All posts by admin

امریکا نے غزہ میں عالمی فوج کی تعیناتی کیلئے اقوام متحدہ سے منظوری مانگ لیآئی پی پیز معاہدوں کی منسوخی اور نظرثانی سے حکومت کو 3600 ارب کی بچت.امریکا نے غزہ میں عالمی فوج کی تعیناتی کیلئے اقوام متحدہ سے منظوری مانگ لی۔ آئی پی پیز معاہدوں کی منسوخی اور نظرثانی سے حکومت کو 3600 ارب کی بچت۔ اقوام متحدہ سے منظوری کے بعد 4 ممالک کی فوج تعینات ھوگی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا دورہ قطر قطری وزیر اعظم اور۔فیصل آباد میں کرکٹ کا جنون ٹریفک جام۔عوام کی اکثریت کا گراونڈ میں میچ دیکھنا۔کیا پیپلزپارٹی کو ن لیگ کی میت کو کندھا دینے کی پالیسی تبدیل کر لینی چاہیئے۔50 ھزار ارب روپے کی کرپشن گرفتاری کیوں رکی ۔27 ویں آئینی ترمیم سب کچھ تبدیل۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی کی دوحہ میں ملاقات۔قطری وزیراعظم خصوصی طور پر صدرِ مملکت سے ملاقات کے لیے ہوٹل پہنچے۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال۔صدر آصف علی زرداری نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں قطر کی قیادت کے اقدامات کو سراہا۔صدرِ مملکت نے فیفا ورلڈ کپ 2022 کے کامیاب انعقاد پر قطری قیادت کو مبارک باد دی۔قطری وزیراعظم نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کی بہادری کی تعریف کی۔قطری وزیراعظم نے افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں میں بہتری کی اُمید ظاہر کی۔صدر آصف علی زرداری نے قطر کو پاکستان میں بالخصوص اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔قطری وزیراعظم نے کہا کہ قطر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کا حجم مزید بڑھائے گا۔ملاقات میں خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان کے سفیر نے بھی شرکت کی۔

*سندھ حکومت کا خواتین کو پنک اسکوٹیز دینے کے دوسرے مرحلے کا اعلان*وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت خواتین کو پنک اسکوٹیز کی فراہمی کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کرنے جارہی ہے۔سندھ کے سینئر وزیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے خواتین کو مفت ٹریننگ کے ساتھ مفت لائسنس بھی فراہم کیے جارہے ہیں، طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو اسکوٹیز کی فراہمی کا مقصد ان کو روزمرہ کے سفری مسائل سے نجات دلانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں، تربیتی کورسز میں حصہ لیں اور پنک اسکوٹیز پروگرام کے دوسرے مرحلے میں رجسٹریشن کرائیں۔

پاکستان – ایران میڈیا تعاون کے حوالے سے اسلام آباد میں یادداشتوں پر دستخط کی تقریبوزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کی تقریب میں شرکت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا تقریب سے خطابایران اور پاکستان کے تعلقات ایک نئے اور مضبوط مرحلے میں داخل ہو چکے ہیںوزیراعظم شہباز شریف کے کردار اور مسلسل تعاون پر دلی شکریہ ادا کرتا ہوںچند ماہ قبل ایرانی صدر کے پاکستان کے تاریخی دورے نے تعلقات کا نیا باب رقم کیاپاکستانی عوام، حکومت اور میڈیا نے مشکل وقت میں ایران کا بھرپور ساتھ دیاصیہونی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے فیصلہ کن کردار ادا کیاایران کے عوام پاکستان کی دوستی اور بھائی چارے کو ہمیشہ یاد رکھیں گےمیڈیا کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گاآج دستخط ہونے والے معاہدے تعاون کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔آئی آر آئی بی ورلڈ سروس کے نائب صدر احمد نوروزی کا خطاب حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوامِ کے اصولی اور ثابت قدم مؤقف پر شکریہ ادا کرتے ہیںفلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں پاکستان کے کردار کو خراجِ تحسین کرتے ہیںمیڈیا تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی ضرورت ہےایران اور پاکستان کے تعلقات اب ایک متحرک اور عملی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیںعلامہ اقبالؒ، سید علی ہمدانیؒ جیسی مشترکہ شخصیات ہمارے ثقافتی رشتے کو مزید مضبوط کرتی ہیںایران کی جانب سے “علامہ اقبال” فلم/سیریز کی تجویز پاکستان کو پیش کی گئی ہےیہ منصوبہ دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات میں نیا باب ثابت ہوگاآئی آر آئی بی پاکستان کے سرکاری و نجی میڈیا اداروں کو تکنیکی معاونت دینے کے لئے تیار ہےایران کی میڈیا انڈسٹری پاکستانی ماہرین کو تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہےپاکستانی طلبہ کے لیے بین الاقوامی ورکشاپس اور تربیتی پروگرام منعقد کئے جائیں گےایران مشکل وقت میں ساتھ دینے والے دوستوں کو کبھی نہیں بھولے گاپاکستان کے میڈیا نے ایران کے مؤقف کو نمایاں طور پر اجاگر کیاجنگ کے ابتدائی دنوں میں آئی آر آئی بی ہیڈکوارٹر پر حملے کے باوجود صحافی ڈٹے رہےایرانی خاتون صحافی “سحر امامی” نے بمباری کے دوران بھی خبر رسانی جاری رکھیمیڈیا کی استقامت اور پیشہ ورانہ جذبہ دنیا بھر کے لیے مثال ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ کا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب ایران سے تشریف لانے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، وزیر اطلاعات صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے بہترین نتائج حاصل ہوئےہیں، وزیر اطلاعات صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دورے کا آغاز لاہور میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے مزار پر حاضری سے کیا، وزیر اطلاعات یہ عمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اقبالؒ کا پیغام اور فکر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے دلوں کو چھو چکی ہے، وزیر اطلاعات یہدورہ ہماری برادرانہ قربت اور دیرینہ تعلقات کی روشن مثال تھا، وزیر اطلاعات ہم ہمسایہ بھی ہیں، مگر اس سے بڑھ کر ہم مسلمان بھائی ہیں، وزیر اطلاعات خوشی ہے کہ یہ رشتہ حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوا ہے، جو ہماری دیرینہ خواہش تھی، وزیر اطلاعات میڈیا کے شعبے میں ہم اپنے باہمی تعاون کو مزید وسعت دے رہے ہیں، وزیر اطلاعات یہ ہمارا مشترک وژن، اقوام کی ترقی، استحکام اور خوشحالی ہے، وزیر اطلاعات ایران کے دورہ پر ہمیں جو احترام، محبت اور عزت ملی، وہ قابلِ قدر ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں نے گزشتہ برسوں میں ثابت کیا کہ ہماری اقوام نہایت باہمت اور ثابت قدم ہیں جب ایران پر حملہ ہوا تو پاکستانی عوام، حکومت اور میڈیا نے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔پاکستانی میڈیا نے نہایت فعال اور متحرک کردار ادا کیا اور ایرانی قوم کے حوصلے اور عزم کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔جب زلزلے کے دوران پورا اسٹوڈیو ہل رہا تھا، تب بھی نیوز کاسٹرز ثابت قدمی، عزم اور وقار کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے یہی ایران کے عوام کی ہمت اور جرأت کی علامت ہےگزشتہ ماہ ایرانی سفیرِ سے ملاقات میں ہم نے میڈیا کے مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات کی،

آج وہ بات عملی شکل اختیار کر چکی ہےمعاہدوں کی تیاری میں شامل ٹیموں کو مبارکباد دیتا ہوں پی ٹی وی اور ایرانی نشریاتی ادارے IRIB کے درمیان، پیمرا اور ایرانی ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو رہے ہیں۔ یہ معاہدے میڈیا کے میدان میں ہمارے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ دونوں ممالک کی فکری و نظریاتی اساس مشترک ہے، اقبالِ لاہوری ایران میں اتنے ہی مقبول ہیں جتنے پاکستان میں مقبول ہیںاقبالؒ کا فلسفہ خودی، یعنی خود انحصاری، علم اور عمل کے امتزاج پر مبنی ہے۔اقبالؒ فرماتے ہیں کہ علم ہی زندگی کا محافظ ہے اور انسان کو غلامی سے آزاد کر کے خود انحصاری کی راہ دکھاتا ہے۔زندگی کا مفہوم عمل میں پوشیدہ ہے، اور تخلیق کی لذت ہی زندگی کا قانون ہے۔اقبالؒ کا پیغام علم، عمل اور خود انحصاری ہےایرانی قوم نے یہ پیغام اپنے کردار سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ خود انحصاری ہی اصل طاقت ہےمیں یقین دلاتا ہوں کہ ہم میڈیا کے شعبے میں آپ سے ایک قدم آگے ہوں گے۔یہ معاہدے محض کاغذی نہیں رہیں گے بلکہ ان پر عمل درآمد کیا جائے گا ہم ڈیجیٹل میڈیا کے میدان میں بھی تعاون کے خواہاں ہیں۔ بھارت کے ساتھ جب تنازعہ ہوا، تو میدانِ جنگ میں فوجی معرکہ تھا، سفارتی سطح پر، بیانیے کی جنگ تھی ہمارے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر مزاح اور تخلیقی میمز کے ذریعے دشمن کو بھر پور جواب دیا۔یہی ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت ہے، اور یہ وہ میدان ہے جہاں ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ علامہ اقبالؒ پر ایک مشترکہ ڈرامہ سیریز تیار کی جا رہی ہے

۔یہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں ہوگی نئی نسل کو اقبالؒ کے فلسفے، خودی، علم اور عمل کا پیغام پہنچائے گی۔اقبالؒ کا خواب پاکستان کی شکل میں حقیقت بنا، جسے قائداعظم محمد علی جناحؒ نے عملی جامہ پہنایا۔یہ سیریز دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے ایک تعلیمی سرمایہ ثابت ہوگی۔ہماری ثقافت اور زبان میں بھی بے شمار قدریں مشترک ہیں۔آج بھی ہمارے ادبی ورثے کا ایک بڑا حصہ فارسی میں ہے۔ فارسی زبان، مذہب اور ثقافت کی اشتراکیت سے ہمارے عوامی تعلقات کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔ معاہدوں سے ہمارا میڈیا تعاون نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورۂ پاکستان اور جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں نے دونوں رہنماؤں کی گرمجوشی اور بھائی چارے کی مثال قائم کی ہے یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو لفظوں سے نہیں، دل کی زبان سے سمجھا جا سکتا ہے۔پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے،۔۔۔۔۔۔۔ وزارتِ اطلاعات و نشریاتِ کے زیر اہتمام پی ٹی وی اور ایران براڈکاسٹنگ کے درمیان میڈیا کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فاطمہ شیخ اور ایران براڈکاسٹنگ کے نائب صدر احمد نوروزی نے یادداشت پر دستخط کئے۔ پیمرا اور ایرانی ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان بھی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ایرانی میڈیا اور تین نجی پاکستانی اداروں کے درمیان بھی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایرانی وفد کے ارکان کو یادگاری سوئینئرز بھی پیش گئے

یہ واقعہ بیان کرکے میں ہرگز یہ تَأثُّر نہیں دینا چاہتا کہ خدانخواستہ میں کوئی بہت بڑی توپ ہوں بلکہ یہ کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹر عبد القادر طبعیت کے کتنے سادہ اور غرور سے عاری انسان تھے۔ 1978ء میں بھارت کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی تھی اور راولپنڈی میں غالبا” پریذیڈنٹ الیون کے ساتھ تین روزہ میچ کھیل رہی تھی۔ بھارتی ٹیم کے مینجر بڑودہ کے مہاراجہ فتح سنگھ راو پرتاپ راو گائیکواڈ ثانی تھے۔ اس وقت سیکورٹی کے مسائل نہیں ہوتے تھے۔ مجھے زندگی میں پہلی دفعہ کسی مہاراجہ سے ملنے کا موقع ملا۔ وہ بھارتی ٹیم کے ساتھ انٹرکانٹینینٹل ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس وقت موبائل نہیں ہوتے تھے۔ چنانچہ کھلاڑی اپنے پاس اپنی کافی ساری تصویریں رکھتے تھے اور جو سپورٹس رپورٹر فوٹو مانگے اسے جیب سے نکال کر دے دیتے تھے۔ میں فلیشمین ہوٹل میں پاکستانی کھلاڑیوں سے مختصر بات چیت کرکے ان کی تصویریں جمع کر رہا تھا۔ عبدالقادر ابھی تک قومی ٹیم میں نہیں آئے تھے۔ وہ اس میچ میں بارہویں کھلاڑی تھے۔ میں نے ان سے تصویر کا تقاضا نہ کیا۔ جب میں رخصت ہونے لگا تو وہ الگ سے میرے پاس آئے، میری ٹھوڑی کو ہاتھ لگایا اور اپنی تصویر میری طرف بڑھا دی۔

ائینی ترمیم پنجاب اسمبلی نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔۔چین نے ایٹمی تجربات کے ٹرمپ الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔۔، پاکستان کو بھی اپنے ایٹمی پروگرام کو دروغ گفتاری سے بچانا چاہیے ۔27 ویں آئینی ترمیم کا معاملہ پوشیدہ کیوں رکھا گیا؟نواز لیگ پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن تیار۔عبدالقیوم نیازی ان ایکشن وزیر اعظم انوار الحق کے لئے مشکلات۔ ۔پختونخواہ امن وامان کیلئے حوالے سے سب سے رپورٹ مانگ لی گئی جس کی کارگردگی کمزور ہوگی اسکو معطل کیاجائےگا۔پیپلز پارٹی نواز لیگ مکمل طور پر 27 ویں آئینی ترمیم تھوک کر چاٹنے کے لیے تیار۔اسلام آباد پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس جمعرات 6نومبر کو طلب کرلیا۔پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلاول ہاؤس کراچی میں ہوگا۔اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر غور ہوگا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

عبدالقیوم نیازی کا وزیر اعظم انوارالحق اور ساتھی وزراء کو تحریک انصاف میں شامل کرنے اور منحرفین ممبران قانون ساز اسمبلی کیخلاف رٹ کرنے سے صاف انکار،زرائع کے مطابق تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس مرکزی سیکرٹری سلیمان اکرم راجہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں آزاد کشمیر پارٹی صدر قیوم نیازی،اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق ،سیکرٹری جنرل میر عتیق،عمران خان کے مشیر برائے امور کشمیر خالد یوسف ایڈوکیٹ اور ممبران قومی اسمبلی نے شرکت کی اجلاس میں وزیر اعظم اور ان کے ساتھ بچ جانے والے وزراء کی پارٹی میں شمولیت کی تجویز رکھی گئی ساتھ ہی ممبران اسمبلی کو عدم اعتماد میں ووٹ نہ ڈالنے سے متعلق ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنے کاُ معاملہ بھی زیر غور آیا تاہم پارٹی صدر عبدالقیوم نیازی نے وزیر اعظمُ سمیٹ منحرف وزراء جنہوں نے عمران خان کے ساتھ غداری اور دھوکہ کیا کو واپس لینے سے انکار کردیا اور ساتھ ہی انوار الحق حکومت کو ریسکو کرنے کیلئے ممکنہ رٹ پٹیشن بھی پارٹی کی جانب سے دائر کرنے سے صاف انکار کردیا۔

*💥فیلڈ مارشل کاعہدہ آئینی بنانے کیلئے آرٹیکل243 میں ترمیم کی جائے گی، وفاقی حکومت 27 آئینی ترمیم کیلئے تیار*وفاقی حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری پکڑلی۔27 ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 میں ترمیم ہوگی جس کا مقصد آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تسلیم کرنا ہے۔مجوزہ ترمیم میں آئینی عدالتوں کا معاملہ بھی شامل ہے، ايگزيکٹو کی مجسٹریل پاور کی ڈسٹرکٹ لیول پر ترسیل بھی مجوزہ ترمیم میں شامل ہوگی، اس کے ساتھ پورے ملک میں ایک ہی نصاب کا ہونا بھی ستائيسویں ترمیم کی تیاری میں زیر غور آنے کا امکان ہے۔وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ستائيسویں ترمیم پر بات چیت چل رہی ہے لیکن باضابطہ کام شروع نہيں ہوا۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کا مقصد معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تحفظ دینا ہے۔

صدر آصف علی زرداری تین روزہ سرکاری دورے پر دوحہ، قطر پہنچ گئے۔حماد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر صدرِ مملکت اور ان کے وفد کا استقبال سینئر قطری حکام اور دوحہ میں تعینات پاکستان کے سفیر نے کیا۔صدر آصف علی زرداری کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا۔صدر آصف علی زرداری عالمی سماجی ترقیاتی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔اپنے کلیدی خطاب میں صدر مملکت عالمی برادری کو سماجی ترقی اور جامع معاشی نمو کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔صدر آصف علی زرداری سماجی تحفظ، غربت میں کمی اور کمزور طبقوں کو مستحکم کرنے میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔صدر مملکت دوحہ الائنس، سوشل پروٹیکشن اینڈ جابز کمپیکٹ کے آغاز کے لیے پاکستان کے اقدامات اور عالمی ترقیاتی وعدوں سے ہم آہنگ منصوبوں پر بات کریں گے۔صدر آصف علی زرداری سماجی و ماحولیاتی تبدیلیوں کے لیے مالی وسائل کے حصول، ایس ڈی جی اسٹمولیس اور دیگر عالمی اقدامات کی اہمیت پر زور دیں گے۔صدر آصف علی زرداری اپنے دورے کے دوران مختلف عالمی و علاقائی رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

*ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھری کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو*غزہ امن فوج کافیصلہ حکومت اورپارلیمنٹ کرےگی:ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان اپنی سرحدوں،عوام کی حفاظت کیلئےتیارہے:ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان پالیسی بنانےمیں خودمختارہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریفتنہ الخوارج کےخلاف آپریشن میں1667دہشت گردمارےگئے:ڈی جی آئی ایس پی آرفوج سیاست میں نہیں الجھناچاہتی:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریفوج کوسیاست سے دوررکھاجائے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریجرائم پیشہ اوردہشت گردگروپ ملک میں جرائم،سمگلنگ روکنےمیں رکاوٹ ہیں:ڈی جی آئی ایس پی آرگورنرراج سےمتعلق فیصلےکااختیارحکومت کےپاس ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان کی شرائط معنی نہیں رکھتیں،دہشت گردی کاخاتمہ اہم ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان میں منشیات سمگلرزکی افغان سیاست میں مداخلت ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان سےبڑے پیمانےپرمنشیات پاکستان سمگل کی جارہی ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان کیلئےمحبت جاگ رہی ہےتو آپ وہیں چلےجائیں:ڈی جی آئی ایس پی آردہشت گرد عشرکےنام پرٹیکس لیتےہیں:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریزیادہ ترآپریشن بلوچستان میں ہوئے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریحالیہ پاک افغان کشیدگی کےدوران206افغان طالبان مارےگئے:ڈی جی آئی ایس پی آرحالیہ پاک افغان کشیدگی کےدوران112فتنہ الخوارج ہلاک ہوئے:ڈی جی آئی ایس پی آرٹی ٹی پی نےافغان طالبان کےامیرکےنام پربیعت کی:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریٹی ٹی پی افغان طالبان کی شاخ ہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریبھارت گہرےسمندرمیں ایک اورفالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہاہے:ڈی جی آئی ایس پی آربھارت نے زمین،سمندراورفضامیں جوکچھ کرناہےکرے:ڈی جی آئی ایس پی آربھارت جان لے،اس بارجواب پہلےسےزیادہ شدیدہوگا:ڈی جی آئی ایس پی آراس سال62ہزار113آپریشن کیے،582فوجی جوان شہیدہوئے:ڈی جی آئی ایس پی آرمدارس کی تعداد2014میں48ہزار،اب ایک لاکھ سےزائدہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان میں ہمارارسپانس سوئفٹ ہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریکوشش کی افغانستان کےساتھ معاملات طے ہوں:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریپاکستان کاون پوائنٹ ایجنڈاہے،افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو:ڈی جی آئی ایس پی آررواں سال62113آپریشن کیے،زیادہ تربلوچستان میں ہوئے:ڈی جی آئی ایس پی آر

سی سی ڈی نے چوہنگ ٹریننگ سینٹر لاہور سے پولیس کے سب انسپکٹر عدنان ورک کو حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق سب انسپکٹر عدنان ورک نے ڈی آئی جی محبوب اسلم کے خلاف واٹس ایپ گروپ میں غیراخلاقی زبان استعمال کی تھی۔اطلاعات کے مطابق کمانڈنٹ چوہنگ ٹریننگ سینٹر نے عدنان ورک کو اپنے دفتر بلا کر وارننگ دی، تاہم ڈی آئی جی کے دفتر سے باہر نکلنے کے بعد عدنان ورک نے دوبارہ گالم گلوچ شروع کر دی، جس پر سی سی ڈی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عدنان ورک ماضی میں ایس ایچ او کے طور پر بھی تعینات رہ چکے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور سب انسپکٹر کے خلاف محکمانہ کارروائی متوقع ہے۔

ایف آئی اے کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤنایف آئی اے کمپوزٹ سرکل ڈیرہ غازی خان کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیاں کرنے والے عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم میں غیر قانونی کٹوتیاں میں ملوث 12 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔چھاپہ مار کارروائیاں بورڈ آفس، پل ڈاٹ، اور کوٹ چھٹہ پر کی گئیں۔

گرفتار ملزمان مستحق خواتین کو دی جانے والی مالی امداد میں سے فی کس 1000 سے 1500 روپے غیر قانونی کمیشن کے طور پر کاٹ رہے تھے۔گرفتار ملزمان میں محمد عمران ، محمد اکرم ، صادق حسین ، عطا حسن ، نصراللہ ، ابوذر عباس ، شیر علی ، محمد عاقب ، الطاف حسین ، احمد حسن ، عمران حسین اور محمد ابرار شامل ہیں۔ملزمان کو کمیشن وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران ملزمان سے لاکھوں روپے برآمد کر لئے گئے۔ ملزمان سے متعدد شناختی کارڈز ، چیک بکس ، بینک کنیکٹ ڈیوائسز اور دیگر متعلقہ مواد برآمد کیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر دیئے گئے ہیں۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش کا اغاز کر دیا گیا۔

آرٹیکل 144 (1) کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں غور کے لیے آئینی قرارداد پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد میں مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں “مقامی حکومتیں” کے عنوان سے ایک الگ باب بنانے کے لیے آرٹیکل 140-A میں آئینی ترمیم کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد پنجاب لوکل گورنمنٹ کاکس کی طرف سے پیش کی گئی تھی ۔اسےمسلم لیگ ن کے احمد اقبال چودھری اور پیپلز پارٹی کے علی حیدر گیلانی نے اسپانسر کیا تھا۔قرارداد کی متقفہ منظوری کا کریڈٹ مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آٸ سمیت ایوان میں موجود تمام جماعتوں اور اراکین کو جاتا ھے ۔

عام آدمی کے مسائل اسکے اپنے شھر میں حل کرنے کیلئے اس قرارداد کو پیش کرنے اور منظور کرنیوالے شاباش اور مبارکباد کے مستحق ھیں ۔قوی امید ھے کہ خیبر پختونخواہ ، بلوچستان اور سندھ کی صوبائ اسمبلیاں بھی ایسی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرینگی مقامی حکومتوں کے فعال نظام کو آئینی ترمیم کے ذریعے مکمل آئینی تحفظ دینا اپنی اپنی سیاسی ضرورت کے تابع آئینی ترامیم لانے سے کہیں بہتر ھے ۔بلدیاتی نظام حکومت کو آئینی تحفظ اور صوبائ فنانس ایوارڈ کے ذریعے مالی خود مختاری دیے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم ،بنیادی جمہوریتوں اور مقامی حکومتوں کے نظام سے سیاسی قیادتوں کے اوپر آنے کا عمل مکمل نہیں ھو سکتا ۔۔

Clour جامعہ کراچی میں دو طلبہ گروپوں میں تصادمتصادم کے دوران طلباء نے پولیس پر بھی حملہ کردیاحملے میں ایک سب انسپکٹر زخمی ہوگیاپولیس نے2ملزمان کوگرفتار کر لیا، باقی فرار ہوگئے، ایس ایس پی ایسٹپولیس نے گرفتار ملزمان اور ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر

وادی تیراہ میں افیون کی فصل تباہ! فوجی ترجمان کا بڑا انکشاف — “غزہ میں امن فوج کی شمولیت کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی! تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھری کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو*غزہ امن فوج کافیصلہ حکومت اورپارلیمنٹ کرےگی:ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان اپنی سرحدوں،عوام کی حفاظت کیلئےتیارہے:ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان پالیسی بنانےمیں خودمختارہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریفتنہ الخوارج کےخلاف آپریشن میں1667دہشت گردمارےگئے:ڈی جی آئی ایس پی آرفوج سیاست میں نہیں الجھناچاہتی:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریفوج کوسیاست سے دوررکھاجائے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریجرائم پیشہ اوردہشت گردگروپ ملک میں جرائم،سمگلنگ روکنےمیں رکاوٹ ہیں:ڈی جی آئی ایس پی آرگورنرراج سےمتعلق فیصلےکااختیارحکومت کےپاس ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان کی شرائط معنی نہیں رکھتیں،دہشت گردی کاخاتمہ اہم ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان میں منشیات سمگلرزکی افغان سیاست میں مداخلت ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان سےبڑے پیمانےپرمنشیات پاکستان سمگل کی جارہی ہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان کیلئےمحبت جاگ رہی ہےتو آپ وہیں چلےجائیں:ڈی جی آئی ایس پی آردہشت گرد عشرکےنام پرٹیکس لیتےہیں:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریزیادہ ترآپریشن بلوچستان میں ہوئے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریحالیہ پاک افغان کشیدگی کےدوران206افغان طالبان مارےگئے:ڈی جی آئی ایس پی آرحالیہ پاک افغان کشیدگی کےدوران112فتنہ الخوارج ہلاک ہوئے:ڈی جی آئی ایس پی آرٹی ٹی پی نےافغان طالبان کےامیرکےنام پربیعت کی:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریٹی ٹی پی افغان طالبان کی شاخ ہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریبھارت گہرےسمندرمیں ایک اورفالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہاہے:ڈی جی آئی ایس پی آربھارت نے زمین،سمندراورفضامیں جوکچھ کرناہےکرے:ڈی جی آئی ایس پی آربھارت جان لے،اس بارجواب پہلےسےزیادہ شدیدہوگا:ڈی جی آئی ایس پی آراس سال62ہزار113آپریشن کیے،582فوجی جوان شہیدہوئے:ڈی جی آئی ایس پی آرمدارس کی تعداد2014میں48ہزار،اب ایک لاکھ سےزائدہے:ڈی جی آئی ایس پی آرافغانستان میں ہمارارسپانس سوئفٹ ہے:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریکوشش کی افغانستان کےساتھ معاملات طے ہوں:لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھریپاکستان کاون پوائنٹ ایجنڈاہے،افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو:ڈی جی آئی ایس پی آررواں سال62113آپریشن کیے،زیادہ تربلوچستان میں ہوئے:ڈی جی آئی ایس پی آر

وزیر اعلی کے پی کا تمام سیاسی جماعتوں سے امن مشاورت کے لئے جرگہ بلانے کا اعلان۔۔قومی اسمبلی کا ھنگامہ خیز اجلاس طلب بڑے پیمانے پر قانون سازی۔تحریک انصاف کے وزیر اعلی نے ریڈیو پاکستان پر حملے کی از خود انکوائری کا اعلان۔۔صوبہ اور وفاق امنے سامنے۔۔اٹک والوں کی بڑی بیٹھک۔۔بڑا قافلے کی کے پی سے امد ٹکرانے کا فائدہ کوں اٹھاے گا۔۔فواد چوھدری عمران اسماعیل زیدی کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں یہ چلے ھوے کارتوس ھے۔۔خفیہ اداروں کی رپورٹ کے بعد بڑی بیٹھک منگل کو۔۔شاہ محمود قریشی اور ڈوگر کی باز پرس عمران خان ان ایکشن۔۔آزاد کشمیر میں سیاسی کھیل انوارالھق کی جیت۔۔پاکستان اور ساوتھ افریقہ فیصل آباد میں آمنے سامنے۔۔سلمان اکرم راجہ کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات۔۔2 وزراء اعلی کی زندگی خطرے میں۔۔پاکستان پر بھارتی حملے کا خطرہ حقیقت میں کیا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں کہ جب راولپنڈی ایک چھوٹا اور انتہائی پرسکون شہر ہوا کرتا تھا۔ 1980 ء کی دہائی تک شہر مریڑ چوک سے شروع ہو کر سکستھ روڈ پر ختم ہو جاتا تھا۔ اس وقت راولپنڈی میں نہ تو بے ہنگم ٹریفک کا اژدھام تھا نہ ہی صفائی ستھرائی کی ابتر حالت۔ تقریباً ہر چھوٹے بڑے گھر میں درخت اور پودے عام ہوا کرتے تھے۔ زیر زمین پانی کے وافر ذخائر کی وجہ سے شہر میں پانی کی کوئی قلت نہ تھی۔ تقریباً ہر دوسرے تیسرے گھر میں کنواں ہوا کرتا تھا بلکہ ہر محلے میں بھی ایک بڑا کنواں عام تھا جہاں سے بہشتی جنہیں پنڈی میں ماشکی کہا جاتا تھا چمڑے کے مشکیزوں میں گھر گھر پانی پہنچاتے تھے۔ ایسا ہی ایک بڑا کنواں چاہ سلطان تھا جس کی وجہ سے پورے علاقے کا نام سلطان دا کھوہ مشہور ہوگیا۔

راولپنڈی کی ایک خاص بات تازہ سبزیاں ہوا کرتی تھیں۔ کھنہ اور ترلائی کے مضافات سے منہ اندھیرے بیل گاڑیاں تازہ ترکاریوں اور پھلوں سے لدی آجاتی تھیں۔ آج کے شمس آباد سے فیض آباد کے درمیان کھیت ہوا کرتے تھے بلکہ آج کل کے بہت سے پرہجوم علاقے جسے چکلالہ ہاؤسنگ سکیم ’مسلم ٹاؤن‘ ائرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی وغیرہ وغیرہ کا کوئی وجود نہ تھا۔ یہ سب کھیت کھلیان اور زرعی رقبے تھے۔شہر کا مرکزی بس اڈا لیاقت باغ ہوتا تھا جسے 1976 ء یا 1977 ء میں پیرودھائی منتقل کیا گیا تھا۔ لیاقت باغ سے ہی مختلف شہروں اور قصبات کو بسیں جایا کرتی تھیں۔ مری روڈ شہر کی مرکزی شاہراہ تھی جسے غالباً 1976 ء میں شاہ ایران کے نام پر محمد رضا شاہ پہلوی روڈ کا نام دے دیا گیا تھا

۔ سڑک کے درمیان میں پودے ہوا کرتے تھے جن پہ موسمی پھول بہار کھلاتے تھے اور جی ہاں راولپنڈی میں ایک چاندنی چوک بھی ہوا کرتا تھا۔ اس چوک کے بیچوں بیچ ایک گول چمن تھا۔ چوک میں سے کمرشل مارکیٹ کی طرف جاتی سڑک پہ بہت خوش ذائقہ اور عمدہ دہی بھلے ملا کرتے تھے۔ کمرشل مارکیٹ کھلے برآمدوں اور کشادہ سڑکوں والی ایک چھوٹی سی مارکیٹ ہوا کرتی تھی۔ یہ برآمدے اب بھی ہیں لیکن تجاویزات سے اٹ چکے ہیں۔چاندنی چوک سے کمرشل مارکیٹ کے درمیان سب رہائشی علاقہ تھا جس میں اونچے لمبے درخت سرسبز و شاداب پھول اور پودے تھے۔ یوں چاندی چوک سے کمرشل مارکیٹ ایک پرلطف واک ہوا کرتی تھی۔ راولپنڈی میں رکشے نہیں ہوتے تھے۔ ٹانگہ ایک مقبول عام سواری تھی۔ کھاتے پیتے لوگ کالی پیلی مورس ٹیکسی کو ترجیح دیتے تھے لیکن شہر میں ٹانگے کا ہی چلن تھا۔ فوارہ چوک ’کمیٹی چوک‘ چوک چاہ سلطان اور بنی چوک جسے اب شاید ”سنی“ چوک کہا جاتا ہے۔

بڑے ٹانگہ اسٹینڈ تھے۔ یہاں گھوڑوں کو پانی پلانے کے حوض بھی ہوا کرتے تھے۔چند علاقوں کو چھوڑ کر شہر عشاء کے بعد سنسان ہو جاتا تھا۔ گھر سے باہر کھانا کھانے کا رواج نہ تھا۔ رات کو اگر کچھ کھانے پینے کا موڈ ہوتا تو کمیٹی چوک پہ ایک دودھ دہی کی دکان مقبول تھی۔ کالج روڈ اور بنی محلہ میں تکے اور کباب کی دکانیں رات دیر تک کھلی رہتی تھیں۔ لیکن انہیں ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ گمان تھا کہ صرف اوباش اور آوارہ منش لوگ رات گئے ان جگہوں کا رخ کرتے تھے۔

اسلام آباد سے ائرپورٹ جانے کے لئے فیض آباد سے ڈائریکٹ سڑک تو موجود تھی لیکن زیادہ تر لوگ مری روڈ سے چاہ سلطان چوک کے راستے سے ائرپورٹ جاتے تھے۔ راقم الحروف نے بچپن میں کئی دفعہ اس سڑک پہ وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو ائرپورٹ آتے جاتے دیکھا تھا۔ اس زمانے میں وی آئی پی کے لئے ٹریفک بلکہ شہروں کو بند نہیں کیا جاتا تھا۔ شہر کی سیاسی قیادت خورشید حسن میر ’جاوید حکیم قریشی‘ اصلی شیخ رشید ایڈووکیٹ اور راجہ انور جیسے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ظرف شخصیات کے پاس تھی۔

ملک کے بہت سے اہم علمی اور ادبی نام راولپنڈی کے رہائشی تھے۔ مثلاً شفیق الرحمان ’ممتاز مفتی‘ سید ضمیر جعفری ’کرنل محمد خان‘ انور مسعود ’عزیز ملک بلکہ اگر لکھتے جائیں تو یہ لسٹ خاصی طویل ہو جائے گی۔شہر میں کھیلوں کے بہت سے میدان اور باغات تھے۔ مری روڈ پر تین بڑے میدان سنٹرل ہسپتال گراونڈ ’شبستا ن سینما اور لیاقت باغ گراؤنڈ واقع تھے اور ہر رہائشی علاقے میں کوئی نہ کوئی میدان یا پارک تھا۔ افسوس یہ سب تجاوزات اور عاقبت نا اندیش ڈویلپمنٹ کی بھینٹ چڑھ گیا۔”

“ برٹش انڈین بری فوج ”کے شمالی برصغیر کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر ہونے کی وجہ سے راولپنڈی کی اہمیت آزادی سے پہلے بھی تھی۔ مریڑ چوک سے آگے چھاؤنی کا علاقہ سرسبز ’خاموش اور انتہائی صاف ستھرا ہوا کرتا تھا۔ چھاؤنی کی تعمیرات میں وکٹورین اور برٹش راج کی طرز تعمیر نمایاں تھی۔ لیکن کنٹونمنٹ کا تذکرہ کسی اور نشست کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔تاریخی طور پر راولپنڈی ہندوؤں اور سکھوں کا شہر تھا۔ تقریباً سارے ہی قدیمی رہائشی علاقے مثلاً کرتا پورہ ’انگت پورہ‘ باغ سرداراں ’امرپورہ‘ موھن پورہ، آریہ محلہ، چٹیاں ہٹیاں ’ہندوؤں اور سکھوں کے بسائے تھے اور شہر کے زیادہ تر بیوپاری اور تاجر بھی ہندو یا سکھ ہی تھے۔ ویسے تو پرانے شہر کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا ہے لیکن آج بھی بہت سے پرانے گھر اور خوبصورت تاریخی عمارات موجود ہیں۔ یہ شہر کا تاریخی ورثہ ہیں جنہیں سنبھال کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ نہ جانے یہ کون کرے گا؟قارئین کرام یہ سب زمانہ قدیم کی باتیں نہیں ہیں۔ وہ تمام لوگ جو 70 اور 80 کی دہائیوں کے راولپنڈی کو دیکھ چکے ہیں۔ یقیناً اس پرسکون اور سرسبز و شاداب شہر کو نہیں بھولے ہوں گے جہاں سب ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ سب کو یاد ہوگا کہ راولپنڈی کیسا ہوا کرتا تھا اور اب کیا بن کر رہ گیا ہے

#پاک افغا!ن بارڈر ، شمالی وزیرستان کے قریب کوٹکئی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے فیتنہ ،،الخوا،،رجوں در-ازںدی کی کوشش ناکام بنا دی۔#سیکورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا ، متعدد خوا،،،رج جہ،،نم واصل متعدد زخمی ۔#سرچ آپریشن کے دوران دو لا-شیں ملیں، جبکہ باقی لا-شیں اور زخمیوں کو خوا،،رج اٹھاکر واپس افغا!نستان کی طرف فرار ہو گئے۔#نوٹ ،،،جہ،،،،نم واصل ہونے والے خار،،جیوں میں ایک خار،،جی کی شناخت دراصل افغا!ن فوج کا فعال سپاہی نکلا، جو سرحد کے پار تعاون اور دشمنانہ سرگرمیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ #نام : قاسم #رہائش پکتیا ضلع گیان سے تعلق رکھتا تھا باقی کی تفصیل وغیرہ اسکے شناختی کارڈ جنہیں افغا!نی تذکرہ کہتے ہیں پر واضح موجود ہے ۔۔

اپنے بیوروکریٹ دوستوں کے نام ۔۔اخلاق احمد تارڑ سیکرٹری ایکسائز پنجاب تھے , اُنہوں نے دلدار پرویز بھٹی کے بہنوئی کو معطل کر دیا,دلدار بھٹی اُن سے ملنے گئے,ساتھ مجھے بھی لے گئے , اُنہوں نے اُن سے کہا ۔۔ سر آپ نے جس ایکسائز انسپکٹر کو معطل کیا وہ میرا بہنوئی ھے , ازراہِ کرم اُسے بحال کر دیں ۔۔

سیکرٹری ایکسائز غصے سے بولے ۔۔دلدار، تینوں پتہ اے اوہ بہت رشوت لیندا اے ۔۔ دلدار بھٹی بولا ۔۔ سر جی اوہ ساہڈے کولوں پین (بہن) لے گیا اے تُسی رشوت لین دی گل کر رئے او ۔۔ یہ جملہ سُنتے ھی سیکرٹری ایکسائز نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور فرمایا ۔۔ جا بھٹی میں تیرے ایس جُملے دے صدقے اوہنوں بحال کیتا ۔۔پرسوں دلدار پرویز بھٹی کی اکتیسویں برسی پر یہ واقعہ مجھے یاد آگیا , میں نے سوچا اسے اپنے بیوروکریٹ دوستوں سے شئیر کر دُوں , ممکن ھے یہ واقعہ اُنہیں ہنسنے پر مجبور کر دے ورنہ جو حالات آج کل چل رھے ہیں ہمارے اکثر بیوروکریٹ ہنستے ھوئے بھی ڈرتے ہیں اُنہیں کوئی دیکھ نہ لے ۔۔ توفیق کی وال سےBaadban tv Twitter alert

‏اگر محمد اورنگزیب صرف حبیب بینک کے صدر ہی ہوتے آج پاکستان کے ویر خزانہ نہیں ہوتے ہو تو وہ آج انکی ماتحت FBR کی FIA میں رجسٹرڈ کرپشن کی FIR کے تحت یا تو گرفتار ہوچکے ہوتے یا کم از کم bail before arrest کی بھاگ دوڑ کررہے ہوتے کیونکہ FIR میں واضح الزام موجود ہے کہ اس وقت کے FBR chairman شبر زیدی نے HBL کو 7 ارب رپوں سے زائد کے refund کی ادائیگی کرکے زبردست کرپشن کی یاد رہے اس وقت اورنگزیب ہی HBL کے صدر تھے گویا شبر زیدی اور محمد اورنگزیب اس کیس میں co accused تھے ۰بہر حال سار credit جاتا ہے پاکستان میں جاری hybrid نظام کو کہ آج HBL ENGRO NISHAT GROUP آج FBR کرپشن کیس میں ملزمان کے کٹہرے میں سابق چئیر مین FBR شبر زیدی کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں اور یہ FIR پھرتی سے لپیٹ دی گئی ہے

ملک گیر وکلا انقلاب!وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں کی بار کونسلز میں تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بھاری اکثریت سے کامیابی— وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کی 27ویں آئینی ترمیم کا خواب چکنا چور! سرکاری وسائل، نوکریوں اور عہدوں کی بندر بانٹ کے باوجود وکلا نے حکومتی دباؤ کو مسترد کر دیا

طیفی بٹ کی موت کے بعد بیٹے نے گدی سنبھال لی ۔۔طورخم بارڈر اج کھلے گا تجارت کے لیے بند۔۔انسپکٹر نوید قتل سینکڑوں قتل کرنے والا خود قتل۔آزاد کشمیر میں الٹی گنتی سیدھی۔۔پاکستان میں 305 روز مے ایک ھزار قتل۔۔وفاقی حکومت خطرے میں 72 گھنٹے اھم۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات قومی سلامتی کے منافی۔۔ہندوستان اور امریکہ نے 10 سالہ دفاعی معاہدہ کرلیا۔۔شاہ محمود قریشی جیل سے ھسپتال تحریک انصاف کے لوٹوں سے ملاقاتیں۔۔حکومت پاکستان کے عوام دشمن نہ رکنے والا سفر جاری پٹرول بم دھماکہ۔۔مھنگای مھنگای ھاے مھنگای گیس کے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ۔عوام مھنگای بے روزگاری سے تنگ حکومت کے اللے تللے جاری۔۔پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 43 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا، نوٹیفیکیشن۔۔ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 2 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا، نوٹیفیکیشن۔۔وزیر اعلی سھیل آفریدی کا ایمل ولی سے رابطہ۔۔ٹرمپ نے بھارت سے 10 سال کا معاہدہ کر لیا، بھارت کو جدید ہتھیاروں سمیت ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے گی۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان سے ٹیلی فونک رابطہ دونوں رہنماؤں کے درمیان صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے سینیٹر ایمل ولی خان کو اسپیکر پختونخوا اسمبلی کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی

دعوتسینیٹر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پارٹی سے مشاورت کے بعد اے پی سی میں شرکت سے متعلق فیصلہ کیا جائے

شاہ محمود قریشی اچانک جیل سے ہسپتال منتقل ‘ پی ٹی آئی چھوڑنے والوں فواد چوہدری ‘ مولوی محمود ‘ عمران اسماعیل کی ہسپتال میں شاہ محمود سے اچانک ملاقات ‘ نئی سیاسی ہلچلملاقات کیوں کی ؟ بڑی خبر نے طوفان برپا کردیامیاں محمود الرشید بھی کوٹ لکھپت جیل سے اسپتال منتقل

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات قومی سلامتی کے منافی اور پاکستان دشمنی پر مبنی ہیں۔ پاکستان کے بقا کی جنگ لڑی جا رہی ہے، مگر ان کی سوچ ایک شخص کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ پاکستان کسی فرد واحد کی ملکیت نہیں، انسان آتے جاتے رہتے ہیں۔ پاکستان 25 کروڑ عوام کی ملکیت ہے۔ خواجہ آصف

کمال ہے! چوہدری انوارالحق جیسے “وزیراعظمِ کفایت شعار” شاید تاریخ میں ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں۔ خزانے کی بچت کا یہ عالم کہ سینکڑوں ملازمین ریٹائر ہو گئے، مگر آسامیاں خالی کی خالی رہیں، تنخواہیں بچ گئیں تو قوم خوش ہو جائے نا؟لیکن جب بات آئی اپنی کرسی کے تحفظ کی، تو کفایت شعاری کا سبق کہیں گم ہو گیا۔

ایکشن کمیٹی کی عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے ڈیڑھ ارب روپے بیرونِ ریاست فورسز پر محض ڈھائی سال میں لٹا دیے گئے۔ یہ وہی وزیراعظم ہے جس کے حکم پر 15 نہتے شہری جان سے گئے، اور آج بھی سوشل میڈیا پر کچھ نابالغ عقلیں اسے “بہترین وزیراعظم” قرار دے کر داد دے رہی ہیں۔واقعی، اگر ظلم، خودپسندی، جھوٹ ، احسان فراموشی ، سازش ، منافقت، رعونت اور عوام دشمنی معیارِ عظمت ہے، تو چوہدری انوارالحق کو یقیناً تمغۂ ’’ںہترین وزیراعظم‘‘ ملنا ہی چاہیے لیکن ان کی ٹرین کا ٹکٹ کے چکا ہے ،۔

آصف علی زرداری پر تفتیش کے دوران تشدد کرنے اور سلمان تاثیر کو گرفتاری کے وقت تھپڑ مارنے والے پنجاب پولیس کے خوفناک انسپکٹر نوید پہلوان کا دِل دہلا دینے والاانجام ؟یہ وہی انسپکٹر نوید سعید المعروف نوید پہلوان تھا

جس کا نام کبھی پنجاب پولیس میں طاقت، رعب اور بےخوفی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ 1990 کی دہائی میں کھیلوں کے کوٹے پر پولیس میں آیا، مگر چند سالوں میں ترقی پاتے ہی طاقت کے نشے میں ایسا بگڑا کہ قانون کا محافظ خود قانون شکن بن گیا۔

لاہور کے خطرناک بدمعاشوں کو مقابلوں میں پار کیا، مگر اسی بہادری کے پردے میں ناجائز دولت سمیٹنے لگا۔ پراپرٹی کے کام کی آڑ میں زمینوں پر قبضے، لوگوں کو ڈرانا دھمکانا اور اثر و رسوخ کے زور پر چوہدراہٹ قائم کرنا اس کی عادت بن گئی۔ مشہور ہوا کہ کراچی میں ایک کیس کی تفتیش کے دوران اس نے آصف علی زرداری پر تشدد کیا،

اور پنجاب اسمبلی کے باہر سلمان تاثیر کو گرفتاری کے وقت تھپڑ مار دیا۔ مگر طاقت کا یہ غرور زیادہ دیر نہ چل سکا۔ کچھ عرصے بعد نیب نے اس کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو بیرونِ ملک فرار ہوگیا۔ پلی بارگین کے بعد واپس آیا تو پھر سے پراپرٹی مافیا کے ساتھ جڑ گیا، لیکن قسمت نے مہلت نہ دی۔ رائیونڈ میں ایک قبضے کے تنازعے میں اسی شخص کے بیٹوں نے، جسے کبھی اس نے ذلیل کیا تھا،

گھیر کر اسے اور اس کے ساتھیوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ یوں نوید پہلوان، جو کبھی خوف کی علامت تھا، عبرت کی نشانی بن گیا۔ دولت، طاقت اور زمینیں پیچھے رہ گئیں، اور اس کا خاندان آج بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ سچ ہے، ظلم اور غرور کا انجام ہمیشہ عبرتناک ہوتا ہے۔

پشاور کور کی 25 سالہ خفیہ جنگ بے نقاب! — 1999 سے آج تک کون سے کور کمانڈر نے دہشت گردی کو روکا… اور کون اس کے پھیلاؤ کا باعث بنا؟ جنرل مشرف سے عاصم منیر تک — دو دہائیوں کی خونی کہانی، فیلڈ آپریشنز، معاہدوں اور ناکامیوں اور کامیابیوں کی تفصیل کون سے رنگ باز ذمہ دار سہیل رانا بادبان ٹی وی

پشاور کور کمانڈرز کا تاریخی تسلسل (1999–2025)1 لیفٹیننٹ جنرل سعید الزفر (1996–2000)یہ دور فاٹا اور قبائلی علاقوں میں طالبان کے اثرات کے ابتدائی پھیلاؤ کا تھا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد پشاور کور کو سرحدی استحکام کے بجائے قبائلی دباؤ اور اسمگلنگ کے چیلنجز کا سامنا رہا۔

2

. لیفٹیننٹ جنرل امتیاز شاہین (2000–2001)جنرل پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں افغانستان کے واقعات کے اثرات سرحدوں تک پہنچے۔ 9/11 کے بعد امریکی دباؤ میں پہلی مرتبہ فاٹا میں فوجی موجودگی بڑھائی گئی۔

3. لیفٹیننٹ جنرل احسان الحق (2001)مختصر مدت، مگر اسی عرصے میں پاکستان نے امریکی اتحادی کے طور پر “وار آن ٹیرر” میں شمولیت اختیار کی۔ پشاور کور نے شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسی کے علاقوں میں ابتدائی تعیناتیاں شروع کیں۔

4. لیفٹیننٹ جنرل علی جان اورکزئی (2001–2004)نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کا آغاز اسی دور میں ہوا۔ فاٹا میں ابتدائی فوجی کارروائیاں، اور قبائلی جرگوں کے ذریعے امن معاہدوں کی ابتدا اسی عہد میں کی گئی۔

5. لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین (2004–2005)یہ وہ دور تھا جب ”شکئی“ اور ”سراروغہ“ معاہدے کیے گئے، جن کے نتیجے میں وقتی امن تو قائم ہوا مگر طالبان کو منظم ہونے کا موقع ملا۔ ان معاہدوں کے ٹوٹنے کے بعد دہشت گردی کی نئی لہر اٹھی اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی بنیاد پڑی۔

6. لیفٹیننٹ جنرل محمد حمید خان (2005–2007)انہوں نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے جال کو توڑنے کی کوشش کی مگر TTP کی منظم شکل میں ابھار کو روکنا ممکن نہ رہا۔ اسی دوران لال مسجد آپریشن کے بعد شدت پسندی میں مزید اضافہ ہوا۔

7. لیفٹیننٹ جنرل (بعد میں جنرل) مسعود اسلم (2007–2010)اس دور میں پاک فوج نے فیصلہ کن آپریشنز کیے: راہِ راست (سوات، 2009) اور راہِ نجات (جنوبی وزیرستان، 2009)۔ سوات، بونیر اور دیر میں عسکریت پسندوں کا خاتمہ اسی کور نے کیا۔ ہزاروں شہداء کی قربانی کے بعد پہلی بار ریاستی عملداری بحال ہوئی۔

8. لیفٹیننٹ جنرل عاصف یاسین ملک (2010–2011)ان کا دور بحالی و استحکام کا تھا۔ فوجی کامیابیوں کو سول اداروں تک منتقل کرنے اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو پر توجہ دی گئی۔

9. لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی (2011–2014)انہوں نے خیبر، باجوڑ، مہمند اور کرم ایجنسی میں ٹارگٹڈ آپریشنز کیے۔ انہی کی نگرانی میں ضربِ عضب کی تیاری مکمل ہوئی جو 2014 میں شمالی وزیرستان میں شروع ہوا۔

10. لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن (2014–2016)ضربِ عضب کے عملی نفاذ کے دوران قیادت کی۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان بنایا گیا، اور کور نے فاٹا کے تمام اہم مراکز کلیئر کیے۔

11. لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ (2016–2018)انہوں نے سرحدی باڑ (Fence) کی تعمیر اور ردالفساد کے تحت ملک گیر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو آگے بڑھایا۔ دہشت گردی کے گراف میں نمایاں کمی آئی۔

12. لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر محمود (2018–2019)بارڈر مینجمنٹ اور قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد سول کنٹرول کی بحالی پر کام کیا۔

13. لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود (2019–2021)افغانستان میں طالبان کی واپسی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سرحدی علاقوں میں آپریشنز تیز کیے۔ فاٹا کے انضمام کے بعد پولیسنگ اور گورننس کے مسائل میں فوجی معاونت کا کردار ادا کیا۔

14. لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (2021–2022)طالبان کی کابل میں واپسی کے بعد پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کی پالیسی اپنائی۔ اس دوران عارضی جنگ بندی ہوئی مگر TTP نے دوبارہ منظم ہونا شروع کیا۔

15.

لیفٹیننٹ جنرل سردار حسن اظہر حیات (2022–2024)سیز فائر کے خاتمے اور دہشت گردی کی نئی لہر کے دوران کور نے سرحدی علاقوں میں جارحانہ کارروائیاں بڑھائیں۔ افغان سرزمین سے حملوں کے خلاف جوابی آپریشنز کیے گئے۔

16. لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری (2024–تا حال)موجودہ کور کمانڈر افغان سرحدی تناؤ کے دور میں تعینات ہیں۔ سرحد پار حملوں، فضائی کارروائیوں، اور خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کی نئی حکمتِ عملی کے تحت سخت موقف اختیار کیا گیا ہے

نتیجہ و تجزیہ 1. 2001–2006: امن معاہدوں نے وقتی سکون مگر طویل المیعاد خطرہ پیدا کیا۔ 2. 2007–2016: فیصلہ کن فوجی کارروائیوں نے ریاستی رِٹ بحال کی اور دہشت گردی کی لہر توڑی۔ 3. 2017–2019: بارڈر فینسنگ، انٹیلی جنس آپریشنز اور پولیسنگ سے امن بحال ہوا۔ 4. 2021–2022: TTP سے مذاکرات نے وقتی امن مگر بعد میں نئی لہر پیدا کی۔ 5.

2023–2025: دوبارہ عسکری سختی، بارڈر اسٹرائکس، اور علاقائی دباؤ کے ذریعے دہشت گردی کو محدود کرنے کی کوشش۔