ریٹائرمنٹ کے بعد منصور علی شاہ اور اطہرمن اللہ تقریبا 13 کروڑ کے قریب رقم وصول کرینگے آخری سیلری سلپ کے مطابق پینشن تاحیات انجوائے کریں گے،جو غالباً 28 سے 30 لاکھ ماہانا بنتی ہے۔* دیگر الاؤنس،گاڑی، ڈرائیور اور سیکیورٹی کی مد میں تاحیات پولیس اہلکار بھی حاصل کریں گے۔ ایک پسند کا اردلی رکھنے کی اجازت ہوگی،ماہانہ 3 ہزار مفت ٹیلی فون کالز، 2 ہزار یونٹ بجلی، مفت گیس، پانی کی مفت فراہمی، 300 لیٹر پٹرول بھی ملے گا۔دونوں جج صاحبان کے انتقال کے بعد بیوہ کو ڈرائیور، اردلی ملے گا، 2 ہزار یونٹ بجلی اور مفت پانی کی سہولت بھی حاصل ہے، ماہانہ 300 لیٹر پیٹرول بھی دیا جاتا ہے جبکہ بیوہ سے انکم ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔جسٹس اطہر من اللہ اور منصور علی شاہ حقیقی اصولی جنگ لڑرہے ہیں امید ہے استعفوں کے بعد پینشن اور دیگر مراعات چھوڑ دیں گے ۔ویسے کاش کہ ان شہنشاہانہ مراعات پہ بھی کسی کا ضمیر جاگتا اور کوئ استعفی اس پہ بھی آتا۔۔۔۔۔
حرام خور جج ۔ اظہر سید”کہتا ہے میرا قلم عوام کی امانت ہے”بھائی صاحب تم عوام کے مامے لگتے ہو ۔تمہارا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے ۔عوام کیلئے عوام کی پارلیمنٹ موجود ہے ۔وہ اپنے فیصلے خود کر لے گی ۔ایک چیف جسٹس کھوسہ تھا کہتا تھا “فیصلے ضمیر کے مطابق کرتا ہوں “جبکہ اسے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے کیلئے لگایا گیا تھا۔ایک مخدوم علی خان صاحب ہیں انہیں بھی آئین اور قانون بڑے زور کا آیا ہوا ہے ۔ یہ بھی استعفیٰ دے گئے ہیں ۔۔یہ موصوف آئین توڑ کر اقتدار سنبھالنے والے جنرل مشرف کے اٹارنی جنرل بن گئے تھے ۔فراڈئے ہیں سارے کے سارے۔منصور علی شاہ مستقبل کا چیف جسٹس تھا لیکن تاریخ کی غلط سمت میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ائین اور قانون کے نام پر آئین اور قانون کی جو شاعری اپنے استعفیٰ میں قوم کو سنا رہا ہے اس وقت بھول گیا تھا جب تین کے بدبخت ٹولے نے نوسر باز کی محبت میں 63 اے کی تشریح کرتے ہوئے آئین ازسر نو لکھ مارا تھا ۔اس وقت آئین اور قانون شائد کسی قریبی عزیز کا کرش بن کر اس کے خوابوں میں چلا گیا تھا۔اس وقت آئین اور قانون یاد نہیں آیا جب اپنے قلم سے جنرل باجوہ کی توسیع کا فیصلہ لکھا۔جھوٹے اور نوسر باز ہیں سارے کے سارے
۔ایک اور موصوف ہیں ۔استعفی میں واردات ڈالنے سے باز نہیں ائے۔صدر مملکت کو استعفیٰ لکھ مارا ہے۔یہی وہی موصوف ہیں ۔وزیراعظم نے عدلیہ میں کالی بھیڑوں کا ذکر کیا بولے”ہم کالے بھونڈ ہیں”یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے بھاگ کر آئین اور قانون توڑ کر اقتدار سنبھالنے والے جنرل مشرف سے صوبائی وزارت لے لی تھی ۔اج آئین اور قانون کی دہائی دیتے ہوئے استعفیٰ دے رہے ہیں جبکہ تین ماہ بعد ویسے بھی ریٹائرمنٹ کی عمر اجانی تھی۔یہ کالا بھونڈ اپنے ساتھی سنئیر جج شوکت صدیقی کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے چھلانگ لگا کر جنرل فیض کی گود میں بیٹھ گیا تھا ۔شوکت صدیقی کو اس وقت کے مالکوں نے فارغ کرایا تو چیف جسٹس بن گیا ۔ فراڈ ہیں سارے کے سارے ۔یہ وہی ہیں جو تحریک عدم کی رات جنرل باجوہ کی آنکھ کے اشارے پر عدالت کھول کر بیٹھ گئے تھے ۔اج سپریم کورٹ کا گویا نوحہ پڑھ رہے ہیں
یہ وہ پہلا وزیراعظم ہے جس کی پیٹھ میں نوازشریف نے خنجر مارا تھا۔ محمد خان جونیجو۔ اس کے بعد اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر بینظیر بھٹو کی حکومت کو 20 ماہ بعد ہی گھر بھیج دیا۔ پھر اپنے محسن صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان کے خلاف سازش کی۔ اس کے بعد فاروق لغاری کے ساتھ ملکر پھر بینظیر کے خلاف سازش کی۔ پھر لغاری کو فارغ کر کے چوٹی زریں میں ہل چلانے بھیج دیا۔ اس کے بعد اپنے والد ضیاء الحق کے بیٹوں کو پارٹی سے نکال دیا اور ان کے ووٹ بینک پر قبضہ کرلیا۔ آج بیچارہ اعجاز الحق در بدر پھر رہا ہے۔ اپریل 2021 کو قمر باجوہ اور زرداری سے سازباز کرکے عمران خان کی جمہوری حکومت ختم کی اور شہبازشریف اور اسحاق ڈار کے ذریعے پاکستان کی معشیت تباہ کی۔ اب یہ 27ویں اور 28ویں عسکری ترامیم پاس کروا رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ آدمی پاکستان کا سب سے بڑا سازشی اور جمہوریت دشمن سیاستدان ہے۔ یہ شخص 37 سالوں سے مختلف لوگوں کے ساتھ ملکر پاکستان کی بربادی کررہا ہے۔ کسی ایک آدمی نے پاکستان کو اتنا نقصان نہيں پہنچایا جتنا اس نے پہنچایا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد منصور علی شاہ اور اطہرمن اللہ تقریبا 13 کروڑ کے قریب رقم وصول کرینگےآخری سیلری سلپ کے مطابق پینشن تاحیات انجوائے کریں گے، جو غالباً 28 سے 30 لاکھ ماہانا بنتی ہے۔دیگر الاؤنس ، گاڑی ڈرائیور اور سیکیورٹی کی مد میں تاحیات پولیس اہلکار بھی حاصل کریں گے۔ایک پسند کا اردلی رکھنے کی اجازت ہوگی ، ماہانہ 3 ہزار مفت ٹیلی فون کالز، 2 ہزار یونٹ بجلی مفت ،گیس پانی کی مفت فراہمی 300 لیٹر پٹرول بھی ملے گا۔دونوں جج صاحبان کے انتقال کے بعد بیوہ کو ڈرائیور اردلی ملے گا 2 ہزار یونٹ بجلی اور مفت پانی کی سہولت بھی حاصل ہے، ماہانہ 300 لیٹر پیٹرول بھی دیا جاتا ہے جبکہ بیوہ سے انکم ٹیکس نہیں لیا
*💥آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہونگے،عہدے کی مدت 5 سال ہوگی: قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور*اسلام آباد: قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی۔مجوزہ آرمی ایکٹ کے تحت آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹی فکیشن جاری ہو گا۔مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ نئے نوٹی فکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ سے شروع ہوگی۔ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے۔مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق وزیراعظم آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے۔مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہو گی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کو تین سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے: وزیر قانونوزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے،عہدے کی مدت 5 سال ہو گی۔ وزیر اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کریں گے۔ان کی تقرری کی مدت اس دن سے شروع ہوگی جب تعیناتی ہو گی۔اعظم نذیر نے کہا کہ قانون نے وضاحت کی ہے چیف آف ڈیفنس کا عہدہ اپوائنٹمنٹ سے5 سال کا ہوگا۔ وزیر قانون نے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔
—قومی اسمبلی اجلاس۔۔۔وزیراعظممیثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا،فتنہ الخواج اوردشمنان پاکستان کی حرکتوں کا اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اوراب بھی منہ توڑجواب دیں گے ، وزیراعظم محمدشہبازشریف کاقومی اسمبلی میں خطاباسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمدشہبازشریف نے کہاہے کہ میثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا ہے،افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،فتنہ الخواج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اور اب بھی منہ توڑجواب دیں گے، خواہش ہے پاکستان سمیت پوراخطہ ترقی اور خوشحالی کاگہوارہ بن جائے، قومی یکجہتی اوروفاق کیلئے 100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعداپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ آج اس ایوان نے یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے قومی اتحاد اوریگانگت کوفروغ دیاہے جس پرتمام سیاسی جماعتوں اوران کے قائدین کا مشکورہوں، کل ہمارے انتہائی شفیق ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی صاحب اللہ کوپیارے ہوگئے،وہ استادوں کے استاد تھے اورپوری زندگی لکھائی پڑھائی میں گزاری،
جب میدان سیاست میں قدم رکھا تو ذمہ داری اورعزم کے ساتھ مسلم لیگ کا ساتھ نبھایا، قائد نواز شریف کے ساتھ ان کی وابستگی ضرب المثل تھی، اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ اوراہلخانہ کوصبرجمیل عطا ءفرمائے۔انہوں نے کہاکہ کل وانا میں دہشت گردوں نے ایک بارپھردہشت گردی کابازارگرم کرنے کی گھٹیا اور مذموم حرکت کی ،اس واقعہ نے سانحہ اے پی ایس کی یاد تازہ کیں، اللہ تعالیٰ کاشکر ہے کہ خوارج جس میں بدقسمتی سے افغانستان کے لوگ شامل تھے، وہ تمام کے تمام جہنم رسید ہوئے اورتمام کیڈٹس اورٹیچرز کوبحفاظت نکالاگیا، میں اس پرپوری قوم کومبارکبادپیش کرتا ہوں اورمسلح افواج کا شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے اعلیٰ پایہ کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کامظاہرہ کیا، اسی طرح کل اسلام آباد میں دہشت گردی کااندوہناک واقعہ ہوا، دہشت گردوں نے جوڈیشمل کمپلیکس کونشانہ بنایا اور افراتفری میں اپنے آپ کودھماکہ سے اڑادیا جس میں وکلاء سمیت 12لوگ شہید ہوگئے اور 4موت و حیات کی کشمکش میں ہیں، ہم تمام شہدا ء کے بلندی درجات اورزخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہیں،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان واقعات میں خارجی ہاتھ نمایاں ہے، کل میں نے بیان دیا کہ فتنہ الخوارج میں ہندوستانی ہاتھ شامل ہے اوراس میں بدقسمتی سے ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کے فٹ پرنٹ نظرآرہے ہیں، اس پرہندوستان کی حکومت کی جانب سے ٹویٹ آیا کہ الزامات غلط ہیں
۔وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان میں جعفرایکسپریس پرحملہ کے ثبوت ہم پوری دنیا کے سامنے لے کرآئے کہ کس طرح ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغانستان سے متحرک تھے اوردہشت گردوں کارابطہ ان کے ساتھ تھااورآگے ان کا رابطہ ہندوستان میں ان کے حمایتیوں سے تھا،یہ حقائق ہم نے پوری دنیا کے سامنے پیش کئےجس کوکسی نے چیلنج نہیں کیا اورنہ ہی اس کی تردید کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ فتنہ الخوارج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، ان کوپہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اوراب بھی منہ توڑجواب دیں گے، پاکستان کی ترقی اورخوشحالی کی راہ میں ان کو قطعی طور پر رکاوٹیں ڈالنے نہیں دیا جائے گا، حال ہی میں دوحہ اور استنبول میں امن مذاکرات ہوئے جس میں پاکستان نے شرکت کی، ہماری افغانستان کی عبوری حکومت سے ایک ہی شرط تھی کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دہشت گردگروپوں کو افغانستان کی سرزمین پاکستان، پاکستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کرنے سے روکاجائے، آئے روز ہماری افواج بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں ان کامقابلہ کر رہی ہوتی ہیں ، ہرروز ہمارے افسراورجوان شہید ہورہے ہیں،پاکستان کے عظیم کڑیل جوان جام شہادت نوش کرتے ہوئے اپنے بچوں کویتیم کرتے ہیں مگرلاکھوں بچوں کویتیم ہونے سے بچاتے ہیں، اس سے بڑی قربانی کوئی ہو ہی نہیں سکتی جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے ،ہم چاہتے کہ امن قائم ہو اور افغانستان امن میں برابرشریک ہو کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جوپاکستان کیلئے اچھا ہے وہ افغانستان کیلئے بھی اچھا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ جھوٹے سچے وعدے کرے اور پھران گروپوں کولگام نہ دیں، ایک ماہ پہلے جب پاکستان پرحملہ ہوا توان کے وزیرخارجہ متقی دہلی میں تھے،جن افغان بہن بھائیوں کو40سال تک پاکستان نے اپنے وسائل سے کسی بیرونی امداد کے بغیر امداددی اوران کومحسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ یہاں پرپرائے ہیں اوریہ مہمان نوازی ہم کرتے رہیں گے جب تک وہ سکون کے ساتھ اپنے گھروں کونہیں چلے جاتے، 40سال کی مہمان نوازی کاجوصلہ ہمیں دیاگیاہے وہ پوری دنیادیکھ رہی ہے،اٖفغان حکام کے دہلی کے دورہ کے پیغامات ہمیں اچھی طرح سے سمجھ میں آرہے ہیں، انہوں نے دعوت دی کہ صدق دل کے ساتھ ہمارے ساتھ بیٹھیں اوردہشت گردوں کولگام دیں ہمارے ساتھ وعدہ کریں کہ پوری طرح ہمارے ساتھ چلیں گے تاکہ خطہ میں امن ہو اورپاکستان سمیت پوراخطہ ترقی اورخوشحالی کاگہوارہ بن جائے۔ وزیراعظم نے کہاکہ آج جوترامیم منظورہوئی ہیں اس حوالے سے وہ سب سے پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے بھی مشکورہیں جو خود بنفس نفیس یہاں پر تشریف لائے اور آج اس پوری کارروائی میں شریک رہے ، میں بلاول بھٹو زرداری، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، چوہدری سالک حسین عبدالعلیم خان، اعجازالحق اور ایمل ولی خان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، اسی طرح ہم سپیکر، ڈپٹی سپیکر ڈپٹی پرائم منسٹر، وزیرقانون، اٹارنی جنرل، قائمہ کمیٹیز اور اس عمل میں شریک تمام اہلکاروں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ ان ترامیم پرمشاورت کے ساتھ کام کیا اس مشاورت کے نتیجے میں یہ ترامیم آج آئین کا حصہ بن گئی ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ میثاق جمہوریت میں بڑے واضح انداز میں آئینی عدالت کے قیام کاوعدہ کیاگیاتھا آج وہ خواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا مجھے پورا یقین ہے کہ آج محترمہ شہید بے نظیر بھٹو صاحبہ کی روح کو تسکین مل رہی ہوگی اور میرے قائد میاں محمد نواز شریف کے خواب کی تکمیل ہوئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 19 سال اپوزیشن کو میثاق جمہوریت یاد نہیں آیا، آج ان کو آئینی عدالت پر تکلیف کیوں ہو رہی ہے،یہ سمجھ سے بالاتر ہے، اختلاف کرنا حق ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں لیکن گالی گلوچ اور دشنام طرازی کو ہمیں ختم کرنا ہوگا،ہمیں ملک کو آگے لے کر چلنا ہے اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان کو پاکستان نے چار دن کے معرکے میں شکست فاش دی اور افواج پاکستان کا نام پوری دنیا میں چمکا تو اس کے نتیجے میں چیف آف آرمی سٹاف کو اس حکومت نے فیڈ مارشل کا لقب دیا انہی دنوں میں بلاول بھٹو کی سربراہی میں ایک وفد نے امریکہ، یورپ کا دورہ کیا اور انہوں نے شاندار سفارتکاری کی اور اپنی سفارتی مہارت کے ذریعے وہاں پر پاکستان کے موقف کواجاگرکیا،
دہائیوں بعد ہم نے جنگ جیتی اورسفارتی محاذ پر بھی کامیابی سمیٹی،ہندوستان بالکل بے بسی کی تصویر بنا رہا، مودی بالکل بے بسی کا شکار تھا، آج وہ تنہائی کا شکار ہیں،ہمیں اس حوالے سے پوری طرح قومی یکجہتی اور قومی اتحاد کو برقرار رکھنا چاہئے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے آئین کے دائرے میں رہ کر بھرپور معاونت کی، میں نے ان کے پاس جاکر گوشگزار کیا کہ عدالت عظمیٰ،عدالت عالیہ اور نچلی عدالتوں میں ریونیو کے کیسز 10،10 سال سے التواء میں پڑے ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے کمال مہربانی سے اس کا نوٹس لیا، بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ اس اجلاس کے نتیجے میں میرٹ پر ان عدالتوں نے فیصلے کئے اور آج قومی خزانے میں اربوں روپے ا ٓچکے ہیں، ہم اس بات کی بھی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل اور لا ء اینڈ جسٹس کمیشن جیسے اہم اداروں کی بدستور سربراہی کرتے رہیں گے، اس کے ذریعے ہمیں ان کی رہنمائی حاصل رہے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو معرکہ حق میں جو شاندار کامیابی اللہ نے عطاء فرمائی،ہندوستان سے ہم نے وہ وہ قرض اتارے اور بدلے لئے کہ شاید دیکھتی آنکھ دنگ رہ گئی، سنتے کانوں کو یقین نہیں آرہا تھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بے پایہ فضل و کرم تھا، آج ہم جس ملک میں جاتے ہیں وہاں کس طرح پانچ قدم آگے چل کر پاکستان کاخیرمقدم کیاجاتاہے اس سے بڑی اور عزت کیا ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی عزت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال مہربانی سے چار چاند لگائے،اس کے لئے جرأت مندانہ فیصلے ہوئے یہ جری کردار اور اخلاص کا نتیجہ ہے، یہ باہمی مشاورت کا نتیجہ ہے یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا نتیجہ ہے،یہ فجر کے وقت اللہ کے حضور سربسجود ہوکر دعا مانگنے کا نتیجہ ہے،دلیری کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے سفارتی معاشی اور عسکری محاذ پر عزت دی ہے اور اس سے قبل دہائیوں تک پاکستان کو اس طرح کی عزت نصیب نہیں ہوئی، اسی وجہ سے حکومت نے تمام حلیف جماعتوں کی مشاورت سے سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا دیا تو پوری قوم نے اس کو سراہا اور آج اگر اس کو آئینی تحفظ دینے کے لئے آئینی ترمیم کا حصہ بنا رہے ہیں تو اس میں کوئی بری بات نہیں ہے، قومیں اپنے ہیروز کو یوں ہی عزت دیتی ہیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کو دن رات یاد کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بڑی عظیم اور جری قوم ہے ہم اپنے ہیروز کو اپنے شہیدوں کو عزت دینا اور عزت کرانا بھی جانتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بلاول بھٹو میرے انتہائی قریبی ساتھی ہیں اور چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں انہوں نے اپنی تقریر میں بڑی اچھی باتیں کی ہیں،انہوں نے بڑی پرجوش اور متعلقہ تقریر کی ہے اور مجھے بھی اچھے القابات سے نوازا ہے،اس پر میں ان کا شکر گزار ہوں،ان کی اور میری سوچ میں کوئی فرق نہیں اگر صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا، یہ چار اکائیاں مل کر پاکستان بنتا ہے،یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مشاورت کے بغیراٹھارویں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ میں کوئی ترمیم ہو سکے،ہمیں اس کا پوری طرح احترام ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے جتنی بھی ترقی کریں ،ہمیں خوشی ہوگی، اس میں کوئی دو رائے نہیں، جس چیز سے پاکستان اور وفاق کو مضبوط ہوتا ہے،
میں اس کے ساتھ ہوں جو پاکستان اور وفاق کو کمزور کرتی ہے وہ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ جو چیزپاکستان کے لئے مفید نہیں ہے جیسے کالا باغ ڈیم ہے اگراس پراتفاق رائے نہیں ہے توقومی یکجہتی پر100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کریں گے،سب سے زیادہ قربانیاں وہ دے رہے ہیں،پورے ملک میں امن وامان برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے ان کے اخراجات وفاق برداشت کرتا ہے۔میری استدعا ہے کہ ہم بیٹھ کر بات کریں گے جہاں چاروں اکائیاں نہیں مانیں گی کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے،وفاق ہے تو ہم ہیں۔ہم سب وفاقی اکائیاں ہیں مل کر دکھ سکھ ختم اور خوشیاں بانٹنی ہیں۔
The final sun sets over Pakistan’s existing Supreme Court; tomorrow, the sun will rise only on a Supreme Court name is supreme, there is no real supremacy in authority.
افغان حکومت کا پاکستان کے ساتھ تجارت بند کرنے کا فیصلہ ممکن نہیں ۔نقصان ان بڑے افغان سرمایہ کاروں کو پہنچے گا جو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں ارپوں روپیہ کی درآمدات واپس پاکستان بھیجنے کیلئے کرتے ہیں ۔یہ بہت بڑا مافیا ہے جس میں پاکستانی اور افغانی دونوں اطراف کے سرمایہ دار شامل ہیں۔سنٹرل ایشیا سے تجارت ممکن ہی نہیں ۔جو پھل ،سبزیاں اور ڈرائی فروٹ انہیں بیچنا چاہیں گے ان کے پاس پہلے ہی وافر اور زیادہ بہتر پیداوار کی صورت میں موجود ہیں
۔گاہک پاکستان میں ہیں جہاں اس معیار کے پھل ڈرائی فروٹ موجود نہیں۔صنعتیں موجود ہی نہیں تو کونسی نئی مارکیٹیں ڈھونڈیں گے اور کیا بیچیں گے۔فرض کریں سنٹرل ایشیا اور ایران میں پھل ،سبزیاں اور ڈرائی فروٹ کی مارکیٹ مل گئی ہے تو پیداواری لاگت کا کیا کریں گے جو تورخم یا سپین بولدک بارڈر کی پیداواری لاگت سے تقریبا بیس فیصد بڑھ جائے گی ۔بھارت سبسڈی دے کر خریداری کر سکتا ہے لیکن پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت اجازت ہی نہیں دے گا۔اب اسمگلنگ کیلئے نئے روٹس اور نئے طریقے تلاش کرنا پڑیں گے اس کے علاؤہ کوئی راستہ موجود ہی نہیں ۔
عدالتی پھرتیاں, ترقیاں اور اقرباپروریاں۔جسٹس اطہر من اللہ: چیف کے خود ساختہ ترجمان سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تک۔۔۔۔مصنف,شہزاد ملکعہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد29 نومبر 2018اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس اطہر من اللہ جج تعینات ہونے کے بعد صرف چار سال کی مدت میں کسی عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس کے عہدے پر پہنچے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے جسٹس اطہر من اللہ کو 17 جون سنہ 2014 میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا تھا
۔دو سال کے بعد انھیں مستقل کر دیا گیا اور 28 نومبر سنہ 2018 کو وہ اسی عدالت کے سب سے اہم عہدے پر پہنچ گئے اور ان کی مدت ملازمت سنہ 2023 میں پوری ہو گی۔پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں ان سے تیزی سے اس اعلیٰ عہدے پر شاید سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس فائز عیسیٰ ہی آئے جنھیں 2009 میں براہ راست بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔تاہم ان کی تعیناتی ایک مخصوص صورتحال میں عمل میں آئی تھی کیونکہ پی سی او ججوں کی برطرفی کے بعد عدالت میں کوئی بھی جج باقی نہیں رہا تھا۔ اس صورتحال میں ہائی کورٹ کے انتظامی امور چلانے کے لیے جسٹس قاضی فائز عسیی کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔اطہر من اللہ کا نام سنہ 2007 کی ’عدلیہ بحالی تحریک‘ کے دوران پہلی مرتبہ عوامی سطح پر سامنے آیا تھا۔نو مارچ 2007 سے لے کر تین نومبر2007 اور پھر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ان کے عہدے پر بحالی تک وکلا کی تحریک کے جو سرکردہ رہنما تھے ان میں بیرسٹر اعتزاز احسن، عاصمہ جہانگیر، علی احمد کرد اور حامد خان کے علاوہ اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔اطہر من اللہ کو اس وقت وکلا تحریک کے علاوہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جب افتخار چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے آٹھ ججوں کو ججز کالونی میں نظربند کیا گیا تو ان کے حالات کے بارے میں بھی معلومات اطہر من اللہ سے ہی ملتی تھیں۔سنہ 2014 میں جب اطہر من اللہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا
تو اس وقت وکلا برادری میں یہ تاثرعام تھا کہ ان کی تعیناتی جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سفارش پر ہی عمل میں آئی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کو ایک دھیمے مزاج کا انسان سمجھا جاتا ہے اور عدالت میں سماعت کے دوران کبھی وہ بلند آواز میں ریمارکس بھی نہیں دیتے دکھائی دیے۔جسٹس اطہر من اللہ کے اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے میں دیکھا جائے تو قسمت کا بھی عمل دخل ہے۔حال ہی میں عہدے سے برطرف کیے جانے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی سنیارٹی لسٹ میں جسٹس اطہر من اللہ سے اوپر تھے اور اگر انھیں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر عہدے سے نہ ہٹایا جاتا تو وہ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے۔ماضی قریب میں جسٹس اطہر من اللہ کے کچھ فیصلوں پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا۔یہ جسٹس اطہر من اللہ ہی تھے جنھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کو نااہل قرار دیا تھا۔ ان کا فیصلہ بعد میں سپریم کورٹ میں چیلنج ہو کر تبدیل ہوا تاہم سوشل میڈیا پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے ان کی تعریفوں کے پل باندھے۔لیکن کچھ عرصے کے بعد جب جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے اُنھیں رہا کرنے کا حکم دیا تو اسی سوشل میڈیا پر جسٹس اطہر من اللہ کو نہ صرف ہدف تنقید بنایا گیا بلکہ ان کے خلاف نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔بات یہاں تک بگڑی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامیہ کو اس سلسلے میں مقدمہ درج کروانا پڑا اور تب کہیں جا کر جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ رکا تھا۔.
اے پی پی اردو نیوز سروساہم ترین—قومی اسمبلی اجلاس۔۔۔وزیراعظممیثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا،فتنہ الخواج اوردشمنان پاکستان کی حرکتوں کا اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اوراب بھی منہ توڑجواب دیں گے ، وزیراعظم محمدشہبازشریف کاقومی اسمبلی میں خطاباسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمدشہبازشریف نے کہاہے کہ میثا ق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کاخواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا ہے،افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،فتنہ الخواج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، پہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اور اب بھی منہ توڑجواب دیں گے، خواہش ہے پاکستان سمیت پوراخطہ ترقی اور خوشحالی کاگہوارہ بن جائے، قومی یکجہتی اوروفاق کیلئے 100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعداپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ آج اس ایوان نے یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے قومی اتحاد اوریگانگت کوفروغ دیاہے جس پرتمام سیاسی جماعتوں اوران کے قائدین کا مشکورہوں، کل ہمارے انتہائی شفیق ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی صاحب اللہ کوپیارے ہوگئے،وہ استادوں کے استاد تھے اورپوری زندگی لکھائی پڑھائی میں گزاری،جب میدان سیاست میں قدم رکھا تو ذمہ داری اورعزم کے ساتھ مسلم لیگ کا ساتھ نبھایا، قائد نواز شریف کے ساتھ ان کی وابستگی ضرب المثل تھی، اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ اوراہلخانہ کوصبرجمیل عطا ءفرمائے۔انہوں نے کہاکہ کل وانا میں دہشت گردوں نے ایک بارپھردہشت گردی کابازارگرم کرنے کی گھٹیا اور مذموم حرکت کی ،اس واقعہ نے سانحہ اے پی ایس کی یاد تازہ کیں، اللہ تعالیٰ کاشکر ہے کہ خوارج جس میں بدقسمتی سے افغانستان کے لوگ شامل تھے، وہ تمام کے تمام جہنم رسید ہوئے اورتمام کیڈٹس اورٹیچرز کوبحفاظت نکالاگیا، میں اس پرپوری قوم کومبارکبادپیش کرتا ہوں اورمسلح افواج کا شکریہ اداکرتا ہوں جنہوں نے اعلیٰ پایہ کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کامظاہرہ کیا، اسی طرح کل اسلام آباد میں دہشت گردی کااندوہناک واقعہ ہوا، دہشت گردوں نے جوڈیشمل کمپلیکس کونشانہ بنایا اور افراتفری میں اپنے آپ کودھماکہ سے اڑادیا جس میں وکلاء سمیت 12لوگ شہید ہوگئے اور 4موت و حیات کی کشمکش میں ہیں، ہم تمام شہدا ء کے بلندی درجات اورزخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہیں،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان واقعات میں خارجی ہاتھ نمایاں ہے، کل میں نے بیان دیا کہ فتنہ الخوارج میں ہندوستانی ہاتھ شامل ہے اوراس میں بدقسمتی سے ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کے فٹ پرنٹ نظرآرہے ہیں، اس پرہندوستان کی حکومت کی جانب سے ٹویٹ آیا کہ الزامات غلط ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان میں جعفرایکسپریس پرحملہ کے ثبوت ہم پوری دنیا کے سامنے لے کرآئے کہ کس طرح ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغانستان سے متحرک تھے اوردہشت گردوں کارابطہ ان کے ساتھ تھااورآگے ان کا رابطہ ہندوستان میں ان کے حمایتیوں سے تھا،یہ حقائق ہم نے پوری دنیا کے سامنے پیش کئےجس کوکسی نے چیلنج نہیں کیا اورنہ ہی اس کی تردید کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ فتنہ الخوارج اور دشمنان پاکستان کو اطمینان اورپوری قوت سے کہناچاہتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا ہمیں اچھی طرح سے علم ہے، ان کوپہلے بھی منہ توڑجواب دیاتھا اوراب بھی منہ توڑجواب دیں گے، پاکستان کی ترقی اورخوشحالی کی راہ میں ان کو قطعی طور پر رکاوٹیں ڈالنے نہیں دیا جائے گا، حال ہی میں دوحہ اور استنبول میں امن مذاکرات ہوئے جس میں پاکستان نے شرکت کی، ہماری افغانستان کی عبوری حکومت سے ایک ہی شرط تھی کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دہشت گردگروپوں کو افغانستان کی سرزمین پاکستان، پاکستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کرنے سے روکاجائے، آئے روز ہماری افواج بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں ان کامقابلہ کر رہی ہوتی ہیں ، ہرروز ہمارے افسراورجوان شہید ہورہے ہیں،پاکستان کے عظیم کڑیل جوان جام شہادت نوش کرتے ہوئے اپنے بچوں کویتیم کرتے ہیں مگرلاکھوں بچوں کویتیم ہونے سے بچاتے ہیں، اس سے بڑی قربانی کوئی ہو ہی نہیں سکتی جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے ،ہم چاہتے کہ امن قائم ہو اور افغانستان امن میں برابرشریک ہو کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جوپاکستان کیلئے اچھا ہے وہ افغانستان کیلئے بھی اچھا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ جھوٹے سچے وعدے کرے اور پھران گروپوں کولگام نہ دیں، ایک ماہ پہلے جب پاکستان پرحملہ ہوا توان کے وزیرخارجہ متقی دہلی میں تھے،جن افغان بہن بھائیوں کو40سال تک پاکستان نے اپنے وسائل سے کسی بیرونی امداد کے بغیر امداددی اوران کومحسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ یہاں پرپرائے ہیں اوریہ مہمان نوازی ہم کرتے رہیں گے جب تک وہ سکون کے ساتھ اپنے گھروں کونہیں چلے جاتے، 40سال کی مہمان نوازی کاجوصلہ ہمیں دیاگیاہے
وہ پوری دنیادیکھ رہی ہے،اٖفغان حکام کے دہلی کے دورہ کے پیغامات ہمیں اچھی طرح سے سمجھ میں آرہے ہیں، انہوں نے دعوت دی کہ صدق دل کے ساتھ ہمارے ساتھ بیٹھیں اوردہشت گردوں کولگام دیں ہمارے ساتھ وعدہ کریں کہ پوری طرح ہمارے ساتھ چلیں گے تاکہ خطہ میں امن ہو اورپاکستان سمیت پوراخطہ ترقی اورخوشحالی کاگہوارہ بن جائے۔ وزیراعظم نے کہاکہ آج جوترامیم منظورہوئی ہیں اس حوالے سے وہ سب سے پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کے بھی مشکورہیں جو خود بنفس نفیس یہاں پر تشریف لائے اور آج اس پوری کارروائی میں شریک رہے ، میں بلاول بھٹو زرداری، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، چوہدری سالک حسین عبدالعلیم خان، اعجازالحق اور ایمل ولی خان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، اسی طرح ہم سپیکر، ڈپٹی سپیکر ڈپٹی پرائم منسٹر، وزیرقانون، اٹارنی جنرل، قائمہ کمیٹیز اور اس عمل میں شریک تمام اہلکاروں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ ان ترامیم پرمشاورت کے ساتھ کام کیا اس مشاورت کے نتیجے میں یہ ترامیم آج آئین کا حصہ بن گئی ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ میثاق جمہوریت میں بڑے واضح انداز میں آئینی عدالت کے قیام کاوعدہ کیاگیاتھا آج وہ خواب 19 سال بعد شرمندہ تعبیر ہوا مجھے پورا یقین ہے کہ آج محترمہ شہید بے نظیر بھٹو صاحبہ کی روح کو تسکین مل رہی ہوگی اور میرے قائد میاں محمد نواز شریف کے خواب کی تکمیل ہوئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 19 سال اپوزیشن کو میثاق جمہوریت یاد نہیں آیا، آج ان کو آئینی عدالت پر تکلیف کیوں ہو رہی ہے،یہ سمجھ سے بالاتر ہے، اختلاف کرنا حق ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں لیکن گالی گلوچ اور دشنام طرازی کو ہمیں ختم کرنا ہوگا،ہمیں ملک کو آگے لے کر چلنا ہے اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان کو پاکستان نے چار دن کے معرکے میں شکست فاش دی اور افواج پاکستان کا نام پوری دنیا میں چمکا تو اس کے نتیجے میں چیف آف آرمی سٹاف کو اس حکومت نے فیڈ مارشل کا لقب دیا انہی دنوں میں بلاول بھٹو کی سربراہی میں ایک وفد نے امریکہ، یورپ کا دورہ کیا اور انہوں نے شاندار سفارتکاری کی اور اپنی سفارتی مہارت کے ذریعے وہاں پر پاکستان کے موقف کواجاگرکیا، دہائیوں بعد ہم نے جنگ جیتی اورسفارتی محاذ پر بھی کامیابی سمیٹی،ہندوستان بالکل بے بسی کی تصویر بنا رہا، مودی بالکل بے بسی کا شکار تھا، آج وہ تنہائی کا شکار ہیں،ہمیں اس حوالے سے پوری طرح قومی یکجہتی اور قومی اتحاد کو برقرار رکھنا چاہئے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے آئین کے دائرے میں رہ کر بھرپور معاونت کی، میں نے ان کے پاس جاکر گوشگزار کیا کہ عدالت عظمیٰ،عدالت عالیہ اور نچلی عدالتوں میں ریونیو کے کیسز 10،10 سال سے التواء میں پڑے ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے کمال مہربانی سے اس کا نوٹس لیا، بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ اس اجلاس کے نتیجے میں میرٹ پر ان عدالتوں نے فیصلے کئے اور آج قومی خزانے میں اربوں روپے ا ٓچکے ہیں، ہم اس بات کی بھی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل اور لا ء اینڈ جسٹس کمیشن جیسے اہم اداروں کی بدستور سربراہی کرتے رہیں گے، اس کے ذریعے ہمیں ان کی رہنمائی حاصل رہے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو معرکہ حق میں جو شاندار کامیابی اللہ نے عطاء فرمائی،ہندوستان سے ہم نے وہ وہ قرض اتارے اور بدلے لئے کہ شاید دیکھتی آنکھ دنگ رہ گئی، سنتے کانوں کو یقین نہیں آرہا تھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بے پایہ فضل و کرم تھا، آج ہم جس ملک میں جاتے ہیں وہاں کس طرح پانچ قدم آگے چل کر پاکستان کاخیرمقدم کیاجاتاہے اس سے بڑی اور عزت کیا ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی عزت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال مہربانی سے چار چاند لگائے،اس کے لئے جرأت مندانہ فیصلے ہوئے یہ جری کردار اور اخلاص کا نتیجہ ہے، یہ باہمی مشاورت کا نتیجہ ہے یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا نتیجہ ہے،یہ فجر کے وقت اللہ کے حضور سربسجود ہوکر دعا مانگنے کا نتیجہ ہے،دلیری کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے سفارتی معاشی اور عسکری محاذ پر عزت دی ہے اور اس سے قبل دہائیوں تک پاکستان کو اس طرح کی عزت نصیب نہیں ہوئی، اسی وجہ سے حکومت نے تمام حلیف جماعتوں کی مشاورت سے سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا دیا تو پوری قوم نے اس کو سراہا اور آج اگر اس کو آئینی تحفظ دینے کے لئے آئینی ترمیم کا حصہ بنا رہے ہیں تو اس میں کوئی بری بات نہیں ہے، قومیں اپنے ہیروز کو یوں ہی عزت دیتی ہیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کو دن رات یاد کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بڑی عظیم اور جری قوم ہے ہم اپنے ہیروز کو اپنے شہیدوں کو عزت دینا اور عزت کرانا بھی جانتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بلاول بھٹو میرے انتہائی قریبی ساتھی ہیں اور چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں انہوں نے اپنی تقریر میں بڑی اچھی باتیں کی ہیں،انہوں نے بڑی پرجوش اور متعلقہ تقریر کی ہے اور مجھے بھی اچھے القابات سے نوازا ہے،اس پر میں ان کا شکر گزار ہوں،ان کی اور میری سوچ میں کوئی فرق نہیں اگر صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا، یہ چار اکائیاں مل کر پاکستان بنتا ہے،یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مشاورت کے بغیراٹھارویں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ میں کوئی ترمیم ہو سکے،ہمیں اس کا پوری طرح احترام ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے جتنی بھی ترقی کریں ،ہمیں خوشی ہوگی، اس میں کوئی دو رائے نہیں، جس چیز سے پاکستان اور وفاق کو مضبوط ہوتا ہے،میں اس کے ساتھ ہوں جو پاکستان اور وفاق کو کمزور کرتی ہے وہ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ جو چیزپاکستان کے لئے مفید نہیں ہے جیسے کالا باغ ڈیم ہے اگراس پراتفاق رائے نہیں ہے توقومی یکجہتی پر100کالاباغ ڈیم بھی قربان ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کریں گے،سب سے زیادہ قربانیاں وہ دے رہے ہیں،پورے ملک میں امن وامان برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے ان کے اخراجات وفاق برداشت کرتا ہے۔میری استدعا ہے کہ ہم بیٹھ کر بات کریں گے جہاں چاروں اکائیاں نہیں مانیں گی کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے،وفاق ہے تو ہم ہیں۔ہم سب وفاقی اکائیاں ہیں مل کر دکھ سکھ ختم اور خوشیاں بانٹنی ہیں۔
*اسلام آباد دھماکا: حملہ آور کو جوڈیشل کمپلیکس تک لانیوالے موٹرسائیکل رائیڈر کو پکڑ لیا گیا*اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش دھماکا کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور جوڈیشل کمپلیکس تک کیسےپہنچا اس حوالے سے پولیس نےتحقیقات میں سراغ لگا لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نےحملہ آور کو جوڈیشل کمپلیکس تک لانے والے موٹرسائیکل رائیڈر کو پکڑلیا۔پولیس ذرائع کے مطابق آن لائن موٹرسائیکل رائیڈر نے حملہ آور کو 200 روپے میں کچہری تک پہنچایا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور کے گولڑہ تک پہنچنے سے متعلق بھی سیف سٹی کیمروں کی مدد سے سراغ کی کوششیں جاری ہیں۔اس سے قبل تحقیقاتی اداروں کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خودکش حملہ آور جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچا، حملہ آور پیرودھائی سے موٹر سائیکل پر جی الیون کچہری آیا۔
*قومی اسمبلی نے بھی 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی**اسلام آباد۔۔۔ قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم پیش کر دی گئی**اسلام آباد ۔۔۔ 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں 231 اراکین نے ووٹ دے**اسلام آباد ۔۔ 4 اراکین نے مخالفت کی* *اسلام آباد۔۔۔ وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم پیش کی تھی*
مدرسے غیر قانونی ہیں جبکہ چکلے، مساج سینٹر اور شراب خانے مکمل قانونی زمین پر بنے ہوئے ہیں شرم کرو وزیر صاحب ان مدرسوں والوں نے ہی تیرا جنازہ پڑھانا اے
چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کچھ دیر میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم سے ملاقات کریں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکن ہائی کمشنر،ٹیم منیجر سے ملاقات، مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی، وزیر داخلہ محسن نقوی نے سری لنکن ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی کی ضمانت دی، سری لنکن کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو دورہ پاکستان مکمل کرنے کی ہدایت کردی(دورہ ادھورا چھوڑنے والےکھلاڑی پر 2 سال کی پابندی لگے گی)
*اپڈیٹ**11 نومبر 2025، کیڈٹ کالج وانا، جنوبی وزیرستان*کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے اب تک 115 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا ہے۔ *سیکیورٹی ذرائع**کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجین کو کالج کی ایک مخصوص عمارت تک محدود کر دیا گیا ہے، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔* سیکیورٹی ذرائعجس عمارت میں افغان خوارج موجود ہیں، وہ کیڈٹس کی رہائشی عمارتوں سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ ابھی تک تمام کیڈٹ محفوظ ہیں*سیکیورٹی ذرائع**افغان خوارجیوں کی کالج میں موجودگی کے باعث کیڈٹس کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن نہایت احتیاط سے جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع*کالج کی حدود سے کیڈٹس کو نکالنے کا عمل بتدریج جاری ہے۔ *سیکیورٹی ذرائع*اس وقت بھی کالج کے اندر تقریباً 535 افراد موجود ہیں۔ *سیکیورٹی ذرائع*وانا کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجیوں کے خلاف آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔ *سیکیورٹی ذرائع*واضح رہے کہ 10 نومبر کو افغان خوارجیوں نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی۔ *سیکیورٹی ذرائع*دھماکے سے کالج کا مرکزی دروازہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا، جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ *سیکیورٹی ذرائع*پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے دو خوارجیوں کو موقع پر ہی جہنم واصل کر دیا تھا۔ *سیکیورٹی ذرائع*معصوم قبائلی بچوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ پاکستان کی خوشحالی سے۔دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے
وزیر دفاع خواجہ آصف ہم حالت جنگ میں ہیں۔ جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ پاک فوج یہ جنگ افغان پاکستان کے سرحدی علاقے اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں لڑ رہی ہے اسے اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں پر ہونے والے آج کے خودکش حملے کو ویک اپ کال کے طور پر لینا چاہیے: یہ پورے پاکستان کی جنگ ہے، جس میں پاک فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ہے اور عوام کو محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ اس ماحول میں کابل کے حکمرانوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی زیادہ امید رکھنا فضول ہوگا۔ کابل کے حکمران پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتے ہیں لیکن اس جنگ کو اسلام آباد تک پہنچانا کابل کی طرف سے ایک پیغام ہے، الحمد للہ پاکستان جواب دینے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔
ایس ایس جی کمانڈوز نے کیڈٹ کالج وانا میں موجود 3 دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیاکیڈٹ کالج پر خودکش حملہ آور کے علاوہ 4 دہشتگردوں کو ہلاک کرلیا گیاآپریشن کے دوران کیڈٹ کالج کے کسی بھی طالبعلم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا
محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دیاسلام آباد حملے کے بعد پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹمحکمہ داخلہ پنجاب نے تمام اضلاع میں سکیورٹی پلان پر من و عن عملدرآمد کی ہدایت کیدہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر پیشگی اقدامات کی ہدایت کی گئی محکمہ داخلہ کی پنجاب کے حساس، اہم اور گنجان آباد علاقوں میں سکیورٹی بڑھانے کی ہدایتآئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور، تمام آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی آوز کو ہدایت جاریپنجاب بھر میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا مراسلہ جاریانتہاپسندی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مربوط اور فعال اقدامات اٹھائے جائیں، محکمہ داخلہ پنجابشہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے
سینیٹ سیکرٹریٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹسینٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایوان بالا کے اجلاس کا دن اور وقت تبدیل کر دیا گیا۔ اجلاس 13 نومبر 2025 شام 4 بجے کی بجائے اب 12 نومبر شام 5 بجے ہو گا ۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے
خودکش حملہ اور ایجنسی ۔ اظہر سیدپاکستان کی ایجنسیاں بیک وقت سی آئی اے ،را،موساد اور خاد کو افغانستان میں ناکوں چنے چبوا چکی ہیں۔لال مسجد آپریشن ایک تزویراتی غلطی تھی جس نے افغانستان میں پاکستان سے عاجز آئے امریکیوں کو بدلہ لینے کیلئے طالبان میں نفوز کرنے کا موقع ملا ۔بنے بنائے تربیت یافتہ اور مقامی آبادیوں کا حصہ جنگجو پاکستان مخالف ایجنسیوں کی پراکسی بن گئے۔پاکستان پر 2008 سے 2012 کے دوران وہ جنگ مسلط کی گئی جو دنیا کی حالیہ تاریخ میں اپنی نوعیت کی واحد جنگ تھی ۔پنجاب میں آئی ایس آئی کے دفاتر خودکش حملوں کا نشانہ بنائے گئے،جدید ترین طیاروں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا تھا۔ایک لیفٹیننٹ جنرل جی ایچ کیو سے نکلتے وقت خود کش حملہ آور کا نشانہ بنا ۔دو بریگیڈیئر خود کش حملہ آوروں کا نشانہ بنے ۔دہشت گردوں کو جدید ترین مواصلاتی ٹیکنالوجی حاصل تھی ،مصنوعی سیاروں کی مدد حاصل تھی ۔قربانیاں بے شمار دی گئیں ۔ایک دن آیا آئی ایس آئی تمام مخالف ایجنسیوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئی۔دہشتگردی کے تمام نیٹ ورک تباہ کر دئے گئے ۔ہماری ایجنسیاں ایران ایسی نہیں ہیں جہاں ایک ہی رات میں اسرائیل درجنوں کمانڈر اور سائنسدان اپنی پراکیسوں کے زریعے مار دیے ۔ہماری ایجنسیاں بہت بہتر اور بہت آگے کی ہیں۔اسلام آباد کچہری میں خودکش حملہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا تھا۔انہیں خیبرپختونخوا میں محدود کر کے ختم کیا جا رہا تھا۔پھر خودکش بمبار کیسے دارالحکومت پہنچ گیا۔ایسے نہیں ہوتا کسی نے بارود بھری جیکٹ پہنی اور دھماکہ کرنے پہنچ گیا۔ایک مکمل نیٹ ورک ہوتا یے۔سہولت کار ہوتے ہیں۔مقامی آبادیوں میں محفوظ ٹھکانہ ہوتا ہے۔بارود کی ترسیل ہوتی ہے۔جیکٹ بنتی ہے ۔محفوظ نقل و حمل ہوتی ہے ۔وفاقی دارالحکومت میں حملہ کا مطلب یہ ہے پاکستان مخالف دہشتگرد نیٹ ورک ماضی کی طرح سلیپر سیل بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔
ایجنسی یقینی طور پر کام شروع کر چکی ہو گی۔سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ جاری ہو گی ۔حملہ اور کی نقل و حمل کو جانچا جا رہا ہو گا ۔ہمیں لگتا ہے کچی آبادیوں میں مقیم افغان باشندوں پر ایک بڑے کریک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔جی الیون کچہری کے ساتھ ہی میرا بادی غیر قانونی کچی بستی ہے ۔یہاں غیر قانونی مدارس بھی ہیں۔دارالحکومت کی سبزی اور فروٹ ہول سیل منڈی کے ساتھ گندے نالے کے کنارے بھی ایک کچی بستی ہے جہاں بڑی تعداد میں افغان مہاجرین موجود ہوتے تھے۔راولپنڈی کی دو بڑی آٹو مارکیٹ سلطان کا کھو اور مٹھو کا احاطہ میں کافی تعداد میں افغان مہاجرین برسوں سے کام کر رہے ہیں ۔دہشتگرد نیٹ ورک نے سلیپر سیل بنائے ہیں یقینی طور پر انہی علاقوں میں ہیں جہاں افغان مہاجرین کے ٹھکانے ہیں۔ایجنسی یقینی طور پر تمام ممکنہ ٹھکانوں کی جانچ کرے گی تاکہ مستقبل میں دہشتگرد کامیاب نہ ہو سکیں۔
سینیٹر عرفان صدیقی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پاکستان ایک شفیق، باوقار اور اصول پسند آواز سے محروم ہو گیا ہے۔ انہوں نے دہائیوں تک اپنے قلم، اپنی علمی و ادبی کاوشوں، اپنی عوامی خدمت اور پارلیمان میں اپنی ذمہ دارانہ کردار کے ذریعے ہمیشہ سوچ سمجھ کر، خلوص کے ساتھ اور وقار کے ساتھ قوم کی خدمت کی۔سینیٹر عرفان صدیقی کا مکالمے، اعتدال اور جمہوری اقدار سے عزم انہیں تمام سیاسی حلقوں میں عزت اور احترام دلاتا تھا۔ وہ دل کے استاد اور عمل کے سیاست دان تھے، جو تلخی کے بجائے دانائی اور شائستگی پر مبنی سیاست کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی روح کو جنتِ فردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا کرے، اور ان کے اہلِ خانہ کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبر دے۔ آمین۔پاکستان کی علمی، فکری اور سیاسی دنیا میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ ان کی شفقت بھری رہنمائی میسر رہی، جس کی یادیں ہمیشہ میرے لیے قیمتی اثاثہ رہیں گی
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے اسلام آباد میں منعقدہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے ملائیشیا کے ڈپٹی پریذیڈنٹ داتوک نور جزلان بن تن سری محمد نے اس آج پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، اقتصادی روابط اور مختلف شعبہ جات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط اور نئی جہت فراہم کرے گا۔ اسپیکر نے اپنے ملائیشین ہم منصب کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیم، سیاحت، حلال فوڈ، اور پام آئل کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں
۔ اسپیکر نے عوامی سطح پر روابط اور تجارتی تعلقات کے فروغ کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ گوادر پورٹ پورے خطے میں رابطوں اور اقتصادی تعاون کا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو دونوں ممالک کے لیے مشترکہ اقتصادی مفادات کا ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اس موقع پر مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز اور منفی پروپیگنڈا کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے مسلم اُمہ کے مابین اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
سردار ایاز صادق نے ملائیشیا کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی و اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔داتوک نور جزلان بن تن سری محمد نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں کی گئی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر نے پاکستان کے جمہوری عزم اور علاقائی امن کے لیے کوششوں کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔