ٹاپ بریکنگ بھارتی سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں نے نئی دہلی دھماکے کو انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا، بی جے پی حکومت پر انگلیاں اٹھنے لگیںبھارتی صحافی شالنی شکلہ نے کہا: “ہر بار جب بی جے پی بحران میں آتی ہے، دہشتگردی یا بلاسٹ کا نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، فوراً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے”کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ پردیوت بوردولوی کا انکشاف: “یہ سب بہار انتخابات سے پہلے کا ایک متوقع سیاسی اقدام تھا”صحافی روی نیر نے لکھا: “بہار الیکشن کے دوران بی جے پی کمزور پوزیشن پر ہے، مزید ایسے دھماکوں کی توقع ہے”بھارتی شہری سوال اٹھانے لگے: “ہر انتخاب سے پہلے بم دھماکے کیوں ہوتے ہیں؟ آخر فائدہ کس کو ہوتا ہے؟”سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے بی جے پی پر سیاسی مفاد کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کے الزامات لگا دیےبھارتی صحافی رویندر کپور اور سربھی ایم نے تمام بڑے دہشت گرد حملوں کو ’’بی جے پی حکومت‘‘ سے جوڑا، پٹھان کوٹ، پلوامہ، پہلگام اور اب لال قلعہ دھماکہسابق آر ایس ایس رہنما یشونت شنڈے کے عدالتی حلفیہ بیان کا حوالہ دوبارہ زیرِ بحث “سنگھ پریوار نے انتخابی فائدے کے لیے بم دھماکے کروائے”بھارتی اخبار Coastal Digest نے بھی تصدیق کی تھی کہ “سنگھ پریوار ملک بھر میں دھماکے کروا کر بی جے پی کو فائدہ پہنچاتا رہا ہے”بھارتی صحافی کلکی نے کہا: “بی جے پی حکومت نے دہلی میں اپنے ہی شہریوں پر بم گرائے تاکہ احتجاج روکے جائیں۔ یہ دہشتگردی ہے”عوامی ردِعمل میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ امت شاہ کے وزیرِ داخلہ بننے کے بعد ہر بڑا حملہ بی جے پی حکومت کے دور میں ہی کیوں ہوتا ہے؟تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لال قلعہ دھماکے کے فوراً بعد پاکستان کو ملوث ٹھہرانا بی جے پی کا پرانا حربہ ہے۔ مقصد صرف انتخابی ہمدردی حاصل کرنا ہےبھارتی عوام کا نیا بیانیہ اب سامنے آ گیا: ’’یہ دھماکے پاکستان نہیں، سیاست کی فیکٹریاں کروا رہی ہیں‘‘
*بھارت میں فالس فلیگ کی پرانی چال ، سفاک مودی سرکار کا نیا ڈرامہ پھر ناکام*نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب میٹرو اسٹیشن پر دھماکہ کے بعد بھارتی میڈیا نے سنجیدہ سوالات اٹھا دئیے*بھارتی جریدہ دی ٹریبیون انڈیا کے مطابق؛*بھارت کے تاریخی لال قلعہ کے قریب دھماکہ نے تفتیشی اداروں کو سخت الجھن میں ڈال دیا ہے جائے وقوعہ پر نہ کوئی اسپلنٹر ملا، نہ زمین پھٹی اور نہ ہی کسی دھماکہ خیز مواد( RDX ) کے شواہد ملے ، *دی ٹریبیون انڈیا* کسی دھماکہ خیز مواد کے ٹکڑے،بارود ی بو اوربارودی دھوئیں کے کوئی آثار نہیں ملے ، *دی ٹریبیون انڈیا**دی ٹریبیون انڈیا کے مطابق بھارتی پولیس نے خود کش امکانات کو مسترد کر دیا* ایک اعلیٰ بھارتی پولیس افسر کے مطابق، ابتدائی شواہد اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں کہ یہ کوئی خودکش حملہ تھا ، *دی ٹریبیون انڈیا*دہلی پولیس نے اس واقعہ کو مقبوضہ کشمیر اور فرید آباد میں برآمد اسلحہ سے جوڑنے سے گریز کیا ہے ، *دی ٹریبیون انڈیا**سفاک مودی کی فالس فلیگ اور پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم مکمل طور پر ناکام ہو* چکی ہے
*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہنگامہ، 31 افراد ہلاک*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہونے والے ہنگاموں میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایکواڈورکی مچالا جیل میں صبح کے وقت ہنگامے ہوئے جس میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا جب کہ اس دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگاموں کے بعد مچالا جیل سے 27 افراد کی لاشیں ملیں جن کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حکام جیل میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی موت کی وجوہات کے بارے میں مزید پتا لگایا جائے۔
*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہنگامہ، 31 افراد ہلاک*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہونے والے ہنگاموں میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایکواڈورکی مچالا جیل میں صبح کے وقت ہنگامے ہوئے جس میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا جب کہ اس دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگاموں کے بعد مچالا جیل سے 27 افراد کی لاشیں ملیں جن کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حکام جیل میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی موت کی وجوہات کے بارے میں مزید پتا لگایا جائے۔
*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہنگامہ، 31 افراد ہلاک*جنوبی امریکی ملک ایکواڈورکی جیل میں ہونے والے ہنگاموں میں 31 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایکواڈورکی مچالا جیل میں صبح کے وقت ہنگامے ہوئے جس میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا جب کہ اس دوران 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہنگاموں کے بعد مچالا جیل سے 27 افراد کی لاشیں ملیں جن کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق حکام جیل میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی موت کی وجوہات کے بارے میں مزید پتا لگایا جائے۔
سوڈان کے وسطی علاقوں میں تازہ جھڑپوں کے باعث گزشتہ تین دنوں میں تقریباً دو ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی (IOM) کے مطابق یہ لوگ صوبہ شمالی کردفان کے علاقے بارا اور اس کے گردونواح کے قصبوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔کردفان اور مغربی دارفور حالیہ ہفتوں میں سوڈان کی خانہ جنگی کے اہم محاذ بن چکے ہیں، جہاں سرکاری فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔دارفور میں آر ایس ایف کے حملوں کے نتیجے میں الفاشر شہر پر قبضے کے بعد سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں۔ امدادی اداروں کے مطابق شہریوں کے خلاف مبینہ مظالم کے باعث لوگ تنگ کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔یہ خانہ جنگی 2023 میں اُس وقت شروع ہوئی جب فوج اور ریپڈ سپورٹ فورس کے درمیان جمہوری انتقالِ اقتدار کے عمل پر اختلافات پیدا ہوئے۔ ماضی میں یہ دونوں فورسز اتحادی تھیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس خانہ جنگی میں اب تک کم از کم 40,000 افراد ہلاک اور ایک کروڑ 20 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں، لیکن امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ججوں کو نکیل ۔ اظہر سیدنظریہ ضرورت کی تلوار سے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب کو جواز دینے،بھٹو کو پھانسی دینے،جنرل مشرف کو آئین کی تین سال تک عصمت دری کی اجازت دینے ۔ منتخب وزیراعظم کو بلیک لا ڈکشنری کی تلوار سے قتل کرنے والی عدلیہ اور غلیظ ججوں پر کچھ لوگوں کو بہت پیار آیا ہوا ہے ۔ یہ لوگ آئین اور قانون کی پٹاری کھولے بیٹھے ہیں ۔27 ویں آئینی ترامیم پر بال کھولے بین ڈال رہے ہیں۔چند لفظوں میں کہیں تو یہی اختصاریہ ہے گندی غلیظ عدلیہ گندے غلیظ جج ۔ہمیشہ فوج کی بندوق سے جمہوریت کا شکار کرتے آئے ہیں۔انکے منہ کو خون لگ گیا ہے۔مالکوں کے دلال بن کر از خود نوٹس کی تلوار سے منتخب حکومتوں کو مفلوج کرتے آئے ہیں۔حکم امتناعی کی آر میں ریاستی انتظام برباد کرنے کے عادی ہیں۔مالکوں نے نوسر باز کے بدترین تجربہ یا بلنڈر کے بعد اپنی غلطیاں سدھارنے کا فیصلہ کیا ہے۔تحریک لبیک پر پابندی سے خوارج کو دیکھتے ہی گولیوں سے بھون دینے تک سب کچھ ٹھیک کیا جا رہا ہے۔ایف آئی اے کے بدعنوان افسران پر گرفت سے لے کر نوسر باز گنڈوئے پر نمک ڈالنے تک سب کچھ ملک کے مفاد میں ہو رہا ہے ۔نئی آئینی ترامیم بھی عدلیہ میں اصلاحات کا عمل ہے اور واضح اشارہ ہے مالکان نے ججوں کو پالتوبنا کر ریاست پر گرفت قائم کرنے کی پالیسی ترک کر دی ہے ۔مالکوں نے گویا فیصلہ کر لیا ہے اب انہیں استمال نہیں کرنا اس لئے از خود نوٹس کا اختیار ختم کیا جا رہا ہے ۔ججوں کو حکومتی معاملات سے دور رکھنے کیلئے الگ سے آئینی عدالت قائم کی جا رہی ہے ۔دنیا بھر میں ریاستوں کا انتظام حکومتیں چلاتی ہیں ۔پاکستان واحد بدقسمت ریاست ہے جہاں غلیظ دلال جج حکومتوں کو مفلوج کر دیتے تھے ۔ہمیں آئینی ترامیم کے متعلق حسن ظن ہے ۔اس وقت ججوں کی مداخلت سے پاک حکومت کی اشد ضرورت ہے تاکہ بنیادی نوعیت کے فیصلے کئے جا سکیں ۔دنیا بہت تیزی کےساتھ تبدیل ہو رہی ہے ۔اس تیزی سے بدلتی دنیا میں حرامدے ججوں کی ضرورت نہیں ایسے ججوں کی ضرورت ہے جو صرف سول اور فوجداری مقدمات نمٹائیں اور بس ۔
این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل میں ہوشربا انکشافات: راولپنڈی اور اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹر مافیا بے نقابرانا تصدق حسیناسلام آباد – این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل کے حوالے سے حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں قائم غیر قانونی کال سینٹرز کے ذریعے بھتہ خوری اور بدعنوانی کا ایک منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے 15 کال سینٹرز سے ماہانہ 15 ملین روپے وصول کیے جاتے تھے۔ یہ رقوم ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر کی نگرانی میں ان کی ٹیم حسن امیر نامی فرنٹ مین کے ذریعے اکٹھی کرتی تھی۔ستمبر 2024 سے اپریل 2025 تک اس نیٹ ورک نے 120 ملین روپے جمع کیے۔ سب انسپکٹر بلال نے ایک نئے کال سینٹر کے لیے آٹھ لاکھ روپے ماہانہ کا معاہدہ طے کیا، جبکہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف-الیون میں کال سینٹر پر چھاپہ مارا گیا لیکن بعد ازاں ڈیل کے ذریعے معاملہ نمٹا دیا گیا۔ذرائع کے مطابق ایس ایچ او میاں عرفان نے یہ ڈیل 40 ملین روپے میں فائنل کی۔ بعد ازاں مئی 2025 میں عامر نذیر کو راولپنڈی آفس کی کمانڈ دے دی گئی، جبکہ ندیم خان بطور ڈپٹی ڈائریکٹر اور صارم علی بطور سب انسپکٹر تعینات ہوئے۔ کچھ ہی عرصہ بعد ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان علوی بھی اس ٹیم میں شامل ہوگئے۔نئی ٹیم نے بھی ماہانہ 15 ملین روپے بھتہ وصول کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ صارم علی نے اپنے فرنٹ مین کے طور پر محی الدین کو مقرر کیا۔ایک چھاپے کے دوران راولپنڈی کے ایک کال سینٹر سے 14 چینی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ صارم نے اپنے فرنٹ مین کے ذریعے چینی شہری کیلون کی اہلیہ پاکستانی خاتون عریبہ رباب سے رابطہ کیا۔عریبہ نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے 8 ملین روپے ادا کیے، جبکہ باقی 13 چینی شہریوں کی رہائی کے لیے مزید 12 ملین روپے وصول کیے گئے۔ حیران کن طور پر، صارم نے کیلون پر تشدد کیا اور ویڈیو عریبہ کو بھیج دی، جس کے بعد مزید 1 ملین روپے قانونی کارروائی کے نام پر وصول کیے گئے۔اس چھاپے سے حاصل 21 ملین روپے یوں تقسیم کیے گئے:صارم علی – 1.7 ملین روپےعثمان بشارت – 1.4 ملین روپےظہیر عباس – 1.0 ملین روپےڈپٹی ڈائریکٹر ندیم – 9.5 ملین روپے (عثمان بشارت کے دفتر سے)ایڈیشنل ڈائریکٹر عامر نذیر – 7.0 ملین روپے (ندیم کے ذریعے ادا کیے گئے)ندیم نے 2.7 ملین روپے خود رکھے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق تمام ملوث افسران کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔یہ اسکینڈل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک زبردست دھچکہ اور ندامت کا باعث بن گیا ہے، جو نظام احتساب پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
قہوہ خانوں کی تہذیب اور ان کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملنے والے کہیں پہ رک گئے ہیں قہوہ خانوں کا سفر جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمودرضاسیداگر ہم زندگی کے سفر کو پیچھے مر کر دیکھیں تو گاؤں کی راہوں، پکڈنڈیوں، اور دیہاتی بازاروں میں چھوٹے چھوٹے پھٹے لگے ہوتے تھے جہاں لکڑی کی بینچیں رکھی ہوتیں۔ ان بینچوں پر گاؤں کے بزرگ بیٹھ کر چائے اور قہوہ نوش فرماتے، اپنے مسائل پر گفتگو کرتے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے۔ یہ کہوہ خانے صرف چائے پینے کی جگہ نہ تھے بلکہ فکرو دانش کے مراکز ہوا کرتے تھے۔وقت گزرتا گیا تو شہروں میں بھی یہی روایت پروان چڑھی۔ اگر لاہور کا جائزہ لیں تو قیامِ پاکستان سے پہلے ہی یہاں پاک ٹی ہاؤس ادب و فنون کا مرکز بن چکا تھا۔ آج بھی وہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے۔ وہاں بڑے بڑے ادیب، شاعر، نقاد اور محقق چائے کے کپ پر بیٹھ کر دیر تک گفتگو کرتے۔ ان میں فیض احمد فیض، ناصر کاظمی، انتظار حسین، انیس ناگی، یونس جاوید، ڈاکٹر سہیل احمد خان، اسرار زیدی، سعادت حسن منٹو، اعتبار ساجد، اقبال ساجد اور دیگر بڑے نام شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جس نے لاہور آ کر پاک ٹی ہاؤس کی چائے نہ پی، اُس نے لاہور دیکھا ہی نہیں۔شام ڈھلتے ہی یہاں کی محفلیں رنگ پکڑتیں، چائے کے کپوں کے ساتھ مکالمے اور تخلیقی گفتگو کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا۔ پاک ٹی ہاؤس کے ایک مخصوص گوشے میں سید اسرار زیدی کی نشست ہوا کرتی تھی، جہاں کوئی دوسرا بیٹھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ دروازے کے ساتھ ڈاکٹر سہیل احمد خان، انتظار حسین، یونس جاوید اور دیگر شخصیات کا مخصوص حلقہ ہوتا۔میں خود انیس سو چوراسی پچاسی کے زمانے میں جب شاعری کی دنیا میں نیا نیا قدم رکھا، پاک ٹی ہاؤس جانا اپنے لیے فخر سمجھتا تھا۔ اسی دور میں میری ملاقات عباس تابش اور بہت سے ادیبوں سے ہوئی۔ اس زمانے میں حلقہ اربابِ ذوق لاہور کے اجلاس پاک ٹی ہاؤس میں ہوتے تھے
۔ ان کے سیکریٹری رشید مصباح اور جوائنٹ سیکریٹری اظہر غوری ہوا کرتے تھے۔ میری ایک نظم کی صدارت جیلانی کامران نے اور ایک غزل کی صدارت ڈاکٹر انور سدید نے فرمائی۔ریڈیو پاکستان لاہور کی کینٹین کا ذکر کیے بغیر قہوہ خانوں کی روایت مکمل نہیں ہوتی۔ یہ کینٹین قیامِ پاکستان سے پہلے آل انڈیا ریڈیو لاہور کے زمانے سے آباد تھی۔ یہاں شاعر، موسیقار، فنکار، سرنگی نواز اور پروڈیوسر بیٹھ کر چائے پیتے، محفلیں سجاتے اور پروگراموں کے لیے لائحہ عمل طے کرتے۔ ان میں احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر ریاض مجید، ناصر کاظمی، ڈاکٹر وزیر آغا، احمد فراز، نجیب احمد، خالد احمد، مہدی حسن، نور جہاں، ترنم ناز اور دیگر بڑے نام شامل تھے۔اسی طرح لاہور کی پرانی انارکلی ساری ساری رات جاگتی۔ جب پاک ٹی ہاؤس بند ہوتا، تو شاعر، ادیب اور دانشور پرانی انارکلی کا رخ کرتے۔ یہاں چائے کے کپوں کے ساتھ بڑی بڑی گفتگو ہوتی، ادب و سیاست کے موضوعات زیر بحث آتے۔ آج بھی یہ روایت برقرار ہے، اور شاعر واجد امیر ہر رات ایک محفل سجاتے ہیں جہاں نوجوان شعرا بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔اب اگر لائلپور (فیصل آباد) کی بات کریں تو یہاں بھی پرانے وقتوں سے قہوہ خانوں کی ایک دلکش روایت موجود ہے۔ چنیوٹ بازار فیصل آباد کی روح سمجھا جاتا ہے، جو ساری رات جاگتا ہے۔ یہاں سٹیج ڈراما آرٹسٹ، گونگے، بہرے، شاعر اور فنکار اکٹھے ہوتے۔ گونگے اشاروں سے گفتگو کرتے، شاعر اپنی غزلیں سناتے اور رات گئے تک قہوہ خانے جگمگاتے رہتے۔یہی بازار سردار کمال، ناصر چنیوٹی، نسیم وکی جیسے فنکاروں اور ڈاکٹر ریاض مجید، انور محمود خالد، ڈاکٹر سید احسن زیدی، ڈاکٹر شبیر احمد قادری، حمید شاکر، ڈاکٹر محمود رضا سید، خواجہ زہدی، حاتم بھٹی، علی اختر، ثنا اللہ ظہیر، عارف عسکری، انجم سلیمی، علی زریون، عماد اظہر، ڈاکٹر شاہد اشرف، فضل حسین راہی جیسے ادیبوں کا مرکز بنا رہا۔اسی بازار میں ایک زمانے میں محفل ہوٹل ادبی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا جہاں افتخار فیروز، اقبال فیروز نے کئی سال محفلیں سجائیں۔ حلقہ اربابِ ذوق لائلپور کے اجلاس بھی یہاں منعقد ہوتے تھے۔ اسی طرح ایک اور معروف مقام تھری اسٹار ہوٹل تھا، جو شاعر، ادیب اور سیاست دان فضل حسین راہی کا دوسرا گھر کہلاتا تھا۔ وہ سفید مائل شلوار قمیص میں صبح سویرے یہاں آتے، عوامی خدمت اور دوستانہ محفلوں کے ساتھ چائے نوش فرماتے، اور اکثر رات گئے تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا۔جنگ بازار میں دو قہوہ خانے خاص طور پر مشہور تھے — کیفے دیوان اور کیفے لطیف۔ یہاں شاعر، فنکار اور ادیب دن بھر بیٹھتے، محفلیں جمتی رہتیں۔ کیفے لطیف کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں پرانے ٹیپ ریکارڈر پر گاہکوں کی فرمایش پر غزلیں اور نغمے سنائے جاتے، اور چائے کے ساتھ موسیقی کا لطف دوبالا ہو جاتا۔کچہری بازار میں جھنڈے دا ہوٹل (کشمیری ہوٹل) اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا تھا۔ یہ پہلے جاوید ہوٹل کے قریب واقع تھا اور بعد میں کچہری کے سامنے منتقل ہو گیا۔ یہاں بڑے بڑے ادیب اور شاعر — آس لدھیانوی، حزیں لدھیانوی، فضل حسین راہی، مسعود قمر، سید جیلانی، بابر شاہین، ڈاکٹر ریاض مجید، انور محمود خالد، ڈاکٹر محمود رضا سید، ڈاکٹر شاہد اشرف، راشد اقبال، مقصود وفا، فیضی،ناصر مجید، ڈاکٹر وحید احمد، جاوید انور — سب قہوہ نوش فرماتے اور فکری تبادلہ خیال کرتے۔ آج بھی یہ روایت جاری ہے۔لائلپور کی تہذیب اور ثقافت کے فروغ میں یہاں کی یونیورسٹیوں کا بھی بڑا کردار ہے۔ ایگری کلچر یونیورسٹی فیصل آباد، جی سی یونیورسٹی، ایجوکیشن یونیورسٹی، این ایف سی یونیورسٹی اور دیگر اداروں نے مختلف علاقوں سے آنے والے طلبہ کو موقع دیا کہ وہ آپس میں مل بیٹھیں۔ ان طلبہ نے قہوہ خانوں کی روایت کو نئی روح بخشی۔ یونیورسٹیوں کے اطراف چھوٹے چھوٹے کیفے کھل گئے جہاں طلبہ رات گئے تک محفلیں جماتے، چائے نوش فرماتے اور مکالمے کو فروغ دیتے۔ان مکالموں کی بدولت زبان و بیان کے نئے رنگ پیدا ہوئے۔ جھنگ، بھکر اور دیگر مضافاتی علاقوں سے آنے والے طلبہ نے فیصل آباد کی زبان اور لہجے میں ایک خوبصورت تنوع پیدا کیا۔ یوں قہوہ خانے صرف ادبی مراکز ہی نہیں رہے بلکہ ثقافتی میل جول اور لسانی تبادلوں کے پلیٹ فارم بن گئے۔اب لائلپور کے نئے قہوہ خانوں میں لائلپور ٹی ہاؤس، ندیم کیفے، وقاص کیفے، چائے شائے، کوئٹہ کیفے، چاشنی، چائے خانہ جیسے مقامات نمایاں ہیں۔ یہاں پیش کی جانے والی سیپرٹ چائے اپنے انداز میں منفرد ہے، جس میں سیٹ، ہاف سیٹ، اور کوارٹر سیٹ کے ذریعے چائے نوشی کا لطف دوبالا کیا جاتا ہے۔ یہ کیفے جدید دور کے فکری اڈے ہیں جہاں چائے کے ہر گھونٹ کے ساتھ مکالمہ بھی جاری رہتا ہے۔یوں لاہور اور لائلپور کی قہوہ خانہ تہذیب آج بھی زندہ ہے۔ پاک ٹی ہاؤس سے لے کر جھنڈے دا ہوٹل تک، اور پرانی انارکلی سے چنیوٹ بازار تک، ہر جگہ قہوہ خانے محض چائے پینے کی جگہ نہیں، بلکہ مکالمے، محبت، فکر اور تخلیق کے چراغ ہیں —جو نسل در نسل ادب و تہذیب کے سفر کو روشنی بخشتے چلے آ رہے ہیں۔
🚨 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کو ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے زیادہ تر شہریوں کو کم از کم 2 ہزار ڈالر بطور ڈیویڈنڈ ادا کیے جائیں گے۔صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکیوں کو ڈیویڈنڈ ادا کرنے کا اعلان کیا تاہم یہ واضح کردیا کہ زیادہ آمدن والے امریکی اس سے محروم رہیں گے۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم کھربوں ڈالر حاصل کر رہے ہیں اور بہت جلد اپنے 37 کھرب ڈالر کے بھاری قرضے کی ادائیگی شروع کریں گے۔ ہر شخص کو (زیادہ آمدنی والے افراد کے علاوہ) کم از کم 2 ہزار ڈالر ادا کیے جائیں گے‘۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ….!!!!وزیر اعظم کا حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کا خیر مقدم اور 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل میں ان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا…..!!!!صدر مملکت آصف علی زرداری کے اور تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے مشکور ہیں. وزیرِ اعظم….!!!!تمام اتحادی جماعتوں نے اس قومی سوچ کا بھرپور ساتھ دیا. وزیر اعظم….!!!!وفاق کی مضبوطی، ملک کے وسیع مفاد، صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور گورننس کو بہتر کرنے کے لئے 27ویں آئینی ترمیم کیلئے ہم سب نے مل کر کوشش کی، وزیراعظم ….!!!!اس حکومت کے دوران حاصل کیے گئے تمام سنگ میل حکومت اور اتحادی جماعتوں کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہیں، وزیراعظم….!!!! پاکستان کی سفارتی کامیابیاں اور دنیا میں نام تمام اتحادی جماعتوں کے مابین ہم آہنگی اور باہمی اتحاد کی عکاس ہے، وزیراعظم ….!!!!ہم سب کی مشترکہ کوششوں کی بدولت پاکستان کو شاندار مقام حاصل ہوا ہے. وزیر اعظم….!!!!ملکی معاشی صورتحال میں بتدریج بہتری ہو رہی ہے، وزیراعظم….!!!!اللہ کے فضل و کرم سے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کی بدولت ملک کی سمت درست ہوئی. وزیرِ اعظم….!!!!
تیسری عالمی جنگ کے قریب آنے کی سب سے بڑی علامت سونے کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے ۔سرمایہ حصص بازار کا ہو یا گولڈ مارکیٹ کا سب سے پہلے مستقبل دیکھ لیتا ہے ۔یہاں ریاستیں بھی سونے کے ذخائر جمع کر رہی ہیں نجی سرمایہ کار بھی ۔عالمی جنگ مقامی کرنسیوں کی قدر کھا جاتی ہے لیکن سونا اپنی قدر ہمیشہ برقرار رکھتا ہے ۔معلوم دنیا کی یہی تاریخ ہے ۔پرانے زمانے کی عظیم سلطنتوں کے خزانے بھی سونے کے ذخائر ہوتے تھے ۔جدید دور کی سلطنتیں امریکہ ،چین،مغربی ممالک ،سارے سونا خرید رہے ہیں۔سونا اسمگل ہونا بھی شروع ہو گیا ہے ۔اس کی طلب بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔عالمی سطح پر جاری کساد بازاری کی وجہ سے عام لوگ جو سونا فروخت کرتے ہیں ستر فیصد حصہ بسکٹ کی شکل میں ڈھل کر ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے شیطانی چکر میں غائب ہو جاتا ہے ۔یہ سلسلہ عالمی جنگ کے ساتھ بند ہو گا ۔یہی دنیا کی تاریخ ہے۔
سی ڈی اے کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ — 107 افسران برطرف، رندھاوا کی کرپشن کے خلاف کڑی کارروائی، ترقیاتی منصوبوں میں تیزی کا حکم — لیکن قدیم ترین سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی نے سوالات کھڑے کر دیےرانا تصدق حسیناسلام آباد – کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین محمد علی رندھاوا نے انجینئرنگ ونگ کو ہدایت دی ہے کہ سیکٹر C-14 میں تمام ترقیاتی کام آئندہ ماہ کے آخر تک جبکہ سیکٹر I-12 کے منصوبے تین ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔ ان ہدایات سے واضح ہوتا ہے کہ چیئرمین نے زیرِ التواء منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے ایک جارحانہ انتظامی مہم شروع کر دی ہے۔اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین رندھاوا نے انجینئرنگ اور لینڈ ونگ کے افسران پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کارکردگی میں ناکامی پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اتھارٹی نے دو خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں — ایک جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے، اور دوسرا پرانے سیکٹرز میں انفراسٹرکچر کی بحالی، ہارٹیکلچر، لینڈ اسکیپنگ اور جدید شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے۔
تاہم ان اقدامات کے باوجود سیکٹر E-12 — جہاں پلاٹوں کی الاٹمنٹ 1980 کی دہائی کے آخر میں کی گئی تھی — بدستور نظرانداز ہے۔ ہزاروں الاٹیز کئی دہائیوں سے انتظار میں ہیں، مگر تاحال وہاں کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام شروع نہیں ہوا، جو سی ڈی اے کے وعدوں اور کارکردگی کے درمیان واضح تضاد ظاہر کرتا ہے۔پچھلی انتظامیہ نے میر آبادی میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی تعمیرات جیسے شادی ہال، ورکشاپس اور شورومز منہدم کیے، مگر اسی دوران سری نگر ہائی وے کے ساتھ G-13 سے G-11 کے درمیان سروس روڈ پر ناجائز تعمیرات کو یکسر نظرانداز کیا گیا — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض کرپٹ عناصر اور سی ڈی اے کے اندر موجود اہلکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔اسی طرح مارگلہ ایونیو، جو حال ہی میں تعمیر کی گئی تھی، اب اپنی ڈیفیکٹ لائیبلیٹی مدت کے دوران ہی سنگین نقصانات اور سرفیس سیٹلمنٹ کا شکار ہے، مگر متعلقہ شعبہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے
۔دوسری جانب مارگلہ ایونیو اور موٹروے (M-1) کو جوڑنے والا لنک منصوبہ بھی صرف تشہیری مقاصد کے لیے مکمل کیا گیا، جبکہ اس کی فنی نگرانی اور دیکھ بھال پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔کرپشن کے خلاف ایک بڑے اقدام کے تحت سی ڈی اے نے گریڈ 19 تا 16 کے 107 افسران کو برطرف کر دیا ہے، جن پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، اور محکماتی انکوائریوں میں مداخلت کے الزامات تھے۔ذرائع کے مطابق یہ افسران طویل عرصے سے زیرِ نگرانی تھے اور ایک دوسرے کو ’’کلین چٹ‘‘ دلوانے اور انکوائریوں میں اثرانداز ہونے میں ملوث پائے گئے۔اطلاعات کے مطابق چیئرمین رندھاوا نے تین ماہ قبل میمبر ایڈمنسٹریشن کو خفیہ طور پر ہدایت دی تھی کہ ایسے تمام افسران کی فہرست میرٹ پر تیار کی جائے جن کی شہرت مشکوک ہو یا جن کے خلاف انکوائریاں جاری ہوں۔انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر اس عمل میں کسی قسم کی جانبداری، اقربا پروری یا انتقامی رویہ سامنے آیا تو متعلقہ افسر کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔میمبر ایڈمن نے تین ماہ کے اندر یہ کام مکمل کر لیا جس کے بعد چیئرمین نے اس مہم کو ’’آپریشن کلین اپ‘‘ کا نام دیا اور اعلان کیا کہ ادارے کو ’’کالی بھیڑوں‘‘ سے ہر قیمت پر پاک کیا جائے گا۔چیئرمین نے یہ بھی ہدایت دی کہ آئندہ کسی شہری کے جائز کام میں بلاوجہ رکاوٹ ڈالنے والا کوئی اہلکار ریٹائرمنٹ بینیفٹس کے بغیر فارغ کر دیا جائے گا۔سی ڈی اے کے لیگل ونگ کو تمام متعلقہ مقدمات کی پیروی کا ٹاسک دیا گیا ہے اور اسے مستند وکلاء کی خدمات سے مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔رندھاوا نے عزم ظاہر کیا کہ جو افسران قصوروار ثابت ہوں گے انہیں مثال بنا کر پیش کیا جائے گا تاکہ ادارے میں کرپشن کے خاتمے کا واضح پیغام جائے۔برطرف افسران میں متعدد سینئر عہدے دار شامل ہیں جن میں:گریڈ 19 کے ڈائریکٹر لاء عبدالحکیم بریروڈائریکٹر ٹریننگ اکیڈمی و لیبر ڈائریکٹر ممتاز علی شیرڈائریکٹر انفورسمنٹ و ایڈمن ایچ آر لاءڈپٹی ڈی جی (ایڈمن ایچ آر) میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کاشف شاہڈائریکٹر سول رانا طارق محمود (جو ڈپٹی ڈی جی میٹرو بس بھی رہ چکے ہیں)اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ای اینڈ ڈی ایم و آپریشنز ظفر اقبال (جنہیں 1122 ایمرجنسی سروسز کا اضافی چارج بھی حاصل تھا) شامل ہیں۔چیئرمین رندھاوا کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ سی ڈی اے کی حالیہ تاریخ میں احتساب کی سب سے بڑی مہم قرار دی جا رہی ہے، مگر سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی اب بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سی ڈی اے کے وعدے آج بھی ادھورے ہیں۔
سی ڈی اے کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ — 107 افسران برطرف، رندھاوا کی کرپشن کے خلاف کڑی کارروائی، ترقیاتی منصوبوں میں تیزی کا حکم — لیکن قدیم ترین سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی نے سوالات کھڑے کر دیےرانا تصدق حسیناسلام آباد – کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین محمد علی رندھاوا نے انجینئرنگ ونگ کو ہدایت دی ہے کہ سیکٹر C-14 میں تمام ترقیاتی کام آئندہ ماہ کے آخر تک جبکہ سیکٹر I-12 کے منصوبے تین ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔ ان ہدایات سے واضح ہوتا ہے کہ چیئرمین نے زیرِ التواء منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے ایک جارحانہ انتظامی مہم شروع کر دی ہے۔اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین رندھاوا نے انجینئرنگ اور لینڈ ونگ کے افسران پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کارکردگی میں ناکامی پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اتھارٹی نے دو خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں — ایک جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے، اور دوسرا پرانے سیکٹرز میں انفراسٹرکچر کی بحالی، ہارٹیکلچر، لینڈ اسکیپنگ اور جدید شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے۔تاہم ان اقدامات کے باوجود سیکٹر E-12 — جہاں پلاٹوں کی الاٹمنٹ 1980 کی دہائی کے آخر میں کی گئی تھی — بدستور نظرانداز ہے۔ ہزاروں الاٹیز کئی دہائیوں سے انتظار میں ہیں، مگر تاحال وہاں کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام شروع نہیں ہوا، جو سی ڈی اے کے وعدوں اور کارکردگی کے درمیان واضح تضاد ظاہر کرتا ہے۔پچھلی انتظامیہ نے میر آبادی میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی تعمیرات جیسے شادی ہال، ورکشاپس اور شورومز منہدم کیے، مگر اسی دوران سری نگر ہائی وے کے ساتھ G-13 سے G-11 کے درمیان سروس روڈ پر ناجائز تعمیرات کو یکسر نظرانداز کیا گیا — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض کرپٹ عناصر اور سی ڈی اے کے اندر موجود اہلکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔اسی طرح مارگلہ ایونیو، جو حال ہی میں تعمیر کی گئی تھی، اب اپنی ڈیفیکٹ لائیبلیٹی مدت کے دوران ہی سنگین نقصانات اور سرفیس سیٹلمنٹ کا شکار ہے، مگر متعلقہ شعبہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔دوسری جانب مارگلہ ایونیو اور موٹروے (M-1) کو جوڑنے والا لنک منصوبہ بھی صرف تشہیری مقاصد کے لیے مکمل کیا گیا، جبکہ اس کی فنی نگرانی اور دیکھ بھال پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔کرپشن کے خلاف ایک بڑے اقدام کے تحت سی ڈی اے نے گریڈ 19 تا 16 کے 107 افسران کو برطرف کر دیا ہے، جن پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، اور محکماتی انکوائریوں میں مداخلت کے الزامات تھے۔ذرائع کے مطابق یہ افسران طویل عرصے سے زیرِ نگرانی تھے اور ایک دوسرے کو ’’کلین چٹ‘‘ دلوانے اور انکوائریوں میں اثرانداز ہونے میں ملوث پائے گئے۔اطلاعات کے مطابق چیئرمین رندھاوا نے تین ماہ قبل میمبر ایڈمنسٹریشن کو خفیہ طور پر ہدایت دی تھی کہ ایسے تمام افسران کی فہرست میرٹ پر تیار کی جائے جن کی شہرت مشکوک ہو یا جن کے خلاف انکوائریاں جاری ہوں۔انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر اس عمل میں کسی قسم کی جانبداری، اقربا پروری یا انتقامی رویہ سامنے آیا تو متعلقہ افسر کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔میمبر ایڈمن نے تین ماہ کے اندر یہ کام مکمل کر لیا جس کے بعد چیئرمین نے اس مہم کو ’’آپریشن کلین اپ‘‘ کا نام دیا اور اعلان کیا کہ ادارے کو ’’کالی بھیڑوں‘‘ سے ہر قیمت پر پاک کیا جائے گا۔چیئرمین نے یہ بھی ہدایت دی کہ آئندہ کسی شہری کے جائز کام میں بلاوجہ رکاوٹ ڈالنے والا کوئی اہلکار ریٹائرمنٹ بینیفٹس کے بغیر فارغ کر دیا جائے گا۔سی ڈی اے کے لیگل ونگ کو تمام متعلقہ مقدمات کی پیروی کا ٹاسک دیا گیا ہے اور اسے مستند وکلاء کی خدمات سے مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔رندھاوا نے عزم ظاہر کیا کہ جو افسران قصوروار ثابت ہوں گے انہیں مثال بنا کر پیش کیا جائے گا تاکہ ادارے میں کرپشن کے خاتمے کا واضح پیغام جائے۔برطرف افسران میں متعدد سینئر عہدے دار شامل ہیں جن میں:گریڈ 19 کے ڈائریکٹر لاء عبدالحکیم بریروڈائریکٹر ٹریننگ اکیڈمی و لیبر ڈائریکٹر ممتاز علی شیرڈائریکٹر انفورسمنٹ و ایڈمن ایچ آر لاءڈپٹی ڈی جی (ایڈمن ایچ آر) میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کاشف شاہڈائریکٹر سول رانا طارق محمود (جو ڈپٹی ڈی جی میٹرو بس بھی رہ چکے ہیں)اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ای اینڈ ڈی ایم و آپریشنز ظفر اقبال (جنہیں 1122 ایمرجنسی سروسز کا اضافی چارج بھی حاصل تھا) شامل ہیں۔چیئرمین رندھاوا کا ’’آپریشن کلین اپ‘‘ سی ڈی اے کی حالیہ تاریخ میں احتساب کی سب سے بڑی مہم قرار دی جا رہی ہے، مگر سیکٹر E-12 کی مسلسل نظراندازی اب بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سی ڈی اے کے وعدے آج بھی ادھورے ہیں۔
ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر کی بیوی اور بیٹی لاپتہ — پنجاب پولیس کی تفتیش ناکام یا چھپانے کی کوشش؟خاندانی معاملہ یا سرکاری وردی کے پیچھے چھپا سنگین جرم؟رانا تصدق حسینلاہور — لاہور پولیس کے ڈی ایس پی انویسٹیگیشن (کاہنہ سرکل) عثمان حیدر گجر کی بیوی اور بیٹی کے لاپتہ ہونے کا کیس سنگین اور سنسنی خیز رخ اختیار کر گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے خاندانی معاملہ قرار دیا گیا، مگر اب یہ کیس پنجاب پولیس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ڈی ایس پی کی سالی تہمینہ شوکت نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو فریق بنایا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو بھی ایک تحریری درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔تہمینہ شوکت کے مطابق، ڈی ایس پی عثمان حیدر اپنی بیوی سمعیہ اور بیٹی خنسا پر تشدد کرتے تھے، اور اب انہیں شبہ ہے کہ ڈی ایس پی نے اپنی اہلیہ کو قتل کر دیا ہے جبکہ بیٹی کو چھپا دیا گیا ہے۔تہمینہ کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹا چکی ہیں مگر پولیس کی جانب سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق تھانہ برکی کا ایس ایچ او اور خود ڈی ایس پی عثمان حیدر انہیں خاموش رہنے پر مجبور کر رہے ہیں اور جعلی پولیس مقابلے میں مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ایس پی کینٹ انویسٹیگیشن بشریٰ نثار نے عدالت کے باہر انہیں مدد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے پولیس کی گاڑی میں بٹھایا، مگر بعد ازاں غائب ہو گئیں۔ اس دوران تھانیدار بدتمیزی کرتا رہا جبکہ ان کے شوہر کو تھانہ برکی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ آئی جی پنجاب کے خلاف کارروائی کی جائے اور کیس کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔دوسری جانب، ڈی ایس پی عثمان حیدر گجر نے اپنی بیوی اور بیٹی کے اغوا کا مقدمہ 23 دن بعد تھانہ برکی میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کروایا، جس سے معاملہ مزید مشکوک ہوگیا ہے۔تفتیشی عمل میں تاخیر، متضاد بیانات اور اعلیٰ پولیس افسران کی مبینہ مداخلت نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ کہیں واقعہ کو چھپانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی۔اب یہ کیس پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے اعتماد اور انصاف کا امتحان بن چکا ہے — اور سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس اپنے ہی افسر کے خلاف شفاف تحقیقات کر پائے گی؟
آئیے دیکھتے ہیں کہ اب تک کون کون سا گند صاف کرنے میں پیش رفت ہو چکی ہے۔
پہلا گند فوج کے اندر عمرانڈو سہولت کار تھے جس پر کریک ڈاؤن تسلی بخش ہے۔
دوسرا گند پی ٹی آئی کی بلیک میلنگ تھی کہ ہماری بات نہ مانی گئی تو پاکستان بند کر دیں گے کوئی کھان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا وغیرہ وغیرہ آج پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں سرکاری سرپرستی کے بغیر پورے ملک میں چوں کرنے کی اہلیت سے محروم ہو چکی ہے یہ تو بہت بڑی صفائی ہے۔
تیسرا گند عدلیہ میں بیٹھے سہولت کار تھے جو کھان صاحب کی تھوک کے حساب سے ضمانتیں لیتے تھے جج بننے کی بجائے پی ٹی آئی کے مقدمے میں خود پی ٹی آئی کے وکیل بن جاتے تھے پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچانے کے لیے آئین کو ری رائیٹ بھی کرنا پڑے تو کر گزرتے تھے آج وہ سارے خط وغیرہ لکھ کر اجتماعی طور پر پوسٹ آفس خط پوسٹ کرنے جاتے دیکھے گئے ہیں۔ یہ صفائی بھی تسلی بخش ہے۔
چوتھا گند جو صاف کیا جا رہا ہے وہ خود اپنے بنائے ہوئے مذھبی جتھے تھے آج کل انکے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد یوں لگتا ہے کہ یہ صفائی ہونا بھی اب زیادہ دور کی بات نہیں آغاز تو ہو چکا۔
پانچواں اور سب سے بڑا گند آف گانستان پر صاحب لوگوں کی پالیسی ہے جس کے تحت لاکھوں آف گانیوں کو پاکستان بسایا گیا ،اف گانستان میں تزویراتی گہرائی ڈھونڈتے ڈھونڈتے 80 ہزار لوگ مروا لیے ڈیڑھ دو سو ارب ڈالر کا معیشت کو نقصان کروا لیا اور آج جس کا صلہ یہ ملا ہے کہ جو نمک حرام پالے تھے وہ آج پاکستان کی طرف بندوقیں تانے کے کھڑے ہو گئے۔ مگر آخر کار صاحب لوگ اپنے سب سے قدیم اور محبوب اثاثے سے دستبردار ہو کر اب ان نمک حراموں کی ٹھکائی کرنے میں مصروف ہوئے ہیں یہ “مدر آف آل گند” تھا جس کی صفائی شروع کی گئی ہے۔
چھٹا گند اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے سیاستدانوں سے لاتعلقی تھی جو دھائیوں سے اسٹیبلیشمنٹ سے تعلق کی وجہ سے قوم کو بڑے بڑے بھاشن دیتے تھے اور دانشوری کی اس معراج پر فائز ہو چکے تھے جہاں دوسروں کی عقل مذاق لگتی تھی آج وہ ریڑھی سے چھلیاں کھانے کی وڈیوز پوسٹ کر رہے ہیں تندور میں نان لگا رہے ہیں،گھروں میں بیٹھ کر اپنے نااھل بیٹے کو یاد کرتے ہیں جس نے انہیں دھکا دیا یا پھر سواد چوھدری کی طرح مفت مشورے دینے کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ کیا کبھی سوچا تھا کہ یہ گند بھی صاف ہو گا؟
ساتوں گند میڈیا پر کھمبیوں کی طرح اگے رنگ برنگے اینکرز تجزیہ نگار تھے جن کا خیال تھا کہ پاکستان میں وہ بیانیہ چلے گا جو وہ بتائیں گے دن رات جھوٹ کی فیکٹریاں چل رہی تھی، بیس لاکھ سے شروع ہو کر ڈیڑھ کروڑ تک تنخواہیں لیتے اور کام صرف ملک میں انتشار پھیلانا شام کو کوٹ ٹائیاں لگا کر دو چار سیاستدان اکٹھے کر لینا اور انکی آپس میں لڑائیاں کروا کر ٹی آر پی لینا انہیں پاکستان کے مسائل کا حل نظر آتا تھا۔ آج الحمدللہ سب کے سب تیر کی طرح سیدھے ہو چکے ہیں جو ہلکی پھلکی موسیقی چل رہی ہے وہ بھی اجازت لے کے چل رہی ہے ساری حریت پسندی نکل چکی ہے کچھ ملک سے بھاگ گئے کچھ کو چینلوں نے نکال باہر کیا اور آج وہ سرد آہیں بھر کے ملک میں جمہوری آزادیاں ختم ہونے کے رونے روتے ہیں وہ جمہوری آزادیاں جن پر تاک تاک کے یہ خود وار کرتے رہے۔
دوستو تین سال کے اندر اندر یہ پرفارمنس بری نہیں کچھ لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ آپ اسٹیبلشمنٹ مخالف تھے اب کیوں انکے ہر کام کی حمایت میں آ جاتے ہیں تو جناب من عرض ہے کہ سیدھی اور صاف بات ہے یہ گند صاف کرنا کم از کم ہمارے بس کی بات نہیں تھی یہ وہی صاف کر سکتے تھے جنہوں نے یہ پھیلایا تھا اور یہ ممکن نہیں کہ ہم گند پھیلانے کے بھی مخالف ہوں اور صاف کرنے کے بھی۔
پ ریلیز61 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب کا انعقاد07 نومبر، 2025: 61 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب آج پاک فضائیہ کے ائیروسپیس پاور سنٹر آف ایکسیلینس میں منعقد کی گئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ائیروائس مارشل محمد عاصم رانا، ائیر آفیسر کمانڈنگ، سنٹرل ائیر کمانڈ پی اے ایف تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کورس کے شرکاء کی غیر معمولی لگن، پیشہ وارانہ مہارت اور ثابت قدمی کو سراہا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگی تیاری پاک فضائیہ کے عملی نظریے (Operational Doctrine) کی بنیاد ہے اور یہ کہ حقیقت پسندانہ، لچکدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت، فضائیہ کی فیصلہ کن برتری برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاک فضائیہ کا ایرو سپیس پاور سینٹر آف ایکسیلینس (PAF ACE) حربی مہارت کا گہوارہ ہے جہاں فضائی جنگ کے جدید تصورات کو آزمایا، بہتر بنایا اور عملی نظریات میں ڈھالا جا تا ہے۔ ادارے کے علیٰ پیشہ وارانہ معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کہا کہ PAF ACE کے تمام اسکول بہترین ہم آہنگی کے ساتھ ایسے جنگی قائدین تیار کر رہے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے مختلف میدانوں میں مؤثر طور پر یکجا کر سکتے ہیں۔ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف دی ائیر سٹاف، پاک فضائیہ کی بصیرت افروز قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے مہمانِ خصوصی نے کہا کہ پاک فضائیہ اپنی قیادت کی رہنمائی میں ایک غیر معمولی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ائیر چیف کی جانب سے شروع کی گئی جامع جدید کاری کی مہم نے ایک بے مثال ترقی کے دور کا آغاز کیا ہے، جو مقامی تیاری، نیٹ ورک پر مبنی آپریشنز، مصنوعی ذہانت کے انضمام اور فضائی، سائبر اور خلائی شعبوں میں مشترکہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے کورس کے گریجویٹس کو ٹرافیز اور اسناد سے نوازا جنہوں نے اس کٹھن کورس کے دوران اپنی شاندار کارکردگی سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
کمبیٹ پائلٹس کے درمیان بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر چیف آف دی ائیر سٹاف ٹرافی ونگ کمانڈر اقراش منیر اعوان نے حاصل کی جبکہ کمبیٹ کنٹرولرز کے درمیان بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ائیر آفیسر کمانڈنگ ائیر ڈیفنس کمانڈ ٹرافی سکواڈرن لیڈر جاوید اقبال نے حاصل کی۔یہ تقریب ایک کٹھن اور بھرپور تربیتی پروگرام کے اختتام کی علامت تھی، جس کا مقصد پاک فضائیہ کے لیے اگلی نسل کے جنگی قائدین کو تیار کرنا ہے۔ تقریب میں سینئیر عسکری افسران، فیلڈ کمانڈرز اور پاک فضائیہ کی مختلف فارمیشنز سے تعلق رکھنے والے انسٹرکٹرز نے شرکت کی، جس سے اس موقع کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی جو پاک فضائیہ کے عملی کیلنڈر کا ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ
نئی دہلی ائیرپورٹ پر ائیر ٹریفک کنٹرول نظام میں خرابی، سیکڑوں پروازیں تاخیر کا شکار -بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ائیر ٹریفک کنٹرول سسٹم میں خرابی کے باعث سیکڑوں پروازیں تاخیر کا شکار ہیں اور ملک بھر میں فضائی ٹریفک بری طرح متاثر ہے۔بھارتی میڈیا نے فلائٹ ڈیٹافراہم کرنے والی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ائیرپورٹ سے روانہ ہونے والی تقریباً 95 فیصد پروازوں کو اوسطاً 55 منٹ کی تاخیر کا سامنا ہے جبکہ آنے والی 69 فیصد پروازیں بھی تاخیر سے پہنچ رہی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق جمعے کے روز مجموعی طور پر 800 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ کم از کم 20 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ائیرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ خودکار پیغام رسانی کے اُس نظام میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی ہے جو ائیر ٹریفک کنٹرول کے ڈیٹا کی معاونت کرتا ہے۔اتھارٹی کے مطابق سسٹم کی خرابی کے باعث ائیر ٹریفک کنٹرولرز کو فلائٹ پلانز دستی طور پر پراسیس کرنے پڑے جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔
*ترکی میں پاک۔افغان مذاکرات غیر نتیجہ خیز….!!!!* ترکی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات غیر نتیجہ خیز رہے۔ پاکستانی وفد اسلام آباد واپسی کے لیے ایئرپورٹ پہنچ گیا ہے، تاہم مذاکراتی سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا اور سفارتی رابطے جاری رہنے کا امکان ہے۔….!!!!
پاکستان کی آنے والی ہنگور آبدوز چینی YJ-17 ہائپر سونک میزائل سے لیس ہونے کا امکان ہے۔یہ چائنیز اینٹی شپ ہائپر سونک میزائل ہے اس کی رینج 1200 کلومیٹر ہے 🚀