تیس سال بعد اسکا پوتا بھی ایم این اے بنے گا 👏👏👏👏سید یوسف رضا گیلانی چئیرمین سینیٹ ہیں، ان کے چار بیٹے ہیں، چاروں کو ایم این اے بنایا گیا ہے. عبدالقادر گیلانی کو شجاع آباد سے، علی موسٰی گیلانی، علی حیدر گیلانی اور چوتھے صاحبزادے علی قاسم گیلانی ملتان سے الیکشن جیتے ہیں. یعنی کہ پوری فیملی صوبائی اور وفاقی کابینہ کا حصہ ہے.سپریم کورٹ نے زور لگا دیا کہ یوسف رضا گیلانی سوئس حکام کو خط لکھ دیں، انہوں نے نہیں لکھا. ہتھکڑیاں پہن کر وزیر اعظم کی کرسی سے اتر گئے لیکن پاکستان کا بھلا نہیں ہونے دیا. یہ وزارتیں اسی خدمت کی بنا پر دی گئی ہیں. آگے چلتے ہیں، یوسف رضا گیلانی کا نواسا لندن یونیورسٹی میں پڑھتا ہے، اپنے نواسے کی لندن میں گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لئے جانا تھا. انہوں نے بطور چیئرمین سینیٹ سرکاری دورے کی جگاڑ بنائی. اپنے وفد میں اپنے دونوں بیٹوں اور ان کی فیملیز کو نامزد کر دیا.. حکومت پنجاب کے خرچے پر اپنے سارے ٹبر کو مفت میں انگلینڈ میں عیاشی کروائی. فائیو سٹار ہوٹل میں قیام طعام گھومنا پھرنا سب کچھ سرکاری خرچ پر ہو گیا اور نواسے کی گریجویشن تقریب بھی نمٹا لی. اگست کے مہینے میں جب پنجاب کے عوام بجلی بلوں کی وجہ سے خودکشی پر مجبور تھے، مزدور کسان مر رہے تھے یہ موصوف سرکاری اخراجات پر فیملی سمیت انگلینڈ میں انجوائے کر رہے تھے. کل یوسف رضا گیلانی کا پوتا پیدا ہوا ہے، تیس سال بعد یہ بھی ایم این اے بنے گا اور ملتان کے عوام یونہی ذلیل و خوار رہیں گے.
*پاکستان چینی بحران پر حکومت کا ایکشن: تمام ذخیرہ کنٹرول میں لےلیا،18ملز مالکان کے نام ای سی ایل میں شامل*ملک میں جاری چینی بحران پر وفاقی حکومت نے شوگر ملز کے خلاف ایکشن لے لیا۔
وزارت فوڈ حکام کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک بھر میں موجود چینی کا تمام ذخیرہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔حکام کے مطابق وفاقی حکومت کے ایکشن کے بعد 19 لاکھ میٹرک ٹن چینی شوگر ملز کے بجائے حکومتی کنٹرول میں چلی گئی۔حکام نے بتایاکہ 18 شوگر ملز کے مالکان کے نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیے گئے اور ای سی ایل میں ڈالےگئے نام چند دنوں میں جاری کردیے جائیں گے۔حکام کا کہنا ہےکہ یہ فیصلہ چینی کی مصنوعی قلت اور قیمتیں مزید بڑھنے کے خدشے کے پیش نظرکیا گیا۔وزارت فوڈ حکام نے بتایا کہ تمام شوگر ملز میں چینی اسٹاک پر ایف بی آر کے ایجنٹس تعینات ہیں اور شوگرملوں کے چینی اسٹاک پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بھی لگادیا گیا۔دوسری جانب وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ چینی کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کوئی نئی بات نہیں، چینی کی برآمد اور درآمد پر غلط تاثر پیدا کیا جاتاہے۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کے وقت فیصلہ ہوا تھا کہ ایک کلو چینی 140 روپے سے اوپر نہیں جائے گی،چینی کی ایکسپورٹ اکتوبر 2024 میں شروع ہوئی، ایکسپورٹ شروع ہونےکے 20 دن کے بعد کرشنگ سیزن شروع ہو چکا تھا۔یاد رہے ملک بھر میں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے اور ریٹیل قیمت 173 روپے پر عوام کو چینی فراہم نہیں کی جارہی۔جیو نیوز کے مطابق کراچی کے ریٹیل بازار میں چینی 180 سے 190 روپے کلو مل رہی ہے، شہر میں چینی کی گراں فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور اس دوران 7 دکانیں سیل کی گئیں
، 2 گراں فروش گرفتار ہوئے جبکہ 10 لاکھ 77 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ ادھر کوئٹہ اور پشاور میں بھی چینی 180 روپے سے کم میں دستیاب نہیں۔لاہور میں ڈیلرز اور شوگر ملز مالکان کا تنازع برقرار ہے جس کے باعث بیشتر دکانوں پر چینی دستیاب نہیں۔ڈیلرز کا کہنا ہے کہ شوگر ملز مالکان 165 روپے پر چینی فراہم نہیں کررہے ہیں۔
بلاسفیمی گینگ اور کمیشن ۔اظہر سید عبداللہ قتل کیس میں کومل اسماعیل یا ایمان ، راؤ عبدالرحیم کا اسپین والا نمبر استعمال کر رہی تھی ۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں راؤ عبدالرحیم نے تسلیم کیا وہ قتل سے پہلے مقتول کے ساتھ رابطے میں تھا ۔عدالت نے ایف آئی اے کو ایمان عرف کومل اسماعیل کو تلاش کرنے کا حکم دیا لیکن مسلسل چھاپوں کے باوجود ایمان تلاش نہ کی جا سکی ۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے اور آئی جی اسلام آباد پولیس کو عبداللہ قتل کیس کے متعلق ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کئے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سنگل بینچ کا بلاسفیمی گینگ کے متعلق عبوری حکمنامہ میرٹ کی بجائے ٹیکنیکل گراؤنڈ پر معطل کر دیا کہ بلاسفیمی کے کیس پورے ملک میں ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ کار محدود ہے ۔جس دو رکنی بینچ نے عبوری حکمنامہ معطل کیا
اس کا ایک رکن بلاسفیمی کے متعدد کیسز میں سزائے موت کا حکم سنا چکا ہے ۔وہ پراسرار کردار ایمان فاطمہ جو ریاست کے پرائم ادارے کے متعدد چھاپوں میں بھی پکڑی نہ جا سکی خاموشی سے دو رکنی بینچ کے سامنے پیش ہو گئی جبکہ اسکا شناختی کارڈ معطل تھا نامعلوم طاقتور ہاتھوں نے بائیو میٹرک پتہ نہیں کیسے کروایا یا بغیر بائیو میٹرک کے وہ عدالت میں داخل ہو گئی دادرسی کی درخواست پیش کر دی ۔بینچ نے ایمان فاطمہ یعنی کومل اسماعیل کی عدالت میں موجودگی کے باوجود اس سے کوئی استفسار نہیں کیا وہ چپکےسے عدالت سے نکل گئی تو منصف نے پوچھا “خاتون کہاں ہے”۔اسلام آباد پولیس نے عبداللہ شاہ قتل کیس میں اسے تفتیش کی غرض سے پکڑنے کی کوشش کی نہ ایف آئی اے حکام نے اس پراسرار کردار پر گرفت کی ۔چار سو بلاسفیمی کی ایف آئی آر ہیں۔ سات سو سے زیادہ نوجوان ملزم ہیں۔چار ملزم جیل میں مارے جا چکے ہیں ۔ایک ملزم قتل کیا جا چکا ہے ۔ایک ہی 35 رکنی گینگ ہے جیسے دو ارب مسلمانوں میں سے بلاسفیمی مواد ملتا ہے اور وہ مقدمے درج کراتا ہے ۔ریاست تفتیش ہی نہیں کرتی صرف ان 35 لوگوں کو بلاسفیمی کا کیسے پتہ چلتا ہے ۔متعدد ایف آئی آر ایک ہی طرز پر ہیں۔بلاسفیمی گینگ کے ہر رکن نے متعدد ایف آئی آر کروائی ہیں۔ ایک ہی پیٹرن ہے ۔اج تک بلاسفیمی مواد بنانے والے ایڈمن کا پتہ چلا اور نہ 35رکنی گینگ کے فون کے فرانزک کروائے گئے۔جب حقائق جاننے کیلئے ایک عدالت نے کمیشن بنانے کے احکامات جاری کئے دو رکنی بینچ نے حکم امتناعی جاری کر دیا ۔ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آرہا یہ ہو کیا رہا ہے کسی کو کچھ سمجھ آتا ہے تو اس پر ضرور لکھے
جولائی 2025*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر
صدارت انسداد دہشت گردی و ریاستی رٹ کے قیام (Harden the State) کے حوالے سے قائم اسٹیرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس* ریاست پاکستان، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور دنیا دہشت گردوں کے خلاف ہماری کامیاب کاروائیوں کی معترف ہے۔ وزیراعظمریاست پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے۔ وزیراعظمپاکستان کی طرف سے زمینی آپریشن، متعلقہ قانون سازی، بامعنی عوامی رابطے اور انتہا پسند سوچ کی حوصلہ شکنی جیسے اہم عناصر کا بھرپور اور موثر استعمال کیا گیا۔ وزیراعظمکمیٹی کی دھشتگردی کے خلاف وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی کو مؤثر بنانے اور اس ضمن میں کمیٹی کی سفارشات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت. بہادر افواج کے سپوتوں کا دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کردار قابل تعریف و قابل تحسین ہے۔ وزیراعظارض وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکار و افسران اور قربانی کے جذبے سے سرشار ان کے اہل خانہ پر مجھ سمیت پوری قوم کو فخر ہے. وزیرِاعظم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری پاکستانی قوم، بہادر افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے، انٹیلیجنس ادارے متحد اور یکسو ہیں.
وزیراعظم پاکستان کی بہادر افواج نے آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب میں دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور حالیہ تاریخ ساز معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی فتح کو تسلیم کیا۔ وزیراعظم صوبائی حکومتوں ، انٹیلیجنس بیورو، وزارت داخلہ،کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ بالخصوص پنجاب انسداد دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں نہایت موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کو فتنتہ ہندوستان اور فتنتہ الخوارج اور اس طرح کی دوسرے سماج دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے جامع، موثر اور قابل عمل حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ وزیراعظمتمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاروائیوں و تعاون سے اسمگلنگ کے خلاف مؤثر کاروائیاں عمل میں لائی گئیں، جس سے اسمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوئی. وزیرِ اعظماسمگلنگ کی روک تھام سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے. وزیرِ اعظم دہشت گردی سے پاک اور پرامن مضبوط ریاستی ڈھانچہ ہی بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتا ہے۔ وزیراعظم بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے حکومت نے تمام نظام کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس سسٹم میں بہتری جیسے انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں۔وزیراعظمپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ اضافہ اور گلوبل ریٹنگز میں بہتری پاکستان کی معیشت میں استحکام کی نشاندہی کرتا ہے اور اس سے بیرونی سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہوگا: وزیراعظم غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق وطن واپسی کے پروگرام پر عملدرآمد مؤثر طور سے جاری ہے. وزیرِ اعظم اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ، وفاقی وزیر اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر براۓ بین الصوبائی تعاون رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپیکٹر جنرلز اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی.
جب دنیا بھارت کو نظرانداز کر رہی ہے،تب پاکستان عالمی قوتوں کا مرکزِ توجہ بن چکا ہے۔صدر ٹرمپ کا پاکستان سے توانائی کے شعبے میں اشتراک،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کی گواہی دے رہا ہے۔اب دنیا طاقتور پاکستان کو سلام کر رہی ہے۔
آن لائن نجی ٹیکسی سروس آیپ کے ذریعے لوٹ مار کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب، آیپ کا سوفٹویر آپریٹر ہی نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ نکلا، گلبرگ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے آن لائن نجی ٹیکسی سروس آیپ سے لوٹ مار میں ملوث گروپ کے 4 ارکان گرفتار کرلیے،ملزمان سے لاکھوں مالیت کی الیکٹرانکس اشیاء، کپڑے، دیگر چیزیں اور 2پسٹل برآمد،مقدمات درج۔ مرکزی ملزم آن لائن نجی ٹیکسی سروس آیپ آفس میں سوفٹویر آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا،ملزم اپنے دیگر 3 ساتھیوں کو جعلی اکاؤنٹ بنا کر دیتا تھا، جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے ملزمان شہریوں کی کوریئر کی گئی اشیاء چورا کر فرار ہوجاتے تھے۔
آن لائن نجی ٹیکسی سروس آیپ کے ذریعے لوٹ مار کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب، آیپ کا سوفٹویر آپریٹر ہی نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ نکلا، گلبرگ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے آن لائن نجی ٹیکسی سروس آیپ سے لوٹ مار میں ملوث گروپ کے 4 ارکان گرفتار کرلیے،ملزمان سے لاکھوں مالیت کی الیکٹرانکس اشیاء، کپڑے، دیگر چیزیں اور 2پسٹل برآمد،مقدمات درج۔
مرکزی ملزم آن لائن نجی ٹیکسی سروس آیپ آفس میں سوفٹویر آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا،ملزم اپنے دیگر 3 ساتھیوں کو جعلی اکاؤنٹ بنا کر دیتا تھا، جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے ملزمان شہریوں کی کوریئر کی گئی اشیاء چورا کر فرار ہوجاتے تھے۔
ظفر سپاری کے گرد شکنجہ! منی لانڈرنگ اور جنسی جرائم کی تحقیقات، دبئی اور لندن کے لنکس بے نقاباسلام آباد (خصوصی رپورٹر) – پاکستان کے معروف ٹک ٹاکر ظفر سپاری کے خلاف خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق ظفر سپاری پر منی لانڈرنگ، حوالہ ہنڈی اور جنسی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت تفتیش کی جا چکی ہے، اور اب ان کی گرفتاری کے لیے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ظفر سپاری نے دیگر مشہور ٹاکرز، گینگسٹرز اور لینڈ مافیا کے افراد کے ساتھ مل کر دبئی کے راستے پشاور کے ایک بڑے منی لانڈرر کی مدد سے غیر قانونی رقوم کو جرمنی اور انگلینڈ منتقل کیا۔ اس نیٹ ورک میں متعدد بااثر افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔
ادھر اطلاع ہے کہ ظفر سپاری پاکستان سے لندن فرار ہو چکے ہیں، جس پر تمام ایئرپورٹس پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ واپسی پر ان کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جا سکے۔دوسری جانب خفیہ اداروں نے پشاور میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے اس نیٹ ورک کے مرکزی منی لانڈرر کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس گرفتاری کو کیس میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ظفر سپاری کی پاکستانی شہریت پر بھی شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور اس پہلو پر بھی گہری تفتیش جاری ہے۔خفیہ اداروں کی یہ کارروائیاں سوشل میڈیا کی چکاچوند دنیا کے پس پردہ چھپے مجرمانہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ عوامی و سوشل میڈیا حلقوں میں بھی اس خبر نے ہلچل مچا دی ہے۔
ٹرمپ کا مودی سرکار کو سفارتی محاذ پر ایک اور جھٹکاخالصتان تحریک کی حامی تنظیم سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو خط لکھ دیاخط میں صدر ٹرمپ نے امریکی شہریوں کے حقوق اور سلامتی کے لیے لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بھارت سے علیحدگی کے لیے سرگرم خالصتان تحریک کی حامی تنظیم سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ارسال کردہ خط اپنی ایکس پوسٹ میں شیئر کیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے خط میں واضح کیا کہ میں اپنے شہریوں، اپنی قوم اور اپنے اقدار کو سب سے پہلے رکھتا ہوں، جب امریکا محفوظ ہوگا، تبھی دنیا بھی محفوظ ہوگی۔ٹرمپ نے کہا کہ میں اپنے شہریوں کے حقوق اور سلامتی کے لیے لڑنا کبھی نہیں چھوڑوں گا۔صدر ٹرمپ کا خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 17 اگست کو واشنگٹن میں خالصتان تحریک کا ریفرنڈم ہونا ہے۔
ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو محکمہ موسمیات کا وزیر لگا دیا۔ ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے وزیرِ موسمیات سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے کہا :– موسم بہت اچھا ہے اور اگلے کئی روز تک اسی طرح رہے گا۔ بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ بادشاہ مطمئن ہوکر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہو گیا۔
راستے میں بادشاہ کو ایک کمہار ملا۔ اس نے کہا حضور ~ آپ کا اقبال بلند ہو‘ آپ اس موسم میں کہاں جا رہے ہیں؟ بادشاہ نے کہا:– شکار پر۔ کمہار کہنے لگا‘:– حضور! موسم کچھ ہی دیر بعد خراب ہوجانے اور بارش کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ بادشاہ نے کہا‘ :– ابے او برتن بنا کر گدھے پر لادنے والے ‘ تو کیا جانے موسم کا حال ؟ میرے وزیر نے بتایا ہے کہ موسم نہایت خوشگوار ہے اور شکار کے لیئے بہت موزوں ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ بارش ہونے والی ہے؟پھر بادشاہ نے ایک سپاہی کو حکم دیا کہ اس بے پرکی چھوڑنے والے کمہار کو دو جوتے مارے جائیں۔ بادشاہ کے حکم پر فوری عمل ہوا اور کمہار کو دو جوتے نقد مار کر بادشاہ شکار کے لیئے جنگل میں داخل ہو گیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ گھٹا ٹوپ بادل چھا گئے ۔
آدھے گھنٹہ بعد گرج چمک شروع ہوئی اورپھر بارش۔ بارش بھی ایسی کہ خدا کی پناہ۔ ہر طرف کیچڑ اور دلدل بن گئی۔ بادشاہ اور اسکے ساتھیوں کو بہت پریشانی ہوئی – شکار کا پروگرام خراب ہو گیا۔ جنگل میں پانی سے جل تھل ہو گئی۔ ایسے میں خاک شکار ہوتا۔ بادشاہ نے واپسی کا سفر شروع کیا اور برے حال میں واپس محل پہنچا۔ واپس آکر اس نے دو کام کیئے ۔ پہلا یہ کہ وزیرِ موسمیات کو فوری برطرف کردیا اور دوسرا یہ کہ کمہار کو دربار میں طلب کیا، اسے انعامات سے نوازا اور وزیرِ موسمیات بننے کی پیشکش کی۔ کمہار ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا‘:– حضور کہاں میں جاہل اور ان پڑھ شخص اور کہاں سلطنت کی وزارت۔ مجھے تو صرف برتن بنا کر بھٹی میں پکانے اور گدھے پر لاد کر بازار میں فروخت کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں آتا۔ مجھے موسم کا رتی برابر پتہ نہیں۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ جب میرا گدھا اپنے کان ڈھیلے کر کے نیچے لٹکائے تو اس کا مطلب ہے کہ بارش ضرور ہو گی۔ یہ میرا تجربہ ہے اور آج تک میرے گدھے کی یہ پیش گوئی غلط ثابت نہیں ہوئی۔ یہ سن کر بادشاہ نے اپنا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کمہار کے گدھے کو اپنا وزیرِ موسمیات مقرر کر دیا۔ مؤرخ کا کہنا ہے کہ گدھوں کو وزیر بنانے کی ابتدا اس واقعے کے بعد سے ہوئی اور یہ روایت کسی نہ کسی شکل میں آج بھی پائی جاتی ہے۔۔ 😊⚡❄😄😊.🌈⛈️🐎
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے بانجھ پن پر شوہر کےحق مہر یا نان نفقہ کی ادائیگی سے انکار کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت میں مقدمے میں شوہر کے رویے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے درخواست گزار صالح محمد پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ واضح رہے کہ مقدمے میں شوہر نے بیوی پر بانجھ پن اور عورت نہ ہونے کا الزام لگایا تھا ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بانجھ پن حق مہر یا نان نفقہ روکنے کی وجہ نہیں۔ خواتین پر ذاتی حملے عدالت میں برداشت نہیں ہوں گے۔ شوہر نے بیوی کو والدین کے گھر چھوڑ کر دوسری شادی کر لی۔ پہلی بیوی کے حق مہر اور نان نفقہ سے انکار کیا گیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عورت کی عزت نفس ہر حال میں محفوظ ہونی چاہیے۔ خواتین کی تضحیک معاشرتی تعصب کو فروغ دیتی ہے۔ مقدمے میں بیوی کی میڈیکل رپورٹس نے شوہر کے تمام الزامات رد کیے ہیں۔
خواتین کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس کیس میں 10 سال تک خاتون کو اذیت اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ جھوٹے الزامات اور وقت ضائع کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالت نے مقدمے میں ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے۔It is a sorrowful truth of our society that infertility, or even the suspicion of it, is often weaponized against women. This social prejudice routinely results in courts of law becoming venues for humiliating a woman under the guise of litigation. However, it must be acknowledged without equivocation that infertility, even if present, is no ground to deny a woman her dower or maintenance. It is certainly no ground to challenge her womanhood. To convert such personal pain into a legal weapon is not only an abuse of the process, but an affront to human dignity that should not be enabled.It also bears emphasis that our religion and culture treat the marital bond as a sacred covenant. The Holy Quran has described the spouse as a garment; the relationship between a husband and wife is likened to that of libaas in our religion, and therefore, the ideals of protection, mutual respect, and dignity in marriage must not be compromised in any event. Lest we forget: women in our society constitute a vulnerable group, whose dignity requires vigilant protection and care. The courts cannot, and will not, be passive venues for the perpetuation of social prejudices that harm women and subject them to one trauma after the other. It is not a matter of judicial discretion but of constitutional and moral obligation that the personal dignity of all who appear before the courts be duly safeguarded, particularly where the power imbalance between the parties is so manifest. The power to award exemplary costs is one means by which the Court seeks to deter frivolous, abusive, and malicious litigation. In the present case, the petitioner has not merely wasted judicial time. He has caused a woman already in a position of vulnerability to suffer degradation and personal trauma over the course of protracted litigation in three forums spread over a decade. This Court would be remiss in its duty were it to allow such conduct to pass without sanction.Accordingly, this petition is dismissed with costs of Rs. 500,000/- (Rupees five hundred thousand only), imposed primarily as an expression of the strong disapproval of this Court towards the misuse of judicial process by the petitioner to inflict gratuitous humiliation upon the respondent, which shall be paid to the respondent. If the said amount of costs is not paid by the petitioner, the same shall be recovered by way of arrears of land revenue. C.P.L.A.354-P/2025Saleh Muhammad and another v. Mst. Mehnaz Begum and others Mr. Justice Yahya Afridi30-06-2025
*🔴اٹک: شادی میں جانیوالے خاندان کی گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، 2 خواتین جاں بحق، 5 افراد ریسکیو*اٹک: شادی میں شرکت کیلئے جانیوالے خاندان کی گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔ڈی سی اٹک راؤ عاطف کے مطابق اٹک میں سیلابی پانی میں بہہ جانے والی گاڑی میں 10 افراد سوار تھے۔ڈی سی اٹک نے بتایا کہ واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا ہے جس میں 5 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جب کہ لاپتا ہونے والے دیگر 5 افراد میں سے 2 خواتین کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔راؤ عاطف نے بتایا کہ متاثرہ خاندان شادی میں شرکت کے لیے گیاتھا کہ سیلابی ریلے میں گاڑی بہہ گئی، لاپتا ہونے والے 3 افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
*وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی اعلان کردہ حج پالیسی 2026 کی نمایاں خصوصیات۔۔۔ بتاریخ 30 جولائی، 2025*بفضل تعالیٰ حج پالیسی 2026 آج وفاقی کابینہ نے منظور کر لی ہے۔ اس کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔ 👈1. حج درخواستیں 4 اگست سے موصول کی جائیں گی۔👈2. پاکستان کے لیے حج 2026 کا کوٹہ فی الحال 179,210 مختص کیا گیا ہے ۔تاہم سعودی عرب کی جانب سے حتمی اعلان ہونا باقی ہے۔ سرکاری سکیم کے لئے 1 لاکھ 19 ہزار 210 نشستیں جبکہ پرائیویٹ حج اسکیم کے لیے 60 ہزار نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ 👈3. سرکاری حج اسکیم کے لیے 38-42 دن کا روایتی طویل پیکیج اور 20-25 دن کا مختصر پیکیج فراہم کیا جائے گا۔👈4. تمام درخواست گذاروں کی قربانی (اداہی پروگرام کے تحت) سعودی عرب کے نظام کے مطابق لازمی ہوگی۔👈5. درخواست گذار کا مسلمان اور پاکستانی پاسپورٹ کا حامل ہونا لازمی ہے جس کی مدت 26 نومبر، 2026 تک کارآمد ہو۔👈6. بارہ سال سے کم عمر بچوں کو اس سال حج کی اجازت نہیں ہوگی۔👈7. وہ افراد جو سرکاری حج اسکیم کے تحت حج ادا کرنا چاہتے ہیں، انہیں حج واجبات دو اقساط میں جمع کرانا ہوں گے۔👈8. سرکاری حج اسکیم کا تخمینہ پیکیج ساڑھے گیارہ لاکھ سے ساڑھے بارہ لاکھ روپے کے درمیان ہوگا؛ جو کہ سروس فراہم کنندگان کے ساتھ معاہدوں کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔👈9. سرکاری حج سکیم کے لانگ پیکیج کے لیے پہلی قسط 5 لاکھ روپے جبکہ شارٹ پیکیج کے لیے ساڑھے پانچ لاکھ روپے جمع کروانا لازم ہیں ۔ 👈10. حج اخراجات کی پہلی قسط 4اگست سے کسی بھی نامزد بینک کے ذریعے جمع کروائی جا سکتی ہے۔ 👈11. سعودی عرب کی ٹائم لائنز کے پیش نظر عازمینِ حج کا انتخاب ’’پہلے آئیے پہلے پائیے‘‘ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔👈12. بیرونِ ملک مقیم عازمینِ حج سرکاری حج اسکیم کے تحت دیے گئے نامزد بینک اکاؤنٹس میں اپنی حج رقم بھجوا سکتے ہیں ۔👈13. سعودی عرب سے منظور شدہ ویکسین لگوانا لازمی ہو گا ۔👈14. ’’روٹ ٹو مکہ‘‘ سہولت اسلام آباد اور کراچی ایئرپورٹس پر جاری رہے گی۔👈15. ڈیپنڈنٹ حج کمپنیوں (DHCs) کو بیرونِ ملک عازمینِ حج کی بکنگ کی اجازت ہو گی، بشرطیکہ وہ اپنی حج کی رقم بینکنگ چینلز کے ذریعے متعلقہ DHC کو بیرونِ ملک سے فارن ایکسچینج میں منتقل کریں، جس کے ساتھ وہ حج کرنا چاہتے ہیں۔ عازمینِ حج کا ڈیٹا اور مالیاتی لین دین وزارت کے پورٹل پر قابلِ مشاہدہ ہوگا۔👈16. ہر منظم / ڈی ایچ سی کے لیے کم از کم کوٹہ سعودی ہدایات کے مطابق ہوگا۔👈17. موت، شدید بیماری یا کسی اور ناگزیر وجہ کی صورت میں متبادل کیسز کو کمیٹی کے ذریعے جانچا جائے گا۔ 👈18. مشاعر بکنگ کے لئے پیکیج کے 25 فیصد پیشگی ادائیگی کے بعد DHCs کو بکنگ کی اجازت ہو گی۔👈19. امسال پرائیویٹ سیکٹر کی مالیاتی شفافیت کو برقرار رکھنے اور سعودی عرب میں بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے فنانشل سیف گارڈز متعارف کروائے گئے ہیں ۔ 20. DHCs کو وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے آئی ٹی پورٹل سے متعلق ہدایات کی پابندی کرنی ہو گی تاکہ شفافیت اور سہولت یقینی بنائی جا سکے۔👈21. تیسرے فریق کے ذریعے سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائےگا۔👈22. پنجاب آئی ٹی بورڈ (PITB) ڈیجیٹائزیشن کے آپریشنل کنٹرول کو جاری رکھے گا، جبکہ MoIT&T اپنے ادارے NITB کے ذریعے نگرانی کرے گا تاکہ عازمین کے ڈیٹا اور ادائیگیوں کی رئیل ٹائم نگرانی، دوہری بکنگ اور نشستوں کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔👈23. وزارت مذہبی امور کی مانیٹرنگ ٹیم حج آپریشنز کی مجموعی کارکردگی کی نگرانی کرے گی تاکہ خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔👈24. ڈی ایچ سیز وزارت کے ساتھ سروس پرووائیڈر ایگریمنٹ (SPA) پر دستخط کریں گے اور ان کی نگرانی وزارت کے تربیت یافتہ عملے کے ذریعے کی جائے گی تاکہ حجاج کرام کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔👈25. حجاج کرام کی فلاحی خدمات کے لیے عملہ تعینات کیا جائے گا۔👈26. حج سے متعلق مکمل تربیت دی جائے گی جس میں لاجسٹکس، حج کے طریقہ کار، لباس اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی مشق شامل ہوگی۔👈27. “حجاج محافظ اسکیم” جاری رکھی جائے گی جس کے تحت حجاج کو ان کے نقصانات پر معاوضہ دیا جائے گا۔👈28. الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم بشمول حج ہیلپ لائن اور پاک حج ایپ معلومات کی ترسیل، شکایات کے اندراج اور حج کی مانیٹرنگ کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔👈29. ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔👈30. مالیاتی نگرانی کا مؤثر نظام لاگو کیا جائے گا۔👈31. حج ناظم اسکیم جاری رکھی جائے گی۔👈32. شکایات کے ازالے کے لیے مکمل اور شفاف نظام موجود ہوگا جو شکایات کو بروقت اور منصفانہ طریقے سے نمٹائے گا۔👈33. حج پالیسی پر عمل درآمد کے لیے مناسب ہدایات جاری کی جائیں گی۔
چیئرمین پنجاب کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن،پنجاب زاہد بختاوری نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں تجارتی سرگرمیاں خوش آئند ہیں،راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیر انتظام کامیاب ہیلتھ ایکسپو پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انھوں نے یہ بات راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر انتظام پاک چائینہ فرینڈ شپ سینٹر میں ہیلتھ ایکسپو کی کامیابی پر گروپ لیڈر سہیل الطاف و دیگر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر چیئرمین پنجاب کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن،راولپنڈی چوہدری عمران رشید بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔زاہد بختاوری کا کہنا تھا کہ ملک وقوم کی ترقی کے لئے تعلیم و صحت کے شعبہ جات کو ترجیح دینا ہوگی۔مجھے خوشی ہے کہ راولپنڈی چیمبر نے ہیلتھ ایکسپو کے ذریعہ شعبہ صحت کی اہمیت کو بخوبی اجاگر کیا۔جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔زاہد بختاوری کا مزید کہنا تھا کہ طبی ٹیکنالوجی، دواسازی، اور صحت کی خدمات کو اجاگر کرنے میں اس طرح کے ایکسپو معاون ثابت ہوتے ہیں ۔جن کہ مدد سے کاروباری حلقوں کو بھی ایک مؤثر پلیٹ فارم دستیاب ہو جاتا ہے۔ ہم سب کو مل کر پاکستان میں صحت کے شعبہ کی ترقی میں حصہ ڈالنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ ہیلتھ ایکسپو کمپنیوں کو ممکنہ کلائنٹس، شراکت داروں اور تقسیم کاروں کے ساتھ جڑنے رہنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔اس طرح سے شعبہ صحت سے منسلک افراد اور اداروں کو اپنی مصنوعات کی نمائش کرنے میں مدد ملتی ہے ، جب کہ شرکاء کو بھی صحت کی دیکھ بھال ،جدید رجحانات اور ٹیکنالوجیز سے آگہی میسر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔