All posts by admin

ریڈ زون کی سیکورٹی بڑھا دی گئی سپریم کورٹ میں دھماکے کے بعد پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں اضافہ۔۔۔سوات میں قاری کی سات سالہ بچے سے زیادتی۔۔پاکستان کی باولنگ مکمل طور پر ناکام ریلو کٹوں کی شمولیت۔۔3 فارمیٹ میں کپتان کی جگہ بنتی لکین وہ پاکستان کے کامیاب تجربے کر رھے ھے۔۔27 ویں ترمیم کی منظوری کیلئے آج ہونیوالا وفاقی کابینہ کاا جلاس معینہ مدت کیلئے مؤخر ۔۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

61 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب آج پاک فضائیہ کے ائیروسپیس پاور سنٹر آف ایکسیلینس میں منعقد کی گئی۔  تقریب کے مہمانِ خصوصی ائیروائس مارشل محمد عاصم رانا، ائیر آفیسر کمانڈنگ، سنٹرل ائیر کمانڈ پی اے ایف تھے۔

61 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب آج پاک فضائیہ کے ائیروسپیس پاور سنٹر آف ایکسیلینس میں منعقد کی گئی۔  تقریب کے مہمانِ خصوصی ائیروائس مارشل محمد عاصم رانا، ائیر آفیسر کمانڈنگ، سنٹرل ائیر کمانڈ پی اے ایف تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کورس کے شرکاء کی غیر معمولی لگن، پیشہ وارانہ مہارت اور ثابت قدمی کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگی تیاری پاک فضائیہ کے عملی نظریے (Operational Doctrine) کی بنیاد ہے اور یہ کہ حقیقت پسندانہ، لچکدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت، فضائیہ کی فیصلہ کن برتری برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاک فضائیہ کا ایرو سپیس پاور سینٹر آف ایکسیلینس (PAF ACE) حربی مہارت کا گہوارہ ہے جہاں فضائی جنگ کے جدید تصورات کو آزمایا، بہتر بنایا اور عملی نظریات میں ڈھالا جا تا ہے۔ ادارے کے علیٰ پیشہ وارانہ معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کہا کہ PAF ACE کے تمام اسکول بہترین ہم آہنگی کے ساتھ ایسے جنگی قائدین تیار کر رہے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے مختلف میدانوں میں مؤثر طور پر یکجا کر سکتے ہیں۔ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف دی ائیر سٹاف، پاک فضائیہ کی بصیرت افروز قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے مہمانِ خصوصی نے کہا کہ پاک فضائیہ اپنی قیادت کی رہنمائی میں ایک غیر معمولی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ائیر چیف کی جانب سے شروع کی گئی جامع جدید کاری کی مہم نے ایک بے مثال ترقی کے دور کا آغاز کیا ہے،

جو مقامی تیاری، نیٹ ورک پر مبنی آپریشنز، مصنوعی ذہانت کے انضمام اور فضائی، سائبر اور خلائی شعبوں میں مشترکہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے کورس کے گریجویٹس کو ٹرافیز اور اسناد سے نوازا جنہوں نے اس کٹھن کورس کے دوران اپنی شاندار کارکردگی سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ کمبیٹ پائلٹس کے درمیان بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر چیف آف دی ائیر سٹاف ٹرافی ونگ کمانڈر اقراش منیر اعوان نے حاصل کی جبکہ کمبیٹ کنٹرولرز کے درمیان بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ائیر آفیسر کمانڈنگ ائیر ڈیفنس کمانڈ ٹرافی سکواڈرن لیڈر جاوید اقبال نے حاصل کی۔یہ تقریب ایک کٹھن اور بھرپور تربیتی پروگرام کے اختتام کی علامت تھی، جس کا مقصد پاک فضائیہ کے لیے اگلی نسل کے جنگی قائدین کو تیار کرنا ہے۔ تقریب میں سینئیر عسکری افسران، فیلڈ کمانڈرز اور پاک فضائیہ کی مختلف فارمیشنز سے تعلق رکھنے والے انسٹرکٹرز نے شرکت کی، جس سے اس موقع کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی جو پاک فضائیہ کے عملی کیلنڈر کا ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ

27 ویں آئینی ترمیم آج بل پیش کئے جانے کے گونج۔ ریڈ زون کی سیکورٹی بڑھا دی گئی سپریم کورٹ میں دھماکے کے بعد پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں اضافہ۔۔قطر کا افغان امن عمل میں اھم کردار مذاکرات کی راہ ھموار ھوی زرداری۔ سوات میں قاری کی سات سالہ بچے سے زیادتی۔۔غزہ میں 15 فلسطینی مزید شھید۔۔پاکستان کی باولنگ مکمل طور پر ناکام ریلو کٹوں کی شمولیت۔3 فارمیٹ میں کپتان کی جگہ بنتی لکین وہ پاکستان کے کامیاب تجربے کر رھے ھے۔۔کرکٹ کا جنازہ نکال دیا گیا۔۔برطانیہ کے چیف اف جنرل سٹاف کمیٹی کے سربراہ کی ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی معاونت چیف آف جنرل سٹاف کور کمانڈر 10 کور کمانڈر ملٹری انٹیلی جنس کے چیف اور فیلڈمارشل کے چیف اف سٹاف نے بھی شرکت کی۔چین اور روس افغانستان میں مذہب کا لبادہ اوڑھے دہشتگردوں کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔پاکستان کو زومبیز کے خاتمہ پر حوصلہ افزائی کا خصوصی انعام دینے کا وعدہ ۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

🚨 *لاہور میں اتوار کو کمرشل سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم*لاہور ہائیکورٹ نے اتوار کے روز لاہور شہر میں کمرشل سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کردیا۔اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیخلاف درخواستوں پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کی۔عدالتی حکم پر ڈپٹی کمشنر لاہور موسیٰ رضا نے مارکیٹوں کی 10 بجے بندش کا نوٹیفکیشن پیش کیا اور بتایا کہ ریسٹورینٹس کو بھی رات 10 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ مقصد نوٹیفکیشن نکالنا نہیں بلکہ اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے، پابندی لگانے کا مقصد اسموگ کا تدارک کرنا ہے، ماحول میں آلودگی بڑھنے سے اسموگ بڑھ رہی ہے۔ممبر ماحولیاتی کمیشن نے بتایا کہ خیابان فردوسی کے قریب واسا نے کھدائی کر رکھی ہے، کھدائی کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی ہے جبکہ لیگل ایڈوائزر واسا عرفان اکرم نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میں سیوریج سسٹم کو تبدیل کیا جا رہا ہے،

جس پر عدالت نے کہا آپ آئندہ سماعت پر جاری پروجیکٹس کی ٹائم لائن پیش کریں۔لاہور ہائیکورٹ نے اتوار کے روز لاہور میں کمرشل سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شادی ہالوں کی رات 10 بجے پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔عدالت نے ہر سماعت پر محکمہ ماحولیات کے ڈائریکٹر سطح کے افسر کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے عملدرآمد رپورٹس طلب کر لی اور سماعت 7 نومبر تک ملتوی کر دی۔

‏🚨چین نے سرکاری فنڈ سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز میں غیر ملکی اے آئی (مصنوعی ذہانت) چِپس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔🚨امریکی صدر ٹرمپ:ہم امریکہ کو بٹ کوائن کی سپر پاور اور دنیا کا کرپٹو دارالحکومت بنا رہے ہیں۔اگر ہم نے کرپٹو کرنسی کا کام ٹھیک طریقے سے نہ کیا، تو چین یہ کر لے گا۔

صدر آصف علی زرداری دوحہ کے دورے کے بعد وطن واپس روانہ۔صدر مملکت کو دوحہ ایئرپورٹ پر اعلیٰ قطری حکام اور پاکستان کے سفیر نے الوداع کہا۔صدر زرداری نے دورے کے دوران امیرِ قطر، وزیراعظم، وزیرِ دفاع اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔صدر مملکت نے سماجی ترقی کے لئے دوسری عالمی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی اور اجلاس سے خطاب کیا۔دورے میں صدر نے دو طرفہ تعلقات، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔صدر زرداری نے قطر کی میزبانی اور خطے میں امن کے فروغ میں اس کے کردار کو سراہا-

ایوانِ صدر(میڈیا وِنگ)⸻دوحہ، 6 نومبر 2025: پاکستان کی خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے خواتین کے بااختیاری کے لیے ’’پرنسس سبیکہ بنت ابراہیم الخلیفہ گلوبل ایوارڈ‘‘ کی تیسری تقریب میں شرکت کی۔یہ تقریب اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (UN Women) اور مملکتِ بحرین کی سپریم کونسل برائے خواتین کے اشتراک سے قطر نیشنل کنونشن سینٹر میں منعقد ہوئی۔خاتونِ اوّل نے اپنے خطاب میں ایوارڈ کے وژن کو سراہا اور مملکتِ بحرین کی خواتین کے حقوق کے فروغ میں قائدانہ کردار کی تعریف کی۔بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو خواتین کی قیادت پر فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم، ہنر مندی، معاشی شمولیت اور ڈیجیٹل بااختیاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔خاتونِ اوّل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی معاہدوں، بشمول CEDAW، بیجنگ ڈیکلریشن اور 2030 پائیدار ترقیاتی ایجنڈے، پر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔تقریب کے موقع پر خاتونِ اوّل نے بحرین کی سپریم کونسل برائے خواتین کی سیکریٹری جنرل محترمہ لُلوہ الاوعَدھی، اقوامِ متحدہ کے علاقائی ڈائریکٹر برائے عرب ریاستیں جناب معیذ دورید، اور متحدہ عرب امارات کی جنرل ویمنز یونین کی سیکریٹری جنرل محترمہ نُورہ خلیفہ السویدی سے ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں میں علاقائی تعاون کے فروغ،

ادارہ جاتی شراکت داری کے استحکام اور خواتین کی معاشی و سیاسی شمولیت کے مواقع بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔خاتونِ اوّل نے مملکتِ بحرین اور اقوامِ متحدہ کی خواتین کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خواتین کی ترقی و بااختیاری کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا:“دنیا اُس وقت بدلتی ہے جب خواتین اسے بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ہمیں اُن بہادر خواتین کے نقشِ قدم پر چلنا ہے جنہوں نے تاریخ رقم کی، اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کرنا ہے۔”

پاکستان افغانستان کی سرحد پر عارضی جنگ بندی ہوئی۔قطر کے شہر دوحہ میں مُلا صاحبان اس بار پاکستانی سکیورٹی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھے۔ادھر شمالی وزیرستان میں فورسز کے کیمپ سے بارود سے بھری گاڑی خودکش حملے میں ٹکرا دی گئی۔اور پھر سکیورٹی ذرائع کے مطابق رات کو پاک افغان سرحد کے قریب ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی

۔افغانستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے ساتھ میچوں کا شیڈول منسوخ کر دیا۔جنگ بہت بُری شے ہے۔اگر کسی کی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کی معاوضے پر ملنے والی تصاویر تک رسائی ہو تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس جنگ میں سرحد کے ایک طرف چھ ماہ کے بچے کی لاش اُٹھائے شہری ہیں اور دوسری طرف 20 برس کے نوجوان کو سُپردِ خاک کیا جا رہا ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان اور عام افغان شہری اُن ملا صاحبان کو نہیں سمجھا سکتے جنہوں نے اوسامہ، ایل قاعدہ کے لیے پورا ملک تباہ کر دیا تھا اور اب نور ولی محسود کو پناہ میں رکھنے کے لیے پڑوسی سے برسوں کی جنگ پر بضد ہیں۔

نومبر ٢٠٢٥ کو سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کیس) لاہور کے زیر اہتمام “حیاتیاتی خطرات، عالمی معاہدات اور پاکستان کے اختیارات” کے عنوان سے ایک گول میز نشست منعقد ہوئی۔ ایک خود مختار تھنک ٹینک کے طور پر کیس لاہور قومی سلامتی کے مختلف پہلوؤں پر اہلِ دانش اور ماہرین کے لیے علمی مجالس کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ اس نشست میں ماہرین، دانشوروں اور محققین نے شرکت کی۔

نومبر ٢٠٢٥ کو سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کیس) لاہور کے زیر اہتمام “حیاتیاتی خطرات، عالمی معاہدات اور پاکستان کے اختیارات” کے عنوان سے ایک گول میز نشست منعقد ہوئی۔ ایک خود مختار تھنک ٹینک کے طور پر کیس لاہور قومی سلامتی کے مختلف پہلوؤں پر اہلِ دانش اور ماہرین کے لیے علمی مجالس کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ اس نشست میں ماہرین، دانشوروں اور محققین نے شرکت کی۔ افتتاحی کلمات محترمہ ازباء ولایت خان، ریسرچ اسسٹنٹ، کیس لاہور نے پیش کیے۔پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید خورشید، کنسلٹنٹ برائے سائنس کمیونیکیشن و ڈپلومیسی، نے دو نشستوں پر مشتمل خطاب کیا۔ پہلی نشست “حیاتیاتی تحفظ و سلامتی کے موجودہ عالمی معاہدات اور ان کے نفاذ کے چیلنجز” کے عنوان سے تھی۔ انہوں نے ١٩٧٢ کے حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن (بی ڈبلیو سی) کے ارتقا کا جائزہ لیا اور بتایا کہ اس معاہدے میں تصدیقی نظام کی عدم موجودگی سے اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور ریاستیں خلاف ورزی کے خطرے سے دوچار رہتی ہیں۔ انہوں نے جدید حیاتیاتی سائنس کی “دوہری نوعیت” کی جانب توجہ دلائی کہ وہ ایک طرف انسانیت کے لیے مفید ہے مگر دوسری طرف اسی علم کا غلط استعمال حیاتیاتی جنگ یا دہشت گردی کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کووِڈ ١٩ کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ قدرتی وباؤں اور ممکنہ حیاتیاتی حملوں میں فرق کرنا کس قدر دشوار ہے۔دوسری نشست “حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن پر عمل درآمد کے نئے عالمی چیلنجز اور پاکستان کے پالیسی اختیارات” کے عنوان سے تھی۔ ڈاکٹر خورشید نے زور دیا کہ اقوام کو اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے حیاتیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہیے، جس کے لیے تعلیم و تربیت، بیماریوں کے پھیلاؤ کی بروقت شناخت اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے روس یوکرین تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ نے حیاتیاتی ہتھیاروں کے خدشات کو ایک بار پھر عالمی ایجنڈے پر لا کھڑا کیا ہے۔انہوں نے پاکستان کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک نے بی بلیو سی ایکٹ، ایکسپورٹ کنٹرول قوانین اور ٢٠٠٥ کے بایوسیفٹی رولز کے ذریعے عالمی ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے۔ انہوں نے سفارش کی کہ پاکستان کو ویکسین بینک قائم کرنا چاہیے، ضروری ویکسینز کی مقامی تیاری پر توجہ دینی چاہیے، اور آسٹریلیا گروپ و واسنا آرینجمنٹ میں شمولیت کی کوشش کرنی چاہیے۔اپنے اختتامی کلمات میں صدر کیس لاہور، ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی سلامتی کے منظرنامے میں حیاتیاتی خطرات کے مقابلے کے لیے مضبوط قومی و بین الاقوامی ردعمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے اپنے بی ڈبلیو سی تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے مؤثر قانون سازی، ادارہ جاتی نظام اور سائنسی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ملک کو حیاتیاتی سلامتی کے لیے اخلاقی اختراع اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے اپنی لچک کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔یہ نشست ایک متحرک مکالمے پر اختتام پذیر ہوئی جس میں پاکستان کی بی ڈبلیو سی سے وابستگی اور حیاتیاتی تحفظ کے چیلنجز پر روشنی ڈالی گئی۔ شرکاء نے قومی صحت کی سلامتی کے لیے بایوٹیکنالوجی اور دواسازی کے مقامی فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور سی اے ایس ایس لاہور کی جانب سے ایسی علمی و فکری نشست کے انعقاد کو سراہا۔

خفیہ اداروں کے نام استعمال کر کے لوگوں کو بلیک میل کرنے والے اعلیٰ بیوروکریٹس گرفتار! بڑے استعفے، حکومت کی رخصتی کا طبلِ جنگ بج گیا — نظام ہل گیا حکمران دہل گئے! سہیل رانا لائیو میں

Top Bureaucrats Arrested for Blackmailing People Using Intelligence Agencies’ Names — Major Resignations Trigger Political Earthquake as the War Drums of Government’s Fall Begin to Sound

صدر آصف علی زرداری دوحہ کے دورے کے بعد وطن واپس روانہ۔صدر مملکت کو دوحہ ایئرپورٹ پر اعلیٰ قطری حکام اور پاکستان کے سفیر نے الوداع کہا۔صدر زرداری نے دورے کے دوران امیرِ قطر، وزیراعظم، وزیرِ دفاع اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کیں

صدر آصف علی زرداری دوحہ کے دورے کے بعد وطن واپس روانہ۔صدر مملکت کو دوحہ ایئرپورٹ پر اعلیٰ قطری حکام اور پاکستان کے سفیر نے الوداع کہا۔صدر زرداری نے دورے کے دوران امیرِ قطر، وزیراعظم، وزیرِ دفاع اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کیں

۔صدر مملکت نے سماجی ترقی کے لئے دوسری عالمی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی اور اجلاس سے خطاب کیا۔دورے میں صدر نے دو طرفہ تعلقات، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔صدر زرداری نے قطر کی میزبانی اور خطے میں امن کے فروغ میں اس کے کردار کو سراہا-

پنجاب حکومت نے زمینوں اور جائیدادوں کے حقیقی مالکان کے حقوق کے تحفظ اور ناجائز قبضوں کے خاتمے کے لیے ’’پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف ام موویبل (immovable)پراپرٹی آرڈیننس 2025‘‘ نافذ کر دیا ہے۔ نئے قانون کا مقصد زمینوں پر غیر قانونی قبضے، دھوکہ دہی اور زبردستی کی روک تھام اور ملکیتی تنازعات کے فوری حل کو ممکن بنانا ہے۔ آرڈیننس کے تحت کسی بھی غیر منقولہ جائیداد پر بلااجازت یا دھوکہ دہی کے ذریعے قبضہ سنگین جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔

پنجاب حکومت نے زمینوں اور جائیدادوں کے حقیقی مالکان کے حقوق کے تحفظ اور ناجائز قبضوں کے خاتمے کے لیے ’’پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف ام موویبل (immovable)پراپرٹی آرڈیننس 2025‘‘ نافذ کر دیا ہے۔ نئے قانون کا مقصد زمینوں پر غیر قانونی قبضے، دھوکہ دہی اور زبردستی کی روک تھام اور ملکیتی تنازعات کے فوری حل کو ممکن بنانا ہے۔ آرڈیننس کے تحت کسی بھی غیر منقولہ جائیداد پر بلااجازت یا دھوکہ دہی کے ذریعے قبضہ سنگین جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔ معاونت یا سازش کرنے والوں کو ایک سے تین سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ کمپنیوں اور سوسائٹیوں کے سربراہان بھی جوابدہ ہوں گے، جب تک وہ اپنی لاعلمی یا احتیاط ثابت نہ کر سکیں۔ آرڈیننس کے مطابق ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (ڈی آر سی) تشکیل دی جائے گی۔پراپرٹی ٹریبونلز کی سربراہی لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج یا ڈسٹرکٹ جج کریں گے، جنہیں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سفارش پر تین سال کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ ٹریبونل کو ملکیت، قبضہ اور فوجداری نوعیت کے تمام مقدمات سننے کا خصوصی اختیار ہوگا۔

جرنل ساحر شمشاد مرزا (جب کرنل تھے) تو ایک مرتبہ وہ وزیرستان میں ایک اہم فوجی منصوبے کی نگرانی کر رہے تھے، اس دوران ملک دشمنوں نے حملہ کر دیا تو وہ اپنی بندوق اٹھا کر فرنٹ پہ سب سے آگے کھڑے ہو گئے ، سپائیوں نے کہا سر پلیز آپ پیچھے رہ کر آپریشن لیڈ کریں یہ سن کر آپ سپاہیوں کو ڈانٹنے لگے کہ جب ملک پہ حملہ ہو جائے تو کرنل پیچھے نہیں آگے ہوتے ہیں حب الوطنی کی یہ مثال دیکھ کر سپائیوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ایک اور مرتبہ ایک ٹھیکیدار نے ان سے ملاقات کی اور نرمی سے کہا کہ اگر وہ تھوڑا سا “تعاون” کر لیں تو منصوبے کے کچھ حصے میں نفع دونوں کو ہو سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے 27 ویں آئینی ترمیم پر مگر مچھ کے آنسو۔تمام سیاسی جماعتیں تحریک انصاف سمیت 27 ویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کیلئے یک زبان۔ جس رات ستائیسویں ترمیم پاس ہونی ہے، اس رات پیپلزپارٹی نے کہنا ہے ہم نے اٹھارویں ترمیم کو بچا لیا۔پاکستان اور قطر یک زبان صدر زرداری۔۔عمران اسماعیل فواد چوھدری اور اسد عمر کا تحریک انصاف سے کوی تعلق نہیں عمران خان۔شبر زیدی پر 16 ارب روپے کی ایف آئی آر ہوئی کہ آپ نے اپنی وزارت کے دوران اپنی من پسند انڈسٹریز و اداروں کو فنڈز جاری کیے مزے کی بات بتاؤ؟ایئر کموڈور (ر) عبدالسلام نے بنی گالہ کے قریب خودکشی کر لی خود کو سر پر گولی ماری، زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

صدر آصف علی زرداری سے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی کی دوحہ میں ملاقات۔صدر مملکت نے پاکستان اور قطر کے مابین دفاعی اور سلامتی کے تعلقات کو تاریخی اور قابلِ فخر قرار دیا۔صدر آصف علی زرداری نے تربیت، استعداد کار، دفاعی پیداوار اور مشترکہ منصوبوں میں دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور مشترکہ دفاعی پیداوار و منصوبوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افغان تنازعے میں کردار ادا کرنے کا بھی یقین دلایا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی شراکت کو مزید فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہے۔

دوحہ: پاکستان کی خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی قطر فاؤنڈیشن میں محترمہ شیخہ موزا بنت ناصر سے ملاقات۔ملاقات میں تعلیم، صحت، اختراع اور خواتین کے بااختیار ہونے کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال۔خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے شیخہ موزا بنت ناصر کی تعلیم اور انسانی ترقی کے فروغ میں بصیرت افروز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔خاتونِ اوّل نے ایجوکیشن ابوو آل (EAA) کے پاکستان میں 13 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم کی فراہمی میں قابلِ قدر خدمات کی تعریف کی۔خاتونِ اوّل نے پاکستانی جامعات اور قطر فاؤنڈیشن کے درمیان اشتراک بڑھانے کی تجویز پیش کی۔شیخہ موزا بنت ناصر نے پاکستانی طلبہ کی کارکردگی اور تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔خاتونِ اوّل نے شیخہ موزا کے فلسطین کے حق میں مؤقف اور غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔دونوں رہنماؤں نے تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی شمولیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے دوحہ میں ملاقات۔امیرِ قطر نے کہا قطر کو پاکستان اور اس کی کامیابیوں پر فخر ہے۔امیرِ قطر نے پاکستانی کمیونٹی کے کردار کی تعریف کی اور ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔صدرِ مملکت نے امیرِ قطر کو حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔دونوں رہنماؤں نے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔صدرِ مملکت نے قطر کی ترقی اور امیرِ قطر کی بصیرت افروز قیادت کو سراہا۔

امیرِ قطر نے پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کو خوش آئند اور بروقت قرار دیا۔امیرِ قطر نے کہا پاکستان منفرد حیثیت رکھتا ہے جو چین، مغرب اور خلیجی ممالک سے بیک وقت تعلقات رکھتا ہے۔صدرِ مملکت نے دفاع، دفاعی پیداوار، زراعت اور غذائی تحفظ میں تعاون بڑھانے کی تجویز دی۔امیرِ قطر نے تعاون بڑھانے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری رابطوں کی ہدایت دی۔صدر زرداری نے قطر میں دوحہ مذاکرات کی میزبانی اور افغانستان سے متعلق کردار کو سراہا۔امیرِ قطر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور افغانستان موجودہ مسائل حل کرکے حالیہ چیلنجز کو پسِ پشت ڈال دیں گے۔امیرِ قطر نے صدرِ پاکستان کی دعوت قبول کرتے ہوئے آئندہ سال کے اوائل میں پاکستان کے دورے کا اعلان کیا۔ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری اور پاکستانی سفیر بھی موجود تھے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا*اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پارلیمانی وفد کی ملاقات۔**پاکستان ایران کو برادر ہمسایہ اور دوست ملک تصور کرتا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی**اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حمایت کو ایران کبھی نہیں بھول پائے گا، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف**ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان زندہ آباد کے نعرے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے دلوں کی آواز تھی، ایرانی اسپیکر*اسلام آباد (5 نومبر 2025ء): اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلسِ شوریٰ اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے آج پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، علاقائی صورتحال، اور اقتصادی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایرانی اسپیکر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مذہب، ثقافت اور برادرانہ رشتوں کے مضبوط بندھن میں جڑے ہوئے ہیں۔ اسپیکر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم، پارلیمنٹ اور حکومت پاکستان ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایران اور پاکستان باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنا سکتے ہیں اور پارلیمانی سفارتکاری اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے ایران کی عوام اور حکومت کو اسرائیلی حملے کو ناکام بنانے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پاکستانی پارلیمنٹ پہلی پارلیمنٹ تھی جس نے واشگاف انداز میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے “پاکستان زندہ باد” کے نعروں کو برادرانہ محبت کی علامت قرار دیتے ہوئے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے جذبات کو سراہا۔ انہوں نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعلقات میں فروغ انتہائی خوش آئند ہے۔ اسپیکر نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کا قابلِ اعتماد برادر ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں۔

ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہوئے انہیں دلی مسرت ہوئی۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران کی غیر مشروط حمایت پر پاکستانی عوام، پارلیمنٹ اور حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ “مشکل وقت کا ساتھی ہی حقیقی دوست ہوتا ہے”۔ایرانی اسپیکر نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی حقیقی حمایت دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تعاون ایران اور پاکستان کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایران پاکستان کی جانب سے تمام عالمی فورمز پر حمایت پر تہہ دل سے شکرگزار ہے۔ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی وفود کے باہمی تبادلے اعتماد سازی اور دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، ترقی اور عوامی خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ایرانی اسپیکر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور مؤثر کردار کو سراہا۔ ایرانی پارلیمانی وفد کے اراکین نے پاکستان کی پارلیمان کے فعال اور تعمیری کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ملاقات میں ممبر قومی اسمبلی اور کنوینر ایران پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ سید نوید قمر بھی موجود تھے۔

🎓 تحقیقی آرٹیکلتعلیم کا جنازہ — بٹگرام کے جعلی اساتذہ، بند اسکول، اور کھویا ہوا مستقبلتحریر: باقی ملک جان⸻سال 2010-11 ضلع بٹگرام کے تعلیمی نظام کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا۔اسی سال محکمہ تعلیم (ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) بٹگرام نے لاکھوں روپے ایسے اساتذہ کو ادا کیے جو اسکولوں سے غیر حاضر تھے یا ان کی جگہ غیر تربیت یافتہ مقامی افراد پڑھا رہے تھے۔یہ سب کچھ اُس وقت کے سیاسی ماحول میں ہوا جب تحصیل بٹگرام میں جمعیت علمائے اسلام (JUI) کے نمائندے شاہ حسین باچا ایم پی اے کی حکومت تھی، جن کے اثر و رسوخ میں پورا تعلیمی نظام سیاسی رنگ اختیار کر گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق، اساتذہ کی بھرتیاں اور تبادلے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے۔کئی خواتین کو محض سیاسی وفاداری کے انعام کے طور پر بھرتی کیا گیا تاکہ ووٹ بینک مضبوط کیا جا سکے۔یوں تعلیم کا اصل مقصد پسِ منظر میں چلا گیا اور پورا نظام کرپشن، اقربا پروری اور انتظامی کمزوری کا شکار ہو گیا۔

⸻جعلی تدریس کا جال — Annex-D کی کہانیآڈٹ رپورٹ کے مطابق، درجنوں اساتذہ ایسے پائے گئے جو خود اسکولوں میں حاضر نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنی جگہ غیر تربیت یافتہ افراد کو تدریس کے لیے بھیج دیتے تھے۔یہ جعلی تدریس کا ایک منظم طریقہ تھا جس میں اصل استاد گھر پر بیٹھ کر مکمل تنخواہ لیتا رہا اور اس کی جگہ کوئی مقامی شخص تین سے پانچ ہزار روپے ماہانہ کے عوض بچوں کو پڑھاتا رہا۔کل نقصان تقریباً پچپن لاکھ روپے رپورٹ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق، مثال کے طور پر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول اجمیرا میں ایک فلا بی بی نامی ٹیچر غیر حاضر رہی مگر اس کی تنخواہ پوری ملتی رہی۔اسی طرح گورنمنٹ ہائی سکول کُز بانڈہ میں ایک اور فلا بی بی نے اپنی جگہ دوسری خاتون کو بھیج رکھا تھا جو باقاعدہ طور پر غیر تربیت یافتہ تھی۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بٹگرام ٹاؤن میں ایک فلا بی بی نے کئی ماہ تک اسکول حاضری رجسٹر میں جعلی دستخط کروائے،اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول بنہ میں ایک اور فلا بی بی کی جگہ کسی مقامی عورت نے بچوں کو پڑھایا۔یہ تمام خواتین اساتذہ گھر پر بیٹھی رہیں اور حکومتی خزانے سے ان کی تنخواہیں باقاعدگی سے جاری رہیں۔محکمہ تعلیم کی اندرونی نگرانی مکمل طور پر ناکام رہی۔کاغذوں میں سب کچھ درست ظاہر کیا گیا مگر زمینی سطح پر اسکولوں میں نہ اساتذہ تھے نہ تدریس۔یہ سب کچھ انتظامیہ کی آشیر باد اور سیاسی مداخلت کے نتیجے میں ممکن ہوا۔⸻بند اسکولوں کا گھوٹالہ — Annex-E کی تفصیلآڈٹ رپورٹ کے دوسرے حصے میں ان اسکولوں کی فہرست شامل ہے جو عرصہ دراز سے بند تھے مگر ان کے عملے کو تنخواہیں دی جاتی رہیں۔کل نقصان تقریباً ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے بتایا گیا۔رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ پرائمری اسکول سَری بند تھا مگر وہاں کے استاد محمد اسماعیل کو دو لاکھ گیارہ ہزار روپے سے زائد کی ادائیگی ہوئی

۔گورنمنٹ پرائمری اسکول شملائی میں استاد عمر جان کو تنخواہ دی گئی حالانکہ اسکول کئی مہینوں سے غیر فعال تھا۔گورنمنٹ پرائمری اسکول کوٹکئی کے استاد اسلم خان مستقل غیر حاضر رہے،گورنمنٹ پرائمری اسکول میرا کے استاد ہارون رشید کا نام فہرست میں شامل تھا جو کئی ماہ سے اسکول نہیں گئے،جبکہ گورنمنٹ ہائی اسکول تھاکوٹ کے ایک استاد خان محمد 2008 سے غیر حاضر تھے لیکن ان کی تنخواہ بھی باقاعدگی سے نکلتی رہی۔بعض اسکولوں میں چوکیدار اور نائب قاصد بھی بیرون ملک مقیم پائے گئے، جیسے ایک اہلکار سعودی عرب میں تھا مگر اس کی تنخواہ بٹگرام سے جاری ہوتی رہی۔یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بند اسکولوں کو فعال ظاہر کر کے بجٹ کو سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔⸻سیاسی سرپرستی اور سماجی تباہییہ تمام بے ضابطگیاں اس وقت کے سیاسی و مذہبی اتحاد کے زیر سایہ پنپیں۔جمعیت علمائے اسلام کے نمائندوں کی سرپرستی میں خواتین اساتذہ کو گھروں میں بٹھا کر تنخواہیں دی گئیں،جبکہ اصل تدریسی عمل غیر تربیت یافتہ افراد کے سپرد کیا گیا۔یہ صرف مالی کرپشن نہیں بلکہ تعلیم دشمنی کی بدترین مثال تھی۔بٹگرام جیسے پسماندہ ضلع میں تعلیم کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا تاکہ سیاسی اثر برقرار رہے۔اس کے نتیجے میں بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر رہ گئی،اساتذہ کی پوسٹنگ رشوت اور سفارش پر ہونے لگی،اور تعلیمی ادارے عوامی خدمت کے بجائے طاقت کے کھیل کا حصہ بن گئے۔⸻نتیجہیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سیاست تعلیم پر غالب آ جائے تو ادارے محض کاغذی رہ جاتے ہیں۔2010 کے بعد بٹگرام کے تعلیمی ادارے ظاہری طور پر تو موجود تھے، مگر عملی طور پر خالی تھے۔اساتذہ غیر حاضر، اسکول بند، اور طلبہ بے سہارا تھے۔ریاست کے خزانے سے نکلا ہوا وہ پیسہ جو بچوں کے مستقبل کے لیے تھا،جعلی تدریس، غیر حاضر اساتذہ اور بند اسکولوں کی نذر ہو گیا۔یہ واقعہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح علامت ہے۔تعلیم کا نظام کاغذوں میں زندہ رہا ۔

🎓 تحقیقی آرٹیکلتعلیم کا جنازہ — بٹگرام کے جعلی اساتذہ، بند اسکول، اور کھویا ہوا مستقبلتحریر: باقی ملک جان⸻سال 2010-11 ضلع بٹگرام کے تعلیمی نظام کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا۔اسی سال محکمہ تعلیم (ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) بٹگرام نے لاکھوں روپے ایسے اساتذہ کو ادا کیے جو اسکولوں سے غیر حاضر تھے یا ان کی جگہ غیر تربیت یافتہ مقامی افراد پڑھا رہے تھے۔یہ سب کچھ اُس وقت کے سیاسی ماحول میں ہوا جب تحصیل بٹگرام میں جمعیت علمائے اسلام (JUI) کے نمائندے شاہ حسین باچا ایم پی اے کی حکومت تھی، جن کے اثر و رسوخ میں پورا تعلیمی نظام سیاسی رنگ اختیار کر گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق، اساتذہ کی بھرتیاں اور تبادلے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے۔کئی خواتین کو محض سیاسی وفاداری کے انعام کے طور پر بھرتی کیا گیا تاکہ ووٹ بینک مضبوط کیا جا سکے۔یوں تعلیم کا اصل مقصد پسِ منظر میں چلا گیا اور پورا نظام کرپشن، اقربا پروری اور انتظامی کمزوری کا شکار ہو گیا۔

⸻جعلی تدریس کا جال — Annex-D کی کہانیآڈٹ رپورٹ کے مطابق، درجنوں اساتذہ ایسے پائے گئے جو خود اسکولوں میں حاضر نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنی جگہ غیر تربیت یافتہ افراد کو تدریس کے لیے بھیج دیتے تھے۔یہ جعلی تدریس کا ایک منظم طریقہ تھا جس میں اصل استاد گھر پر بیٹھ کر مکمل تنخواہ لیتا رہا اور اس کی جگہ کوئی مقامی شخص تین سے پانچ ہزار روپے ماہانہ کے عوض بچوں کو پڑھاتا رہا۔کل نقصان تقریباً پچپن لاکھ روپے رپورٹ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق، مثال کے طور پر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول اجمیرا میں ایک فلا بی بی نامی ٹیچر غیر حاضر رہی مگر اس کی تنخواہ پوری ملتی رہی۔اسی طرح گورنمنٹ ہائی سکول کُز بانڈہ میں ایک اور فلا بی بی نے اپنی جگہ دوسری خاتون کو بھیج رکھا تھا جو باقاعدہ طور پر غیر تربیت یافتہ تھی۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بٹگرام ٹاؤن میں ایک فلا بی بی نے کئی ماہ تک اسکول حاضری رجسٹر میں جعلی دستخط کروائے،اور گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول بنہ میں ایک اور فلا بی بی کی جگہ کسی مقامی عورت نے بچوں کو پڑھایا۔یہ تمام خواتین اساتذہ گھر پر بیٹھی رہیں اور حکومتی خزانے سے ان کی تنخواہیں باقاعدگی سے جاری رہیں۔محکمہ تعلیم کی اندرونی نگرانی مکمل طور پر ناکام رہی۔کاغذوں میں سب کچھ درست ظاہر کیا گیا مگر زمینی سطح پر اسکولوں میں نہ اساتذہ تھے نہ تدریس

۔یہ سب کچھ انتظامیہ کی آشیر باد اور سیاسی مداخلت کے نتیجے میں ممکن ہوا۔⸻بند اسکولوں کا گھوٹالہ — Annex-E کی تفصیلآڈٹ رپورٹ کے دوسرے حصے میں ان اسکولوں کی فہرست شامل ہے جو عرصہ دراز سے بند تھے مگر ان کے عملے کو تنخواہیں دی جاتی رہیں۔کل نقصان تقریباً ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے بتایا گیا۔رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ پرائمری اسکول سَری بند تھا مگر وہاں کے استاد محمد اسماعیل کو دو لاکھ گیارہ ہزار روپے سے زائد کی ادائیگی ہوئی۔گورنمنٹ پرائمری اسکول شملائی میں استاد عمر جان کو تنخواہ دی گئی حالانکہ اسکول کئی مہینوں سے غیر فعال تھا۔گورنمنٹ پرائمری اسکول کوٹکئی کے استاد اسلم خان مستقل غیر حاضر رہے،گورنمنٹ پرائمری اسکول میرا کے استاد ہارون رشید کا نام فہرست میں شامل تھا جو کئی ماہ سے اسکول نہیں گئے،جبکہ گورنمنٹ ہائی اسکول تھاکوٹ کے ایک استاد خان محمد 2008 سے غیر حاضر تھے لیکن ان کی تنخواہ بھی باقاعدگی سے نکلتی رہی۔بعض اسکولوں میں چوکیدار اور نائب قاصد بھی بیرون ملک مقیم پائے گئے، جیسے ایک اہلکار سعودی عرب میں تھا مگر اس کی تنخواہ بٹگرام سے جاری ہوتی رہی۔یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بند اسکولوں کو فعال ظاہر کر کے بجٹ کو سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔⸻سیاسی سرپرستی اور سماجی تباہییہ تمام بے ضابطگیاں اس وقت کے سیاسی و مذہبی اتحاد کے زیر سایہ پنپیں۔جمعیت علمائے اسلام کے نمائندوں کی سرپرستی میں خواتین اساتذہ کو گھروں میں بٹھا کر تنخواہیں دی گئیں،جبکہ اصل تدریسی عمل غیر تربیت یافتہ افراد کے سپرد کیا گیا۔یہ صرف مالی کرپشن نہیں بلکہ تعلیم دشمنی کی بدترین مثال تھی۔بٹگرام جیسے پسماندہ ضلع میں تعلیم کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا تاکہ سیاسی اثر برقرار رہے۔اس کے نتیجے میں بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر رہ گئی،اساتذہ کی پوسٹنگ رشوت اور سفارش پر ہونے لگی،اور تعلیمی ادارے عوامی خدمت کے بجائے طاقت کے کھیل کا حصہ بن گئے۔⸻نتیجہیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سیاست تعلیم پر غالب آ جائے تو ادارے محض کاغذی رہ جاتے ہیں۔2010 کے بعد بٹگرام کے تعلیمی ادارے ظاہری طور پر تو موجود تھے، مگر عملی طور پر خالی تھے۔اساتذہ غیر حاضر، اسکول بند، اور طلبہ بے سہارا تھے۔ریاست کے خزانے سے نکلا ہوا وہ پیسہ جو بچوں کے مستقبل کے لیے تھا،جعلی تدریس، غیر حاضر اساتذہ اور بند اسکولوں کی نذر ہو گیا۔یہ واقعہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح علامت ہے۔تعلیم کا نظام کاغذوں میں زندہ رہا ۔

جس رات ستائیسویں ترمیم پاس ہونی ہے، اس رات پیپلزپارٹی نے کہنا ہے ہم نے اٹھارویں ترمیم کو بچا لیا ہے، ہم نے اٹھارویں ترمیم پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا، لیکن باقی ترامیم ہم نے روتی آنکھوں اور رستے کانوں سے منظور کیں، مصطفی نواز کھوکھر۔۔شیخ رشید کو بیرون ملک روانگی سے روک دیا گیا۔ وہ عمرے پر جانے کیلئے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عدالت نے انھیں عمرے پر جانے کے لیے خصوصی اجازت دی تھی۔۔۔عمران اسماعیل فواد چوھدری اور اسد عمر کا تحریک انصاف سے کوی تعلق نہیں عمران خان۔ڈیزل اور پٹرول کی نٸی قیمت طے کی جاے جارھی آج بارہ بجے کےبعد نٸی قیمتوں اعلان کیا جاے گا۔۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

صدر آصف علی زرداری سے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی کی دوحہ میں ملاقات۔صدر مملکت نے پاکستان اور قطر کے مابین دفاعی اور سلامتی کے تعلقات کو تاریخی اور قابلِ فخر قرار دیا۔صدر آصف علی زرداری نے تربیت، استعداد کار، دفاعی پیداوار اور مشترکہ منصوبوں میں دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور مشترکہ دفاعی پیداوار و منصوبوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افغان تنازعے میں کردار ادا کرنے کا بھی یقین دلایا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی شراکت کو مزید فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہے۔———

صدر آصف علی زرداری سے قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی کی دوحہ میں ملاقات۔صدر مملکت نے پاکستان اور قطر کے مابین دفاعی اور سلامتی کے تعلقات کو تاریخی اور قابلِ فخر قرار دیا۔صدر آصف علی زرداری نے تربیت، استعداد کار، دفاعی پیداوار اور مشترکہ منصوبوں میں دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور مشترکہ دفاعی پیداوار و منصوبوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔قطری وزیرِ دفاع نے افغان تنازعے میں کردار ادا کرنے کا بھی یقین دلایا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی شراکت کو مزید فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہے۔———

دوحہ: پاکستان کی خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی قطر فاؤنڈیشن میں محترمہ شیخہ موزا بنت ناصر سے ملاقات۔ملاقات میں تعلیم، صحت، اختراع اور خواتین کے بااختیار ہونے کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال۔خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے شیخہ موزا بنت ناصر کی تعلیم اور انسانی ترقی کے فروغ میں بصیرت افروز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔خاتونِ اوّل نے ایجوکیشن ابوو آل (EAA) کے پاکستان میں 13 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم کی فراہمی میں قابلِ قدر خدمات کی تعریف کی۔خاتونِ اوّل نے پاکستانی جامعات اور قطر فاؤنڈیشن کے درمیان اشتراک بڑھانے کی تجویز پیش کی۔شیخہ موزا بنت ناصر نے پاکستانی طلبہ کی کارکردگی اور تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔خاتونِ اوّل نے شیخہ موزا کے فلسطین کے حق میں مؤقف اور غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔دونوں رہنماؤں نے تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی شمولیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔