ٹی20 ولڈکپ 2024 کے گروپ C کا پوائنٹس ٹیبل????افغانستان اور ویسٹ نے سپر 8 مرحلے کے لئے کوالیفائی کر لیا۔ نیوزی لینڈ، یوگنڈا اور پاپا نیو گنی سپر 8 مرحلے سے باہر ہو گئی
ٹی20 ولڈکپ 2024 کے گروپ C کا پوائنٹس ٹیبل????افغانستان اور ویسٹ نے سپر 8 مرحلے کے لئے کوالیفائی کر لیا۔ نیوزی لینڈ، یوگنڈا اور پاپا نیو گنی سپر 8 مرحلے سے باہر ہو گئی
افغانستان میں چائلڈ لیبر کی شرح میں سنگین حد تک اضافہ
2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے سیاہ ترین باب کا آغاز ہوا
طالبان کی ناقص پالیسیوں، جنگ اور غربت کے باعث افغانستان میں چائلڈ لیبر کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے
12 جون کو دنیا بھر میں چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن منایا گیا
چائلڈ لیبر کے عالمی دن پر اقوام متحدہ دفتر برائے انسانی امور کی خصوصی رپورٹ پیش کی گئی
رپورٹ میں تمام ممالک میں چائلڈ لیبر کے اعداد و شمار بتائے گئے
رپورٹ میں افغانستان میں چائلڈ لیبر کی شرح کو سنگین ترین قرار دیا گیا
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 19 فیصد افغان بچے چائلڈ لیبر میں ملوث ہیں
افغانستان میں بچوں کی موجودہ صورتحال مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہے، OCHA
اقوام متحدہ کی جانب سے طالبان پر زور دیا گیا کہ وہ چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کریں
اقوام متحدہ کی جانب سے طالبان سے مطالبہ کیا گیا کہ چائلڈ لیبر میں ملوث بچوں کے خاندانوں کی کفالت کی جائے
بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال افغانستان میں چائلڈ لیبر کی شرح میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے
طالبان نے بچوں کی آزادی اور بچپن کو چھین کر ان کو اپنے حقوق سے محروم کردیا
طالبان کے دور میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا اور معاشی حالات کی وجہ سے بچے کام کرنے پر مجبور ہوگئے
افغانستان میں لاتعداد بچے اینٹوں کی تیاری، قالین کی بُنائی، تعمیرات، کان کنی اور کھیتی باری کا کام کر رہے ہیں
اسکے علاوہ بڑی تعداد میں بچے سڑکوں پر بھیک مانگ رہے یا کچرا جمع کر رہے ہیں
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک طالبان اپنی ناقص حکمرانی سے افغانستان کے مستقبل کو گہری تاریکیوں میں دھکیلتے رہیں گے؟
پاکستان ہائی کمیشن، نئی دہلیمورخہ 14 جون 2024ءٹکرزپاکستان نے بھارت سے 509 سکھ یاتریوں کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی میں شرکت کے لئے ویزے جاری کر دیئےیہ سکھ یاتری 21 سے 30 جون 2024ءتک پاکستان میں منعقدہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کریں گےناظم الامور پاکستان ہائی کمیشن سعد احمد وڑائچ نے سکھ یاتریوں کے لئے نیک تمناﺅں کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے انہیں ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیاویزوں کا اجراءمذہبی مقامات کے دوروں سے متعلق 1974ءکے پاکستان ۔ انڈیا پروٹوکول فریم ورک کے تحت کیا گیا ہےہر سال بھارت سے بڑی تعداد میں یاتری مختلف مذہبی تہواروں اور تقریبات میں شرکت کے لئے پاکستان کا دورہ کرتے ہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش پرگئے اوران کی خیریت دریافت کی۔جمعرات کو وزیراعظم آفس کےمیڈیاونگ سے جاری بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کی آمد کا خیر مقدم کیا۔وزیراعظم نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے ہمیشہ جمہوری اقدار کی حفاظت کے لیے پر امن جد وجہد کو فروغ دیا۔وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کی دینی خدمات کو بھی سراہا۔ بیان کے مطابق وزیراعظم نے سیاسی مسائل کے باہمی تعاون سے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی۔
:کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 0.15 ملین میٹرک ٹن فاضل چینی کی برآمد کی مشروط منظوری دیدی ہے۔ اجلاس میں پی ایس او سمیت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے واجبات کی ادائیگی کیلئے 9 ارب روپے جاری کرنے کی تجویز کی منظوری بھی دیدی گئی۔ اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔ کا بینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کویہاں وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب کی زیرصدارت منعقدہ ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر صنعت و پیداور رانا تنویر حسین، وزیر پٹرولیم مصدق مسعودملک، وزیر بجلی سردار اویس احمدخان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویزملک، وفاقی سیکرٹریز، متعلقہ وزارتوں کے سینئرحکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کا بینہ ڈویژن کے کسٹم ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی ادائیگی کیلئے126.848 ملین روپے، ملازمین کے اخراجات کی ادائیگی کے ضمن میں صدارتی سیکرٹریٹ کیلئے 29 ملین روپے، وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کیلئے وزارت قومی صحت خدمات کیلئے 5400 ملین روپے، گلگت بلتستان میں تنخواہوں، الائونسز، فیملی اسسٹنس پیکجز اور صحت وتعلیم کے مختلف منصوبوں کے ضمن میں وزارت امورکشمیر وگلگت بلتستان کیلئے 4.92 ارب روپے، پاسکو کے زیرالتواء واجبات کی ادائیگی کیلئے 6596 ملین روپے،وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کیلئے 370 ملین روپے، نادرا کی جانب سے صومالی آئیڈینٹیفیکیشن سسٹم کے ضمن میں وزارت اقتصادی امورکیلئے 332 ملین روپے، خواتین کی مالی شمولیت کے منصوبہ کی تکمیل کے ضمن میں وزارت خزانہ کیلئے 14250 ملین روپے، آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کے ضمن میں وزارت خزانہ کیلئے 96.9 ارب روپے، گرین ٹورازم پاکستان پراجیکٹ کے ضمن میں دفاع ڈویژن کیلئے 5 ارب روپے، جاری مالی سال میں شارٹ فال کے ضمن میں وزارت دفاع کیلئے 23.945 ارب روپے، فرنٹیئر کورہیڈکوارٹرز اور گلگت بلتستان سکائوٹس ہیڈکوارٹرز کے زیرالتواء راشن کے واجبات کی ادائیگی کے ضمن میں وزارت داخلہ کیلئے 10 ارب روپے، تین اضافی کورہیڈکوارٹرز بنانے کے ضمن میں وزارت داخلہ کیلئے 600 ملین روپے،وزارت داخلہ کے اضافی فنڈز ضروریات کیلئے 5.986 ملین روپے، پرزن ایڈمنسٹریشن کیلئے نیشنل اکیڈیمی کے قیام کے ضمن میں وزارت داخلہ کیلئے 9.576 ملین روپے، فرنٹیئر کورہیڈکوارٹرز خیبرپختونخوا کیلئے 87 ملین روپے، سول آرمڈ فورسز کے آپریشنل اور راشن کے زیرالتواء واجبات کی ادائیگی کیلئے 4637 ملین روپے اور جاری مالی سال کے نظرثانی بجٹ تخمینہ کے ضمن میں وزارت اقتصادی امور کیلئے 168.83 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وزارت قومی تعلیم کی تجویز پر ہائیرایجوکیشن کمیشن کو خودمختاراداروں سے بیرونی قرضوں و کریڈٹ کی ری لینڈنگ پالیسی سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی تجویز پر قیمتوں میں فرق کے تناظرمیں پی ایس اوسمیت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے واجبات کی ادائیگی کیلئے 9 ارب روپے جاری کرنے کی تجویز کی منظوری دیدی گئی۔اجلاس میں وزارت صنعت وپیداوارکی تجویز پر 0.15 ملین میٹرک ٹن فاضل چینی کی برآمد کی مشروط منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے چینی کی برآمدکو قیمتوں میں اضافہ سے مشروط کردیا ہے، قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں چینی کی برآمدکی اجازت واپس لی جائیگی۔علاوہ ازیں ای سی سی نے ہدایت کی برآمدات سے حاصل ہونے والی رقم کسانوں کے ملوں کے ذمہ واجبات کی ادائیگی کیلئے استعمال میں لائے جانے کی یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں پاورڈویژن کی سمری پر او جی ڈی سی ایل کی جانب سے پاکستان ہولڈنگز کمپنی کو 82 ارب روپے کی مالیاتی سہولت کی ادائیگی کی تجویز کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ اوجی ڈی سی ایل اس انتظام کے ذریعہ حکومت پاکستان کے واجبات کو کلیئر کرے گا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات نے ڈیجیٹل ایپلی کیشنز پر تمام ٹیکسوں کو ختم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے اوگرا اور وزارت پٹرولیم کو پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی شرح میں اضافہ کیلئے طریقہ ہائے کارکو واضح کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وفاقی وزیرخزانہ سینیٹرمحمداورنگزیب نے کمیٹی کوبتایا کہ ٹیکس کے نظام کوشفاف بنانے اورٹیکس کی بنیادمیں وسعت وقت کی ضرورت ہے اور عالمی معیارکے مطابق پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح کم ہے جس میں اضافہ کرنا ہوگا۔ فنانس بل 2024 کے بارے میں سفارشات کا جائزہ لینے کیلئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا افتتاحی اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، کمیٹی کے اراکین سینیٹر شیری رحمان، محسن عزیز، انوشہ رحمان، احمد خان، شازیب درانی، سینیٹر فاروق حامد نائیک، فیصل واوڈا اور سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی نے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ کمیٹی کے ممبران نے منی بل 2024 کا جامع جائزہ لیا۔
اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمن اور احمد خان نے کہا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد آن لائن فری لانسنگ اور سوشل ایپس پرکام کرہی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ایپلی کیشنز پر تمام ٹیکسوں کو ختم کرنے کی تجویز دی اورکہا کہ فری لانسرز ترسیلات زر لانے کا اہم ذریعہ ہیں۔انہوں نے 500 ڈالرتک کمانے کے بعد فون کے استعمال پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ سینیٹر محسن عزیز نے فنانس بل 2024 پر تنقید کی تاہم انہوں نے بل کا شق وار جائزہ لینے کے عمل میں حصہ لینے کے کا عزم کا اظہار کیا۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے منی بل 2024 کے ذریعے ٹیکسوں میں اضافہ کی تجویز پر تشویش کا اظہار کیا۔وزیرخزانہ نے کمیٹی کوبتایا کہ ٹیکس کے نظام کوشفاف بنانے اور ٹیکس کی بنیادمیں وسعت وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح کم ہے جس میں اضافہ کرنا ہوگا۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ تنخواہ دارطبقہ کیلئے نئے مالی سال کے بجٹ میں 6 لاکھ روپے تک کی آمدن پرانکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ شفاف معیشت کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن کاعمل جاری ہے ، معیشت کو دستاویزی بنایا جا رہا ہے اور نان فائلرزکے حوالہ سے تعزیری اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں جن میں بین الاقوامی سفر کے لیے پاسپورٹ پر این ٹی این نمبر درج کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔ کمیٹی نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت پٹرولیم کو پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی شرح میں اضافہ کیلئے طریقہ ہائے کار کو واضح کرنے کی ہدایت بھی کی ۔ کمیٹی نے کسٹمز ایکٹ 1969 میں ترامیم کا جائزہ لیا اور خاص طور پر فنانس بل کے ذریعے ڈائریکٹر جنرل کی تشکیل میں طریقہ کار کی بے ضابطگیوں کو نوٹ کیا۔
کمیٹی کے اراکین نے تنازعات کے متبادل حل اے ڈی آر میں ترامیم کے لیے تجاویز پیش کیں، اراکین نے اے ڈی آر نوٹیفیکیشن کی عدم تعمیل کے لیے بورڈ پر جرمانے کو شامل کرنے کی ضرورت پرزوردیا ۔ شق 3، ذیلی شق 16 کا جائزہ لیتے ہوئے سینیٹر انوشہ رحمن اور احمد خان نے کیس مینجمنٹ سسٹم کے قیام کے لیے ہائی کورٹ کو ہدایات جاری کرنے کی فزیبلٹی پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مذکورہ شق پر عمل درآمد نہ کرنے پر جرمانے کی کمی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے ہائی کورٹ اور پارلیمنٹ دونوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔ چیئرمین اوگرا نے کمیٹی کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں مجوزہ اضافے پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے پٹرول سٹیشنوں پر سبسڈی فراہم کرنے یا معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے دو نرخ متعارف کرانے کے علاوہ مستحق طبقات کو مراعات فراہم کرنے کا کوئی عملی طریقہ کار تلاش کرنے کے ضمن میں اوگرا کو سفارش و ہدایات جاری کیں۔ اجلاس میں نئے مالی سال کے بجٹ میں متعارف کرائے گئے ٹیرف کی ساخت پر غور کیاگیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت نے مقامی پیداوار کو بڑھانے کے لیے مختلف شعبوں کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنی قرار دیا ہے ۔ حکام نے مزید کہا کہ ایروسول پروڈکٹس، بھرے میٹل سے ملبوس پرنٹ شدہ سرکٹ بورڈز اور ٹی وی پینلز بنانے والے شیشے کے بورڈز پر کسٹم ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان سے تازہ اور خشک میوہ جات کی درآمد پر 10 فیصد، گندم پر 11 فیصد اور چینی، چقندر، سفید کرسٹل اور سفید کرسٹل بیٹ شوگر پر 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ اجلاس کوبتایاگیا کہ حکومت نے شمسی توانائی کی اشیاء کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
حکام نے کہا کہ یہ قدم سولر پینلز اور انورٹرز کی مقامی تیاری کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ریلیف تمام شعبوں کیلئے ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جہاں سولر انڈسٹری کو چھوٹ دی ہے، وہیں اس نے برقی گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی بھی بڑھا دی ہے۔اجلاس کو بتایاگیا کہ حکومت نے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی آرڈیننس کے تحت قائم کیے گئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں درآمد اور برآمد کیے جانے والے سامان پرکسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے اس معاملے پرسرمایہ کاری بورڈ سے رائے لینے کا فیصلہ کیا اور بحث موخر کر دی۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آسان کاروبار ایکٹ کے حوالے سے قانون سازی شروع کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کاروبار اور سرمایہ کار دوست ماحول کی ترویج حکومت کی اولین ترجیح ہے ،ون ونڈو آپریشنز کے تحت کاروباری اور تاجر برادری کے لئے دستاویزی مراحل آسان کئے جائیں ،چین کے شہر شینزین کے ون سٹاپ شاپ کی طرز پر تجرباتی (پائلٹ) سہولت مرکز کے قیام کے حوالے سے چینی ماہرین سے معاونت حاصل کی جائے۔جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کاروبار اور سرمایہ کاری کرنے میں آسانی کے حوالے سے اقدامات پر اہم جائزہ اجلاس وزیراعظم ہائوس میں منعقد ہوا۔
وزیراعظم نے آسان کاروبار ایکٹ کے حوالے سے قانون سازی شروع کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کار دوست ماحول کی ترویج حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ون ونڈو آپریشنز کے تحت کاروباری اور تاجر برادری کے لئے دستاویزی مراحل آسان کئے جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ چین کے شہر شینزین کے ون سٹاپ شاپ کی طرز پر ایک تجرباتی (پائلٹ) سہولت مرکز کے قیام کے حوالے سے چینی ماہرین سے معاونت حاصل کی جائے۔اجلاس کو آسان کاروبار اور دیگر اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کاروبار کی رجسٹریشن ، لائیسنسز سرٹیفیکیٹس اور دیگر دستاویزات کے لئے الیکٹرانک رجسٹری کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ آن لائن ون ونڈو پاکستان بزنس پورٹل کا نظام متعارف کروایا جائے گا جس کے ذریعے تمام متعلقہ اداروں کی خدمات حاصل کی جا سکیں گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اسلام آباد بزنس فیسیلیٹیشن مرکز کے قیام کے لئے حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک ،وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل ،چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ زیادہ آمدن والوں پر زیادہ ٹیکس کے نفاذ پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے یہ بات اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔پریس کانفرنس سے قبل تلاوتِ قرآن مجید پیش کی گئی۔صحافیوں کا احتجاجوزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے قبل تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس اضافے کے خلاف صحافیوں نے نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔’’نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی‘‘وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا کہ نان فائلرز کے لیے بزنس ٹرانزیکشن پر ٹیکس میں اضافہ کیا جا رہا ہے، نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی، نان فائلرز کی اختراع کو ختم کرنے کی طرف یہ ایک قدم ہے، نان فائلرز کے لیے ٹیکس ریٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے کر جانا ہے، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن ترجیح ہے، ڈیجیٹائزیشن سے کرپشن کم ہو گی اور شفافیت بڑھے گی۔’’پیٹرولیم لیوی میں فوری اضافہ نہیں ہو رہا‘‘وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں فوری طور پر اضافہ نہیں ہو رہا، پیٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مدِ نظر رکھا جائے گا ، تنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس 35 فیصد ہے، ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ 10 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشیو نا قابلِ برداشت ہے، غیر دستاویزی معیشت کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے، ٹیکسوں کی کمپلائنس اور انفورسمنٹ نہیں ہوئی، اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن کی جا رہی ہے، اس سے انسانی مداخلت کم ہو گی، رشوت کم ہو گی۔’’پاکستان میں دنیا کی تیسری بڑی فری لانسر پاپولیشن ہے‘‘وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں دنیا کی تیسری بڑی فری لانسر پاپولیشن ہے، آئی ٹی سیکٹر کے لیے بہت بڑی رقم مختص کی ہے، مختص رقم سے آئی ٹی سیکٹرمیں انفرااسٹرکچر بہتر کیا جا سکے گا، ٹریک اینڈ ٹریس کا نظام تمباکو، سیمنٹ، کھاد اور دیگر سیکٹرز میں جانا تھا، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ میں شاید مسئلہ تھا۔ان کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس میں بہت بڑی لیکیج ہے جس کو پلگ کرنا ہے، سیلز ٹیکس سے متعلق ترجیح ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائز کریں، ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہے کہ کس کے پاس کتنی گاڑیاں اور وہ کتنا بل دیتے ہیں۔’’کس کے پاس کتنی گاڑیاں اور کتنا بل دیتے ہیں، ڈیٹا موجود ہے‘‘وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہے کہ کس کے پاس کتنی گاڑیاں اور کتنا بل دیتے ہیں، لائف اسٹائل کا سارا ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے، اس ڈیٹا کے جائزے کے لیے ٹیم بنائیں گے جو چیک کرے، اس کے بعد فیلڈ ٹیم کو اس پر عمل درآمد کا کہیں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ حکومت جس جس سیکٹر سے نکل جائے اتنا ہی بہتر ہے، حکومت کو پرائیوٹ سیکٹر کو آگے لانے کے لیے ماحول دینا ہو گا، ٹیکسز لیکیج کو کم کرنے کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لایا گیا، جس کا مقصد تمباکو اور سیمنٹ سمیت ہر شعبے میں ٹیکس چوری روکنا تھا۔وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا ہے کہ شہریوں کے لائف اسٹائل کا تمام ڈیٹا ہمارے پاس ہے، ڈیٹا کو کراس چیک کیا جائے گا، اس کے بعد فیلڈ فارمیشن کو دیا جائے گا۔’’سب اسٹیک ہولڈرز بشمول پیپلز پارٹی کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں‘‘ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن کا مقصد ہیومین انٹروینشن کو کم کرنا ہے، نان فائلرز کی ٹیکسیشن میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، نان فائلرز کی اختراع ختم کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے، سیلری سلیب ہم پہلی بار نہیں لگانے جا رہے.وزیرِ خزانہ نے کہا کہ تمام ریٹیلرز کو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے تھا، اس وقت 9 ٹریلین کا کیش ان سرکولیشن ہے، ترقیاتی بجٹ 81 فیصد ایسے منصوبوں کو دیا جا رہا ہے جو تکمیل کے قریب ہیں، ، تمام اتحادیوں کو بجٹ پر پریزینٹیشن دی ہے، آن بورڈ لیا ہے، سب اسٹیک ہولڈرز بشمول پیپلزپارٹی کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔’’ابھی ملکی خزانہ تعلیم و صحت کے اخراجات بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا‘‘انہوں نے کہا کہ کیپٹل گین ٹیکس اس لیے نہیں لگایا کیونکہ یہ سیکٹر پہلے سے ٹیکسڈ ہے، ای او آئی بی پرائیویٹ ادارہ ہے وہ پینشن میں اضافہ خود کریں گے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناظر میں ریاست کی ذمے داری ہے کہ تعلیم اور صحت پر بھی رقم بڑھائیں، ابھی ملکی خزانہ تعلیم و صحت کے اخراجات بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ورچول مذاکرات چل رہے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ ہماری بات چیت مناسب سمت میں جا رہی ہے، آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول سمجھوتہ ہونے تک حتمی بات نہیں کر سکتے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکس چوروں، نادہندگان اور ان کی معاونت کرنے والوں کا سدِباب کر کے چھوڑیں گے۔
ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹائزیشن پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بجٹ تیاری کے دوران واضح ہدایات دی تھیں کہ اشرافیہ کو ٹیکس دینا ہی ہوگا، اولین ترجیح ٹیکس کی شرح کم کرنا اور ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھانا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ بجٹ میں غریب و متوسط طبقے پر کم سے کم ٹیکس عائد کیا، ٹیکس دینے کےاہل افراد ٹیکس نیٹ میں لانے کےلیے اقدامات کر رہے ہیں۔
اجلاس میں وزیراعظم کو ایف بی آرکی ڈیجیٹائزیشن اور محصولات بڑھانے پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ملکی معیشت کی ویلیو چین کی ڈیجیٹائز یشن اور آٹومیشن سے محصولات بڑھیں گی۔
حکومت کو بڑی شرمندگی کا سامنا۔ فی کیس دو / دو لاکھ جرمانہ بھی ۔۔ راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی،عمران خان شاہ محمود قریشی، شیخ رشید سمیت اہم شخصیات کیخلاف 9 مئی کے مقدمات حکومت پنجاب کی کیسز ٹرانسفر کرنے کیلئے درخواستوں پر سماعت عدالت نے حکومت کی 11 ٹرانسفر درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں عدالت نے فی کیس دو لاکھ روپے جرمانے کا حکم سنا دیا عدالت نے درخواستیں واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی مدعی بھی آپ پولیس بھی آپ پھر بھی انصاف کی توقع نہیں، چیف جسٹس اگر جیل میں بھی تھریٹس ہیں تو آسمان پر جاکر بسیرا کرلیں، چیف جسٹس ہم نے پنڈی عدالت کے جج سے وجہ ہوچھی، چیف جسٹس وہاں بھی سائلین کو عدالت میں نہیں جانے دیا گیا، چیف جسٹس جس فریق کا جی چاہے وہ ٹرانسفر کی درخواست دے کر سماعت رکوا دے چیف جسٹس آپ کو لاہور ہائیکورٹ کے ججوں پر اعتماد نہیں، چیف جسٹس آپ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز پر اعتماد نہیں ہے کیا چاہتے ہیں، چیف جسٹس جن لوگوں نے آئین اور قانون کی عملداری یقینی بنانا ہے وہی سب کچھ کررہے ہیں، چیف جسٹس چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے محکمہ پراسیکیوشن کی درخواستوں پر سماعت کی راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں نو مئی واقعات کے کیسز زیر التوا ہیں موقف بانی چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید سمیت دیگر رہنما کیسز میں نامزد ہیں موقف عدالت نمبر ایک راولپنڈی کے جج سے انصاف کی توقع یے موقف جج کے متعصبانہ رویے کی وجہ سے کیسز کسی دوسری عدالت میں ٹرانسفر کئے جائیں استدعا