تازہ تر ین

حالات کشیدہ صورتحال نازک۔۔ایران جنگ بندی کے لیے تیار نہیں۔وزیر خارجہ کی چین روانگی ترلے منتے جاری چین سے درخواست ایران کو مناے۔۔چین کے پاس ایسی گیڈر سنگھی ہے کہ وہ ایران کو ایسی ڈیل پر راضی کرسکتا ہے۔۔ جیسے سعودی عرب کے ساتھ کرایا تھا۔۔؟۔۔صدر مملکت آصف زرداری کی سربراہی میں بڑی اسٹریٹجک بیتھک۔۔ای ایس ای کے سربراہ اور وزیر اعظم کی شرکت۔ملک بھر میں مھنگای اور غیر یقینی صورتحال برقرار۔۔اب وقت آگیا ہے کہ امریکی فورسز کو خطے سے نکالا جائے، وزیر خارجہ ایران۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ جنگیں مواقع پیدا کرتی ہیں اور اب ماشاءاللہ پاکستان کی بندرگاہیں ان مواقع سے خوب فائدہ اٹھا رہی ہیں صلالہ اور دوبئ کی ٹرانس شپنگ بندرگاہوں کی بندش کے باعث کراچی پورٹ ، پورٹ قاسم اور گوادر کی گہرے پانیوں کی بندرگاہ انتہای تیزی کے ساتھ خطے میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر رہی ہیں گوادر پورٹ کی اہمیت میں اضافہ انشاءاللہ بلوچستان اور بلوچ قوم کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرے گا گوادر پورٹ نے علاقائی بحری و تجارتی سرگرمیوں میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے بحری جہاز M/V HMO LEADER (IMO 9169811) کی کامیاب برتھنگ مکمل کر لی ہے۔ مذکورہ جہاز 368 میٹرک ٹن پر مشتمل جنرل ٹرانس شپمنٹ کارگو لے کر گوادر پہنچا، جسے گوادر بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہےخلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور روایتی بحری راستوں پر درپیش خدشات کے باعث بین الاقوامی شپنگ لائنز متبادل اور محفوظ راستوں کی تلاش میں ہیں، جس کے نتیجے میں گوادر پورٹ کو ایک محفوظ اور اسٹریٹجک بندرگاہ کے طور پر تیزی سے اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی تعداد میں عالمی شپنگ کمپنیاں اپنے ٹرانس شپمنٹ کارگو کے ذخیرے کے لیے گوادر پورٹ کا رخ کر رہی ہیں، جو اپنے جدید انفراسٹرکچر اور جغرافیائی محلِ وقوع کی بدولت نمایاں برتری فراہم کرتا ہے

۔ گوادر پورٹ کی جانب سے اس رجحان کو مزید فروغ دینے کے لیے ٹرانس شپمنٹ کارگو پر مفت اسٹوریج کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ گوادر پورٹ اور اس سے منسلک فری زون میں تقریباً 16 ہزار ٹی ای یوز (TEUs) کنٹینرائزڈ کارگو اور 90 ہزار سے زائد مربع میٹر جنرل کارگو ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ گوادر پورٹ خطے میں ایک محفوظ، مؤثر اور معاشی لحاظ سے قابلِ اعتماد متبادل بندرگاہ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ گوادر عالمی تجارتی نقشے پر اپنی جگہ مستحکم کر چکا ہے۔ مفت اسٹوریج سمیت دیگر سہولیات کا مقصد عالمی تجارت کو سہولت فراہم کرنا اور گوادر کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب میں تبدیل کرنا ہےبندرگاہ کی جدید سہولیات، وسیع گنجائش اور اسٹریٹجک محلِ وقوع بلیو اکانومی کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ مستقبل قریب میں گوادر پورٹ علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا مرکزی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ M/V HMO LEADER کی کامیاب برتھنگ کو توسیع شدہ آپریشنز کا عملی ثبوت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین علاقائی استحکام، مالی مراعات اور وسیع انفراسٹرکچر گوادر کو تیزی سے ایک اہم علاقائی تجارتی مرکز بنا رہے ہی

زرداری اور بلاول کی سیاسی کشمکش تیز ہوگئی:-سندھ میں نیا چیف منسٹر کون بنے گا ، اس بارے سیاسی کشمکش ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے، یہ کشمکش کسی اور کے درمیان نہیں بلکہ خود باپ اور بیٹے کے درمیان ہے ، جی ہاں دوست بالکل ٹھیک سمجھے ، زرداری اور بلاول اس پوسٹ کیلئے اپنے اپنے مہرے آگے بڑھا رہے ہیں اور پی پی میں دونوں کے گروپ ، پریشر بڑھاتے جارہے ہیں ۔سادہ لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ مراد علی شاہ ، بلاول کا بندہ ہے اور شرجیل میمن زرداری کا۔ زرداری پہلے بھی شرجیل میمن ہی کو چیف منسٹر بنانا چاہتا تھا اور بلاول مراد علی شاہ کو تو اس کھیل میں جیت بلاول کی ہوئی اور مات زرداری کی ۔ کھیل کے اگلے مرحلے میں بلاول نے بوڑھی لیڈرشپ پر پبلک بیانات میں سخت تنقید کی اور سٹبلشمنٹ کے نمائندوں کے ساتھ تصویریں بھی کھنچوائیں لیکن زرداری کھیل کے اس حصے میں جیت گیا ، خود صدر بن گیا اور بلاول کو پیچھے دھکیل دیا ۔اب زرداری چاہتا ہے مراد علی شاہ جائے اور شرجیل میمن وزیراعلی بنے ، جبھی تو زرداری نے بھی کراچی کی تباہ حال سڑکوں پر سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ورنہ اسے کراچی سے کیا ہمدردی ؟ کراچی تو پی پی کا ووٹ بنک ہی نہیں ، وہ تنقید دراصل بلاول کے بندے پر تھی۔کھچڑی اب پھر پک چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کھیل کے فائنل راؤنڈ میں جیت کس کی ہوتی ہے؟ کس کابندہ وزیراعلی بنتا ہے ، زرداری کا یا بلاول کا؟شہزادناصر۔ نیویارک

اسحاق ڈار کو چین جانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کیونکہ امریکن کا کہنا ہے وہ اسلام آباد اس وقت آئیں گے جب ایران ڈرافٹ معاہدے پر تیار ہوگا۔ پاکستان کا خیال ہے اگر ایران کو کوئی ملک راضی کرسکتا ہے تو وہ چین ہے جواچانک اس ڈیل میں شامل ہوا ہے۔ چین کے پاس دراصل ایک ایسی گیڈر سنگھی ہے کہ وہ ایران کو ایسی ڈیل پر راضی کرسکتا ہے۔۔ جیسے سعودی عرب کے ساتھ کرایا تھا۔۔؟

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved