History repeats itself — just as Field Marshal Ayub Khan once spoke those historic words to John F. Kennedy, Field Marshal Asim Munir has now echoed the same message before President Trump! Diplomatic and military circles across the world are in shock — “Pakistan’s voice has once again thundered in Washington!
*دوحہ مذاکرات کا واحد ایجنڈا — پاکستان کا افغا!نستان کو ایک صاف واضح پیغام!
*1. آج پاکستان اور افغا!نستان کے درمیان ہونے والی بات چیت صرف ایک واضح نکتے پر مرکوز ہے: “پاکستان کے اندر فیتنہ الخوا-رج اور دہ-شت- گر-دی کی حمایت بند کرو”.2. برسوں کی بات چیت کے بعد پاکستان کی برداشت ختم ہو چکی ہے اور اب صرف زبانی بیانات پر اکتفا نہیں کیا جائے گا؛ پاکستان یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ جہاں سے بھی خطر-ہ اٹھ رہا ہو، اسے فوراً اور وہاں ہی بے اثر کر دے۔3. پاکستان نے دہ-شت- گر-دی کے خلاف جاری جنگ میں اب تک 95,000 سے زائد جانیں دی ہیں اور پورے عزم و استقامت کے ساتھ لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔4. تاہم، افغا!نستان کی جانب سے بھارتی پراکسی ‘فیتنہ الخو-ارج’ کی مسلسل جسمانی اور مادی معاونت قابل قبول نہیں رہی اور مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔5. یہ افغا!نستان اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے کہ وہ اس بھارتی پراکسی سے نجات حاصل کریں تاکہ پاکستان اور افغا!نستان کے درمیان تعلقات تعمیری اور باہمی فائدے والے رہیں۔6. افغا!ن طا!لبان حکومت کے سامنے واضح انتخاب ہے: یا تو استحکام کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، یا انتشا!ر کے حامیوں کے ساتھ۔7. دوغلا پن اب مزید قابل قبول نہیں — نہ ہی اسے برداشت کیا جائے
جوابی کارروائی کا حق ہے لیکن تحمل کا مظاہرہ کیا، طالبانافغان طالبان کے بقول پاکستان کی طرف سے کیے گئے تازہ حملوں کا جواب دیا جا سکتا ہے لیکن امن کے لیے تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ادھر بھارت نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے تاہم ’’مذاکراتی ٹیم کی عزت اور وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے‘‘ افغان فورسز کو نئی فوجی کارروائی سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان ہفتے کے روز قطر میں پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات سے قبل سامنے آیا، جو ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب پاکستان نے جمعہ کو افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا میں فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں سے دونوں ممالک کے درمیان دو روزہ جنگ بندی کا خاتمہ ہو گیا، جو سرحدی جھڑپوں کے بعد عارضی طور پر نافذ کی گئی تھی۔پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے تحریک طالبان پاکستان سے منسلک حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں پر کیے گئے۔ پاکستانی حکومت اس گروپ پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے شمالی وزیرستان میں پاکستانی نیم فوجی اہلکاروں پر حملے کیے۔مزید پڑھنے کے لیے کمنٹس میں موجود لنک کو کلک کیجیے۔
🚨 پاکستانفورسز کا بنوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، فتنۃ الخوارج کے گروپ سرغنہ سمیت 2 دہشتگرد ہلاکسکیورٹی فورسز نے بنوں کے مغل کوٹ سیکٹر میں کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کر کے فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن میں فتنہ الخوارج کے طارق کچھی گروپ کی تشکیل کو موثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے گروپ سرغنہ طارق کچھی اور حکیم اللہ عرف ٹائیگر کو ہلاک کیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ فتنۃ الخوارج کے ہلاک دہشت گردوں سے بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خارجی طارق کچھی کی تشکیل پچھلے 2 سال سے دہشت گردانہ کارروائیوں میں متحرک تھی، طارق کچھی کی تشکیل فتنہ الخوارج طالبان کیلئے بھتہ خوری میں بھی ملوث تھی۔سیکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ خوارج طارق کچھی دہشت گردوں کی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کیلئے سہولت کار تھا۔
پاکستان کی کابل کو آخری وارننگ — ‘امن چنو ورنہ نابود کر دیا جائے گا’؛ فیلڈ مارشل کی طالبان کو سخت خبردار، ‘پروکسیز کو خاک میں ملا دیں گے’
فیلڈ مارشل نے بھارت کے جھوٹے بیانیے مسترد کر دیے — ’فتنہ الہند‘ اور خوارج کے نیٹ ورک بے نقاب، کشمیر کے حقِ خودارادیت کی اقوامِ متحدہ قراردادوں کے مطابق بھرپور توثیق!
جنگ کی کوئی گنجائش نہیں! بھارت کو پاکستان کا ایٹمی انتباہ — فیلڈ مارشل کا سخت پیغام، آپریشن ’معرکۂ حق‘ اور ’بنیان المرصوص‘ میں پاک افواج کی بھرپور برتری، رافیل طیارے تباہ، دشمن کے عزائم ناکام!
فیلڈ مارشل کا کیڈٹس کو گمراہ کن پروپیگنڈا کے خلاف جہاد کا حکم — قومی قیادت، نوجوانوں اور میڈیا کو خراجِ تحسین؛ عوام و افواج کے اٹوٹ رشتے اور پاک–سعودی دفاعی معاہدے کو خطے کے امن کی ضمانت قرار دیا!
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تعلق او ٹیس منگلا کے 17 ویں کورس سے ہے ۔ جب ان کو آرمی چیف بنایا جا رہا تھا تو بنانے والے نے اپنے سامنے موجود ناموں کے حوالے سے پوچھا تھا کہ ان میں سب سے زیادہ دباؤ کون برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ سوال جن تین چار لوگوں سے پوچھا گیا ، سب نے جنرل عاصم منیر کا نام لیا ۔ ان کے حوالے سے ایک اور بات یاد رکھنے کی ہے کہ دونوں پرائم ایجنسی کے یہ ڈی جی رہے ۔ ڈی جی آئی کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سروایئیو کیا اور چیف بنے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چیف انٹیلی جنس اور فوجی مزاج کا گڈ مکس ہے۔ مخالف جب جارحیت کرتا ہے تو اس کو آگے آنے دینا ، غلطی کرانا ، وہ طاقت یا کامیابی کے زعم میں آگے آتا ہے اور پھر چاروں ٹانگوں سے پکڑا نیکسٹ سٹاپ اڈیالہ ہو جاتا ۔ پھر اندر بیٹھا بڑی گیم لگاتا پایا جاتا ہے یہ غلطی ماہرنگ سے ہوئی ، یہی غلطی منظور پشتین نے کی ، یہی اب ٹی ایل پی کر بیٹھی ۔ عدالت کی چڑھائی اور پھر اترائی کو دیکھیں تو یہی پیٹرن دکھائی دیتا ہے ، سہیل آفریدی اسی روٹ پر روانہ ہونے کو ہے تو نتیجہ بھی پھر وہی نکل سکتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔انڈیا نے جب اپنی مانگ میں سندور بھرنے کی ٹھانی تو پاکستان نے جواب دینے میں پورا وقت لیا ، عالمی رابطے ہوتے رہے ، سب کی سنی سب کو انکار کیا اور جو کرنا تھا جو کرنا چاہئے تھا وہ کیا ۔ اس پریشر کا اندازہ کریں ، یہی انداز ایران کے سٹرائک اور جواب میں دکھائی دیا ۔
افغان طالبان سے بھی یہی غلطی ہوئی ہے ؟ ائر سٹرائک جس کا پاکستان نے ذمہ تک نہیں لیا تھا ، اسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا ۔ اس کے جواب میں پورے باڈر کو گرم کر دیا ، بھرپور جواب ملا اور اب تھریش ہولڈ (برداشت کا لیول ) بہت نیچے لے گیا پاکستان کہ اب اگر پاکستان میں دہشت گرد کاروائی ہوئی تو جواب افغانستان میں دیا جائے گا ۔ اب کام کرنے کے بعد غور فکر ہو رہا ہے ، آپس میں ستا دہ لاسہ یعنی تمھاری وجہ سے ہوا کہا جا رہا پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں افغان عوام کو ایک دن آزادی اور نمائندہ حکومت کی نوید مسرت بھی سنا دی ہے ۔ فرض کریں اگر پاکستان نے جارحیت کی ہے تو پاکستان کی مذمت کرنے کی ہمت افغانستان کے ساتھ ٹچ بٹنوں کی جوڑی بنتا دکھائی دیتا ہمارا بھارت مہان بھی نہیں کر سکا ۔ سفارتی سطح پر ڈھکے چھپے لفظوں میں یہی کہا گیا کہ اچھی طرح ااپنی تسلی کر لیں جب ٹھنڈ پڑ جائے پھر فائر بندی کریں اپنیی طبعیت سہولت مطابق ۔۔۔۔۔۔۔۔نور ولی محسود نے ٹی ٹی پی کی ساخت تبدیل کر کے اس میں قوم پرستی کا رنگ بھرا ، سابق فاٹا ، خیبر پختون خوا اور پختون نیشنل ازم کو ایشو بنایا ، سیاسی ایشوز پر موقف دیا جو پی ٹی آئی کے ساتھ الائنمنٹ میں تھا ۔ پی ٹی ایم کا بیانیہ بھی ادھر ہی مل گیا ، پی ٹی آئی کی اپنی ساری گرج ہی فوج کے خلاف تھی کہ اسی نے چاہا اور پھر نکالا تھا ۔ بلوچستان کے اپنے مستقل مسائل فوج ریاست کے خلاف جہاں بہت شدت پسند مخالفت سامنے آئی ، وہیں ریاست کو قیام کے بعد پہلی بار اتنی بھرپور عالمی حمایت ملی ہے ۔ لوکل مخالفت کو بیرونی سپورٹ ملنے کے بعد ہارڈ سٹیٹ کے انداز میں ڈیل کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان کو نو دریافت قبولیت طاقت سفارتی اہمیت اس کی فوجی طاقت کے مظاہرے نے دلوائی ہے ۔ اندرونی مسائل کو حل کرنے کے لیے سیاست جس کی اساس حکمت صبر اور راستے نکالنا ہوتی ہے اس کو ایکٹیو کرنا پڑے گا ۔ سیاست ہماری فریج میں لگی پڑی ہے ۔ جنہیں ریاست سے مسائل ہیں اور وہ زور آزمائی کر رہے ہیں ، وہ ریاست کی نو دریافت طاقت اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے اقدامات کر رہے ہیں عام بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سروائیو کرے ۔
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بند کرنے کے بہانے افغانستان نے پاکستان سے نکالے جانے والے افغان شہریوں کو بھی روک دیا۔چمن اور تورخم بارڈر پر پاکستان انہیں جانے کی اجازت دے چکا ہے افغان داخلے کی اجازت نہیں دے رہے۔
دوحہ، قطر — ڈونلڈ جے ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا۔۔۔۔۔خبر آئی تھی کہ قطر امریکہ میں ائیر بیس تعمیر کرے گا لیکن آج بدھ کے روز قطر کے امیر نے مطالبہ کیا کہ اڈاہو ایئربیس جس کا امریکہ نے قطر سے وعدہ کیا گیا تھا اس کی بجائے مار-ا-لاگو میں تعمیر کیا جائے۔ ایک گرما گرم گفتگو میں، شیخ تمیم بن حمد الثانی نے مبینہ طور پر ٹرمپ سے کہا، “ہم نے آپ کو 400 ملین ڈالر کا 747 لگژری جہاز دیا اس لئے آپ ہمیں کسی ایڈاہو جیسی جگہ میں نہ پھنسائیں۔۔۔۔۔ٹرمپ کی ہچکچاہٹ کے چند گھنٹے بعد، امریکہ کی قومی سلامتی کے ماہرین نے قطریوں کے مار-اے-لاگو جانے پر خطرے کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ انہیں کلب کے عوامی غسل خانوں میں محفوظ انتہائی حساس خفیہ دستاویزات تک رسائی حاصل ہوگی۔
جبکہ امیر قطر نے ٹرمپ کے کلب میں “بڑے اپ گریڈ” کرنے کا وعدہ کیا ہے مار-ا۔لاگو ایک سیاحتی مقام ہے اور یہ 1985 سے ٹرمپ کی ملکیت میں ہے۔ مار۔ا۔لاگو Mar-a-Lago ہسپانوی الفاظ ہیں اسپینش زبان میں Mar سمندر کو کہتے ہیں اور Lago جھیل کو کہتے ہیں اور A کامطلب “To” ہوتا ہے تو اس کا مطلب بنا “سمندر سے جھیل تک”۔۔۔ اس سے آپ کو امریکہ کی ماضی کی تاریخ کا پتہ چلتا ہے امریکہ کے اکثر علاقے Spain کی کالونی تھے۔
حماس کی حیرت انگیز حکمت عملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ 25 مارچ 2025 کی دوپہر تھی، جب شمالی غزہ کے “بیت لاہیا” میں ایک مجمع اکٹھا ہوا۔ وہ سینکڑوں لوگ اُس روز سفید جھنڈوں کے ساتھ نکلے تھے۔انہوں نے ایک جگہ پہنچ کر نعرے لگانا شروع کر دیے:”ہم جنگ نہیں چاہتے!””حماس نے ہمیں برباد کر دیا!”عالمی میڈیا فوراً ان کی طرف متوجہ ہوا۔ اسرائیلی چینلز پر تجزیہ نگاروں کے چہرے کھل اٹھے۔وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہے تھے:”دیکھا؟ اب غزہ میں خود فلسطینی حماس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں!”پھر ان مظاہرین نے چلنا شروع کیا۔ ان کا مارچ “بیت لاہیا” سے شروع ہو کر بیت حانون، غزہ شہر سے ہوتا ہوا آخرکار خان یونس تک پہنچا، جہاں وہ کافی دیر تک نعرے لگاتے رہے، پھر منتشر ہو گئے۔اس پر اگلے کئی روز تک عالمی میڈیا میں قیاس آرائیاں ہوتی رہیں، مگر پھر یہ واقعہ وقت کی گرد میں دب کر اوجھل ہو گیا۔اب جنگ بندی کے بعد اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پونے پر جب ان مظاہروں کی حقیقت کا پردہ فاش کیا، تو دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیاں حیران رہ گئیں۔اسرائیل کے تجزیہ کار اور موساد کے افسران تو کچھ بولنے کے قابل نہ رہے۔قیدیوں نے بتایا کہ اس سال مارچ میں، جب اسرائیلی فوج کا مشرقی غزہ پر دباؤ بہت بڑھ گیا، تو حماس نے انہیں جنوب میں خان یونس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت غزہ کے چپے چپے پر اسرائیلی ڈرونز منڈلا رہے تھے، اور اسرائیلی جاسوس اور غدار ان قیدیوں کی تلاش میں پھر رہے تھے۔ ان قیدیوں کی اطلاع دینے والے کے لیے پانچ ملین امریکی ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا۔ زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعے انہیں اتنی دور منتقل کرنا ممکن نہیں تھا۔ایسے میں اسرائیلی قیدیوں کی منتقلی کا ٹاسک القـسام بریگیڈز کی خفیہ “یونٹِ الـظل” کو دیا گیا۔ جس نے اپنے کارکنان اور وفاداروں پر مشتملایک “حماس مخالف” مظاہرہ منظم کیا۔
مظاہرے میں شامل افراد نے اپنے نعروں اور عوامی شور و غوغا کو ایک پردہ بنا لیا۔جلوس کے مرکز میں القسام کے مجاہدین نے قیدیوں کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ قیدیوں کو پہلے ہی مخصوص عربی نعرے سکھا دیے گئے تھے۔جلوس میں قیدیوں کو حماس مخالف نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ ان قیدیوں کو دی جانے والی ہدایات نعروں کے شور میں دب رہیں تھیں۔ اگر کوئی اسرائیلی قیدی چیختا بھی، تو اس کی آواز کسی کو سنائی نہ دیتی۔مشہور اسرائیلی قیدیوں کے چہروں کو چھپانے کے لیے القسام کے جوان اپنے ساتھیوں کو کندھوں پر اٹھا کر آگے چلتے رہے، تاکہ ان کے پیچھے چھپے قیدی کسی کی نگاہ میں نہ آئیں۔ یہ قافلہ کبھی تازہ بمباری کے نشانات سے گزرتا،کبھی آدھی گری ہوئی عمارتوں کے درمیان رکتا، اور پھر آگے بڑھ جاتا۔ آخرکار دوسرے روز خان یونس کے قریب، جب مجمع ایک جگہ رک کر نعرے لگا رہا تھا،تو اسی شور کے دوران قیدیوں کو ایک زیرِ زمین سرنگ کے دہانے میںخاموشی سے داخل کر دیا گیا۔اسرائیلی قیدیوں نے بتایا کہ پورے وقت ڈرونز فضا سے جلوس کی نگرانی کرتے رہے، مگر انہیں اس میں منتقل کیے جانے والے قیدیوں کی بھنک تک نہ مل سکی۔یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی،بلکہ مقابلہ اطلاعات، بیانیوں اور عوامی منظرناموں کی تخلیق کا بھی ہوتا ہے۔ حماس نے ہر محاذ پر اسرائیل اور اس کے حلیفوں کو شکستِ فاش سے دوچار کیا ہے۔خصوصاً قیدیوں کے تحفظ اور نقل و حمل کے لیے اختیار کی گئی خفیہ اور پیچیدہ حکمتِ عملی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔یہ واقعہ صرف ایک جنگی چال نہیں ہے — بلکہ ذہانت، صبر، اور بقا کی جنگ کا وہ نمونہ ہے۔ جو حماس کی مزاحمت کی روح میں رچی بسی ہے۔اور شاید اسی لیے،دنیا کا سب سے طاقتور انٹیلی جنس نیٹ ورک بھی بار بار…حماس سے شکست کھاتا ہے۔#
پاکستان کے نامزد سفیر شفقت علی خان کی صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ایوانِ صدر میں ملاقاتصدر آصف علی زرداری کی جانب سے شفقت علی خان کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکبادصدرِ مملکت نے نامزد سفیر کے سفارتی تجربے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہاپاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عوامی رشتوں پر مبنی ہیں: صدر زرداریمتحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا پُل ہے: صدر زرداریصدرِ مملکت نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان اور خطے کے امن کے لیے تعاون کو سراہاتوانائی، انفراسٹرکچر، معدنیات اور آئی ٹی کے شعبوں میں متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرے گی: صدر آصف علی زرداریتوقع ہے نامزد سفیر دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے: صدر زرداری
ہمیں یہ مت بتائیں کہ آپ نے امریکہ کو شکست دی تھی ہمیں یہ بتائیں کہ یہ لوگ اس شکست کھانے والے امریکہ کے جہاز کے ساتھ لٹک کر فتح یافتہ افغانستان سے کیوں بھاگنا چاہتے تھے ؟جس روس کو افغانستان نے شکست دی تھی ، اسی روس کے بازاروں میں افغان جوتے بیچ کر ، کپڑے بیچ کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں جس برطانیہ کو افغانستان نے شکست دی تھی ، اسی برطانیہ پہنچنے کے لئے کشتی پر بیٹھ کر جان ہتھیلی پر رکھنا بھی قبول ہے ، فتح یاب افغانستان کے شہری کو ، کیوں ؟ نوٹ: میں پرسنلی ، پاکستان ، انڈیا ، بنگلہ دیش کو دنیا کے گندے ترین ، گھٹیا ترین ، رہنے کے نا قابل ممالک کہتا ہوں اور منطق کی بنیاد پر کہتا ہوں ، مجھے جھوٹی باتوں سے نفرت ہے ، میں نے سچ کے پیچھے اپنی ماں تک سے لا تعلقی کو ترجیح دی ، اس نے کہا تو میرا بیٹا نہیں ہے ، میں نے کہا ، آپ کی مرضینعمان عالم
افغانستان میں حقانی اور قندھاری گروپ میں جھڑپیں شروع ۔ہلمند اور قندھار سے شروع ہونے والی جھڑپوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے ۔قندھاری گروپ کے زیر انتظام افغان فوج اور حقانی گروپ کے کنٹرول میں بارڈر سیکورٹی چین آف کمانڈ سے محروم ہو گئیں۔سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ
“فلوٹیلا ہم کشمیر کے لیے بھی پلان کریں گے”، خُریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک کا سینیٹر مشتاق کے ساتھ عزم۔مشال ملک نے سینیٹر مشتاق کے ساتھ یکجہتی کا فیصلہ کر لیا۔ سینیٹر مشتاق کے گھر بیٹی رضیہ ملک کے ہمراہ آمد کے موقع پر انہوں نے سینیٹر مشتاق کی خدمات کو سراہا اور ان کی جرات کو دیکھتے ہوئے یہ عزم ظاہر کیا کہ آئندہ ہم کشمیر کے لیے ایک فلوٹیلا بھی ترتیب دیں گے”جو مسئلہ فلسطین کا ہے،
وہی مسئلہ کشمیر کا ہے”سینیٹر مشتاق نے کشمیر کے لیے واضح پیغام جاری کردیاصمود فلوٹیلا کی کامیاب مہم پر مبارکباد دی۔نہر سے بحر تک فلس طین آزاد ہوگا ان شاء اللہ۔
*بھارتی گھمنڈ اور اشتعال انگیز بیانات سےجنوبی ایشیا میں امن کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے: پاک فوج*پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے بھارتی فوجی قیادت نے من گھڑت اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی گھمنڈ اور اشتعال انگیز بیانات سے جنوبی ایشیا میں امن کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انتہائی تشویش کے ساتھ نوٹس کیا گیاکہ بھارتی فوجی قیادت نے وہی من گھڑت، اشتعال انگیز پروپیگنڈا دہرانا شروع کر دیا ہے۔شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق معرکہِ حق کے 5 ماہ بعد بھارتی فوجی قیادت نے پروپیگنڈہ دہرانا شروع کیا،
بھارتی فوجی قیادت کا من گھڑت، اشتعال انگیز پروپیگنڈہ دہرانا انتہائی تشویشناک ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بہار اور مغربی بنگال کے انتخابات کے پیش نظر بھارتی نے یہ پروپیگنڈہ دہرانا شروع کیا، ایسا لگتا ہے بھارتی فوج اور اسکی سیاسی قیادت معرکہ حق کی شکست تسلیم نہیں کر پائی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اس حقیقت کو ہضم نہیں کر پائی کہ انہیں معرکہ حق میں فیصلہ کن شکست ہوئی، بھارت کی جھوٹ کی پرتیں بے نقاب ہو چکی ہیں، دنیا اب بھارت کو سرحد پار دہشتگردی کا اصلی چہرہ اور علاقائی عدم استحکام کا مرکز مانتی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت اپنے عوام اور پڑوسیوں کے مفاد کے منافی مہم جوئی اور بالادستی کی پالیسیوں پر اڑا ہوا ہے، پاکستانی عوام اور افواج اپنی دھرتی کے ہر انچِ کے دفاع کے لیے پوری صلاحیت اور پختہ عزم رکھتے ہیں۔شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ بھارتی مسلح افواج اور اس کے سیاسی آقاؤں کو پاکستانی صلاحیت اور عزم کو سمجھ لینا چاہیے، ہر جارحیتی اقدام کا جواب تیز، پختہ اور بھرپور انداز میں دیا جائے گا،جو اگلی نسلیں یاد رکھیں گی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی عوام اور بین الاقوامی برادری کو جھوٹ باور کروائے جا رہےہیں، ہرپیشہ ور فوجی جانتا ہوگا کہ غیرضروری گھمنڈ اوربےجا بیانات جنگی جنون بڑھا سکتےہیں، ایسےعمل سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
*پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی میں تنزلی، ہینے پاسپورٹ انڈیکس میں 101 سے 103 ویں نمبر پر آ گیا*پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں پوزیشن مزید گر گئی ہے۔ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی جاری کردہ رینکنگ میں پاکستانی پاسپورٹ 103ویں نمبر پر آ گیا ہے، جو یمنی پاسپورٹ کے برابر ہے۔ گزشتہ درجہ بندی میں پاکستانی پاسپورٹ 101ویں نمبر پر تھا۔ پاکستان سے نیچے اب صرف عراق، شام اور افغانستان ہیں۔ گراوٹ کے ساتھ ہی پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فری ممالک کے آپشن میں بھی کمی آگئی ہے۔ اب پاکستانی صرف 31 ممالک میں بغیر ویزا کے سفر کر سکتے ہیں۔ پہلے 34 ممالک پاکستانیوں کو ویزا فری انٹری دے رہے تھے۔ یہ درجہ بندی بغیرویزا سفر کرنے کےمعیار پر ہی کی گئی ہے۔
میں نے یونیورسٹی سے اپنے پیسے لگا کر ڈگری کی۔پھر پیسے جمع کرکے ڈگری لی اور ڈگری پر کنٹرولر اور وائس چانسلر نے دستخط بھی کیئے۔اس کے بعد میں نے دوبارہ پیسے جمع کر کے ڈگری ان کو واپس بھیجی کہ اب یہ ویریفائی کر لو کہ آپ لوگوں نے مجھے جو ڈگری دی ہے وہ فیک تو نہیں ہے۔بات یہاں پہ ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہی ڈگری HEC کو بھیجی کہ آپ کے ساتھ جو یونیورسٹی Affiliated ہے اس نے یہ ڈگری جاری کی ہے اور ویریفائی بھی کی ہے۔ اب آپ بھی ویریفائی کر لے کہ کہی یہ ڈگری جعلی تو نہیں۔آگے کی بات سنئے۔ پھر HEC کے بعد میں نے وہ ڈگری MOFA کو بھیجی اور ان سے کہا کہ یہ جو HEC نے سٹیمپ لگایا ہے اس کو چیک کرے کہ کہی یہ فیک تو نہیں ہے۔اس پورے کام میں آپ کے ہزاروں روپے الگ سے ضائع ہو جاتے ہیں، ساتھ میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے، اور سب سے اہم بات وہ نمونے جو خود میٹرک فیل ہوتے ہیں ان کی باتیں بھی سننے کو ملتی ہے
*افغان طالبان کی جانب سے چمن میں پاک افغان دوستی گیٹ کو تباہ کرنے کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب* چمن میں پاک افغان دوستی گیٹ پر افغان طالبان کا ایک اور پروپیگنڈا بے نقاب، سکیورٹی ذرائعافغان طالبان کا اپنی طرف کا گیٹ تباہ کر کے اسے پاکستان کی جانب موجود حصہ ظاہر کرنے کی کوشش، سکیورٹی ذرائ
*افغان طالبان کی جانب سے چمن میں پاک افغان دوستی گیٹ کو تباہ کرنے کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب* چمن میں پاک افغان دوستی گیٹ پر افغان طالبان کا ایک اور پروپیگنڈا بے نقاب، سکیورٹی ذرائعافغان طالبان کا اپنی طرف کا گیٹ تباہ کر کے اسے پاکستان کی جانب موجود حصہ ظاہر کرنے کی کوشش، سکیورٹی ذرائعویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی جانب موجود پاک افغان دوستی گیٹ مکمل طور پر ٹھیک حالت میں ہے، سکیورٹی ذرائعافغان طالبان اور خارجی کل رات سے اپنے 100 سے زائد کارندوں کی ہلاکت کے باعث مکمل حواس باختہ ہوچکے ہیں، سکیورٹی ذرائعافغان طالبان جھوٹے سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے اپنی شکست اور نقصان کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں، سکیورٹی ذرائعافغان طالبان جھوٹے پروپیگنڈا کی اسی روش پر چل رہے ہیں جس پر بھارتی میڈیا چل رہا ہے، سکیورٹی ذرائع
⚔️ گزشتہ رات کی لڑائی 21 سالہ کیپٹن الیاسگزشتہ رات تقریباً 11 بجے افغان طالبان کے عسکریت پسندوں نے اچانک چمن بارڈر کے قریب فائرنگ شروع کر دی۔سرد ہوا کے جھونکوں میں بارود کی بو پھیل گئی۔ اندھیرا مکمل تھا، صرف آسمان پر ہلکی چاندنی اور سپاہیوں کے ہتھیاروں کی چمک نظر آ رہی تھی۔کیپٹن الیاس وزیر اپنی ٹیم کے ساتھ گشت پر تھا۔ ریڈیو پر اطلاع ملی:> “دشمن سرحد کے قریب حرکت میں ہے، فوری ایکشن کی ضرورت ہے!”الیاس نے فوراً اپنے جوانوں کو حکم دیا:> “سب پوزیشن لے لو، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے!”رات کی خاموشی میں اچانک گولیاں چلنے لگیں۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ زمین کانپ اٹھی۔ مگر الیاس وزیر نے ڈر کے بجائے دعا کے الفاظ کہے:> “یا اللہ! میرے ملک کی حفاظت کرنا۔”—💥 بہادری اور شہادتچند لمحوں بعد وہ مسکرا کر زمین پر گر گیا — شہادت کے رتبے پر فائز ہو ا
آج ہی کے دن وسیم اکرم نے شارجہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی پہلی ہیٹ ٹرک کی تھی- تینوں بولڈ کئے تھے, پھر دوسری ہیٹ ٹرک کی, مقام وہی تھا, سارے بولڈ تھے پر مخالف ٹیم آسٹریلیا تھی- دو ہیٹ ٹرک ٹیسٹ میچز میں بھی کیں جہاں دونوں بار مخالف ٹیم سری لنکا رہی- سلیم ملک کے 74 اور عمران خان کے 45 رنز کی وجہ سے پاکستان نے 250 رنز بنائے تھے لیکن ڈیسمنڈ ہینز، ویوین رچرڈز اور بیسٹ کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز کی ٹیم جیت کی جانب گامزن تھی
– 209 رنز بن چکے تھے اور ویسٹ انڈیز کی پانچ وکٹیں گری تھیں جب وسیم اکرم نے جیفری ڈوجون، میلکم مارشل اور کرٹلی امبروز کو بولڈ کر کے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی- ایان بشپ کو عبدالقادر نے آؤٹ کیا لیکن پھر بیسٹ اور کورٹنی والش کی پارٹنرشپ لگ گئی- 239 کے سکور پر وسیم اکرم نے اپنی پانچویں وکٹ حاصل کی اور پاکستان کو گیارہ رنز سے فتح حاصل ہوئی تھی-مزے کی بات یہ ہے کہ پہلی اننگ میں کرٹلی امبروز نے وسیم اکرم کو پہلی ہی گیند پر بولڈ کیا تھا