









*سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر تحریک انصاف آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کو گرفتار کر لیا گیا*
اگر کسی ٹیم کا کوئی باولر آوٹ آف فارم ہو تو پاکستان کے ساتھ سیریز کھیل لیں۔۔۔اگر کسی ٹیم کا کوئی بلے باز آوٹ آف فارم ہے تو پاکستانی ٹیم حاضر ہے اسے پوری طرح فارم میں لانے کیلئے۔۔۔۔کسی نئے کھلاڑی کو انٹرنیشنل کرکٹ میں کامیابی سے آغاز کروانا ہو تو پاکستانی ٹیم حاضر ہے جناب۔۔۔۔کسی کی کپتانی خطرے میں ہے تو پاکستان کے ساتھ میچ لگوا لو۔۔۔۔۔اگر کوئی پوری ٹیم ہی آوٹ آف فارم اور مسلسل کئی میچ لگاتار ہارتی ہوئی آ رہی ہے تو جناب عالی پاکستان ہے ناں۔۔۔۔۔مسلسل نو میچ ہارنے والی ویسٹ انڈیز ٹیم نے پاکستان کو دوسرے ٹی 20 میں شکست دے دی۔
—وزیراعظم۔ ۔۔مشترکہ پریس کانفرنسپاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں ، دونوں ممالک کی قیادت دوطرفہ تجارت کے حجم کو 10 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنساسلام آباد۔3اگست :وزیرا عظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں، پاکستان اور ایران کی قیادت باہمی تجارت کے حجم کو جلد از جلد 10 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے، پاکستان پرامن مقاصد کےلئے ایران کے جوہری پروگرا م کی حمایت کرتا ہے،

دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور ایران کا موقف ایک ہے، کسی قسم کی دہشتگردی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ اتوار کو یہاں معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کے تبادلہ کی تقریب کے موقع پرمشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اورپاکستان میں ایران کے سفیر اور ان کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے برادر اور دوست ملک کے صدر پہلی مرتبہ بطور صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی آپ کے دورے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ ملاقاتوں کے دوران ہم نے بھائی چارہ، باہمی تعلقات، مذہبی ، ثقافتی اور جغرافیائی شعبوں سمیت جامع تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر پاکستان کےلئے محبت کا جذبہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جون میں اسرائیل نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ایران کے خلاف جارحیت کی تو پاکستان کے عوام اور حکومت نے اس کی بھرپور مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کا کوئی جواز نہیں تھا۔ وزیراعظم نے حکومت اور پاکستان کے عوام کی جانب سے جنگ میں ایران کے سائنسدانوں ، جرنیلوں اور دیگر شہدا کےلئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کی دلیرانہ اور دانشمندانہ قیادت میں ایرانی افواج اور عوام نے شجاعت کے ساتھ مقابلہ کیا اور ایرانی میزائلوں کی بارش میں اسرائیلی دفاع کو بری طرح بے نقاب کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران کے عوام اور حکومت نے اپنی خودمختاری اور حمیت کا بھرپور دفاع کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن مقاصد کےلئے جوہری طاقت کا پورا حق حاصل ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالہ سے پاکستان ، ایران کے اصولی موقف کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ آج کئی معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط کئے ہیں، میری دعا ہے کہ یہ ایم او یوز جلد معاہدوں میں بدل جائیں اور ہماری دوطرفہ تجارت کو جلد از جلد 10 ارب ڈالر تک توسیع دیں، اس حوالہ سے ہمارے وفود بات چیت کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور ایران کا موقف ایک ہے، کسی قسم کی دہشتگردی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا، ہم خطے میں امن وترقی کی شاہراہوں کو کھولنے کےلئے کئی سو کلومیٹر طویل سرحدوں کو کھولنے کےلئے دہشتگردی کے خلاف بھرپور تعاون کو یقینی بنائیں گے تاکہ ہمیشہ کے لئے دہشتگردی کا قلع قمع کیا جاسکے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غزہ میں بدترین ظلم وستم کے حوالہ سے آواز بلند کرنے پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ایران کے صدر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ غزہ اور فلسطین کے عوام کےلئے بھرپور آواز اٹھائی ہے، حالیہ دنوں میں نائب وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اس حوالہ سے پاکستان کا موقف بھرپور طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر لمحہ بے گناہ معصوموں کو ذبح کیا جارہا ہے، بزرگوں، خواتین اور نوجوانوں کے خون سے گلیاں سرخ ہیں، اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ پانی، خوراک اور ادویات کا داخلہ بند کر کے انہیں فاقہ کشی پر مجبور کردیا گیا ہے،

یہ مناظر دیکھنے کا حوصلہ نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری دنیا کو یک زبان ہو کر غزہ کے حوالہ سے آواز بلند کرنی چاہئے۔ امن کےقیام کےلئے عالمی برادری کو توانائیاں بروئے کار لانا ہوں گی ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پوری وادی معصوم کشمیریوں کے خون سے سرخ ہے، کشمیریوں کو بھی آزادی کا حق ہے اور اس کے بغیر ان کی آزادی مکمل نہیں ہوگی، پاکستان نے اس حوالہ سے ہمیشہ آواز اٹھائی اور اٹھاتا رہے گا، ہم ایران کے بھی شکر گزار ہیں کہ ایران نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق کےلئے آواز بلند کی ہے۔ وزیراعظم نے سعدی شیرازی کے اشعار کا حوالہ بھی دیا جن میں کہا گیا کہ اچھے وقت میں ہر کوئی دوست ہوتا ہے اور دوستی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن دوست وہ ہوتا ہے جو برے وقت میں دوست کا ہاتھ تھام لے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے قرآنی آیات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہمارا دوست اور ہمسایہ ملک پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور حکومت کی جانب سے شاندار میزبانی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت ، پارلیمان اور عوام کی جانب سے ایران پر امریکی اوراسرائیلی جارحیت میں بھرپور موقف اپنایا اور ہمارا ساتھ دیا جس پر ہم شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اپنے اشعار میں اتحاد اور بھائی چارہ کا درس دیا اور ملت اسلامیہ کو وحدت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دوستی تعلقات گہرے تاریخی اور ثقافتی رشتوں سے منسلک ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر اتحاد کا سبق ہمارے پیغمبر نے بھی دیا تھا اور جب تک ہم متحد رہیں گے تو ہماری خودمختاری قائم رہے گی۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کو اپنا ہمسایہ ہی نہیں بلکہ بھائی سمجھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعلقات اور تعاون کو مزید وسعت دے کر ہم باہمی تجارت کو 3 ارب ڈالر سے بہت جلد 10 ارب ڈالر کے ہدف تک توسیع دے سکتے ہیں۔ آج ہم نے سیاست، ثقافت وغیرہ کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کےلئے متحدد دستاویزات پر دستخط کئے ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ، سائنس وٹیکنالوجی، ثقافت ، سیاحت اور کاروباری شعبوں کی ترقی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان اہم معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالہ سے باہمی رابطوں کے فروغ کےلئے پرعزم ہیں۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کی رہداریوں ریل، روڈ اور بحری روٹس کی ترقی ، بارڈر مارکیٹس، مشترکہ فری اکنامک زونز کا قیام ہمارے لئے اشد ضروری ہے جس سے دونوں ممالک کے رابطوں میں استحکام اور وسعت آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں کی جانب سے سرحدی علاقوں میں خطرات کے تناظر میں دونوں ممالک کے عوام کے تحفظ کےلئے باہمی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ایران کے صدر نے کہا کہ علاقائی اور عالمی امور پر دونوں ممالک کی رائے مشترک ہے اور معاشی رابطوں کے فروغ سے ترقی و خوشحالی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے فلسطین ، لبنان اور شام میں انسانی حقوق کی پامالی کےاسرائیلی اقدامات کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل نسل کشی کے اقدامات کا مرتکب ہے ۔ انہوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران یقین رکھتے ہیں کہ علاقائی اور عالمی سطح پر باہمی تعاون کے فروغ سے توسیع پسندانہ عزائم کو روکا جاسکتا ہے تاکہ خطےمیں سکیورٹی و سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمہ کےلئے علاقائی اور عالمی اشتراک کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دوہرے معیار کو ترک کرتے ہوئے جارحیت کا خاتمہ یقینی بنانا چاہئے، رکن ممالک کی خودمختاری یقینی بنانے کےلئے اقوام متحدہ کے جامع کردار کی ضرورت ہے۔

اپنی گفتگو کے آخر میں مہمان نوازی پر ایک مرتبہ پھر اظہار تشکر کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دورہ ایران کی دعوت بھی دی تاکہ باہمی تعلقات کے فروغ کے عمل کو مزید وسعت دی جاسکے۔قبل ازیں پاکستان اور ایران نے مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا، اس حوالہ سے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم ہائوس میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مجموعی طور پر 12 دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا جن میں سرفہرست پلانٹ پروٹیکشن اور پلانٹ کو رینٹائن کا معاہدہ تھا۔ ایران کے وزیر معدنیات ، صنعت وتجارت محمد آتابک اور وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے دستاویزات کا تبادلہ کیا۔ پاکستان اور ایران نے میر جاوے تافتان بارڈر گیٹ کے باہمی استعمال کے معاہدہ کی دستاویزات کا تبادلہ ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر نے کیا۔ اس موقع پر ایران کے پاردیز ٹیکنالوجی پارک اور پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے مابین سائنس ٹیکنالوجی اور ایجادات کے حوالہ سے اشتراک کےلئے ایم او یو کی دستاویزات کا تبادلہ ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم اور وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کیا۔ مزید برآں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں اشتراک کار کےلئے ایم او یو دستاویزات کاتبادلہ ایران کے وزیر معدنیات ، صنعت وتجارت محمد آتابک اور وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شیزہ فاطمہ خواجہ کے مابین ہوا۔

اسی طرح کلچر اینڈ آرٹ ، سیاحت، سائنس، تعلیم، ٹیکنالوجی ، صحت اور فیملی افیئرز ، ماس میڈیا اور سپورٹس کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کےلئے ایکسچینج پروگرام کی دستاویزات کا تبادلہ وفاقی وزیر ثقافت و قومی ورثہ محمد اورنگزیب خان کھچی اور ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کیا۔ پاکستان اور ایران کے میٹرولوجیکل کے اداروں میں باہمی تعاون کے ایم او یو کی دستاویزات کا تبادلہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور ایران کے وزیر محمد آتابک نے کیا۔

میری ٹائم سیفٹی اینڈ فائر فائٹنگ کے شعبہ میں ایم او یو کی دستاویزات کا تبادلہ ایران کی وزیر برائے روڈز واربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق اور وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے کیا۔ تقریب کے دوران کریمنل معاملات میں جوڈیشل اسسٹنس کے حوالہ سے ایم او یو کی دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا او ر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دستاویزات کا تبادلہ کیا۔ اسی طرح 2013 کے ایم او یو برائے فضائی خدمات ایگری منٹ کے ضمنی ایم او یو کی دستاویزات کا تبادلہ سیکرٹری وزارت دفاع لیفیننٹ جنرل (ر) محمد علی اور ایران کی روڈ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ کی وزیر فرزانہ صادق نے کیا۔

مزید برآں پاکستان اور ایران نے ایران کی نیشنل سٹینڈرڈز آرگنائزیشن اور پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے مابین مصنوعات کی رجسٹریشن اور انسپکشن ، ٹیسٹنگ وغیرہ کے حوالہ سے ایم او یو پر عملدرآمد کی دستاویزات کا تبادلہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی اور ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم نے کیا۔ سیاحت کے شعبہ میں سال 2027-2025 کے دوران باہمی تعاون پر عملدرآمد کے حوالہ سے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی رابطہ رنا ثنا اللہ خان اور ایران کی وزیر فرزانہ صادق نے دستاویزات کا باہمی تبادلہ کیا۔ تقریب کے آخر میں آزادانہ تجارت کے معاہدہ کے حوالہ سے بین الوزارتی بیانیہ کی دستاویزات کا تبادلہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیر محمد آتابک نے کیا

ایرانی صدر۔۔۔ وزیراعظم ہائوس آمد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی وزیراعظم ہائوس آمد ، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پرتپاک خیر مقدم، مسلح افواج کے چاک وچوبند دستوں نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیااسلام آباد۔3اگست اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی وزیراعظم ہائوس آمد پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ ایرانی صدر کے اعزاز میں پروقار استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ قبل ازیں وزیراعظم ہائوس آمد پر ایرانی صدر کا وزیراعظم نے پرتپاک استقبال کیا،

دونوں رہنمائوں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور خیر سگالی کلمات کا تبادلہ کیا جس کے بعد فوٹو سیشن ہوا۔ استقبالیہ تقریب کے آغاز پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور مسلح افواج کے چاق وچوبند دستوں نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ وزیراعظم نے ایران کے صدر کا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر ہائوسنگ ریاض حسین پیرزادہ، وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ سمیت وفاقی کابینہ کے اراکین احمد چیمہ، علی پرویز ملک، ہارون اختر خان، طارق فاطمی سمیت اعلیٰ حکام سے تعارف کروایا۔ بعد ازاں ایران کے صدر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اپنے کابینہ اراکین کا تعارف کرایا۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم ہائوس کے سبزہ زار میں یادگاری پودا بھی لگایا۔ اس موقع پر عالم اسلام کی ترقی و خوشحالی کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے اور دونوں ممالک کے باہمی روابط کے فروغ اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

شمالی وزیرستان: دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران تین دہشت گرد ہلاک جبکہ دو زخمی دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے

*چیف منسٹر پنجاب کاستھرا پنجاب نعرہ ,سینٹری عملہ کی جانب سے نالہ برد..*….( )…….. راولپنڈی ; چیف منسٹر پنجاب کا صاف ستھرا پنجاب کا نعرہ ,سینٹری عملہ کی جانب سے نالہ برد کردیا گیا ہے۔ مون سون کے موسم میں مقامی سینٹری عملہ کی جانب سے کچرا نالہ نواب کالونی ڈھوک حسو راولپنڈی میں ڈالنے سے 500 میٹر طویل ڈرین نالہ بند ہو گیا ہے۔جس سے بارش میں سارا گندہ پانی قریبی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔ نالے پربسم اللہ ہوٹل چوک سے چھوٹا چوک ڈھوک حسو یونین کونسل نمبر 6 ناجائز تجاوزات کی وجہ سے سارا گندہ پانی سڑک پر کھڑا ہوجاتا ہے۔ جس سے وبائی بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔گزشتہ ماہ تجاوزات مہم کے بعد ناجائز تجاوزات دوبارہ قائم کر دی گئی ہیں یہاں تک کہ اس نالے پر ناجائز تجاوزات قائم ہیں کیونکہ کچھ سیاسی افراد سابقہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ قبضے کی بڑی وجہ ہیں۔ اس سلسلے میں کئی بار سینٹری انچارج علاقہ سے درخواست کی لیکن تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔اہل علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔





ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ پاکستان ; دوطرفہ تجارت کی امیدیں …..( اصغر علی مبارک )…………… ایرانی صدر مسعود پزشکیان آ ج 2 اگست کوہفتے کووزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا 2 روزہ سرکاری دورہ کررہےیں اسلامی جمہوریہ ایران کے اسلام آباد کےسفارتخانے کی ایکس پر ایک پوسٹ کے مطابق پاکستان ,ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط اور وسعت دینے کے جذبے کے ساتھ صدر 2 اور 3 اگست کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔

دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت ,برادارنہ تعلقات مزید مضبوط ہو نے کی امیدیں اورتوقعات ہیں, ایکس پر ایک پوسٹ میں ایرانی صدر کے سیاسی مشیر مہدی سنائی نے کہا کہ’ ڈاکٹر مسعود پزشکیان ہفتے کی شام 2اگست کو وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کریں گے

دورے کے دوران سرکاری ملاقاتیں اور ’ ثقافتی و تجارتی شخصیات سے گفتگو’ ایجنڈے کا حصہ ہوں گی۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور ثقافتی پہلوؤں پر محیط ہیں اور اس دورے کے مقاصد میں صوبائی و سرحدی تعاون کو فروغ دینا اور دوطرفہ تجارت کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھانا شامل ہے۔قبل ازیں ترجمان دفتر خارجہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان ہفتے کو پاکستان کا 2 روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کررہے ہیں دورے سے دونوں ممالک کے درمیان برادارنہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔مسعود پزشکیان گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کا دورہ کرنے والے دوسرے ایرانی صدر ہوں گے، یہ دورہ دراصل جولائی کے آخری ہفتے کے لیے طے تھا۔ اپریل 2024 میں سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا تھا، یہ دورہ ابراہم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں وفات سے ایک ماہ قبل ہوا تھا، اس دورے کے دوران انہوں نے لاہور اور کراچی کا بھی دورہ کیا تھا۔ ایرانی صدر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان تشریف لارہا ہے۔ پزشکیان کی صدارت کے ایک سال بعد مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، لوڈشیڈنگ جاری ہے اور سیاسی آزادیوں پر اب بھی پابندیاں ہیں۔ سفارتی، اقتصادی اور سماجی اعتبار سے خلیج گہری ہو چکی ہے اگر ایران کی قیادت اپنا سفارتی راستہ نہیں بدلتی تو آئندہ بحران جنم لے گا۔یاد رکھیں کہ ایران، اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی جب 13 جون 2025 کو اسرائیل نے پہلی بار براہِ راست ایرانی سرزمین پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا جو کہ تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ ایران کے کئی شہروں پر شدید فضائی حملے کیے گئے جن میں بڑی تعداد میں عام شہری جان سے گئے۔ ایسے نازک وقت میں جب قوم کو قیادت اور حوصلے کی ضرورت تھی، پزشکیان ایک بااعتماد رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ماضی میں متعدد مواقع پر پاکستان پر ایران سے متعلق امریکہ کا بہت دباؤ رہتا تھا مگر اس کے باوجود اسلام آباد نے تہران سے تعلق کبھی ختم نہیں کیا۔ اسحٰق ڈار نے اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ صدر پزشکیان کا دورہ پاکستان طے شدہ ہے پاکستان خطے میں سفارت کاری اور دانشمندانہ رویہ اختیار کرنے کا حامی ہے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کی ہر کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے۔ پاکستان ایران کے حالیہ واقعات، خصوصاً ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ پاکستان نے اسرائیلی حکومت کی ایران کے خلاف جارحیت اور امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مذمت کی تھی۔ پاکستان نے کہا تھا کہ’ موجودہ صورت حال سے نکلنے کا واحد راستہ سفارت کاری اور مکالمہ ہے، اور پاکستان دونوں فریقین کی حمایت جاری رکھے گا۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 27 مئی کو ایران کا دورہ کیا تھا، جو بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران دوست ممالک کے شکریہ کے طور پر کیے جانے والے علاقائی دورے کا حصہ تھا۔ اس موقع پر انہوں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سمیت دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی تھی تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ اس سے قبل، وہ مئی 2024 میں بھی ایران گئے تھے جہاں انہوں نے سابق صدر ابراہیم رئیسی کی یادگاری تقریب میں شرکت اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی تھی۔ مسعود پزشکیان ایک ایرانی ہارٹ سرجن اور اصلاح پسند سیاست دان ہے جو اس وقت ایران کے منتخب صدر ہیں۔

اس سے پہلے، پزشکیان ایران کی پارلیمنٹ میں تبریز، اوسکو اور ازرشہر انتخابی ضلع کی نمائندگی کر رہے تھے اور 2016ء سے 2020ء تک اس کے پہلے ڈپٹی اسپیکر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ محمد خاتمی کی حکومت میں 2001ء اور 2005ء کے درمیان صحت اور طبی تعلیم کے وزیر رہے انھوں نے 2013ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا، لیکن دستبردار ہو گئے اور 2021ء کے انتخابات میں دوبارہ حصہ لیا، لیکن انھیں مسترد کر دیا گیا۔

پزشکیان نے 2024ء میں کوالیفائی کیا اور 5 جولائی 2024ء کو صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ ایران دنیا میں پہلا ملک تھا جس نے تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کو تسلیم کیا تھا جبکہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے 1979 کے انقلابِ ایران کے بعد وہاں کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ پاکستان اور ایران نے 1950 میں ’فرینڈشپ ٹریٹی‘ پر دستخط کیے تھے اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے 1949 میں تہران جبکہ 1950 میں پاکستان بننے کے بعد شاہ آف ایران نے پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا تھا۔اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران ہر فورم پر کشمیر سمیت ان اہم معاملات پر پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتا آیا ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہمیت کے حامل ہیں۔1965 ,1971 اور 2025میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگوں میں بھی ایران نے پاکستان کا کُھل کر ساتھ دیا اور اسلام آباد کو تہران کی سفارتی حمایت حاصل رہی۔چند مواقع اور معاملات پر تناؤ اور مشکلات کے باوجود پاکستان اور ایران کے تعلقات عمومی طور پر دوستانہ ہی رہے ہیں ایران کی خارجہ اور اندروںی پالیسیوں میں آنے والے بڑی تبدیلیوں کے باوجود بھی اس کے پاکستان سے تعلقات بہتر ہی رہے۔ پاکستان، ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ کا افتتاح مارچ 2013 میں پاکستان اور ایران کے صدور نے کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خدشے کے باعث کوئی بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اس منصوبے میں رقم لگانے کے لیے تیار نہیں ایران پاکستان کا اس وقت بہت شکرگزار ہوا تھا جب پاکستان نے ایران میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث تنظیم جند اللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو گرفتار کروانے میں اہم معلومات ایران کو فراہم کیں۔ یاد رکھیں کہ جولائی 2024 میں مسعود پزشکیان نے جب ایران کے صدر کے طور پر حلف اٹھانے کے اگلے ہی روز صدارتی محل میں قدم رکھا تو وہ صرف چند گھنٹوں بعد ہی حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ، جو ایرانی صدر کی حلف برداری کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شریک تھے، ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔ اسماعیل ہنیہ پر یہ حملہ تہران کے قلب میں ہوا تھا۔ اس غیر معمولی واقعے نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا اور یہ واقعہ اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کے سب سے غیر یقینی دور کی شروعات ثابت ہوامسعود پزشکیان ایک قومی سانحے کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔

اُن کے پیش رو صدر ابراہیم رئیسی، ایران کے وزیر خارجہ کے ہمراہ ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوئے تھے ان کے معتدل لہجے، حجاب کے نفاذ اور سماجی پابندیوں پر نرم رویے اور مغرب کے ساتھ تصادم کی بجائے بات چیت کا وعدہ ایک ایسے ملک کے لیے امید کی کرن بنے جو عالمی پابندیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ لیکن صدارت کے چند ہی مہینوں میں اسرائیل نے ایران پر تباہ کن حملوں کی ایک لہر کا آغاز کیا جس کا اختتام امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری مراکز پر حملے پر ہوا۔ ان معاملات کے باعث ایران کی پہلے سے نازک معیشت مزید کمزور ہو گئی۔ ملک بھر میں توانائی اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ ایران میں صدر حکومت چلاتا ہے لیکن وہ حکمرانی نہیں کرتا۔ دوسرے بہت سے ممالک کے برعکس ایران کا صدر ملک کا سب سے طاقتور شخص نہیں ہوتا۔ اسلامی جمہوریہ کے آئین کے تحت اصل اختیار رہبرِ اعلیٰ کے پاس ہے۔

سنہ 1989 سے یہ منصب آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ہے جو فوج، عدلیہ، خفیہ اداروں اور خاص طور پر خارجہ پالیسی پر حتمی اختیار رکھتے ہیں۔ پزشکیان صدر تو ہیں لیکن اُن کی طاقت ہمیشہ نظام کے غیر منتخب طاقتور مراکز جیسے پاسدارانِ انقلاب، رہبری شوریٰ اور رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کے دائرے میں محدود ہیں۔ اور جب بات سفارتکاری کی ہو، چاہے جوہری پروگرام ہو یا خطے میں کشیدگی کا جواب، پزشکیان اکثر فیصلہ ساز کی بجائے ترجمان کا کردار ادا کرتے ہیں اور ایسے فیصلے پیش کرتے ہیں جو کہیں اور لیے گئے ہوں۔پہلے دورِ صدارت میں ہی ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے تعلقات کو شدید تناؤ کی نہج پر لا کھڑا کیا انھوں نے یکطرفہ طور پر برسوں کی محنت سے طے پانے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی، سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور ایران کے بااثر ترین فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دیا۔جلد ہی اسرائیل نے خطے میں ایران کے اتحادی گروپوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی: غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی گروہ نشانے پر آ گئے۔اس کے بعد پورے سال کشیدگی اور محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہا۔ایسے وقت میں پزشکیان نے بطور صدر عہدہ سنبھالا۔ ایک معتدل رہنما جو ایک بڑے تنازع کے درمیان صدر بن کر آ گیا تھا مگر اس کے پاس حالات کا رُخ موڑنے کا کوئی اختیار ہی نہیں تھا۔ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کی گئی نئی پابندیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیرقانونی، ظالمانہ اور ایرانی قوم کے خلاف کھلی دشمنی پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ایران کو کمزور کرنا، ایرانی عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرنا ہے۔ یا د رہےکہ امریکہ نے پاکستان میں ایران کے موجودہ سفیر رضا امیری مقدم پر اپنے خصوصی ایجنٹ کے اغوا کا الزام لگاتے ہوئے انہیں انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے رضا امیری مقدم اور دیگر دو ایرانی اہلکاروں پر 2007 میں ایران کے جزیرہ کیش سے ایک امریکی ریٹائرڈ خصوصی ایجنٹ کے اغوا میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے




معاہدے کے تحت بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کمیٹی بنانے کا اعلاناس موقع پر حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ 8 نکاتی مطالبات کے ساتھ گوادر سے روانہ ہوئے، ہم امن چاہتے ہیں، فساد نہیں، اپنی بات، دکھ اور درد کو یہاں پہنچانے آئے ہیں، بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل، حکومت کے سامنے پیش کرنا چاہ رہے تھے۔وزیراعظم کے مشیر نے بتایا کہ کمیٹی بلوچستان کے عوام کے اُن تمام مسائل اور مشکلات کی نہ صرف نشاہدہی بلکہ اُس پر قابل عمل تجاویز بھی مرتب کرے گی، جس پر عمل کر کے صوبے کے مسائل کا حل ممکن ہو سکے

“اس نوجوان پر سعودی عرب میں مواصلات کا ایک لاکھ ریال جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ بیچارہ یہ بوجھ برداشت نہ کر سکا اور اس نے خودکشی کر لی۔ ایک لاکھ ریال، پاکستانی کرنسی میں تقریباً 70 لاکھ روپے بنتے ہیں۔””مواصلات” (Arabic: المواصلات) ایک عربی لفظ ہے، جس کا مطلب نقل و حمل، ٹرانسپورٹیشن، یا آمد و رفت ہوتا ہے۔📌 مواصلات کی مکمل تفصیل اردو میں:مواصلات کا مطلب ہوتا ہے لوگوں، سامان یا معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔ عرب ممالک (خاص طور پر سعودی عرب) میں “مواصلات” کا مطلب عموماً ٹریفک، گاڑیوں، سڑکوں کے قوانین، اور پبلک ٹرانسپورٹ سے ہوتا ہے۔💡 مواصلات کے مختلف پہلو:1. سڑک پر گاڑی چلانے کے اصولسگنل کی خلاف ورزیاوور اسپیڈنگغلط پارکنگبغیر لائسنس ڈرائیونگ2. پبلک ٹرانسپورٹ کا نظامبس، میٹرو، ٹیکسی، اور ٹرینیں3. ٹریفک جرمانے (مواصلاتی خلاف ورزیاں)سعودی عرب میں “مخالفات مرورية” یا “مخالفات مواصلات” کہلاتی ہیںیہ خلاف ورزیاں خودکار کیمروں، پولیس چیکنگ یا ٹریفک سسٹم کے ذریعے ریکارڈ ہوتی ہیں4. سعودی نظام میں جرمانےاگر کوئی فرد مواصلاتی قوانین توڑتا ہے تو اس پر بہت بھاری جرمانہ عائد ہو سکتا ہے،


جو بعض اوقات ہزاروں ریال تک پہنچ جاتا ہے🎯 مثال:اگر کوئی شخص بغیر اجازت نامے کے Uber یا Careem جیسی سروسز میں گاڑی چلاتا ہے یا کسی غیرقانونی طریقے سے مسافروں کو لے جاتا ہے، تو اسے “مواصلاتی خلاف ورزی” میں لاکھوں ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔—اگر آپ کو کسی خاص مواصلاتی جرم یا سعودی قانون کی وضاحت درکار ہے، تو آپ مخصوص تفصیل پوچھ سکتے ہیں، مثلاً:”ٹیکسی بغیر پرمٹ چلانے پر کتنا جرمانہ ہوتا ہے؟””اوور اسپیڈنگ پر سعودی عرب میں سزا کیا ہے؟”