All posts by admin
فتنہ الخوارج کا ڈپٹی کمشنر وزیرستان کے قافلے پر حملہ تفصیلات بادبان ٹی وی پر
فتنہ الخوارج نے ڈپٹی کمشنر اپر جنوبی وزیرستان کے قافلے پر حملہ کیا، یہ حملہ خوارج کی جانب سے ضلعی ہیڈ کوارٹر کو لدھا سے ٹانک واپس بھجوانے کی کوشش ہے تاکہ مقامی افراد کی زندگی میں مشکلات بڑھائی جا سکیں، مزید برآں خوارج کی یہ بزدلانہ کارروائی نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی مذموم کوشش ہے بلکہ لدھا جیسے پسماندہ علاقے میں جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم سازش بھی ہے۔ 6 اگست 2025 کو خوارج نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنراپر جنوبی وزیرستان عصمت اللہ وزیر کے قافلے کو حملے کا نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق قافلہ ٹانک سے لدھا کی جانب روانہ تھا جب حبیب کوٹ اڈانہ کے قریب خوارج نے اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر کی گاڑی کو گولیاں لگیں، جس سے محرر اعجاز محسود اور کانسٹیبل گل نواز معمولی زخمی ہوئے۔ خوش قسمتی سے ڈپٹی کمشنر اور دیگر اعلیٰ افسران حملے میں محفوظ رہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی موجودگی اہلِ علاقہ کے لیے سہولت، ترقی اور ریاستی اداروں پر اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ ایسے حملے دراصل علاقے میں امن، ترقی اور حکومتی عملداری کے خلاف فتنے کی ایک اور واضح مثال ہیں۔ ریاست ان سازشی عناصر کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جنوبی وزیرستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد بھرپور انداز میں جاری رکھیں
3 سالوں میں 50 ھزار ارب روپے کی کرپشن ذمہ دار کون۔۔وزارت داخلہ اور خفیہ اداروں کی رپورٹ 10 ھزار افراد شکنجے میں۔۔سہیل رانا لائیو میں
سی ڈی اے نے اسلام آباد کی 99ویں ہاؤسنگ سوسائٹیز کو غیر قانونی قرار دیدیا۔۔یہ بنا کسی اجازت کے مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ کر رہے ہیں
2 اھم ترین وفاقی وزراء اس گندے انڈے کی ماند ھے جن کا کردار مودی سے بھی خطرناک۔18 صحافیوں کے خلاف گھیرا تنگ جو اس گھناونے کھیل میں شامل۔ماں دھرتی پر قربان ھونے والوں کا سلسلہ جاری میجر رضوان سمیت 3 شھید۔میجر رضوان عمر 31 سال نوشکی میں شھید میجر رضوان کرنل ریٹائرڈ جمیل کے داماد اور ریٹائرڈ کرنل کے بیٹے تھے۔ملک ریاض اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ میں ملوث مافیا شکنجے میں۔منی لانڈرنگ کا کھیل ملک ریاض کے ھسپتال میں ھوتا تھا ایف آئی اے نے ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے 8 مافیا کے سرغنوں کو گرفتار کرنے کی تصدیق کر دی۔ ۔مافیا کا سرغنہ اور اسکا بیٹا ملک علی اشتھاری ھے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری۔بھارتی خفیہ ایجنسی کے اھم کارندے گرفتار ھلاک۔مھنگای سے تنگ باپ نے 3 بچوں سمیت خود کشی کر لی۔ ۔بحریہ ٹاؤن اج مکمل طور پر نیلام۔۔2 وفاقی وزراء کی چھٹی گرفتاری کا ڈر۔پرائیویٹ مافیا سرکاری سکول کالجز کو قبضہ کرنے میں کامیاب۔جمھوریت خطرے میں بڑی خبر کی گونج۔اسلام آباد انتظامیہ نے باجوں کی فروخت اور بجانے پر پابندی لگا دی، تمام اسٹالز سے باجے قبضے میں لینے کا فیصلہ، بس اِس پر عمل بھی ہو جائے۔۔!!۔علی امین گنڈاپور کی خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم کرنے کے لیے جرگے میں بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر نورالحق القادری، قبائلی مشران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، صوبائی و قومی اسمبلی ممبران، چیف سیکرٹری، آئی جی پی، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز۔*بھارتی مشرق میں گہرائی تک حملہ ، ڈی جی آئی ایس پی آر کا ممکنہ بھارتی جارحیت پر دو ٹوک مؤقف ۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب معرکۂ حق کے نتائج سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

2025. *وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1 لاکھ 45 ہزار پوائنٹس کی حد کو عبور کرنے پر اظہار اطمینان*اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار میں تیزی سرمایہ کاروں کے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی عکاسی ہے. وزیرِ اعظمکاروبار اور سرمایہ کاری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. وزیرِ اعظمایف بی آر میں اصلاحات سے ٹیکس نظام میں بہتری اور کاروباری برادری کو سہولت ملی. وزیرِ اعظمالحمدللہ پاکستان کی معاشی سمت بہتر اور معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے. وزیرِ اعظم



علی امین گنڈاپور کی خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم کرنے کے لیے جرگے میں بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر نورالحق القادری، قبائلی مشران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، صوبائی و قومی اسمبلی ممبران، چیف سیکرٹری، آئی جی پی، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز

سعودی عرب اپنے 2034 کے ورلڈ کپ کے کھیلوں کی میزبانی کے لیے جو ارب ڈالر مالیت کا سٹیڈیم بنا رہ ہے وہ ایک سائنس فکشن سے کم نہیں ہےیہ شمسی توانائی اور ہوا سے چلنے والا، یہ ایک مقام سے زیادہ ہے جو کشش ثقل کے خلاف کھیلوں کی تفریح کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا جسے مکمل طور پہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کنٹرول کرے گی

*بھارتی مشرق میں گہرائی تک حملہ ، ڈی جی آئی ایس پی آر کا ممکنہ بھارتی جارحیت پر دو ٹوک مؤقف*🔰ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے معروف جریدے “دی اکانومسٹ” کو دیئے گئے انٹرویو کے بعد بھارت کی جانب سے منفی پروپیگنڈے کے ذریعے بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقے اسے بنگلہ دیش کو استعمال کرنے سے جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کے مشرقی حصے میں موجود اقتصادی مراکز کو گہرائی میں نشانہ بنانے کی بات کی ہے🔰بھارتی حکومت، جو آپریشن سندور میں ناکامی اور عوام و اپوزیشن کی تنقید سے شدید دباؤ میں ہے، نے اب ایک بار پھر آپریشن سندور 2 کے نام پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی ہے۔ اس مہم میں فرضی دہشتگردوں اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔🔰”دی اکانومسٹ” کے سوال پر کہ بھارت کی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا: “ہم اس بار بھارت میں مشرق سے آغاز کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ بھی ہر جگہ مارے جا سکتے ہیں۔ یہ بیان ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے

۔🔰بھارت کے مشرقی علاقے جیسے کولکتہ، جمشید پور، رانچی، بوکارو، راؤرکیلا، بھوبنیشور اور پٹنہ اس کی معیشت کے اہم ترین مراکز ہیں۔ یہ علاقے صنعتی، تجارتی، توانائی، بندرگاہی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز ہیں اور بھارت کی اقتصادی قوت میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔بھارت کے ان مشرقی علاقوں میں مودی کے پسندیدہ کھرب پتی گوتم ادانی اور مکیش امبانی کی مختلف بزنس کی مہنگی فیکٹریاں ہیں اور ٹیکنالوجی کے ڈیٹا سینٹرز ہیں جنکو اگر نقصان پہنچتا ہے تو ہندوستان کو دنوں میں اربوں ڈالرز کا نقصان ہوگا 🔰اگر پاکستان کسی ممکنہ جنگ میں ان اقتصادی مراکز کو نشانہ بناتا ہے تو یہ محض سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ بھارت کے اندر گہرائی تک حملہ تصور ہوگا۔ ایسا حملہ نہ صرف فوجی بلکہ معاشی و تزویراتی محاذ پر بھی بھارت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جو دشمن کے حربی ارادوں کو مفلوج کر سکتا ہے۔🔰پاکستان کا موقف ہمیشہ دوٹوک اور اصولی رہا ہے کہ وہ ایک امن پسند ملک ہے، جو خطے نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر ا ہے لیکن پاکستان کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب معرکۂ حق کے نتائج سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔

عالمی جنگ و جدل کے تیزی سے بدلتے وار بیسویں صدی کے آغاز میں ،ورلڈ وار ون کی ھولناک تباھی دیکھ کر تمام عالمی لیڈر ایک دوسرے کا سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ اب کیا کریں- پہلے تو یہ فیصلہ ہوا کہ اپنا اپنا سر پکڑکر سوچیں ورنہ دنیا کیا سوچے گی- اپنے اپنے سر پکڑ کر سوچنے کے بعد، پھر فیصلہ ھوا ھے کہ اب ورلڈ وار 2 ناگزیر ہو چکی ھے- اس فیصلے کے فوری بعد جنگ کی تیاری شروع ہو گئی-پھر جنگ عظیم دوئم لڑی گئی، ایٹم بم چلا ، چھ کروڑ بندہ مارا گیا- جب دنیا ملیا میٹ ھو گئی تو ایک بار پھر عظیم تخلیقی اور سیاسی ذھن سر جوڑ کر بیٹھے ” کہ ھون فیر کی کری اے”- کیونکہ تباھی کے لئے کچھ بچا ہی نہیں، تو یہی فیصلہ ھوا کہ جب تک دنیا نئے سرے سے بن نہیں جاتی تب تک کولڈ وار پر گزارہ کرنا پڑے گا- تقریبا چالیس سال تک کولڈ وار کھیلی گئی – کولڈ وار کا فائنل امریکہ نے جیت لیا اور سویت یونین کے ٹکرے ٹکرے کر کے دنیا کا حکمران بن گیا- دنیا ایک بار پھر نئی سرے سے اپنی مرمت پر لگ گئی تو یک دم دھشت گردوں کو خیال آیا کہ ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں- اب کے عالمی لیڈروں نے سوچا کہ دھشت گردی کی جنگ کا تو سر پیر ہی نہیں تو کیوں نا اس جنگ کو دوسری جنگوں کے لڑنے کے لئے ایک وجہ کے طور استعمال کیا جائے- ھے تیرے کی، یہ ہوتا ھے ” یکّے پر یکہّ”- یہ منصوبہ بھارت کو بہت پسند آیا- عالمی طاقتوں نے بھارت کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کو میدان جنگ چنا- مشرق وسطی میں جنگ لڑنے کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا: امریکہ کے انرجی کے مسائل ختم ھو گئے اور باقی دنیا کے بڑھ گئے- اسی دوران ” کرونا وائرس” کو کہیں موقع مل گیا اور وہ لیبارٹری سے بھاگ نکلا- دنیا وائرس کی گمشدگی کے اشتہارات ابھی بنا ہی رھی تھی کہ ایک اکیلے وائرس نے آٹھ ارب آبادی والی دنیا کو تگنی کا ناچ نچا دیا- سوائے آکسیجن اور سورج کی روشنی کے ہر چیز بند کمروں میں چھپ گئی-کرونا نے دنیا کو مکمل طور پر سیل کر دیا- دو سال کی تگ و دو کے بعد کرونا کچھ ٹھنڈا ہوا تو عالمی لیڈروں نے پھر ایک بار سوچا کہ ون آن ون جنگ کو دوبارہ ٹرائی کرنا چاھیے- کیونکہ دومتحارب ملکوں کا آپس میں دو بدو لڑائی کا رواج ختم ھوتا جا رھا ہے – کہیں یہ نہ ہو بلیو کارنر اور ریڈ کارنر والی لڑائی کا ماڈل ہی مارکیٹ سے غائب ہو جائے- اگر ایسا ہو گیا تو پھر ہم اسلحہ کس کوبیچیں گے- لہذا روس کو یوکرائن، اسرائیل کو فلسطین، اسرائیل کو ایران سے لڑانے کے بعد- اب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی جنگ جاری ھے- درمیان میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ تین روزہ جنگ کر کےاپنے چھ رافیل طیّارے بھی مار گروائے جس کا تذکرہ امریکی صدر درجنوں بار اپنی تقریروں میں کر چکے ہیں- یہ اب تک کی جنگوں کی تازہ صورتحال ہے- نئے اپ ڈیٹ کے ساتھ دوبارہ حاظر ھونگے تب تک سوشل میڈیا کے ذریعے آپس میں جڑے رھیے گا اور ہمیں دیں اجازت- ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملک کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی خرید چکی ہے اور شہریت لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ سیاستدان تو ان کا بچا کھچا کھاتے اور چولیں مارتے ہیںایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں خواجہ محمد آصف نے لکھا ہے کہ ‘وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ھے اور شہریت لینے کی تیاری کر رہی ھے۔ اور یہ نامی گرامی بیوروکریٹس ھیں۔ مگر مچھ اربوں روپے کھا کے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہیں۔ بزدار کا ایک قریب ترین بیوروکریٹ چار ارب بیٹیوں کی شادی پر صرف سلامی وصول کر چکا ھےاور آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گذار رہا ھے۔ سیاستدان تو انکا بچا کھچا کھاتے اور چولیں مارتے ھیں نہ پلاٹ نہ غیر ملکی شہریت کیونکہ الیکشن لڑنا ھوتا ھے۔ پاک سر زمین کو یہ بیوروکریسی پلیت کر رہی ھیں’۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر نھی بن جھوٹ پھیلانے والے کھربوں روپے کے اشتھار لوٹنے میں مصروف۔۔جھوٹ پھیلانے والوں کو کو کون گرفتار کرے گا بادبان ٹی وی اور پوسٹ انٹرنیشنل بادبان میگزین کے چیف ایگزیکٹو کا خفیہ اداروں کے سربراہوں سے سوال۔ای ایس پی ار کے سربراہ ڈگ اوٹ کرے کے 2 اشتھاری ایجنسیوں اور وہ 3 کون سے افسران ھے جو ان کے سھولت کار ھے۔2 اھم ترین وفاقی وزراء اس گندے انڈے کی ماند ھے جن کا کردار مودی سے بھی خطرناک۔18 صحافیوں کے خلاف گھیرا تنگ جو اس گھناونے کھیل میں شامل۔۔اسلام آباد بادبان ٹی وی رپورٹ سھیل رانا


لاہورہائیکورٹ، روٹھی بیوی سے ملاقات نہ کرانے پر درخواستگزار روتے روتےبیہوشلاہور ہائیکورٹ کی ایمرجنسی ریسکیو نے بیہوش ہونے والے شخص کو اسپتال منتقل
بھارت نے کوئی غلط حرکت کی تو پاش پاش کر دیا جائے گا ڈی جی آئی ایس پی آر
*بھارتی مشرق میں گہرائی تک حملہ ، ڈی جی آئی ایس پی آر کا ممکنہ بھارتی جارحیت پر دو ٹوک مؤقف*🔰ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے معروف جریدے “دی اکانومسٹ” کو دیئے گئے انٹرویو کے بعد بھارت کی جانب سے منفی پروپیگنڈے کے ذریعے بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقے اسے بنگلہ دیش کو استعمال کرنے سے جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کے مشرقی حصے میں موجود اقتصادی مراکز کو گہرائی میں نشانہ بنانے کی بات کی ہے🔰بھارتی حکومت، جو آپریشن سندور میں ناکامی اور عوام و اپوزیشن کی تنقید سے شدید دباؤ میں ہے، نے اب ایک بار پھر آپریشن سندور 2 کے نام پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی ہے۔ اس مہم میں فرضی دہشتگردوں اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔🔰”دی اکانومسٹ” کے سوال پر کہ بھارت کی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا: “ہم اس بار بھارت میں مشرق سے آغاز کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ بھی ہر جگہ مارے جا سکتے ہیں۔ یہ بیان ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔🔰بھارت کے مشرقی علاقے جیسے کولکتہ، جمشید پور، رانچی، بوکارو، راؤرکیلا، بھوبنیشور اور پٹنہ اس کی معیشت کے اہم ترین مراکز ہیں۔ یہ علاقے صنعتی، تجارتی، توانائی، بندرگاہی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز ہیں اور بھارت کی اقتصادی قوت میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔بھارت کے ان مشرقی علاقوں میں مودی کے پسندیدہ کھرب پتی گوتم ادانی اور مکیش امبانی کی مختلف بزنس کی مہنگی فیکٹریاں ہیں اور ٹیکنالوجی کے ڈیٹا سینٹرز ہیں جنکو اگر نقصان پہنچتا ہے تو ہندوستان کو دنوں میں اربوں ڈالرز کا نقصان ہوگا 🔰اگر پاکستان کسی ممکنہ جنگ میں ان اقتصادی مراکز کو نشانہ بناتا ہے تو یہ محض سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ بھارت کے اندر گہرائی تک حملہ تصور ہوگا۔ ایسا حملہ نہ صرف فوجی بلکہ معاشی و تزویراتی محاذ پر بھی بھارت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جو دشمن کے حربی ارادوں کو مفلوج کر سکتا ہے۔🔰پاکستان کا موقف ہمیشہ دوٹوک اور اصولی رہا ہے کہ وہ ایک امن پسند ملک ہے، جو خطے نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر ا ہے لیکن پاکستان کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب معرکۂ حق کے نتائج سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔
پاکستان امن پسند ملک کسی یوکرائن تنازعہ اپنے شہریوں کے ملوث ھونے کی خبریں جھوٹ۔پی ٹی آئی کی قیادت کمپرومائزڈ پابند سلاسل، عوام سڑکوں پر۔عوام احتجاج کے لئے نکل آئیں بیانیہ لوگوں نے اپنے دلوں میں اتار لیا ، ۔۔۔۔حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کی گونج۔کیا سب کچھ ختم کرنے کا فیصلہ ھو چکا۔وزیر اعطم کی مشکلات میں اضافہ مافیا ان ایکشن۔*چین نے فروخت کے معاہدے کی منظوری نہ دی تو ٹک ٹاک کو بند کردیا جائے گا، امریکا۔ ۔شبر زیدی کو گرفتار کرنے کا فیصلہ۔۔بنگلہ دیش میں انتخابات فروری 2026۔اس لیے بھارت دباؤ ڈالنا چاہا رہا مگر ہماری فوج آگے کا سوچ کر بیٹھی ہے اب کی بار پہل ہم کریں گے اور یوتھیوں کے والدین کو تن دینگے۔۔شھباز شریف کی وزرات عظمی کی رخصتی کے بعد وزرات عظمی کے لیے سردار ایاز صادق خواجہ اصف اور احسن اقبال میں کون ھوگا جبکہ اپوزیشن لیڈر کے لیے ڈوگر یا بلاول فیصلہ جلد۔کھربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ملک ریاض کے خلاف کریک ڈاؤن۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*بنگلہ دیش میں عام انتخابات فروری 2026 میں منعقد کرانے کا اعلان*بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس نے کہا ہے کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات فروری 2026 میں ہوں گے۔عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی معزولی کا ایک سال مکمل ہونے پر محمد یونس نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’عبوری حکومت کی جانب سے میں چیف الیکشن کمشنر کو ایک خط لکھوں گا، جس میں درخواست کی جائے گی کہ انتخابات رمضان سے پہلے، فروری 2026 میں کرائے جائیں۔‘عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے 85 سالہ محمد یونس نے کہا کہ وہ انتخابات کے بعد مستعفی ہو جائیں گے۔

میڈیا میں خبریں عام ہیں کہ ملک ریاض نے پاکستان بھر میں پھیلے بحریہ ٹاونز کا آپریشن بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں دینے سے معذوری ظاہر کر دی ہے۔ نیب نے بحریہ کے کچھ پروجیکٹ نیلام کرنے کی تاریخ 07 اگست مقرر کی ہے.. ملک ریاض نے ساری عمر جن کی آشیرباد سے زمینیں ہتھیائیں وہ اس ملک کی عسکری و پولیٹیکل ایلیٹ ہے۔ملک ریاض کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ صرف اس کے ساتھ ہیکیوں؟؟ اس کے ساتھ بڑی بڑی نوکریاں کرنے والے لوگوں، یا سہولت کاروں یا شراکت داروں کے خلاف کون کارروائی کرے گا ؟۔ سلیکٹیو جسٹس کوئی جسٹس نہیں ہوتا۔ کس نے کراچی میں سرکاری زمین بحریہ کو الاٹ کروائی ؟۔ آپ قبضے کریں ، لوگوں سے دھونس ڈنڈے پر زمینیں خریدیں، لوگوں کو اُٹھائیں، لوگوں کو دھمکائیں، پرائیویٹ ملیشیا بنا کر لوگوں پر تشدد کروائیں اور بحریہ ٹاؤنز بڑھاتے جائیں اور اس سارے کام میں عسکری و سیاسی ایلیٹ ساتھ ہو… مگر کسی نہ کسی کہ آہ عرش ہلا ہی دیتی ہے۔ ملک کے حکمران و اشرافیہ بھی ضرور سوچیں۔

ہیگسیتھ کے سینیئر مشیر نے وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ رابطہ کار کو پینٹاگون سے ہٹانے کی کوشش کیواشنگٹن ڈی سی (4 اگست 2025) — صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران پینٹاگون میں تعینات عملے میں اختلافات، عدم اعتماد اور رسہ کشی میں ایک اور ہلچل مچ گئی ہے، جب دفاعی سیکریٹری پیٹ ہیگسیتھ کے عبوری چیف آف اسٹاف، رکی بوریا، نے ایک سینیئر وائٹ ہاؤس رابطہ افسر میتھیو اے مک نِٹ کو پینٹاگون سے نکالنے کی ناکام کوشش کی۔یہ جھگڑا اُس وقت سامنے آیا جب بوریا کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا —




خاص طور پر ان کی طرف سے دفاعی سیکریٹری کے دفتر میں اہم عہدوں پر تقرریوں کی کوششوں پر۔ ساتھ ہی ساتھ، بوریا کو مستقل طور پر چیف آف اسٹاف کا عہدہ دینے سے بھی انکار کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق، یہ تنازعہ وائٹ ہاؤس اور ہیگسیتھ کے درمیان موجود ایک نازک مفاہمت کو بھی کمزور کر چکا ہے —

جس کے تحت بوریا کو غیر رسمی طور پر چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کی اجازت ملی تھی، کیونکہ پہلے سے نامزد کردہ کئی امیدواروں نے یہ عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیا تھا۔وائٹ ہاؤس کی مداخلتمعاملے سے واقف افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب بوریا نے مک نٹ کو ہٹانے کی کوشش کی تو وائٹ ہاؤس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اس کوشش کو روک دیا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان، انا کیلی نے بیان میں کہا:“صدر ٹرمپ، سیکریٹری ہیگسیتھ کی پینٹاگون میں جنگجوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں، نہ کہ بیداری اور تنوع پر مبنی مہمات کی۔”انہوں نے مزید کہا کہ:“دفاعی محکمے میں 90 فیصد سیاسی تقرریاں مکمل ہو چکی ہیں، اور تمام اہلکار، بشمول میتھیو مک نِٹ، اس مشن کا حصہ ہیں جس کا مقصد دنیا کی سب سے مہلک جنگی قوت کی تشکیل ہے۔

”بیان میں رکی بوریا کا ذکر نہیں کیا گیا۔یہ واضح نہیں کہ ہیگسیتھ کو بوریا کی کوششوں کا پہلے سے علم تھا یا انہوں نے اس کی منظوری دی تھی۔پینٹاگون میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہےپینٹاگون کے ترجمان اور ہیگسیتھ کے مشیر شان پرنیل نے اس معاملے پر کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا، البتہ ایک مختصر بیان میں اسے “افواہیں اور بلاگ پوسٹس” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

“جب جھوٹی خبریں چلانے والے میڈیا کے پاس عوام کو بتانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تو وہ چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کرتے ہیں۔”میتھیو مک نٹ — جو صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں بھی مختلف عہدوں پر فائز رہے — تبصرہ کے لیے دستیاب نہ ہو سکے، اور بوریا نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔پہلے چھ ماہ میں بد نظمیصدر ٹرمپ کی واپسی کے پہلے چھ مہینے میں پینٹاگون کئی تنازعات سے دوچار رہا ہے۔ ہیگسیتھ کی قیادت میں اچانک برطرفیاں، ذاتی اختلافات، دھمکیاں، اور ناقص حکمرانی معمول بن چکی ہیں۔

ان کے مشیر بوریا، ان تمام تنازعات کا مرکزی کردار سمجھے جاتے ہیں۔ایک حالیہ ریٹائرڈ میرین کرنل، بوریا نے اپریل سے ڈی فیکٹو چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے فرائض سنبھال رکھے ہیں، جب ہیگسیتھ کے اصل امیدوار جو کیسپَر نے استعفیٰ دے کر نجی شعبے میں شمولیت اختیار کر لی۔ذرائع کے مطابق، بوریا نے ہیگسیتھ کو دیگر مشیروں سے الگ تھلگ کر کے پینٹاگون کے اندرونی معاملات پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔متنازع تقرریاں اور پولی گراف ٹیسٹحالیہ دنوں میں، ہیگسیتھ نے لیفٹیننٹ جنرل ڈگلس سمز کی ترقی کا فیصلہ منسوخ کر دیا،

جو جوائنٹ اسٹاف کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہ فیصلہ چیئرمین جوائنٹ چیفس، جنرل ڈین کین کی براہِ راست اپیل کے باوجود کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، اس اہم ترین فوجی عہدے کو فی الحال عبوری طور پر میجر جنرل اسٹیفن لیشوسکی نے سنبھالا ہے۔ نیوی کے وائس ایڈمرل فریڈ کاچر کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جو سینیٹ کی توثیق کے منتظر ہیں۔ہیگسیتھ نے افشا ہونے والی معلومات پر قابو پانے کے لیے، امسال کے آغاز میں لیفٹیننٹ جنرل سمز پر پولی گراف ٹیسٹ کروانے کی دھمکی بھی دی تھی — جیسا کہ وال اسٹریٹ جرنل پہلے رپورٹ کر چکا ہے۔اپریل اور مئی کے اوائل میں، کچھ اہلکاروں کے خلاف پولی گراف ٹیسٹ کیے بھی گئے، مگر بعد میں وائٹ ہاؤس کی ہدایت پر روک دیے گئے، کیونکہ ہیگسیتھ کے ایک سیاسی مشیر پیٹرک ویور نے شکایت کی کہ بوریا انہیں بھی ٹیسٹ میں شامل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ ویور نے ہمیشہ ٹرمپ کے ایجنڈے کی حمایت کی ہے۔خفیہ معلومات لیک ہونے کا اسکینڈلبوریا اور ہیگسیتھ ایک اور تنازعے میں بھی زیرِ تفتیش ہیں —

جو سیکریٹری دفاع کے سگنل چیٹ ایپ کے استعمال سے متعلق ہے۔ محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ مارچ میں ہیگسیتھ کے سگنل اکاؤنٹ سے یمن میں ممکنہ بمباری کی خفیہ تفصیلات شیئر کی گئیں، جو ایک “خفیہ / صرف امریکیوں کے لیے” درج شدہ ای میل سے حاصل کی گئی تھیں۔یہ حساس معلومات صدر ٹرمپ کے قریبی مشیروں کے ساتھ ساتھ ہیگسیتھ کی بیوی جینیفر اور ذاتی وکیل ٹم پرلاتورے کو بھی بھیجی گئی تھیں۔انسپکٹر جنرل اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ معلومات چیٹ گروپ میں کس نے پوسٹ کیں، کیونکہ بوریا کو ہیگسیتھ کے ذاتی فون تک رسائی حاصل تھی،

اور وہ اکثر ان کی جانب سے پیغامات بھی بھیجتے تھے۔گزشتہ ہفتے، ہیگسیتھ کی ٹیم نے انسپکٹر جنرل کے دفتر پر جوابی حملہ کیا — غالباً اس تفتیش کی ساکھ کو عوامی سطح پر چیلنج کرنے کی کوشش، قبل اس کے کہ رپورٹ منظر عام پر آئے۔
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے 9 ارکان پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیدیا۔۔۔تفصیلات بادبان ٹی وی پر
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے 9 ارکان پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیدیا۔۔۔عمر ایوب ، شبلی فراز ، صاحبزادہ حامد رضا ، زرتاج گل ، جنید افضل ساہی ، رائے حسن نواز ، رائے مرتضی اقبال نااہل قرار ، نوٹیفکیشن جاری

*ان حلقوں میں دوبارہ الیکشن ہونگے*این اے 17 ہری پوراین اے 96 فیصل آباداین اے 104 فیصل آباداین اے 143 ساہیوالاین اے 191 ڈیرہ غازی خان پی پی 73 سرگودھا ۔۔۔ انصر اقبال ہرلپی پی 98 فیصل آبادپی پی 203 ساہیوال

الیکشن کمیشن نے سزا یافتہ ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹر کو ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیاقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان کو ڈی سیٹ کر دیا گیاسینیٹ سے قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز کو بھی ڈی سیٹ کرنے کا نوٹی فکیشن جاریاراکین قومی اسمبلی زرتاج گل، رائے حیدر علی، حامد رضا، رائے حسن نواز کو بھی ڈی سیٹ کردیا گیاایم پی اے انصر اقبال، جنید افضل ساہی اور محمد مرتضیٰ اقبال کو بھی ڈی سیٹ کردیا گیا









