All posts by admin
مولانا فضل الرحمان کی چھوٹی سی خواہش کیا ہے؟ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کے ممبر اُنھیں توڑ کر دے تاکہ وہ اپنے بھائی کو وزیر اعلیٰ بنا سکیں۔ ایک بندہ بھی نہیں ٹوٹا۔ ۲۶ ترمیم ہو یا مشرف کا ایل۔ایف۔او، ہر موقع پر مولانا حلوہ کھانے کے لئیے فوراً تیار ہو جاتے ہیں بشرطیکہ میٹھے کا تناسب ٹھیک ہو!!مصطفی نواز کھوکھر
سرحدوں سے پار:سلام فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ٹرمپ کا غیر متوقع خراجِ تحسین*13 اکتوبر 2025 کو، مصر کے شہر شرم الشیخ کے چمکتے ہوئے ہالز میں، امریکی صدر ڈونلڈ جے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی
*سرحدوں سے پار:سلام فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ٹرمپ کا غیر متوقع خراجِ تحسین*13 اکتوبر 2025 کو، مصر کے شہر شرم الشیخ کے چمکتے ہوئے ہالز میں، امریکی صدر ڈونلڈ جے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی — مگر اس بار کسی تنازعے یا بیان بازی سے نہیں، بلکہ ایک غیر معمولی تحسین کے ساتھ۔بین الاقوامی سامعین کے سامنے کھڑے ہوکر ٹرمپ نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کو “میرا پسندیدہ اور دنیا کا بہترین فیلڈ مارشل” قرار دیا۔ ان کے یہ چند الفاظ اگرچہ مختصر تھے، لیکن ان کی بازگشت سرخ سمندر کی سرحدوں سے بہت آگے تک سنائی دی۔پہلی نظر میں ٹرمپ کی یہ تعریف محض ایک اچانک اور جذباتی اظہار محسوس ہو سکتی ہے — جیسا کہ وہ اکثر اپنے ڈرامائی انداز میں کرتے ہیں۔ لیکن جب اس بیان کو تاریخ اور سفارتکاری کے وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی گہرائی کہیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔امریکہ — جو دنیا کی عسکری اور سیاسی طاقت کا حقیقی مظہر سمجھا جاتا ہے — بہت کم کسی غیر ملکی کمانڈر کو اس درجہ کا احترام اور عزت دیتا ہے۔ جب واشنگٹن کے طاقت کے ایوان کسی شخصیت کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر “عظیم” قرار دیتے ہیں، تو یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے — بلکہ یہ اس شخصیت کی ثابت شدہ عسکری حکمت، عالمی شناخت اور دیرپا اثر و رسوخ کا اعتراف ہوتا ہے
شھباز حکومت نےواقعی وہ کر دکھایا جو پہلے پاکستان میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا—آج پاکستانی ٹی وی چینلوں پر اسرائیلی پارلیمنٹ کی کارروائی براہِ راست دکھائی گئی،۔۔فورسز کی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر وسیع پیمانے پر جنگی سامان کی ترسیل۔حماس نے 20 اسرائیلی قیدی رہا کر دئیے۔پاکستان کا پلڑا بھاری اغا اور امام الحق کے 93 اج میچ کے فیصلہ کا تعین ھو گا۔لاہور متعدد مقامات سے بند، ایک بار پھر موٹر ویز بھی بند کر دی گئیں۔۔اسپیکرز قومی اسمبلی ایاز صادق ایک سچے اور پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لیے دن رات ایک کئے ھوے سہ فریقی اسپیکرز کا اعلامیہ ماں دھرتی پر قربان ھونے والوں کی نماز جنازہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلی افسران کی شرکت۔ماں دھرتی پر قربان ھونے والوں کی نمازیں جنازہ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا اسلام آباد (13 اکتوبر 2025،)اسلام آباد میں منعقدہ تیسرے سہ فریقی اسپیکرز اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری۔ اعلامیہ میں مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی ضرورت پر زور۔ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے اسپیکرز کا تیسری سہ فریقی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی میزبانی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی۔تینوں برادر ممالک کے عوام کے مابین تاریخ، ثقافت اور اقدار کے اشتراک پر اتفاق۔ اسلام آباد اعلامیہ میں سیاسی، معاشی، دفاعی، تجارتی، سائنسی اور ثقافتی تعاون کے فروغ پر زور۔اسپیکرز کا اعلیٰ سطحی روابط اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار۔علامیہ اعلامیہ میں تینوں ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق۔سربراہانِ پارلیمان کی سہ فریقی کانفرنسوں کو برادری، اتحاد اور دوستی کی علامت قرار دیا گیا۔علامیہ اسپیکرز کا اقوام متحدہ، او آئی سی، ای سی او، ڈی-8 اور بین الاقوامی پارلیمانی فورمز پر تعاون بڑھانے کا فیصلہ۔علامیہ دہشتگردی، سائبر حملوں اور گمراہ کن مہمات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق

۔ علامیے میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور قدرتی وسائل کے پُرامن استعمال پر زور۔عالمی ماحولیاتی معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا، علامیہ باکو میں ہونے والی COP29 کی سفارشات کو عالمی ماحولیاتی عمل کا اہم سنگِ میل قرار دیا گیا، علامیہ ماحولیاتی تبدیلی کے لیے مالی وسائل کی کمی پر تشویش کا اظہار۔علامیہ علامیے میں پائیدار ترقی، امن، استحکام اور انسانی حقوق کو باہم جڑا ہوا قرار دیا گیا۔قابلِ تجدید توانائی اور علاقائی توانائی راہداریوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، علامیہ علامیے میں مشرق۔ مغرب اور شمال۔ جنوب راہداری منصوبوں کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار۔پارلیمانی کمیٹیوں، فرینڈشپ گروپس اور عملے کے مابین روابط کے فروغ پر اتفاق۔علامیہ پارلیمانی سفارت کاری کو عالمی امن و تنازعات کے حل میں کلیدی قرار دیا گیا، علامیہ پارلیمنٹرینز اور پارلیمانی عملے کے لیے تربیتی و استعداد بڑھانے کے پروگرامز منعقد کرنے کا فیصلہ۔علامیہ خواتین اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں بھرپور کردار دینے کی ضرورت پر زور۔

نوجوانوں کے تبادلہ پروگرامز اور عوامی سفارت کاری کے منصوبوں کی حمایت۔ تینوں ممالک کا بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے پر آمادگی کا اظہار۔اسلاموفوبیا، انتہا پسندی اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی شدید مذمت۔مسلم اقلیتوں کے خلاف ظلم و امتیاز کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد کا عزم۔غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور انسانی بحران کے خاتمے کا مطالبہ۔علامیے میں فلسطینیوں کی بے دخلی روکنے، اسرائیلی انخلا اور غزہ کی تعمیرِ نو پر زور۔علامیے میں دو ریاستی حل کی حمایت، 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ۔فلسطین کی حمایت میں پارلیمانی گروپ کے ساتھ تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ۔علامیہ علامیے میں جموں و کشمیر کے تنازع کا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پُرامن حل ضروری قرار۔علامیے میں کشمیر کی آبادیاتی حیثیت میں تبدیلی کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار۔ آذربائیجان کے جنگ متاثرہ علاقوں میں بارودی سرنگوں کے مسئلے پر اظہارِ یکجہتی۔آذربائیجان کی بحالی، ڈی مائننگ اور آئی ڈی پیز کی واپسی کی کوششوں کی حمایت۔علامیہ شمالی قبرص کی ترک جمہوریہ اور اس کی مقننہ سے پارلیمانی تعلقات بڑھانے پر اتفاق۔آئندہ سہ فریقی اسپیکرز اجلاس 2026 میں آذربائیجان میں منعقد کرنے کا فیصلہ۔علامیہ ترکیہ اور آذربائیجان کے اسپیکرز کا پاکستان کی شاندار میزبانی پر شکریہ۔

اسلام آباد میں منعقدہ تیسرے سہ فریقی اسپیکرز اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری۔



: 13 اکتوبر، 2025 .وزیر اعظم کا پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے 12 جوانوں کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد انکو خراج عقیدت. وزیراعظم کی شہداء کی بلندیء درجات کی بلندیء درجات کی دعاء اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت. ان شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی. وزیر اعظموزیراعظم کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی جلد صحت یابی کی دعاءپاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت پر فخر ہے : وزیراعظم پاک فوج نے ہمیشہ ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے : وزیراعظم پوری قوم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور شہداء کو سلام پیش کرتی ہے: وزیراعظم _
ہماری انتظامیہ کو معاملات خراب کرنے کا وسیع تجربہ ہے ، ٹی ایل پی والے مذاکرات کے لیے بندے ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ کوئی آئے اور ہمیں گھر بھجوائے جبکہ حکومت نے راستے بند کر رکھے ہیں اور عوام ذلیل ہو رہی ہے ۔ ٹی ایل پی والے مرید کے بیٹھے ہیں انتظامیہ ضلع اٹک بند کر کے بیٹھی ہے۔نااھل حکومت کے کارنامے ساراپاکستان بند۔۔ پی-ٹی-آئی کے بیرون ملک موجود اراکین اسمبلی پاکستان واپس پہنچ گئے 92 میں سے 90 اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی میں موجود رات بھی یہیں قیام کریں گے ۔۔بھارت میں افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے دورۂ دیوبند کے دوران پروگرام میں شریک ہونے والے بھارتی مسجد کے امام کی بیوی اور 2 بیٹیوں کو قتل کر دیا گیا۔۔۔!!!بھارتی مسجد کے امام کی بیوی اور 2 بیٹیوں کو قتل کر دیا گیا۔۔۔!!!سینیٹر انوشہ رحمان کو سینئر مشیر وزیراعلی پنجاب مقرر کردیا گیا، نوٹیفیکیشن۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

غیر جانبدار صحافی کے کپڑے پہن کر فوج پر طنز اور تنقید کرنے والے حرامدے ہیں اور بس ۔اس مٹی سے کھانے کھاتے ہیں ۔رزق کماتے ہیں۔محفوظ پُرسکون زندگی گزارتے ہیں اور اسی تھالی میں ہگتے ہیں۔سات مئی کو بھارت نے حملہ کیا تھا پاکستان نے نہیں ۔گزشتہ شب افگانڈوز نے حملہ کیا تھا پاکستان نے نہیں ۔اتنی اخلاقی جرات تو خنزیر کے بچے میں بھی ہوتی ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق کر سکے ۔پاکستان کی سابقہ پالیسیوں کی آڑ میں فوج پر تنقید کرنے والے تو سور کے بچوں سے بھی بدتر ہیں۔جو لوگ اپنے گھر سے بھی مخلص نہ ہوں وہ کبھی بھی اچھے انسان نہیں کہلا سکتے ۔ہر شریف آدمی اپنے گھر اور اپنے وطن سے محبت کرتا ہے لیکن یہ فارمولہ 🐷 کے بچوں پر اپلائی نہیں ہوتا۔

مٹی کے بیٹے ۔ اظہر سیدمنظور پشتیں ،علی وزیر اور محسن ڈاور سچے تھے ۔جنرلوں کی پالیسیاں غلط تھیں۔یہ چیختے تھے سانپ کو دودھ مت پلاؤ پلٹ کر ڈس لیں گے ۔سانپ کی فطرت ہے لیکن انہیں دشمن سمجھا گیا ۔جنرل مشرف کے دور میں علی وزیر کے خاندان نے اپنے قبیلے کے ساتھ مل کر ازبکوں اور افگانڈوز کو مار مار کر اپنے علاقہ سے نکالا تھا ۔علی وزیر کے خاندان کے دو درجن افراد انہی سانپوں نے مار ڈالے تھے جنہوں نے کل پاکستان پر حملہ کیا ۔یہ مٹی کے بیٹے ہیں

۔یہ سچے ثابت ہوئے ہیں ۔افغانڈوز نے اپنی فطرت کے مطابق کل رات پاکستان کو ڈسنے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی۔کرم ایجنسی میں طوری قبیلے کے جوان افغانستان کے اندر گھس گئے اور درجنوں حملہ اوور افغانڈوز کر زندہ پکڑ لائے جو اب پاکستان کی تحویل میں ہیں۔انگور اڈہ چیک پوسٹ پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے یہاں کامیابی میں بھی قبائلی نوجوان اپنی فوج کے شانہ بشانہ تھے۔طالبان ملڑوں کی مدد کرنے کی بجائے منظور پشتیں ،علی وزیر اور محسن ڈاور کی بات سنی جاتی انہیں پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہوتی۔وقت ان پہنچا ہے طالبان کے متعلق چالیس سالہ پالیسی تبدیل کر دی جائے۔یہ قابل اعتماد نہیں۔یہ آستین کا سانپ ہیں۔یہ پیسے لے کر پہلے بھی دونوں اطراف کے اپنے ہم نسلوں کو مارتے رہے

۔یہ مستقبل میں بھی دلال ہی رہیں گے ۔مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی ختم کرنے کا وقت آن پہنچا یے۔خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں بڑے پیمانے پر آگاہی اور شعور پھیلانے کا وقت آن پہنچا ہے ۔یہ زمہ داری منظور پشتین،علی وزیر ایسے مٹی کے بیٹوں کو سونپ دی جائے ۔انکی بھرپور مدد اور معاونت کی جائے تاکہ چالیس سال سے اس علاقے میں جاری آگ اور خون کا کھیل ختم کیا جا سکے ۔یہاں بچیاں آزادانہ سکول کالج اور جامعات میں جائیں۔یہاں کے بچے ہاتھوں میں بندوق کی بجائے قلم لے کر مستقبل کی نسلوں کو امن اور استحکام کی زندگی فراہم کر سکیں ۔

افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بیان پر پاکستان کو جذباتی نہیں بلکہ حقائق پر مبنی اور پُرعزم ردِعمل دینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر 1980 کی دہائی میں پاکستان کی فوج، آئی ایس آئی اور عوام قربانیاں نہ دیتے تو آج افغانستان نام کا ملک ہی باقی نہ رہتا۔ سوویت یونین کے خلاف جہاد کی کامیابی پاکستان کی خفیہ مدد، اسلحہ سپلائی، خفیہ تربیت اور لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی سے ممکن ہوئی۔

افغان قیادت کا آج یہ کہنا کہ “ہمیں چھیڑنے سے پہلے امریکا، نیٹو اور سوویت یونین سے پوچھ لو” دراصل تاریخی احسان فراموشی ہے۔ پاکستان نے چالیس سال تک افغان جنگ کی قیمت اپنے خون، اپنی معیشت اور اپنی سیکیورٹی سے ادا کی۔ لاکھوں پاکستانی شہید، زخمی یا بے گھر ہوئے مگر افغانستان کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کیے۔اب جب دہشتگرد گروہ افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں، تو پاکستان کے پاس اپنے دفاع کا حق موجود ہے۔ اگر افغان حکومت اپنے وعدوں کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تو پاکستان خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔یہ وقت جذباتی بیانات کا نہیں، ذمہ داری لینے کا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اگر کابل اپنی سرزمین پر قابو نہیں رکھ سکتا تو کم از کم دوسروں کو نصیحت کرنے سے گریز کرے۔ ہم نے افغانستان کے لیے خون بہایا ہے، اب اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں

پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ ن سے تعاون مانگ لیا ہے۔پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کی قیادت میں وفد نے وفاقی وزیر امیر مقام سے ان کے رہائشی مقام پر ملاقات کی۔وفد میں اراکین قومی اسمبلی شیر علی ارباب، علی خان جدون، ڈاکٹر امجد، کبیر خان، ادریس خٹک، لائق خان اور اکرام کھٹانہ شامل تھے۔ملاقات کے دوران جنید اکبر خان نے کہا کہ وہ ماضی کی طرح مشترکہ فیصلے کرنے کے لیے آئے ہیں اور موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی میں واضح اکثریت پی ٹی آئی کے پاس ہے اور صوبہ سیاسی عدم استحکام اور مزید مشکلات برداشت نہیں کر سکتا۔صوبائی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سہیل آفریدی بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہوں وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ وہ صوبے کی روایات کے مطابق اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور مرکزی قیادت سے رائے لینے کے بعد پی ٹی آئی کے وفد کو آگاہ کریں گے۔
وزیر اعطم شرم الشیخ روانہ تفصیلات کے لئے کلک
. *وزیرِاعظم محمد شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر شرم الشیخ کیلئے روانہ*وزیرِ اعظم شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ میں جنگ بندی کیلئے شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے. نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ وزیرِ اعظم کے ہمراہ وفد میں شریک ہیں. وزیرِ اعظم پاکستان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی, ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان اور دیگر عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے. شرم الشیخ میں ہونے والا امن سربراہی اجلاس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور عرب اسلامی رہنماؤں کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر غزہ میں جنگ بندی کیلئے خصوصی کوششوں کا نتیجہ ہے. مشترکہ اعلامیے کے ذریعے وزیرِ اعظم سمیت ان ممالک کے سربراہان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ بندی، پائیدار امن اور خطے کی ترقی کے حوالے سے منصوبے کا خیرمقدم کیا تھا. وزیرِ اعظم کی شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت پاکستان کے فلسطینیوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے اور انہیں ہر قسم کی سیاسی و سفارتی مدد کی فراہمی کی عکاسی کرتا ہے. پاکستان یہ توقع کرتا ہے کہ اس امن سربراہی اجلاس اور اس میں دستخط شدہ معاہدے کے بعد غزہ میں جاری مظالم کا سلسلہ رکے گا، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلاء ہوگا، فلسطینیوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہوگی، انکی حفاظت یقینی بنائی جائے گی، قیدیوں کی رہائی ہوگی اور امن کے ساتھ ساتھ غزہ کی تعمیر نو ممکن ہو سکے گی. پاکستان پر امید ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف مشرق وسطی میں دیر پا امن کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور فلسطینیوں کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہوئی ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا جس کی سرحدیں 1967 سے قبل کے مطابق ہونگیں اور القدس الشریف اس کا دارلخلافہ ہوگا.
افغانستان کے ساتھ جنگ پاکستان کے ہر گز مفاد میں نہیں ،مستقل جنگ بندی کا واحد طریقہ ان پر خوفناک بمباری اور میزائل حملے ہیں ۔امن طاقت کے اظہار سے ملتا ہے کمزوری سے نہیں ۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین جھڑپوں میں شہید ہونے والے پاک فوج کے 23 جوانوں میں سے 5 کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔جمعیت علمائے اسلام نے سھیل آفریدی کی حمایت کا اعلان کر دیا۔کرکٹ ٹیم کا عمدہ آغاز 306 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر کیے گئے ایک بڑے بلااشتعال حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ رات گئے ہونے والی اس اشتعال انگیز کارروائی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج (FAK) نے پاکستان پر پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال حملہ کیا۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائی میں فائرنگ اور محدود نوعیت کے حملے شامل تھے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کر کے دہشت گردی کو فروغ دینا اور اپنے ناپاک عزائم کو تقویت دینا تھا۔پاک افواج نے دشمن کی اس کارروائی کا فوری اور بھرپور جواب دیتے ہوئے نہ صرف حملہ پسپا کیا بلکہ دشمن کو فیصلہ کن نقصان بھی پہنچایا۔ پاک فوج نے حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے طالبان کے کیمپس، پوسٹس، دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور معاون نیٹ ورکس پر بھرپور جوابی کارروائی کی۔ اس دوران ٹھیک ٹھیک نشانے پر مبنی فائرز اور فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر چھاپہ مار کارروائیاں بھی کی گئیں، جن کا ہدف افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد ڈھانچے اور تنظیمیں تھیں، جن میں فتنہ الخوارج فتنہ الہندستان اور داعش سے وابستہ عناصر شامل تھے۔کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کولیٹرل ڈیمیج سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق متعدد طالبان ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جبکہ 21 افغان پوسٹس کو عارضی طور پر قبضے میں لے کر ناکارہ بنایا گیا۔

دہشت گردوں کے متعدد تربیتی کیمپ بھی غیر مؤثر بنا دیے گئے جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔جوابی کارروائیوں میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔ خفیہ اطلاعات اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق 200 سے زائد طالبان اور دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کارروائیوں سے دشمن کے انفراسٹرکچر کو سرحدی پٹی کے ساتھ ساتھ اندرونی علاقوں میں بھی شدید نقصان پہنچا، جو ٹیکٹیکل سے آپریشنل سطح تک پھیلا ہوا ہے۔دشمن کی اس جارحیت کے دوران 23 پاکستانی جوانوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 29 اہلکار زخمی ہوئے۔ ترجمان پاک فوج نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قومی دفاع کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج ہر قیمت پر ملک کی سالمیت، عوام کی جان و مال اور قومی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ہمارا عزم غیر متزلزل ہے اور ہم کسی بھی جارحیت یا دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔پاکستان خطے میں امن اور تعمیری سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے لیکن افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ بیان میں طالبان حکومت کے رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یہ اشتعال انگیز کارروائی اس وقت ہوئی جب طالبان کے وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر ہیں — جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔پاکستان نے طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں — بالخصوص فتنہ الخوارج، فتنہ الہندستان اور داعش کے خاتمے کے لیے فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔ بصورت دیگر پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے لیے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حق استعمال کرتا رہے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ شب کی کارروائی پاکستان کے اس مؤقف کو درست ثابت کرتی ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے رہی ہے بلکہ بھارت کے ساتھ مل کر خطے کو غیر مستحکم کرنے کے عزائم رکھتی ہے۔ اگر طالبان حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو پاکستان اس خطرے کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گا۔
پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر کیے گئے ایک بڑے بلااشتعال حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ رات گئے ہونے والی اس اشتعال انگیز کارروائی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا
پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر کیے گئے ایک بڑے بلااشتعال حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ رات گئے ہونے والی اس اشتعال انگیز کارروائی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج (FAK) نے پاکستان پر پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال حملہ کیا۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائی میں فائرنگ اور محدود نوعیت کے حملے شامل تھے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کر کے دہشت گردی کو فروغ دینا اور اپنے ناپاک عزائم کو تقویت دینا تھا۔پاک افواج نے دشمن کی اس کارروائی کا فوری اور بھرپور جواب دیتے ہوئے نہ صرف حملہ پسپا کیا بلکہ دشمن کو فیصلہ کن نقصان بھی پہنچایا۔ پاک فوج نے حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے طالبان کے کیمپس، پوسٹس، دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور معاون نیٹ ورکس پر بھرپور جوابی کارروائی کی۔ اس دوران ٹھیک ٹھیک نشانے پر مبنی فائرز اور فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر چھاپہ مار کارروائیاں بھی کی گئیں، جن کا ہدف افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد ڈھانچے اور تنظیمیں تھیں، جن میں فتنہ الخوارج فتنہ الہندستان اور داعش سے وابستہ عناصر شامل تھے۔کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کولیٹرل ڈیمیج سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق متعدد طالبان ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جبکہ 21 افغان پوسٹس کو عارضی طور پر قبضے میں لے کر ناکارہ بنایا گیا۔ دہشت گردوں کے متعدد تربیتی کیمپ بھی غیر مؤثر بنا دیے گئے جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔جوابی کارروائیوں میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔ خفیہ اطلاعات اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق 200 سے زائد طالبان اور دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کارروائیوں سے دشمن کے انفراسٹرکچر کو سرحدی پٹی کے ساتھ ساتھ اندرونی علاقوں میں بھی شدید نقصان پہنچا، جو ٹیکٹیکل سے آپریشنل سطح تک پھیلا ہوا ہے۔دشمن کی اس جارحیت کے دوران 23 پاکستانی جوانوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 29 اہلکار زخمی ہوئے۔ ترجمان پاک فوج نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قومی دفاع کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج ہر قیمت پر ملک کی سالمیت، عوام کی جان و مال اور قومی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ہمارا عزم غیر متزلزل ہے اور ہم کسی بھی جارحیت یا دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔پاکستان خطے میں امن اور تعمیری سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے لیکن افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ بیان میں طالبان حکومت کے رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یہ اشتعال انگیز کارروائی اس وقت ہوئی جب طالبان کے وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر ہیں — جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔پاکستان نے طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں — بالخصوص فتنہ الخوارج، فتنہ الہندستان اور داعش کے خاتمے کے لیے فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔ بصورت دیگر پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے لیے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حق استعمال کرتا رہے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ شب کی کارروائی پاکستان کے اس مؤقف کو درست ثابت کرتی ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے رہی ہے بلکہ بھارت کے ساتھ مل کر خطے کو غیر مستحکم کرنے کے عزائم رکھتی ہے۔ اگر طالبان حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو پاکستان اس خطرے کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گا۔
ای ایس پی آر ترجمان ۔ بادبان رپورٹ۔ افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کا پاک افغان سرحد پر پاکستان پر بلااشتعال حملہ دشمن کی کارروائی کا مقصد سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور دہشت گردی کو فروغ دینا تھا پاک افواج نے دشمن حملے کو بروقت اور فیصلہ کن کارروائی سے پسپا کر دیا طالبان فورسز اور خوارج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا
آئی ایس پی آر ترجمان۔ بادبان ٹی وی رپورٹ
افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کا پاک افغان سرحد پر پاکستان پر بلااشتعال حملہ دشمن کی کارروائی کا مقصد سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور دہشت گردی کو فروغ دینا تھا پاک افواج نے دشمن حملے کو بروقت اور فیصلہ کن کارروائی سے پسپا کر دیا طالبان فورسز اور خوارج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا پاک فوج نے طالبان کی سرحد پار متعدد پوسٹس، کیمپس اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا 21 افغان ٹھکانے عارضی طور پر قبضے میں لے کر دہشت گرد کیمپ تباہ کر دیے گئے کارروائیوں میں 200 سے زائد طالبان و دہشت گرد ہلاک، متعدد زخمی ہوئے طالبان کے انفراسٹرکچر کو سرحدی پٹی میں وسیع نقصان پہنچا دشمن کے حملے کے دوران 23 پاکستانی جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا سرحدی جھڑپوں میں 29 اہلکار زخمی ہوئے کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے تحفظ اور کولیٹرل ڈیمیج سے بچاؤ کے خصوصی اقدامات کیے گئے طالبان حکومت کو خبردار کیا گیا کہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرے، بصورت دیگر پاکستان کارروائیاں جاری رکھے گا طالبان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ناکام طالبان وزیر خارجہ کے بھارت دورے کے دوران اشتعال انگیز کارروائی علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے پاکستان کا طالبان حکومت سے فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ طالبان حکومت کو خبردار: دہشت گردوں کی سرپرستی سے باز آئے ورنہ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھائے گا پاکستانی قوم اور افواج کا عزم: ملک کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے مگر دہشت گردی برداشت نہیں کرے گا طالبان حکومت اور بھارت کی سازشیں ناکام بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا
4850 افغان فوجی مارے گئے فیلڈ مارشل کو 4 ممالک کے ٹیلی فون رحم کی درخواست۔ 82 دھشت گرد ٹھکانے تباہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تمام دھشت گرد ٹھکانوں کو ختم کرنے کا حکم رپورٹ سھیل رانا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
***پاک افغان بارڈر پر طالبان کی جانب سے بِلا اشتعال جارحیت/ اپڈیٹ* *پاکستان فوج کی طرف سے طالبان فورسز کے خلاف منہ توڑ جواب بھرپور طریقے سے جاری*پاکستان فوج کی جوابی کاروائی میں کُرم کے سامنے افغان طالبان کی شپولا ہلا پوسٹ مکمل تباہ، سیکورٹی ذرائع ویڈیو میں شیپولا ہلا پوسٹ کی انگیجمنٹ اور اسٹرائیک کے بعد مکمل تباہی دیکھی جا سکتی ہے، سیکورٹی ذرائع پوسٹ میں تباہی سے افغان طالبان کے بھاری نقصانات کی اطلاعات، سیکیورٹی ذرائع
*جنوبی وزیرستان کے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پاک فوج نے متعدد افغان چوکیاں مکمل تباہ کر دیں،* سیکورٹی ذرائع *پاک فوج کی جانب سے افغان پوسٹوں پر پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا گیا،* سیکیورٹی ذرائع *جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افواجِ پاکستان افغان پوسٹوں پر پاکستانی جھنڈا لہرا رہی ہیں*، سیکورٹی ذرائع
*پاک افغان بارڈر پر طالبان کی جانب سے بِلا اشتعال جارحیت/ اپڈیٹ* *پاکستان فوج کی طرف سے طالبان فورسز کے خلاف منہ توڑ جواب بھرپور طریقے سے جاری*پاکستان فوج کی جوابی کاروائی میں افغان طالبان کے منوجبا کیمپ 3 کو بھی مکمل تباہ کر دیا گیا، سیکورٹی ذرائع ویڈیو میں افغان طالبان کے منوجبا کیمپ 3 کی انگیجمنٹ اور اسٹرائیک کے بعد مکمل تباہی دیکھی جا سکتی ہے، سیکورٹی ذرائع کیمپ میں تباہی سے افغان طالبان اور کیمپ میں چھپے خارجیوں کے بھاری نقصانات کی اطلاعات، سیکیورٹی ذرائع

** *پاکستان فوج کی طرف سے طالبان فورسز کے خلاف منہ توڑ جواب بھرپور طریقے سے جاری*پاکستان فوج کی جوابی کاروائی میں چترال سیکٹر کے مخالف افغان طالبان کے بریکوٹ بیس کیمپ کو بھی مکمل تباہ کر دیا گیا، سیکورٹی ذرائع ویڈیو میں افغان طالبان کی بریکوٹ بیس کیمپ کی انگیجمنٹ اور اسٹرائیک کے بعد مکمل تباہی دیکھی جا سکتی ہے، سیکورٹی ذرائع افغان طالبان کے بریکوٹ بیس کیمپ میں تباہی سے افغان طالبان اور کیمپ میں چھپے خارجیوں کے بھاری نقصانات کی اطلاعات، سیکیورٹی ذرائع









