
پاکستان u19 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں جانے کے لیے پاکستان کو اب بہت بڑے چیلنج سے گزرنا ہے. اس وقت بھارت کے 6 پوائنٹس ہیں اور پاکستان کے 4 پوائنٹس بھارت اور پاکستان کا دونوں کا ایک ایک میچ باقی ہے جو کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف اپنا آخری میچ کھیلیں گے پاکستان اگر بھارت سے جیت جاتا تو پاکستان کے پاس بھی 6
پوائنٹس ہو جائیں گے

یوں دونوں ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہونگے تو بات رن ریٹ پر آ جائے گی. پاکستان کو بھارت سے میچ ہی نہیں جیتنا بلکہ بڑے مارجن سے جیتنا تاکہ رن ریٹ بھارت سے اچھا ہو کر پاکستان آگے جائے اب پاکستان اگر بھارت کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتا ہے تو بھارت سے ہمیں 150 پلس رنز کے مارجن سے میچ جیتنا ہے اگر پاکستان پہلے باولنگ کرتا بھارت جتنا بھی ٹارگٹ دے پاکستان کو 20 اوورز سے پہلے میچ جیتنا ہے. ان دو وجوہات پر پاکستان آگے جا سکتا ہے. اور بھارت ٹورنامنٹ سے باہر ہو سکتا ہے اور اگر انگلینڈ نیوزیلینڈ سے میچ ہارتا ہے تو پاکستان پھر سمپل ایک اچھا میچ بھارت سے کھیل کر جیتے پاکستان آگے سیمی فائنل میں چلا جائے گا.

بیٹ بھی چلا، گیند بھی چلی، صائم ایوب نے میچ اکیلے جتا دیاپاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پہلے میچ میں قومی ٹیم نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کے ذریعے زبردست کامیابی حاصل کی۔ کرکٹ تجزیہ نگار اطہر جی کے مطابق اس میچ میں پاکستان کی جیت کی بنیاد متوازن بیٹنگ، بروقت وکٹیں اور میدان میں بہترین حکمتِ عملی بنی۔قدافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز اسکور کیے۔ آغاز اگرچہ مایوس کن رہا اور پہلی ہی گیند پر اوپنر صاحبزادہ فرحان آؤٹ ہو گئے، مگر اس کے بعد صائم ایوب اور کپتان سلمان علی آغا نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 74 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی۔

پاور پلے کے اختتام پر اسکور 56 رنز تھا جو ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوا۔ اطہر جی کے مطابق یہی شراکت پاکستان کو میچ میں واپس لے آئی۔صائم ایوب نے 22 گیندوں پر 40 رنز بنائے جن میں دو چھکے اور تین چوکے شامل تھے، جبکہ سلمان علی آغا نے 27 گیندوں پر 39 رنز اسکور کیے۔ آسٹریلیا کی جانب سے ایڈم زمپا نے اہم موقع پر دونوں سیٹ بیٹرز کو آؤٹ کر کے میچ میں واپسی کی کوشش کی۔ بعد ازاں بابر اعظم، فخر زمان اور عثمان خان نے درمیانی اوورز میں رنز بنانے کی کوشش کی، تاہم تسلسل برقرار نہ رکھ سکے۔ آخر میں محمد نواز کے ناقابلِ شکست 15 رنز کی بدولت پاکستان 169 کے قابلِ دفاع اسکور تک پہنچا۔ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے تیز آغاز کیا، مگر صائم ایوب کی آف اسپن نے میچ کا رخ یکسر بدل دیا۔ پہلے میتھیو شارٹ اور پھر خطرناک ٹریوس ہیڈ کی وکٹ نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ کرکٹ تجزیہ نگار اطہر جی کے مطابق صائم ایوب کی یہی اسپیل اس میچ کا اصل ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔آسٹریلیا کی اننگز میں وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔ میٹ رینشا اور کیمرون گرین نے کچھ مزاحمت کی، مگر رن آؤٹس اور ابرار احمد کی عمدہ گیند بازی نے مہمان ٹیم کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ کیمرون گرین 36 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ آخر میں زیویئر بارٹلیٹ کے 34 رنز نے صرف شکست کا مارجن کم کیا۔ آسٹریلوی ٹیم 20 اوورز میں 146 رنز تک محدود رہی۔پاکستان کی جانب سے صائم ایوب اور ابرار احمد نے دو دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ شاداب خان اور محمد نواز نے بھی معاون کردار ادا کیا۔

اطہر جی کے مطابق یہ جیت نہ صرف صائم ایوب کی آل راؤنڈ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے بلکہ پاکستان ٹیم کے اجتماعی اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ کرے گی۔مجموعی طور پر یہ میچ پاکستان کے لیے ایک مکمل ٹیم پرفارمنس تھا، جس میں بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں توازن نظر آیا۔ کرکٹ تجزیہ نگار اطہر جی کی رائے میں اگر قومی ٹیم اسی تسلسل اور نظم و ضبط کے ساتھ کھیلی تو سیریز میں برتری برقرار رکھنا مشکل نہیں ہوگا۔#










