکام کرنے کا فیصلہ۔آئینی عدالت کے ججوں کی تعیناتی کر دی گئی ۔کالے بھونڈ فارغ سارے کے سارے۔چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل رضاکی اھم ملاقاتیں۔افواج پاکستان میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ بچھاڑ 4 بڑی نھی سب سے بڑی تقرریاں۔۔آئینی عدالت کے ججوں کی تعیناتی کر دی گئی ۔کالے بھونڈ فارغ سارے کے سارے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ریٹائرمنٹ کے بعد منصور علی شاہ اور اطہرمن اللہ تقریبا 13 کروڑ کے قریب رقم وصول کرینگے آخری سیلری سلپ کے مطابق پینشن تاحیات انجوائے کریں گے،جو غالباً 28 سے 30 لاکھ ماہانا بنتی ہے۔* دیگر الاؤنس،گاڑی، ڈرائیور اور سیکیورٹی کی مد میں تاحیات پولیس اہلکار بھی حاصل کریں گے۔ ایک پسند کا اردلی رکھنے کی اجازت ہوگی،ماہانہ 3 ہزار مفت ٹیلی فون کالز، 2 ہزار یونٹ بجلی، مفت گیس، پانی کی مفت فراہمی، 300 لیٹر پٹرول بھی ملے گا۔دونوں جج صاحبان کے انتقال کے بعد بیوہ کو ڈرائیور، اردلی ملے گا، 2 ہزار یونٹ بجلی اور مفت پانی کی سہولت بھی حاصل ہے، ماہانہ 300 لیٹر پیٹرول بھی دیا جاتا ہے جبکہ بیوہ سے انکم ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔جسٹس اطہر من اللہ اور منصور علی شاہ حقیقی اصولی جنگ لڑرہے ہیں امید ہے استعفوں کے بعد پینشن اور دیگر مراعات چھوڑ دیں گے ۔ویسے کاش کہ ان شہنشاہانہ مراعات پہ بھی کسی کا ضمیر جاگتا اور کوئ استعفی اس پہ بھی آتا۔۔۔۔۔

حرام خور جج ۔ اظہر سید”کہتا ہے میرا قلم عوام کی امانت ہے”بھائی صاحب تم عوام کے مامے لگتے ہو ۔تمہارا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے ۔عوام کیلئے عوام کی پارلیمنٹ موجود ہے ۔وہ اپنے فیصلے خود کر لے گی ۔ایک چیف جسٹس کھوسہ تھا کہتا تھا “فیصلے ضمیر کے مطابق کرتا ہوں “جبکہ اسے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے کیلئے لگایا گیا تھا۔ایک مخدوم علی خان صاحب ہیں انہیں بھی آئین اور قانون بڑے زور کا آیا ہوا ہے ۔ یہ بھی استعفیٰ دے گئے ہیں ۔۔یہ موصوف آئین توڑ کر اقتدار سنبھالنے والے جنرل مشرف کے اٹارنی جنرل بن گئے تھے ۔فراڈئے ہیں سارے کے سارے۔منصور علی شاہ مستقبل کا چیف جسٹس تھا لیکن تاریخ کی غلط سمت میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ائین اور قانون کے نام پر آئین اور قانون کی جو شاعری اپنے استعفیٰ میں قوم کو سنا رہا ہے اس وقت بھول گیا تھا جب تین کے بدبخت ٹولے نے نوسر باز کی محبت میں 63 اے کی تشریح کرتے ہوئے آئین ازسر نو لکھ مارا تھا ۔اس وقت آئین اور قانون شائد کسی قریبی عزیز کا کرش بن کر اس کے خوابوں میں چلا گیا تھا۔اس وقت آئین اور قانون یاد نہیں آیا جب اپنے قلم سے جنرل باجوہ کی توسیع کا فیصلہ لکھا۔جھوٹے اور نوسر باز ہیں سارے کے سارے

۔ایک اور موصوف ہیں ۔استعفی میں واردات ڈالنے سے باز نہیں ائے۔صدر مملکت کو استعفیٰ لکھ مارا ہے۔یہی وہی موصوف ہیں ۔وزیراعظم نے عدلیہ میں کالی بھیڑوں کا ذکر کیا بولے”ہم کالے بھونڈ ہیں”یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے بھاگ کر آئین اور قانون توڑ کر اقتدار سنبھالنے والے جنرل مشرف سے صوبائی وزارت لے لی تھی ۔اج آئین اور قانون کی دہائی دیتے ہوئے استعفیٰ دے رہے ہیں جبکہ تین ماہ بعد ویسے بھی ریٹائرمنٹ کی عمر اجانی تھی۔یہ کالا بھونڈ اپنے ساتھی سنئیر جج شوکت صدیقی کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے چھلانگ لگا کر جنرل فیض کی گود میں بیٹھ گیا تھا ۔شوکت صدیقی کو اس وقت کے مالکوں نے فارغ کرایا تو چیف جسٹس بن گیا ۔ فراڈ ہیں سارے کے سارے ۔یہ وہی ہیں جو تحریک عدم کی رات جنرل باجوہ کی آنکھ کے اشارے پر عدالت کھول کر بیٹھ گئے تھے ۔اج سپریم کورٹ کا گویا نوحہ پڑھ رہے ہیں

یہ وہ پہلا وزیراعظم ہے جس کی پیٹھ میں نوازشریف نے خنجر مارا تھا۔ محمد خان جونیجو۔ اس کے بعد اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر بینظیر بھٹو کی حکومت کو 20 ماہ بعد ہی گھر بھیج دیا۔ پھر اپنے محسن صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان کے خلاف سازش کی۔ اس کے بعد فاروق لغاری کے ساتھ ملکر پھر بینظیر کے خلاف سازش کی۔ پھر لغاری کو فارغ کر کے چوٹی زریں میں ہل چلانے بھیج دیا۔ مزید تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

یہ وہ پہلا وزیراعظم ہے جس کی پیٹھ میں نوازشریف نے خنجر مارا تھا۔ محمد خان جونیجو۔ اس کے بعد اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر بینظیر بھٹو کی حکومت کو 20 ماہ بعد ہی گھر بھیج دیا۔ پھر اپنے محسن صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان کے خلاف سازش کی۔ اس کے بعد فاروق لغاری کے ساتھ ملکر پھر بینظیر کے خلاف سازش کی۔ پھر لغاری کو فارغ کر کے چوٹی زریں میں ہل چلانے بھیج دیا۔ اس کے بعد اپنے والد ضیاء الحق کے بیٹوں کو پارٹی سے نکال دیا اور ان کے ووٹ بینک پر قبضہ کرلیا۔ آج بیچارہ اعجاز الحق در بدر پھر رہا ہے۔ اپریل 2021 کو قمر باجوہ اور زرداری سے سازباز کرکے عمران خان کی جمہوری حکومت ختم کی اور شہبازشریف اور اسحاق ڈار کے ذریعے پاکستان کی معشیت تباہ کی۔ اب یہ 27ویں اور 28ویں عسکری ترامیم پاس کروا رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ آدمی پاکستان کا سب سے بڑا سازشی اور جمہوریت دشمن سیاستدان ہے۔ یہ شخص 37 سالوں سے مختلف لوگوں کے ساتھ ملکر پاکستان کی بربادی کررہا ہے۔ کسی ایک آدمی نے پاکستان کو اتنا نقصان نہيں پہنچایا جتنا اس نے پہنچایا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد منصور علی شاہ اور اطہرمن اللہ تقریبا 13 کروڑ کے قریب رقم وصول کرینگےآخری سیلری سلپ کے مطابق پینشن تاحیات انجوائے کریں گے، جو غالباً 28 سے 30 لاکھ ماہانا

ریٹائرمنٹ کے بعد منصور علی شاہ اور اطہرمن اللہ تقریبا 13 کروڑ کے قریب رقم وصول کرینگےآخری سیلری سلپ کے مطابق پینشن تاحیات انجوائے کریں گے، جو غالباً 28 سے 30 لاکھ ماہانا بنتی ہے۔دیگر الاؤنس ، گاڑی ڈرائیور اور سیکیورٹی کی مد میں تاحیات پولیس اہلکار بھی حاصل کریں گے۔ایک پسند کا اردلی رکھنے کی اجازت ہوگی ، ماہانہ 3 ہزار مفت ٹیلی فون کالز، 2 ہزار یونٹ بجلی مفت ،گیس پانی کی مفت فراہمی 300 لیٹر پٹرول بھی ملے گا۔دونوں جج صاحبان کے انتقال کے بعد بیوہ کو ڈرائیور اردلی ملے گا 2 ہزار یونٹ بجلی اور مفت پانی کی سہولت بھی حاصل ہے، ماہانہ 300 لیٹر پیٹرول بھی دیا جاتا ہے جبکہ بیوہ سے انکم ٹیکس نہیں لیا