الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایت پر آج رات 00-12 بجے الیکشن مہم اختتام پزیز ہو جائے گئی پنجاب کے 12 اور kPK کے 1 حلقوں میں ضمنی الیکشن کی پولنگ اتوار 23 نومبر 2025 کو ہوگئی،پاکستان میں آٹھ کروڑ سے زائد افراد کی مادری زبان پنجابی ہے، جبکہ 33 لاکھ 37 ہزار پاکستانی دیگر مادری زبانیں بولتے ہیں۔جنرل بخشی نے فائرٹر جیٹ تیجس کریش کا ملبہ امریکہ پر ڈال دیا۔۔بھارتی پائلٹ وِنگ کمانڈر نمنش سیال، جنہوں نے آج دبئی ایئر شو 2025 میں ہونے والے #Tejas حادثے میں اپنی جان گنوائی ہے۔ نمنش کی اہلیہ بھی ایئر فورس میں ہیں۔ ان کے والد بھی ریٹائرڈ فضائیہ کے۔۔افواج پاکستان میں بڑے تبادلوں کی گونج۔ کھربوں روپے کی کرپشن علیم خان کے لیے مشکلات۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

آزاد کشمیر میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ایک بعض صلاحیت اور اعلی اخلاق بہترین شخصیت کے مالک نیو سیکرٹری ہیلتھ تعیینات کر دیے گئے ہیں ان کی تعیناتی کے بعد ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ آزاد کشمیر میں کافی چیزیں چینج ہونا شروع ہو گئی ہیں سیکرٹری ہیلتھ محترم عامر رضا ٹیپو صاحب آتے ہوئے مختلف ڈسٹرکٹ کہ تفصیلی وزٹ شروع کر دیے گئے ہیں ان کے وزٹ سے کافی ساری چیزیں بہتر ہونا شروع ہو گئی ہیں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں جو مسائل اور کمی ہیں وہ اب بہتری کی طرف گامزند ہیں ایک بہترین شخص ہیں اللہ تعالی سے دعا ہے اللہ تعالی ان کو مزید اسی طرح کام کرنے اور صحت کے جملہ مسائل کو حل کرنے میں کامیابیاں نصیب فرمائے اور اللہ تعالی ان کو مزید عزتوں اور ترقیوں سے نوازے آمین

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی بنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر فتنہ الخوارج کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمتوزیرِ اعظم کا حملے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہاروزیرِ اعظم کی جاں بحق افراد کی بلندی درجات اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعاوزیرِ اعظم کی متعلقہ حکام کو ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کی ہدایتامن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے ایسی بزدلانہ کاروائیاں، فتنہ الخوارج کے پاکستان میں بد امنی کے ناپاک عزائم کو بے نقاب کرتی ہیں۔ وزیرِ اعظم ایسی بزدلانہ کاروائیاں کسی قیمت پاکستانیوں کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتیں۔ وزیرِ اعظم ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کیلئے پوری قوم متحد ہے۔ وزیرِ اعظم

این ایچ اے ٹھیکہ اسکینڈل سنگین صورت اختیار کر گیا: وزارتِ مواصلات کا ڈرائیور اور ساتھی 1 کروڑ روپے اور 20 ہزار ڈالر بٹورنے پر گرفتار — عبدالعلیم خان اور علی شیر محسود کے دور میں پھیلتی بدعنوانی کا مکمل پول کھل گیا رانا تصدق حسیناسلام آباد: وزارتِ مواصلات میں ایک لرزہ خیز کرپشن اسکینڈل نے پورے نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جس میں سرکاری دفاتر، سرکاری شناخت اور سرکاری رسائی کو استعمال کرتے ہوئے شہریوں سے رقوم ہتھیانے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ معاملہ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور آفیشیٹنگ سیکرٹری مواصلات علی شیر محسود کے دور میں پھیلتی ہوئی بدعنوانی کا ناقابلِ تردید ثبوت بن کر سامنے آیا ہے، جس نے این ایچ اے جیسے اہم قومی ادارے کی ساکھ اور خودمختاری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔گرفتار شدہ ملزمان محمد ندیم (ڈرائیور، وزارتِ مواصلات) اور سجاد علی ولد لیاقت علی (ساکن اسلام آباد) کے خلاف FIR نمبر 94/2025 مورخہ 30-10-2025 درج کی گئی ہے، جس میں دفعہ 34، 109، 419، 420 تعزیراتِ پاکستان بمعہ دفعہ 5(2)47 انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 شامل ہیں۔مقدمے کے مطابق دونوں ملزمان نے گٹھ جوڑ کر مدعی محمد عبدالباسط ولد مسعود خان (سکنہ پشاور) سے 1 کروڑ روپے اور 20 ہزار امریکی ڈالر ایک ذاتی بینک اکاؤنٹ میں وصول کیے اور اسے این ایچ اے کے کنسٹرکشن کنٹریکٹس دلوانے کا جھانسہ دیا۔تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان وزارتِ مواصلات کے افسران بن کر اور اسلام آباد کے سرکاری دفاتر کا غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے اپنا فراڈی نیٹ ورک چلاتے رہے۔ یہ صورتحال ادارے کے اندر موجود سہولت کاروں، نگرانی کے نظام کی ناکامی اور رسائی کے غلط استعمال کی طرف سنگین اشارہ کرتی ہے۔اس سے پہلے بھی محمد عمران (اسٹینوگرافر/پی ایس ٹو چیئرمین این ایچ اے) کو اسی نوعیت کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں کسی بااثر شخصیت کی ذاتی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے نے ادارے کے اندر موجود ممکنہ کرپشن نیٹ ورکس، سیاسی اثر و رسوخ، اور انتظامی کمزوریوں کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ماہرین کے مطابق حالیہ گرفتاریاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ عبدالعلیم خان اور علی شیر محسود کے دور میں این ایچ اے اور وزارتِ مواصلات کا نظامِ نگرانی خطرناک حد تک مفلوج ہو چکا ہے

اور بدعنوانی ایک باقاعدہ سلسلے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ گرفتاری ریاستِ پاکستان کے لیے ایک کھلا الارم ہے۔یہ معاملہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف سمیت تمام انسدادِ بدعنوانی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کے لیے اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے این ایچ اے کو دی گئی خودمختاری کس طرح سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کی مداخلت سے مسلسل پامال ہو رہی ہے۔ سرکاری سہولیات کا غلط استعمال، اختیارات کی خلاف ورزیاں، اور غیرقانونی رسائی اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ نظامِ حکمرانی میں انتہائی خطرناک بگاڑ پیدا ہو چکا ہے، جس پر فوری اور اعلیٰ ترین سطح پر کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں اور سہولت کاروں کی نشاندہی متوقع ہے۔

این ایچ اے ٹھیکہ اسکینڈل سنگین صورت اختیار کر گیا: وزارتِ مواصلات کا ڈرائیور اور ساتھی 1 کروڑ روپے اور 20 ہزار ڈالر بٹورنے پر گرفتار — عبدالعلیم خان اور علی شیر محسود کے دور میں پھیلتی بدعنوانی کا مکمل پول کھل گیا رانا تصدق حسیناسلام آباد: وزارتِ مواصلات میں ایک لرزہ خیز کرپشن اسکینڈل نے پورے نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جس میں سرکاری دفاتر، سرکاری شناخت اور سرکاری رسائی کو استعمال کرتے ہوئے شہریوں سے رقوم ہتھیانے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ معاملہ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور آفیشیٹنگ سیکرٹری مواصلات علی شیر محسود کے دور میں پھیلتی ہوئی بدعنوانی کا ناقابلِ تردید ثبوت بن کر سامنے آیا ہے، جس نے این ایچ اے جیسے اہم قومی ادارے کی ساکھ اور خودمختاری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔گرفتار شدہ ملزمان محمد ندیم (ڈرائیور، وزارتِ مواصلات) اور سجاد علی ولد لیاقت علی (ساکن اسلام آباد) کے خلاف FIR نمبر 94/2025 مورخہ 30-10-2025 درج کی گئی ہے، جس میں دفعہ 34، 109، 419، 420 تعزیراتِ پاکستان بمعہ دفعہ 5(2)47 انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 شامل ہیں۔مقدمے کے مطابق دونوں ملزمان نے گٹھ جوڑ کر مدعی محمد عبدالباسط ولد مسعود خان (سکنہ پشاور) سے 1 کروڑ روپے اور 20 ہزار امریکی ڈالر ایک ذاتی بینک اکاؤنٹ میں وصول کیے اور اسے این ایچ اے کے کنسٹرکشن کنٹریکٹس دلوانے کا جھانسہ دیا۔تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان وزارتِ مواصلات کے افسران بن کر اور اسلام آباد کے سرکاری دفاتر کا غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے اپنا فراڈی نیٹ ورک چلاتے رہے۔ یہ صورتحال ادارے کے اندر موجود سہولت کاروں، نگرانی کے نظام کی ناکامی اور رسائی کے غلط استعمال کی طرف سنگین اشارہ کرتی ہے۔اس سے پہلے بھی محمد عمران (اسٹینوگرافر/پی ایس ٹو چیئرمین این ایچ اے) کو اسی نوعیت کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں کسی بااثر شخصیت کی ذاتی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے نے ادارے کے اندر موجود ممکنہ کرپشن نیٹ ورکس، سیاسی اثر و رسوخ، اور انتظامی کمزوریوں کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ماہرین کے مطابق حالیہ گرفتاریاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ عبدالعلیم خان اور علی شیر محسود کے دور میں این ایچ اے اور وزارتِ مواصلات کا نظامِ نگرانی خطرناک حد تک مفلوج ہو چکا ہے اور بدعنوانی ایک باقاعدہ سلسلے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ گرفتاری ریاستِ پاکستان کے لیے ایک کھلا الارم ہے۔یہ معاملہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف سمیت تمام انسدادِ بدعنوانی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کے لیے اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے این ایچ اے کو دی گئی خودمختاری کس طرح سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کی مداخلت سے مسلسل پامال ہو رہی ہے۔ سرکاری سہولیات کا غلط استعمال، اختیارات کی خلاف ورزیاں، اور غیرقانونی رسائی اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں

کہ نظامِ حکمرانی میں انتہائی خطرناک بگاڑ پیدا ہو چکا ہے، جس پر فوری اور اعلیٰ ترین سطح پر کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں اور سہولت کاروں کی نشاندہی متوقع ہے۔

اے پی پی اردو نیوز سروساہم ترین—وفاقی وزیر اطلاعات ۔۔۔میڈیا فورم خطابڈیجیٹل میڈیا ذرائع ابلاغ کا تیز ترین فورم بن چکا ہے، پاکستان کا میڈیا منظر نامہ مثبت سمت میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے، عطاء اللہ تارڑباکو۔21نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا ذرائع ابلاغ کا تیز ترین فورم بن چکا ہے، پاکستان کا میڈیا منظر نامہ مثبت سمت میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے، حکومت بروقت اور موثر ابلاغ کے لئے قومی نشریاتی اداروں کو مضبوط بنا رہی ہے، نئی نسل خصوصاً جنریشن زی کو میڈیا لٹریسی اور درست معلومات کی تعلیم دینا وقت کی ضرورت ہے۔ جمعہ کو یہاں باکو میں ڈی ایٹ میڈیا فورم سے خطاب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے آذربائیجان کی حکومت اور صدر الہام حیدر علیوف کی متحرک قیادت اور وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج ہم خطے کے تعاون اور اشتراک عمل کے اس اہم اجتماع میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان نے ڈی ایٹ میں شامل ہونے کے بعد بھرپور توانائی کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے مثبت بیانیہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور اپنی کامیاب کہانیاں درست انداز میں دنیا تک پہنچائی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی میڈیا منظر نامہ بے مثال تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور سیاسی معاشی، ماحولیاتی اور انسانی بحران اب جدید ٹیکنالوجی اور جدید مواصلاتی ذرائع کی وجہ سے پہلے سے کئی گنا تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے روایتی پرنٹ میڈیا کو الیکٹرانک میڈیا میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا، یہ تدریجی ارتقاء تھا جو ایک منظم اور ساختیاتی عمل کے تحت وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا تک آنے والا دوسرا ارتقاء اپنے ہی ماحول میں اپنی ہی رفتار سے خود بخود وقوع پذیر ہوا، دنیا اس وقت دو طرح کے لوگوں میں تقسیم ہو چکی ہے، ڈیجیٹل امیگرنٹس اور ڈیجیٹل نیٹوز اور یہ تقسیم ایک خوبصورت حقیقت ہے کیونکہ ڈیجیٹل میڈیا آج تیز ترین مواصلاتی ذریعہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس فورم پر ڈیجیٹل نیٹوز اور ڈیجیٹل امیگرنٹس دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، یہ فورم اس کے لئے آئیڈیل ہے، یہاں ہم نہ صرف باہمی تعاون کر سکتے ہیں بلکہ ایک ضابطہ اخلاق بھی تشکیل دے سکتے ہیں جس کے ذریعے ہم نوجوان نسل بالخصوص جنریشن زی کو سوشل میڈیا کے مثبت اور تعمیری استعمال کے بارے میں تعلیم دے سکیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کا منظرنامہ بہت متنوع اور انتہائی متحرک ہے، ملک میں 117 ملین انٹرنیٹ صارفین اور 79.9 ملین سوشل میڈیا صارفین موجود ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا 68 فیصد حصہ وہ نوجوان ہیں جو 30 سال سے کم عمر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا میڈیا لینڈ سکیپ مثبت انداز میں تیزی سے بدل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران انفارمیشن وار بھی جاری تھی جس میں جنریشن زی نے اہم کردار ادا کیا۔ درست معلومات بروقت دنیا تک پہنچا کر یہ اشتراک میڈیا ہاؤسز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور جنریشن زی کے درمیان کامیابی سے انجام پایا جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے مؤثر اور بھرپور بیانیہ سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ غلط معلومات عوامی تاثر کو بگاڑتی ہیں، معاشرتی پولرائزیشن کو بڑھاوا دیتی ہیں اور اداروں پر اعتماد کو کمزور کرتی ہیں، اسی لیے میڈیا اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سٹریٹجک کمیونیکیشن اور بحرانوں کے دوران رابطہ کاری کا طریقہ چند بنیادی ستونوں پر قائم ہے جن میں پیشگی اور بروقت معلومات کی فراہمی (تاکہ حکومتی اداروں کا پیغام بروقت، درست اور ہم آہنگ انداز میں عوام تک پہنچے)، قومی میڈیا پلیٹ فارمز کی مضبوطی، سرکاری نشریاتی اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جدید ٹولز اور تربیت سے بااختیار بنانا اور میڈیا پروفیشنلز کی صلاحیتوں میں اضافہ (جس کے تحت صحافیوں کو وہ مہارتیں فراہم کی جائیں جو بحرانوں کی ذمہ دارانہ اور اخلاقی رپورٹنگ کے لیے ضروری ہیں) شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ فیکٹ چیکنگ میکانزم، غلط معلومات کے خلاف مربوط حکمت عملی اور شہریوں کو درست معلومات کی فراہمی اور میڈیا لٹریسی کے ذریعے شہریوں کو اس قابل بنانا کہ وہ جھوٹی معلومات کو مؤثر طریقے سے پہچان سکیں، یہ تمام اقدامات پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط، قابل اعتماد اور جمہوری اقدار پر مبنی اطلاعاتی ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں جو معاشرتی ہم آہنگی اور قومی استحکام کو مضبوط کرے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایٹ فورم اجتماعی اقدامات کے لیے ایک غیر معمولی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے اور ہمارے رکن ممالک مشترکہ علم، ہم آہنگ حکمت عملیوں اور مشترکہ اقدامات سے بے پناہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آذربائیجان کی حکومت کی جانب سے میڈیا ایکسی لینس سینٹر کے قیام کا اقدام قابل تحسین ہے اور ہم اس اقدام میں مکمل تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تجویز ہے کہ میڈیا کی وزارتوں اور میڈیا پروفیشنلز پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے جو باقاعدگی سے ورچوئل ویڈیو کانفرنسز اور میٹنگز کے ذریعے رابطے میں رہیں جس سے ہمیں ایک دوسرے کے تجربات تواتر کے ساتھ شیئر کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کرائسس رپورٹنگ، ڈیجیٹل فورینزکس اور گمراہ کن معلومات کے تدارک سے متعلق مشترکہ تربیتی پروگرام اور ورکشاپس کا انعقاد بھی ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ میڈیا تعاون کے لئے باکو ڈیکلریشن جاری کیا جائے جو مستقبل کے روڈ میپ کا تعین کرے اور اس پر تمام رکن ممالک کا اتفاق ہو۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ باکو ڈیکلیئریشن ڈی ایٹ ممالک کے میڈیا پروفیشنلز اور میڈیا وزارتوں کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ متعین کر سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے یہ بھی تجویز دی کہ ڈی ایٹ میڈیا فورم کے سوشل میڈیا ہینڈلز قائم کئے جائیں جن کے ذریعے رکن ممالک اقتصادی ترقی، عوامی فلاح اور اسلامی دنیا سے متعلق مثبت بیانیہ پیش کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم اسلامو فوبیا اور دہشت گردی کے خلاف موثر ردعمل کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ بیانیہ کو فروغ دے گا اور ہمارے پاس بہت سی مثبت کہانیاں موجود ہیں جو دنیا تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ایف بی آر میں اصلاحات کا اقدام دنیا کے لئے قابل تقلید مثال ہے۔ اصلاحاتی عمل سے نہ صرف ہماری آمدن میں اضافہ ہوا بلکہ اداروں پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اصلاحات، ادارہ جاتی بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے تجربات موجود ہیں جنہیں ڈی ایٹ کا مشترکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم موثر انداز میں دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آن لائن انتہاء پسندی اور نفرت انگیز مواد خطے میں معاشرتی ہم آہنگی کے لئے بڑا خطرہ ہیں، اس کے خلاف شراکت داری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مشترکہ عوامی سفارت کاری کی مہم بھی شروع کر سکتے ہیں جس سے ڈی ایٹ ممالک کے مشترکہ بیانیے، امن، اقتصادی ترقی اور ثقافتی تنوع کو اجاگر کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے سیکریٹری جنرل کو ان کی کامیاب مدت، ڈی ایٹ ممالک کے لئے خدمات اور گزشتہ سال قاہرہ میں ڈی ایٹ سمٹ کے کامیاب انعقاد پر خراج تحسین پیش کیا اور ان کے لئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان 2026ء میں سیکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھالے گا، ہمیں موجودہ سیکریٹری جنرل کے تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے استعمال اور مصنوعی ذہانت کے ضابطہ اخلاق پر اتفاق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کچھ پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ویڈیوز موجود ہوتی ہیں، ان پر مخصوص نشان ہوتا ہے کہ یہ اے آئی سے تیار کی گئی ہیں، ہمیں بھی اسی طرح کی نشاندہی کی ضرورت ہے تاکہ صارفین اصل اور مصنوعی ویڈیوز میں فرق کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات غلط معلومات اور گمراہ کن مہمات کا مقابلہ کرنے میں ہماری مدد کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فیکٹ چیکنگ کے نظام موجود ہیں، ہم اکثر انہی سے درست معلومات کی تصدیق کرتے ہیں اور جھوٹی خبروں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آج دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک غلط معلومات اور گمراہ کن مواد ہے، ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق عالمی رہنمائوں نے اسے موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا، عالمی رہنمائوں نے نیوکلیئرجنگ یا موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ غلط معلومات کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جو انتشار اور تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر تعاون اور ڈی ایٹ میڈیا فورم جیسے اقدامات سے ہم روابط کو مضبوط کر سکتے ہیں اور میڈیا کے نظام کو زیادہ مضبوط بنا سکتے ہیں، سٹریٹجک کمیونیکیشن صرف حکومتوں کے بات چیت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرے میں بحران کے مقابلے اور مشترکہ ردعمل کا بھی ذریعہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ذمہ دارانہ صحافت، اخلاقیات پر مبنی رپورٹنگ اور درست معلومات کی فراہمی کے لئے ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط روابط کے لئے پاکستان تمام ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لئے تیار ہے تاکہ ایسا فریم ورک تشکیل دیا جاسکے جو امن اعتماد اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے، ہمیں مل کر ایسا معلوماتی ماحول قائم کرنا ہے جہاں سچ جھوٹ پر غالب آئے، تعاون تقسیم کو شکست دے اور رابطہ کمزوری کے بجائے طاقت کا ذریعے بنے۔

وفاقی وزیر نے آذربائیجان کی حکومت، صدر الہام حیدر علیوف، آذربائیجان پریذیڈنشل ایڈمنسٹریشن میں خارجہ امور کے سربراہ حکمت حاجیوف اور ڈی ایٹ سیکرٹریٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایٹ میڈیا فورم کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان میڈیا تعاون کو فروغ ملا، ایسا نظام تشکیل دینے کے لئے پرامید ہیں جس سے آنے والی نسلیں مستفید ہوں، لوگ اس فورم کو دہائیوں بعد بھی ایسے نقطہ آغاز کے طور پر یاد کریں جس نے ڈی ایٹ ممالک کے عوام کے لئے امن اور خوشحالی کی بنیاد رکھی ہو۔

بھارتی 🇮🇳 پائلٹ وِنگ کمانڈر نمنش سیال، جنہوں نے آج دبئی ایئر شو 2025 میں ہونے والے #Tejas حادثے میں اپنی جان گنوائی ہے۔ نمنش کی اہلیہ بھی ایئر فورس میں ہیں۔ ان کے والد بھی ریٹائرڈ فضائیہ کے

پاکستان کا ھر بندہ زھنی مریض بن چکا ہے طاھر خوشنود کی دل موہ لینے والی تحریر تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اس ملک کا ہر باشندہ ذہنی مریض بن چکا ہے، اپنے حکمرانوں اور ان کے پشت پناہ طاقتوروں کے ہاتھوں۔ عام آدمی کے لیے کوئی سکون نہیں، کوئی تحفظ نہیں، کچھ بھی یقینی نہیں۔ آپ گھر سے نکلتے ہیں کسی ضرورت کے لئے تو راستہ بند ہے یا کسی مسلح جتھے کے ہاتھوں یا کسی ذلیل ترین فطرت کے مالک دو پاؤں والی کسی غیر انسانی مخلوق کے ہاتھوں جو خود کو وی آئی پی کہلاتی ہے، ایسی مخلوق جو خدا بننے کی کوشش میں ہے، اسے اپنے لئے ہر قسم کا استثنا اور استحقاق چاہئے، جو عام آدمی کو ذلیل و خوار دیکھنا چاہتی ہے۔ آپ پر ہر روز ایک نیا ٹیکس لگ سکتا ہے، ہر روز ایک نئی پابندی لگ سکتی ہے، روزانہ کی بنیاد پر چیزوں کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ آپس کے گٹھ جوڑ سے بنی حکومت کو مگر اس سے کوئی غرض نہیں، کیونکہ اس کا کام دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اس کی اپنی پیدہ کردہ ہے۔ وہ دہشت گردی جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ کسی کی دکان ہے جو وہ “کوئی” کسی قیمت پر بند نہیں ہونے دینا چاہتا۔ آپ کے لئے سکول کالج ہسپتال نہیں۔ ہر چیز پرائیویٹائز ہو رہی ہے۔ کیونکہ سروس کا معیار بہتر کرنا مقصود نہیں ہے۔ ریاست اپنی ذمہ داریاں پرائیویٹ سیکٹر کو دے رہی ہے۔ آپ کو ہر چیز کی مارکیٹ پرائس ادا کرنی پڑے گی۔ لیکن ٹیکس پہلے سے زیادہ لگیں گے۔آگر آپ نے کسی دفتر میں کوئی درخواست دے رکھی ہے تو اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوگی لیکن آپ کی فائل آپ ہی کے لئے سیکرٹ ہو جائے گی۔ پولیس اور دوسری وردی والی مخلوق کی تعداد اور طاقت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن آپ کو اپنے لیے پرائیویٹ سیکیورٹی رکھنی پڑے گی ترجیحا کسی ایسی کمپنی کی جس کا مالک کسی سیکیورٹی ادارے سے ریٹائیرڈ ہو۔آپ مر رہے ہیں یا آپ کا کوئی عزیز مر رہا ہے تو مرے، اگر کسی اونچی انا والے ذہنی جسمانی طور پر مفلوج ہومو سیپین کے لئے روٹ لگا ہے تو آپ آگے نہیں جا سکتے۔ یہاں پر بدمعاش گاڑیوں پر ہُوٹر لگا کر گھومتے ہیں اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ تمام لوگ جو ہر قسم کی پاور کے مالک یا مالکوں کے دلال ہیں اور اپنے ہی ہم وطنوں کو نچلے درجے کی مخلوق سمجھتے ہیں اور ہر قیمت پر انہیں نیچا دکھانا چاہتے ہیں، کیا یہ ہم میں سے ہیں؟ ہمارے ہی ہم وطن ہیں، ہمارے بھائی بیٹے دوست یا عزیز رشتہ دار ہیں یا کہیں اور سے آ کر ہم پر قابض ہوئے ہیں؟

اشرف غنی افغانستان جانے کے لیے بےتاب۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کیڈٹ کالج وانا کا دورہ کرنے کے بعد جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں مقامی قبائلی عمائدین سے۔۔ملڑے قابض ہیں پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے رہیں گے ۔۔ مانو بلی دنیا کی سب سے بڑی ڈاکٹر اج ناشتہ نھی کر گئی پیاری مانو جی لنچ کھانا ھے سر اپ نے۔مستقل مندوب عاصم افتخار نے جمعرات کو جنرل اسمبلی میں ویٹو کے حق پر بحث میں تجویز دی کہ سلامتی کونسل کے موجودہ مستقل ارکان کے ویٹو کا حق ختم یا کم ازکم اس کے استعمال کے دائرے کو محدود کر دیا جائے۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سابق افغان صدر اشرف غنی نے اپنے حالیہ خط میں طالبان اور عوام سے کہا ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی عہدہ یا فائدہ نہیں چاہتے، لیکن اگر عوام چاہیں تو وہ افغانستان کو موجودہ معاشی و سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔غنی نے واضح کیا کہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ قومی اتفاق، مشترکہ حکمتِ عملی اور سب افغان دھڑوں کی شمولیت ہے۔ان کے مطابق ترقی، امن اور استحکام تب ہی ممکن ہے جب تعلیم یافتہ نوجوان، خواتین و مرد اور سیاسی دھڑے یکجا ہوں اور ملک کے مستقبل کے لیے مشترکہ راستہ اپنائیں۔غنی کے اس مثبت اور تعمیری پیشکش پر طالبان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ،آپ ایک عام افغان کی طرح آئیں۔ ہم آپ کو کوئی اختیار، پروٹوکول یا کوئی سیاسی کردار نہیں دیں گے، نہ آپ کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے۔طالبان کا یہ جواب بتاتا ہے کہغنی نیک نیتی سے حل چاہتے ہیںطالبان ہٹ دھرمی اور تنگ نظری پر قائم ہیںافغانستان کے مسائل کسی ایک گروہ کے بس کی بات نہیںتمام افغان دھڑوں کا اتحاد ہی ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکتا ہےپڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات تعمیر کرنا ضروری ہےٹی ٹی پی اور شدت پسند گروہوں کا خاتمہ بھی اسی وقت ممکن ہے جب افغانستان کے تمام مقتدر طبقات ایک قومی ایجنڈے پر متحد ہوں

باکو ۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ آذربائیجان حکومت کی دعوت پر ڈی ایٹ میڈیا فورم میں شرکت کے لئے باکو پہنچ گئےحیدر علیوف انٹرنیشنل ایئر پورٹ باکو پر آذربائیجان کی میڈیا ڈویلپمنٹ ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد اسماعیلوف نے وفاقی وزیر اطلاعات کا استقبال کیاڈی ایٹ فورم کا موضوع ”مباحثے، تعاون اور علاقائی ہم آہنگی کو فروغ دینا“ ہےڈی ایٹ میڈیا فورم میں پاکستان سمیت آذربائیجان، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائجیریا اور ترکی کے میڈیا ماہرین، پالیسی ساز اور ابلاغیات کے ماہرین شرکت کر رہے ہیںفورم میں ڈی ایٹ ممالک کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے، تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع فراہم کئے جائیں گےوفاقی وزیر اطلاعات فورم میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیںوفاقی وزیر اطلاعات میڈیا تعاون، حقائق پر مبنی رپورٹنگ، ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے میں مشترکہ لائحہ عمل سے متعلق پاکستان کا موقف پیش کریں گےدورے کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات کی ڈی ایٹ کے سیکریٹری جنرل، رکن ممالک کے وزرائے اطلاعات، میڈیا سربراہان اور مختلف عالمی ماہرین سے ملاقاتیں بھی ہوں گی

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور آذربائیجان پریزیڈنشل ایڈمنسٹریشن میں خارجہ امور کے سربراہ حکمت حاجیوف کے درمیان ملاقات بھی ہوگیوفاقی وزیر اطلاعات آذربائیجان کے سرکاری ٹی وی کا دورہ بھی کریں گےدورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو آگے بڑھانے سمیت میڈیا تعاون کے حوالے سے تعلقات کو نئے دور میں داخل کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوگا

*دبئی ائیرشو: بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں کا پاکستانی پویلین کا دورہ، پاکستانی پائلٹس کی چائے کی پیشکش*بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی پاکستان ائیر فورس اور پاکستانی طیارے جے ایف 17 تھنڈر کے فین نکلے، بھارتی فوجیوں نے جے ایف 17 تھنڈر کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔دبئی ائیر شو 2025 میں پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر ایک بار پھر سب کی آنکھوں کا مرکز بن گیا۔معرکہ حق میں پاک فضائیہ کی شاندار کامیابی کے بعد جہاں دنیا بھر میں پاک فضائیہ کی دھوم ہے وہیں بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی پاک فضائیہ سے متاثر ہوگئے۔دبئی ائیر شو کے دوران بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں نے پاکستانی پویلین کا دورہ کیا اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس پاکستانی ہتھیاروں میں دلچسپی دکھائی۔پاکستانی حکام کے مطابق اس موقع پر پاک فضائیہ کے پائلٹس کی جانب سے بھارتی فوجیوں کو چائے کی دعوت بھی دی گئی۔ ‘آئیے آپ کو چائے پلائیں’ پاک فضائیہ کے پائلٹس کا کہنا تھا کہ ‘آئیے آپ کو چائے پلائیں’ ، جس پر بھارتی فوجیوں نے انتہائی شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی اور بس پانی پر ہی اکتفا کیا۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کوئی مہمان آجائے تو ہماری طرف سے ویلکم ہی ہے۔دوسری جانب بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی پاکستانی طیارے جے ایف 17 تھنڈر کے فین نکلے۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی پائلٹس اور فضائیہ کے اہلکار ڈسپلے ایریا میں جے ایف 17 تھنڈر کے ساتھ ذوق شوق کے ساتھ تصاویر بنوا رہے ہیں۔

ملڑے جائیں گے ۔اظہر سید افغانستان قحط کا شکار ہو رہا ہے لیکن ملڑے خارجیوں کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے راضی نہیں ،پاکستان کا موقف اس مرتبہ بہت سخت ہے ۔سپین بولداک تورخم سمیت کسی جگہ سے تجارت ممکن نہیں ۔قحط سے بچنے کیلئے انگور ،ٹماٹر اور انار کھاؤ ،یا پھر ڈالر خرچو دوسرے ملکوں سے گندم ،گڑ ،قہوہ گھی اور دیگر چیزیں منگواو۔ افغان ملڑوں کی حکومت نمائندہ نہیں یہ ختم ہو گی اور اسے ختم ہونا ہے ۔چند ہفتوں میں بھوک ننگ سے تنگ افغان ردعمل شروع ہو جائے گا ۔ بہت جلد یہ ردعمل ملڑوں کو بھاگنے پر مجبور کر دے گا ۔ملڑے اب بھاگے تو ان کیلئے محفوظ ٹھکانے کہیں پر موجود نہیں ۔بڑے لیڈر شائد بھارت یا خلیجی ممالک چھپ جائیں چھوٹے کمانڈر مارے جائیں گے سارے کے سارے ۔خطہ کا ہر ملک پاکستان ،ایران ،سنٹرل ایشیائی ریاستیں سب ان مذہبی دہشت گردوں کا خاتمہ چاہتا ہے ۔پاکستان میں موجود خارجیوں کو پاک فوج مار دے گی اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو سارے مل کر مار دیں گے ۔بھارتی انہیں کوئی مدد فراہم نہیں کر سکتے ۔دنیا کا کوئی ملک انہیں طیارے،ہیلی کاپٹر ،میزائل یا دوسرے جدید ہتھیار فراہم نہیں کرے گا ۔یہ خود کش جیکٹس بنا سکتے ہیں لیکن اب اسکی مہلت بھی نہیں ملے گی ۔قحط سے اموات شروع ہو چکی ہیں ۔روزگار موجود نہیں

۔ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے عالمی امدادی اداروں کی امداد استمال کرتے ہیں ۔ایران ،پاکستان کی طرف سے نکالے گئے چالیس لاکھ سے زیادہ مہاجرین الگ سے معیشت پر بوجھ ہیں۔ملڑا ہیبت اللہ اور سارے کمانڈر ہر وقت پاکستانی میزائل حملوں سے خوفزدہ رہتے ہیں ۔کھلے عام گھوم پھر نہیں سکتے ۔نقل و حمل خفیہ رکھتے ہیں لیکن انکی نقل و حمل پر دیکھنے والوں کی مسلسل نظر ہوتی ہے ۔نئی افغان حکومت بلوچ عسکریت پسندوں کے ٹھکانے بھی ختم کرے گی ۔پاکستان اور ایران مدد کریں گے ۔

خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور محترمہ بختاور بھٹو زرداری کا ابوظہبی میں جنرل ویمنز یونین کا دورہخاتونِ اول کی ڈی جی جنرل ویمنز یونین نورہ خلیفہ السویدی سے ملاقاتخاتونِ اول کی اسٹریٹجک افیئرز و ڈیولپمنٹ کی چیئرپرسن مس غالیہ المنعی سے بھی ملاقاتبی بی آصفہ بھٹو زرداری کی اماراتی خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے یونین کی کاوشوں کی تعریفخاتونِ اول نے حکومتی و بین الاقوامی سطح پر خواتین کی شمولیت میں ترقی کو سراہاخاتونِ اول نے جنرل ویمنز یونین کے پروڈکٹیو فیملیز ایمپلائمنٹ پروگرام کی تعریف کیخاتونِ اول کا شیخہ فاطمہ بنت مبارک کی خواتین کی ترقی کیلئے وژنری قیادت کو خراجِ تحسین

اسلام آباد ہائی کورٹ کی G-10/1 منتقلی کا فیصلہ خوش آئند—اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے تاریخی قدم قرار دے دیا اسلام آباد بادبان رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کی اپنے پرانے اور مستقل مقام سیکٹر G-10/1 میں دوبارہ منتقلی کے حکومتی فیصلے کو قانونی برادری میں بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد بار ایسوسی ایشن (IBA) نے وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو ایک اہم خط ارسال کرتے ہوئے اس فیصلے کو عدل کی فراہمی، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے لیے سنگِ میل قرار دیا ہے۔خط میں صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن چوہدری نعیم علی گجر ایڈووکیٹ اور جنرل سیکرٹری عبدالحلیم بوٹو ایڈووکیٹ نے اس حکومتی اقدام پر اپنی گہری خوشی اور پیشہ ورانہ اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ IHC کی G-10/1 منتقلی سے نہ صرف وکلاء کی روزمرہ پیشیاں آسان ہوں گی بلکہ عام شہریوں اور مقدمات کے سائلین کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔بار کے مطابق یہ منتقلی محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ عدالتی کارکردگی میں بہتری، تاخیر میں کمی، اور عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کی بحالی کی جانب ایک مضبوط اشارہ ہے۔اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے یقین دلایا کہ وہ وزارت قانون و انصاف، اسلام آباد ہائی کورٹ انتظامیہ، اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاکہ یہ منتقلی باعزت، موثر اور بغیر کسی تعطل کے مکمل ہو سکے۔خط میں بار نمائندگان نے واضح کیا کہ اس فیصلے سے بار اور بینچ کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور دونوں ادارے مل کر بروقت، منصفانہ اور شفاف انصاف کی فراہمی کے مشترکہ مقصد کو آگے بڑھا سکیں گے۔آخر میں، بار نے حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے اور وفاقی وزیر سے ملاقات کے لیے ہر وقت تیار ہیں تاکہ منتقلی کے عمل کے لیے آئندہ اقدامات پر مشاورت کی جا سکے۔

بھارتیوں کا المیہ ۔ اظہر سیدجنرل ضیاء الحق کے دور تک بھارت روسی کیمپ میں تھا ۔بھارتی اسلحہ خانہ کا اسی فیصد اسلحہ سوویت یونین کا تھا ۔پاکستان امریکی یا مغربی کیمپ میں تھا ۔مغربی اسلحہ سوویت اسلحہ سے ٹیکنالوجی کے حوالہ سے بہتر تھا۔اسی اسلحہ کے زور میں پاکستان بھارتیوں کو ناکوں چنے چبواتا رہا ۔پاکستان ایٹمی طاقت نہیں تھا لیکن اس نے تین گنا بڑے بھارت کی خالصتان اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکوں میں ناک بند کر دی تھی۔بھارت نے 1965 میں گرچہ آپریشن جبڑالڑ کے ردعمل میں حملہ کیا تھا لیکن پاکستان نے برتر مغربی اسلحہ کے زور پر بھارتی حملہ ناکام بنا دیا۔مشرقی پاکستان میں پاکستان کی شکست کی وجہ اسلحہ نہیں تھا بلکہ مقامی بغاوت اور مزاحمت تھی۔مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن نے بغاوت کچل دی تھی ۔بھارتی حملہ نہ کرتے مشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا۔سوویت یونین کی تحلیل کے بعد بھارتی فوج تطہیر کے بہت بڑے عمل سے گزری ۔بھارتیوں نے مغربی اسلحہ کی خریداری شروع کر دی اور پاکستان کے جنگی ٹیکنالوجی میں پاکستان کے برابر آگیا لیکن فضائی برتری میں پاکستان سے پیچھے ہی رہا بھارت کو روسی ساختہ سوویت دور کے مگ جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے نجات کیلئے تین سو ارب ڈالر درکار تھے ۔پیسوں کا بندوبست ہو بھی جاتا جدید ترین مغربی طیاروں کی فراہمی کیلئے کم از کم بیس سے تیس سال درکار تھے ۔بھارتیوں نے پہلا گھونٹ بھرا اور فرانس سے 36 رافال طیاروں کا سودہ کر لیا ۔ان طیاروں کا جو حال آپریشن سیندور میں پاکستان نے کیا ہے بھارتی پھر اسی جگہ پر ان کھڑے ہوئے ہیں جہاں 1980 کی دہائی میں تھے ۔بھارتی مغربی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہوئے پاکستانی چھلانگ لگا کر چینی ٹیکنالوجی کی طرف چلے گئے جو بحرحال مغرب سے بہتر ثابت ہوئی ہے۔چینی پاکستان کو طیارے پہلے دیتے ہیں پیسے ادھار کر لیتے ہیں۔مغربی ممالک پیسے ایڈوانس لیتے ہیں اور طیارے قسطوں میں دیتے ہیں۔رافال کے ناکام تجربہ کے بعد اب بھارتی امریکیوں سے ففتھ جنریشن وار کا جیٹ ایف 35 خریدنے کیلئے مرے جا رہے ہیں لیکن ان طیاروں کے چار پانچ سکواڈرن تیار کرتے دس سال لگ جائیں گے ۔بھارتیوں کو اڑتے تابوت یعنی مگ پر ہی سالوں گزارا کرنا ہے ۔فضائی جنگ میں جو نئی اختراعات چینیوں نے کی ہیں ساری مغربی ٹیکنالوجی کی واٹ لگ گئی ہے۔مصنوعی سیاروں ،اوکس سسٹم اور پی ایس 15 میزائل کا جو تال میل آپریشن سیندور میں سامنے آیا ہے بھارتی جیٹ بھلے رافال ہوں یا ففتھ جنریشن وار کے ایف 35 دو سو میل دور سے گرائے جا سکتے ہیں اور انکا سسٹم چوری کر کے انہیں اندھا کیا جا سکتا ہے ۔پاکستان کو گھٹنوں پر گرانے کیلئے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر طویل جنگ مسلط کرنا ہی واحد آپشن ہے لیکن پاکستان اس طویل جنگ کی اجازت ہی نہیں دے گا ۔مختصر جنگ میں بھارت کو ایسا خوفناک جواب دے گا بھارتی آپریشن سیندور شروع کرنے کے بعد جس طرح جنگ بندی کیلئے بھاگے تھے دنیا کے چاروں کونوں میں بھاگتے پھریں گے ۔پاکستان نے برتری ثابت کر دی ہے ۔دنیا نے پاکستان کی برتری تسلیم کر لی ہے ۔اسرائیل کی جنگی مشین سے خوفزدہ عرب ممالک کو پاکستان کی صورت میں ایک طاقتور “اپنا” نظر آرہا ہے ۔مصر، اردن ،ترکی ،ازربائیجان اور سعودی عرب کس نے سوچا تھا یہ ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی اشتراک کریں گے ۔یہ پاکستان کی طاقتور موجودگی ہے امریکی قطر کو یقین دہانیاں کراتے نظر آرہے ہیں اسرائیل آئندہ حملہ نہیں کرے گا۔سعودی کروان پرنس کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی فضاؤں میں پہنچنے کے بعد اپنے جدید ترین طیاروں کے ساتھ اسے سلامی دیتے نظر آرہے ہیں۔یہی سعودی عرب تھا اور یہی کروان پرنس تھا امریکی صدر ٹرمپ نخوت اور تکبر سے کہتا تھا “ہم حفاظت کرتے ہیں نہ کریں سعودی بادشاہت قائم نہ رہے “پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد وہی امریکہ کروان پرنس کے واری صدقے جا رہا ہے ۔دنیا تبدیل ہو گئی ہے ۔نئی دنیا روس چین ،ترکی اور پاکستان کی دنیا ہے ۔تیسری عالمی جنگ میں یہی ممالک حلیف ہونگے ۔مغرب کی اجارہ داری ختم ہوئی ۔اگلا دور نئی دنیا کا ہے ۔

بھارتیوں کا المیہ ۔ اظہر سیدجنرل ضیاء الحق کے دور تک بھارت روسی کیمپ میں تھا ۔بھارتی اسلحہ خانہ کا اسی فیصد اسلحہ سوویت یونین کا تھا ۔پاکستان امریکی یا مغربی کیمپ میں تھا ۔مغربی اسلحہ سوویت اسلحہ سے ٹیکنالوجی کے حوالہ سے بہتر تھا۔اسی اسلحہ کے زور میں پاکستان بھارتیوں کو ناکوں چنے چبواتا رہا ۔پاکستان ایٹمی طاقت نہیں تھا لیکن اس نے تین گنا بڑے بھارت کی خالصتان اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکوں میں ناک بند کر دی تھی۔بھارت نے 1965 میں گرچہ آپریشن جبڑالڑ کے ردعمل میں حملہ کیا تھا لیکن پاکستان نے برتر مغربی اسلحہ کے زور پر بھارتی حملہ ناکام بنا دیا۔مشرقی پاکستان میں پاکستان کی شکست کی وجہ اسلحہ نہیں تھا بلکہ مقامی بغاوت اور مزاحمت تھی۔مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن نے بغاوت کچل دی تھی ۔بھارتی حملہ نہ کرتے مشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا۔سوویت یونین کی تحلیل کے بعد بھارتی فوج تطہیر کے بہت بڑے عمل سے گزری ۔بھارتیوں نے مغربی اسلحہ کی خریداری شروع کر دی اور پاکستان کے جنگی ٹیکنالوجی میں پاکستان کے برابر آگیا لیکن فضائی برتری میں پاکستان سے پیچھے ہی رہا بھارت کو روسی ساختہ سوویت دور کے مگ جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے نجات کیلئے تین سو ارب ڈالر درکار تھے ۔پیسوں کا بندوبست ہو بھی جاتا جدید ترین مغربی طیاروں کی فراہمی کیلئے کم از کم بیس سے تیس سال درکار تھے ۔بھارتیوں نے پہلا گھونٹ بھرا اور فرانس سے 36 رافال طیاروں کا سودہ کر لیا ۔ان طیاروں کا جو حال آپریشن سیندور میں پاکستان نے کیا ہے بھارتی پھر اسی جگہ پر ان کھڑے ہوئے ہیں جہاں 1980 کی دہائی میں تھے ۔بھارتی مغربی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہوئے پاکستانی چھلانگ لگا کر چینی ٹیکنالوجی کی طرف چلے گئے جو بحرحال مغرب سے بہتر ثابت ہوئی ہے۔چینی پاکستان کو طیارے پہلے دیتے ہیں پیسے ادھار کر لیتے ہیں۔مغربی ممالک پیسے ایڈوانس لیتے ہیں اور طیارے قسطوں میں دیتے ہیں۔رافال کے ناکام تجربہ کے بعد اب بھارتی امریکیوں سے ففتھ جنریشن وار کا جیٹ ایف 35 خریدنے کیلئے مرے جا رہے ہیں لیکن ان طیاروں کے چار پانچ سکواڈرن تیار کرتے دس سال لگ جائیں گے ۔بھارتیوں کو اڑتے تابوت یعنی مگ پر ہی سالوں گزارا کرنا ہے ۔فضائی جنگ میں جو نئی اختراعات چینیوں نے کی ہیں ساری مغربی ٹیکنالوجی کی واٹ لگ گئی ہے۔مصنوعی سیاروں ،اوکس سسٹم اور پی ایس 15 میزائل کا جو تال میل آپریشن سیندور میں سامنے آیا ہے بھارتی جیٹ بھلے رافال ہوں یا ففتھ جنریشن وار کے ایف 35 دو سو میل دور سے گرائے جا سکتے ہیں اور انکا سسٹم چوری کر کے انہیں اندھا کیا جا سکتا ہے ۔پاکستان کو گھٹنوں پر گرانے کیلئے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر طویل جنگ مسلط کرنا ہی واحد آپشن ہے لیکن پاکستان اس طویل جنگ کی اجازت ہی نہیں دے گا ۔مختصر جنگ میں بھارت کو ایسا خوفناک جواب دے گا بھارتی آپریشن سیندور شروع کرنے کے بعد جس طرح جنگ بندی کیلئے بھاگے تھے دنیا کے چاروں کونوں میں بھاگتے پھریں گے ۔پاکستان نے برتری ثابت کر دی ہے ۔دنیا نے پاکستان کی برتری تسلیم کر لی ہے ۔اسرائیل کی جنگی مشین سے خوفزدہ عرب ممالک کو پاکستان کی صورت میں ایک طاقتور “اپنا” نظر آرہا ہے ۔مصر، اردن ،ترکی ،ازربائیجان اور سعودی عرب کس نے سوچا تھا یہ ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی اشتراک کریں گے ۔یہ پاکستان کی طاقتور موجودگی ہے امریکی قطر کو یقین دہانیاں کراتے نظر آرہے ہیں اسرائیل آئندہ حملہ نہیں کرے گا۔سعودی کروان پرنس کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی فضاؤں میں پہنچنے کے بعد اپنے جدید ترین طیاروں کے ساتھ اسے سلامی دیتے نظر آرہے ہیں۔یہی سعودی عرب تھا اور یہی کروان پرنس تھا امریکی صدر ٹرمپ نخوت اور تکبر سے کہتا تھا “ہم حفاظت کرتے ہیں نہ کریں سعودی بادشاہت قائم نہ رہے “پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد وہی امریکہ کروان پرنس کے واری صدقے جا رہا ہے ۔دنیا تبدیل ہو گئی ہے ۔نئی دنیا روس چین ،ترکی اور پاکستان کی دنیا ہے ۔تیسری عالمی جنگ میں یہی ممالک حلیف ہونگے ۔مغرب کی اجارہ داری ختم ہوئی ۔اگلا دور نئی دنیا کا ہے ۔

ایئر انڈیا نے حکومت سے مالی مدد اور چین سے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت کے لیے بات چیت کا مطالبہ کیا ہے، خبر ج۔ پیپلزپارٹی کی چیخیں خفیہ میٹنگز، خفیہ فیصلے۔عمران خان سے ملاقات کے بعد6⁶ نئے طریقے۔سیکرٹری اطلاعات کون فیصلہ اج ھو گا۔طارق محمود ارشد منیر عمرانہ وزیر مسٹر شیخ اور اشفاق پٹھان کو وزیر اعظم نے اج وزیر اعظم ھاوس طلب پاک فوج کے خلاف ایک اور بے بنیاد پروپیگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے۔ملک بھر میں مھنگای اور غیر یقینی صورتحال برقرار۔6 ماہ میں پاکستان سے ڈاکٹر انجئنرز اور تاجروں کی ملک سے باہر نکل جانے کی تعداد میں 70 فیصد اضافہ۔پاکستان میں مھنگای نے عوام سے خوشیاں چھین لی لاکھوں افراد بے روز گار۔55 فیصد عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور امدن کا 40 فیصد بجلی کے بلوں میں واپس۔سیکورٹی فورسز کا بھارتی سھولت کار دھشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری۔۔200 دھشت گرد ھلاک۔۔خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کے بعد دھشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری چند چن کر دھشت گردوں کے خلاف آپریشن میں کامیابیاں۔۔ ۔۔افواج پاکستان نے طالبان اور بھارتی سھولت کار دھشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران کامیابیاں حاصل کی۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

بھارتیوں کا المیہ ۔ اظہر سیدجنرل ضیاء الحق کے دور تک بھارت روسی کیمپ میں تھا ۔بھارتی اسلحہ خانہ کا اسی فیصد اسلحہ سوویت یونین کا تھا ۔پاکستان امریکی یا مغربی کیمپ میں تھا ۔مغربی اسلحہ سوویت اسلحہ سے ٹیکنالوجی کے حوالہ سے بہتر تھا۔اسی اسلحہ کے زور میں پاکستان بھارتیوں کو ناکوں چنے چبواتا رہا ۔پاکستان ایٹمی طاقت نہیں تھا لیکن اس نے تین گنا بڑے بھارت کی خالصتان اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکوں میں ناک بند کر دی تھی۔بھارت نے 1965 میں گرچہ آپریشن جبڑالڑ کے ردعمل میں حملہ کیا تھا لیکن پاکستان نے برتر مغربی اسلحہ کے زور پر بھارتی حملہ ناکام بنا دیا۔مشرقی پاکستان میں پاکستان کی شکست کی وجہ اسلحہ نہیں تھا بلکہ مقامی بغاوت اور مزاحمت تھی۔مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن نے بغاوت کچل دی تھی ۔بھارتی حملہ نہ کرتے مشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا۔سوویت یونین کی تحلیل کے بعد بھارتی فوج تطہیر کے بہت بڑے عمل سے گزری ۔بھارتیوں نے مغربی اسلحہ کی خریداری شروع کر دی اور پاکستان کے جنگی ٹیکنالوجی میں پاکستان کے برابر آگیا لیکن فضائی برتری میں پاکستان سے پیچھے ہی رہا بھارت کو روسی ساختہ سوویت دور کے مگ جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے نجات کیلئے تین سو ارب ڈالر درکار تھے

۔پیسوں کا بندوبست ہو بھی جاتا جدید ترین مغربی طیاروں کی فراہمی کیلئے کم از کم بیس سے تیس سال درکار تھے ۔بھارتیوں نے پہلا گھونٹ بھرا اور فرانس سے 36 رافال طیاروں کا سودہ کر لیا ۔ان طیاروں کا جو حال آپریشن سیندور میں پاکستان نے کیا ہے بھارتی پھر اسی جگہ پر ان کھڑے ہوئے ہیں جہاں 1980 کی دہائی میں تھے ۔بھارتی مغربی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہوئے پاکستانی چھلانگ لگا کر چینی ٹیکنالوجی کی طرف چلے گئے جو بحرحال مغرب سے بہتر ثابت ہوئی ہے۔چینی پاکستان کو طیارے پہلے دیتے ہیں پیسے ادھار کر لیتے ہیں۔مغربی ممالک پیسے ایڈوانس لیتے ہیں اور طیارے قسطوں میں دیتے ہیں۔رافال کے ناکام تجربہ کے بعد اب بھارتی امریکیوں سے ففتھ جنریشن وار کا جیٹ ایف 35 خریدنے کیلئے مرے جا رہے ہیں لیکن ان طیاروں کے چار پانچ سکواڈرن تیار کرتے دس سال لگ جائیں گے ۔ کو اڑتے تابوت یعنی مگ پر ہی سالوں گزارا کرنا ہے

۔فضائی جنگ میں جو نئی اختراعات چینیوں نے کی ہیں ساری مغربی ٹیکنالوجی کی واٹ لگ گئی ہے۔مصنوعی سیاروں ،اوکس سسٹم اور پی ایس 15 میزائل کا جو تال میل آپریشن سیندور میں سامنے آیا ہے بھارتی جیٹ بھلے رافال ہوں یا ففتھ جنریشن وار کے ایف 35 دو سو میل دور سے گرائے جا سکتے ہیں اور انکا سسٹم چوری کر کے انہیں اندھا کیا جا سکتا ہے ۔پاکستان کو گھٹنوں پر گرانے کیلئے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر طویل جنگ مسلط کرنا ہی واحد آپشن ہے لیکن پاکستان اس طویل جنگ کی اجازت ہی نہیں دے گا ۔مختصر جنگ میں بھارت کو ایسا خوفناک جواب دے گا بھارتی آپریشن سیندور شروع کرنے کے بعد جس طرح جنگ بندی کیلئے بھاگے تھے دنیا کے چاروں کونوں میں بھاگتے پھریں گے ۔پاکستان نے برتری ثابت کر دی ہے

۔دنیا نے پاکستان کی برتری تسلیم کر لی ہے ۔اسرائیل کی جنگی مشین سے خوفزدہ عرب ممالک کو پاکستان کی صورت میں ایک طاقتور “اپنا” نظر آرہا ہے ۔مصر، اردن ،ترکی ،ازربائیجان اور سعودی عرب کس نے سوچا تھا یہ ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی اشتراک کریں گے ۔یہ پاکستان کی طاقتور موجودگی ہے امریکی قطر کو یقین دہانیاں کراتے نظر آرہے ہیں اسرائیل آئندہ حملہ نہیں کرے گا۔سعودی کروان پرنس کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی فضاؤں میں پہنچنے کے بعد اپنے جدید ترین طیاروں کے ساتھ اسے سلامی دیتے نظر آرہے ہیں۔یہی سعودی عرب تھا اور یہی کروان پرنس تھا امریکی صدر ٹرمپ نخوت اور تکبر سے کہتا تھا “ہم حفاظت کرتے ہیں نہ کریں سعودی بادشاہت قائم نہ رہے “پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد وہی امریکہ کروان پرنس کے واری صدقے جا رہا ہے ۔دنیا تبدیل ہو گئی ہے ۔نئی دنیا روس چین ،ترکی اور پاکستان کی دنیا ہے ۔تیسری عالمی جنگ میں یہی ممالک حلیف ہونگے ۔مغرب کی اجارہ داری ختم ہوئی ۔اگلا دور نئی دنیا کا ہے ۔

ملڑے جائیں گے ۔اظہر سید افغانستان قحط کا شکار ہو رہا ہے لیکن ملڑے خارجیوں کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے راضی نہیں ،پاکستان کا موقف اس مرتبہ بہت سخت ہے ۔سپین بولداک تورخم سمیت کسی جگہ سے تجارت ممکن نہیں ۔قحط سے بچنے کیلئے انگور ،ٹماٹر اور انار کھاؤ ،یا پھر ڈالر خرچو دوسرے ملکوں سے گندم ،گڑ ،قہوہ گھی اور دیگر چیزیں منگواو۔ افغان ملڑوں کی حکومت نمائندہ نہیں یہ ختم ہو گی اور اسے ختم ہونا ہے ۔چند ہفتوں میں بھوک ننگ سے تنگ افغان ردعمل شروع ہو جائے گا ۔ بہت جلد یہ ردعمل ملڑوں کو بھاگنے پر مجبور کر دے گا ۔ملڑے اب بھاگے تو ان کیلئے محفوظ ٹھکانے کہیں پر موجود نہیں ۔بڑے لیڈر شائد بھارت یا خلیجی ممالک چھپ جائیں چھوٹے کمانڈر مارے جائیں گے سارے کے سارے ۔خطہ کا ہر ملک پاکستان ،ایران ،سنٹرل ایشیائی ریاستیں سب ان مذہبی دہشت گردوں کا خاتمہ چاہتا ہے ۔پاکستان میں موجود خارجیوں کو پاک فوج مار دے گی اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو سارے مل کر مار دیں گے ۔بھارتی انہیں کوئی مدد فراہم نہیں کر سکتے ۔دنیا کا کوئی ملک انہیں طیارے،ہیلی کاپٹر ،میزائل یا دوسرے جدید ہتھیار فراہم نہیں کرے گا ۔یہ خود کش جیکٹس بنا سکتے ہیں لیکن اب اسکی مہلت بھی نہیں ملے گی ۔قحط سے اموات شروع ہو چکی ہیں ۔روزگار موجود نہیں ۔ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے عالمی امدادی اداروں کی امداد استمال کرتے ہیں ۔ایران ،پاکستان کی طرف سے نکالے گئے چالیس لاکھ سے زیادہ مہاجرین الگ سے معیشت پر بوجھ ہیں۔ملڑا ہیبت اللہ اور سارے کمانڈر ہر وقت پاکستانی میزائل حملوں سے خوفزدہ رہتے ہیں ۔کھلے عام گھوم پھر نہیں سکتے ۔نقل و حمل خفیہ رکھتے ہیں لیکن انکی نقل و حمل پر دیکھنے والوں کی مسلسل نظر ہوتی ہے ۔نئی افغان حکومت بلوچ عسکریت پسندوں کے ٹھکانے بھی ختم کرے گی ۔پاکستان اور ایران مدد کریں گے ۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز کا خصوصی دورہ ۔ سوسائٹی فار دی پروموشن آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (SOPREST) اور بورڈ آف گورنرز (GIK) کےصدر انجینئر سلیم سیف اللہ خان نے وزیراعلی کا استقبال کیا۔انجینئر سلیم سیف اللہ خان نے آپنے خطاب میں وزیراعلی کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے شکریہ آدا کیا ۔ وزیرآعلی سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں فاٹا کے طلباء کیلئے بند سکالرشپ کیلئے منظوری دی اور طلبہ و طالبات کو جی آئی کے میں تعلیم حاصل کرنا خوش آئند قرار دیا ۔ وزیر آعلی سہیل آفریدی اور سلیم سیف اللہ خان نئے بنائے گئے ڈی بلاک اپارٹمنٹ کا افتتاح کیا، سلیم سیف اللہ خان نے وزیراعلی سہیل آفریدی کو خصوصی شیلڈ بھی پیش کی ۔÷×÷

*وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کو ہٹانے کا فیصلہ۔۔*سیکورٹی فورسز کا خیبرپختونخوا میں 2 مختلف جگہوں پر دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 23 دہشتگرد جہنم واصل۔۔پاکستان فضائیہ آج رات 12 کے بعد 21 نومبر تک انڈین بارڈر کے قریب جنگی مشقوں کا آغاز کر رہی ہے جس میں مختلف میزائلوں کو آزمایا جائے گا،۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

🚨 سپریم کورٹ سے مستعفی ججز آگے آکر ہماری تحریک کو لیڈ کریں، پوری قوم ان کیساتھ ہوگی: اسد قیصر

سپریم کورٹ کے جن ججز نے قربانی دےکر استعفیٰ دیا ہے وہ پاکستانی قوم کے ہیروز ہیں: اسد قیصر

صوابی: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سے مستعفی ہونے والے ججز آگے آکر ہماری تحریک کو لیڈ کریں، پوری قوم ان کے ساتھ ہوگی۔

صوابی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جن ججز نے قربانی دےکر استعفیٰ دیا ہے وہ پاکستانی قوم کے ہیروز ہیں، ہم اُمید رکھتے ہیں کہ وہ آگے آکر تحریک کو لیڈ کریں پوری قوم ان کے ساتھ ہوگی، ہم ججز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے مراعات چھوڑ کر انصاف کا ساتھ دیا ہے۔

اسدقیصر نے کہا کہ پاکستان،افغانستان اور ایران کو سوچنا ہوگا کہ یہ خطہ پھر سے جنگ کی آماجگاہ بنے یا امن ہو، پاکستان اور افغانستان اپنے تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور دونوں ممالک کو اپنے لوگوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہے مذاکرات اور ڈپلومیسی کو موقع دینا چاہیے۔

پی ٹی آئی رہنما نے اڈیالہ جیل کے سامنے پی ٹی آئی کے بہنوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت کا جو فاشسٹ شکل اور رویہ ہے وہ پوری دُنیا پر عیاں ہوگئی ہے، 21نومبر کو ظلم،لاقانونیت اور غیرآئینی قانونی سازی کے خلاف ہم یوم سیاہ منائیں گے، بہت جلد اس حکومت کے خلاف ہم قومی کانفرنس بھی بلارہے ہیں جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے علاوہ وکلاء تنظیموں اور میڈیا کو بھی بلائیں گے،ہم سمجھتے ہیں کہ وہ تمام سیاسی قوتیں جو جمہوریت پر رکھتے ہیں ان سب کو اس حکومت کے خلاف نکلنا ہوگا۔

اسدقیصر نے کہا کہ 27ویں اور 26ویں ترامیم عوام کے مفاد میں نہیں ہے یہ آئین سے متصادم ہے،حکمران صرف اپنی ذاتی مفاد کےلیے اس قسم کے ترامیم لارہے ہیں۔

اسدقیصر نے مزید کہا کہ جس پیپلزپارٹی نے ملک کو 1973 آئین کا تحفہ دیا تھا آج اسی نے اس کا خاتمہ کیا اور جس نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تھا آج اس نے ووٹ کو سب سے زیادہ بے توقیر کردیا،1973 کی آئین کو اپنی اصلی شکل میں بحال کرے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دیا تھا۔

پاکستان اور چین کا توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاقپاکستان اور چین نےاس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔ وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ کے درمیان اسلام آباد میں چینی سفارتخانے میں ملاقات ہوئی ۔ ملاقات میں توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی علاقائی استحکام اور مشترکہ اقتصادی ترقی کے وژن پر بھی گفتگو ہوئی۔ علی پرویز ملک نے چین کو پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم 2026 میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی کا شعبہ موجودہ حکومت کی ترجیح ہے اور اس میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔چینی سفیر نے دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان معدنیات کے شعبے میں تعاون ایک اہم ستون ہے اور چینی کمپنیاں پاکستان کے پیٹرولیم اور معدنیاتی شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ چینی سفیر نے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہتے ہوئے اسے پائیدار ترقی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

ایران: بادل برسانے کے بعد 31 میں سے 18 صوبوں میں سیلابی صورتحال کی وارننگ -خشک سالی کے باعث تہران کو خالی کرنے کے خدشات کے دوران ہی ایران کے مغربی حصوں میں شید بارشوں کے باعث سیلاب کی صورت حال ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق کئی ماہ کی خشک سالی نے دہائیوں کے بدترین پانی کے بحران کو جنم دے دیا تھا، اور حکام کو ہفتے کے آخر میں ’بادل برسانے کا عمل‘ شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ملک کے موسمیاتی ادارے نے پیر کو 6 مغربی صوبوں میں سیلاب کی وارننگ جاری کی اور کہا کہ اسے ایران کے 31 میں سے 18 صوبوں میں بارش کی توقع ہے۔ایران میں مجموعی طور پر بارش کی سطح اوسط سے 85 فیصد کم ہے، جس کے باعث آبی ذخائر خشک ہو رہے ہیں، اور کئی علاقوں میں، بشمول دارالحکومت تہران کے بعض حصوں میں پانی کی فراہمی بند ہو چکی ہے۔

پاکستانی پابندیوں سے 4 ہزار کروڑ کا نقصان؛ بھارتی ایئرلائن نے حکومت سے مدد مانگ لیایئر انڈیا نے حکومت سے مالی مدد اور چین سے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت کے لیے بات چیت کا مطالبہ کیا ہے، خبر ایجنسی

*نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی NCCIA/ تقرروتبادلے**ڈپٹی ڈائریکٹر محمد طارق نواز کو ایڈیشنل ڈائریکٹر کراچی زون تعینات کردیا گیا، نوٹیفیکیشن**ڈپٹی ڈائریکٹر احسان اللہ چوہان کو ایڈیشنل ڈائریکٹر اسلام آباد زون تعینات کردیا گیا، نوٹیفیکیشن**ڈپٹی ڈائریکٹر حسام بن اقبال کو ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور زون تعینات کردیا گیا، نوٹیفیکیشن**ڈپٹی ڈائریکٹر شمس الدین کو ایڈیشنل ڈائریکٹر ملتان زون تعینات کردیا گیا، نوٹیفیکیشن*

امریکی سفیر کی نقوی سے ملاقات۔۔40 افراد کرنٹ لگنے سے جان بحق 5 کروڑ 75 لاکھ جرمانہ۔۔17 سالہ دلھن کو قتل کس نے کیا۔۔شیخ رشید رو پڑے۔وکلاء نے ججز کی سیاست میں سینڈ وچ بننے سے انکار کر دیا۔ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کو سزا سنا دی گئی۔۔۔راولپنڈی میں الیکٹرک گرین بس کا افتتاح اج ہوگا، ابتدائی طور پر چار روٹس پر بسیں۔ھری پور کا شاہ صاحب درویش شریف النفس ائینی عدالت کے جج جسٹس۔۔پاکستان پر بھارتی حملے کا منصوبہ 16 دسمبر خفیہ رپورٹ سھیل رانا۔بھارتی راء اور افغان گٹھ جوڑ بےنقاب پاکستان پر 3 اطراف سے حملے کا خطرہ۔بھارت روس اور افغان کی خفیہ اداروں کی رپورٹ لیک پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی کا پلان مکمل۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

2025صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا خیبر پختونخوا میں دو کامیاب آپریشنز میں 15 خوارج کے ہلاک ہونے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسینوطنِ عزیز سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی اتفاقِ رائے سے جاری رہے گا: صدر زرداریبھارتی پشت پناہی یافتہ فتنہ الخوارج کے کارندوں، بشمول سرغنہ عالم محسود، کا مارا جانا سیکیورٹی فورسز کی کامیاب حکمت عملی کی بدولت ہے: صدرِ مملکت “عزمِ استحکام” کے تحت جاری انسداد دہشت گردی مہم ملک میں پائیدار امن کے قیام کی قومی کاوشوں کا مظہر ہے: صدر زرداریانتہاپسندی و دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے میں خلل ڈالنے کیلئے کسی سطح پر کوئی سیاسی چال یا توجہ بٹانے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی: صدر آصف علی زرداریصدر زرداری نے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم و بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللّہ کے فضل سے پاک سرزمین کو جلد ہر خارجی کے شر سے پاک کر دیا جائے گا۔

‏بشریٰ تسکین مجھے جھوٹ پر آمادہ کرتی رہی شہرت کی حرص دلاتی رہی وہ مجھ سے بے ربط اور بے محل سوالات کرتی کہ بکرا سیاہ رنگ کا تھا وہ سِریاں رکھ لیتی تھی اور تاکید کرتی کہ تمہیں کوئی گزند نہ پہنچے گا مگر میں نے خان صاحب کے آستانے کا نمک کھایا تھا میں جھوٹ نہیں بول سکتا تھا میں نے اسی کے روبرو کہا کہ جن باتوں کو تم گھڑ رہی ہو وہ سراسر بے بنیاد اور لغو ہیں ایسی کوئی واردات عمران خان صاحب کے ساتھ پیش نہیں آئی نہ انہوں نے کبھی ایسی مہمل بات کہی اور نہ ہی ان کی اہلیہ نے مجھ پر کوئی ایسا حکم دائر کیا میں ہر بار سارا گوشت اپنے ہمراہ لے جاتا اور مستحقین میں اپنے ہاتھوں سے تقسیم کرتا سِری پائے بھی میں خود ساتھ رکھتا تھا بنی گالہ کے ایک خادم نے بشریٰ تسکین کو میرے پاس بھیجا وہ آئی اور مجھ پر دباؤ ڈالتی رہی کہ میں اس کی من گھڑت روایات کی تصدیق کر دوں جب میں نے ان تمام الزامات کو بے حقیقت اور بے مایہ قرار دیا تو اس کے باوجود اس نے ان باتوں کو قلمبند کر دیا یہاں تک کہ ایک نامیاتی جریدے میں وہ تحریف شائع کی گئی جس میں قصاب رانا عظیم سے متعلق غلط اور گمراہ کن نکات درج کیے گئے

آپکے خیال میں عمران خان کہ اہلیہ بشری بی بی کے خلاف جھوٹ بے بنیاد اور کردار کشی پہ مبنی تقریباً ایک جیسے مواد پہ مشتمل پروپیگنڈا کس نے بہتر انداز میں کیا ۔۔عاصمہ شیرازی جس کالم غالباً بی بی سی اردو ویب پیج پہ شائع ہوا تھا اور ایک کالم بشری تسکین کا ڈیجیٹل میگزین 1843 جو دیاکنامسٹ گروپ کا ہی ایک جریدہ ہے اس میں شائع ہوا ہے ہے

منقول **ہری پور سے ایک شاہ صاحب ہوا ہری پور کے پہاڑی دامن میں ایک درویش صفت انسان رہا کرتا تھا۔ لوگ انہیں محبت سے *شاہ صاحب* کہتے تھے۔ شریف النفس، عبادت گزار، اور خدا سے لو لگائے رکھنے والے ایسے کہ ہر کام سے پہلے دھیرے سے بس اتنا کہہ دیتے: **“یا اللہ مدد”**۔محکمۂ جنگلات میں نوکری تھی، مگر دل جنگلوں سے زیادہ اپنے رب کی طرف مائل رہتا۔ افسروں کو ان کا یہ انداز سخت ناگوار گزرتا۔ کئی بار ٹوکا، ڈرایا، دبایا… مگر بڑے شاہ صاحب کے انداز میں کبھی لغزش آئی، نہ پیشانی پر بل۔وہ مسکرا کر بس ایک ہی جواب دیتے:**“جی، بسم اللہ … مدد تو اللہ ہی سے مانگوں گا”۔**شاید اسی مستقل مزاجی، اسی توکل اور اسی سادگی نے آسمان پر ان کی قسمت کا دروازہ کھول دیا۔ اللہ نے انہیں ایسی اولاد عطا کی جو کردار، محنت اور کامیابی کی جیتی جاگتی مثال بن گئی۔ چھے بیٹے، دو بیٹیاں—اور ہر ایک اپنے باپ کی دعا، ماں کے آنسو اور پہاڑی راستوں کی دھول اپنے دامن میں سمیٹے آگے بڑھتا گیا۔ان بچوں کا سفر آسان نہ تھا۔ سکول جانے کے لیے روزانہ دو دو گھنٹے کا پیدل پہاڑی سفر، مگر ہمت ایسی کہ قدم لڑکھڑائے نہیں۔ دل و جان سے محنت کی اور پھر ایک وقت آیا کہ انہی پہاڑی راستوں نے انہیں شہروں کے بڑے عہدوں تک پہنچا دیا۔یہ وہی بچے ہیں جنہوں نے صوبائی و قومی مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔— **سید اختر حسین شاہ** سیکرٹری کے عہدے تک پہنچے۔— **سید اظہر شاہ** نیشنل بینک کے وائس پریزیڈنٹ بنے۔— **سید نظر شاہ** سیکرٹری جنگلات خیبر پختونخوا مقرر ہوئے اور بلین ٹری سونامی کو عملی شکل دے کر ملکی تاریخ میں اپنا نام رقم کیا—یہاں تک کہ وزیراعظم عمران خان بھی ان کی صلاحیتوں کے معترف رہے۔— ایک بھائی پاک فوج میں افسر بنے اور بعد ازاں بیرونِ ملک ایک کامیاب بزنس گروپ کے مالک ہو گئے۔— **سیدہ زاہدہ بخاری** اور **سید خرم شہزاد بخاری** اسلام آباد پولیس میں D.I.G کے عہدے تک خدمات انجام دے چکے۔— سب سے بڑے بھائی وکالت کے عشق میں ڈٹ گئے، اٹارنی جنرل رہے، گلگت کے چیف جسٹس بنے، قائم مقام وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بھی رہے، اور اب آئینی عدالت کے جج منتخب ہو چکے ہیں۔یہ گھرانہ عہدوں سے بڑا ضرور ہوا، مگر دل سے کبھی نہیں۔نماز میں رونا، راتوں کو اللہ کے سامنے سر جھکا کر بیٹھ جانا، اور یہ کہنا کہ “اگر نماز میں آنسو نہ آئیں تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ ناراض تو نہیں”—یہ ان کا روزمرہ تھا، عادت نہیں عبادت تھی۔ہر بات کا آغاز بھی دعا سے، اختتام بھی دعا سے۔ایسے خدا ترس لوگ، ایسے باوقار کردار کے حامل افراد… اور آج بھی اسلام آباد میں کرائے کے گھروں میں جوائنٹ فیملی کی طرح رہنے والے۔لیکن افسوس… جب سید ارشد حسین کو آئینی عدالت کا جج منتخب کیا گیا تو کچھ حلقوں نے بغیر کچھ جانے، بغیر حقیقت سمجھے تنقید کے تیر چلانے شروع کر دیے۔شاید وہ نہیں جانتے کہ بڑے عہدے محض ڈگری یا تعلق سے نہیں ملتے، ان تک پہنچنے کے لیے نسلوں کی محنت، کردار، اور دعاؤں کی محرابوں میں گرے ہوئے آنسو شامل ہوتے ہیں۔یہ کالم ان کے لیے نہیں، ان سب کے لیے ہے جو سمجھتے ہیں کہ کامیابیاں اتفاق سے ملتی ہیں۔نہیں صاحب…کامیابیاں برسوں کی سچائی، محنت، قربانی اور والدین کے “یا اللہ مدد” جیسے سادہ مگر بااثر جملوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ہری پور کے اس شاہ صاحب نے دنیا کو نہ دولت دی، نہ محلات…لیکن کردار کی ایسی روشن میراث دے گئے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

بے وفائی سے آئے اور بے وفائی کے ہاتھوں گئے بس ذرا انداز کھلنڈرانہ سا تھا ( قلندرانہ بھی کہہ سکتے ہیں ) ہمارے دوست جناب غلام مصطفے ملک صاحب کی خُوبصورت تحریر ! “ اگرچہ میں آج سابق ہونے والے وزیراعظم چوہدری انوارالحق صاحب سے کبھی نہیں ملا ،لیکن جس وقار اور متانت کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کیا اور ہنسی خوشی اقتدار چھوڑ کر رخصت ہوگیا ،میرے دل میں گھر کرگیا، سیاست کے طالب علم کے طور پر میرے لیے یہ نیا اور قابل ستائش عمل ہے میں نے ایک طالب علم کی حثیت سے تحریک عدم اعتماد کا مشاہدہ کرتا چلا آیا ، میرا پہلے دن سے یہ کہنا تھا کہ فیصل ممتاز راٙٹھور وزیراعظم ہوں گے اور اس یقین کی وجہ چوہدری ریاض صاحب سے انکی قربت اور رفاقت ہے چوہدری انوار الحق اس ساری کہانی میں نہ تو جھکے اور نہ ہی انہوں نے کسی کے دروازے پر جاکر منت سماجت کی ضرورت محسوس کی ، انکی بطور وزیراعظم نامزدگی اسمبلی سے پہلی تقریر بھی سنی اور آخری بھی ،انہوں نے اقتدار کو اللہ کا انعام اور اسکی رخصتی کو اس کی رضا جانا یہی ایک بالغ نؑظر انسان کی پہچان ہے، میں۔سمجھتا ہوں کہ انکی شخصیت ایک وزیراعظم کے عہدہ سے بھی بڑی نکلی ،ہمارے ہاں لوگ اقتدار جاتا دیکھ کر فیصلہ سازوں کو باپ بنانے سے نہیں چونکتے، پاوں پڑنا معیوب نہیں جانتے ، ضمیر بیچنا انکے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور ایسے تمام کرداروں کو چویدری انوار الحق کے کردار نے مات دے دی ۔مورخ جب بھی وقار کی تاریخ لکھے گا تو اسے ایک اجلے کردار کے انوار کو یاد رکھنا پڑے گا کہ جو وقار کے ساتھ اقتدار چھوڑ کر سیاسی تاریخ میں امر ہو ۔۔

پاکستان پر جنگ مسلط — حکمران ہوش کریں، نمرود کا انجام یاد رکھیں!افواجِ پاکستان میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ خیز تبدیلیاں گوگی کے بعد خواجہ آصف کا ‘گوگا’ جیل توڑ کر فرانس فرار!تفصیلات صرف سہیل رانا لائیو میں!

WAR IMPOSED ON PAKISTAN — Rulers Warned: Remember the Fate of Nimrod!Massive Shake-Up Inside Pakistan Army — After ‘Gogi’, Khawaja Asif’s ‘Goga’ Breaks Out of Jail and Escapes to France!Full details exclusively on Sohail Rana Live!